جمعرات، 22 جنوری، 2015

امام احمد رضا انتہائی محتاط محقق مفتی تھے

امام احمد رضا کے دور میں ہزاروں اہلسنت علماء موجود تھے ان میں سے چند عظیم علماء و مشائخ کے نام زندہ رہے، یاد رہے یہ حضرات بذات خود ایک سند تھے۔ مثلا پیر مہر علی سرکار، دو مختلف جماعت علی شاہ سرکار، سیال شریف والے پیر، شرقپور والے پیر اور چند عمیق تحقیق والے علماء کرام۔۔۔۔!
 امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان قادری کے دور میں ان پر تنقید والے علماء اہلسنت کی بھی کمی نہ تھی یعنی حاسدین وافر مقدار میں موجود تھے۔ان میں سے کچھ علماء تو امام کو ایک سادہ سا مولوی سمجھتے تھے،باقیوں کو اپنی دستار اونچی رکھنے کا شوق تھا۔امام احمد رضا اٹھائیس برس کے تھے کہ اسلامی ہجری قمری صدی نے موڑ کاٹا، تیرھویں ختم اور چودھویں شروع ہوئی۔تب تک آپ کی شہرت بلاد عرب و عجم میں پہنچ چکی تھی۔بہت سوں کا خیال تھا کہ آپ بڑے طمطراق والے مولانا صاحب ہونگے۔لیکن آپ نے سادہ سے لباس میں بغیر کروفر کے زندگی گزاری۔امام احمد رضا پر تنقید کرنے والوں کے ناموں سے بھی آج ہم واقف نہیں ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کسی معتبر خانقاہ سے امام احمد رضا کی تحقیقات پر سختی سے تنقید نہیں ہوئی۔ جن حضرات کو پچھلی صدی کے اولیاءاللہ مانا جاتا ہے وہ امام اہلسنت کی تحقیقات سے متفق تھے۔اعلی حضرت کے دور میں علمی کام اہلسنت علماء دنیا کے مختلف کونوں میں کررہے تھے۔آپ کے متوازی بھی بہت سے کام کرنے والے حضرات تھے۔کس چیز نے آپ کو منفرد بنا دیا۔ایک جملہ جس میں ہم بیان کردیتے ہیں وہ ہے ان کاعشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو انہیں ممتاز کرتا ہے۔امام احمد رضا نے زبانی کلامی دعووں کی بجائے اپنے عمل سے خود کو رسولِ خدا کا غلام ثابت کیا۔درحقیقت وہ شریعت پر سختی سے عمل پیرا تھے
اور انتہائی محتاط محقق مفتی تھے۔اللہ عزوجل نے امام کو ایسا حافظہ عطا فرمایا تھا جو ہر دیکھے گئے منظر کو ایک فوٹو سکین کی طرح محفوظ کرلیتا۔ آپ نے بچپن میں ہی وہ کتب پڑھ ڈالی تھیں جن کو بڑے بڑے زعماء جوانی کے بعد پڑھنے کا سوچتے۔ لہذا آپ انتہائی دقیق سوالات پر نپی تلی عالمانہ رائے دیتے۔امام احمد رضا بہت سے علوم کےساتھ ساتھ فنون پر مہارت رکھتے تھے انہوں نے علم وفن کے کئی خودساختہ اماموں کو فن کی باریکیوں کے ذریعے بتایاکہ علم کیا ہوتاہے۔وہ قدیم فلسفے اور جدیدسائنس کے رموز سے واقف تھے۔جدید طب، ریاضی، جغرافیہ اور آسٹرونومی میں مغرب والے ان سے متاثر ہیں۔امام احمد رضا خان قادری ایک جاگیر دار رئیس خاندان سے تعلق رکھتے تھے آپ نے درویشانہ زندگی بسر کی اور اپنی جائیداد میں سے کثیر مال و دولت خرچ کرکے دینی کاموں میں معاونت فرماتے رہے۔آپ کی عمر سڑسٹھ برس تھی جس میں سے زیادہ تر وقت پڑھنے لکھنے میں گزرا۔غیروں نے امام احمد رضا کی مخالفت میں اندھی تقلید سے کام لیا۔ ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی خوب حسد و تعصب کی آگ بھڑکائے رکھی۔امام نجانے کتنے درجن علوم کے ماہر تھے۔ جبکہ ان کے ناقدین میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں اردو کا ایک جملہ تک درست لکھنا نہیں آتا۔ آج کے دور میں اپنے اور غیر دونوں ہی آنکھیں بند کرکے ایک راگ الاپتے جارہے ہیں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ بہت متشدد تھے۔ غلط قسم کے الزامات ان کے کھاتے میں ڈالے جارہے ہیں۔انہیں کئی چیزوں کا بانی بتایا جارہا ہے!جس کے منہ میں جو بات آتی ہے امام کے نام لگا دی جاتی ہے! اپنوں میں بہت سے اہل علم حجروں میں بیٹھے سنجیدہ تحقیقات کرتے رہتے ہیں اور بعض اس کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ انہی بزرگوں کی بدولت ہمیں امام اہلسنت سے شناسائی نصیب ہوئی ہے۔
ان میں سے کئی بزرگ اب پردہ فرما گئے ہیں۔غیروں میں سے بھی چند قدردانوں نے امام احمد رضا کی علمی خدمات کو مانا اور خوب سراہا بلکہ علم و فن کے میدان میں امام کی پیروی کی۔ کئی متشدد مخالفین نے بھی بعض مقامات پر امام کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مولانا احمد رضا کی پیدائش سے پہلے اہلسنت علماء نے اسماعیل دہلوی پر نہ صرف کفر کے باقاعدہ فتوے دیئے تھے بلکہ اس کے باطل عقائد و نظریات کے رد میں کتابیں تصنیف فرمائی تھی۔ اعلی حضرت کو کہیں سے زبانی پتہ چلا کہ وہ مرنے سے پہلے توبہ کرگیا تھا۔آپ نے اس کی مطلقا تکفیر نہیں کی۔۔۔۔ اعلیحضرت شخصیات کی بجائے نظریات پر بات کرتے تھے ان کے ملفوظات والی کتاب سے بہت سی دانشمندانہ باتوں کا پتہ چلتا ہے مثلا وہ اس بات کے قائل نہ تھے کہ خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ نے موسیقی یعنی باجے گاجے وغیرہ کو قوالی کاحصہ بنایا۔کئی مشہور افواہوں کا رد اس کتاب میں موجود ہے!
امام احمد رضا خان جمعہ کی تقریر کے علاوہ سالانہ 12 ربیع الاول کی صبح کو وعظ فرماتے۔آج ساری ساری رات سپیکروں میں گلا پھاڑ پھاڑ کر لوگوں کو کافر کافر کہنے والے خود کو اعلی حضرت کا وارث بتاتے ہیں۔اور ساری عمر سوائے گلا پھاڑنے کے کوئی قابل ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دیتے۔امام احمدرضا کے سیاسی فلسفے میں 1912 کے 4 نکاتی چارٹر کو بہت اہمیت حاصل ہے۔آج تک جدید تعلیم یافتہ طبقہ اس ایجنڈے کو مسلمانوں کے سیاسی معاملات کا حل مانتا چلا آرہا ہے۔ خصوصا ڈاکٹر محمد ہارون برطانوی نومسلم اور ڈاکٹر مسعود جیسے ماہرین اپنے رفقا سمیت اس کا پرچار کرتے رہے۔یاد رہے ڈاکٹر مسعود اور وحید احمد مسعود دو علیحدہ علیحدہ شخصیات تھیں۔ آج کے دور میں خلیل احمد رانا ایک بزرگ ہیں جو جہانیاں سے علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔خصوصا انٹرنیٹ پر خوبصورت پی ڈی ایف کتابیں اپلوڈ کرنے میں ان کا کردار ہے۔علامہ مفتی محمد عبدالحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ نے اعلی حضرت فاضل بریلوی کی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے بہت جدوجہد فرمائی۔حکیم موسی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے علمی کام کرنے کیلئے مختلف ادارے، لائبریریاں اور ادبی شخصیات کو متعارف کرایا اور حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔

جمعرات، 15 جنوری، 2015

نہیں ایسے نہیں ہوا کرتا

قومیں ایسے تو نہیں بنا کرتیں۔ کیا قوم ایسی ہوتی ہے کسی ایک کا منہ مشرق کو اور کسی دوسرے کا رخ مغرب کو۔ کوئی دہشتگردی کو ختم کرنا چاہتا ہے کوئی انسانیت کا جنازہ نکالنا چاہتا ہے۔ کوئی اس قوم کے صبح جاگنے سے پہلے ان کی گلیاں محلے صاف کرکے اس میں چونا بکھیرتا ہے اور 'خاکروب' کہلاتا ہے دوسرا صرف گندگی پھیلاتا ہے اور نعرے لگاتا ہے۔ کسی کو عوامی فلاحی منصوبوں میں سے دھوکہ دہی کے ذریعے 'مال' نکال کر اپنے بچوں کو کھلانے سے لطف آتا ہے۔ کسی دوسرے کو زبردستی رشوت پکڑا دی جاتی ہے ورنہ پستول کی گولی حاضر ہے۔ یہاں کتنے کیس عدالتوں میں 'حل' ہوئے ہیں۔
  ایک دہائی سے زائد عرصہ اخبار بینی میں صرف ایک منڈی ڈھاباں ، صفدر آباد کے دیہاتوں کا کیس نظر آیا تھا جس میں کسی لڑکی کے ساتھ ظلم کرنے والوں کو پھانسی کے پھندے تک پہنچایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ  کے فیصلے کے بعد مظلوم  کے اہل خانہ نے مجرموں کو معاف کر دیا تھا لیکن سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ظالموں کی معافی کی اپیل رد کر دی تھی۔ اس کے بعد صرف ایک اصغر خان کیس کا فیصلہ اس معاملے کے بیس برس بعد اور کیس دائر ہونے کے تقریباً سولہ برس بعد آیا تھا اس پر عمل نہیں ہوا۔ آپ دیکھیں کہ اس میں تمام 'مجرم' کردارنہ صرف آپ کی بلکہ خطے کی سیاست پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ایک آخری فیصلہ شاہ زیب قتل کیس کا تھا جو قومی میڈیا، سوشل میڈیا اور بھر پور عوامی دباؤ کے نتیجے میں آیا لیکن وہ 'ظالم' وکٹری کا نشان بنا کر متاثر فیملی کو منا کر یہ جا اور وہ جا۔ یہ ہے تقریباً ڈیڑھ دہائی کی کُل عدالتی کارروائی۔ اس کے باوجود لاہور ہائی کورٹ بار کے وکلاء اور ان کی چہیتی عاصمہ جہانگیر ملٹری کورٹس کا 'رد' کر رہے ہیں۔  یعنی دہشتگردوں کو قانون کے جاننے ماننے والے پناہ فراہم کر رہے ہیں۔
 سولہ دسمبر کو پشاور میں وہ قیامت خیز سانحہ ہوا تو قیامت کیوں نہیں آئی۔ قوم کو بُدھو بنایا ہوا ہے۔ کیا سولہ کی شام دسمبر تک دہشت گردوں کے تمام پشت پناہ مدارس ، وکلاء اور سیاسی کرداروں کو ٹکڑے کرکے کتوں کے آگے نہیں پھینکا جا سکتا تھا۔ جیلوں میں ہزاروں دہشتگرد جو قوم کے ٹیکس سے 'پل' رہے ہیں اور ہر طرح کے جرائم میں وہاں سے بھی ملوث ہیں انہیں پٹرول چھڑک کر آگ نہیں لگا دینی چاہئے تھی، بھیا! کیا قومیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ایک مہینہ گزر گیا۔ چلیں چھوڑیں اس بات کو بھی! پیرس میں جو ہوا، اس کے بعد یورپ کے چونتالیس ممالک سمیت آدھی سے زیادہ دنیا حرکت میں نہیں آگئی۔ پاکستان میں سیاست دانوں کو رہنے دیں عوام الناس نے کتنے احتجاج کئے سانحہ پشاور کے لئے۔ ارے کوئی ہے جو ان دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں اور ان کی وکالت میں برین واشنگ کرکے قوم کو گمراہ کرنے والوں کو 'لگام' ڈالے؟ نہیں ہے۔ یہاں کتیا چوروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ اللہ عزوجل کی بارگاہ کے علاوہ کسی سے کوئی امید نہیں۔ یہ تو ایسے گئے گزرے ہیں کہ گھٹیا سے گھٹیا الفاظ بھی ان کے سامنے ہیچ ہیں اور ان کے کرتوت انتہائی بھیانک ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں ان کا 'آج' نہیں ہے یہ آنے والے کل کو سنواریں گے۔ یہ قوم کے رکھوالے ہیں یہ کریں گے قوم کے مستقبل کے فیصلے جو ہر آن اُڑنے کو تیار رہتے ہیں۔ پنڈ نوں اگ لگی، کتا روڑی تے۔ یہاں رہنا تو قوم نے ہے۔ کس قوم نے نجانے کس قوم نے۔ جسے آج تک ہوش نہیں آ سکا کہ قوم ہوتی کیا ہے۔ جنہیں انسانیت کا درس کسی نے دیا ہی نہیں۔ صرف سکھایا گیا ہے زیادہ سے زیادہ 'مال' کمانا۔ یا اس کے لئے ہر جائز و ناجائز ذریعے کو اختیار کرنا۔ یہ لوگ کِدھر کو جا رہے ہیں ان کی ستر فیصد نوجوان نسل کدھر جا رہی ہے۔ کسی کو خبر ہے!
 ٹی وی سکرین کے سامنے یا اخبار کے ایک کالم میں کتنی دنیا کو سنوارا جا چکا ہے۔ ایک سو بیس ٹی وی چینلز میں سے کتنے ہیں جو قوم کو اچھی زندگی بسر کرنے کا درس دے رہے ہیں۔ کس نے قوم  کو پچھلے اڑسٹھ برس سے  یرغمال بنایا ہوا ہے۔ کون ہے جس کے شکنجے سے ہم آزاد نہیں ہو سکے۔ اگر ابھی تک پتہ نہیں چل سکا تو جناب! معلوم کیجئے۔ حالات ایسے نہیں سُدھرا کرتے۔ قومیں ایسے نہیں بنا کرتیں۔ زندگیاں ایسے نہیں سنورا کرتیں۔ نہیں ایسے نہیں ہوا کرتا۔ کنویں سے باہر آجائیے کسی سمندر نہیں تو کم از کم دریا جیسی وسعت کا نظارا کیجیے کیونکہ اب چھوٹی موٹی نہر کی وسعت سے یہ معاملات حل ہونے والے نہیں۔ دنیا کو بہت سے بندوں (حدود) سے آزاد ہوکر دیکھئے۔ کیا یہی اصولِ زندگانی ہے جو ہم نے اپنایا ہے۔ کیا ٹی وی پر غمزدہ تصاویر دکھانے سے 'سب ٹھیک ہوجائے گا'۔

منگل، 13 جنوری، 2015

مناجات مقبول

اے اللہ
ہم عاجز بندے تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔اور تیرے  آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ ہمارے دلوں کو اخلاص کے ساتھ اپنے دین کی طرف پھیر دے۔ ہمارے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو معاف فرما دے۔ ہم کو پکا اور سچا مسلمان بنا دے
ہماری مشکلات کو حل فرما
ہم کو اسلام پر استقامت نصیب فرما
ہم سے راضی ہوجا ہم کو شیطان اور نفس کے شر سے بچا
ایمان کے ساتھ خاتمہ کیجئے
ہمارے قدموں کو صراط مستقیم پر قائم رہنے والا بنا دے
اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق دے
اپنی خاص رحمت نازل فرما اور اپنے قہر اور غضب سے بچا لے
قیامت کی رسوائی سے بچا لینا
اپنے عرش کے سائے میں جگہ عنایت فرمانا۔ قیامت کے روز اپنا دیدار نصیب فرمانا
کُل امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حشر کی رسوائی سے پناہ عنایت فرما، اسلام کا بول بالا فرما۔ اسلام کا جھنڈا بلند فرما۔
تمام مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار فرما دے۔ اسلام کی حفاظت فرما
قبر کے اندھیرے اور عذاب سے بچا اور منکر نکیر کے سوالات کے وقت ہماری مدد فرما
ہمارا نامہء اعمال ہمارے دائیں ہاتھ میں دینا
ہمیں حلال روزی نصیب فرما۔ ہمارے کاروبار میں اپنی رحمت سے برکت اور ترقی عطا فرما۔
ہمیں اخلاص نصیب فرما۔ ہمارے دِلوں میں حسد بغض اور کینہ دور فرما۔ ہم کو دجال کے فتنے اور موت کی سختی سے، قبر کے عذاب سے اور قیامت کی گرمی سے، جہنم کی آگ سے محفوظ فرما
پُل صراط کا راستہ آسان کردے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما
تنگدستی و خوف گھبراہٹ اور قرض کے بوجھ کو دور فرما
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے طریقے ہم کو سکھا دے اور ان کے پیارے صحابہ کے عملوں کی جِلا ہمارے ہر کام میں پیدا کر دے
ہمارے بچوں کو علمِ دین کی دولت سے سرفراز فرما اور نیک و صالح بنا دے
ہم گناہوں کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں صرف تیری رحمت کا آسرا ہے تو ہم کو اپنی رحمت سے بخش دے
اے غفور الرحیم! ہمارے گناہوں کو معاف فرما ہم گناہوں سے توبہ کرتے ہیں تو ہماری خطاؤں کو معاف فرما
ہم گناہوں سے شرمندہ ہیں
جو گناہ جان کر کیے یا جو انجانے میں ہوئے سب کو معاف فرما
ہمارے مَردوں اور عورتوں کو نماز کا پاپند بنادے
ہماری عبادتوں کو قبول فرما
سب مسلمانوں کو نیک بنا دے
ہم کو ہر قسم کی بد اخلاقی سے بچا دے
آخرت میں تیرا دیدار نصیب ہو
اسلام کا بول بالا ہو۔مسلمانوں کی تمام مشکلیں حل فرما اور ہماری ہر مشکل آسان فرما دے
ہمیں چَین اور راحت عطا فرما
مسلمانوں کو دین و دنیا میں عزت عطا فرما۔
بیماروں کو شِفا عطا فرما۔ کمزوروں کو طاقت عطا فرما
بچھڑوں کو مِلا دے اور روٹھوں کو منا دے۔
ہماری تمام جائز دلی تمناؤں کو پورا فرما دے مسلمانوں کو پردیس میں چَین اور سلامتی عطا فرما۔
تنگدستوں کی تنگدستی دور فرما دے۔
جو بے اولاد ہیں ان کو اولاد عطا فرما اور ہماری اولاد اور اُن کی نسل سے جو ان کے بعد ہیں سب کو نیک کیجئے۔
ہمارے مُردوں کی مغفرت فرما اُن کی قبروں میں رحمت نازل فرما۔ ان کی قبروں کو ٹھنڈا کر، اُن کے درجات بلند فرما۔
اپنے کُل مسلمانوں کو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرما۔
آخرت میں دیدار نصیب ہو۔
ہمیں اچھی صحت دے تاکہ ہم تیری عبادت کر سکیں
مرتے وقت کلمہ شریف نصیب فرما اور ہماری دعاؤں کو قبول فرما۔
آمین ثم آمین


مجھے کسی نے کمپوز کرنے کیلئے دی تھی۔ مَیں اسے آپ تک پہنچانا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا ہوں۔ عبدالرزاق قادری

اتوار، 11 جنوری، 2015

اللہ رحم فرمائے

الیکشن کے ڈبے کھل گئے، عمران خان کا گھر بس گیا، فوجی عدالتیں بن گئیں، گرفتاریاں اور پولیس مقابلے ہو رہے ہیں۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے پچھلے پورا ہفتے  میں سے نصف سے زائد وقت لاہور میں تنگ کیا۔ گیس کی سپلائی کئی ماہ سے جزوی تعطل کا شکار ہے۔ صنعت بند ہے۔ کاروبار جام ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں

مذہب کے نام پر منافرت جاری ہے۔ احتجاج جاری ہیں۔ بم دھماکوں میں غیر مسلح، بے قصور افراد جاں بحق ہو رہے ہیں۔  بہت غلط رویہ ان پاکستانی مذہبی سیاسی جماعتوں کا ہے جو فوجی عدالتوں کے بارے میں صرف اس لئے تحفظات رکھتی ہیں کہ طالبان ان کے مسلک کے لوگ تھے۔ یعنی انسانیت کا قتل عام دردناک طریقے سے کرنا فضل الرحمٰن اور جماعتِ اسلامی کا مسلک ہے۔
 یورپ، اپنے پیرس میں بارہ بندوں کے قتل پر سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مسلمان ملکوں میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کی آگ لگی ہوئی ہے۔ لوگ پریشانیوں سے پھٹنے کو ہیں۔ دنیا میں غم ہی غم ہیں۔ کسی ملک کے ہوائی جہاز تباہ ہو رہے ہیں۔ کہیں بسوں کو حادثات درپیش ہیں۔ مشرق وسطی میں ایک ظالم ناسور، داعش، اسلامی ریاست کے نام پر ظلم و تشدد کی گھناؤنی داستان رقم کر رہا ہے۔وینزویلا میں قتل ہو رہے ہیں۔ افریقہ کے ملکوں میں بوکو حرام اور الشباب جیسی دہشتگرد تنظیمیں انسانیت کا بے دریغ قتل عام کر رہی ہیں۔ انسان مذہب سے باغی ہو رہے ہیں، اللہ کے موجود ہونے سےانکار کر رہے ہیں یا اس کی قدرت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ مذہبی سکالرز پر میں کوئی رائے نہیں دے رہا، ورنہ جب بھی رائے دیتا ہوں حتیٰ کہ کسی کی بات کا اقتباس بھی پیش کرتا ہوں تو فتووں اور دھمکیوں کی زد میں آ جاتا ہوں۔ یہ دنیا کیسے سنورے گی۔ یہ مایوسیوں کے بادل کیسے چھٹیں گے۔
خدارا! اس کے لئے جس سے مرضی رائے لے لینا۔ لیکن ابلیس کی رائے عین وہی ہوگی جو طالبان نواز ملکوں، تنظیموں اور عسکری گروپس کی ہوگی، ان کے افکار سے بچنا۔ مثال کے طور پر القاعدہ، اخوان المسلمون، جماعۃ الدعوہ، حزب التحریر، جماعت اسلامی، تمام دیوبندی جماعتیں، بوکو حرام، النصرہ فرنٹ، داعش (اسلامی ریاست)، الشباب اور اسی طرح بہت سی تنظیمیں اور جماعتیں جیسے تنظیمِ اسلامی، لشکر جھنگوی کی سسٹر تنظیم، تنظیم اہلسنت والجماعت، افریقہ کے ایک ملک میں بھی اہلسنت والجماعت (وہی بوکو حرام) کے نام سے طالبان کی ذہنیت والی ایک تنظیم موجود ہے اور لندن میں بھی اسی نام سے ان خوارج کی ایک جماعت ہے۔
ان مذکورہ بالا نام نہاد اہلسنت والجماعت تنظیموں کا مسلمانوں کے سوادِ اعظم اہلسنت والجماعت (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) سے تعلق ہونا تو درکنار، یہ انہی اصلی سنی لوگوں کے خون کے پیاسے ہیں۔ ساتھ ساتھ شیعہ کے خون سے بھی ان کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ اپنے ادوار میں شیعہ حکومتوں نے بھی کچھ کم مظالم نہیں ڈھائے لیکن وہابیہ تنظیموں کے نام نہاد جہاد سے شاید کچھ کم ہی ہوں۔سلفی عقیدے کے لوگ، دوسرے لفظوں میں وہابی یا نام نہاد اہلحدیث یہ تمام دہشت گردوں کے پشت پناہ ہیں یا خود ان دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ مسلم دنیا کو پچھلی تین صدیوں میں سب سے زیادہ نقصان اسی وہابی خوارجی ذہنیت کے لوگوں سے اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں پر جدیدیت کے نام سے کئی عفریتوں نے حملہ کیا تھا لیکن مسلمان ان پر قابو پا گئے۔ اب یہ ظالم سوچ کے حاملین مسلمانوں کو زندہ تو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہتے۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ یہ ان کے جنازوں کو کندھا دینے اور دفنانے والا بھی کوئی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جنازے ہی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ جس بے دردی اور درندگی سے یہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر ان کے وڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر نشر کرکے دنیا میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں وہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ یہ غیر انسانی افعال ہیں۔
نجانے دوسری اقوام (مغربی دنیا)  کے لوگ مطالعہ کیوں نہیں کرتے اور حالاتِ حاضرہ سے واقفیت کیوں نہیں رکھتے۔ وہ  رات کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اپنے نیوز میڈیا پر نجانے کیوں آنکھیں بند کرکے یقین کر لیتے ہیں۔ انہیں غیر جانبدار ہو کر تحقیق کرنی چاہئے۔ وہ کبھی مسلمان بزرگوں کی تعلیمات کو دیکھیں اور جانچیں کہ وہ انسانیت کے کتنے بڑے خیر خواہ دین و مذہب کے لوگ تھے۔ خدارا! اسامہ بن لادن اور اس کی ذہنیت رکھنے والے لوگوں کو مسلمان کہنا چھوڑ دیجئے انہوں نے غیر مسلموں کو کم اور مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ مزید برآں مسلمانوں کو غیر مسلمانوں نے کم اور ان نام نہاد مجاہدین نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ تمدنی طور پر مسلمان تنزل میں ہیں۔ اس کا بہت سا کریڈٹ فرقہ واریت اور دہشت گردی کی جنگ کی سرپرستی کرنے والے ممالک کو جاتا ہے چاہے وہ امریکا (یو-ایس) ہو اس کے اتحادی ہوں، دیگر غیر مسلم ممالک ہوں یا فرقہ پرست مسلم ممالک مثلاً سعودی عرب، ایران وغیرہ۔
اب مجھے کوئی صاحب نیچے کمنٹس کرکے یہ مت بتائے کہ امریکہ نے عراق اور افغانستان میں کتنے لوگ قتل کیے اور اسرائیلیوں نے فلسطین میں کتنے مظالم ڈھائے یا بھارتی عسکری افواج نے کشمیر میں کیا کِیا اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیاء کے سوالات مجھ سے مت کرے کیونکہ وہ سب انسانیت کا بے دریغ قتل تھا اور ہے اور قابلِ مذمت ہے، اس قتلِ عام کی سب سے بڑی وجہ شاید وہابیہ کا ہمفرے ساختہ 'نیا دینِ اسلام' ہے۔ اسی نام نہاد اسلام کے نفاذ میں پچھلی تین صدیوں سے لاکھوں مسلمان لوگ موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے جن میں سعودی عرب کے قیام سے قبل اور مابعد کے حالات گواہ ہیں۔ جہاں اہل بیتِ عظام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس قبریں وہابیوں کے ظالم نظریات کی وجہ سے زمین بوس ہو گئیں اور ان کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ ابھی حالیہ داعش (اسلامک سٹیٹ) کا کردار دیکھ لو حضرت یونس علیہ السلام کا مزار اور مسجد جو کہ نجانے کتنی صدیوں سے قائم تھے شہید کر دیئے گئے۔ امام رفاعی کبیر سمیت کتنے بزرگان کے مزارات شہید ہوئے۔ اور شامی علاقہ جات میں اہل بیت کرام میں سے کتنے مزارات شہید ہوئے۔
پوری مسلم دنیا میں کتنی مساجد پر دورانِ عبادت وہابیہ نے حملے کیے۔ (وہابیہ سے مراد تمام دہشتگرد گروپس اور تنظیمیں ہیں جو اسلام کے نام پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہ سب محمد بن عبد الوہاب نجدی کے پیروکار ہیں۔) کیا یہ ان کا اسلام ہے؟ ہرگز نہیں؟ یہ تو سراسر کفر ہے۔ کتنے بے گناہ سویلین لوگوں کو قید کرنے کے بعد قتل کرکے ان کے فوٹیج بنا کر دنیا کے سامنے پیش کئے گئے۔ عید والے دن کتنے نوجوانوں کو غیر وہابی اور غیر ظالم ہونے کی سزا ملی۔ کتنی عورتیں نکاح مسیار (جہاد النکاح، جنسی جہاد) کی نذر ہو گئیں اور کتنی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ کتنے معصوم بچے یتیم ہوئے۔ کتنی بستیاں اجاڑ دی گئیں۔ ایزدی / یزیدی فرقہ والوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ ان کی کہانی کیا تھی؟ نجانے کتنے ظلم اسلام کے نام پر ان لوگوں نے کیے جنہیں خود امریکہ شامی حکومت کے خلاف مکمل امداد دیتا رہا، برطانیہ افرادی قوت، تربیت اور مالی قوت فراہم کرتا رہا، اسرائیلی انہیں تربیت دیتے رہے اور سعودی امراء انہیں مال و دولت بطورِ فنڈ دیتے رہے۔
اللہ رحم فرمائے اور سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ جن کے نصیب میں ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہدایت نہیں ہے انہیں اللہ عزوجل غرق فرمائے اور ہمیشہ کیلئے عبرت کا نشان بنا دے۔ اللہ عزوجل ہمیں اچھے انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ بجاہ سید المرسلین۔ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔
نوٹ: میری تحاریر میری ذاتی آراء ہیں۔ ان سے کسی تنظیم، ادارے، جماعت، پبلشر، ویب سائٹ یا فورم وغیرہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اور میرے سوا کوئی میری آراء کا ذمہ دار نہیں۔ ایک آدھ جملہ یا پیرا گراف کاٹ کر تنقید کرنے والوں سے میں بری ہوں۔
الیکشن کے ڈبے کھل گئے، عمران خان کا گھر بس گیا، فوجی عدالتیں بن گئیں، گرفتاریاں اور پولیس مقابلے ہو رہے ہیں۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے پچھلے پورا ہفتے  میں سے نصف سے زائد وقت لاہور میں تنگ کیا۔ گیس کی سپلائی کئی ماہ سے جزوی تعطل کا شکار ہے۔ صنعت بند ہے۔ کاروبار جام ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں
مذہب کے نام پر منافرت جاری ہے۔ احتجاج جاری ہیں۔ بم دھماکوں میں غیر مسلح، بے قصور افراد جاں بحق ہو رہے ہیں۔  بہت غلط رویہ ان پاکستانی مذہبی سیاسی جماعتوں کا ہے جو فوجی عدالتوں کے بارے میں صرف اس لئے تحفظات رکھتی ہیں کہ طالبان ان کے مسلک کے لوگ تھے۔ یعنی انسانیت کا قتل عام دردناک طریقے سے کرنا فضل الرحمٰن اور جماعتِ اسلامی کا مسلک ہے۔
یورپ، اپنے پیرس میں بارہ بندوں کے قتل پر سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مسلمان ملکوں میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کی آگ لگی ہوئی ہے۔ لوگ پریشانیوں سے پھٹنے کو ہیں۔ دنیا میں غم ہی غم ہیں۔ کسی ملک کے ہوائی جہاز تباہ ہو رہے ہیں۔ کہیں بسوں کو حادثات درپیش ہیں۔ مشرق وسطی میں ایک ظالم ناسور، داعش، اسلامی ریاست کے نام پر ظلم و تشدد کی گھناؤنی داستان رقم کر رہا ہے۔وینزویلا میں قتل ہو رہے ہیں۔ افریقہ کے ملکوں میں بوکو حرام اور الشباب جیسی دہشتگرد تنظیمیں انسانیت کا بے دریغ قتل عام کر رہی ہیں۔ انسان مذہب سے باغی ہو رہے ہیں، اللہ کے موجود ہونے سےانکار کر رہے ہیں یا اس کی قدرت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ مذہبی سکالرز پر میں کوئی رائے نہیں دے رہا، ورنہ جب بھی رائے دیتا ہوں حتیٰ کہ کسی کی بات کا اقتباس بھی پیش کرتا ہوں تو فتووں اور دھمکیوں کی زد میں آ جاتا ہوں۔ یہ دنیا کیسے سنورے گی۔ یہ مایوسیوں کے بادل کیسے چھٹیں گے؟
خدارا! اس کے لئے جس سے مرضی رائے لے لینا۔ لیکن ابلیس کی رائے عین وہی ہوگی جو طالبان نواز ملکوں، تنظیموں اور عسکری گروپس کی ہوگی، ان کے افکار سے بچنا۔ مثال کے طور پر القاعدہ، اخوان المسلمون، جماعۃ الدعوہ، حزب التحریر، جماعت اسلامی، تمام دیوبندی جماعتیں، بوکو حرام، النصرہ فرنٹ، داعش (اسلامی ریاست)، الشباب اور اسی طرح بہت سی تنظیمیں اور جماعتیں جیسے تنظیمِ اسلامی، لشکر جھنگوی کی سسٹر تنظیم، تنظیم اہلسنت والجماعت، افریقہ کے ایک ملک میں بھی اہلسنت والجماعت (وہی بوکو حرام) کے نام سے طالبان کی ذہنیت والی ایک تنظیم موجود ہے اور لندن میں بھی اسی نام سے ان خوارج کی ایک جماعت ہے۔

ان مذکورہ بالا نام نہاد اہلسنت والجماعت تنظیموں کا مسلمانوں کے سوادِ اعظم اہلسنت والجماعت (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) سے تعلق ہونا تو درکنار، یہ انہی اصلی سنی لوگوں کے خون کے پیاسے ہیں۔ ساتھ ساتھ شیعہ کے خون سے بھی ان کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ اپنے ادوار میں شیعہ حکومتوں نے بھی کچھ کم مظالم نہیں ڈھائے لیکن وہابیہ تنظیموں کے نام نہاد جہاد سے شاید کچھ کم ہی ہوں۔سلفی عقیدے کے لوگ، دوسرے لفظوں میں وہابی یا نام نہاد اہلحدیث یہ تمام دہشت گردوں کے پشت پناہ ہیں یا خود ان دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ مسلم دنیا کو پچھلی تین صدیوں میں سب سے زیادہ نقصان اسی وہابی خوارجی ذہنیت کے لوگوں سے اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں پر جدیدیت کے نام سے کئی عفریتوں نے حملہ کیا تھا لیکن مسلمان ان پر قابو پا گئے۔ اب یہ ظالم سوچ کے حاملین مسلمانوں کو زندہ تو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہتے۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ یہ ان کے جنازوں کو کندھا دینے اور دفنانے والا بھی کوئی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جنازے ہی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ جس بے دردی اور درندگی سے یہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر ان کے وڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر نشر کرکے دنیا میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں وہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ یہ غیر انسانی افعال ہیں۔


نجانے دوسری اقوام (مغربی دنیا)  کے لوگ مطالعہ کیوں نہیں کرتے اور حالاتِ حاضرہ سے واقفیت کیوں نہیں رکھتے۔ وہ  رات کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اپنے نیوز میڈیا پر نجانے کیوں آنکھیں بند کرکے یقین کر لیتے ہیں۔ انہیں غیر جانبدار ہو کر تحقیق کرنی چاہئے۔ وہ کبھی مسلمان بزرگوں کی تعلیمات کو دیکھیں اور جانچیں کہ وہ انسانیت کے کتنے بڑے خیر خواہ دین و مذہب کے لوگ تھے۔ خدارا! اسامہ بن لادن اور اس کی ذہنیت رکھنے والے لوگوں کو مسلمان کہنا چھوڑ دیجئے انہوں نے غیر مسلموں کو کم اور مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ مزید برآں مسلمانوں کو غیر مسلمانوں نے کم اور ان نام نہاد مجاہدین نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ تمدنی طور پر مسلمان تنزل میں ہیں۔ اس کا بہت سا کریڈٹ فرقہ واریت اور دہشت گردی کی جنگ کی سرپرستی کرنے والے ممالک کو جاتا ہے چاہے وہ امریکا (یو-ایس) ہو اس کے اتحادی ہوں، دیگر غیر مسلم ممالک ہوں یا فرقہ پرست مسلم ممالک مثلاً سعودی عرب، ایران وغیرہ۔

اب مجھے کوئی صاحب نیچے کمنٹس کرکے یہ مت بتائے کہ امریکہ نے عراق اور افغانستان میں کتنے لوگ قتل کیے اور اسرائیلیوں نے فلسطین میں کتنے مظالم ڈھائے یا بھارتی عسکری افواج نے کشمیر میں کیا کِیا اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیاء کے سوالات مجھ سے مت کرے کیونکہ وہ سب انسانیت کا بے دریغ قتل تھا اور ہے اور قابلِ مذمت ہے، اس قتلِ عام کی سب سے بڑی وجہ شاید وہابیہ کا ہمفرے ساختہ 'نیا دینِ اسلام' ہے۔ اسی نام نہاد اسلام کے نفاذ میں پچھلی تین صدیوں سے لاکھوں مسلمان لوگ موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے جن میں سعودی عرب کے قیام سے قبل اور مابعد کے حالات گواہ ہیں۔ جہاں اہل بیتِ عظام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس قبریں وہابیوں کے ظالم نظریات کی وجہ سے زمین بوس ہو گئیں اور ان کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ ابھی حالیہ داعش (اسلامک سٹیٹ) کا کردار دیکھ لو حضرت یونس علیہ السلام کا مزار اور مسجد جو کہ نجانے کتنی صدیوں سے قائم تھے شہید کر دیئے گئے۔ امام رفاعی کبیر سمیت کتنے بزرگان کے مزارات شہید ہوئے۔ اور شامی علاقہ جات میں اہل بیت کرام میں سے کتنے مزارات شہید ہوئے۔

پوری مسلم دنیا میں کتنی مساجد پر دورانِ عبادت وہابیہ نے حملے کیے۔ (وہابیہ سے مراد تمام دہشتگرد گروپس اور تنظیمیں ہیں جو اسلام کے نام پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہ سب محمد بن عبد الوہاب نجدی کے پیروکار ہیں۔) کیا یہ ان کا اسلام ہے؟ ہرگز نہیں؟ یہ تو سراسر کفر ہے۔ کتنے بے گناہ سویلین لوگوں کو قید کرنے کے بعد قتل کرکے ان کے فوٹیج بنا کر دنیا کے سامنے پیش کئے گئے۔ عید والے دن کتنے نوجوانوں کو غیر وہابی اور غیر ظالم ہونے کی سزا ملی۔ کتنی عورتیں نکاح مسیار (جہاد النکاح، جنسی جہاد) کی نذر ہو گئیں اور کتنی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ کتنے معصوم بچے یتیم ہوئے۔ کتنی بستیاں اجاڑ دی گئیں۔ ایزدی / یزیدی فرقہ والوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ ان کی کہانی کیا تھی؟ نجانے کتنے ظلم اسلام کے نام پر ان لوگوں نے کیے جنہیں خود امریکہ شامی حکومت کے خلاف مکمل امداد دیتا رہا، برطانیہ افرادی قوت، تربیت اور مالی قوت فراہم کرتا رہا، اسرائیلی انہیں تربیت دیتے رہے اور سعودی امراء انہیں مال و دولت بطورِ فنڈ دیتے رہے۔

اللہ رحم فرمائے اور سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ جن کے نصیب میں ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہدایت نہیں ہے انہیں اللہ عزوجل غرق فرمائے اور ہمیشہ کیلئے عبرت کا نشان بنا دے۔ اللہ عزوجل ہمیں اچھے انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ بجاہ سید المرسلین۔ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔

نوٹ: میری تحاریر میری ذاتی آراء ہیں۔ ان سے کسی تنظیم، ادارے، جماعت، پبلشر، ویب سائٹ یا فورم وغیرہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اور میرے سوا کوئی میری آراء کا ذمہ دار نہیں۔ ایک آدھ جملہ یا پیرا گراف کاٹ کر تنقید کرنے والوں سے میں بری ہوں۔


ہفتہ، 3 جنوری، 2015

درست طریقہ جشن عید میلاد النبی منانے کا

یہ جو سال گزرا ہے یعنی اسلامی کیلنڈر کے مطابق 1435 ہجری قمری تھا اس میں شب قدر جو کہ ایک بہت بابرکت رات ہوتی ہے، میں نے لاہور میں عالمگیری، بادشاہی مسجد کو مغربی جانب سے دیکھا وہ دلہن کی طرح سجی ہوئی تھی۔ میرے دل میں کوئی بغض یا نفرت ہرگز پیدا نہ ہوئی۔ لیکن جو لوگ ان دنوں بادشاہی مسجد لاہور میں بطور مذہبی رہنما تعینات ہیں ان کے لئے ایک سوال میرے دل میں آیا اور میں نے ایک میسیج موبائل پر لکھ کر لوگوں کو بھیجا کہ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ایسا ثابت ہے کہ انہوں نے کسی بادشاہ (عالمگیر کی طرح کا بادشاہ) کی بنوائی ہوئی مسجد کو شب قدر کو دلہن کی طرح سجایا ہو اور اس طرح خوشی کا اظہار فرمایا ہو۔ میں نے آگے لکھا کہ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ اگر کوئی مسجد کو سجا کر شب قدر کو مناتا ہے اور خوشی محسوس کرتا ہے۔
 یہ سوال دل میں آنے کی وجہ بڑی واضح اور ایک تنقیدی نکتہ نظر کی وجہ سے تھی کہ دنیا بھر میں مسلمان لوگ بارہ ربیع الاول کو نبی پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یومِ ولادت اپنے گھر اور مسجدیں سجا کر مناتے ہیں تو کچھ مشہورِ زمانہ سکالرز ان لوگوں کے خلاف جہاد کرنے کی تر غیب دیتے ہیں۔ سکالر کا نام میں لکھ سکتا ہوں لیکن فی الوقت نہیں لکھ رہا اگر کوئی پوچھے گا تو ضرور بتاؤں گا بلکہ وڈیو موجود ہے دکھا بھی سکتا ہوں۔ وہ جناب کہتے ہیں ایک حدیث پاک کا حوالہ دے کر کہ پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کے اصحاب یا حواری ہوتے تھے جو ان نبیوں سے دین سیکھ کر لوگوں کو بتاتے ان کے بعد کچھ ایسے ناخلف لوگ آ جاتے تھے جو وہ کام کرنے کا حکم دیتے تھے جو خود نہیں کرتے اور کرتے وہ تھے جس کا حکم ہی نہیں مِلا ہوتا تھا۔ یہ سکالر صاحب اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ عید میلاد النبی منانے کا حکم نہیں ہے تو حدیث پاک کے مطابق مؤمن وہ ہوگا جو ان کے خلاف جہاد کرے گا قوت سے، زبان سے یا دل سے برا مانے گا جو رائی کے برابر ایمان کی مثال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ آج شام کو میں نے موبائل پر ایک سوال لوگوں کو بھیجا تھا کہ جب بھی مسلمانوں کے مذہبی تہوار ہوتے ہیں تو مسلم ملک میں رہتے ہوئے انہیں دہشت گردی کی زد میں آ جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ خدشات مسلمانوں کو اپنے ممالک میں کن لوگوں سے ہیں؟ کیا دہشت گرد مسلمان ہیں؟ یا کیا مسلمان دہشت گرد ہو سکتے ہیں؟؟؟ ان سوالات کا جواب مجھے ابھی ابھی سکالرز کی وڈیوز دیکھ کر ملا ہے۔ ان میں سے کوئی عید میلاد النبی منانے والوں کے خلاف جہاد کی ترغیب دے رہا ہے۔ اور کوئی دوسرا کہہ رہا ہے کہ اگر ان محافل میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو خدا سے بڑھا کر بیان نہ کیا جائے تو ٹھیک ہے! واٹ نان سینس ہی اِز۔ کیا وہ سکالر خدا تعالی کی شان کو محدود مانتا ہے جو کہتا پھرتا ہے کہ معاذاللہ نبی پاک کی شان کو بڑھا کر پیش کِیا جاتا ہے؟ کیا اللہ عزوجل کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا درست ہے کہ اللہ کی شان کی کوئی حد ہوتی ہے۔ کس طرح کی بات کرتے ہیں جناب دانشور! ایک تیسرے صاحب ہیں جو کہتے ہیں کہ عام انسان یا بچے کی سالگرہ منانا مباح یا مستحب یا مکروہ ہے جسے حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وہ کہتا ہے کہ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔ انبیاء کرام علیہم کی ولادت کی سالگرہ منانا شِرک کی طرف لے جاتا ہے۔ لیکن اس سکالر صاحب نے اس بات کو واضح نہیں کیا کہ یہ کیسے شِرک کی طرف لے جاتا ہے۔ بس لے جاتا ہے۔ کیونکہ کہہ جو دیا کہ لے جاتا ہے۔ کمال ہے! یہ کیا منطق ہوئی کہ اللہ کے پاک پیغمبر علیہ السلام کی یاد میں ایک دن منانا شِرک کی طرف لے جاتا ہے؟ ان  سکالرز  نےایک بات 'اور' کہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولِ پاک کو روزانہ یاد کرنا چاہئے۔ صرف ایک سالانہ پروگرام ترتیب دینا یہ کیسے ثابت یا ظاہر کرتا ہے کہ آپ عاشقِ رسول ہیں یا اس ایک دن کو منا لینے سے آپ لوگ کہاں سچے اور باعمل مسلمان بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ بات ان کی منطقی ہے۔ بھئی سکالرز صاحبان، احترام کے ساتھ! آپ تو بہت اچھا نکتہ بیان فرما رہے ہیں چلو ایسا کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو سال کے بعد صرف ربیع الاول میں نبی پاک کی یاد ، زیادہ آتی ہے وہ 12 ربیع الاول سے پہلے اور چند روز بعد تک جشن منا لیا کریں گے۔ بس آپ ذرا ہمت کیجیے اور دیگر مہینوں میں زیادہ نہیں تو ہر ہفتے کو ایک محفل پاک منعقد کرنے کے لئے کوشش فرمائیے۔ آہستہ آہستہ لوگ آپ کے عمل کو دیکھ کر یہ سمجھنا شروع کر دیں گے ہمیں پُورا سال  اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اپنا محبوب عطا فرمایا اور پیارا دین عطا فرمایا۔ اس میں تو بہت زیادہ ہم آہنگی اور محبتوں کو بڑھانے والی بات پوشیدہ ہے کہ آپ سال بھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہتے ہیں کہ یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں بھیج کر تُو نے ہم پر احسان عظیم فرمایا ہے۔ اب ہم سال بھر جشن آمدِ رسول منایا کریں گے۔ جس میں نہ صرف نعرے ہوں گے بلکہ اس کا عکس ہماری عملی زندگی سے بھی جھلکے گا۔ ہماری روزمرہ کی حرکات سے بھی۔ ہمارے کاروبارِ حیات سے بھی۔ تو آئیے آج یہ عہد کریں کہ آج کے بعد پورا سال نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں ہم غریبوں کا بہت خیال رکھیں گے۔ ناداروں اور مفلسوں کی مدد کریں گے۔ ہمسائیوں کے حقوق کا خیال رکھیں گے۔ کسی کا دل نہیں دکھائیں گے۔ ہم عملی مسلمان بن کر دنیا کے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کریں گے۔ اور تجدیدِ عہد پھر اگلے سال ربیع الاول یا رمضان شریف میں کر لیں گے۔ کہ جس طرح سانحہ پشاور، سانحہ واہگہ بارڈر، سانحہ نشتر پارک، سانحہ مون مارکیٹ، سانحہ جامعہ منہاج القرآن، سانحہ راولپنڈی، سانحہ ہزارہ قبائل اور دیگر بہت سے واقعات میں جن لوگوں کا دل دُکھا ہے۔ ہم ان کے غم گسار بن جائیں گے۔ ہم لوگوں کو سُکھ دیں گے۔ پیار دیں گے۔ محبتیں بانٹیں گے۔ ہم اپنی حکومت سے یہ مطالبہ کریں گے کہ اپنی خارجہ پالیسی میں غیر ملکیوں کے ڈرونز کے لئے کوئی گنجائش نہ رکھی جائے ۔ ہم اپنے معاملات خود دیکھ لیں گے۔ اور آئیں آج عہد کریں کہ ہم دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے پوُرا سال کوشش کریں گے۔ کیونکہ ہم سارا سال نبی پاک کی یاد میں گزارنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہم عید، محرم ، شب معراج، شب برات اور دیگر بہت سے مذہبی و غیر مذہبی تہواروں پر شر پسندانہ کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کریں گے۔ اور دینی مسائل کے حل کے لئے ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹرز کی بجائے دینی علوم کے ماہرین سے رجوع کریں گے اور طبی مسائل کے حل کے لئے ڈاکٹرز یعنی ماہرین طب کی خدمات حاصل کریں گے۔ آئیں آج عہد کریں کہ ہم رشوت دینے والے اور لینے والے کو نبی پاک کا وہ واضح فرمان سُنا کر اس سے روکیں گے جس میں نبی پاک نے راشی اور مرتشی دونوں کو جہنمی قرار دیا ہے۔ اور ہم ملاوٹ کرنے والوں کو بھی وہ حدیث سُنا کر دھوکہ بازی سے باز رہنے کا درس دیں گے۔ جس میں سرکار دو عالم نے فرمایا کہ "وہ ہم میں سے نہیں جو ملاوٹ کرے"۔ اسی طرح ہر شعبہ زندگی اور ہر مرحلے پر دینِ متین کی تعلیمات کی رہنمائی میں سارا سال آقائے دوجہاں کی یاد میں گزاریں گے اور جنہیں صرف سال کے بعد ربیع الاول شریف میں یہ خوشی منانا یاد آتا ہے انہیں اپنے عمل سے بتائیں گے کہ یہ ایک مثالی کردار ہے۔ یہ ہے درست طریقہ جشنِ عید میلاد النبی منانے کا۔

جمعہ، 2 جنوری، 2015

جہیمان عتیبی

ویکیپیڈیا سے


پیدائش 16 ستمبر 1936
صوبہ القصيم, سعودی عرب
وفات 9 جنوری 1980 (عمر 43 سال)
حیثیت پھانسی دی گئی
اولاد 3

جہیمان عتیبی (عربی زبان: جهيمان بن محمد بن سيف العتيبي) (16 ستمبر 1936ء تا 9 جنوری 1980ء) ایک مذہبی کارکن اور عسکریت پسند تھا اس کی قیادت میں 400 سے 500 مردوں کے ایک منظم گروپ نے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا تھا ۔اس نے یکم محرم 1400 ہجری بمطابق 20 نومبر 1979ء کی صبح نماز فجر کی جماعت کے اختتام کے وقت اپنے مسلح ساتھیوںسمیت مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام (بیت اللہ) پر حملہ کیا اور کئی لوگوں کو یر غمال بنا لیا ۔ مسجد الحرام (خانہ کعبہ) دو سے زائد ہفتے ان کے قبضے میں رہی اور کئی بے گناہ لوگوں کو بچوں اور عورتوںسمیت شہید کردیا گیا ۔ شہداء کی تعداد کا اندازہ ایک سو سے لے کر چھ سو افراد تک لگایا جاتا ہے۔ پھر سعودی حکومت نے سپیشل فورسز کو خانہ کعبہ میں داخل کر دیا۔ فورسز نے ایک آنسو گیس (سی بی) کا استعمال کیا جو عمل تنفس کو سست کرتی اور جارحانہ جذبات کو روکتی ہے ۔ ٹینکوں کے ذریعے طاقت کا استعمال کرکے خانہ کعبہ (مسجد الحرام) کے گیٹ توڑے گئے اور جہیمان عتیبی کو پھانسی دی گئی۔ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری جیسے شدت پسند عناصر کے علاوہ کئی دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لوگ جہیمان عتیبی کے طریقہ واردات سے متاثر ہوئے۔ اور آج تک دنیا میں آگ لگائے ہوئے ہیں۔ یہ اسلام کے نام پر ظلم کا بازار گرم کرنے والے جہیمان عتیبی کے نظریاتی پیروکار ہیں۔ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اس کی زندگی میں خوارج کہا جاتا تھا۔ آج کے دہشت گردوں کو بھی ان کے اعمال و علامات کی وجہ سے خوارج کہا جاتا ہے

اتوار، 26 اکتوبر، 2014

Short History of Islam till Martyrdom (assassination) of Hazrat Imam Hussain

Compiled by Abdul Razzaq Qadri


        “Our Prophet, Muhammad ('alaihi 's-salâm), was born in Mekka on the Monday morning of Rabî' al-awwal 12, which coincided with April 20, 571 (mîlâdî). He passed away in Medina in the 11th year of the Hegira (m. 632). At the age 40, the angel called Jabrâ'il ('alaihi 's-salâm) revealed to him his prophethood.He emigrated (hijra) from Mekka to Medina in 622; his arrival at the Kubâ village near Medina on Monday, September 20, marks the beginning of the Muslims' Hijrî Shamsî (solar) calendar, while Muharram 1 of the same year marks the beginning of the Qamarî (lunar) calendar. The Persian Shamsî year begins six months before this, that is, on the twentieth of March, which is the day of the Magian festival.”
Reference: The Sunni Path, page 8 and 9

Note: Western Calendar (January-December) is called Gregorian and Miladi Calendar. It has been started from the Era of Prophet Hadhrat Eesa (Jesus) peace be upon him. It is also called Christian calendar and Eeswi calendar. This calendar is used in both ways Solar and Lunar. Christians observe Christmas-Birthday of Hadhrat Eesa (Jesus) peace be upon him according to solar cycle but they celebrate Easter according to lunar cycle. Islamic Calendar has been started from the time of the Migration (Hijrat) of Holy Prophet Muhammad peace and blessing be upon him according to Gregorian calendar it was year of 622, Islamic lunar calendar is eleven days shorter than the Gregorian calendar used in the Western world. In the international Gregorian calendar, the dates vary from year to year, drifting approximately 11 days earlier each year.
After the death of Holy Prophet Muhammad peace be upon him (Muslims believe that Prophets are alive in their graves) on 12th of Rabi-al-awwal 11 Hijri according to June 632, First Khalifa (King) of Islam and Muslims was Hadhrat Abu Baker siddeeq Radi-yallahu-anhu (Father-in-Law of Holy Prophet), he was elected by the Companions of Holy Prophet. Hadhrat Abu Baker Siddeeq passed away on 22nd Jamadi-al-Sani in 13 Hijri/23rd of August 634. He made his Successor Hadhrat Omar (Father-in-Law of Holy Prophet) before his death. Total age of the Hadhrat Abu Baker was 63 years.

Second Khalifa Hadhrat Omar Radi-yallahu-anhu ruled there 10 years till Zil-Hajj 23 Hijri. He was injured by a killer. He announced a committee to elect next Khalifa. Hadhrat Omar Martyred in age of 63 years on 1st of Muharram 24 Hijri/ 11th of November, 644.

Third Khalifa Hadhrat Usman عُثْمَان was elected by that Committee. He was Son-in-Law of Holy Prophet, two of the Daughters of Prophet were married with him one after another, Firstly Hadhrat Ruqayya died, and then he was married with Hadhrat Umm-e-Kalsoom. Hadhrat Usman عُثْمَان got married with Hadhrat Ruqqaya in city of Mecca. She died after migration to Medina in 2nd Hijri. Hadhrat Umme-Kalsoom died in 9th Hijri. Hadhrat Usman increased and developed Masjid-al-Haraam (situated in Mecca) in 26th Hijri and Masjid-al-Nabawi (Situated in Medina) in 29th of Hijri. Hadhrat Usman عُثْمَان was assassinated on 18th Zil-Hajj in 35 Hijri/ 20th of June 656.
Note: Holy Prophet Hadhrat  حَضْرَتْ Muhammad had 4 daughters and 3 sons, three of the sons died in their childhood.
Note: A Muslim man is allowed to marry four women at a time, but there should not be two sisters as his wives at a time, he can adopt second after death of first.

And forth Khalifa was Hadhrat Ali (Cousin and Son-in-Law of Holy Prophet). YoungestDaughter of Holy Prophet Hadhrat Fatima فَاطِمَہْ حَضْرَتْ  was married with Hadhrat Ali in 2nd Hijri. They had two Sons, Hadhrat Hasn (حَسْن) and Hadhrat (حُسَیْن) Husain. Imam Hasn was born in 3rd Hijri and Imam Husayn was born in 4th Hijri. Hadhrat Ali Ruled from 35 to 40 Hijri and he was assassinated on the day of 21st of Ramadan.
            After the assassination of Hadhrat حَضْرَتْ Ali, people of Koofa accepted Hadhrat Imam Hasn as Khalifa and after 6 months Hadhrat Imam Hassan handed over whole kingdom to Hadhrat حَضْرَتْ Mua’wia in Rabi-al-awwal 41st Hijri on a conditioned agreement.
Hadhrat Mua’wia also was one of the companions of Holy Prophet. He ruled 20 years from 40 to 60 Hijri as a king. He had been Governor of Syria before being a king since 20 years (Syria was a province/state of Great Islamic Kingdom Khilaafat خِلَافَتْ at that time).  He died in month of Rajab in 60 Hijri.
            After the death of Hadhrat Mua’wia his son Yazid was appointed as a king according to his will. Yazid was a bad person and a bad sinner. Yazid was born in Era of Hadhrat Usman in 25th of Hijri. Name of his mother was Maisoon.
 Hadhrat Husain refused to accept him (Yazid) as Muslim King. Hadhrat Husain received a lot of Letters from people of the city of Koofa (in Iraq). People of Koofa wanted to see him as a Muslim Khalifa. Hadhrat Imam Husain travelled from Medina to Mecca on 4th Sha’abaan in 60th of Hijri.
Hadhrat Nouman نُعْمَان bin Bashir, one of the companions of Holy Prophet was Governor of Koofa at that time. Hadhrat Imam Husain sent Hadhrat Muslim bin Aqeel (his two young sons Muhammad and Ibrahim were with him) to know the current situation of Koofa. Hadhrat Muslim bin Aqeel wrote a letter to Hadhrat Imam Husain that people of Koofa loved him so much and were ready to accept him as a Khalifa of Muslims.
Meanwhile Governor of Koofa was changed by Yazid. Name of new Governor was Abdullah bin Ziyaad. He announced there in Koofa to favor Yazid. He declared that if someone would favor Hadhrat Imam Husain he would be punished. Hadhrat Muslim bin Aqeel and his sons were killed (martyred) there in Koofa by new Governor Ibne-Ziyad. On the same day Hadhrat Imam Husain left for Koofa. People who met Hadhrat Imam Husain in his way they told him that people of Koofa Loved to him but they were standing with Banu Umayyad (Yazid) if any mishap. They suggested him to do not travel to Koofa.
On 10th of Muharram 61 Hijri on the land of Iraq (Karbala desert), army of Yazid Killed Hadhrat Husain including many of his family members and his friends there. It was first month Muharram of 61 Hijri year which coincided with 680 AD. Muslims has been cursing on Yazid and they do so still from that incident. Muslims Loved and they love still the name of Hadhrat Husain (Grand-son of Holy Prophet).

ہفتہ، 25 اکتوبر، 2014

Short History of Islam till Martyrdom (assassination) of Hadhrat Imam Husain

Compiled by Abdul Razzaq Qadri


        “Our Prophet, Muhammad ('alaihi 's-salâm), was born in Mekka on the Monday morning of Rabî' al-awwal 12, which coincided with April 20, 571 (mîlâdî). He passed away in Medina in the 11th year of the Hegira (m. 632). At the age 40, the angel called Jabrâ'il ('alaihi 's-salâm) revealed to him his prophethood.He emigrated (hijra) from Mekka to Medina in 622; his arrival at the Kubâ village near Medina on Monday, September 20, marks the beginning of the Muslims' Hijrî Shamsî (solar) calendar, while Muharram 1 of the same year marks the beginning of the Qamarî (lunar) calendar. The Persian Shamsî year begins six months before this, that is, on the twentieth of March, which is the day of the Magian festival.”
Reference: The Sunni Path, page 8 and 9

Note: Western Calendar (January-December) is called Gregorian and Miladi Calendar. It has been started from the Era of Prophet Hadhrat Eesa (Jesus) peace be upon him. It is also called Christian calendar and Eeswi calendar. This calendar is used in both ways Solar and Lunar. Christians observe Christmas-Birthday of Hadhrat Eesa (Jesus) peace be upon him according to solar cycle but they celebrate Easter according to lunar cycle. Islamic Calendar has been started from the time of the Migration (Hijrat) of Holy Prophet Muhammad peace and blessing be upon him according to Gregorian calendar it was year of 622, Islamic lunar calendar is eleven days shorter than the Gregorian calendar used in the Western world. In the international Gregorian calendar, the dates vary from year to year, drifting approximately 11 days earlier each year.
After the death of Holy Prophet Muhammad peace be upon him (Muslims believe that Prophets are alive in their graves) on 12th of Rabi-al-awwal 11 Hijri according to June 632, First Khalifa (King) of Islam and Muslims was Hadhrat Abu Baker siddeeq Radi-yallahu-anhu (Father-in-Law of Holy Prophet), he was elected by the Companions of Holy Prophet. Hadhrat Abu Baker Siddeeq passed away on 22nd Jamadi-al-Sani in 13 Hijri/23rd of August 634. He made his Successor Hadhrat Omar (Father-in-Law of Holy Prophet) before his death. Total age of the Hadhrat Abu Baker was 63 years.

Second Khalifa Hadhrat Omar Radi-yallahu-anhu ruled there 10 years till Zil-Hajj 23 Hijri. He was injured by a killer. He announced a committee to elect next Khalifa. Hadhrat Omar Martyred in age of 63 years on 1st of Muharram 24 Hijri/ 11th of November, 644.

Third Khalifa Hadhrat Usman عُثْمَان was elected by that Committee. He was Son-in-Law of Holy Prophet, two of the Daughters of Prophet were married with him one after another, Firstly Hadhrat Ruqayya died, and then he was married with Hadhrat Umm-e-Kalsoom. Hadhrat Usman عُثْمَان got married with Hadhrat Ruqqaya in city of Mecca. She died after migration to Medina in 2nd Hijri. Hadhrat Umme-Kalsoom died in 9th Hijri. Hadhrat Usman increased and developed Masjid-al-Haraam (situated in Mecca) in 26th Hijri and Masjid-al-Nabawi (Situated in Medina) in 29th of Hijri. Hadhrat Usman عُثْمَان was assassinated on 18th Zil-Hajj in 35 Hijri/ 20th of June 656.
Note: Holy Prophet Hadhrat  حَضْرَتْ Muhammad had 4 daughters and 3 sons, three of the sons died in their childhood.
Note: A Muslim man is allowed to marry four women at a time, but there should not be two sisters as his wives at a time, he can adopt second after death of first.

And forth Khalifa was Hadhrat Ali (Cousin and Son-in-Law of Holy Prophet). YoungestDaughter of Holy Prophet Hadhrat Fatima فَاطِمَہْ حَضْرَتْ  was married with Hadhrat Ali in 2nd Hijri. They had two Sons, Hadhrat Hasn (حَسْن) and Hadhrat (حُسَیْن) Husain. Imam Hasn was born in 3rd Hijri and Imam Husayn was born in 4th Hijri. Hadhrat Ali Ruled from 35 to 40 Hijri and he was assassinated on the day of 21st of Ramadan.
            After the assassination of Hadhrat حَضْرَتْ Ali, people of Koofa accepted Hadhrat Imam Hasn as Khalifa and after 6 months Hadhrat Imam Hassan handed over whole kingdom to Hadhrat حَضْرَتْ Mua’wia in Rabi-al-awwal 41st Hijri on a conditioned agreement.
Hadhrat Mua’wia also was one of the companions of Holy Prophet. He ruled 20 years from 40 to 60 Hijri as a king. He had been Governor of Syria before being a king since 20 years (Syria was a province/state of Great Islamic Kingdom Khilaafat خِلَافَتْ at that time).  He died in month of Rajab in 60 Hijri.
            After the death of Hadhrat Mua’wia his son Yazid was appointed as a king according to his will. Yazid was a bad person and a bad sinner. Yazid was born in Era of Hadhrat Usman in 25th of Hijri. Name of his mother was Maisoon.
 Hadhrat Husain refused to accept him (Yazid) as Muslim King. Hadhrat Husain received a lot of Letters from people of the city of Koofa (in Iraq). People of Koofa wanted to see him as a Muslim Khalifa. Hadhrat Imam Husain travelled from Medina to Mecca on 4th Sha’abaan in 60th of Hijri.
Hadhrat Nouman نُعْمَان bin Bashir, one of the companions of Holy Prophet was Governor of Koofa at that time. Hadhrat Imam Husain sent Hadhrat Muslim bin Aqeel (his two young sons Muhammad and Ibrahim were with him) to know the current situation of Koofa. Hadhrat Muslim bin Aqeel wrote a letter to Hadhrat Imam Husain that people of Koofa loved him so much and were ready to accept him as a Khalifa of Muslims.
Meanwhile Governor of Koofa was changed by Yazid. Name of new Governor was Abdullah bin Ziyaad. He announced there in Koofa to favor Yazid. He declared that if someone would favor Hadhrat Imam Husain he would be punished. Hadhrat Muslim bin Aqeel and his sons were killed (martyred) there in Koofa by new Governor Ibne-Ziyad. On the same day Hadhrat Imam Husain left for Koofa. People who met Hadhrat Imam Husain in his way they told him that people of Koofa Loved to him but they were standing with Banu Umayyad (Yazid) if any mishap. They suggested him to do not travel to Koofa.
On 10th of Muharram 61 Hijri on the land of Iraq (Karbala desert), army of Yazid Killed Hadhrat Husain including many of his family members and his friends there. It was first month Muharram of 61 Hijri year which coincided with 680 AD. Muslims has been cursing on Yazid and they do so still from that incident. Muslims Loved and they love still the name of Hadhrat Husain (Grand-son of Holy Prophet).

جمعرات، 11 ستمبر، 2014

صارفین پاس ورڈ تبدیل کر لیں گوگل کی ہدایت

ہیکرز کی جانب سے 50 لاکھ سے زائد جی میل پاس ورڈ ہیک کیے جانے کے بعد گوگل نے اپنے صارفین کو فوری طور پر اپنے اپنے پاس ورڈ تبدیل کرنے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
فوٹو رائٹرز



روس کی ایک مشہور ویب سائٹ پر ہیکرز کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات میں ہیکرز نے ہیک کیے گئے یوزر نیم اور پاس ورڈ پبلش کر دیے ہیں جن کی تعداد 50 لاکھ سے زائد ہے۔

یہ تمام تفصیلات پھیلانے والے شخص کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اکاؤنٹ انگلینڈ، روس اور اسپین سے تعلق رکھنے والوں کے ہیں اور 60 فیصد اکاؤنٹ ایکٹو ہیں۔

ان تفصیلات سے صرف جی میل تک رسائی نہیں ملی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گوگل ڈرائیو اور موبائل پے منٹ کے گوگل والٹ سسٹم تک بھی باآسانی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ گوگل کی نمائندہ سویٹلانا انورووا نے کہا کہ گوگل سیکورٹی کے حصار کو توڑے جانے سے آگاہ ہے اور اس نے تمام صارفین کو پاس ورڈ تبدیل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے صارفین کو ہدایت کی کہ وہ سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے دو درجات پر مبنی تصدیقی عمل بھی استعمال کریں تاکہ اگر کوئی ان کا پاس ورڈ تبدیل کرنے کی کوشش کرے تو ان کے موبائل پر فوراً اس حوالے سے الرٹ آ جائے۔ واضح رہے کہ اس سلسلے میں ایک ایسی ویب سائٹ بھی بنائی جا چکی ہے جس کے ذریعے صارف یہ پتہ لگا سکتا ہے کہ آیا اس کا اکاؤنٹ ہیک تو نہیں ہوا۔ گوگل کے ترجمان نے بھی پاس ورڈ ہیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صارفین کی سیکورٹی ہماری پہلی ترجیح ہے۔ ابھی تک ہیکرز کو پکڑا نہیں جا سکا لیکن اس سے قبل روس اور مشرقی یورپ کے ہیکرز اس طرح بڑے پیمانے پر ہیکنگ میں ملوث رہ چکے ہیں۔

اتوار، 7 ستمبر، 2014

عمران خان اور طاہر القادری کا جرم عظیم

شام ڈھل رہی تھی، جب میں ایک دوست کے ہمراہ شاہراہ دستور پر پہنچا۔ انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کے شرکا کو یہ تو معلوم تھا کہ آج آگے بڑھنا ہے، لیکن کس طرف کو آگے بڑھنا ہے، یہ معلوم نہ تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا خطاب شروع ہوا تو ان کے تیوروں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ تہیۂ طوفان کیے ہوئے ہیں۔
اصغر عبداللہ


mohammad_asghar_abdullah@yahoo.com

اور پھر جیسے ہی انھوں نے اعلان کیا کہ آج یہ دھرنا پرامن طور پر پارلیمنٹ ہاوس کے مقابل سے وزیر اعظم ہاوس کے مقابل منتقل کر دیا جائے گا، تو انقلاب مارچ کے شرکا کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنا سے نکل کر قریب ہی عمران خان کے دھرنا میں آیا تو آزادی مارچ کے شرکا بھی پیش قدمی کے لیے تیار تھے۔
جس لمحہ عمران خان نے اعلان کیا کہ آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے، یوں لگا جیسے وہاں موجود سب لوگ یہی چاہتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ انقلاب مارچ کے شرکا کے برعکس آزادی مارچ کے شرکا کو پیش آمدہ خطرے کا مطلق احساس نہ تھا۔ دونوں دھرنوں میں عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، لیکن حیرت انگیز طور پر وہ ہراساں نہ تھے۔ میں نے دو افراد سے، جو خاندان سمیت دھرنوں میں شریک تھے، اس کی وجہ دریافت کی، تو ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے قائدین اس خطرناک صورت حال میں کئی دن سے ان کے درمیان موجود ہیں، تو وہ بھی ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اخباری زندگی میں جماعت اسلامی سمیت متعدد سیاسی پارٹیوں کے اجتماعات دیکھے، لیکن جو جذبہ، جو ولولہ اور جو کمٹمنٹ عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں دیکھی، کہیں اور نہیں دیکھی۔ ان کارکنوں کو اپنے گھر بار چھوڑے دو ہفتے گزر چکے تھے، اس کے باوجود ان کے چہروں پر کوئی ملال نہیں تھا۔ ایک ہی نعرہ ان کی زبان پر تھا کہ جب تک ان کے گھر سے نکلنے کا مقصد پورا نہیں ہو گا، وہ واپس نہیں جائیں گے۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ حکومت کو یقین ہے کہ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری کے ہمراہ وزیر اعظم ہاوس کی طرف پیشقدمی نہیں کریں گے۔
سو، آج رات وہ دونوں دھرنوں سے الگ الگ نمٹ لے گی۔ لیکن حکومت کی یہ منصوبہ بندی اس وقت دھری کی دھری رہ گئی، جب انقلاب مارچ کے بعد آزادی مارچ نے بھی وزیر اعظم ہاوس کی طرف بڑھنے کا اعلان کر دیا۔ عمران خان کا قافلہ، ڈاکٹر طاہر القادری کے قافلہ کے پیچھے روانہ ہوا، تو اول اول یوں معلوم ہوا، جیسے پولیس نے دونوں مارچوں کو راستہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عمران خان نے اپنے کینٹینر سے کہہ بھی دیا کہ پولیس پیچھے ہٹ گئی ہے۔ لیکن ابھی فضا میں اس اعلان کی گونج باقی تھی کہ اگلی سمت سے شور بلند ہوا، اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹکراو شروع ہو گیا۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں کی فائرنگ نے قیامت کا سماں برپا کر دیا۔ ستم یہ تھا کہ جب آگے سے پولیس نے مظاہرین پر حملہ کیا تو وہ پولیس جس نے پہلے راستہ چھوڑ دیا تھا اور پیچھے ہٹ گئی تھی، وہ بھی اطراف سے مظاہرین پر ٹوٹ پڑی۔
یہ بڑے ہی دلدوز مناظر تھے۔ عورتیں اور بچے چیخ رہے تھے۔ کئی عورتیں اپنے بچوں کو پکارتی، ڈھونڈتی ادھر ادھر بھاگ رہی تھیں۔ آنسو گیس کی شیلنگ اتنی زیادہ تھی اور اس کے دھوئیں میں کیمیکل اتنا تیز تھا کہ سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے گیلا رومال آنکھوں پر پھیرا، لیکن جلن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ شاہراہ دستور اب کسی میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ عمران خان اور طاہر القادری کے کارکن، ان کے کینٹینروں کے گرد پرانوں کی طرح اکٹھے ہو گئے تھے۔
اندیشہ محسوس ہو رہا تھا کہ اگر اس جذباتی فضا میں عمران خان اور طاہر القادری کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، تو بہت خون خرابہ ہو گا۔ آنسو گیس کی شیلنگ میں ایک بار پھر شدت آ گئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں اسٹریٹ لائٹس بھی بند ہو گئیں، تو شاہراہ دستور کی اس رات کی ہولناکی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نڈھال ہو کر میں اور میرا دوست سڑک سے اتر کر ایک طرف بیٹھ گئے۔ شاعر انقلاب، فیض احمد فیضؔ کے نظم ’’ ملاقات ‘‘ یاد آ گئی، جو انھوں نے اس وقت لکھی تھی ، جب 1953 میں ان کو ’’ بغاوت ‘‘ کی ’’جرم‘‘ میں منٹگمری جیل میں قید کر دیا گیا ؎
یہ رات اس درد کا شجر ہے
جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں
میں لاکھ، مشعل بکف ستاروں
کے کارواں، گِھر کے کھو گئے ہیں
ہزار مہتاب اس کے سایے
میں اپنا سب نور، رو گئے ہیں
میں اس رات بھی یہ سوچ رہا تھا، اور آج بھی سوچ رہا ہوں کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا ’’جرم‘‘ کیا ہے کہ ’’ناقابل معافی‘‘ قرار پایا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا مطالبہ اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور انتخابی نظام کو ایک انقلاب کی ضرورت ہے۔ آج سے 23 سال پہلے جب انھوں نے پاکستان عوامی تحریک قائم کی، تب بھی ان کا یہی مطالبہ تھا، ا ور آج بھی ان کا یہی مطالبہ ہے۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان کے پہلے مذہبی رہنما ہیں، جنھوں نے اپنی سیاست کی بنیاد اسلام کے سماجی مساوات کے تصور پر رکھی ہے۔ پاکستان کے مذہبی رہنماوں کی روایتی سیاست سے وہ اس حد تک بیزار ہیں کہ اپنے نام کے ساتھ ’’مولانا ‘‘ کا سابقہ لگانا بھی پسند نہیں کرتے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہ آئین اور قانون کو نہیں مانتے، یا الیکشن کے عمل کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ طویل عرصہ پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں آئین اور قانون پڑھاتے رہے ہیں، ان کی پارٹی دو مرتبہ الیکشن میں حصہ لے چکی ہے، اور2002 میں خود بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ 2013 میں بھی ان کی پارٹی الیکشن میں حصہ لینا چاہتی تھی۔ لیکن جب الیکشن کمیشن پر ان کے آئینی اعتراضات کو سننے سے یکسر انکار کر دیا گیا، تو مجبوراً انھوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی پارٹی بوجوہ کسی الیکشن کا بائیکاٹ کر دیتی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک غیر سیاسی گروہ بن گئی ہے۔ لندن میں ڈاکٹر طاہر القادری اور چوہدری برادران کے درمیان جو دس نکاتی معاہدہ طے پایا تھا، یا انقلاب مارچ کے لیے نکلنے سے پہلے لاہور میں ان کے اور عمران خان کے درمیان جن چار نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان نکات میں سے کوئی ایک نکتہ بھی ایسا نہیں، جو آئین کے دائرہ سے باہر ہو، یا اس سے متصادم ہو، بلکہ حقیقتاً یہ وہ مطالبات ہیں، جن کا آئین پاکستان تقاضا کرتا ہے۔
اس طرح عمران خان کا مطالبہ بھی اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور انتخابی نظام کو بدعنوانی اور دھاندلی سے پاک ہونا چاہیے۔ آج سے 18 سال پہلے جب انھوں نے تحریک انصاف کے قیام کا اعلان کیا تھا، تب بھی ان کا یہی مطالبہ تھا، اور آج بھی ان کا یہی مطالبہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ عمران خان پہلے سیاستدان ہیں اور تحریک انصاف پہلی سیاسی پارٹی ہے، جس نے پاکستان کے سیاسی اور انتخابی نظام میں کرپشن کے خاتمہ کو اپنی سیاسی جدوجہد کا نصب العین قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح عمران خان بھی کوئی پیشہ ور سیاست دان نہیں۔ پاکستان کی سیاست میں کئی کھلاڑی سیاست میں آئے اور گئے، لیکن یہ تنہا عمران خان ہیں، جنھوں نے کامیابی حاصل کی۔ ظاہراً اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے روایتی سیاست کی اور نہ ہمت ہاری۔ تحریک انصاف تین مرتبہ الیکشن میں حصہ لے چکی ہے، لیکن اس کو بریک تھرو ملا 2013 میں، جب نہ صرف یہ کہ وہ خیبر پختون خوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی، بلکہ باوجود مشکلات کے، پنجاب میں بھی دوسری بڑی پارٹی بن کے ابھری۔ الیکشن 2013 کے بعد عمران خان اول دن سے کہہ رہے تھے کہ پنجاب میں ان کا مینڈیٹ ہائی جیک کیا گیا ہے، اور اگر ان کو الیکشن کمیشن سے، سپریم کورٹ سے اور پارلیمنٹ سے انصاف نہ ملا تو وہ ضرور سڑکوں پر آئیں گے۔ اس کے باوجود یہ کہنا یا باور کرانا کہ تحریک انصاف کسی کے اشارے پر حکومت کے خلاف نکلی ہے، سراسر غیر منطقی بات ہے۔
نظر بظاہر یہ آتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا ’’جرم‘‘ یہ ہے کہ انھوں نے سیاست میں ’اسٹیٹس کو‘ کو چیلنج کیا ہے۔ نتیجتاً، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام سیاسی اور غیر سیاسی پارٹیاں، جن کے مفادات ’اسٹیٹس کو‘ سے وابستہ ہیں، ان کے خلاف متحد ہو چکی ہیں۔ لطف یہ ہے کہ جماعت اسلامی، جو خود کو اسلامی انقلابی پارٹی کہتی ہے، وہ بھی پیپلز پارٹی کے شانہ بہ شانہ مصالحت کاری کے نام ن لیگ حکومت کو ریسکیو کر رہی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے ’اسٹیٹس کو‘ کو چیلنج کر کے، جو ’’جرم عظیم‘‘ کیا ہے، وہ واقعتاً ’’ناقابل معافی‘‘ ہے۔ ان کی حالیہ جدوجہد کا نتیجہ جو بھی ہو، پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں اسٹیٹس کو کے خلاف ان کی یہ انقلابی جدوجہد تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ پس دیوار زندان شاعر نے کہا تھا ؎
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

Thanks to Express