اہل سنت وجماعت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اہل سنت وجماعت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 23 دسمبر، 2016

مولانا احمد رضا خان قادری۔ از اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور

رضا خان: مولوی احمد رضا خان بریلوی نسباً پٹھان، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ ان کے والد ماجد نقی علی خان (م 129ھ/1880ء) اور جد امجد رضا علی خان (م1282ھ/1865۔66ء) عالم اور صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔ احمد رضا خان کی ولادت 10 شوال المکرم 1272ھ/ 14 جون 1856ء کو بریلی (اتر پردیش، بھارت) میں ہوئی (تذکرۂ علمائے ھند، ص 9 تا 15، 64، 244)۔ محمد نام رکھا گیا اور تاریخی نام المختار (1272ھ) تجویز کیا گیا جد امجد نے احمد رضا نام رکھا؛ بعد مین خود مولوی احمد رضا خان نے عبدالمصطفی کا اضافہ کیا (حدائق بخشش، ص 80؛ کرامات اعلیٰ حضرت ص8)

اتوار، 3 اپریل، 2016

Qari Muhammad Ahmad Bakhsh Multani

قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: عبدالرزاق قادری

ضلع وہاڑی کے صدر مقام کے نواح میں ایک قصبے کا نام ”لڈن“ ہے۔ لڈن میں  ایک خاندان خدمتِ قرآن مجید کے حوالے سے مشہور ہے۔ان میں قاری عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ، قاری حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، قاری اللہ رکھا صاحب اور قاری عارف صاحب کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اسی خاندان میں سے ایک اور عظیم نام قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے لاہور میں وہ ”وڈے استاد جی“ یعنی بڑے استاد جی کے نام سے معروف تھے۔ آپ  کی پیدائش قیامِ پاکستان سے قبل ہوئی اور آپ نے نوعمری میں 15 ماہ کے قلیل عرصہ میں مکمل قرآن مجید حفظ کیا۔ شاہ بخش صاحب ملتانی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے پیر و مرشد تھے آپ نے ایک عرصہ ان کی خدمت میں گزرا ، انہی کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ ”ملتانی“ لکھتے رہے۔
    حفظِ  کرلینےکے بعد کچھ عرصہ تک آپ نے قرآن مجید کی تدریس فرمائی پھر کوئی دوسرا شعبہ اختیار کرنا چاہتے تھے لیکن اپنے شیخِ مکرم رحمۃ اللہ علیہ  کی خواہش اور ان کے حکم پر دوبارہ قرآن پاک پڑھانے میں مشغول ہوگئے اس نیک کام کا آغاز تقریباً 1956ء سے ہوا، آپ جامعہ نظامیہ رضویہ(اندرون لوہاری گیٹ) لاہور میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو ”یسرناالقرآن“ قاعدہ پڑھاتے تھے اور قاری حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے چچا زاد بھائی) قرآن مجید کی کلاس سنبھالتے تھے باقی شعبہ جات دوسرے علماء کرام کے پاس تھے، قاری حنیف صاحب کو جامعہ نظامیہ رضویہ تک لے کر جانے کا سہرا علامہ مولانا محمد علی نقشبندی (بانی جامعہ رسولیہ شیرازیہ) کے سر ہے۔ قاری محمد احمد بخش ملتانی نے تقریباً چودہ برس تک جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کا فریضہ سرانجام دیا آپ کے شاگردوں میں کئی جید علماء کرام کے نام شامل ہیں۔
    بڑے استاد جی نے دربار شاہ محمد غوث رحمۃ اللہ علیہ (سرکلر روڈ) کے ساتھ ملحقہ مدرسہ میں چند سال قرآن پاک پڑھایا پھر  داتا دربار اور بھاٹی گیٹ کے درمیان میں واقع جامعہ حنفیہ غوثیہ میں  1992ء تک تدریس فرمائی ۔ اسی دور میں داتا دربار کمپلیکس کی توسیع ہوئی اور جامعہ حنفیہ غوثیہ کو وہاں سے ہٹا دیا گیا لیکن اللہ کی قدرت دیکھیے کہ ایک نیک صالحہ خاتون ”عنایت بی بی“ نے  دربار کی عقبی جانب کچا رشید روڈ پر ” جامعہ حنفیہ عنایت صدیق “ قائم کروا دیا تھا اور استاد جی یہاں منتقل ہوگئے اور آخری دم تک اسی جامعہ  کے مہتمم اعلیٰ رہے۔
میں نے جامعہ عنایت صدیق میں سن 2001ء کے اوائل میں حفظِ قرآن  کے لیے داخلہ لیا مجھے جامعہ میں داخل کروانے کی سعادت میرے ابو کے ایک جاننے والے محمد سعید عالم کے حصے میں آئی، انکل سعید داتا دربار کے قریب بابا فرید روڈ پر  ایک گرم حمام چلاتے تھے اور وہ خود ایک بہترین حجام تھے  میرے ابو  کو شاید  معلوم تھا کہ یہ صاحب اس مدرسے کے استادجی کے واقف کار ہیں لہٰذا انکل سے رابطہ کیا گیا انہوں نے  بڑےاستاد جی سے بات کی اور داخلہ ہوگیا جو کہ پہلے مسترد ہوچکا تھا، جناب محمد سعید عالم 8 اپریل 2013ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے، تاہم میں  اُن کا یہ داخلے والا احسان کبھی نہیں چُکا سکتا۔ ان کے بیٹے  حافظ ایثار عالم آج بھی وہ دوکان چلا رہے ہیں اور میرے گہرے دوست ہیں۔ میں سن 2004ء اواخر تک اس جامعہ میں پڑھتا رہا، میرے اُستاد جی قاری محمد صدیق احمد صاحب ہیں آپ ، قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے  اور قاری محمد خلیل احمد صاحب  چھوٹے بیٹے ہیں۔ بڑے اُستادجی نے اپنی  بیٹوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے آراستہ کیا اور وہ بھی خدمتِ قرآن میں  مصروف رہے۔ میں نے بڑے اُستاد جی سے تقریباً چار مرتبہ سبق  پڑھاہوگا اور قاری خلیل صاحب سے بھی کئی مرتبہ سبق پڑھا تھا لیکن میں باقاعدہ قاری محمد صدیق احمد صاحب کی کلاس میں پڑھتا رہا اور انہی کے پاس  حفظِ قرآن پاک مکمل کیا۔
بڑے استاد جی کی زندگی کے تقریباً ساٹھ شمسی سال خدمتِ قرآن میں بسر ہوئےجو اپنی قبولیت کی سند آپ ہیں۔ آپ کو با آوازِ بلند سنائی دیتا تھا لیکن مجال ہے کہ کبھی کوئی طالب علم آپ کو قرآن مجید کا سبق سنا رہا ہو اور وہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی کرجائے حتیٰ کہ کبھی بھی ع،غ یا شین، قاف کے مخرج کی ادائیگی میں بھی کوتاہی  نہ ہونے دیتے۔ آپ ہر طرح کے تجوید کے قواعد کی پابندی کرواتے مثلاً غنہ، مد، ادغام، اقلاب، اخفا اور اظہار کو نظر انداز کرکے آپ کو قرآن پاک کا سبق نہیں سنایا جاسکتا تھا ۔ آپ نے ایک سادہ زندگی بسر کی اور پوری دلجمعی سے اپنے کام میں مگن رہے آپ کے ابتدائی شاگردوں میں قاری عبدالعزیز، قاری لیاقت علی، قاری محمد اسلم (انگلینڈ)، شیخ محمد اسماعیل( اعظم کلاتھ مارکیٹ لاہور)، حافظ محمود اختر، حافظ محمد طاہر، قاری عطا محمد (سمن آباد لاہور)، قاری سید عاشق حسین شاہ اور موہنی روڈ سے تعلق رکھنے والے صداقت علی کے علاوہ دیگر کئی حفاظ اور قاریوں کے نام ہیں۔
قاری محمد احمد بخش ملتانی نے صحیح معنوں میں اپنی جوانی کو قرآن پاک کی تدریس کے لئے صرف کیا اور محنتِ شاقہ کے ساتھ بہترین حفاظ کرام کے گلدستے اس قوم کی نذر کیے۔ میں نے آپ کی آخری زیارت 2015ء والے عرسِ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ کے موقع پر کی تھی ، سن 2016ء کی 23 جنوری کو آپ کا وصال ہوگیا  اور آپ اپنے آبائی قصبے ”لڈن“ میں آسودۂِ خاک ہیں، اللہ عزوجل آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے۔

بدھ، 16 مارچ، 2016

The Way of Ahl al Sunnah- راہِ اہل سنت

مسلمانوں کے سب سے بڑے گروہ کو اہلسنت یا اہلسنت والجماعت کہا جاتا ہے عربی میں اسے  أهل السنة والجماعة یا أهل السنہ والجماعہ لکھا جاتا ہے برصغیر میں اسے اہلِ سنت و جماعت یا جماعتِ اہلسنت بھی کہتے ہیں  اہلسنت سے تعلق رکھنے والے لوگ مختصراً سنی بھی کہلاتے ہیں دنیا میں کسی بھی دینی طبقے کی یہ سب سے بڑی جماعت ہے اہلِ اسلام میں سے 75 فی صد تا 80 فیصد لوگ اہل سنت کے عقائد رکھتے ہیں، سن 2010ء میں پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے کئے گئے اور جنوری 2011ء میں پیش کئے گئے ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں 1.62 ارب مسلمان موجود ہیں اور یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ان میں سے سنی آبادی   75 سے 90 فیصد کے درمیان ہے،اس اصطلاح کو مسلمانوں کے روایتی مذہب کو ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سنی اصطلاح لفظ سنت ( عربی : سنة ) سے ماخوذ ہے جس سے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے اقوال و افعال مراد ہیں اہلسنت کے چاروں فقہی مذاہب قران مجید اور حدیث پاک کی روشنی میں اپنے راسخ عقائد پر قائم ہیں اور فقہ کی تشریح کے لئے انہی بنیادی ماخذ پر انحصار کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ چاروں ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ علیہم اجمعین نے صحابہ کرام کے اجماع اور قیاس سے بھی مختلف فیہ مسائل کے حل تلاش کرکے امتِ مسلمہ پر احسانِ عظیم فرمایا ہے۔ اہل سنت سے مراد ہے نبی پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والے اور جماعت سے مراد، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کے نقش قدم پر چلنے والی جماعت ہے یعنی سنی وہ ہوتا ہے جو آقا کریم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرے اور آپ کے صحابہ کی جماعت کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہو۔
مسلمان علماء جنہیں اہل سنت کہا جاتا ہے انہوں نے چودہ صدیوں سے اسلام کے عقائد، احکام اور نواہی پر ہزاروں کے حساب سے مستند اور قابل قدر کتابوں کو لکھا اور مسلمانوں کی خدمت کرنے کا حق ادا کیا۔ ان میں سے بہت سی کتب کو آفاقی اور لازوال مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کا دنیا بھر میں کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور اسلام کا پیغامِ علم و معرفت، حکمت و الفت کے ساتھ پوری دنیا میں پہنچا۔ دوسری جانب دین دشمن ، علماء سوء  نے مسلمانوں کے اعتقادات اور مفادات پر بُری طرح سے حملہ کیا ، علماء اہل سنت کو بدنام کرنے کی سازشیں کیں،اور اسلامی تعلیمات کو تبدیل کرنے کی ناپاک کوششیں کیں مسلمانوں اورلادینی قوتوں کے درمیان اس طرح کی کشمکش  ہر صدی میں رہی ہے اور رہتی دنیا تک جاری رہے گی یہ مشیت ایزدی جو ٹھہری۔
مسلمان علماء (خواص) اور عوام پر مشتمل ہیں۔ عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جو  عربی گرائمر اور ادب کے قوانین نہیں جانتے، وہ فتاویٰ جات کو سمجھنے سے قاصر ہیں ان کے لئے لازم ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی عقائد  سے متعلقہ علوم اور عبادات کو سیکھیں۔ دوسری جانب علماء کرام کا فرض ہے کہ وہ  تحریر و تقریر کے ذریعے پہلے  اسلام کے بنیادی عقائد اور پھر عبادات کے پانچ بنیادی ستون  اور شریعت کے قوانین دنیا کو سکھائیں جو ایمان کی بنیادی باتوں اور عقائد اہل سنت بنیادی اہمیت کے حامل ہیں یہی وجہ ہے کہ عظیم مسلمان علماء جو کہ بہت سے علو م و فنو ن کے ماہر رہے انہوں نے برسوں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل سنت کے عقائد کی تبلیغ فرمائی جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔اہل سنت علماء اپنی تحریر و تقریر سے  ہمیشہ بنیادی اسلامی عقائد اور بہترین اخلاقیات کی تعلیم دیتے آئے ہیں، اور اسلامی ریاست کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مدد کرنے کا جذبہ ابھارتے چلے آئے ہیں۔ اہل سنت علماء نے، دین سے بے خبر ایسے لوگوں کی تحریروں کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی جو  مسلمانوں کو ورغلاکر ان کے ملک کے خلاف کرتے ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین تلواروں کے سائے میں ہے، کیونکہ اگر اسلامی ریاست مضبوط ہو تو لوگ اس میں زیادہ امن اور خوشی سے رہ سکتے ہیں اسی لیے مسلمان اپنی ریاست اور اس کے قوانین کی حفاظت میں با آسانی زندگی بسر کرسکتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح جن غیر اسلامی  ممالک میں مسلمان آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنے مذہبی فرائض بجا لانے میں آزاد ہیں وہ وہاں کے قانون کی پابندی کرتے ہیں اور فتنہ پرور عناصر کے شر سے اپنا دامن بچا کر رکھتے ہیں ان کے لئے اہلسنت وجماعت کے علماء کی طرف سے  یہ ایک پیغام ہے  کہ انہیں ایسے فتنہ پرور عناصر سے خود کو دور رکھنا چاہئے جو ہمہ وقت مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرتے ہیں اور اقوام عالم میں مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ صد شکر ہے کہ مشاہدے کی بات ہے   کہ تقریباً  تمام مسلم ممالک میں دینی رہنما اہل سنت کے اس درست راستے کو اپنانے کی تبلیغ  اور اس کا دفاع کرنے میں کوشاں رہے ہیں۔  تاہم، چند جاہل قسم کے لوگ، جنہوں نے یا تو علماء اہل سنت کی کتب کو پڑھا نہیں یا سمجھا نہیں، وہ کچھ زبانی یا تحریری بیان جاری کرتے رہتے ہیں، حالانکہ ان کی جاہلانہ اور دھوکہ دہی والی باتیں مسلمانوں کا ایمان برباد کرنے اور باہمی منافرت پھیلانے کے سوا کوئی کام نہیں دیتیں۔ مسلمانوں میں گھسی ہوئی نقصان دہ علیحدگی پسند تحریکیں علم الحال کی کتب اور اہل سنت کے  عظیم علماء ا ور صوفیاء کو بدنام کی کوششیں کرتی رہتی ہیں، اہل سنت کے علماء نے ان کے مسکت جوابات لکھے ہیں اور قرآن و حدیث سے ثابت شدہ دین کی حفاظت کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے جس کو تبدیل کرنے کی کوشش بے دین کرتے ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

یہ مضمون 2014ء میں لکھا گیا۔ عبدالرزاق قادری

جمعرات، 3 دسمبر، 2015

ڈاکٹر محمد ہارون برطانوی نومسلم پروفیسر

ڈاکٹر محمد ہارون متوفیٰ: 1998ء (پیدائشی نام: Alfred Neville May) کیمبرج یونیورسٹی کے فاضل (پی ایچ ڈی) اور ایک نو مسلم تھے۔ وہ 1944ء کو لیور پول, برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1970ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی پھر 1988ء کے دوران 44 سال کی عمر میں عیسائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کے بارے میں ایک درجن سے زائد کتب لکھیں۔ رضا اکیڈمی (برطانیہ) نے ان کی کتابوں کو شائع کیا اس کے علاوہ رضا اکیڈمی کے ترجمان 'دی اسلامک ٹائمز' میں ڈاکٹر صاحب کے کئی مضامین بھی چھپتے رہے۔ دراصل رضا اکیڈمی انٹرنیشنل کے بانی پیر محمد الیاس کشمیری کی ترغیب پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے قبولِ اسلام کی وجوہ پر مبنی پہلی کتاب لکھی پھر یہ سلسلہ چل نکلا، ایک عرصے تک ڈاکٹر صاحب رضا اکیڈمی کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ ان کی کچھ کتابیں (انگریزی، اردو) آن لائن دستیاب ہیں۔ ذیل میں ان کی چند کتب کے عنوانات درج ہیں۔

1۔ امام احمد رضا خان بریلوی کی عالمی اہمیت 1994ء
2۔ مسلمانوں میں وحدت کیسے قائم کی جائے
3۔ حزب التحریر کے بارے میں مسلمان کے لئے ایک انتباہ
4۔ اسلام کا سماجی ڈھانچہ: روایتی اسلام میں معاشرے کی نوعیت
5۔ سورہ یسین (ترجمہ)
6۔ غوث اعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کی عالمی اہمیت 1995ء
7۔ میں نے اسلام کیوں قبول کیا 1990ء
8۔ خدا کی حکمرانی: جدید دنیا کے مسائل، سنی اسلام کے جوابات 1994ء
9۔ امام احمد رضا بریلوی کی اصلاحی حکمتِ عملی 1997ء
10۔ اسلام اور تصورِ ریاست 1997ء
11۔ اسلام اور خواتین 1995ء
12۔ اسلام اور سزا 1993ء
13۔ اسلام اور شراب 1994ء
14۔ امام احمد رضا خان بریلوی (رحمۃاللہ علیہ) کے 1912ء کے چار نکاتی پروگرام کی اہمیت اور اس پر لائحہ عمل 1996ء
15۔ قرآن کی اہمیت اور حقیقت 1994ء
16۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (حضور نبی کریم کی سالگرہ) 1994ء
17۔ میں نے اسلام کیوں قبول کیا 1990ء (اشاعتِ اول)
18۔ اسلام اور سائنس کی حدود 1995ء
19۔ امام احمد رضا خان کی عظیم کاوشیں 2005ء

کتابیں مفت ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کریں۔
  1. انگریزی How to Achieve Muslim Unity: https://yanabi.files.wordpress.com/2009/01/unity.doc
  2. انگریزی World Importance of Ghaus al Azam Hazrat Sheikh Muhyiddin Abdul Qadir Jilani 1995 : http://tableeghseerat.com/English%20Books/Life%20Of%20Ghaus%20-E-Azam.pdf
  3. انگریزی Importance of the 1912 Four-Point Programme of Imam Ahmad Raza Khan Barelvi (Rahmatullahi Alaih) and How to Carry it Out 1996 : http://www.yanabi.wordpress.com/files/2009/01/4point-plan.pdf
  4. انگریزی ISLAM AND ALCOHOL : http://www.spiritualfoundation.org.uk/index.php/academic/146-islam-and-alcohol
  5. انگریزی The World Importance of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi : http://afkaremuslim.blogspot.com/2013/08/the-world-importance-of-imam-ahmed-raza.html
  6. اردو، امام احمد رضا خان قادری بریلوی کی عالمی اہمیت : http://afkaremuslim.blogspot.com/2013/05/the-world-importance-of-imam-ahmed-raza.html
  7. اردو، اسلام اور سائنس کی حدود :
  8. http://books.nafseislam.com/details.php?book_id=3063&book=islam-aur-science-ke-hadood
  9. اردو، اسلامی ریاست کا تصور :
  10. http://books.nafseislam.com/details.php?book_id=2741&book=islami-rayasat-ka-tasawwurr
  11. اردو، میں نے اسلام کیوں قبول کیا :
  12. http://www.marfat.com/BookDetailPage.aspx?bookId=b1b99920-de74-4025-9b77-efd8dd022681
  13. اردو، امام احمد رضا خان کی عظیم کاوشیں :
  14. http://www.marfat.com/BookDetailPage.aspx?bookId=7c5145df-9c95-4046-bed7-5ad64e722d38


نوٹ: اردو، انگریزی اور ہندی ویکیپیڈیا پر ڈاکٹر صاحب کی سوانح عمری کا مضمون میں نے لکھا ہے اور میرے پاس رضا اکیڈمی اور ڈاکٹر مرحوم کی مزید کتابیں دستیاب ہیں جو جلد ہی آن لائن میسر ہوں گی۔ ان شاء اللہ۔ عبدالرزاق قادری

منگل، 17 نومبر، 2015

سعودی عرب اور وہابیت کی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

سعودی عرب اور وہابیت کی تاریخ (History of Saudi Arabia & Wahabism)
مصنفانور ہارون
زبانانگریزی (اردو سے ترجمہ شدہ)
موضوعتاریخِ سعودی عرب
صنفتاریخ
ناشرپبلیشر Xlibris (ریاست ہائے متحدہ امریکا)
تاریخ اشاعت
سن 2014ء [1]
تاریخ اشاعت اردو
شعبان 11، 1398 ہجری جولائی 1978ء اور جون 2008ء [2]
صفحاتصفحات 260
آئی ایس بی این1493181483

سعودی عرب اور وہابیت کی تاریخ (2014) انگریزی زبان میں، انور ہارون کی لکھی ہوئی (اردو سے ترجمہ شدہ) ایک کتاب ہے جس کا موضوع سعودی عرب اور وہابیت کی تاریخ ہے۔ اس کتاب کا ماخذ پاکستانی مفتی عبدالقیوم ہزاروی قادری (متوفی 2003ء) کی اردو کتاب "تاریخ نجد و حجاز" ہے۔[3] تاہم یہ انگریزی ترجمہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے شائع ہوا ہے۔ [4]

اسلوب

انور ہارون نے سعودی عرب اور وہابیت کے ایک ناقد کا کردار ادا کیا ہے، مصنف نے وہابیت اور سعودی عرب کو دہشت گردی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ دیباچے میں وہابیوں پرلکھا ہے:
* "Now they have changed their title from Wahabis to Ahl e Hadeeth and now as Salafis, they are given generous aid from Saudi Arabia and other Middle East countries and they are misguiding the young generation of the Muslims around the world and mass killing in the name of jihad is ongoing by Al Qaida, Taliban and many others. l got serious in finding out the cause of this bloody change and I happened to read the book “Tareekh Najad-o-Hijaz” written in Urdu language. The book also gives the details about Wahabisim, so it is named as “History of Saudi Arabia and Wahabisim. Further I have added photographs and illustrations of concerned people, historical places and mosques in this regard"
  • ترجمہ: اب وہ وہابیوں سے عنوان تبدیل کر کے اہل حدیث اور سلفی بن بیٹھے ہیں انہیں سعودی عرب اور دیگر مشرق وسطی کے ممالک سے وافر امداد دی جاتی ہے وہ مسلم دنیا کی نوجوان نسل کو، جہاد کے نام پر اکسا کر دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کے لئے گمراہ کر رہے ہیں۔ایسا کردار القاعدہ، طالبان اور بہت سے دوسرے گروہوں کی طرف سے جاری ہے۔ لہٰذا میں نے اس خونی تبدیلی کی وجہ سنجیدگی سے تلاش کی ہے اور مجھے اردو زبان میں کتاب "تاریخ نجد و حجاز" پڑھنے کو مل گئی۔ میری یہ کتاب (تاریخِ سعودیہ کے ساتھ ساتھ) وہابیت کے متعلق بھی معلومات فراہم کرتی ہے اس لئے اس کا نام سعودی عرب اور وہابیت کی تاریخ رکھا جاتا ہے۔ مزید بآں میں نے اس سلسلے میں تاریخی مقامات، مساجد اور اہم لوگوں کی تصاویر اور عکاسی کو شاملِ اشاعت کر لیا ہے۔








حوالہ جات



  1. ^ http://www.amazon.com/History-Saudi-Arabia-Wahabism-Haroon/dp/1493181483
  2. ^ https://books.google.com.pk/books?id=J76QBQAAQBAJ&printsec=frontcover&source=gbs_ge_summary_r&cad=0#v=onepage&q&f=false
  3. ^ https://books.google.com.pk/books?id=J76QBQAAQBAJ&dq=Abdul+Qayyum+Qadri&source=gbs_navlinks_s
  4. ^ https://books.google.com.pk/books?id=RklwAwAAQBAJ&pg=PA4&dq=History+of+Saudi+Arabia+%26+Wahabism+Anwar+Haroon&hl=en&sa=X&ved=0CBwQ6AEwAGoVChMIwurH3diVyQIV18SOCh0lMwMt#v=onepage&q=History%20of%20Saudi%20Arabia%20%26%20Wahabism%20Anwar%20Haroon&f=false
  5. ^ https://books.google.com.pk/books?id=RklwAwAAQBAJ&pg=PA12&dq=History+of+Saudi+Arabia+%26+Wahabism+Anwar+Haroon&hl=en&sa=X&ved=0CBwQ6AEwAGoVChMIwurH3diVyQIV18SOCh0lMwMt#v=onepage&q=History%20of%20Saudi%20Arabia%20%26%20Wahabism%20Anwar%20Haroon&f=false

جمعرات، 10 ستمبر، 2015

علامہ غلام رسول جلالی کا پہلا عرس مبارک

میں آج بعد نماز ظہر، مولانا غلام رسول کے عرس میں جامع بلال مسجد کباڑی مارکیٹ، بلال گنج لاہور میں حاضر ہوا۔ یہ ایک محفل تھی جس میں قرآن مجید کی تلاوت، حمد و نعت کے علاوہ علامہ رضائے مصطفیٰ نقشبندی کا بیان ہوا۔ سوا چار بجے میں واپس آگیا، میری کلاس کا وقت قریب آرہا تھا، جب میں مسجد کے دروازے سے باہر نکلا اُس وقت سلامِ رضا کی صدا فضا میں گونج رہی تھی۔ حضرت مولانا غلام رسول، طیب نورانی کے والد تھے۔ پچھلے سال ان کا انتقال ہوگیا۔ آج ان کا پہلا عرس اُسی مسجد میں ایک محفل کی صورت میں منعقد کیا گیا جہاں انہوں نے تقریباً نصف صدی تک دین کی بے لوث خدمت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ان کی کوئی مقرر کردہ تنخواہ نہ تھی وہ اللہ کی رضا کے لئے بلا معاوضہ مسجد میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اللہ رب العزت انہیں بہترین اجر سے نوازے۔ یہ سامنے ان کے دو صاحبزادے بیٹھے ہیں،
ان میں سے بائیں جانب والے طیب نورانی ہیں۔ مولانا غلام رسول کو قائد ملتِ اسلامیہ، مولانا شاہ احمد نورانی سے سچی عقیدت تھی۔ حضرت صاحب قرآن مجید کے حافظ اور باعمل عالمِ دین تھے۔ ان کے بچے بھی الحمدللہ باعمل عالمِ دین ہیں۔ میں نے پچھلے سال بلال گنج میں ان کے چہلم کے اشتہارات لگے ہوئے دیکھے تھے لیکن میں ان سے واقف نہیں تھا، بعد ازاں طیب صاحب سے بلال گنج مارکیٹ میں ملاقات ہوئی تب بھی علامہ صاحب کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ طیب صاحب فیس بک پر اپنے سٹیٹس میں والد صاحب کی رحلت کا بتاتے تھے تب بھی پتہ نہ تھا کہ یہ وہی شخصیت ہیں جن کے چہلم کے اشتہارات میں دیکھ چکا تھا۔ ایک دن طیب نے علامہ غلام رسول جلالی رحمۃ اللہ علیہ کا نام لکھ کر فیس بک پر پھر اپنے پسرانہ جذبات کا اظہار کیا تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تو اُسی علامہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ حضرت صاحب کو غریقِ رحمت کرے اور ان کے صدقے ان کی اولاد اور ہم سب پر اپنا فضل و کرم فرمائے۔ آمین۔ 

پیر، 6 جولائی، 2015

An Interview with Grand Mufti of Pakistan Allama Arshad ul Qadri

مفتی اعظم پاکستان علامہ ارشد القادری سےنوائے منزل کی خصوصی گفتگو

ماہنامہ نوائے منزل لاہور، فروری 2015
انٹرویو پینل: حافظ عبدالرزاق قادری، محمد کامران اختر

       علامہ مفتی محمد ارشد القادری موجودہ دور کے عظیم دینی سکالر، مبلغ اور محقق ہیں۔ وہ 16 فروری 1958ء کو پیدا ہوئے۔آپ سینکڑوں کتب کے مصنف ہیں۔ ان میں سے دو درجن کے قریب کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ جبکہ باقی طباعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔آپ کا ایک عظیم علمی کارنامہ صحیح ترمذی شریف کی شرح فیوض النبی ہے۔ اس کی دو جلدیں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔علامہ محمد ارشد قادری تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان نامی ایک تحریک کے بانی ہیں۔ اس تنظیم کے زیر انتظام مختلف اجتماعات، کانفرسیں اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔تعلیم و تربیت اسلامی مختلف فلاحی کاموں میں حصہ لیتی ہےتعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کا منشور وحدت امت ، خدمت امت اور استحکام امت ہے۔ تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کا صدر دفتر لاہور میں ہے۔ 
علامہ مفتی محمد ارشد القادری کی زندگی کے مختلف گوشوں سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے ان سے نوائے منزل نے خصوصی انٹرویو کیا ہے۔ جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا  رہا ہے۔

نوائے منزل : آپ نے ابتدائی علوم و فنون کہاں کہاں سے حاصل کیے ؟
ابتدائی علوم تو اسی طرح سکول سے حاصل کیے جس طرح عام متوسط طبقے کے لوگ حاصل کرتے ہیں۔ پہلی دفعہ جب میرے والد صاحب مجھے سکول میں لے کر گئے اس وقت میں پانچ سال کا تھالیکن داخلہ نہ ہو سکا کیونکہ اس زمانے میں سات سال کی عمر میں بچوں کو داخلہ دیا جاتا تھا۔لہذا گھرمیں ہی تدریس کا آغاز ہو گیا۔اس کے بعد سات سال کی عمر میں داخلہ ہوا۔ہمارا گھر کوٹ نیناں میں تھا۔کوٹ نیناں شکر گڑھ سے مشرق میں دریائے روای کے مغرب میں ایک قصبہ ہے۔ پھر 1971ء کی جنگ میں ہم لاہور منتقل ہوئے ۔ باقی تعلیم لاہو ر میں حاصل کی۔

نوائے منزل : دینی علوم کی طرف رغبت کیسے ہوئی ؟
جب میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا تو  مولانا حافظ نذیر صاحب ہمارے خطیب (کرمانوالی مسجد ابراہیم روڈ لاہور) ہوا کرتے تھے۔ ان سے متاثر ہوا۔کیونکہ وہ حضرت مولانا ابوالبرکات علیہ الرحمہ اور حضرت محدث اعظم رحمۃ اللہ علیہ جیسے بڑے بزرگ علماء کے شاگرد تھے۔ ان کا انداز تربیت بھی بہت عمدہ تھا۔انہی کے پاس کریما سعدی، نام حق ، پند نامہ اور صرف و نحوکی ابتدائی کتب پڑھیں۔اس کے علاوہ جامعہ رسولیہ شیرازیہ کے بانی اُستادِ محترم، حضرت علامہ حاجی محمد علی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ صاحب سے بھی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ استاد نقشبندی صاحب کا اندازِ تدریس منفرد ہوتا تھا۔ وہ روزانہ صبح سیر کے لیے دریائے راوی کے کنارے جاتے تھے۔ ا س لیےدین کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سکول جانے والے طلباء صبح سویرے سکول ٹائم سے پہلے پڑھنے  کے لئے ان کے ساتھ دریا کی طرف پیدل جاتے۔ دریا کی طرف جاتے ہوئے وہ سبق سن لیتے تھے اور دریا کے کنارے بیٹھ کر اگلا سبق پڑھا دیتے تھے۔اور واپسی پر اگلے دن کے لیے نصیحت وغیر ہ فرما دیتے تھے۔ان کی زندگی کا یہ گوشہ بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگا۔

نوائے منزل : روحانی تربیت  اور فیض کہاں سے حاصل کیا ؟
جب میں ایف۔اے کا سٹوڈنٹ تھا تو ایک بارحضرت مولانا عبدالرشید قادری رضوی رحمتہ اللہ علیہ (سمندری شریف) کے پیچھے جمعہ پڑھنے کے ارادے سے گیا۔تقریر تو زیادہ نہ سن سکا۔ جمعہ پڑھنے کے بعد جب صلوٰۃ و سلا م پڑھا گیا تو ایک شعر حضرت نے خود پڑھا۔اس کے بعد وہ لوگوں کے مسائل سننے لگ گئے۔ میں اٹھا اورچل دیا۔دو تین فرلانگ دور ہی گیا تھا کہ ایک ٹاہلی (شیشم)کے درخت کے نیچے جا کر کھڑا ہو گیا۔میں نے سوچا کہ اگر آج یہ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر شاید موقع نہ ملے ۔ اس لیے بیعت کرلینی چاہیے۔  لہذا میں واپس گیا اور حلقے میں جا کر بیٹھ گیا۔ مجھے دیکھ کر حضرت نے مسکرا کر  فرمایا  آ گئے ہو؟ہو گیا فیصلہ ؟؟او ر لوگوں سے فرمایا کہ اس نوجوان کو راستہ دوقریب آنے کے لیے۔ جب میں قریب آیا  تو فرمایا آئیے، بڑھائیے ہاتھ۔ 
نوائے منزل: حضرت علامہ امام احمد شاہ نورانی رحمتہ اللہ علیہ سے آپ کی ملاقات کب ہوئی ؟
1980ء کے اواخر اور 1981ء کے اوائل میں، مَیں GC لاہور میں سٹوڈنٹ تھا۔ وہاں پہلی بار امام نورانی کو میں نے قریب سے دیکھا۔ دور سے تو پہلے بھی دیکھا ہوا تھا۔ اس وقت میں ٹائی ،پینٹ کوٹ میں تھا اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں مولوی بنوں گا۔ میں نے آٹو گراف کے لیے فائل مولانا کی طرف بڑھا دی۔تو مولانا نے اس پر لکھ دیا۔
؎         خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
            سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ  و نجف
بس اس کے بعد میری زندگی بدل گئی۔ میں شاہ احمد نورانی رحمتہ اللہ علیہ کی محبت میں غرق ہو گیا۔جس طرح میں نے عام مولویوں کے بارے میں سنا تھا مولانا کو اس کے بر عکس پایا۔عمدہ انگریزی، خوبصورت لب و لہجہ اور بے پناہ پیار۔کبھی ایسا مرد نہیں دیکھا تھا۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں اس طرح کا بنوں گا جس طرح کے یہ ہیں۔ (مولاناارشد القادری علامہ نورانی کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ انٹرویو پینل)

نوائے منزل: آپ طویل عرصے سے حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پر سوال جواب کی نشست منعقد کر رہے ہیں۔ اس کا خیال کیسے آیا؟
1990ء میں جب میں حج کرنے کے لیے پہلی مرتبہ حر مین شریفین گیا۔ جب مکہ مشرفہ سے مدینہ منورہ کی طرف گیا تو مسجد نبوی کی پرانی عمارت سے مغرب کی طرف نکلیں تو ایک خالی جگہ ہے ۔ میں نےاس طرف دیکھا کہ لوگوں کا ایک جگہ ہجوم ہے ۔ اور ایک صاحب کھڑے ہیں۔ لوگ پرچیوں پر سوالات لکھ کر دے رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔ مجھے یہ طریق اچھا لگا۔ حج سے آتے ہی پہلی جمعرات کو ہی میں نے دربار حضرت داتا صاحب پر یہ نشست شروع کر دی۔کچھ نوجوانوں نے پہلی دفعہ فقہ کا سوا ل پوچھا ۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔اس سلسلے میں اغیار اور اپنوں کی طرف سے بھی رکاوٹیں بھی ڈالی گئیں ۔ سیکرٹری او قاف کو بھی خطوط لکھے گئے ۔ سیکرٹری صاحب نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ آپ نے کہاں سے پڑھا ہے۔ میں نے بتایا کہ میں اولڈ راوین ہوں۔ سیکرٹری صاحب بھی راوین ہی تھے۔اس لیے وہ بہت خوش ہوئے  او ر مجھےاس کار خیر کی ان کی طرف سے بھی اجازت مل گئی۔

نوائے منزل:تصانیف کا سلسلہ کب سے شروع کیا؟
5 جنوری 1981ء کو میں نے پہلی کتا ب مکمل کی۔ جس کا عنوان تھا تعظیم مصطفی قرآن حکیم کی روشنی میں۔ وہ کتاب ابھی بھی موجود ہے۔

نوائے منزل: ترمذی شریف کی شرح لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
بڑا گھر بنگلہ ایک جگہ ہے۔ وہاں میں میلاد شریف کے جلسے میں گیا۔ میری ملاقات علامہ محمد مسعود حسان صاحب سے ہوئی۔ جو مفتی محمد امین صاحب کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے عربی میں چند منٹ بات کی۔ میں نے بھی عربی میں دس سے پندرہ منٹ تک کلا م کیا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ کھانے پر بیٹھے تو انہوں نے پوچھا کہ آج کل آپ کیا کر رہے ہیں ۔ میں نے بتایا کہ جمعہ پڑھا رہا ہوں ۔ کچھ کتابیں لکھی ہیں اور ایک ادارہ بنا رہا ہوں۔ مولانا نے کہا کہ ایسے بندے کو کوئی بڑا کام کرنا چاہیے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کرنا چاہیے۔ مولانا کہنے لگے مسلم ،بخاری پر تو کام ہو گیا۔ ترمذی شریف پر کام کی ضرورت ہے۔ میں نے اسی  وقت فیصلہ کر لیا کہ اب ترمذی شریف پر کام کروں گا۔ اس کام کے لیے ایک سال تک تو سوچ بچار کرتا رہا۔ پھر ایک سال اس کا نظم بناتے بناتے گزر گیا۔تین سال کے بعد نظم طے ہوا۔ پھر کام شروع کیا۔ اب تک الحمد للہ دو جلدیں مارکیٹ میں آ چکی ہیں۔اور اندرون اور بیرون ملک سے لوگوں نے بہت سراہا ہے ۔میں نے کوشش کی ہے ہر جگہ ادب کی زبان استعمال کروں۔ کچھ مقامات پر تنقید بھی کی ہے مگر اپنا لہجہ ہمیشہ دھیما رکھا ہے۔

نوائے منزل:  مستقبل میں کن عنوانات پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے توفیق عنایت فرمائی تو انشا اللہ تفسیر پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

نوائے منزل :آپ کا تعلق علامہ شاہ احمد نورانی مرحوم سے رہا ہے۔ جو سیاست میں علما کے امام تھے۔ موجودہ سیاسی عدم استحکام کے پس منظر میں علما کا کیا کردار ہے؟

میں اس موقعے پر ایک ایک کڑوا سچ بولنا چاہتا ہوں۔ چاہے کسی کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ درحقیقت آپ نے جس طبقے کی طر ف اشارہ کیا ہے اس طبقے نے مولانا نورانی کی قدرہی نہ کی۔اگر یہ طبقہ مولانا کی قدر کرتا توحالات ایسے نہ ہوتے۔ مجھے معلوم نہیں کہ علما ئے کرام اور مشائخ عظام نے کیوں اس گوہر نایاب کو نظر انداز کیا۔اور غلبہ اسلام کا خواب پورا نہ ہوسکا۔
؎                   یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
                    اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
ان کا ایک مخالف آخری وقت میں مولانا کے پاس آیا اور کہا کہ کیا ہوا مولانا اگر آپ کو آپ کی قوم نے چھوڑ دیا ہے۔ مگر ہم آپ کا  ساتھ نہیں چھوڑیں گئے۔
یہ علامہ نورانی کی تو عظمت کا اعتراف تھا مگر ہمارے علما اور مشائخ کے خوبصورت چہرے پر ایک عجب انداز کا تھپڑ تھا۔

نوائے منزل : آپ کے خیال میں علامہ نورانی میں وہ کون سی مقناطیسیت تھی جو سب لوگوں کو ان کے قریب لے آتی تھی؟
اللہ تعالیٰ نے علامہ کے ذہن میں کوئی خانہ چھوٹا نہیں رکھا۔ مقام عشق ایک بڑا مقام ہے مگر مقام درد اس سے بھی بڑا مقا م ہے۔ علامہ نورانی مقام درد پر فائز تھے۔مگر آج جو لوگ ان کو امام اور رحمتہ اللہ کہتےہیں میں نے خود ان کو علامہ کے خلاف تقریریں کرتے بھی سنا ہے  ۔ مگر آج سب لوگوں کو احسا س ہو گیا ہے کہ علامہ کی عظمت کیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم لوگ انتظار کرتےہیں کہ قابل اور لائق بند ے کی قبر بن جائے پھر ہم اس کی تعریف میں بہت سے القابات بولیں بس اس کی قبر بن جائے۔ میرے خیال میں کسی کی عظمت کےلیے اس کی قبر کا بن جانا ضروری نہیں ہے۔

نوائے منزل: آپ ہمیشہ اتحاد امت کے داعی رہے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ دہشت گردی کے اسباب میں سے ایک سبب فرقہ واریت بھی ہے؟
اس حوالے سے میرا دیکھنے کا زاویہ مختلف ہے۔ میں پاکستان میں کوئی بڑی مصیبت نہیں دیکھتا۔ میں یہ سوال ضرور کروں گا کہ ہم نے اپنا ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں کیوں دیا ہوا ہے۔ اغیار جب چاہتے ہیں چینل تبدیل کر دیتے ہیں۔جب آپ کی بات انجام تک پہنچتی ہے تو چینل ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی یورپی لابی ہمارے ایوانوں میں گھس گئی۔ آپ قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ ایک بار پڑھ لیں آپ کو اندازا ہو جا ئے گا۔

نوائے منزل:امت کو کن کن نکات پر متحد کیا جا سکتا ہے؟
ہم نے کئی بار کہا ہے کہ اگر تو ہم آئمہ ، علما اور لیڈروں کے نام پر جمع کرنا چاہیں تو ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔امت کو فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے نام پر جمع کیا جا سکتا ہے۔
؎           ٹھوکریں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
         قافلہ تو اے رضاؔ اول گیا آخر گیا

نوائے منزل: ایک اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ آپ نام تو امام احمد رضا بریلوی کا لیتے ہیں مگر امت کو کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پرجمع ہو جائیں۔ آپ کا کیا موقف ہے؟
احمد رضا کا نام لینا کوئی جرم تو نہیں ہے۔ امام احمد رضا نے تو عظمت رسول کی یاد دلائی ہے۔ یاددہانی کرانے والے کو فراموش کر دینا کوئی دانائی تو نہیں ہے۔  اسی طرح قاسم نانوتوی صاحب، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، اشرف علی تھانوی صاحب، تبلیغی جماعت کے الیاس کاندھلوی صاحب اور مودودی صاحب بھی یہی بات کہتےہیں۔
فساد کی بنیاد یہ بات ہے کہ جب ہم دوسروں کو مجبور کرنے کی کوشش کرتےہیں کہ ہماری بات مانی جائے تو شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ تمام اَئمہ اور علما نے ایک دوسرے سےا ختلاف ضرور کیا ہے مگر کسی کو مجبور نہیں کیا کہ ان کی بات ہی مانی جائے۔
سب سے پہلے ابن تیمیہ صاحب جو حضرت غوث اعظم کے بعد کے زمانے میں دریائے دجلہ اور فرات کے دوآبہ میں پیدا ہوئے ان کی سوچ اس طرح کی ہوئی کہ جو تحقیق میں نے کردی ہے امت کو چاہیے کہ وہ اس پر لبیک کہہ دے۔ میں ان کےاخلاص کا قائل ہوں مگر ان میں یہ ایک نقص پایا جاتا تھا۔
میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں، کچھ عرصہ پہلے تک ایک سوال کیا جاتا رہا کہ قلبِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آب زم زم سے دھویا گیا۔ تو آخر کیا نقص تھا آپ میں جس کو ختم کرنے کے لیے ایسا کرنا پڑا ۔ علما نے اس کے مختلف جوابات دیے۔ جب مجھ پر یہ سوال کیا گیا تو میں نے کہا کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ قلب محمد کو آبِ زم زم سے فیض دیا گیا۔ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آب زم زم کو قلب محمد سے فیض دیا گیا۔ لوگوں نے مان لیا اور مطمئن ہو گئے۔

نوائے منزل:پاکستان میں بے شمار دینی تربیتی اور انقلابی جماعتیں موجود ہیں۔ مگر آج تک کوئی تبدیلی رونما نہ ہو سکی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
سرور عالم نے 23 سال کاجو تبلیغ کا کام کیا  10 سال مکہ مشرفہ اور 13 سال مدینہ منورہ اس کے 5 مراحل ہیں۔ 
پہلا مرحلہ دعوت کا ہے۔ یعنی دعوت اسلامی۔
دوسرا مرحلہ تربیت اسلامی: دعوت کےساتھ ساتھ تربیت بھی لازم ہے ۔
تیسرا مرحلہ تنظیمِ اسلامی: تربیت کے بعد نظم و ضبط قائم کرنا بھی لازم ہے۔
چوتھا مرحلہ تحریکِ اسلامی: اس کے بعد تحریک کا مرحلہ آتا ہے۔ اور تحریک کےبعد پانچواں مرحلہ انقلاب  کا ہے۔ اس زاویے سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ مستقل جماعتوں کے نام نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مراحل ہیں رسول اللہ کی تبلیغی مشن کے۔ ہم ان مراحل کو سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں۔ ہم تبلیغ کےمرحلے پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور نعرہ انقلاب کا لگا دیتے ہیں۔جس میں کامیابی نہیں ہوتی۔ مجھے یاد ہے ڈاکٹر اسرار صاحب پی ٹی وی پر آئے اور خوب چھائے۔ انہوں نے انقلاب کی بات شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار خون ریزی ہوگی اس کے بعد انقلاب آ جائے گا۔جب صحافیوں سے سامنا ہوا تو ڈاکٹر صاحب سے پوچھا گیاکہ اگر بالفرض آپ انقلاب لے آتےہیں اور اسی خون ریزی کے دوران ہندوستان کی افواج سرحدوں پر حملہ کر دیتی ہیں تو آپ کے انقلاب کا کیا بنے گا۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ اس پرایک کارٹونسٹ نے ایک کارٹو ن بھی بنایا جس میں دکھایا گیا کہ ڈاکٹرصاحب پی ٹی وی کے سٹیشن سے باہر نکل رہے ہیں۔ اور اس کے نیچے ایک شعر لکھا گیا کہ ۔
؎            نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
                   بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
انقلاب کےلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچ مراحل کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

نوائے منزل: آپ قارئین نوائے منزل کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ہر بندہ اپنے اندر تبدیلی لائے۔ ہم نے ڈنڈا پکڑا ہوا ہے اور دوسروں کو ٹھیک کرنے کےلیے نکلے ہوئے ہیں۔ اگر ہم خود کو ٹھیک کرنا شروع کر دیں بہت جلد معاشرے میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

نوٹ: یہ انٹرویو آڈیو ریکارڈ کیا گیا تھا، بعد میں نوائے منزل کی ٹیم نے چیدہ چیدہ باتیں شائع کیں۔

جمعرات، 4 جون، 2015

شیخ عبد الہادی قادری برکاتی رضوی نوری

علامہ عبدالہادی القادری محقق، محاضر اور تصوف میں سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے شیخ ہیں۔ وہ جنوبی افریقہ میں امام احمد رضا اکیڈمی کے صدر اور برکات الرضا اسلامک ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ [1]



تعلیم و بیعت

عبدالہادی جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف سے 1978ء میں علوم متداولہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔آپ کو سلسلہ قادریہ میں مفتی اعظم ہند حضرت مصطفی رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے 1976ء میں بیعت و خلافت نصیب ہوئی۔آپ کو دنیا بھر کے کئی عظیم صوفیاء اور مشائخ سے مختلف سلاسلِ تصوف میں اجازت و خلافت حاصل ہے۔ [2]۔


تصنیف و تالیف

شیخ عبد الہادی قادری برکاتی نے ترجموں سمیت 55 کتب تالیف کی ہیں، جن میں الملفوظ، سراج العوارف اور سرالاسرار وغیرہ شامل ہیں۔ اور تصنیف و تالیف کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ [3] [4] [5] [6]۔



اسفار

انہوں نے تقریر و بیان کیلئے، سیمینارز کیلئے، انسانی حقوق کے لئے اور مختلف انبیاء و مرسلین، صحابہ کرام، اہلبیت عظام اور اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری دینے کے لئے کئی مقامی اور بین الاقوامی سفر اختیار کئے ہیں۔ [7]۔







حوالہ جات







نوٹ: اردو وکیپیڈیا پر لکھا ہوا مضمون میری تحقیق ہے۔​ عبدالرزاق قادری

پیر، 1 جون، 2015

فضائل شب برات۔ خدائی بجٹ کی رات

علامہ مفتی محمد ارشد القادری کی ایک کتاب شب برات کے موضوع پر ہے۔ پڑھنے اور ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کرکے استفادہ کیا جاسکتا ہے


جمعہ، 29 مئی، 2015

محفل شان مصطفی کی رپورٹ

گزشتہ رات (28 مئی، 2015) نو بجے جامعہ اسلامیہ رضویہ  لاہور ، رچنا ٹاؤن فیروزوالہ شاہدرہ پاکستان میں "محفلِ شان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم" منعقد کی گئی۔
 پہلی نشست کے لئے غلام یاسین قادری نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دئیے۔ انہوں نے قرآن پاک کی تلاوت کے لئے کسی قاری صاحب کو دعوت دی اور اس کے بعد نعت لئے کسی کے لئے ایک اور ساتھی  کو بلایا۔ یاسین نے بھی ایک منقبت پڑھی۔دوسری نشست کے لئے قاری وقار نورانی  نے تلاوتِ کلامِ مجید فرمائی۔ پھر جناب مظہر اقبال قادری کا بیان شروع ہوا۔ اسی اثناء میں مہمانانِ گرامی جامع مسجد نصرتِ مدینہ میں داخل ہوئے تو مظہر صاحب نے جلدی سے اپنی تقریر کو مکمل کیا۔  پھر پروفیسر مفتی احمد رضا قادری مائیک پر آئے اور انہوں نے مہمانوں کو محفل میں خوش آمدید کہا۔ معزز مہمانوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ علامہ نور المصطفی رضوی
2۔ جناب مرغوب احمد ہمدانی
3۔  علامہ غلام مرتضی  شازی
اس کے بعد احمد رضا قادری نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سنبھالے انہوں نے محفل میں نعت  پڑھنے کے لئے صاحبزادہ عاکف قادری کو دعوت دی۔ انہوں نے  تین نعتیں پڑھیں ان میں سے دو امام حسن رضا خان کے کلام میں سے تھیں۔  اس کے بعد علامہ غلام مرتضیٰ شازی نے چند منٹ کے لئے  اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ پھر مفتی اعظم پاکستان علامہ محمد ارشدالقادری نے مختصر وقت میں  اپنے قلبی جذبات حاضرین کے سامنے رکھے۔احمد رضا پھر مائیک پر آئے اور نعت پڑھنے کے لئے جناب مرغوب احمد ہمدانی کو دعوت دی۔ انہوں نے (1980ء کے دور بارے میں) ماضی حوالے سے  کچھ یادیں بیان کیں۔ پھر نعت کا آغاز کیا انہوں نےکئی ایک نعتیں پڑھیں۔  ان میں سے چار نعتیں امام احمد رضا خان کے کلام میں سے تھیں۔
آخری تقریر علامہ نور المصطفی رضوی کی تھی۔ انہوں نے کہا نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کی۔ ا ن کا خطاب تقریباً رات ڈیڑھ بجے تک جاری رہا۔ پھر کھڑے ہو کر سلامِ رضا پڑھا گیا آخر میں علامہ نورالمصطفیٰ رضوی نے دعا مانگی اور محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔پروگرام 29 مئی 2015 کو 1:37 بجے صبح ختم ہوا۔

Report of Mehfil e Shan e Mustafa

Last night (May 28, 2015 ) a program of "Mehfil e Shan e Mustafa" held at Jamia Islamia Rizvia #Lahore Rachna Town Ferozewala Shahdrah #Pakistan. For first sitting Ghulam Yaseen offered duties of stage secretary (at 9:54 PM). He invited a fellow for Tilawah of The Holy Quran and then to someone for Naat. Yaseen also recited a Manqabat.
 
For second sitting Qari Waqar #Noorani recited The Holy #Quran before speech of Mazhar Iqbal. Then Mazhar Iqbal #Qadri addressed in Mehfil.e Shan.e Mustafa. During his speech guests entered the Jamia Masjid 'Nusrat-e-Madina' inside of Jamia Islamia Rizvia Lahore. Then he wound up the speech quickly. So, Prof Mufti Ahmed Raza Qadri appeared on mic and welcomed the guests in Mehfil (at 11:12 PM). Names of Honorable guests are as following.
1. Allama Noor ul Mustafa Rizvi
2. Marghoob Ahmed Hamdani
3. Allama Ghulam Murtaza Shazi

Then Ahmed Raza Qadri took duties of stage secretary. He invited Sahibzada Aakif #Qadri to recite #Naat in Mehfil. He recited 3 Naats. Two of these were Kalam of Imam Hassan Raza Khan (at 11:16 PM). Then Allama Ghulam Murtaza Shazi gave a speech for a few minutes (at 11:30 PM). Then Grand Mufti of #Pakistan, Allama Muhammad Arshad ul #Qadri shared his views in #Mehfil (at 11:36 PM).

Ahmed Raza invited Marghoob Ahmed Hamdani for Naat reciting. He shared a few of his memories regarding past #history (about 1980s). Then he started reciting #Naat. He continued reciting many #Naats. Including Kalam of Imam Ahmed Raza Khan (4 Naats from his Kalaam). He took a few minutes after 12:16 AM.

Final speech was of Allama Noor ul Mustafa Rizvi. He described the Dignity of #Prophet #Muhammad peace and blessings be upon him. And he continued for a short while after 1:15 AM. Salaam of Imam Ahmed Raza was recited by all before #pray. At the end of Mehfil Allama Noor ul Mustafa asked #prays to #God for all of us. Program ended at 1:37 AM - 29 May 2015.

بدھ، 29 اپریل، 2015

خود کشی کی حرمت ۔ علامہ مفتی محمد ارشد القادری

حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنا گلا گھونٹ کر مرتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مارتا رہے گا۔
 جو نیزہ مار کر خو د کو قتل کرتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو نیزہ مارتارہے گا(بخاری ،کتاب الجنائز) اس حدیث مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک بہت بڑی نعمت ’’ زندگی ‘‘ کا ذکر ہے اور جو اس کو خو د ضائع کرڈالے یعنی خو د کشی کرے اس کی سزا بیان ہوئی ہے ۔واقعی زندگی من جانب اللہ ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کا کفر ان یقیناًاللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے ۔ زندگی نعمت عظمی ہے اس کو خو د ختم کر ڈالنا اپنے اوپر تو ستم ہے ہی ، مخلوقِ خدا پر بھی ظلم کرنے کے مترادف ہے ۔خو دکشی حرام ہے ۔چونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی عطاکر دہ بہت بڑی نعمت ہے اس لیے اس کو خو د اپنے ہاتھوں ختم کر نا گناہ کبیرہ اورعملِ حرام ہے ماناکہ اس جہانِ فانی میں انسان پر بڑے بڑے سخت لمحات آتے ہیں مصا ئب وآلام کے پہاڑ ٹو ٹتے ہیں ظلم و ستم کے دروازے کھلتے ہیں ۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ اجیرن ہوجاتا ہے،انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی ختم کرنے کی سو چنے لگتا ہے مگر صبر و تحمل کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے آڑے مو قع پر وہ یہ سمجھے اور باور کرے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں انبیاء کرام ، صحابہ کرام اور اولیا ء عظام پر اس سے بھی کڑے اوقات آئے ۔ مگر وہ ثابت قدم رہے صبر اور تحمل سے کام لیا ۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کرم نوازی اور مہربانی کے دروازے کھول دیئے اور وہ دین و دنیا میں شاد ہو گئے ۔ یہ جو آئے دن اخبارات میں خودکشی کے واقعات کا تذکرہ آتا ہے اگر ان کا بغور جائزہ لیا جائے تو یقیناًبے صبری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے جان دے دینا ۔ حالا ت زمانہ کا مقابلہ نہ کر سکتے ہوئے جان دے دنیا استقلا ل کا دامن چھوڑ کر جان دے دینا کسی کے سر چڑھ کر جان دے دینا بزعم خویش محبت و عشق کے نام پر جان دے دینا اور اس جہاں میں گویا اپنی مثال قائم کرنے کا گماں رکھنا ، یہ سب غلط اور بے سو د ہے اللہ و رسول نے اس کام اور ایسے فعل کو حرام قرار دیا ہے لہذا خو د کشی کرنے سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہیے ہاں اگر مصائب و آلام حدسے بڑھ جائیں اور پیمانہ صبر لبریز ہو جائے تو اہل علم ، علما ء دین اور نیک لو گوں کی صحبت اختیار کی جائے انشا ء اللہ ان دین والوں کی بیٹھک کا اثر یہ ہو گا کہ اس (غموں کے مارے ہوئے ) کا غم کا فور ہو جائے گا۔ اور اس جہان فانی میں کچھ کر جانے ، کوئی نیک کام انجام دے جانے کو جی چاہے گا ۔نعمت عظمی کا کفران :ایک حدیث مبارکہ میں آیا ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، کچھ مانگو تو جنت الفردوس مانگو ، لمبی عمر صحت و تندرستی والی مانگو اور نیکیاں کثیر کرنے کی توفیق مانگو ، زندگی یقیناًایک انمول نعمت ہے اس کی حفاظت ضروری ہے مگر بعض نا عا قبت اندیش قسم کے لو گ دنیا میں ذرا سی ناکامی کے باعث مو ت کے منہ میں جانے کا سو چنے لگتے ہیں۔ مثلا کسی سے عشق ہو گیا اور اس میں ناکامی پر خو د کشی کرنے پر تل جانا اور یہ سمجھنا کہ ہم اس دنیا میں معزز ہوجائیں گے خو د کشی کرنے والے اکثر افراد کا نظریہ یہی ہوتاہے
محبت میں تو ناکام رہے
اب دنیا میں تو نام رہے
سچ یہ ہے کہ اگر محبت اللہ و رسول سے کی جائے تو کبھی ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہزاروں نہیں کروڑوں بلکہ لاتعداد بھلائیاں ہیں حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب کشف المحجوب میں نقل کرتے ہیں ۔حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ابتداً حضرت عبداللہ بن مبارک ایک نوعمر لڑکی پر فریفتہ ہو گئے ایک رات اپنے ساتھیوں سے اُٹھے اور ایک دوست کو ہمراہ لے کر معشو قہ کی دیوار کے نیچے آکر کھڑے ہوئے محبوبہ وقت مقررہ پر بر سر بام آئی اور صبح تک دونوں ایک دوسرے کے مشاہد ہ میں محو کھڑے رہے ۔ جب آپ نے نماز فجر کی اذان سُنی تو خیال کیا نماز عشا ء کی اذان ہے جب دن روشن ہو او ر آپ کو معلوم ہوا کہ ساری رات تو محبوبہ کے مشاہدہ میں محو ہو کر گزر ی ہے ۔ اس بات سے ان کو ایک سخت تبنیہ حاصل ہوئی او ر د ل میں کہنے لگے اے مبارک کے بیٹے تجھے شرم آنی چاہیے آج ساری رات تو خواہش نفس کے لیے کھڑا رہا اور پھر بھی تو بزرگی چاہتا ہے اور اس کے برعکس اگر امام نماز میں ذرا لمبی سورہ پڑھ لے تو دیوانہ ہو جاتا ہے اس دعوے ہوائے نفس کے مقابلہ میں تیرا دعویٰ ایمان کہاں ؟ چنانچہ آپ نے اسی وقت توبہ کی علم کی تلاش میں مشغول ہوگئے ۔ زہد و دیانت اختیار کی اور آخر کار ایسے بلند مرتبہ ہوئے کہ ایک دفعہ آپ کی والدہ نے باغ میں جاکر دیکھا کہ آپ سو رہے ہیں اور ایک بہت بڑاسانپ نیاز بوکی ٹہنی منہ میں لیے آپ پر سے مکھیاں ہٹا رہا ہے ۔بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے :ابوہر یرہ  رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے فلا ں کو اپنا محبوب بنا لیا ہے تو بھی اُسے یار بنا لے ۔ تو جبریل بھی اسے محبوب بنالیتے ہیں پھر جبریل علیہ السلام تما م اہل آسمان میں اعلا ن کرتے ہیں بے شک اللہ تعالیٰ فلاں کو اپنا محبوب بنا چکا تم بھی اسے محبو ب بنا لو ۔ تو آسمان والے بھی اسے دوست بنالیتے ہیں اور اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔ پھر دنیا میں اس کی مقبولیت پیدا کر دی جاتی ہے ۔اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ ولی اللہ بہت مقام و مرتبے کا مالک ہو تا ہے جس سے اللہ محبت کرے ۔ حضر ت جبریل علیہ السلام محبت کریں تمام اہل اسلام محبت کریں اور تمام اہل زمین محبت کریں اس سے بڑھ کر مرتبہ کس کا ہو گا ۔ یہ جو بعض لو گ کہتے ہیں کہ قرآن میں دکھاؤ اللہ نے یہ فرمایا ہو کہ میں ولیوں کا دوست ہوں بھئی یہ بات کرنے والا تو جاہل ہی ہو سکتا ہے ۔ ولیوں کا مقام قرآن کی نص سے ثابت ہے اور ان کی مقبولیت کل کائنات میں ہے ۔ یہ حدیث صحیح ثابت ہے ۔ قرآن کریم سورہ جاثیہ کی آیت نمبر ۱۹ اور بخاری شریف کی حدیث ابھی ابھی آپ نے پڑھی ہے ۔ ایمان سے کہیے کیا اس سے ولیوں کی اللہ کے ہا ں مقبولیت کا ثبوت نہیں ملتا۔ یقیناًملتا ہے۔

مخلوق خدا پر ظلم
خو د کشی کرنے والا اپنے اوپر تو ظلم کرتا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کا یہ عمل مخلوق خدا پر بھی ظلم کرنے کے مترادف ہے وہ ایسے کہ خو د کشی کرنے والے کے ماں باپ ہوں گے ۔ بہن بھائی ہوں گے ۔ دوست یار ہوں گے اور عزیز و اقر باء ہوں گے اس کے مرنے سے جوان سب افرادپر گزرے گی اس کا ذمہ دار بھی یہ خو دکشی کرنے والا ہی ہو گا ۔ اس لیے اگر مو ت خو د کشی سے نہ ہوتی تو مذکورہ بالا سب حضرات پر وہ پر یشانی اور غم والم مسلط نہ ہوتا جو خو د کشی سے مرنے والے کی موت سے ہو گا۔ پھر یہ بھی عین ممکن ہے خو د کشی کرنے والے کے مرنے کے بعد لو گ اس کے دوستوں میں سے کسی کو اس کے گھر والوں میں سے کسی کو یا اس کے عزیز و اقارب میں سے کسی کو مور دِ الزام ٹھہرائیں تو پریشانی اور بڑھ جائے گی ۔ بہر حال ہر مسلمان کو وہ جوان ہو یا بوڑھا خو دکشی جیسی نازیب حرکت سے بچنا چاہیے اگر کوئی کہے کہ تقدیر ایسے ہی تھی تو جواب قلندرِ لاہور سے سنیے

تیرے دریا میں طوفان کیوں نہیں ہے
خو دی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبث ہے شِکوہِ تقدیر یزداں
تو خو د تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

خو د کشی کی سزا : جب خو دکشی حرام ہے تو یقیناًاس جُرم کا ارتکاب کرنے والے کو سزا بھی ہو گی ۔ چنانچہ بخاری شریف میں ثابت بن ضحاک  رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی عمداً قسم کھائی تو وہ وہی کچھ ہے جو اس نے کہا جس نے خو د کشی کی اپنے آپ کو کسی ہتھیار سے قتل کیا اس کو جہنم میں اسی ہتھیار سے عذاب دیا جائے گا۔حجاج بن منہال نے جریربن حازم ، حسن اور جندب کے حوالہ سے اس مسجد میں بیان کیا کہ نہ ہم بھولے اور نہ ہمیں خو ف ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ روایت کریں گے ایک شخص جو زخمی تھا اس نے اپنے آپ کو مار ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے اپنی جان خو د ہی دے دی ااس لیے میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے ۔ (بخاری ، کتاب الجنائز )

ہاں مسلم شریف کی ایک روایت ہے :۔ حضرت جابر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو طفیل بن عمر و  صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہجرت کی اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک شخص نے بھی ہجرت کی ، پھر مدینہ کی ہوا ان کو ناموافق ہوئی وہ شخص جو طفیل کے ساتھ آیا تھا بیمار ہوااور تکلیف کے باعث اس نے کسی ہتھیار سے اپنی انگلیوں کے جو ڑ کاٹ لیے دونوں ہاتھوں سے خو ن بہنے لگا یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔ پھر طفیل بن عمر و نے اس کو خو اب میں دیکھا اس کی شکل اچھی تھی مگر دونوں ہاتھوں کو چھپائے ہوئے تھا ۔ طفیل نے پو چھا تیرے ساتھ تیرے رب نے کیا سلوک کیا ؟ اس نے جو اب دیا اللہ نے مجھے بخش دیا اس لیے کہ میں نے ہجرت کی تھی اس کے نبی کی جانب ، طفیل نے کہا کیا وجہ ہے میں دیکھتا ہوں کہ تو نے اپنے ہاتھ چُھپائے ہوئے ہیں ۔ اس نے کہا حکم ہوا ہے کہ ہم ان کو درست نہیں کریں گے جن کو تو نے خو د بگاڑا ہے ۔ پھر یہ خواب طفیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ نے فرمایا ، اے اللہ اس کے دونوں ہاتھو ں کو بھی بخش دے جیسے تو نے اس کے سارے بدن پر رحم کیا ہے۔ ( مسلم کتاب ایمان ، شرح نو وی) اس حدیث مبارک کی تشریح میں امام نو وی فرماتے ہیں :۔ اس حدیث میں دلیل ہے اس بڑے قاعدے کی جو اہلسنت نے قراردیا ہے کہ جو شخص خو د کشی کر لے یا کوئی اور گناہ کرے پھر تو بہ کیے بغیر مرجائے تو وہ کافر نہیں ہے اور نہ ضروری ہے کہ وہ جہنم میں جائے بلکہ وہ خدا کی مشیت پرہے اور قاعدہ ہے کہ گنہگاروں کو عذاب ہو گا اور گناہوں سے نقصان پہنچتا ہے اس حدیث کی روشنی میں علماء کرام نے خو دکشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دی ہے بلکہ اللہ سے دعا ہے وہ سب مومنوں کو راہ ہدایت پر قائم رکھے اور اپنے محبو ب صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا پکا غلا م بننے کی تو فیق عطافرمائے ۔

آج کا معاشرہ :  آج مسلم معاشرہ جن مشکلا ت سے دو چار ہے وہ کسی صاحب عقل سے پوشیدہ نہیں ہر شخص اپنے نجی مفادت کے تحفظ میں لگا ہے اسے اس بات کی قطعا کوئی فکر ہی نہیں کہ نجی تحفظ کبھی اجتماعی تحفظ کی ضمانت نہیں ہو تا ہاں البتہ اجتماعی تحفظ نجی تحفظ کا ضامن ہو تا ہے ۔ اُمت مسلمہ جب بام عروج پر پہنچی تھی اس وقت وہ احتماعی سوچ ، اجتماعی تحفظ اور اجتماعی مفاد کی حامل تھی اہل ایمان ہمیشہ دوسروں کا خیال کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دوسروں کے جذبات کی قدرکرنے کی توفیق عطا فرمائے( آمین )

علامہ مفتی محمد ارشد القادری (بانی جامعہ اسلامیہ رضویہ و امیر تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان) کی کتاب ”جنت کا راستہ“ سے انتخاب

پیر، 23 مارچ، 2015

سوئے حجاز ۔ خطبات نورانی کی آواز

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
22 مارچ 2015

بردارم ملک محبوب الرسول قادری نے مجھے خطبات نورانی پر مشتمل کتاب دی۔ کتاب کے نام سے لگتا ہے کہ یہ روشنائی سے لکھے ہوئے خطبے ہیں۔ قلم کی سیاہی کے لئے اللہ کے رسول رحمۃ للعالمین، محسن انسانیت، نور کی ساری حقیقتوں کے شناسا حضرت محمدؐ نے فرمایا جبکہ وہ روشنیوں کا مرکز تھے، خود نور سے بنے ہوئے تھے۔ میرے خیال میں روشنی اور نور میں فرق ہے۔ یہ فرق عشق اور عشقِ رسولؐ کی کیفیتوں کی سر مستیوں سے لبالب بھرے ہوئے لوگ جانتے ہیں۔ یہ کتاب جمعیت العلمائے پاکستان کے صدر حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کے خطبات پر مشتمل ہیں۔ مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی جنرل سیکرٹری تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیڈر تھے۔ دونوں کو ایک دوسرے کا اتنا احترام کرتے دیکھا کہ کوئی دوسرا اس کا تصور نہیں کر سکتا۔ عشقِ رسولؐ دونوں کی ایسی سانجھ تھی جو کبھی نہ ٹوٹ سکی۔ دونوں کے درمیان کچھ شکر رنجی بھی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی مگر عشقِ رسولؐ کو ایمان کا درجہ دینے والوں کے لئے رنج بھی شکر (شوگر) بن جاتا ہے۔ حضرت شاہ احمد نورانی قائدِ اہلسنت تھے۔ انہوں نے سیاست میں عشقِ رسولؐ اور عشق و مستی کو رلانے ملانے کی کوشش کی۔ ناموسِ رسالتؐ کی تڑپ رکھنے والے لوگ آج تک اُن کی رفاقت اور قیادت کے نشے میں چُور ہیں، جن میں لاکھوں لوگ ہیں۔ ملک محبوب الرسول نمایاں لوگوں میں سے ہیں۔ وہ ایک رسالہ نکالتے ہیں اُس کا نام ’’سوئے حجاز‘‘ ہے۔ عشقِ رسولؐ والے جہاں بھی ہوں، جس راستے پر ہوں وہ دیکھتے ’’سوئے حجاز‘‘ ہیں۔ اُن کی نظر گنبدِ خضریٰ پر رہتی ہے۔
تحفظِ ناموس رسالتؐ کے لئے اپنی زندگیاں محبوب الرسول قادری جیسے لوگوں نے وقف کی ہوئی ہیں۔ وہ بار بار عمرے کے لئے جاتے ہیں۔ اس میں یہ آرزو بھی دل میں تڑپتی رہتی ہے کہ روضۂ رسول پر حاضری نصیب ہو گی۔ حضورؐ کی خدمت میں حاضری حضوری ہے۔ قادری صاحب نے کتاب دیتے ہوئے مجھے کہا کہ عشقِ رسولؐ اور ناموسِ رسالتؐ کے حوالے سے خطبات نورانی پر کچھ لکھئے۔ اُن کی سب باتیں عشقِ رسولؐ کے دائرے میں گھومتی ہیں اور جھومتی ہیں۔ میں آپ کا یہ کالم روضۂ اطہرؐ کے سامنے حضور نبی کریم رحمۃ للعالمین حضرت محمدؐ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ یہ الفاظ سیدھے میرے دل میں اُتر گئے۔ ہم تو اُن لوگوں میں سے ہیں جو عشق رسولؐ کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں بلکہ اصل ایمان ہی یہی ہے۔
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نر سیدی تمام بوالہبیت
نورانی صاحب نے عشقِ رسولؐ کو حلاوت ایمان قرار دیا ہے۔ اُن کے اٹھارہ خطبات میں عشقِ رسولؐ کا چراغ جل رہا ہے۔ ان روشنیوں کو قادری صاحب نے مرتب کر کے ’’خطباتِ نورانی‘‘ کے نام کتابی صورت میں شائع کر دیا ہے۔ یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں حضرت نورانی صاحب کی خدمت میں موجود ہوں، ان کا خطاب ہو رہا ہے، ان کی آواز کسی نورانی راز کی طرح میری سماعتوں کے سارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔
عبدالستار خان نیازی سے میری عزیز داری تھی۔ وہ میرے دادا جہاں خان ذیلدار موسیٰ خیل ضلع میانوالی کے لئے بیٹوں کی طرح تھے۔ میرے والد کریم داد خان اور نیازی صاحب کلاس فیلو تھے۔ میں نے عشقِ رسولؐ کی روشنی اپنے ابا مرحوم سے لی ہے۔ میری زندگی میں ایسا لمحہ کبھی نہ آیا کہ والد صاحب کے سامنے کسی نے آپؐ کا نام لیا ہو اور وہ روئے نہ ہوں۔ ہم نے اپنے گھر میں صرف کتابیں دیکھی تھیں۔ شعر و ادب اور مختلف علوم پر مشتمل کتابیں تھیں۔ زیادہ تعداد سیرت النبیؐ کے حوالے سے کتابوں کی تھی۔ اُن کے انتقال کے بعد وہ سب کتابیں میں لاہور لے آیا ہوں۔ مولانا نیازی کے ساتھ میانوالی کے لوگ صرف عشقِ رسولؐ کی وجہ سے عشق کرتے تھے اور انہوں نے میانوالی کے لوگوں کو نیازی بنایا۔ اس سے پہلے لوگ اپنے نام کے ساتھ خان تو لکھتے تھے نیازی نہیں لکھتے تھے۔ مگر نورانی صاحب کے ساتھ نسبت میں نیازی صاحب کی دوستی بھی تھی مگر عشقِ رسولؐ کی نسبت رشتہ داری سے آگے نکل گئی۔ میں کہا کرتا ہوں کہ نسبت نسب سے بڑھ کر ہے اور عقیدت عقیدے سے بڑی ہے۔
چچا شیر احمد خان لاہور میں جمعیت العلمائے پاکستان کے آفس سیکرٹری تھے، ان کی دعوت پر ہمارے گائوں بھی نورانی صاحب تشریف لائے تھے۔
اس موقع پر ایک عاشق رسولؐ ایڈووکیٹ برادرم منصور الرحمن آفریدی یاد آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی عظیم ماں سے عشقِ رسولؐ کی خوشبو پائی۔ ایک بار روضۂ رسولؐ کے سامنے اپنی ماں کو جا کھڑا کیا تو درود و سلام کی لوریوں سے آفریدی صاحب کی پرورش کرنے والی ماں نے جذب و کیف کی مستی میں اپنے سچے بیٹے سے کہا کہ مانگ جو کچھ تُجھے چاہئے۔ تم صدرِ پاکستان یا وزیراعظم بننا چاہتے ہو۔ آفریدی صاحب نے عرض کی، ماں جی! آپ عشقِ رسولؐ کے صدقے میں یہ دعا فرمائیے اور حضورؐ کی خدمتِ اقدس میں درخواست کیجئے کہ وہ دونوں جہانوں کے سردار ہیں۔ مجھے اللہ دونوں جہانوں میں عزت، ایمان اور عشقِ رسولؐ کی دولت سے سرفراز فرمائے۔ اب یہ دولت اتنی آفریدی صاحب کے پاس ہے کہ اُن سے سنبھالی نہیں جاتی۔ میں نے بھی ملک محبوب الرسول قادری سے گزارش کی کہ وہ میرا سلامِ نیاز اُن کی خدمت میں پہنچا دے۔
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

بشکریہ: نوائے وقت