News لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
News لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 19 ستمبر، 2017

سٹینیسلیو پیٹروف، جن کی بدولت دنیا تباہی سے بچ گئی، 77 برس کی عمر میں گزر گئے

Stanislav Petrov in later life  CREDIT - DAVID HOGSHOLT
ڈیلی ٹیلیگراف کی ایک رپورٹ کے مطابق رونالڈ اولیفینٹ لکھتے ہیں کہ سویت یونین کے جس سابق ملٹری افسر کے سر دنیا کو ، ایٹمی جنگ کے ہاتھوں تباہی سے بچانے کا سہرا ہے، اُس کا ستتر برس کی عمر میں انتقال ہو چکا ہے۔
سٹینیسلیو پیٹروف سوویت ایئر ڈیفنس میں ایک لیفٹیننٹ کرنل تھے، 26 ستمبر 1983ء کو  ان کی ڈیوٹی ابتدائی وارننگ سینٹر پر تھی جب ایک کمپیوٹر کی فنی خرابی کے باعث اطلاع موصول ہوئی کہ امریکا نے ملک پر میزائل داغ دیے ہیں۔ ان کا اس وقت اس وارننگ کو نظر انداز کر دینے کا فیصلہ دنیا کو نیوکلیئر تباہی سے بچا گیا۔
  کارل سکوماچر جنہوں نے پہلی بار اس کہانی کو عوامی سطح پر پیش کیا تھا ایک بیان میں کہتے ہیں کہ میں نے پیٹروف کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے رابطہ کیا تو مجھے ان کی وفات کی خبر ملی، پیٹروف کے بیٹے ڈمٹری نے بتایا ک اس کے والد 19 مئی کو فوت ہو گئے تھے۔
پیٹروف سات ستمبر 1939ء کو والدی ووستوک میں پیدا ہوئے چھبیس ستمبر انیس صد تراسی کی رات وہ ماسکو کے قریب سوویت کی ابتدائی وارننگ سینٹر میں ڈیوٹی پر تھے جب کمپیوٹرز نے خبردار کیا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا نے پانچ نیوکلیئر میزائل سوویت یونین پر داغ دیے ہیں،1983ء میں اس غلط الارم کی وجہ سے دُنیا میں تیسری عالمی  (ایٹمی ) جنگ چھڑ سکتی تھی۔
مشین نے اشارہ دیا کہ یہ معلومات انتہائی یقینی تھی، پیٹروف نے یاد کرتے ہوئے کہا، دیوار پر جلی سرخ حروف لہرائے، ”آغاز“ جو اس امر کا اشارہ تھا میزائل سچ میں داغ دیے گئے ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل پیٹروف کے پاس
اس حملے کی وارننگ کو درست مان  کریملن کو بتانے یا سوویت کمانڈرز کو یہ بتانے کے لیے کہ سسٹم میں خرابی تھی میں سے کوئی ایک فیصلہ کرنے کے لیے صرف چند منٹ تھے۔یہ اندازہ لگاتے ہوئے کہ امریکی حملے میں تو سینکڑوں میزائل ہونے چاہئیں تھے، اُنہوں نے الارم کو کمپیوٹر کی غلطی مان لیا۔
لیفٹینینٹ کرنل پیٹروف  کا مؤقف اس وقت درست ثابت ہوگیا جب ایک درونِ خانہ کی تفتیش نے اس واقعہ کی چھان بین کرکے یہ نتیجہ نکالا کہ سوویت سیٹلائٹ بادلوں سے ٹکراتی ہوئی دھوپ کو غلطی سے راکٹ انجن سمجھ بیٹھے تھے۔
امریکی ایٹمی حملے کی صورت میں سوویت  کی جانب سے فوراً اینٹ کا جواب پتھر کے ساتھ دینے کی حکمت عملی کارفرما تھی جس کی صورت میں دونوں جانب سے مکمل تباہی مچانے میں برابر کی حصے داری ہوتی، بہرحال پیٹروف اپنے ساتھیوں میں  اس فیصلے کی وجہ سے معروف ہو گئے تھے۔ اُنہوں نے بعد میں شکایت کی کہ انہیں اس واقعے کو کاغذات میں درج نہ کرنے کی جو ناکامی ہوئی اُس کی وجہ سے ان کے سینئرز کی طرف سے ڈانٹ سُننا پڑی اور یہ الزام بھی سہنا پڑا کہ سسٹم کی خرابی کے بھی وہ خود ذمہ دار تھے۔
    وہ اگلے ہی برس آرمڈ فورسز سے ریٹائرڈ ہو کر ماسکو سے باہر چلے گئے۔ یہ واقعہ صرف 1998ء میں جنرل یوری وونٹِنسف جو کہ اُس وقت مسٹر پیٹروف کے سپروائزر تھے کی یاداشتوں کی اشاعت میں عوامی سطح پر لایا گیا۔
سن 2014ء میں دستاویزی فلم ”دی مین ہو سیوڈ دی ورلڈ، میں مسٹر پیٹروف نے کہا تھا،” اُس وقت جو بھی ہوا مجھے اُس کی کوئی پرواہ نہیں ۔ یہ میرا فرض تھا۔ میں تو محض اپنی ذمہ داری نبھا رہا تھا، اور  بات یہ ہے کہ میں درست وقت پر درست آدمی تھا“

ہفتہ، 31 اکتوبر، 2015

لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں بلدیاتی الیکشن

آج 31 اکتوبر 2015 ہے لاہور سمیت پنجاب کے بارہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں میں پرسوں شام سے اپنے ایک دوست حسیب نذیر کے گاؤں سرائچ آیا ہوا ہوں۔ یہ گاؤں لاہور سے قصور جانے والی بڑی سڑک فیروز پور روڈ کے سٹاپ سوا آصل کے  مشرق میں پانچ کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ میرا گھر داتا دربار لاہور کے پاس ہے اس طرح میں گھر سے تقریباً  پینتیس کلومیٹر دور حسیب کے گھر کی  سیڑھیوں کے اوپر والے کمرے میں بیٹھا یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔
چند روز قبل یہاں ایک شدید زلزلہ آیا تھا جس سے آپ لوگ واقف ہوں گے اس کے آفٹر شاکس بھی چوبیس گھنٹے میں  آئے  لیکن ہماری تماش بین قوم نے کل کی ہیڈ لائن  کو اس کے آفٹر شاکس مان لیا لازمی طور پر آپ عمران خان کی طلاق والی ہیڈ لائن اور اس پر قیاس آرائیاں بھی ملاحظہ فرما چکے ہوں گے۔ 
اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں چونکہ آج الیکشن کا دن ہے اور جس یونین کونسل کی حدود میں میرا قیام ہے  اس کے بڑے بڑے انتخابی نشانات بالترتیب بالٹی، ہیرا، شیر، بلا ، سیف الماری اور پریشر ککر ہیں، ان میں سے شیر نون لیگ کا اور بلا تحریک انصاف کا ہے دیگر نشانات آزاد امیدواروں کے ہیں مندرجہ بالا ترتیب میرے دوست حسیب کے حساب سے ہے وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس لحاظ سے اکثریتی ووٹوں کے نتائج سامنے آئیں گے، حالانکہ ان کی ہمدردیاں تحریک انصاف سے وابستہ امیدوار کے ساتھ ہیں لیکن وہ جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے اپنے تجزیے کو  اپنے  تنقیدی مشاہدے اور جائزے کی بنا پر  بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا اپنے دوستوں کو صرف ایک ہی پیغام ہے کہ شیر نہ جیتنے پائے باقی جسے مرضی ووٹ دے دیجیئے گا ۔ صرف شیر پر مُہر نہ لگانا۔  درحقیقت میرے اپنے جذبات کچھ اسی طرح کے ہیں کہ نون لیگ جیسی ظالم جماعت کا امیدوار نہ جیتنے پائے اس کے علاوہ کوئی بھی کامیاب ہوجائے میری بلا سے۔ میرای اپنی  ووٹر لسٹ میرے شناختی کارڈ کے مطابق ضلع لیہ میں ہے یوں میں صرف اس جمہوری فرض کو نبھانے کے لئے تگ و دو کرکے  لیہ نہیں جا  سکا، ویسے بھی  میرے کئی تحفظات اس جمہوریت  سے وابستہ ہیں۔
کل میرے کچھ آن لائن اسباق تھے جو  میں نے  حسیب کے لیپ ٹاپ سے پڑھائے اور شام کے وقت ہمارے ایک دوست اشفاق میئو  کے گھر ڈنر کیا ۔ آج کا دن بہرحال کافی جوش و خروش کا دن رہا، میری توقعات سے زیادہ گہما گہمی رہی بلکہ ابھی تک ووٹرز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ  سہہ پہر کے سوار چار  کا وقت ہے۔ مقامی سیاست، چودھراہٹ  اور برادری نوازی کا مطالعہ کرنے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔ کہنے کو یہ ایک گاؤں ہے لیکن اگر اس کا موازنہ ہمارے ضلع لیہ کے دیہات سے کیا جائے تو یہ لاہور شہر کا ایک حصہ ہی مانا جائے گا اس کے شواہد بھی موجود ہیں یعنی ہمارے دیہات سے جو مزدور کسب معاش کے سلسلے میں لاہور آتے ہیں ان میں سے  بعض لوگ اسی سوا آصل سٹاپ کے آس پاس والی فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں بلکہ ضلع لیہ سے میرے کئی جاننے والے ان فیکٹریوں میں کام کرتے رہے ہیں اور سوا آصل بس سٹاپ سے بخوبی واقف ہیں۔ اس گاؤں کی آبادی میرے اندازے کے مطابق پندرہ سو افراد سے زیادہ ہوگی جبکہ ہمارے لیہ والے گاؤں 475 ٹی ڈی اے میں شام کے وقت پندرہ نوجوان کرکٹ کے میدان میں جمع نہیں ہوسکتے کیونکہ وہاں آبادی بہت کم ہے۔
زیادہ مصروفیت والے لوگ صبح سویرے جاکر مقامی سکول کی اس قطار میں کھڑے ہوگئے جہاں ووٹرز کی تصدیق کی جاتی اور انہیں ووٹ کاسٹ کرنے کا طریقہ بتایا جاتا جبکہ میرے دوست اس انتظار میں رہے کہ  کب ہجوم میں کمی واقع ہو اور وہ مکمل پروٹوکول کے ساتھ اپنا حقِ رائے دہی استعمال فرما سکیں، ان دوستوں  میں حسیب نذیر، قاسم سجاد میئو اور  ریحان پی سی او  والے  اشفاق جٹ سرِ فہرست ہیں۔ سہہ پہر کے تین بجے ان ساتھیوں نے سکول کے اندر جا کر جائزہ لیا توہجوم ابھی باقی تھا ، لہٰذا حسیب اور قاسم طوعاً و کرھاً  اسی قطار میں کھڑے ہوگئے جبکہ جٹ صاحب نے  ہنوز لیت و لعل سے کام لیا اور ایک بار پھر دکان کی راہ لی۔ یہ مناظر دیکھ کر میں یہاں گھر واپس آگیا اور حسیب کے بھائی عبدالرؤف سے چائے کا تقاضا کرکے  اس تحریر کو لکھنے میں مصروف ہوگیا اسی اثنا میں حسیب بھی تصدیق کروا کے ایک بار آیا اور اپنی والدہ کو میری چائے کا کہہ کے شاید واپس سکول کی جانب چلا گیا، عبدالرؤف کب کا مجھے چائے دے بھی گیا ،  جس کاذائقہ ابھی تک میرے دہن میں ہے۔
اس الیکشن کے منظرنامے میں مجھے سب سے دلچسپ پہلو دیہاتیوں کی بذلہ سنجی اور برداشت کا دکھائی دیا، دوپہر کے وقت ایک مقام پر دو آدمیوں کے درمیان ہلکی سی  تلخ کلامی کی افواہ سنائی دی تھی جبکہ  مجموعی طور پر برداشت کی روایت برقرار رہی، لطف کی بات یہ کہ میرے جاننے والے کئی لوگ یعنی حسیب کے ہی دوست مختلف امیدواروں کے حق میں تھے پھر بھی آپس میں گاڑھی چھن رہی تھی بلکہ مخالف جماعتوں کے یا آزاد امیدواروں کی خوبیاں بھی سننے کو ملتی رہیں مثلاً ایک امیدوار ذرا جدت پسندانہ طریقے سے لوگوں کو قائل کرتا تھا اور دیگر کئی  دلکش خوبیوں کا  حامل تھا حسیب اور قاسم دونوں اس کی خوبیوں کی داد دے رہے تھے حالانکہ دونوں ہی  اسے ووٹ نہیں دینے والے تھے۔
ہمارے لاہور والے علاقے بلال گنج اور ملک پارک میں نون لیگ اور تحریک انصاف کا زیادہ واویلا تھا بلکہ نون لیگ چھائی ہوئی ہے یوں سمجھنا چاہیے کہ لاہور کا یہ علاقہ مسلم لیگ (نون) کا گڑھ ہے کیونکہ وزیر اعظم میاں نواز شریف  کا انتخاب اسی حلقے سے  بطور ایم۔این۔اے ہوا  تھا۔ اس گاؤں کے حلقے کی کہانی یہ ہے کہ یہاں سے وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب بطور ایم۔پی۔اے ہوا تھا، تو عین ممکن ہے کہ  اس علاقے کی یونین کونسلز سے نون لیگ کے امیدواران کامیاب ہوجائیں۔

جمعرات، 10 ستمبر، 2015

علامہ غلام رسول جلالی کا پہلا عرس مبارک

میں آج بعد نماز ظہر، مولانا غلام رسول کے عرس میں جامع بلال مسجد کباڑی مارکیٹ، بلال گنج لاہور میں حاضر ہوا۔ یہ ایک محفل تھی جس میں قرآن مجید کی تلاوت، حمد و نعت کے علاوہ علامہ رضائے مصطفیٰ نقشبندی کا بیان ہوا۔ سوا چار بجے میں واپس آگیا، میری کلاس کا وقت قریب آرہا تھا، جب میں مسجد کے دروازے سے باہر نکلا اُس وقت سلامِ رضا کی صدا فضا میں گونج رہی تھی۔ حضرت مولانا غلام رسول، طیب نورانی کے والد تھے۔ پچھلے سال ان کا انتقال ہوگیا۔ آج ان کا پہلا عرس اُسی مسجد میں ایک محفل کی صورت میں منعقد کیا گیا جہاں انہوں نے تقریباً نصف صدی تک دین کی بے لوث خدمت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ان کی کوئی مقرر کردہ تنخواہ نہ تھی وہ اللہ کی رضا کے لئے بلا معاوضہ مسجد میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اللہ رب العزت انہیں بہترین اجر سے نوازے۔ یہ سامنے ان کے دو صاحبزادے بیٹھے ہیں،
ان میں سے بائیں جانب والے طیب نورانی ہیں۔ مولانا غلام رسول کو قائد ملتِ اسلامیہ، مولانا شاہ احمد نورانی سے سچی عقیدت تھی۔ حضرت صاحب قرآن مجید کے حافظ اور باعمل عالمِ دین تھے۔ ان کے بچے بھی الحمدللہ باعمل عالمِ دین ہیں۔ میں نے پچھلے سال بلال گنج میں ان کے چہلم کے اشتہارات لگے ہوئے دیکھے تھے لیکن میں ان سے واقف نہیں تھا، بعد ازاں طیب صاحب سے بلال گنج مارکیٹ میں ملاقات ہوئی تب بھی علامہ صاحب کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ طیب صاحب فیس بک پر اپنے سٹیٹس میں والد صاحب کی رحلت کا بتاتے تھے تب بھی پتہ نہ تھا کہ یہ وہی شخصیت ہیں جن کے چہلم کے اشتہارات میں دیکھ چکا تھا۔ ایک دن طیب نے علامہ غلام رسول جلالی رحمۃ اللہ علیہ کا نام لکھ کر فیس بک پر پھر اپنے پسرانہ جذبات کا اظہار کیا تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تو اُسی علامہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ حضرت صاحب کو غریقِ رحمت کرے اور ان کے صدقے ان کی اولاد اور ہم سب پر اپنا فضل و کرم فرمائے۔ آمین۔ 

جمعہ، 29 مئی، 2015

محفل شان مصطفی کی رپورٹ

گزشتہ رات (28 مئی، 2015) نو بجے جامعہ اسلامیہ رضویہ  لاہور ، رچنا ٹاؤن فیروزوالہ شاہدرہ پاکستان میں "محفلِ شان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم" منعقد کی گئی۔
 پہلی نشست کے لئے غلام یاسین قادری نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دئیے۔ انہوں نے قرآن پاک کی تلاوت کے لئے کسی قاری صاحب کو دعوت دی اور اس کے بعد نعت لئے کسی کے لئے ایک اور ساتھی  کو بلایا۔ یاسین نے بھی ایک منقبت پڑھی۔دوسری نشست کے لئے قاری وقار نورانی  نے تلاوتِ کلامِ مجید فرمائی۔ پھر جناب مظہر اقبال قادری کا بیان شروع ہوا۔ اسی اثناء میں مہمانانِ گرامی جامع مسجد نصرتِ مدینہ میں داخل ہوئے تو مظہر صاحب نے جلدی سے اپنی تقریر کو مکمل کیا۔  پھر پروفیسر مفتی احمد رضا قادری مائیک پر آئے اور انہوں نے مہمانوں کو محفل میں خوش آمدید کہا۔ معزز مہمانوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ علامہ نور المصطفی رضوی
2۔ جناب مرغوب احمد ہمدانی
3۔  علامہ غلام مرتضی  شازی
اس کے بعد احمد رضا قادری نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سنبھالے انہوں نے محفل میں نعت  پڑھنے کے لئے صاحبزادہ عاکف قادری کو دعوت دی۔ انہوں نے  تین نعتیں پڑھیں ان میں سے دو امام حسن رضا خان کے کلام میں سے تھیں۔  اس کے بعد علامہ غلام مرتضیٰ شازی نے چند منٹ کے لئے  اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ پھر مفتی اعظم پاکستان علامہ محمد ارشدالقادری نے مختصر وقت میں  اپنے قلبی جذبات حاضرین کے سامنے رکھے۔احمد رضا پھر مائیک پر آئے اور نعت پڑھنے کے لئے جناب مرغوب احمد ہمدانی کو دعوت دی۔ انہوں نے (1980ء کے دور بارے میں) ماضی حوالے سے  کچھ یادیں بیان کیں۔ پھر نعت کا آغاز کیا انہوں نےکئی ایک نعتیں پڑھیں۔  ان میں سے چار نعتیں امام احمد رضا خان کے کلام میں سے تھیں۔
آخری تقریر علامہ نور المصطفی رضوی کی تھی۔ انہوں نے کہا نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کی۔ ا ن کا خطاب تقریباً رات ڈیڑھ بجے تک جاری رہا۔ پھر کھڑے ہو کر سلامِ رضا پڑھا گیا آخر میں علامہ نورالمصطفیٰ رضوی نے دعا مانگی اور محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔پروگرام 29 مئی 2015 کو 1:37 بجے صبح ختم ہوا۔

پیر، 13 اپریل، 2015

One student dies, over hundred injured in Nairobi campus stampede

NAIROBI: A Kenyan student died and more than 100 others were injured as they fled after a electrical explosion triggered fears that their campus was being attacked before dawn on Sunday, officials said. 

      Students jumped from windows at their University of Nairobi residence halls or rushed out in a stampede that underlined growing tensions just over a week after Islamist gunmen stormed another university campus, killing 148 people.
“I could see the students jumping and one of them landed on his head,” said third-year student Felix Muriuki. Others said there were three loud blasts, plunging the dormitory into darkness, which heightened the panic among the students.
“We thought it was another al Shabaab attack,” said Eddy Capella, a first-year student. The dead student was among others who had tried to jump to safety at the Kikuyu campus, university vice chancellor Peter Mbithi told Reuters.
“We have lost one male student who fell from fifth floor,” Mbithi said outside the emergency section of the country’s main public hospital, Kenyatta National.
Kenya Power, the country’s main electricity distributor, said the explosion was caused by overloaded underground cable. Initial witness accounts had said a transformer exploded. Kikuyu students called on the government to do more to secure all universities. “I’m not feeling 100 percent safe on campus but I will continue with my studies,” Muriuki said.
Witnesses said the explosion occurred at about 4.30 am (0130 GMT), setting off terrified screams from the women’s wing of a dormitory.
The panic spread to the men’s wing, where students woke up and scrambled to get out. Students said the incident evoked memories of the April 2 attack on Garissa University College, about 200 km from the Somali border. Somalia’s Al Qaeda-aligned group al Shabaab claimed responsibility for that raid, which also came before dawn.

ہفتہ، 4 اپریل، 2015

عسکریت پسندوں کے مزید حملوں کے انتباہ کے بعد، کینیا کے صدر کاسخت جوابی کارروائی کا عزم

گاریسا، کینیا: صومالیہ کے انتہا پسند گروپ الشباب نے، جمعرات کے روز گاریسا یونیورسٹی کالج پر حملہ کرکے، 148 افراد ہلاک کر دیئے تھے۔
اس گروپ نے ہفتہ (4 اپریل  2015) کے روز دھمکی دی ہے کہ، وہ اس طرح کے حملے جاری رکھیں گے۔ دہشگردوں کا کہنا ہے کہ، کینیا کے شہر سرخ خون میں بہا دیئے جائیں گے۔ دہشتگرد اپنے ان حملوں کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ، صومالیہ میں ان کے خلاف کینیا کی افواج نے حصہ لیا، جس کا اب وہ انتقام لے رہے ہیں

جمعہ، 3 اپریل، 2015

کینیا: گریسا یونیورسٹی حملہ، ہلاکتیں 147 ہوگئیں

جمعرات (2 اپریل 2015) کی صبح کو، عسکریت پسند گروپ 'الشباب' کے نقاب پوش مسلح افراد نے شمال مشرقی کینیا میں ایک یونیورسٹی پر دھاوا بول دیا اور یونیورسٹی میں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا۔ کینیا کے حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک افراد کی تعداد 147 تک پہنچ چکی ہے اور حفاظتی آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔ حکام کے مطابق چار حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے تمام طلباء کی گنتی کی جا چکی ہے جس کے مطابق 147  ہلاک ہوچکے ہیں۔ جبکہ 587 طالب علموں کو نکالا گیا ہے جن میں سے 79 زخمی ہیں۔ نو شدید زخمی طالب علموں کو علاج کے لیے دارالحکومت نیروبی پہنچایا گیا ہے۔ ملک کے کچھ حصوں میں رات کو کرفیو لگایا جا رہا ہے

دہشت گرد کافروں کے ایجنڈے پر ہیں


کینیا کی گریسا یونیورسٹی میں دہشتگردی کی واردات میں تقریباً 147 ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ  امریکی ایجنسی سی آئی اے کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم القائدہ کو ہتھیار خریدنے اور دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کے لئے بھاری رقوم فراہم کرتی رہی ہے۔ چونکہ افریقی ممالک میں دہشتگرد تنظیموں مثلاً الشباب اور بوکو حرام وغیرہ کی کڑیاں القاعدہ سے ملتی ہیں اور القاعدہ امریکن سی آئی اے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا بھر میں اکثر دہشت گرد وہابی سوچ کے ہوتے ہیں ان کو القاعدہ کنٹرول کرے یا استعمال کرے بات ایک ہی ہے۔ البتہ وہابیوں (دیوبندیوں) کے نزدیک یہ جہاد ہے۔ اور ان کا ماسٹر مائنڈ کوئی اور نہیں بلکہ امریکی ایجنسی ہے جس نے دو طرفہ پالیسی سے دنیا کا امن تباہ کِیا ہوا ہے۔ میں تو آج پھر وہی کہوں گا جو ایک عرصے سے کہتا آیا ہوں کہ طالبان، (ہر قسم) جماعۃ الدعوہ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، اخوان المسلمون، بوکو حرام، الشباب، داعش (آئی ایس) سمیت وہ تمام تنظیمیں جو اسلام کا نام لے کر بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں وہ مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں۔ انہیں اسلام یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ وہ سی آئی اے جیسی خبیث ایجنسیوں کے کتے ضرور ہیں۔ ان کی اس طرح کی حرکتوں سے کافر ایجنسیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے جواز فراہم ہو جاتا ہے۔

جمعرات، 11 ستمبر، 2014

صارفین پاس ورڈ تبدیل کر لیں گوگل کی ہدایت

ہیکرز کی جانب سے 50 لاکھ سے زائد جی میل پاس ورڈ ہیک کیے جانے کے بعد گوگل نے اپنے صارفین کو فوری طور پر اپنے اپنے پاس ورڈ تبدیل کرنے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
فوٹو رائٹرز



روس کی ایک مشہور ویب سائٹ پر ہیکرز کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات میں ہیکرز نے ہیک کیے گئے یوزر نیم اور پاس ورڈ پبلش کر دیے ہیں جن کی تعداد 50 لاکھ سے زائد ہے۔

یہ تمام تفصیلات پھیلانے والے شخص کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اکاؤنٹ انگلینڈ، روس اور اسپین سے تعلق رکھنے والوں کے ہیں اور 60 فیصد اکاؤنٹ ایکٹو ہیں۔

ان تفصیلات سے صرف جی میل تک رسائی نہیں ملی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گوگل ڈرائیو اور موبائل پے منٹ کے گوگل والٹ سسٹم تک بھی باآسانی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ گوگل کی نمائندہ سویٹلانا انورووا نے کہا کہ گوگل سیکورٹی کے حصار کو توڑے جانے سے آگاہ ہے اور اس نے تمام صارفین کو پاس ورڈ تبدیل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے صارفین کو ہدایت کی کہ وہ سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے دو درجات پر مبنی تصدیقی عمل بھی استعمال کریں تاکہ اگر کوئی ان کا پاس ورڈ تبدیل کرنے کی کوشش کرے تو ان کے موبائل پر فوراً اس حوالے سے الرٹ آ جائے۔ واضح رہے کہ اس سلسلے میں ایک ایسی ویب سائٹ بھی بنائی جا چکی ہے جس کے ذریعے صارف یہ پتہ لگا سکتا ہے کہ آیا اس کا اکاؤنٹ ہیک تو نہیں ہوا۔ گوگل کے ترجمان نے بھی پاس ورڈ ہیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صارفین کی سیکورٹی ہماری پہلی ترجیح ہے۔ ابھی تک ہیکرز کو پکڑا نہیں جا سکا لیکن اس سے قبل روس اور مشرقی یورپ کے ہیکرز اس طرح بڑے پیمانے پر ہیکنگ میں ملوث رہ چکے ہیں۔

اتوار، 7 ستمبر، 2014

عمران خان اور طاہر القادری کا جرم عظیم

شام ڈھل رہی تھی، جب میں ایک دوست کے ہمراہ شاہراہ دستور پر پہنچا۔ انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کے شرکا کو یہ تو معلوم تھا کہ آج آگے بڑھنا ہے، لیکن کس طرف کو آگے بڑھنا ہے، یہ معلوم نہ تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا خطاب شروع ہوا تو ان کے تیوروں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ تہیۂ طوفان کیے ہوئے ہیں۔
اصغر عبداللہ


mohammad_asghar_abdullah@yahoo.com

اور پھر جیسے ہی انھوں نے اعلان کیا کہ آج یہ دھرنا پرامن طور پر پارلیمنٹ ہاوس کے مقابل سے وزیر اعظم ہاوس کے مقابل منتقل کر دیا جائے گا، تو انقلاب مارچ کے شرکا کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنا سے نکل کر قریب ہی عمران خان کے دھرنا میں آیا تو آزادی مارچ کے شرکا بھی پیش قدمی کے لیے تیار تھے۔
جس لمحہ عمران خان نے اعلان کیا کہ آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے، یوں لگا جیسے وہاں موجود سب لوگ یہی چاہتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ انقلاب مارچ کے شرکا کے برعکس آزادی مارچ کے شرکا کو پیش آمدہ خطرے کا مطلق احساس نہ تھا۔ دونوں دھرنوں میں عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، لیکن حیرت انگیز طور پر وہ ہراساں نہ تھے۔ میں نے دو افراد سے، جو خاندان سمیت دھرنوں میں شریک تھے، اس کی وجہ دریافت کی، تو ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے قائدین اس خطرناک صورت حال میں کئی دن سے ان کے درمیان موجود ہیں، تو وہ بھی ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اخباری زندگی میں جماعت اسلامی سمیت متعدد سیاسی پارٹیوں کے اجتماعات دیکھے، لیکن جو جذبہ، جو ولولہ اور جو کمٹمنٹ عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں دیکھی، کہیں اور نہیں دیکھی۔ ان کارکنوں کو اپنے گھر بار چھوڑے دو ہفتے گزر چکے تھے، اس کے باوجود ان کے چہروں پر کوئی ملال نہیں تھا۔ ایک ہی نعرہ ان کی زبان پر تھا کہ جب تک ان کے گھر سے نکلنے کا مقصد پورا نہیں ہو گا، وہ واپس نہیں جائیں گے۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ حکومت کو یقین ہے کہ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری کے ہمراہ وزیر اعظم ہاوس کی طرف پیشقدمی نہیں کریں گے۔
سو، آج رات وہ دونوں دھرنوں سے الگ الگ نمٹ لے گی۔ لیکن حکومت کی یہ منصوبہ بندی اس وقت دھری کی دھری رہ گئی، جب انقلاب مارچ کے بعد آزادی مارچ نے بھی وزیر اعظم ہاوس کی طرف بڑھنے کا اعلان کر دیا۔ عمران خان کا قافلہ، ڈاکٹر طاہر القادری کے قافلہ کے پیچھے روانہ ہوا، تو اول اول یوں معلوم ہوا، جیسے پولیس نے دونوں مارچوں کو راستہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عمران خان نے اپنے کینٹینر سے کہہ بھی دیا کہ پولیس پیچھے ہٹ گئی ہے۔ لیکن ابھی فضا میں اس اعلان کی گونج باقی تھی کہ اگلی سمت سے شور بلند ہوا، اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹکراو شروع ہو گیا۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں کی فائرنگ نے قیامت کا سماں برپا کر دیا۔ ستم یہ تھا کہ جب آگے سے پولیس نے مظاہرین پر حملہ کیا تو وہ پولیس جس نے پہلے راستہ چھوڑ دیا تھا اور پیچھے ہٹ گئی تھی، وہ بھی اطراف سے مظاہرین پر ٹوٹ پڑی۔
یہ بڑے ہی دلدوز مناظر تھے۔ عورتیں اور بچے چیخ رہے تھے۔ کئی عورتیں اپنے بچوں کو پکارتی، ڈھونڈتی ادھر ادھر بھاگ رہی تھیں۔ آنسو گیس کی شیلنگ اتنی زیادہ تھی اور اس کے دھوئیں میں کیمیکل اتنا تیز تھا کہ سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے گیلا رومال آنکھوں پر پھیرا، لیکن جلن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ شاہراہ دستور اب کسی میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ عمران خان اور طاہر القادری کے کارکن، ان کے کینٹینروں کے گرد پرانوں کی طرح اکٹھے ہو گئے تھے۔
اندیشہ محسوس ہو رہا تھا کہ اگر اس جذباتی فضا میں عمران خان اور طاہر القادری کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، تو بہت خون خرابہ ہو گا۔ آنسو گیس کی شیلنگ میں ایک بار پھر شدت آ گئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں اسٹریٹ لائٹس بھی بند ہو گئیں، تو شاہراہ دستور کی اس رات کی ہولناکی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نڈھال ہو کر میں اور میرا دوست سڑک سے اتر کر ایک طرف بیٹھ گئے۔ شاعر انقلاب، فیض احمد فیضؔ کے نظم ’’ ملاقات ‘‘ یاد آ گئی، جو انھوں نے اس وقت لکھی تھی ، جب 1953 میں ان کو ’’ بغاوت ‘‘ کی ’’جرم‘‘ میں منٹگمری جیل میں قید کر دیا گیا ؎
یہ رات اس درد کا شجر ہے
جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں
میں لاکھ، مشعل بکف ستاروں
کے کارواں، گِھر کے کھو گئے ہیں
ہزار مہتاب اس کے سایے
میں اپنا سب نور، رو گئے ہیں
میں اس رات بھی یہ سوچ رہا تھا، اور آج بھی سوچ رہا ہوں کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا ’’جرم‘‘ کیا ہے کہ ’’ناقابل معافی‘‘ قرار پایا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا مطالبہ اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور انتخابی نظام کو ایک انقلاب کی ضرورت ہے۔ آج سے 23 سال پہلے جب انھوں نے پاکستان عوامی تحریک قائم کی، تب بھی ان کا یہی مطالبہ تھا، ا ور آج بھی ان کا یہی مطالبہ ہے۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان کے پہلے مذہبی رہنما ہیں، جنھوں نے اپنی سیاست کی بنیاد اسلام کے سماجی مساوات کے تصور پر رکھی ہے۔ پاکستان کے مذہبی رہنماوں کی روایتی سیاست سے وہ اس حد تک بیزار ہیں کہ اپنے نام کے ساتھ ’’مولانا ‘‘ کا سابقہ لگانا بھی پسند نہیں کرتے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہ آئین اور قانون کو نہیں مانتے، یا الیکشن کے عمل کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ طویل عرصہ پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں آئین اور قانون پڑھاتے رہے ہیں، ان کی پارٹی دو مرتبہ الیکشن میں حصہ لے چکی ہے، اور2002 میں خود بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ 2013 میں بھی ان کی پارٹی الیکشن میں حصہ لینا چاہتی تھی۔ لیکن جب الیکشن کمیشن پر ان کے آئینی اعتراضات کو سننے سے یکسر انکار کر دیا گیا، تو مجبوراً انھوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی پارٹی بوجوہ کسی الیکشن کا بائیکاٹ کر دیتی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک غیر سیاسی گروہ بن گئی ہے۔ لندن میں ڈاکٹر طاہر القادری اور چوہدری برادران کے درمیان جو دس نکاتی معاہدہ طے پایا تھا، یا انقلاب مارچ کے لیے نکلنے سے پہلے لاہور میں ان کے اور عمران خان کے درمیان جن چار نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان نکات میں سے کوئی ایک نکتہ بھی ایسا نہیں، جو آئین کے دائرہ سے باہر ہو، یا اس سے متصادم ہو، بلکہ حقیقتاً یہ وہ مطالبات ہیں، جن کا آئین پاکستان تقاضا کرتا ہے۔
اس طرح عمران خان کا مطالبہ بھی اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور انتخابی نظام کو بدعنوانی اور دھاندلی سے پاک ہونا چاہیے۔ آج سے 18 سال پہلے جب انھوں نے تحریک انصاف کے قیام کا اعلان کیا تھا، تب بھی ان کا یہی مطالبہ تھا، اور آج بھی ان کا یہی مطالبہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ عمران خان پہلے سیاستدان ہیں اور تحریک انصاف پہلی سیاسی پارٹی ہے، جس نے پاکستان کے سیاسی اور انتخابی نظام میں کرپشن کے خاتمہ کو اپنی سیاسی جدوجہد کا نصب العین قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح عمران خان بھی کوئی پیشہ ور سیاست دان نہیں۔ پاکستان کی سیاست میں کئی کھلاڑی سیاست میں آئے اور گئے، لیکن یہ تنہا عمران خان ہیں، جنھوں نے کامیابی حاصل کی۔ ظاہراً اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے روایتی سیاست کی اور نہ ہمت ہاری۔ تحریک انصاف تین مرتبہ الیکشن میں حصہ لے چکی ہے، لیکن اس کو بریک تھرو ملا 2013 میں، جب نہ صرف یہ کہ وہ خیبر پختون خوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی، بلکہ باوجود مشکلات کے، پنجاب میں بھی دوسری بڑی پارٹی بن کے ابھری۔ الیکشن 2013 کے بعد عمران خان اول دن سے کہہ رہے تھے کہ پنجاب میں ان کا مینڈیٹ ہائی جیک کیا گیا ہے، اور اگر ان کو الیکشن کمیشن سے، سپریم کورٹ سے اور پارلیمنٹ سے انصاف نہ ملا تو وہ ضرور سڑکوں پر آئیں گے۔ اس کے باوجود یہ کہنا یا باور کرانا کہ تحریک انصاف کسی کے اشارے پر حکومت کے خلاف نکلی ہے، سراسر غیر منطقی بات ہے۔
نظر بظاہر یہ آتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا ’’جرم‘‘ یہ ہے کہ انھوں نے سیاست میں ’اسٹیٹس کو‘ کو چیلنج کیا ہے۔ نتیجتاً، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام سیاسی اور غیر سیاسی پارٹیاں، جن کے مفادات ’اسٹیٹس کو‘ سے وابستہ ہیں، ان کے خلاف متحد ہو چکی ہیں۔ لطف یہ ہے کہ جماعت اسلامی، جو خود کو اسلامی انقلابی پارٹی کہتی ہے، وہ بھی پیپلز پارٹی کے شانہ بہ شانہ مصالحت کاری کے نام ن لیگ حکومت کو ریسکیو کر رہی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے ’اسٹیٹس کو‘ کو چیلنج کر کے، جو ’’جرم عظیم‘‘ کیا ہے، وہ واقعتاً ’’ناقابل معافی‘‘ ہے۔ ان کی حالیہ جدوجہد کا نتیجہ جو بھی ہو، پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں اسٹیٹس کو کے خلاف ان کی یہ انقلابی جدوجہد تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ پس دیوار زندان شاعر نے کہا تھا ؎
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

Thanks to Express

ہفتہ، 6 ستمبر، 2014

مسلم لیگ ن نثار کو پریس کانفرنس ملتوی کرنے پر رضامند کرنے میں ناکام

06 ستمبر 2014

اسلام آباد (محمد نواز رضا‘ وقائع نگار خصوصی) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور اعتزاز احسن کے درمیان ’’سیاسی جنگ‘‘ نے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔  وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان
نے وزیراعظم کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے کر پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے پریس کانفرنس کرنے کی پیشکش کی لیکن وزیراعظم نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ موجودہ  سیاسی بحران میں دو بار وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ دے چکے ہیں جسے  وزیراعظم نے مسترد کر دیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلم لیگ ن سے  تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے وفاقی وزیر پر شدید دباؤ ڈالے رکھا وہ بیرسٹر اعتزاز احسن کی تقریر کا ردعمل ظاہر نہ کریں اور اس معاملہ پر مزید کسی نئے تنازعہ میں نہ پڑیں۔ چودھری نثار علی خان نے  یہ اپنا جواب دینے کا حق استعمال کرنے پر اصرار برقرار رکھا۔ بعدازاں ان کی  وزیراعظم سے ملاقات ہوئی جو تین گھنٹے تک جاری رہی۔ وزیراعظم نے  انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اب مزید سخت  لہجہ نہ رکھیں تاہم چودھری نثار علی خان نے وزیراعظم کے سامنے اپنا یہ  اصرار جاری رکھا وہ  پریس کانفرنس کر کے حقائق ضرور بیان کریں گے۔
بشکریہ: نوائے وقت

جمعہ، 5 ستمبر، 2014

تجھے بہت جلد گولی لگ جائے گی

مجھے کہا جاتا ہے کہ تو پاگل ہو گیا ہے! تجھے بہت جلد گولی لگ جائے گی۔ کوئی وہابی،دیوبندی، سنی یا شیعہ تجھے پھڑکا دے گا۔ ورنہ کوئی کافر یا ملحد تجھے قتل کر دے گا۔ کسی مرتد کوتیری باتیں پسند نہ آئیں تو تیری خیر نہیں!تو نواز شریف کو"بنجمن نیتن یاہو" یا اس سے بھی بڑا ظالم کہتا ہے تجھے نون لیگ والے مار دیں گے۔ تجھے فلاں فلاں پارٹی سے اختلاف ہے! تو ایسا کیوں ہے! تو ویسا کیوں ہے؟
بس کیا کر یار! اتنی باتیں نہ کیا کر! کسی وقت خاموش ہو جایا کرو! اگر تم دس منٹ خاموش رہو گے تو میں تجھے دس روپے انعام دوں گا! یار تیری ان باتوں کا فائدہ ہے! مجھے تیری ان باتوں سے حاصل؟ اپنا سر کیوں کھپاتے ہو؟ دوسروں کادماغ کیوں کھاتے ہو؟ تم ڈاکٹر طاہرالقادری سے اختلاف کے باوجود احتیاط سے کام لینے کو کیوں کہتے ہو؟ تم فلسطین جا کر کیوں نہیں لڑتے؟ تم امریکہ کو تباہ کیوں نہیں کرتے؟ تم افغانستان، شام، لیبیا، مصر، شام اور عراق وغیرہ میں خانہ جنگی کے خلاف کیوں ہو؟ تم علماء (سوء) کے خلاف کیوں بولتے ہو؟ تم کتے ہو! کتے بھونکتے رہتے ہیں اور راہی گزر جاتے ہیں؟ سن 2012ء، 2013ء میں تم جس طاہرالقادری کے خلاف میسیج نشر کرتے تھے اب اس کے ایجنڈے سے اتفاق کیوں کرتے ہو اس کے حق میں کیوں ہو؟
 میرا حسین ابھی کربلا نہیں پہنچا
 میں حر ہوں اور ابھی لشکرِ یزید میں ہوں
 تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ یہ وقتی جذباتی اُبال ہے! یہ تمہارا استحصال ہوا ہے کچھ عرصے کے بعد تم خود کو غلط کہو گے! لوگوں کو کافر کافر کہنے کا رجحان تم نے پروان چڑھایا ہے! اگر تم امام احمد رضا خان قادری بریلوی کے مرید ہو تو (نام نہاد) بریلوی مولویوں کی غداریوں کے خلاف کیوں بولتے ہو؟ سب علماء ایک پیج پر ہیں! پاکستان آرمی اور ایجنسیاں اتنی فارغ نہیں ہیں کہ وہ سازشیں کرتی پھریں انہیں اور بہت سے اچھے کام کرنے کی طرف دھیان ہے؟ فلاں فلاں تو امریکی جمہوریت کی بات کرتا ہے اس نے مصطفوی انقلاب کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا ہے ہمیں ایسی ویسی جمہوریت نہیں چاہیئے! ریاست میں انقلاب کے نام پر غنڈہ گردی جیسے واقعات سے نپٹنے کیلئے ریاستی دہشت گردی ناگزیر ہوتی ہے! ملک میں جمہوریت پر شب خون مارے جانے کا خوف ہے اور تم نواز شریف کو پھانسی کے پھندے پر کیوں لٹکا ہوا دیکھنا چاہتے ہو؟ تم جمہوریت کے دشمن ہو؟ تم گمراہ ہو گئے ہو۔ تم کافر مرتد اور گستاخ کی حمایت کیوں کر رہے ہو؟ وغیرہ وغیرہ
 زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
 اور کافر یہ سمجھتا ہے کہ مُسلمان ہوں میں

جانے کب کون کیسے مار دے کافر کہہ کر
 سارے کا سارا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
 ایک نقطے نے محرم سے مجرم کر (بنا) دیا


یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
 جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے

 یہ ہجومِ شہرِ ستم گراں نہ سنے گا تیری صدا کبھی
 میری حسرتوں کو سخن سنا میری خواہشوں سے خطاب کر

 جب ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو نواز شریف کے چہیتے طالبان شہید کرتے ہیں تو منہاج القرآن والے اس کی تعزیت میں کانفرنس منعقد کرکے اس قتل کی مذمت کرتے ہیں اور جب منہاج القرآن پر حملہ ہوتا ہے تو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں کہ وارثانِ سرفراز نعیمی کہاں کھڑے ہیں! وارثانِ محراب و منبر وقتِ قیام کو کس سجدے میں گرے ہوئے ہیں! مجھے قرآن پاک میں کہیں بھی نہتے اور بے گناہ لوگوں پر ظلم و ستم روا رکھنا نظر نہیں آیا تو ظالم کی حمایت کرنا چہ معنی دارد؟

 یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
 یہ ناداں گر گئے سجدوں (سجدے) میں جب وقت قیام آیا

 کہا جاتا ہے کہ کوئی ایک کتے کو پانی پلانے کی وجہ سے جنت میں جائے گا۔ کوئی کسی بِلی کو پانی پلانے کی وجہ سے جنت میں جائے گا۔ کوئی کسی ایک بِلی کو بھوکا پیاسا رکھنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گی۔ نبی تاجدار سرورِ دوعالم، پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کے ساتھ جاتے ہوئے صرف ایک کتیا (جو اپنے بچوں کو دودھ پلا رہی تھی) کے کام و آرام میں مخل ہونے سے بچانے کیلئے اپنے جان نثاروں  رضی اللہ عنہم کے لشکر کو دور سے گھما دیا تھا۔ مظلوم اونٹ کو خرید کر آزاد فرما دیا تھا۔ تو یہ لوگ کون ہیں کس سماجی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو فلسطین اور ممتاز قادری کے نام پر لوگوں کا استحصال کرتے ہیں لیکن۔۔۔ جامعہ منہاج القرآن کو غزہ بنا دینے  پرمنہ کو تالے لگائے ہوئے ہیں۔

بولتے کیوں نہیں میرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟

اگر جامعہ منہاج القرآن پر حملہ ہوجانے کے بعد مزاحمت ناجائز تھی تو کیا غزوہ خندق (احزاب) میں مدینہ پر حملہ ہو جانے پر بھی مزاحمت نہیں کرناچاہیئے تھی؟

 توں کی جانے بھولیے مَجّھے انار کلی دیاں شاناں

 کیاکبھی کسی بدمعاش نے آپ کے کسی پلاٹ یا مکان پر قبضہ کیا ہے؟ یا آپ کو راستے میں ڈاکوؤں نے لوٹا ہے؟ کیا کبھی چوروں نے رات کو آپ کے گھر سے کوئی قیمتی اثاثہ چرایا ہے؟ کیا کبھی آپ کے نامعلوم دشمن آپ پر رات کے وقت بھوکے کتوں کی طرح ٹوٹے ہیں؟ کیا آپ کا کوئی بھائی کراچی میں یا کسی بم دھماکے میں قتل ہوا ہے؟ کیا آپ کو کبھی کوئی اندھی گولی لگی ہے؟ کیا آپ کے کسی معصوم بچے کو کسی نے چیر پھاڑ کر پھینکا ہے؟ کیا کبھی آپ کے راہ چلتے دہی لینے جاتے بیٹے کو کسی نے گولی مار کر قتل کیا ہے؟ کیا آپ کی نوجوان بہن کا کبھی ریپ ہوا ہے؟ کبھی گاؤں کے کسی نمبردار یا محلے کے ناظم نے غنڈے بلوا کر آپ کے گھر والوں کے ساتھ ظلم و جبر کیا ہے؟ کیا کبھی آپ کی والدہ کو برہنہ کر کے قصبے کی گلیوں میں پھرایا گیا ہے؟ کیا آپ کے خاندان میں سے کسی نے خودکشی کی ہے؟َ اگر ان سب سوالوں کا نفی میں ہے۔۔۔۔ تو اے پیرانِ عظام! اور اے مفتیانِ کرام! اور علماءِ ذی وقار! صحافی برادران اور سیاست کے عہدے داران! اور اے مولوی صاحبان! اور کاروباری حضرات یا وکلاء برادران! مذہب و ملت کے سزاواران! او انصاف کی کرسی پر براجمان! او قانون کے محافظان اور کالم نگاران!!! آپ سب سچے ہیں۔
 آپ کو مظلوم کی ڈیفینیشن (تعریف) کا علم ہی نہیں۔آپ تو ٹی وی پر جس رویے کے ساتھ کوئی فلم یا ڈرامہ ملاحظہ فرما لیتے ہیں بالکل اسی رویے سے جس طرح کوئی کہانی یا ناول پڑھا جاتا ہے، آپ کیلئےظلم و جبر کی داستان جو خبروں والے چینل پر آتی ہے آپ کےلئے وہ بھی ایک لطیفے جیسی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اخبار پر آنے والی ظلم و تشدد کی خبریں تو کسی حساب و شمار میں نہیں۔آپ تو کتابوں سے رٹے رٹائے جملے یاد کرکے ان سب منصبوں (مناصب) تک جا پہنچے اور دن رات وعظ و تلقین کا ذمہ اُٹھائے ہوئے ہیں۔ جو کہ صرف رسمی حد تک ہے۔ اگر آپ کی باتوں میں تاثیر ہوتی تو جس قدر مصلح اور خیر خواہ اِس قوم کے موجود ہیں ان کی تبلیغ و تحریر سے آج کا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن چکا ہوتا۔ اور دلوں میں کوئی حقیقی انقلاب رونما ہو چکا ہوتا۔ پھر کسی انقلابی کو اپنی آواز بلند کرنے کی ضرورت باقی نہ رہتی اور نہ ہی حکومت کے ریاستی درندے رات کے وقت جا کرکسی کے گھر پر دھاوا بولتے اور نہ ہی گلیاں خون سے نہاتیں۔ اور ہسپتالوں کے وارڈز زخمیوں سے نہ بھرتے۔ ماؤں کے لال بے گناہ قتل نہ ہوتے۔ بہنوں کے مان نہ ٹوٹتے اور سہاگنوں کے سہاگ سلامت رہتے۔ کہیں کوئی ظلم نہیں ہوا جامعہ منہاج القرآن پر حملہ جائز تھا۔

 اجی! ہم پاکستان کی قومی پالیسی کے خلاف بات نہیں کرتے! سبحان اللہ! کیا پاکستان کی پالیسیاں کسی الہامی کتاب کا پیغام ہیں؟ اگر پاکستان کی پالیسیاں قرآن و حدیث کے خلاف ہوں تو کیا ہم اپنی آواز بلند کرکے دلیل سے اپنا مؤقف پیش نہ کریں کہ یہ غلط ہے وہ درست ہے؟ پاکستانیت کیا ہے؟ بچپن میں ہم نصابی کتب میں پڑھتے تھے کہ تحریکِ پاکستان کے نعروں میں سے ایک نعرہ یہ تھا "سینے پہ گولی کھائیں گے، پاکستان بنائیں گے۔ " اب گزشتہ سڑسٹھ برسوں سے پاکستان بن جانے کے بعد سینوں پر گولیاں کیوں کھائی گئیں۔ اگر گولیاں کھانے کے لئے ہی یہ ملک بنایا تھا تو ہندوؤں سے کھا لیتے علیحدگی کس لئے اختیار کی تھی؟ ملکِ پاکستان ہمارے اکابر نے دس لاکھ سے زائد قربانیاں دے کر اور ایک لاکھ کے قریب عزت مآب عصمتیں لٹا کر اس لئے تو حاصل نہیں کیا تھا کہ اس کے حکمران شرابی، زانی اور بدکردار ہوں گے اور اس ملک کے ہر سرکاری اور پرائیویٹ شعبے میں استحصال ہوگا یہ ملک رشوت خوری اور سود خوری کے لئے نہیں بنایا گیا تھا یہ ملک سڑسٹھ سال تک کافر انگریز کے آئین کی اندھی تقلید کرنے کے لئے نہیں بنایا گیا تھا اسلام صرف عبادات (نماز، روزے، حج اور زکوٰۃ) کا مجموعہ نہیں ہے اس میں 80 فیصد سے زائد دیگر موضوعات، مثلاً سیاست، معاشرت، تجارت اور معیشت سمیت جیسے بہت سےمعاملات شامل ہیں اسلام سے ان تمام موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر رہنمائی ملتی ہے اور اسلام ان کے عملی نفاذ کا تقاضا کرتا ہے۔ عالَم اسلام کے تمام مسلمانوں کو باہم وحدت اختیار کرکے اپنے حالات کا معروضی لینا ضروری ہے، اس ضمن میں اہل علم و دانش پر، صاحبان اقتدار پر اور اہل ثروت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور باہم آگاہی پھیلانے کے حوالے سے ہر مسلمان ذمہ دار ہے۔ اسلام کا قانونِ شریعت کوئی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد والے مُلّا  کا قانون تھوڑی ہے بلکہ یہ آئین و دستور تمام انسانیت کے لئے تا ابد بہترین اور ایک مثالی نظامِ حیات ہے اس آئین کے خلاف بات کرنے والے منہ سنبھال کر بات کریں کہ آج اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں وہ اعلیٰ اقدار کی شقیں موجود نہیں ہیں جن کا عملی مظاہرہ اسلام چودہ صدیاں قبل پیش کر چکا ہے۔مسلمانو! اسلام کی خاطر اور اسلامیت کی خاطر کڑھنا اور عملی طور پر اس کے لئے کام کرنا شروع کردو تاکہ آپ کی آئندہ نسلیں ایک بہتر مستقبل میں زندگیاں بسر کر سکیں، اسلام کو خود پر اور ریاستی سطح پر نافذ کرنے میں ہی فلاح ہے، ورنہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن یہ درندے ہماری ہڈیاں بھی نوچ کھائیں گے۔

میں نے سناتھاکہ 2007 میں لال مسجدوالوں کےساتھ چودھری شجاعت کے مذاکرات ہوچکےتھے لیکن وزیراعظم شوکت عزیزکی قلفی کھانےکی مصروفیت نے آپریشن نہ رکوایا۔ لال مسجد والے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو نعوذباللہ باغی کہتے تھے وہ تو امام عالی مقام کو صحابی ماننے سے انکار کرتے تھے اور یزید لعنتی ملعون کو معاذاللہ 'رحمہ اللہ علیہ' کہتے ہیں لیکن "سائیلنس آپریشن" کو انہوں نے سانحہ کربلا سے تشبیہ دی اور امام عالی مقام کے دامن میں پناہ لی۔ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تعصب یہ نہیں کہ تو اپنی قوم سے محبت کرے تعصب یہ ہے کہ تو ظلم کرنے میں اپنی قوم کا ساتھ دے!!!
 ہمارے رویے کچھ اس قسم کے ہیں کہ کوئی جتنا زیادہ جاہل ہے وہ اتنا ہی زیادہ ہٹ دھرم اور متعصب ہے۔ ہم لوگ اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کیلئے ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے اور تعصب کی تعریف کے حوالے سے لوگ باگ،آقا کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان سے بےخبر ہیں اور سورۃ انفال جو دسویں جماعت کے نصاب میں تھی اس کے مطابق دشمن سے معاہدے والی آیت یاد نہیں۔
 جامعہ منہاج القرآن پر حملہ کرنے اور کروانے والوں پر اللہ کی لعنت! بےگناہ نہتے لوگوں پر دہشتگرد مافیا کی شہہ پر پولیس کاحملہ قابل مذمت ہے۔ جو اہلِ علم، علمی اختلافات کی آڑ میں منہاج القرآن پر حملے کی مذمت نہیں کرتے وہ خود قابلِ مذمت ہیں، وہ سب اپنی ہٹ دھرمی کے ساتھ جہنم میں جائیں ۔ اگر عیسائیوں پر حملوں کی مذمت کرنے سے مسلمان، کافر نہیں ہوتے تو جامعہ منہاج پر حملے کی مذمت کرنے سے بھی سب مسلمان ہی رہیں گے آج کے صحافی اور مولوی کے مشہور ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کسی مشہور و معروف شخصیت کو ہدفِ تنقید بنا لے اور خود بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائے لیکن کبھی کبھار ایسا نہیں بھی ہوتا یا شاید ممکن نہیں ہوتا، ممکن ہے کہ ایسا ممکن تو ہو لیکن دل گردہ اور پِتّہ ساتھ نہ دیتا ہو مثال کے طور پر محقق العصر علامہ مفتی محمد خان صاحب قادری، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے قائل رہے ہیں کسی مائی کے لال نے ان پر گمراہ یا کافر ہونے کا فتویٰ سٹیج پر نشر کیا ہو تو آگاہ کیا جائے! یہ سستی شہرت حاصل کرنے کا سنہری موقع مُلّا نے کیش کیوں نہیں کروایا کیونکہ ایک تو دوسری جانب علم کا سمندر ہے اور دوسرے اس معاملے میں پشت پر تھپکی دینے والے نہ ہونے کے برابر ہیں قبلہ مفتی صاحب نے میڈیا پر فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (حافظ سعید ) کے کام کو سراہا کسی نے کوئی فتویٰ دیا؟ آخر خود کو اُمّت کا مالِک سمجھنے والے مُلّا اس معاملے میں کیوں دُم دباتے نظر آتے ہیں بھئی یہ باتیں تو دوسرے فرقوں کے حق میں جاتی ہیں نکالو اپنا دائرہِ اسلام اور جتنے جی میں آئے لوگوں کو اُس میں سے خارج کر ڈالو۔
 رانا ثناء اللہ صاحب! آپ نے داتا دربار پر حملے کروائے عوام برداشت کرگئے آپ نے ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی کو شہید کروایا۔ اہلسنت وہ بھی برداشت کرگئےآپ نے جنوبی پنجاب کو پنجابی طالبان کا گڑھ بنا دیااس کا کوئی جواز ہے آپ کے پاس؟آپ وزیر قانون رہے ہیں یا وکیلِ دہشتگردی؟ اگر مسئلہ صرف بیرئیر اور نوگو ایریا کا ہے تو رانا صاحب! آئیے آپ کی آنکھوں پر لگی ہوئی پٹی اتاریں آپ کوشہرِ لاہور میں نون لیگ کے قبضے میں کوئی تجاوزات دکھائی نہ دے سکیں؟ آپ کو لیک روڈ لاہور پر حافظ سعید کا بکتر بند قلعہ نظر نہیں آتا جامعہ اشرفیہ اور منصورہ کے مراکز دیکھتے وقت آپ کی آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے؟ معروف قول ہے کہ جماعتِ اسلامی سے کارکن نکل جاتا ہے لیکن اس کارکن میں سے جماعتِ اسلامی کبھی نہیں نکلتی جس کا عملی مظاہرہ خواجہ سعد رفیق نے (جامعہ منہاج پر ظلم کرنے کے بعد) اپنا خبثِ باطن میڈیا کے سامنےبیان دے کر کِیا، ساری دنیا میں دہشت گردی کا نصف سے زیادہ کریڈٹ جماعتِ اسلامی (باقی دیگر دیوبندیوں،وہابیوں،سعودی ظالم حکومت، امریکہ بشمول اس کے اتحادیوں اور اخوان المسلمون)کو جاتا ہے۔ میاں شہباز اور میاں نواز کو یاد رہے کہ ظلم کی اخیر خدا کا بیر ہوتا (اَت خدا دا وَیر) ہے۔ آخر کب تک آپ فرعون کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوکر نہتے عوام اور اہلسنت کا قتل عام کرواتے رہیں گےکیا قیامت والے دن آپ اللہ کی عدالت میں حاضر ہونے سے بچ جائیں گے؟
 اہلسنت کے علماء اور پیر یہ بات ذہن نشین فرما لیں کہ اگر اب بھی اہلسنت اپنی اپنی تنظیموں کے تعصب کی وجہ سے انتشار کا شکار رہے تو آپ کی لاشوں پر نمازِ جنازہ ادا کرنے والا بھی کوئی زندہ نہیں بچے گامسلم لیگ( ن) کے حمایتی پیروں کیلئے بھی لمہ ءِ فکریہ ہے!!! سیاست میں ڈاکٹر طاہرالقادری سے یہ کارنامہ سرانجام ہوا ہے کہ وہ زمامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لے کر انقلاب کے خواہشمند ہیں، انقلاب صرف دل کی کیفیت کی تبدیلی کا نام ہے جو عقائد اور اعمال کی اصلاح سے ممکن ہوتا ہےصرف نعرے اور دعوے کرنے سے انقلاب نہیں آتے! اور عقائد میں اجتہاد نہیں ہوتا ایک تو سات صدیوں سے اجتہاد کادروزہ بند ہے۔ اما م احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مجتہد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ اجتہاد مسائل میں ہوتا تھا عقائد میں  تو یہ ممکن ہی نہیں (ممکن ہے اس بارے میری معلومات محدود ہوں، کیونکہ میں بھی علمی طور پر یتیم ہوں ناں!)۔
 خواب کے نام پر بیان کئے گئے بیانات)ان کی تحقیق کیلئے میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سی ڈی لایا ہوں، اور قانونِ ناموسِ رسالت کے اطلاق کی تحقیق کیلئے بھی، جس کے بعد انہیں ممتاز قادری کا دشمن اور سلمان تاثیر کا وکیل کہا گیا، وہ بنیادی طور پر ایک وکیل اور قانون دان ہیں اور ان کی بات قانون کا طالب علم درست انداز میں سمجھ سکتا ہے۔ میں تحقیق کے بعد اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر دوں گا۔ ان شاء اللہ) اور دیگر مظاہرے اوردھرنے وغیرہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا تمسخر اڑانے کیلئے مخالفین کے پاس مؤثر ہتھیار ہیں۔ کچھ لوگوں  کےبقول ،غازی ممتاز قادری کے موضوع پر پوری امت طاہرالقادری کی فریق ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طاہرالقادری کو حبِ جاہ نے بند گلی میں دھکیل دیا ہےانقلابی شخصیت کے حامل ڈاکٹر طاہر اب پیچھے ہٹنے کے نہیں لگتے کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منہاج (پاکستان عوامی تحریک) والوں کی اور نون لیگ دونوں کی اجتماعی خودکشی کے مترادف ہوگا۔لیکن اب اہلسنت کے مدارس کو دن رات سکیورٹی کا مسئلہ لاحق ہوچکا ہے۔کیونکہ خوارجی بھیڑئیے ہر وقت ظلم کا موقع ملنے کی تاک میں ہیں۔
میں نے 3 مارچ 1989ء کو ڈاکٹر طاہرالقادری کی اتفاق مسجد میں ہونے والی جمعہ کی آخری ڈیڑھ گھنٹے پرمحیط تقریر کی وڈیو دیکھی ہےجس میں وہ میاں محمدشریف، نواز اور شہبازوغیرہ کومنہ پر واضح طور کہتےہیں کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو کھڑے ہوکر تردید کردیں اُس تقریر کا لب لباب یہ ہے کہ ڈاکٹر نے شریف خاندان سے کبھی ایک روپیہ نہیں لیا اس تقریر میں ڈاکٹر طاہرالقادری کہتے ہیں کہ تنخواہ، ھدیہ، نذرانہ تو کجا! کبھی تحریک منہاج القرآن کیلئے بھی ایک ٹیڈی پیسہ اتفاق برادرز (شریف خاندان) یا حکومت سے نہیں لیا۔ نہ اُس خاندان کو کبھی کوئی سیاسی  فائدہ دیا اور نہ ہی کبھی کوئی مالی فائدہ لیا! البتہ دوبار قرض لیا تھا اور واپس کردیا تھا۔ ایک بار اپنے ذاتی کام کیلئے اور ایک بار تحریک کیلئے۔
 کسی جنگل میں چار بیل تھے ان کی نااتفاقی کی وجہ سے شیر سب کو کھا گیا۔ اب یا تو علماء اہلسنت طاہرالقادری کے معاملےپر اپنی حتمی رائے دیں ورنہ جو ممکنہ رعایت ہو اس کی گنجائش پیدا کریں تاکہ امت مخمصے سے باہر آسکے)کچھ علماء کا مؤقف سامنے آچکا ہے وہ ظالم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں)۔ اب آر یا پار کرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ حالات انتہائی نازک سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ مجھےخدشہ ہے کہ اگر اہلِ سنت مکمل طور پر غیر جانب دار رہے اور مارشل لاء بھی نہ لگا تو ادارہ منہاج کا نام دنیا سے مٹ جائے گا)یہ بات جون 2014ء میں لکھی گئی تھی(۔ اور پھر جامعہ فلاں، پھر جامعہ فلاں، اور پھر جامعہ فلاں.......یوں اہلسنت کا نام پاکستان سے سعودیہ کی طرح ختم ہوجائے گا(آج 2 اپریل 2015 کو اپڈیٹ کر رہا ہوں کہ اس سال جنوری میں ان بریلوی ملاؤں کے مدارس پر پولیس کے چھاپے پڑے تھے جو سانحہ منہاج القرآن کے بعد اس ظالم حکومت کی گود میں تھے، لیکن اب آکے وہ اسی حکومت کو ظالم ظالم کہہ رہے ہیں)۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا منہاج پر حملے سے خوارج کے سینے میں ٹھنڈ پڑی یا نہیں۔اہلسنت منہاج سے نہیں منہاج کی بنیادوں میں اہلسنت کا خون پسینہ تھا اس لئے خوارج سر چڑھ رہے ہیں، البتہ ڈاکٹر طاہر القادری اور پاکستان عوامی تحریک سے کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے اس کا فیصلہ وقت کر دے گا کہ کون ٹھیک تھا کون غلط۔۔
 نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے ظالم رفقاء اپنی اپنی اولاد پولیس سے قتل کروا کے قومی خزانے سے تیس تیس لاکھ روپے وصول کرلیں، لوگوں کے بچوں کو قتل کروانا ان ظالم بھیڑیوں کے لئے ایک کھیل کی سی حیثیت رکھتا ہے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو قتل کیوں نہیں کرواتے جو سب کے سب عیاشی میں بدمست ہیں۔ نوجوان نسل ان سب ظالم حکومتی لیڈروں پر اکٹھی لعنت بھیجے ان ظالموں کےلئے سڑ کوں پر نکلنے سے بہتر ہے کہ سکون سے اپنے گھروں میں بیٹھے، علم دین سیکھ کر اس پر عمل کرے اور فرقہ واریت (مطلب !قتل و غارت گری (سے پرہیز کرے حلال روزی کما کر اپنے گھر والوں کو کھلائے۔ اگر ان کتوں کو لگام نہ دی گئی تو نون لیگ کے ریاستی دہشت گرد ہر ایک سُنّی اور عوام کو قتل کرنا ایک مذاق سمجھ بیٹھیں گے اور ہر عام آدمی کے پاس تو پاور نہیں ہے کہ ان شریر کتوں کو پتھر مارسکے (جو لوگ نون لیگ کے ظلم سے محبت کرتے ہیں وہ مرنے سے پہلے اپنی چتا کو جلانے کی وصیت لکھ جائیں کیونکہ قرآن پڑھنے والے اور درود شریف پڑھنے والوں پر تو یہ ظلم اور درندگی کو جائز سمجھتے ہیں مولوی حضرات بھی ان ظالم درندوں کا سوشل بائیکاٹ کریں ان کے جنازے کوئی نہ پڑھے)۔
 ڈاکٹر طاہرالقادری سے اختلاف کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ حکومت کو تقویت دینے کیلئے بکواس کی جائے۔ مثال کے طور پر راولپنڈی یا اسلام آباد میں کوئی جلسہ یا کنونشن منعقد ہونےجا رہا تھا، وہاں غازی ممتاز دامت برکاتھم العالیہ کی رہائی کیلئے پاور دکھائی جانے والی تھی خدانخواستہ اگر وہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا تو اہلسنت کا ردعمل کیا ہوتا؟ کیا درندہ لیگ کےحکمرانوں نے غازی صاحب کو رہا کردیا ہے؟
 یوں لگتا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے پاکستان عوامی تحریک اور ڈاکٹر طاہرالقادری کا ایجنڈا صرف پاک فوج کی حمایت کرنا تھا۔انقلاب وغیرہ شاید ایسے نہیں آجاتے شاید آتے بھی ہوں  )جس طرح انقلابِ ایران 5 نومبر 1979ء برپا ہوا تھا(! لہذا نجدیت کے پیٹ میں مروڑ اٹھا اور انہوں نے حکومتی سرپرستی میں جامعہ منہاج القرآن والوں کو اہلسنت مان کر منہاج القرآن یونیورسٹی پر دھاوا بول دیا اور سُنی مولوی صاحبان، ڈاکٹر طاہرالقادری کی ذات میں سے کیڑے نکالتے رہے! بھئی مسئلہ یہ ہے کہ پولیس نے بھیڑیوں کی طرح بے گناہ لوگوں پر ظلم کیا ہے!!! مظلوم چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں ان پر ظلم ہوا ہے یہ حکومت، حکومت نہیں درندوں کا اکٹھ ہے مظلوم کی حمایت نہ کرکے مسلمان دنیا و آخرت کی ذلت خرید رہے ہیں۔ )ان پر بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی عذاب نازل ہورہے ہیں جوابھی تک ان کی سمجھ میں نہیں آسکے) اِس قدر ظلم کرنے کے بعد شریف خاندان کو جینے کا کوئی حق نہیں!!! شریف خاندان نے ظلم کروایا ہے لہذا اب فوج آ کر مارشل لاء لگائے اور ان ظالموں کو تمام خاندان کےساتھ جہنم واصل کرے! ورنہ یہ درندے آئےروز کسی نہ کسی کاخون پیتے رہیں گے۔ قتل کابدلہ قتل۔ رانا ثناء اللہ جیسے درندوں اور شریف خاندان کوقتل ہو جانا چاہئے۔ ان ناپاک درندوں سے یہ دھرتی پاک ہونی چاہئے۔

 اگر طاہرالقادری سڑک پر آکر کسی قانون کو ہاتھ میں لیتا یا اس کی جماعت کا بندہ کوئی توڑ پھوڑ کرتا تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل پھینکنا سمجھ میں آتے تھے)یہ جملہ بھی جون یا جولائی 2014ء میں لکھا گیا تھا لیکن حالات نے ثابت کر دیا کہ ڈی چوک اسلام آباد سے حرکت کرنے پر بغیر کسی قانون کے توڑے حکومت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے نہتے مظاہرین پر ظلم و تشدد کی حد کردی جس کی زد میں آکر درجنوں بے گناہ لوگ شہید ہوگئے اور میڈیا نے صرف تین شہادتیں اور صرف چند سو زخمی رپورٹ کیے۔ حیران کن بات ہے کہ پچیس ہزار مظاہرین پر پندرہ گھنٹے سے زائد عرصہ چالیس ہزار پولیس نے ایکسپائرڈ آنسو گیس کی شیلنگ کی، کیمیکلز کی طوفانی بارش کی، ربڑ اور حقیقی گولیوں کی بارش کی اور پندرہ گھنٹوں میں صرف تین شہادتیں ہوئیں۔ ڈاکٹرز نے گولی کو گولی کہنے سے بھی انکار کر دیا۔۔۔) اوئے کسی کے گھر میں جاکر بدمعاشی کروانے والے انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں!اور خاموش تماشائی بھی ظالم!ظالم کےساتھی بدرجہا ظالم! عذرِ گناہ بدتر از گناہ است! ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی ذات، سیاسی فلسفے اور سیاسی تحریک سے قطع نظر، مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور پولیس نے 17 جون 2014ء کو جامعہ منہاج القرآن ماڈل ٹاؤن لاہور، پاکستان میں پندرہ گھنٹے لائیو ، نہتے لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور اہلسنت نے حظ اٹھایا نجدیت کے دل میں ٹھنڈ پڑی۔
 تعصب نے قوم سے دل ِبینا چھین لیا اور پاگل وحشی بنا دیا! کیا یہی اسلام ہے کہ ہم سمجھ لیں کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی تحریک کے کارکنان کو برین واش کرکے پاگل بنا دیا تھا لہٰذا اُن کو ریاستی طور پر قتل کرنا حلال ہوگیا ہے؟ اگرہم کسی صاحب کےساتھ ملکر غازی ممتاز قادری صاحب کیلئے سڑک پر آتے ہیں تو مُلحد لوگ ہمیں پاگل قرار دیں گے تو کیا غازی ممتاز قادری کے دیوانوں، شمع رسالت کے پروانوں اور پاگلوں پر پندرہ گھنٹے ظلم روا ہے؟ ورنہ دوسری طرف کسی کے گھر جاکر ان پر ظلم کرنا کس طرح پاگلوں کو مارنے کا سرٹیفیکیٹ ہے؟
 یار لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری ہرگز مظلوم نہیں ہے! تو کون کہہ رہا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری مظلوم ہے؟ البتہ اس وقت وہ ایک مظلوم جماعت کا قائد ضرور ہے۔ میرے نادان دوستوں کو خوب معلوم ہے پھر بھی ہٹ دھرمی والی اکڑ باقی ہے!!! اور (محض تعصب کی بناء پر) مجھےڈاکٹر کا یار کہتےہیں کہتے رہو! مجھے اس سے چڑ ہو یا نہ ہو انہیں ضرورمحظوظ ہونا ہے۔ جناب والا! میں تو درندہ لیگ کے ظلم کےخلاف بات کر رہا ہوں تاکہ دوسرےانسان ان کی ظالم سرشت سے بچ سکیں سب انسان مذاہب سےپہلے انسانی حقوق رکھتے ہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تعصب کے بارے میں جو فرمایا اس کے خلاف ہٹ دھرمی اختیار کرنے پر قوم کی عقل ماری گئی ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ تعصب یہ نہیں کہ تو اپنی قوم سے محبت کرے، تعصب یہ ہے کہ تو ظلم کرنے میں اپنی قوم کا ساتھ دے۔
 ملالہ پر حملے کے خلاف اہلسنت کے 500 علماء کا فتوی آیا!!! اہلسنت عوام نے ملالہ کی مخالفت کی۔عوام ِ اہلسنت نے ممتاز قادری کے معاملہ پر منہاج کی بھی مخالفت کی۔ کون ملالہ؟ جس کے نظریات کافروں جیسے ہیں اس کے حق میں علماء اہلسنت کا فتوی آن دی ریکارڈ ہے!!!  دیوبندیوں کی تحقیق پر عوامِ اہلسنت نے ملالہ کی مخالفت کی۔ منہاج کے مقتولین کے حق میں فتویٰ کیوں نہیں آیا؟ کیا منہاج کے مقتول لوگ ملالہ سے بھی بدتر تھے؟
 کیا نون لیگ والے طالبان کے حمایتی نہیں ہیں؟ یا حکمرانوں کو خدا مان لیا گیا ہے؟ میرے نادان دوستوں کی سمجھ میں اتنا سا نکتہ نہیں آرہا کہ یہ ڈاکٹر طاہرالقادری پر طنز کرکے اپنا قیمتی وقت ضائع کرکے ظالم کی قوت کو تقویت دے رہے ہیں اور ظلم کی داستان ان کی بکواس کے نیچے دب گئی ظلم کسی مذہب کے ماننے والوں پر روا نہیں۔ اس ظلم سے ثابت ہو گیا ہے کہ قوم کے گھر محفوظ نہیں ہیں۔ میڈیا اور عوام کا جو رویہ ہے اس کی رو سے جتنا ظلم جامعہ منہاج القرآن میں ہوا ہے یہ تو فلم کا ٹریلر بھی نہیں بنتا!!! ان بے جس اور بے ضمیر لوگوں کو خود پر ہونے والی محض تنقید بھی برداشت نہیں ہوتی؟ اور دوسرے لوگوں پر قیامت کا ڈھایا جانا بھی ایک شغل میلہ لگتا ہے۔لعنت ایسی سوچ پر!!!
سن 2012ء کے اواخر میں میرا ذہن صرف اس بات پر رک گیا تھا کہ مسلمانوں نے گستاخانہ فلم کا کیا ردِّعمل کیا ہے؟ اور اب میرا ذہن اس بات پر اٹک گیا ہے عوام نے جامعہ منہاج القرآن پر ریاستی حملے کو ایک فلم کیوں سمجھ لیا ہے؟ ٹھنڈے ذہن سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ جب دہشت گردوں کے حملے ہوتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی لیکن جب ظلم کی کارروائی خود حکومت کے حکم پر اور نگرانی میں ہورہی ہو تو حکومت باقی کہاں رہ جاتی ہے، مینڈیٹ کہاں رہ جاتا ہے؟ کیا ایسے حکمران پھانسی پر نہیں لٹکا دینے چاہئیں؟
ہم نے بچپن میں گدھے پر چارہ وغیرہ ڈھویا ہے گدھا لکیر کا فقیر ہوتا ہے وہ ہمیشہ شارٹ کٹ پر عمل کرتا ہے اور کام چور ہوتا ہے بعض اوقات جفاکشی بھی دکھا جاتا ہے لیکن شاید گدھا تعصب سے پاک ہوتا ہے بعض اوقات تعصب میں ظلم کاساتھ دنیا انسان کا خاصہ ہے لیکن اکڑ گدھے والی ہوتی ہے!!! ہماری ذات پر کسی کے الفاظ کا حملہ ہماری لغت میں ناقابلِ معافی ہوتا ہے تو ایک درجن گھنٹوں سے زائد گولیوں اور گالیوں کی بوچھاڑ کیونکر بھول جانے والا واقعہ ہے ہم نے جابر حکمران کے خلاف حق کی آواز بلند کرنے کی بجائے محظوظ ہونے کے سوا کوئی قابلِ ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دیا ہمارا علاقہ پاکستان مسلم لیگ نون کا گڑھ ہے لوگوں نے اپنے ایمان نون لیگ کی جھولی میں ڈال کر ظلم پر خوشی کا اور جشن جیسا اظہار کیا ہے اب ان سب نے اپنا خدا اور سب کچھ نواز شریف اور شہباز شریف کو مان لیا ہے حالانکہ حقیقی طاقت اللہ کے پاس ہے اور اللہ ہی سب کا رب ہے(یہاں 13 اگست 2014ء کو مقامی سیاست دانوں نے اجلاس کرکے، میڈیا کے سامنے نون لیگ سے منحرف ہوکر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ یاد رہے یہی حلقہ وزیر اعظم نواز شریف کا ہے جس سے وہ ایم-این-اے منتخب ہوا۔ اور ابھی تک مینڈیٹ پر بضد ہے۔ حالانکہ اس کے حلقے میں نون لیگ کے لیڈرز اس کی جماعت سے نہ صرف بغاوت کر چکے ہیں بلکہ 13 اگست کو انہوں نے عمران خان زندہ باد اور طاہر القادری زندہ باد کے نعرے بھی لگائے جو آن ریکارڈ بات ہے!  گلو بٹ غنڈہ لیگ المعروف درندہ لیگ پر مسلم لیگ کا نام استعمال پر سپریم کورٹ پابندی لگائے!!!

اگر یہی حملہ منصورہ مرکز پر، جامعہ اشرفیہ یا مرکز قادسیہ پر ہوا ہوتا؟ اگر اسی طرز کا حملہ کسی شدت پسند فرقے کے کسی مرکز پر ہوتا تو ملک میں ایسی آگ لگتی جو بہت کچھ بھسم کر ڈالتی۔ آج سنُی چیتے اپنی کچھاروں میں بھی دبک کر نہ بیٹھ پاتے! آگ اور خون کا وہ سماں ہوتا کہ دنیا دیکھتی، اور کسی قسم کا باغی ان بپھرے ہوئے باغیوں کی ٹانگیں نہ کھینچتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان اتنا اعلیٰ ظرف ہو کہ اُس کی گفتار اور اُس کا کردار دیکھ کر دیگر اقوام مثبت تاثر لیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا ایجنڈا صرف پاک فوج کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنا تھا۔ درندہ بٹ گلو لیگ اور میرے سیاسی بصیرت سے بے بہرہ دوستوں نے اسے انا اور مذہب کا مسئلہ سمجھ کر نادانگی کی انتہا کردی۔ ہم عمران خان کے خلاف اس لئے نہیں بولتے کہ شاید وہ صرف سیاسی لیڈر ہے ورنہ ممتاز قادری کے بارے میں متنازع بیان وہ بھی دے چکا ہے(عمران کی سیاسی جدوجہد سے کس کو انکار ہے اُس بندے نے اِس قوم کو ایک ولولہ تازہ دے دیا ہے)۔
میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف کتنی بکواس کرتا رہا ہوں؟ لیکن اہلسنت کے علماء نے ڈاکٹر موصوف کو کبھی کافر نہیں کہا! کیوں؟ کیونکہ علماء کی بصیرت گہری ہے اس کا جواب علماء ہی دے سکتے ہیں!!! ممکن ہے کہ ابھی تک ان کے دل میں نرم گوشہ ہے لیکن جن مُلَّاؤں کے پیٹ میں زیادہ سخت مروڑ ہے وہ ایک ہی بار ڈاکٹر طاہر کے بارے میں کفر کا فتویٰ دے کر گھر کیوں نہیں بیٹھ جاتے! شاید وہ ڈاکٹر کی اصلاح چاہتے ہیں اور اسے آج بھی اہلسنت کا سرمایہ مانتے ہوں یا ان کے دل میں کوئی ایسی بات ہو جس کا مجھے اندازہ نہیں کہ وہ ڈاکٹر کو اپنا کیوں سمجھتے ہیں یا مخاصمت کیوں رکھتے ہیں !!! ممکن ہو تحقیق کی کمی ہو ! یا انہیں اس بارے میں صَرف کرنے کیلئے  اتنا وقت نہ ملا ہو یا کوئی غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہوں یا غلط خبریں)ممکن ہے صحیح خبریں غلط طریقے سے) بہم پہنچائی گئی ہوں۔
 سیاسی کہانی یہ ہے کہ سارے شعبدہ باز خفیہ ہاتھوں کے اشارے پر تماشا کرتے ہیں اور خفیہ ہاتھ ان کٹھ پتلیوں کو کبھی بھی اقتدار نہیں سونپتے، بلکہ پچھلے سال خفیہ ہاتھوں نے عمران خان کو بھی بادشاہ نہیں بننے دیا تو ڈاکٹر طاہرالقادری کیلئے کیسے ممکن ہے۔ لیکن درندہ لیگ کے حق میں جانے والی تنقید ظلم کاساتھ ہے۔۔۔ میں 18 جون2014ء سے درندہ لیگ کی درندگی کے خلاف میسیج لکھ کر بھیجتا رہا اور میرےدوست احباب، ڈاکٹر طاہرالقادری کی ذات کے خلاف اپنے تعصب کی بناء پر، پُرانے کیڑے نئی محنت سے نکال نکال سامنے لاتے رہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے بارے میں مذہبی طور پر جتنا شدید ردعمل میرا رہا ہے ہے سب دوستوں کو معلوم ہے! آپ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں یہ کیا بات ہوئی کہ حکومت، رات کے پچھلے پہر پاگل کتوں کی طرح اپنے شہریوں کو قتل کرنا شروع کردے! شہری کوئی سے بھی ہوں! ریاستی ظلم روا نہیں! اگر ظلم کسی دہشت گرد کی جانب سے ہو تو حکومت اور عدالت سے انصاف مانگا جاتا ہے اور اگر ظلم حکومت ہی طرف سے کیا جائے تو کسے وکیل کریں؟ کس سے منصفی چاہیں؟ اگر جامعہ منہاج القرآن اور اسلام آباد میں نہتے مظاہرین پر ظلم روا ہے تو فلسطین میں کیوں جائز نہیں؟ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت کیوں کی جاتی ہے؟ اگر کافر کرے تو ناجائز اگر مسلمان کرے تو جائز؟ کیوں؟ کس منطق اور فلسفے کے تحت یہ ہٹ دھرمی اپنائی جارہی ہے؟

 قرآن پاک میں جابجا اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ کافروں کے دلوں پر ہٹ دھرمی کی وجہ سے مہر لگا ئی گئی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ میرے ساتھیوں کے ساتھ ہوا کہ یہ ڈاکٹر طاہر القادری کے تعصب میں اتنا آگے نکل گئے ہیں کہ اب انسانیت کا احساس بھی ان کے دلوں سے ختم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے ۔ ان کے ذہنوں پر بس ڈاکٹر سوار ہے۔۔۔ ڈاکٹر خطرے کی گھنٹی ہے!!! ڈاکٹر پاکستان آکر ان کے عہدوں پر قبضہ کرلے گا۔ ان کی بجائے (کیا پدی کیا پدی کا شوربہ) میڈیا، اس کی کوریج کرے گا۔ ڈاکٹر یہ! ڈاکٹر وہ! صبح ڈاکٹر! شام ڈاکٹر! سوتے جاگتے میں اس کا خیال۔۔۔ وہ حواس اور عقل پر چھا گیا۔ طاہر القادری آگیا۔۔۔

میں کٹر سنی بریلوی اس وقت ہوا تھا جب میں نے حجۃ الاسلام مفتی ابوداؤد محمد صادق رضوی کی تنقیدی کتاب خطرے کی گھنٹی ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف پڑھی۔ لیکن انہوں نے وہ خواب والا بیان لکھ کر کافر نہیں کہا جبکہ ایک عام سے مسلمان کا ایمان اجازت نہیں دیتا کہ وہ اُس وڈیو کو دیکھ سن کر ڈاکٹر کے بارے میں سخت رد عمل نہ کرے (اب میں ان خوابوں اور بشارتوں کے حوالے سے ڈاکٹر کی علمی محاکمے والی سی ڈی لایا ہوں دیکھئے کیا سمجھ میں آتا ہے۔ ان شاء اللہ میں وہ نکتہ نظر ضرور بیان کر دوں گا۔ اپڈیٹ یہ ہے کہ میں نے وہ چار گھنٹے سے طویل تقریر سی تھی اس کے بعد میرا ذہن اس معاملے پر صاف ہوگیا تھا۔ واللہ اعلمیار لوگ ریاستی درندگی کو جائز کہتے ہیں۔ مجھے ایک ہفتے سے زیاد وقت ہوگیا تھا یہ کہتے ہوئے کہ حکومت کے کتوں کے منہ کو خون لگ چکا ہے اب وہ سب کو چیر پھاڑ کر سب کا خون پئیں گے اس کا عملی مظاہرہ اسلام آباد میں23 جون 2014ء کو کیا گیا کہ حکومتی کتوں نے پاکستان عوامی تحریک کارکنوں کا عرصہ حیات تنگ کردیا اور پولیس کو مظلوم بتا دیا! جس کے پاس پاور ہو وہ سارے ثبوت پیدا کرکے مخالف فریق کو جھوٹا بنا دیتا ہے اور جوکوئی صاحبانِ اقتدار کے رحم و کرم پر ہوں ان پر رحم ہونا چاہئے تاکہ حکمرانوں پر اللہ رحم فرمائے جس کے پاس طاقت ہے اسے قتلِ عام کا لائسنس نہیں دیا جانا چاہئے
 یہی میرا نکتہ نظر ہے کیا اہل علم و دانش کسی مظلوم کے حق میں اسی لئے بولنے سے پرہیز کریں کہ مظلوم کے قائد کےساتھ ہمارا نظریاتی اختلاف ہے اس قسم کے اہل علم و دانش خود اس ظلم میں برابر سے زیادہ شریک ہیں کیونکہ وہ ظالم کو نہتے لوگوں کے خون سے کُھل کھیلنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ سختی کےساتھ تو کوئی ایک گلی کے لوگوں پر حکومت نہیں کرسکتا،حکومت کو اندرونی اور بیرونی جانب سے بہت دباؤ ہوتا ہے۔حکومت کیلئے رعایا اولاد کی طرح ہوتی ہے!!! جو حکومت رات کے وقت اپنی بے گناہ رعایا پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اس پر اللہ کی لعنت! اور مظلوم کامذاق اڑانے والوں پربھی، حد تو یہ ہے کہ مقدمے بھی مظلوم لوگوں پر ہوئے۔
 طالبان نے کئی سالوں سے قوم کا جینا حرام کردیا تھا اُن کے معاملے میں کئی سال کا ظلم شامل ہے اور سب کچھ قوم کے سامنے اعلانیہ ہوا۔ ان کے ساتھ مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور امن کو "ایک موقع" دیا جاتا ہے۔ آج وہاں لاکھوں متاثرین ہیں لیکن قوم آپریشن کو اپنے لئے نجات کا باعث سمجھتی ہے! جبکہ پر امن تحریک کے دفتر پر پاگل کتوں کی طرح حملہ کردینا حکمرانوں کی موت کے سوا کچھ اور نہیں! یہاں بیریئر ہٹانے کیلئے مذاکرات کیوں نہ کیے گئے اور امن کو ایک اور موقع کیوں نہ دیا گیا۔ ظلم آخر ظلم ہے ہم منہاج القرآن کے معاملے کو کربلا سے ہرگز تشبیہ نہیں دے سکتے لیکن کربلا میں نہتی عورتوں کو شہید نہیں کیا گیا۔ میں پھر لکھتا ہوں کہ لال مسجد والے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو نعوذباللہ باغی کہتے تھے لیکن "سائیلنس آپریشن" کو انہوں نے سانحہ کربلا سے تشبیہ دی اور امام عالی مقام کے دامن میں پناہ لی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کےقافلےکوروک کر شہیدکیاگیا تھا آپ رضی اللہ عنہ کسی میدانِ جنگ میں لڑنے کیلئے تو نہیں گئےتھے ناں! لیکن جب حملہ ہوگیاتو جتنا دفاع کر سکے روز لگا کے دفاع فرمایا۔ پھر ساری قوم خاموش ہوگئی۔ لیکن مختار ثقفی کی للکار کے بعد قوم کو ہوش آیا اور ظالموں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔
 کوفی ہونے کی اصطلاح دو طرح سے ہے ایک بےوفا کوفی جنہوں نے حضرت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ سے بے وفائی کی۔ دوسرے حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے کوفی! ہم حنفی کوفی ہیں۔ ہم پہلے والے غدار کوفی نہیں! ہم حسینی کوفی ہیں! ہم ہرگز یزیدی کوفی نہیں! ان شاء اللہ قوم کو ایک دن جاگ آجائے گی ۔ واللہ عزیز ذوانتقام۔ہٹلر کو تاریخ میں سب سے بڑا قاتل کیوں گردانا جاتا ہے؟ کیونکہ اس نے اپنی رعایا کے لوگوں کو قتل کروایا چاہے وہ یہودی تھے یا جو بھی تھے سوال یہ ہے کہ اپنی رعایا کو کیوں قتل کروایا عورتوں کو فرعون بھی قتل نہیں کرواتا تھا لیکن درندہ لیگ کے گلو بٹوں نے عورتیں کو بھی قتل کیا بلکہ شہید کیا۔