مشاہیر اسلام کی سوانح عمریاں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مشاہیر اسلام کی سوانح عمریاں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 27 اگست، 2018

قومی رہنمائی کے ”نظریات“ عبدالرزاق قادری

      

ہمارے دوست ملک تحسین حیات جو کہ جھنگ کے نواحی شہر اٹھارہ ہزاری سے تعلق رکھتے ہیں گزشتہ روز میرے پاس تشریف لائے اور اپنے ہمراہ ایک کتاب لائے  یہ کتاب کیا ہے اور اس کے مندرجات کیا ہیں اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے، میں چاہوں گا کہ اس سے پہلے ملک صاحب کا تعارف کرا دوں، تحسین صاحب 2013ء کے دسمبر میں لاہور تشریف لائے تو داتا دربار سے باہر ان کی ملاقات زید مصطفیٰ سے ہو گئی اور فروری 2014ء میں زید نے مجھے کال کر کے بتایا کہ ایک صاحب آئیں گے ان سے ملاقات کر لینا، میں نے پہلی ملاقات میں ملک تحسین کو چائے پلائی اور اپنے ایک مضمون کی کاپیاں اور ایک کتاب ”الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں “انہیں دے دی،  پھر گاہے گاہے ملاقات ہوتی رہی اور انہیں لاہور میں ایک پرائیویٹ فرم میں کام مل گیا وہ ایک سال سے زائد عرصہ لاہور میں  رہے اور اکثر داتا دربار حاضری دیتے رہے اس دوران میں وہ میرے تقریباً تمام دوستوں سے بھی ملے اور ماہنامہ نوائے منزل لاہور میں کے لیے کچھ مضامین بھی لکھتے رہے۔ ان کے مشاغل میں کتابیں خرید کر یا مفت تقسیم ہونے والی کتابیں حاصل کر کے اپنے علاقے کے عوام الناس تک بانٹنے کا شوق شامل ہے، وہ اپنےشہر میں کئی مذہبی تقاریب منعقد کرتے رہتے ہیں اور انجمن طلباء اسلام کے ذمہ دار بھی رہ چکے ہیں گزشتہ برس (2017ء) میں وہ سٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ کے ضلعی صدر منتخب ہوگئے اور اب اس کے ایک فعال کارکن بھی ہیں اور وسیع حلقہ احباب رکھتے ہیں ان کی یہی لگن  انہیں لاہور، راولپنڈی ، سرگودھا اور دیگر شہروں میں سیر و تفریح کرنے کے لیے لے جاتی ہے لہٰذا وہ اپنے دوستوں کو کتب کے تحفے پیش کرتے رہتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ان کی حالیہ پیش کردہ کتاب کے مصنف کون ہیں اور اس کتاب کے مندرجات کیا ہیں اور وہ کیا محرکات تھے کہ جن کی بدولت مصنف نے ایک کتاب کو لکھا اور مجھے اس کے تعارف کے لیے یہ تحریر لکھنا پڑی۔
 


         جنابِ شہیر سیالوی جن کا آج کل اخبارات، سوشل میڈیا اور ٹی وی پر چرچا ہے ایک طالبعلم رہنما ہیں انہوں نے اپنے تعلیمی دور میں نوجوان طلباء میں اسلامی روح کو کم ہوتے دیکھا اور محسوس کیا کہ اگر اس امت کے نوجوانوں میں بقولِ اقبال ”روحِ محمد ی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم“ نکال دی گئی تو  پھر یہ چلتے پھرتے مسلمان تو ہوں گے لیکن نظریات سے خالی ہوں گے جیسا کہ متحدہ ہندوستان پر جب ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے قدم گاڑھ چکی تھی تو انہوں نے مقامی لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیے جو اقدامات کیے تھے ان میں سے ایک  تعلیمی مشن لارڈ میکالے لے کر آیا، اس نے ایک تاریخی جملہ کہا تھا کہ اس نطامِ تعلیم سے تربیت پانے کے بعد ہندوستانی لوگوں کا خون اور جسم تو  مقامی ہوگا لیکن اس میں سوچ فرنگی ہوگی اور وہ انگریزوں کی سوچتے ہوں گے پھر چشم فلک نے دیکھا کہ مغربی طرز کی تعلیم نے برِصغیر کے مسلمانوں کو محض پینٹ کوٹ والے بابو بنا دیا، لیکن اسی سر زمین میں سے چند رہنما پیدا ہوئے  جنہوں نے پھر سے اس قوم کو اپنی آزادی حاصل کرنے  کی جدوجہد میں مصروف کر دیا اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر دنیا اسلام کی اس وقت کی سب کی بڑی مملکت خداداد کو قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
             یہ رہنما کون تھے ان کے متعلق ہمارے طلباء اپنے تعلیمی نصاب میں بہت کچھ پڑھ آئے ہیں لیکن ہمارے کچھ ہیروز اور قائدین ایسے بھی تھے جن سے یہ قوم ناآشنا ہے یا شاید صرف نام کی حد تک متعارف ہے  قوم کی اس محرومی کو دور کرنے لیے اس جواں سال قائد نے جہاں کالجز اور یونیورسٹیز میں سیمینارز کرائے وہاں انہی نظریات کی بقا اور حفاظت کے لیے سڑکوں  پر ریلیاں بھی نکالیں اور اپنی ایک جماعت سٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ کا قیام عمل میں لے کر آئے، پھر اسی خونِ مسلم کوگرمانے کے لیے اور ان کی نظریاتی بنیاد کومضبوط کرنے کے لیے ایک  کتاب تصنیف کی ہے جس کا عنوان ”نطریات“ رکھا ہے اوراسے تعلیمی اداروں میں مفت تقسیم کرنے کا شرف حاصل کیا ہے ایک سو صفحات پر محیط یہ کتاب تاریخِ اسلام کے ہیروز کی صحیح معنوں میں نمائندگی کرتی ہے اور طلباء کے اذہان کو اسلامی ہیروز کی تاریخ سے روشناس کرتی ہے اور ساتھ ساتھ ان کے قلوب کو معطر و منور کرتی ہے۔پیش لفظ میں شہیر سیالوی نے اپنے ساتھ چلنے والے ابتدائی نوجوان طلباء کو یاد رکھا ہے اور ان کا شکریہ ادا کیا ہے اس کے علاوہ نظریہ کی تعریف اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے روشن پہلوؤں کو اپنی تصنیف کے آغاز میں جگہ دی ہے۔ خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سوانح عمریاں لکھنے کے بعد حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال، حضرت داتا علی ہجویری، خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو بیان کیا ہے۔ غازیانِ اسلام میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، طارق بن زیاد، محمد بن قاسم، نورالدین زنگی، سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان محمود غزنوی کے علاوہ ٹیپوسلطان کے تذکرے موجود ہیں جو خوابیدہ قومِ مسلم کو ان کے تابناک ماضی کے جوانمردوں کے حوصلے اور عظیم کارناموں سے شناسا کرتے ہیں۔ اس کتاب میں ایک اہم موضوع گستاخِ رسول اور اس کی سزا پر بھی مفصل گفتگو کی گئی ہے، جس میں صحابہ کرام اور اہلِ بیت عظام رضی اللہ عنہم کے دیگر کئی واقعات بھی موجود ہیں اور اسلامی عدالتی نظام کی جھلکیاں نظر آتی ہیں ۔ کتاب کے آخر میں فلسطین و کشمیر اور قیام پاکستان پر روشنی ڈالی گئی ہے،  اور ہمارے تعلیمی نظام اور بچوں کی تربیت پر سیر حاصل بحث بھی شامل ہے۔

         کتاب کے اختتامیہ میں لکھتے ہیں کہ

         ” مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں اس خام مال (نوجوان نسل) کو سیاسی جماعتیں اپنے مفادات اور مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں، قائد اعظم نےنوجوانوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ کسی سیاسی جماعت کا آلہ ٔ کار بننے کی بجائے ریاست کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہیں، اس لیے ہمیں سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو اندھا دھند فالو نہیں کرنا ہے“
         یہ کتاب کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات کے لیے ایک بیش بہا تحفہ ہے جو قیمتاً بھی میسر ہو تو ضرور لے لینا چاہیے بہرحال اس کتاب کو مفت حاصل کرنے کے لیے تعلیمی ادارے سٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتے ہیں، دُعا ہے کہ اللہ عزوجل جنابِ شہیر کو دین و دُنیا کی برکتوں سے مالا مال فرمائے اور امت مسلمہ کی صحیح معنوں میں رہنمائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے وہ اپنے نیک عزائم کو ہمیشہ ساتھ لے کر چلتے رہیں اور قوم ان کی رہنمائی میں ترقی کی منازل طے کرتی رہے۔ آمین

جمعہ، 23 دسمبر، 2016

مولانا احمد رضا خان قادری۔ از اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور

رضا خان: مولوی احمد رضا خان بریلوی نسباً پٹھان، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ ان کے والد ماجد نقی علی خان (م 129ھ/1880ء) اور جد امجد رضا علی خان (م1282ھ/1865۔66ء) عالم اور صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔ احمد رضا خان کی ولادت 10 شوال المکرم 1272ھ/ 14 جون 1856ء کو بریلی (اتر پردیش، بھارت) میں ہوئی (تذکرۂ علمائے ھند، ص 9 تا 15، 64، 244)۔ محمد نام رکھا گیا اور تاریخی نام المختار (1272ھ) تجویز کیا گیا جد امجد نے احمد رضا نام رکھا؛ بعد مین خود مولوی احمد رضا خان نے عبدالمصطفی کا اضافہ کیا (حدائق بخشش، ص 80؛ کرامات اعلیٰ حضرت ص8)

اتوار، 3 اپریل، 2016

Qari Muhammad Ahmad Bakhsh Multani

قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: عبدالرزاق قادری

ضلع وہاڑی کے صدر مقام کے نواح میں ایک قصبے کا نام ”لڈن“ ہے۔ لڈن میں  ایک خاندان خدمتِ قرآن مجید کے حوالے سے مشہور ہے۔ان میں قاری عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ، قاری حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، قاری اللہ رکھا صاحب اور قاری عارف صاحب کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اسی خاندان میں سے ایک اور عظیم نام قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے لاہور میں وہ ”وڈے استاد جی“ یعنی بڑے استاد جی کے نام سے معروف تھے۔ آپ  کی پیدائش قیامِ پاکستان سے قبل ہوئی اور آپ نے نوعمری میں 15 ماہ کے قلیل عرصہ میں مکمل قرآن مجید حفظ کیا۔ شاہ بخش صاحب ملتانی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے پیر و مرشد تھے آپ نے ایک عرصہ ان کی خدمت میں گزرا ، انہی کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ ”ملتانی“ لکھتے رہے۔
    حفظِ  کرلینےکے بعد کچھ عرصہ تک آپ نے قرآن مجید کی تدریس فرمائی پھر کوئی دوسرا شعبہ اختیار کرنا چاہتے تھے لیکن اپنے شیخِ مکرم رحمۃ اللہ علیہ  کی خواہش اور ان کے حکم پر دوبارہ قرآن پاک پڑھانے میں مشغول ہوگئے اس نیک کام کا آغاز تقریباً 1956ء سے ہوا، آپ جامعہ نظامیہ رضویہ(اندرون لوہاری گیٹ) لاہور میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو ”یسرناالقرآن“ قاعدہ پڑھاتے تھے اور قاری حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے چچا زاد بھائی) قرآن مجید کی کلاس سنبھالتے تھے باقی شعبہ جات دوسرے علماء کرام کے پاس تھے، قاری حنیف صاحب کو جامعہ نظامیہ رضویہ تک لے کر جانے کا سہرا علامہ مولانا محمد علی نقشبندی (بانی جامعہ رسولیہ شیرازیہ) کے سر ہے۔ قاری محمد احمد بخش ملتانی نے تقریباً چودہ برس تک جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کا فریضہ سرانجام دیا آپ کے شاگردوں میں کئی جید علماء کرام کے نام شامل ہیں۔
    بڑے استاد جی نے دربار شاہ محمد غوث رحمۃ اللہ علیہ (سرکلر روڈ) کے ساتھ ملحقہ مدرسہ میں چند سال قرآن پاک پڑھایا پھر  داتا دربار اور بھاٹی گیٹ کے درمیان میں واقع جامعہ حنفیہ غوثیہ میں  1992ء تک تدریس فرمائی ۔ اسی دور میں داتا دربار کمپلیکس کی توسیع ہوئی اور جامعہ حنفیہ غوثیہ کو وہاں سے ہٹا دیا گیا لیکن اللہ کی قدرت دیکھیے کہ ایک نیک صالحہ خاتون ”عنایت بی بی“ نے  دربار کی عقبی جانب کچا رشید روڈ پر ” جامعہ حنفیہ عنایت صدیق “ قائم کروا دیا تھا اور استاد جی یہاں منتقل ہوگئے اور آخری دم تک اسی جامعہ  کے مہتمم اعلیٰ رہے۔
میں نے جامعہ عنایت صدیق میں سن 2001ء کے اوائل میں حفظِ قرآن  کے لیے داخلہ لیا مجھے جامعہ میں داخل کروانے کی سعادت میرے ابو کے ایک جاننے والے محمد سعید عالم کے حصے میں آئی، انکل سعید داتا دربار کے قریب بابا فرید روڈ پر  ایک گرم حمام چلاتے تھے اور وہ خود ایک بہترین حجام تھے  میرے ابو  کو شاید  معلوم تھا کہ یہ صاحب اس مدرسے کے استادجی کے واقف کار ہیں لہٰذا انکل سے رابطہ کیا گیا انہوں نے  بڑےاستاد جی سے بات کی اور داخلہ ہوگیا جو کہ پہلے مسترد ہوچکا تھا، جناب محمد سعید عالم 8 اپریل 2013ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے، تاہم میں  اُن کا یہ داخلے والا احسان کبھی نہیں چُکا سکتا۔ ان کے بیٹے  حافظ ایثار عالم آج بھی وہ دوکان چلا رہے ہیں اور میرے گہرے دوست ہیں۔ میں سن 2004ء اواخر تک اس جامعہ میں پڑھتا رہا، میرے اُستاد جی قاری محمد صدیق احمد صاحب ہیں آپ ، قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے  اور قاری محمد خلیل احمد صاحب  چھوٹے بیٹے ہیں۔ بڑے اُستادجی نے اپنی  بیٹوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے آراستہ کیا اور وہ بھی خدمتِ قرآن میں  مصروف رہے۔ میں نے بڑے اُستاد جی سے تقریباً چار مرتبہ سبق  پڑھاہوگا اور قاری خلیل صاحب سے بھی کئی مرتبہ سبق پڑھا تھا لیکن میں باقاعدہ قاری محمد صدیق احمد صاحب کی کلاس میں پڑھتا رہا اور انہی کے پاس  حفظِ قرآن پاک مکمل کیا۔
بڑے استاد جی کی زندگی کے تقریباً ساٹھ شمسی سال خدمتِ قرآن میں بسر ہوئےجو اپنی قبولیت کی سند آپ ہیں۔ آپ کو با آوازِ بلند سنائی دیتا تھا لیکن مجال ہے کہ کبھی کوئی طالب علم آپ کو قرآن مجید کا سبق سنا رہا ہو اور وہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی کرجائے حتیٰ کہ کبھی بھی ع،غ یا شین، قاف کے مخرج کی ادائیگی میں بھی کوتاہی  نہ ہونے دیتے۔ آپ ہر طرح کے تجوید کے قواعد کی پابندی کرواتے مثلاً غنہ، مد، ادغام، اقلاب، اخفا اور اظہار کو نظر انداز کرکے آپ کو قرآن پاک کا سبق نہیں سنایا جاسکتا تھا ۔ آپ نے ایک سادہ زندگی بسر کی اور پوری دلجمعی سے اپنے کام میں مگن رہے آپ کے ابتدائی شاگردوں میں قاری عبدالعزیز، قاری لیاقت علی، قاری محمد اسلم (انگلینڈ)، شیخ محمد اسماعیل( اعظم کلاتھ مارکیٹ لاہور)، حافظ محمود اختر، حافظ محمد طاہر، قاری عطا محمد (سمن آباد لاہور)، قاری سید عاشق حسین شاہ اور موہنی روڈ سے تعلق رکھنے والے صداقت علی کے علاوہ دیگر کئی حفاظ اور قاریوں کے نام ہیں۔
قاری محمد احمد بخش ملتانی نے صحیح معنوں میں اپنی جوانی کو قرآن پاک کی تدریس کے لئے صرف کیا اور محنتِ شاقہ کے ساتھ بہترین حفاظ کرام کے گلدستے اس قوم کی نذر کیے۔ میں نے آپ کی آخری زیارت 2015ء والے عرسِ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ کے موقع پر کی تھی ، سن 2016ء کی 23 جنوری کو آپ کا وصال ہوگیا  اور آپ اپنے آبائی قصبے ”لڈن“ میں آسودۂِ خاک ہیں، اللہ عزوجل آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے۔

جمعرات، 3 دسمبر، 2015

ڈاکٹر محمد ہارون برطانوی نومسلم پروفیسر

ڈاکٹر محمد ہارون متوفیٰ: 1998ء (پیدائشی نام: Alfred Neville May) کیمبرج یونیورسٹی کے فاضل (پی ایچ ڈی) اور ایک نو مسلم تھے۔ وہ 1944ء کو لیور پول, برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1970ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی پھر 1988ء کے دوران 44 سال کی عمر میں عیسائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کے بارے میں ایک درجن سے زائد کتب لکھیں۔ رضا اکیڈمی (برطانیہ) نے ان کی کتابوں کو شائع کیا اس کے علاوہ رضا اکیڈمی کے ترجمان 'دی اسلامک ٹائمز' میں ڈاکٹر صاحب کے کئی مضامین بھی چھپتے رہے۔ دراصل رضا اکیڈمی انٹرنیشنل کے بانی پیر محمد الیاس کشمیری کی ترغیب پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے قبولِ اسلام کی وجوہ پر مبنی پہلی کتاب لکھی پھر یہ سلسلہ چل نکلا، ایک عرصے تک ڈاکٹر صاحب رضا اکیڈمی کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ ان کی کچھ کتابیں (انگریزی، اردو) آن لائن دستیاب ہیں۔ ذیل میں ان کی چند کتب کے عنوانات درج ہیں۔

1۔ امام احمد رضا خان بریلوی کی عالمی اہمیت 1994ء
2۔ مسلمانوں میں وحدت کیسے قائم کی جائے
3۔ حزب التحریر کے بارے میں مسلمان کے لئے ایک انتباہ
4۔ اسلام کا سماجی ڈھانچہ: روایتی اسلام میں معاشرے کی نوعیت
5۔ سورہ یسین (ترجمہ)
6۔ غوث اعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کی عالمی اہمیت 1995ء
7۔ میں نے اسلام کیوں قبول کیا 1990ء
8۔ خدا کی حکمرانی: جدید دنیا کے مسائل، سنی اسلام کے جوابات 1994ء
9۔ امام احمد رضا بریلوی کی اصلاحی حکمتِ عملی 1997ء
10۔ اسلام اور تصورِ ریاست 1997ء
11۔ اسلام اور خواتین 1995ء
12۔ اسلام اور سزا 1993ء
13۔ اسلام اور شراب 1994ء
14۔ امام احمد رضا خان بریلوی (رحمۃاللہ علیہ) کے 1912ء کے چار نکاتی پروگرام کی اہمیت اور اس پر لائحہ عمل 1996ء
15۔ قرآن کی اہمیت اور حقیقت 1994ء
16۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (حضور نبی کریم کی سالگرہ) 1994ء
17۔ میں نے اسلام کیوں قبول کیا 1990ء (اشاعتِ اول)
18۔ اسلام اور سائنس کی حدود 1995ء
19۔ امام احمد رضا خان کی عظیم کاوشیں 2005ء

کتابیں مفت ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کریں۔
  1. انگریزی How to Achieve Muslim Unity: https://yanabi.files.wordpress.com/2009/01/unity.doc
  2. انگریزی World Importance of Ghaus al Azam Hazrat Sheikh Muhyiddin Abdul Qadir Jilani 1995 : http://tableeghseerat.com/English%20Books/Life%20Of%20Ghaus%20-E-Azam.pdf
  3. انگریزی Importance of the 1912 Four-Point Programme of Imam Ahmad Raza Khan Barelvi (Rahmatullahi Alaih) and How to Carry it Out 1996 : http://www.yanabi.wordpress.com/files/2009/01/4point-plan.pdf
  4. انگریزی ISLAM AND ALCOHOL : http://www.spiritualfoundation.org.uk/index.php/academic/146-islam-and-alcohol
  5. انگریزی The World Importance of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi : http://afkaremuslim.blogspot.com/2013/08/the-world-importance-of-imam-ahmed-raza.html
  6. اردو، امام احمد رضا خان قادری بریلوی کی عالمی اہمیت : http://afkaremuslim.blogspot.com/2013/05/the-world-importance-of-imam-ahmed-raza.html
  7. اردو، اسلام اور سائنس کی حدود :
  8. http://books.nafseislam.com/details.php?book_id=3063&book=islam-aur-science-ke-hadood
  9. اردو، اسلامی ریاست کا تصور :
  10. http://books.nafseislam.com/details.php?book_id=2741&book=islami-rayasat-ka-tasawwurr
  11. اردو، میں نے اسلام کیوں قبول کیا :
  12. http://www.marfat.com/BookDetailPage.aspx?bookId=b1b99920-de74-4025-9b77-efd8dd022681
  13. اردو، امام احمد رضا خان کی عظیم کاوشیں :
  14. http://www.marfat.com/BookDetailPage.aspx?bookId=7c5145df-9c95-4046-bed7-5ad64e722d38


نوٹ: اردو، انگریزی اور ہندی ویکیپیڈیا پر ڈاکٹر صاحب کی سوانح عمری کا مضمون میں نے لکھا ہے اور میرے پاس رضا اکیڈمی اور ڈاکٹر مرحوم کی مزید کتابیں دستیاب ہیں جو جلد ہی آن لائن میسر ہوں گی۔ ان شاء اللہ۔ عبدالرزاق قادری

Dr Muhammad Haroon

From Wikipedia, the free encyclopedia

Alfred Neville May
BornAlfred Neville May
1944
Liverpool, England
Died1998 (aged 53–54)
Other namesDr Muhammad Haroon
EraModern era
OccupationIslamic scholar, Author
ReligionIslam
DenominationSunni [1] (Sufism)
Notable work(s)Why I Accepted Islam [2]
Alma materCambridge [3]
Dr Muhammad Haroon 1944-1998 (born: Alfred Neville May) [5] was a PhD Scholar of University of Cambridge. He got his PhD degree in 1970.[6] The topic of his PhD Thesis was "The franchise in thirteenth century England, with special reference to the estates of the bishopric of Winchester".[7] He converted to Islam from Christianity in 1988 when he was 44 years old. [8]

Works

He wrote more than one dozen book about Islam after accepting Islam. The Raza Academy (UK) [9] published many of his works.[10] A few of the titles of those works are as follows:
  1. World Importance of Imam Ahmad Raza Khan Barelvi 1994 [11][12]
  2. How to Achieve Muslim Unity [13][14]
  3. A warning to Muslim about Hizb ut Tahrir [15]
  4. The Social Structure of Islam: The Nature of Society in Traditional Islam [16] [17]
  5. The Surah Ya Sin [18]
  6. World Importance of Ghaus al Azam Hazrat Sheikh Muhyiddin Abdul Qadir Jilani 1995 [19][20][21]
  7. Why I Accepted Islam 1990 [22] [23]
  8. Rule of Allah Alone: Sunni Islam's Answers to the Problems of the Modern World 1994 [24] [25]
  9. Reform Policy of Imam Ahmad Raza Barelvi 1997 [26]
  10. Islamic Concept of State 1997 [27]
  11. Islam and Women 1995 [28] [29]
  12. Islam and Punishment 1993 [30]
  13. Islam and Alcohol 1994 [31] [32][33] Read it online here.[34]
  14. Importance of the 1912 Four-Point Programme of Imam Ahmad Raza Khan Barelvi (Rahmatullahi Alaih) and How to Carry it Out 1996 [35][36]
  15. Importance and Truth of the Quran 1994 [37] [38]
  16. Eid Milad An Nabi: (Birthday of the Holy Prophet) - Sall Allahu Alaihi Wa Sallam 1994 [39]
  17. Why I Accepted Islam Apr 1994 [40]
  18. Islam and the Limits of Science 1995 [41]

References



  • http://www.amazon.co.uk/Rule-Allah-Alone-Answers-Problems/dp/1873204086/ref=la_B00JCBSBP4_1_11?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-11

  • http://www.amazon.com/Why-Accepted-Islam-Alfred-Neville/dp/0992633540

  • http://search.lib.cam.ac.uk/?itemid=%7Cmanuscrpdb%7C11349

  • http://afkaremuslim.blogspot.com/2013/08/the-world-importance-of-imam-ahmed-raza.html

  • http://www.amazon.com/Why-Accepted-Islam-Alfred-Neville/dp/0992633540

  • http://search.lib.cam.ac.uk/?itemid=%7Cmanuscrpdb%7C11349

  • http://search.lib.cam.ac.uk/?itemid=%7Cmanuscrpdb%7C11349

  • May, Alfred (2000). Why I Accepted Islam. Beacon Books. ISBN 0992633540. Introduction

  • https://www.google.com.pk/search?tbo=p&tbm=bks&q=inauthor:%22Raza+Academy%22

  • http://ashraf786.proboards.com/thread/18701/islamic-times

  • http://afkaremuslim.blogspot.com/2013/08/the-world-importance-of-imam-ahmed-raza.html

  • http://www.amazon.co.uk/World-Importance-Imam-Ahmad-Barelvi/dp/1873204124/ref=la_B00JCBSBP4_1_14?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-14

  • http://www.yanabi.wordpress.com/files/2009/01/4point-plan.pdf

  • http://www.yanabi.com/index.php?/topic/51938-how-to-achieve-muslim-unity/

  • http://www.slideshare.net/themrtariq/beware-of-tanzeem-hizb-e-tahree

  • https://books.google.com.pk/books?id=ZolQAQAACAAJ&dq=inauthor:%22Muhammad+Haroon%22&hl=en&sa=X&ved=0ahUKEwiSk_K606HJAhWinqYKHXAVArIQ6AEILDAE

  • https://books.google.com.pk/books?id=ZolQAQAACAAJ&dq=inauthor:%22Muhammad+Haroon%22&hl=en&sa=X&ved=0CDMQ6AEwBWoVChMIia_zlsGcyQIVQXGOCh0UYAQB

  • https://books.google.com.pk/books?id=q-XrAAAACAAJ&dq=inauthor:%22Muhammad+Haroon%22&hl=en&sa=X&ved=0CEwQ6AEwC2oVChMIia_zlsGcyQIVQXGOCh0UYAQB

  • https://books.google.com.pk/books?id=9VxdNwAACAAJ&dq=inauthor:%22Muhammad+Haroon%22&hl=en&sa=X&ved=0ahUKEwiSk_K606HJAhWinqYKHXAVArIQ6AEIODAH

  • http://tableeghseerat.com/English%20Books/Life%20Of%20Ghaus%20-E-Azam.pdf

  • http://www.amazon.co.uk/Importance-Hazrat-Sheikh-Muhyiddin-Jilani/dp/1873204183/ref=la_B00JCBSBP4_1_13?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-13

  • https://books.google.com.pk/books?id=smZeAAAACAAJ&dq=inauthor:%22Muhammad+Haroon%22&hl=en&sa=X&ved=0ahUKEwiSk_K606HJAhWinqYKHXAVArIQ6AEIIzAC

  • http://www.amazon.co.uk/Why-Accepted-Islam-Muhammad-Haroon/dp/1873204000/ref=la_B00JCBSBP4_1_12?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-12

  • http://www.amazon.co.uk/Rule-Allah-Alone-Answers-Problems/dp/1873204086/ref=la_B00JCBSBP4_1_11?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-11

  • https://books.google.com.pk/books?id=RY9QAAAACAAJ&dq=inauthor:%22Muhammad+Haroon%22&hl=en&sa=X&ved=0ahUKEwiSk_K606HJAhWinqYKHXAVArIQ6AEIMDAF

  • http://www.amazon.co.uk/Reform-Policy-Imam-Ahmad-Barelvi/dp/1873204566/ref=la_B00JCBSBP4_1_10?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-10

  • http://www.amazon.co.uk/Islamic-Concept-State-Muhammad-Haroon/dp/1873204515/ref=la_B00JCBSBP4_1_9?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-9

  • https://books.google.com.pk/books?id=AIxOAAAACAAJ&dq=inauthor:%22Muhammad+Haroon%22&hl=en&sa=X&ved=0ahUKEwiSk_K606HJAhWinqYKHXAVArIQ6AEIHzAB

  • http://www.amazon.co.uk/Islam-Women-Muhammad-Haroon/dp/1873204078/ref=la_B00JCBSBP4_1_8?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-8

  • http://www.amazon.co.uk/Islam-Punishment-Muhammad-Haroon/dp/1873204035/ref=la_B00JCBSBP4_1_7?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-7

  • https://books.google.com.pk/books?id=rYh4AAAACAAJ&dq=inauthor:%22Muhammad+Haroon%22&hl=en&sa=X&ved=0ahUKEwiSk_K606HJAhWinqYKHXAVArIQ6AEIKDAD

  • http://www.amazon.co.uk/Islam-Alcohol-Muhammad-Haroon/dp/1873204167/ref=la_B00JCBSBP4_1_6?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-6

  • http://www.iqra.net/articles/archives/punishment.html

  • http://www.spiritualfoundation.org.uk/index.php/academic/146-islam-and-alcohol

  • http://www.yanabi.wordpress.com/files/2009/01/4point-plan.pdf

  • http://www.amazon.co.uk/Importance-Four-Point-Programme-Barelvi-Rahmatullahi/dp/1873204469/ref=la_B00JCBSBP4_1_5?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-5

  • http://www.amazon.co.uk/Importance-Truth-Quran-Muhammad-Haroon/dp/187320406X/ref=la_B00JCBSBP4_1_4?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-4

  • https://books.google.com.pk/books?id=RAi9AAAACAAJ&dq=inauthor:%22Muhammad+Haroon%22&hl=en&sa=X&ved=0ahUKEwiSk_K606HJAhWinqYKHXAVArIQ6AEINDAG

  • http://www.amazon.co.uk/Eid-Milad-Nabi-Birthday-Prophet/dp/1873204051/ref=la_B00JCBSBP4_1_3?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-3

  • http://www.amazon.co.uk/Why-Accepted-Islam-Muhammad-Haroon/dp/1873204043/ref=la_B00JCBSBP4_1_2?s=books&ie=UTF8&qid=1447853475&sr=1-2


  • جمعرات، 10 ستمبر، 2015

    علامہ غلام رسول جلالی کا پہلا عرس مبارک

    میں آج بعد نماز ظہر، مولانا غلام رسول کے عرس میں جامع بلال مسجد کباڑی مارکیٹ، بلال گنج لاہور میں حاضر ہوا۔ یہ ایک محفل تھی جس میں قرآن مجید کی تلاوت، حمد و نعت کے علاوہ علامہ رضائے مصطفیٰ نقشبندی کا بیان ہوا۔ سوا چار بجے میں واپس آگیا، میری کلاس کا وقت قریب آرہا تھا، جب میں مسجد کے دروازے سے باہر نکلا اُس وقت سلامِ رضا کی صدا فضا میں گونج رہی تھی۔ حضرت مولانا غلام رسول، طیب نورانی کے والد تھے۔ پچھلے سال ان کا انتقال ہوگیا۔ آج ان کا پہلا عرس اُسی مسجد میں ایک محفل کی صورت میں منعقد کیا گیا جہاں انہوں نے تقریباً نصف صدی تک دین کی بے لوث خدمت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ان کی کوئی مقرر کردہ تنخواہ نہ تھی وہ اللہ کی رضا کے لئے بلا معاوضہ مسجد میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اللہ رب العزت انہیں بہترین اجر سے نوازے۔ یہ سامنے ان کے دو صاحبزادے بیٹھے ہیں،
    ان میں سے بائیں جانب والے طیب نورانی ہیں۔ مولانا غلام رسول کو قائد ملتِ اسلامیہ، مولانا شاہ احمد نورانی سے سچی عقیدت تھی۔ حضرت صاحب قرآن مجید کے حافظ اور باعمل عالمِ دین تھے۔ ان کے بچے بھی الحمدللہ باعمل عالمِ دین ہیں۔ میں نے پچھلے سال بلال گنج میں ان کے چہلم کے اشتہارات لگے ہوئے دیکھے تھے لیکن میں ان سے واقف نہیں تھا، بعد ازاں طیب صاحب سے بلال گنج مارکیٹ میں ملاقات ہوئی تب بھی علامہ صاحب کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ طیب صاحب فیس بک پر اپنے سٹیٹس میں والد صاحب کی رحلت کا بتاتے تھے تب بھی پتہ نہ تھا کہ یہ وہی شخصیت ہیں جن کے چہلم کے اشتہارات میں دیکھ چکا تھا۔ ایک دن طیب نے علامہ غلام رسول جلالی رحمۃ اللہ علیہ کا نام لکھ کر فیس بک پر پھر اپنے پسرانہ جذبات کا اظہار کیا تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تو اُسی علامہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ حضرت صاحب کو غریقِ رحمت کرے اور ان کے صدقے ان کی اولاد اور ہم سب پر اپنا فضل و کرم فرمائے۔ آمین۔ 

    پیر، 6 جولائی، 2015

    An Interview with Grand Mufti of Pakistan Allama Arshad ul Qadri

    مفتی اعظم پاکستان علامہ ارشد القادری سےنوائے منزل کی خصوصی گفتگو

    ماہنامہ نوائے منزل لاہور، فروری 2015
    انٹرویو پینل: حافظ عبدالرزاق قادری، محمد کامران اختر

           علامہ مفتی محمد ارشد القادری موجودہ دور کے عظیم دینی سکالر، مبلغ اور محقق ہیں۔ وہ 16 فروری 1958ء کو پیدا ہوئے۔آپ سینکڑوں کتب کے مصنف ہیں۔ ان میں سے دو درجن کے قریب کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ جبکہ باقی طباعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔آپ کا ایک عظیم علمی کارنامہ صحیح ترمذی شریف کی شرح فیوض النبی ہے۔ اس کی دو جلدیں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔علامہ محمد ارشد قادری تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان نامی ایک تحریک کے بانی ہیں۔ اس تنظیم کے زیر انتظام مختلف اجتماعات، کانفرسیں اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔تعلیم و تربیت اسلامی مختلف فلاحی کاموں میں حصہ لیتی ہےتعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کا منشور وحدت امت ، خدمت امت اور استحکام امت ہے۔ تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کا صدر دفتر لاہور میں ہے۔ 
    علامہ مفتی محمد ارشد القادری کی زندگی کے مختلف گوشوں سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے ان سے نوائے منزل نے خصوصی انٹرویو کیا ہے۔ جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا  رہا ہے۔

    نوائے منزل : آپ نے ابتدائی علوم و فنون کہاں کہاں سے حاصل کیے ؟
    ابتدائی علوم تو اسی طرح سکول سے حاصل کیے جس طرح عام متوسط طبقے کے لوگ حاصل کرتے ہیں۔ پہلی دفعہ جب میرے والد صاحب مجھے سکول میں لے کر گئے اس وقت میں پانچ سال کا تھالیکن داخلہ نہ ہو سکا کیونکہ اس زمانے میں سات سال کی عمر میں بچوں کو داخلہ دیا جاتا تھا۔لہذا گھرمیں ہی تدریس کا آغاز ہو گیا۔اس کے بعد سات سال کی عمر میں داخلہ ہوا۔ہمارا گھر کوٹ نیناں میں تھا۔کوٹ نیناں شکر گڑھ سے مشرق میں دریائے روای کے مغرب میں ایک قصبہ ہے۔ پھر 1971ء کی جنگ میں ہم لاہور منتقل ہوئے ۔ باقی تعلیم لاہو ر میں حاصل کی۔

    نوائے منزل : دینی علوم کی طرف رغبت کیسے ہوئی ؟
    جب میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا تو  مولانا حافظ نذیر صاحب ہمارے خطیب (کرمانوالی مسجد ابراہیم روڈ لاہور) ہوا کرتے تھے۔ ان سے متاثر ہوا۔کیونکہ وہ حضرت مولانا ابوالبرکات علیہ الرحمہ اور حضرت محدث اعظم رحمۃ اللہ علیہ جیسے بڑے بزرگ علماء کے شاگرد تھے۔ ان کا انداز تربیت بھی بہت عمدہ تھا۔انہی کے پاس کریما سعدی، نام حق ، پند نامہ اور صرف و نحوکی ابتدائی کتب پڑھیں۔اس کے علاوہ جامعہ رسولیہ شیرازیہ کے بانی اُستادِ محترم، حضرت علامہ حاجی محمد علی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ صاحب سے بھی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ استاد نقشبندی صاحب کا اندازِ تدریس منفرد ہوتا تھا۔ وہ روزانہ صبح سیر کے لیے دریائے راوی کے کنارے جاتے تھے۔ ا س لیےدین کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سکول جانے والے طلباء صبح سویرے سکول ٹائم سے پہلے پڑھنے  کے لئے ان کے ساتھ دریا کی طرف پیدل جاتے۔ دریا کی طرف جاتے ہوئے وہ سبق سن لیتے تھے اور دریا کے کنارے بیٹھ کر اگلا سبق پڑھا دیتے تھے۔اور واپسی پر اگلے دن کے لیے نصیحت وغیر ہ فرما دیتے تھے۔ان کی زندگی کا یہ گوشہ بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگا۔

    نوائے منزل : روحانی تربیت  اور فیض کہاں سے حاصل کیا ؟
    جب میں ایف۔اے کا سٹوڈنٹ تھا تو ایک بارحضرت مولانا عبدالرشید قادری رضوی رحمتہ اللہ علیہ (سمندری شریف) کے پیچھے جمعہ پڑھنے کے ارادے سے گیا۔تقریر تو زیادہ نہ سن سکا۔ جمعہ پڑھنے کے بعد جب صلوٰۃ و سلا م پڑھا گیا تو ایک شعر حضرت نے خود پڑھا۔اس کے بعد وہ لوگوں کے مسائل سننے لگ گئے۔ میں اٹھا اورچل دیا۔دو تین فرلانگ دور ہی گیا تھا کہ ایک ٹاہلی (شیشم)کے درخت کے نیچے جا کر کھڑا ہو گیا۔میں نے سوچا کہ اگر آج یہ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر شاید موقع نہ ملے ۔ اس لیے بیعت کرلینی چاہیے۔  لہذا میں واپس گیا اور حلقے میں جا کر بیٹھ گیا۔ مجھے دیکھ کر حضرت نے مسکرا کر  فرمایا  آ گئے ہو؟ہو گیا فیصلہ ؟؟او ر لوگوں سے فرمایا کہ اس نوجوان کو راستہ دوقریب آنے کے لیے۔ جب میں قریب آیا  تو فرمایا آئیے، بڑھائیے ہاتھ۔ 
    نوائے منزل: حضرت علامہ امام احمد شاہ نورانی رحمتہ اللہ علیہ سے آپ کی ملاقات کب ہوئی ؟
    1980ء کے اواخر اور 1981ء کے اوائل میں، مَیں GC لاہور میں سٹوڈنٹ تھا۔ وہاں پہلی بار امام نورانی کو میں نے قریب سے دیکھا۔ دور سے تو پہلے بھی دیکھا ہوا تھا۔ اس وقت میں ٹائی ،پینٹ کوٹ میں تھا اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں مولوی بنوں گا۔ میں نے آٹو گراف کے لیے فائل مولانا کی طرف بڑھا دی۔تو مولانا نے اس پر لکھ دیا۔
    ؎         خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
                سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ  و نجف
    بس اس کے بعد میری زندگی بدل گئی۔ میں شاہ احمد نورانی رحمتہ اللہ علیہ کی محبت میں غرق ہو گیا۔جس طرح میں نے عام مولویوں کے بارے میں سنا تھا مولانا کو اس کے بر عکس پایا۔عمدہ انگریزی، خوبصورت لب و لہجہ اور بے پناہ پیار۔کبھی ایسا مرد نہیں دیکھا تھا۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں اس طرح کا بنوں گا جس طرح کے یہ ہیں۔ (مولاناارشد القادری علامہ نورانی کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ انٹرویو پینل)

    نوائے منزل: آپ طویل عرصے سے حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پر سوال جواب کی نشست منعقد کر رہے ہیں۔ اس کا خیال کیسے آیا؟
    1990ء میں جب میں حج کرنے کے لیے پہلی مرتبہ حر مین شریفین گیا۔ جب مکہ مشرفہ سے مدینہ منورہ کی طرف گیا تو مسجد نبوی کی پرانی عمارت سے مغرب کی طرف نکلیں تو ایک خالی جگہ ہے ۔ میں نےاس طرف دیکھا کہ لوگوں کا ایک جگہ ہجوم ہے ۔ اور ایک صاحب کھڑے ہیں۔ لوگ پرچیوں پر سوالات لکھ کر دے رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔ مجھے یہ طریق اچھا لگا۔ حج سے آتے ہی پہلی جمعرات کو ہی میں نے دربار حضرت داتا صاحب پر یہ نشست شروع کر دی۔کچھ نوجوانوں نے پہلی دفعہ فقہ کا سوا ل پوچھا ۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔اس سلسلے میں اغیار اور اپنوں کی طرف سے بھی رکاوٹیں بھی ڈالی گئیں ۔ سیکرٹری او قاف کو بھی خطوط لکھے گئے ۔ سیکرٹری صاحب نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ آپ نے کہاں سے پڑھا ہے۔ میں نے بتایا کہ میں اولڈ راوین ہوں۔ سیکرٹری صاحب بھی راوین ہی تھے۔اس لیے وہ بہت خوش ہوئے  او ر مجھےاس کار خیر کی ان کی طرف سے بھی اجازت مل گئی۔

    نوائے منزل:تصانیف کا سلسلہ کب سے شروع کیا؟
    5 جنوری 1981ء کو میں نے پہلی کتا ب مکمل کی۔ جس کا عنوان تھا تعظیم مصطفی قرآن حکیم کی روشنی میں۔ وہ کتاب ابھی بھی موجود ہے۔

    نوائے منزل: ترمذی شریف کی شرح لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
    بڑا گھر بنگلہ ایک جگہ ہے۔ وہاں میں میلاد شریف کے جلسے میں گیا۔ میری ملاقات علامہ محمد مسعود حسان صاحب سے ہوئی۔ جو مفتی محمد امین صاحب کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے عربی میں چند منٹ بات کی۔ میں نے بھی عربی میں دس سے پندرہ منٹ تک کلا م کیا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ کھانے پر بیٹھے تو انہوں نے پوچھا کہ آج کل آپ کیا کر رہے ہیں ۔ میں نے بتایا کہ جمعہ پڑھا رہا ہوں ۔ کچھ کتابیں لکھی ہیں اور ایک ادارہ بنا رہا ہوں۔ مولانا نے کہا کہ ایسے بندے کو کوئی بڑا کام کرنا چاہیے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کرنا چاہیے۔ مولانا کہنے لگے مسلم ،بخاری پر تو کام ہو گیا۔ ترمذی شریف پر کام کی ضرورت ہے۔ میں نے اسی  وقت فیصلہ کر لیا کہ اب ترمذی شریف پر کام کروں گا۔ اس کام کے لیے ایک سال تک تو سوچ بچار کرتا رہا۔ پھر ایک سال اس کا نظم بناتے بناتے گزر گیا۔تین سال کے بعد نظم طے ہوا۔ پھر کام شروع کیا۔ اب تک الحمد للہ دو جلدیں مارکیٹ میں آ چکی ہیں۔اور اندرون اور بیرون ملک سے لوگوں نے بہت سراہا ہے ۔میں نے کوشش کی ہے ہر جگہ ادب کی زبان استعمال کروں۔ کچھ مقامات پر تنقید بھی کی ہے مگر اپنا لہجہ ہمیشہ دھیما رکھا ہے۔

    نوائے منزل:  مستقبل میں کن عنوانات پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
    اللہ تعالیٰ نے توفیق عنایت فرمائی تو انشا اللہ تفسیر پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

    نوائے منزل :آپ کا تعلق علامہ شاہ احمد نورانی مرحوم سے رہا ہے۔ جو سیاست میں علما کے امام تھے۔ موجودہ سیاسی عدم استحکام کے پس منظر میں علما کا کیا کردار ہے؟

    میں اس موقعے پر ایک ایک کڑوا سچ بولنا چاہتا ہوں۔ چاہے کسی کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ درحقیقت آپ نے جس طبقے کی طر ف اشارہ کیا ہے اس طبقے نے مولانا نورانی کی قدرہی نہ کی۔اگر یہ طبقہ مولانا کی قدر کرتا توحالات ایسے نہ ہوتے۔ مجھے معلوم نہیں کہ علما ئے کرام اور مشائخ عظام نے کیوں اس گوہر نایاب کو نظر انداز کیا۔اور غلبہ اسلام کا خواب پورا نہ ہوسکا۔
    ؎                   یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
                        اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
    ان کا ایک مخالف آخری وقت میں مولانا کے پاس آیا اور کہا کہ کیا ہوا مولانا اگر آپ کو آپ کی قوم نے چھوڑ دیا ہے۔ مگر ہم آپ کا  ساتھ نہیں چھوڑیں گئے۔
    یہ علامہ نورانی کی تو عظمت کا اعتراف تھا مگر ہمارے علما اور مشائخ کے خوبصورت چہرے پر ایک عجب انداز کا تھپڑ تھا۔

    نوائے منزل : آپ کے خیال میں علامہ نورانی میں وہ کون سی مقناطیسیت تھی جو سب لوگوں کو ان کے قریب لے آتی تھی؟
    اللہ تعالیٰ نے علامہ کے ذہن میں کوئی خانہ چھوٹا نہیں رکھا۔ مقام عشق ایک بڑا مقام ہے مگر مقام درد اس سے بھی بڑا مقا م ہے۔ علامہ نورانی مقام درد پر فائز تھے۔مگر آج جو لوگ ان کو امام اور رحمتہ اللہ کہتےہیں میں نے خود ان کو علامہ کے خلاف تقریریں کرتے بھی سنا ہے  ۔ مگر آج سب لوگوں کو احسا س ہو گیا ہے کہ علامہ کی عظمت کیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم لوگ انتظار کرتےہیں کہ قابل اور لائق بند ے کی قبر بن جائے پھر ہم اس کی تعریف میں بہت سے القابات بولیں بس اس کی قبر بن جائے۔ میرے خیال میں کسی کی عظمت کےلیے اس کی قبر کا بن جانا ضروری نہیں ہے۔

    نوائے منزل: آپ ہمیشہ اتحاد امت کے داعی رہے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ دہشت گردی کے اسباب میں سے ایک سبب فرقہ واریت بھی ہے؟
    اس حوالے سے میرا دیکھنے کا زاویہ مختلف ہے۔ میں پاکستان میں کوئی بڑی مصیبت نہیں دیکھتا۔ میں یہ سوال ضرور کروں گا کہ ہم نے اپنا ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں کیوں دیا ہوا ہے۔ اغیار جب چاہتے ہیں چینل تبدیل کر دیتے ہیں۔جب آپ کی بات انجام تک پہنچتی ہے تو چینل ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی یورپی لابی ہمارے ایوانوں میں گھس گئی۔ آپ قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ ایک بار پڑھ لیں آپ کو اندازا ہو جا ئے گا۔

    نوائے منزل:امت کو کن کن نکات پر متحد کیا جا سکتا ہے؟
    ہم نے کئی بار کہا ہے کہ اگر تو ہم آئمہ ، علما اور لیڈروں کے نام پر جمع کرنا چاہیں تو ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔امت کو فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے نام پر جمع کیا جا سکتا ہے۔
    ؎           ٹھوکریں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
             قافلہ تو اے رضاؔ اول گیا آخر گیا

    نوائے منزل: ایک اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ آپ نام تو امام احمد رضا بریلوی کا لیتے ہیں مگر امت کو کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پرجمع ہو جائیں۔ آپ کا کیا موقف ہے؟
    احمد رضا کا نام لینا کوئی جرم تو نہیں ہے۔ امام احمد رضا نے تو عظمت رسول کی یاد دلائی ہے۔ یاددہانی کرانے والے کو فراموش کر دینا کوئی دانائی تو نہیں ہے۔  اسی طرح قاسم نانوتوی صاحب، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، اشرف علی تھانوی صاحب، تبلیغی جماعت کے الیاس کاندھلوی صاحب اور مودودی صاحب بھی یہی بات کہتےہیں۔
    فساد کی بنیاد یہ بات ہے کہ جب ہم دوسروں کو مجبور کرنے کی کوشش کرتےہیں کہ ہماری بات مانی جائے تو شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ تمام اَئمہ اور علما نے ایک دوسرے سےا ختلاف ضرور کیا ہے مگر کسی کو مجبور نہیں کیا کہ ان کی بات ہی مانی جائے۔
    سب سے پہلے ابن تیمیہ صاحب جو حضرت غوث اعظم کے بعد کے زمانے میں دریائے دجلہ اور فرات کے دوآبہ میں پیدا ہوئے ان کی سوچ اس طرح کی ہوئی کہ جو تحقیق میں نے کردی ہے امت کو چاہیے کہ وہ اس پر لبیک کہہ دے۔ میں ان کےاخلاص کا قائل ہوں مگر ان میں یہ ایک نقص پایا جاتا تھا۔
    میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں، کچھ عرصہ پہلے تک ایک سوال کیا جاتا رہا کہ قلبِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آب زم زم سے دھویا گیا۔ تو آخر کیا نقص تھا آپ میں جس کو ختم کرنے کے لیے ایسا کرنا پڑا ۔ علما نے اس کے مختلف جوابات دیے۔ جب مجھ پر یہ سوال کیا گیا تو میں نے کہا کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ قلب محمد کو آبِ زم زم سے فیض دیا گیا۔ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آب زم زم کو قلب محمد سے فیض دیا گیا۔ لوگوں نے مان لیا اور مطمئن ہو گئے۔

    نوائے منزل:پاکستان میں بے شمار دینی تربیتی اور انقلابی جماعتیں موجود ہیں۔ مگر آج تک کوئی تبدیلی رونما نہ ہو سکی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
    سرور عالم نے 23 سال کاجو تبلیغ کا کام کیا  10 سال مکہ مشرفہ اور 13 سال مدینہ منورہ اس کے 5 مراحل ہیں۔ 
    پہلا مرحلہ دعوت کا ہے۔ یعنی دعوت اسلامی۔
    دوسرا مرحلہ تربیت اسلامی: دعوت کےساتھ ساتھ تربیت بھی لازم ہے ۔
    تیسرا مرحلہ تنظیمِ اسلامی: تربیت کے بعد نظم و ضبط قائم کرنا بھی لازم ہے۔
    چوتھا مرحلہ تحریکِ اسلامی: اس کے بعد تحریک کا مرحلہ آتا ہے۔ اور تحریک کےبعد پانچواں مرحلہ انقلاب  کا ہے۔ اس زاویے سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ مستقل جماعتوں کے نام نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مراحل ہیں رسول اللہ کی تبلیغی مشن کے۔ ہم ان مراحل کو سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں۔ ہم تبلیغ کےمرحلے پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور نعرہ انقلاب کا لگا دیتے ہیں۔جس میں کامیابی نہیں ہوتی۔ مجھے یاد ہے ڈاکٹر اسرار صاحب پی ٹی وی پر آئے اور خوب چھائے۔ انہوں نے انقلاب کی بات شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار خون ریزی ہوگی اس کے بعد انقلاب آ جائے گا۔جب صحافیوں سے سامنا ہوا تو ڈاکٹر صاحب سے پوچھا گیاکہ اگر بالفرض آپ انقلاب لے آتےہیں اور اسی خون ریزی کے دوران ہندوستان کی افواج سرحدوں پر حملہ کر دیتی ہیں تو آپ کے انقلاب کا کیا بنے گا۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ اس پرایک کارٹونسٹ نے ایک کارٹو ن بھی بنایا جس میں دکھایا گیا کہ ڈاکٹرصاحب پی ٹی وی کے سٹیشن سے باہر نکل رہے ہیں۔ اور اس کے نیچے ایک شعر لکھا گیا کہ ۔
    ؎            نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
                       بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
    انقلاب کےلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچ مراحل کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

    نوائے منزل: آپ قارئین نوائے منزل کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
    ہر بندہ اپنے اندر تبدیلی لائے۔ ہم نے ڈنڈا پکڑا ہوا ہے اور دوسروں کو ٹھیک کرنے کےلیے نکلے ہوئے ہیں۔ اگر ہم خود کو ٹھیک کرنا شروع کر دیں بہت جلد معاشرے میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

    نوٹ: یہ انٹرویو آڈیو ریکارڈ کیا گیا تھا، بعد میں نوائے منزل کی ٹیم نے چیدہ چیدہ باتیں شائع کیں۔

    جمعہ، 5 جون، 2015

    آہ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر آفتاب اصغر

    پاکستان کے سب سے بڑے فارسی دان، ماہر اقبالیات، ریسرچ سکالر، محقق اور تاریخ دان ڈاکٹر آفتاب اصغر چار یوم قبل انتقال کر گئے۔
     انکی عمر پچھتر سال تھی اور انہیں اتوار کو نیوکیمپس قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مجھ جیسے کم علم قارئین کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ اس جہاں سے علم و ادب کا کوئی آفتاب اٹھ گیا۔ وہ اورینٹل کالج جامعہ پنجاب شعبہ فارسی کے سربراہ اور جامعہ پنجاب اولڈ کیمپس میں فردوسی چیئر کے پہلے چیئرمین بھی رہے۔ انہوں نے تہران یونیورسٹی سے ایم فل اور فارسی تاریخ نویسی کے مشکل ترین موضوع پر پی ایچ ڈی کیا۔ انہیں علامہ عابدی کا شاگرد ہونے پر فخر تھا۔ پورا ایران انکی فارسی دانی اور صلاحیتوں کا معترف اور گرویدہ تھا۔ ایران میں انکا نام اور حوالہ سب سے معتبر اور مضبوط سمجھا جاتا تھا اور سمجھا بھی کیوں نہ جاتا کیونکہ اس سے پیشتر فارسی اور اہالیان ایران کی محبت میں بہت سے پاکستانی سکالرز نے بہت کچھ لکھا لیکن ڈاکٹر آفتاب اصغر کا کام اور تحقیق سب سے منفرد اور نمایاں رہی۔ انکے علمی و تحقیقی کام میں تاریخ نویسی فارسی، ارمغان کشمیر، تاریخ مبارک شاہی، مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کا فارسی ترجمہ، مرنے کے بعد کیا ہو گا.... کا فارسی ترجمہ، حقیقت نماز، حقیقت جہاد، اسلام کے پانچوں ارکان فارسی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے دو دہائیوں کی محنت کے بعد چھٹی سے بارہویں جماعت تک فارسی کی نصابی کتب تیار کیں۔ انہیں ریڈیو تہران پر اردو سروس شروع کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ صدر ضیاءالحق کی فرمائش پر پی ٹی وی پر مثنوی مولانا روم پر ٹی وی سیریل ”ہشت گفتار“ بھی پیش کی۔ انہیں دو ایرانی صدور خامنائی اور ہاشمی رفسنجانی کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہیں دو تحقیقی کتابیں تاریخ نویسی فارسی اور ارمغان کشمیر پیش کرنے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہوا۔ انہوں نے ایوان صدر میں صدر خامنائی اور افغان صدر داﺅد کی موجودگی میں پاکستانی صدر ضیاءالحق کی تقریر کا فارسی میں برجستہ ترجمہ پیش کیا۔ جس پر ایرانی صدر عش عش کر اٹھے۔ ڈاکٹر آفتاب اصغر علامہ اقبال کا بیشتر اردو کلام فارسی کے قالب میں ڈھال چکے تھے کیونکہ حضرت علامہ کا بیشتر کلام فارسی پر مشتمل ہے اور ڈاکٹر آفتاب اصغر تو جیسے پیدا ہی فارسی زبان کیلئے ہوئے تھے۔
    سو علامہ صاحب کا کوئی بھی فارسی شعر انکے حافظہ سے محو نہیں تھا اور وہ اسکا برجستہ استعمال کرتے اور ایک ایک جز کے ساتھ اسکا ترجمہ اور تشریح کرتے۔ ان جیسا درست تلفظ والا زباں داں سکالر بھی شاید ہی کوئی ہو، مجھ جیسے جاہل غلط تلفظ کیساتھ شعر پڑھتے تو بہت عمدگی کیساتھ اسکی اصلاح کرتے۔ اہل ادب کی بڑی تعداد الفاظ کی اصلاح اور تلفظ سیکھنے کیلئے ان کے پاس آنا اعزاز سمجھتی۔ فارسی کی مٹھاس اور خوشبو انکی دلکش شخصیت اور سراپے کا حصہ تھی اور تشنگان ادب اس سے اپنی پیاس بجھاتے۔ انہوں نے پاکستان میں فارسی زبان و ادب کی سفارت کا فریضہ بخوبی نبھایا ۔
    ضرورت مند اور مستحق طلبہ کی خاموشی سے مدد کرتے، نیو کیمپس قبرستان میں شدید گرمی میں انکی تدفین کے بعد بھی چار گھنٹے تک انکے شاگرد اور احباب ان کی لحد کو آنسوﺅں سے تر کرتے رہے۔
    مولانا رومی، نذیری، انوری، حافظ شیرازی، فردوسی، حضرت امیر خسرو، حضرت شیخ سعدی کا کلام انہیں ازبر تھا اور وہ عام گفتگو میں انکا حوالہ دینا نہ بھولتے۔ یوں تو ہمارے کئی محترم فارسی دان دوست ایران بھی جاتے رہتے ہیں اور طلبہ کو فارسی بھی پڑھا لیتے ہیں اور ان میں سے کئی ماہر اقبالیات بھی ہیں لیکن فارسی بولنے اور سمجھنے میں جو روانی، سلاست اور شستگی اور دسترس ڈاکٹر آفتاب اصغر مرحوم کو حاصل تھی وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ نوائے وقت کے سابق دفتر میں ڈاکٹر آفتاب اصغر ایرانی قونصلیٹ کو جنت مکانی مجید نظامی مرحوم سے ملوانے لائے، سابق مدیر سرراہے اسرار بخاری بھی وہاں موجود تھے، وہ مجھ سے ہمیشہ اس بات کا تذکرہ ضرور کرتے کہ ہاشمی صاحب آپکے ڈاکٹر آفتاب اصغر جیسی فارسی تو کوئی بول ہی نہیں سکتا اور انہیں ایرانی قونصلیٹ کیساتھ محو گفتگو دیکھ کر میں بیک وقت رشک اور حسد کا شکار ہو گیا....“
    ڈاکٹر آفتاب اصغر مرحوم ہمیشہ بات لمبی کرتے، ان سے فون پر گفتگو ہمیشہ طویل ہو جاتی کیونکہ ہسٹری اور ادب ہم دونوں کا مشترکہ موضوع تھا اور میگزین کے ساتھی یہی سمجھتے رہتے کہ اتنے انہماک اور اشتیاق سے شاید کسی ”معشوق“ کا فون سنا جا رہا ہے، ڈاکٹر صاحب بلاشبہ معشوق اور چاہے جانے کے قابل ہی تھے۔ وہ اور انکی اہلیہ محترمہ تاریخی کرداروں پر میری ریسرچ کو ہمیشہ سراہتے۔ والد محترم ڈاکٹر سعید الدین ہاشمی جو مولانا رومی، حافظ شیرازی اور شیخ سعدی کے بہت بڑے عاشق تھے وہ رات کو گھر میں ہمیں فارسی ضرور پڑھاتے اور انہوں نے صاحبزادیوں کے نام کے ساتھ بھی رومی لگایا ہوا تھا، انکے بارے میں ہمیشہ تفصیل سے پوچھتے۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلق گجرات سے تھا، سو وہاں کی باتیں بہت دلچسپی سے بتاتے۔ اورنگزیب عالمگیر اور شہزادہ دارالشکوہ قادری پر ہماری ڈسکشن ہمیشہ طویل اور جذباتی ہو جاتی اور کبھی میرے لہجے میں تلخی بھی آ جاتی لیکن وہ ہمیشہ اسی کومل لہجے میں گویا رہتے۔
    وہ بہت بڑے محب وطن پاکستانی تھے اور پاکستان کو ہندوستان کا غرناطہ کہتے۔ انکے بقول خیبر پی کے کی اصل پہچان تو شیرشاہ سوری، احمد شاہ ابدالی اور بہلول لودھی ہیں۔ وہ خود کو ”نوائے وقتیا“ کہتے اور بتاتے کہ وہ ساٹھ سال سے زائد عرصہ سے نوائے وقت پڑھ رہے ہیں۔ وہ ”نوائے وقت“ کے باقاعدہ لکھنے والوں میں شامل تھے۔ اقبال ڈے اور دیگر قومی ایام پر انکے تحقیقی مضامین نوائے وقت میگزین اور ایڈیٹوریل کی زینت بنتے اور قارئین سے بھرپور پذیرائی پاتے۔
    دوشنبہ یونیورسٹی تاجکستان کے پروفیسر سیف الدین اکرم تو علامہ اقبال اور ان کے اتنے بڑے عاشق ہیں کہ انہوں نے اپنے ہال کمرے میں سب سے اوپر دائیں جانب علامہ اقبال اور بائیں جانب ڈاکٹر آفتاب اصغر اور انکی اہلیہ کی تصاویر آویزاں کی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر آفتاب اصغر کی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خالدہ آفتاب لاہور کالج فار ویمن میں صدر شعبہ فارسی رہی ہیں اور لاہور کے فارسی قلمی نسخوں پر ریسرچ انکا خاص موضوع رہا ہے۔ انہوں نے فقیر خانہ میوزیم بھاٹی گیٹ، ایف سی کالج لائبریری، شاہی قلعہ لائبریری اور لاہور میوزیم کی کیٹلاگ بھی بنائی ہیں۔ یہ ساری کیٹلاگ ایک ہی جلد میں ہیں، مغل عہد کی خواتین اور انکا عہد ڈاکٹر صاحبہ کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ میں نے اپنے احباب میں گھر میں فارسی بولنے والا واحد گھرانہ دیکھا، وہ اور انکی اہلیہ محترمہ آپس میں فارسی بولتے سچ مچ طوطا مینا کی جوڑی لگتے۔
    انکی وفات کی المناک خبر فارسی دان حلقوں میں نہایت دکھ اور افسوس کیساتھ سنی گئی۔ انکی رحلت بلاشبہ قومی سانحہ ہے، اب کوئی دوسرا ڈاکٹر آفتاب اصغر آنا دشوارہے۔ انکے بھانجے ڈاکٹر ایاز (انگلینڈ)، داماد محمد کمال اور سابق ڈرائیور افتخار بھی انکی اچانک اور بے وقت موت پر بے حد دکھی تھے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ باغ بہشت میں نذیری، انوری، مولانا رومی، حافظ شیرازی، فردوسی، شیخ سعدی اور طوطی ہند حضرت امیر خسرو کی جلوہ صدرنگ اور خوش گفتار محفل میں ان سب سے داد پا رہے ہونگے اور ان سب کے لب پر بس ایک ہی شکوہ ہو گا کہ آفتاب اصغر آنے میں بہت دیر کر دی!
    تھک کر یونہی پل بھر کیلئے آنکھ لگی تھی
    سو کر ہی نہ اٹھیں گے یہ ارادہ تو نہیں تھا
    مجلس ترقی ادب کے سربراہ اور معروف ادیب، محقق، شاعر اور سکالر ڈاکٹر تحسین فراقی نے ڈاکٹر آفتاب اصغر کی رحلت پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: فارسی ادبیات کے ممتاز استاد و محقق ڈاکٹر آفتاب اصغر کی رحلت مشرقی ادبیات کیلئے ایک سانحے کی حیثیت رکھی ہے، وہ فارسی زبان و ادب کے استاد ہی نہیں اس کے مبلغ بھی تھے۔ انہوں نے کئی نسلوں کو فارسی پڑھائی اور ان میں اس بے مثال زبان کا رچاﺅ پیدا کیا۔ تاریخ اسلام پر بالعموم اور برعظیم کی تاریخ پر ان کی بڑی گہری نظر تھی۔ انہوں نے ”تاریخ نویسی فارسی در ہند و پاکستان“ کے زیرعنوان بہت عمدہ تحقیقی مقالہ لکھا جو شائع ہوا اور اہل علم سے حرف توصیف پاتا رہا۔
    ڈاکٹر آفتاب اصغر کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ ایک ممتاز مترجم بھی تھے۔ انہوں نے اردو کی متعدد علمی کتب کا فارسی ترجمہ کیا جن میں مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کی تیسری جلد ایک خاص امتیاز رکھتی ہے۔ وہ ایران اور پاکستان کے مابین ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی رحلت میرے لئے ایک شدید ذاتی صدمے اور محرومی کا باعث ہے۔ اورینٹل کالج کے شعبہ اردو سے وابستگی کے بعد میرا ان سے بہت ربط ضبط رہا۔ 1991ءمیں تبریز میں نظامی گنجوی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلئے میں ان کا ہم سفر اور صحبت نشین رہا اور ان کے مائدہ علم سے ریزہ چین رہا۔ ان کی وفات ایک سچے علم دوست اور لفظ کی زندہ قوت پر غیرمتزلزل ایقان رکھنے والے فرد فرید کی موت ہے۔ اللہ ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔
    ڈاکٹر معین نظامی سربراہ شعبہ فارسی اورینٹل کالج نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آفتاب اصغر ایک عظیم استاد، دانشور اور ماہر تعلیم تھے، جدید فارسی زبان و ادب پر انکی ماہرانہ دسترس خود اہل ایران کیلئے بھی باعث تعجب تھی۔ انہوں نے کئی قابل قدر تصانیف اور تحقیقی مقالے لکھے، بہت سے محققین کی رہنمائی کی اور سینکڑوں شاگردوں کی علمی و عملی تربیت کی۔ ان کا یہ عملہ صدقہ جاریہ بن کر اخروی فلاح کا باعث ہو گا۔ انکی وفات سے پاکستانی معاشرہ فارسی زبان و ادب اور مشرقی علوم و فنون کے سچے خیرخواہ اور اعلیٰ اخلاق و کردار کے قابل تقلید نمونے سے محروم ہو گیا ہے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔
    تصاویر بشکریہ : فیس بک پیج
    یہ فیس بک پیج ان کے چاہنے والے چلاتے ہوں گے

    جمعرات، 4 جون، 2015

    شیخ عبد الہادی قادری برکاتی رضوی نوری

    علامہ عبدالہادی القادری محقق، محاضر اور تصوف میں سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے شیخ ہیں۔ وہ جنوبی افریقہ میں امام احمد رضا اکیڈمی کے صدر اور برکات الرضا اسلامک ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ [1]



    تعلیم و بیعت

    عبدالہادی جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف سے 1978ء میں علوم متداولہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔آپ کو سلسلہ قادریہ میں مفتی اعظم ہند حضرت مصطفی رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے 1976ء میں بیعت و خلافت نصیب ہوئی۔آپ کو دنیا بھر کے کئی عظیم صوفیاء اور مشائخ سے مختلف سلاسلِ تصوف میں اجازت و خلافت حاصل ہے۔ [2]۔


    تصنیف و تالیف

    شیخ عبد الہادی قادری برکاتی نے ترجموں سمیت 55 کتب تالیف کی ہیں، جن میں الملفوظ، سراج العوارف اور سرالاسرار وغیرہ شامل ہیں۔ اور تصنیف و تالیف کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ [3] [4] [5] [6]۔



    اسفار

    انہوں نے تقریر و بیان کیلئے، سیمینارز کیلئے، انسانی حقوق کے لئے اور مختلف انبیاء و مرسلین، صحابہ کرام، اہلبیت عظام اور اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری دینے کے لئے کئی مقامی اور بین الاقوامی سفر اختیار کئے ہیں۔ [7]۔







    حوالہ جات







    نوٹ: اردو وکیپیڈیا پر لکھا ہوا مضمون میری تحقیق ہے۔​ عبدالرزاق قادری

    پیر، 23 مارچ، 2015

    سوئے حجاز ۔ خطبات نورانی کی آواز

    کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
    22 مارچ 2015

    بردارم ملک محبوب الرسول قادری نے مجھے خطبات نورانی پر مشتمل کتاب دی۔ کتاب کے نام سے لگتا ہے کہ یہ روشنائی سے لکھے ہوئے خطبے ہیں۔ قلم کی سیاہی کے لئے اللہ کے رسول رحمۃ للعالمین، محسن انسانیت، نور کی ساری حقیقتوں کے شناسا حضرت محمدؐ نے فرمایا جبکہ وہ روشنیوں کا مرکز تھے، خود نور سے بنے ہوئے تھے۔ میرے خیال میں روشنی اور نور میں فرق ہے۔ یہ فرق عشق اور عشقِ رسولؐ کی کیفیتوں کی سر مستیوں سے لبالب بھرے ہوئے لوگ جانتے ہیں۔ یہ کتاب جمعیت العلمائے پاکستان کے صدر حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کے خطبات پر مشتمل ہیں۔ مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی جنرل سیکرٹری تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیڈر تھے۔ دونوں کو ایک دوسرے کا اتنا احترام کرتے دیکھا کہ کوئی دوسرا اس کا تصور نہیں کر سکتا۔ عشقِ رسولؐ دونوں کی ایسی سانجھ تھی جو کبھی نہ ٹوٹ سکی۔ دونوں کے درمیان کچھ شکر رنجی بھی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی مگر عشقِ رسولؐ کو ایمان کا درجہ دینے والوں کے لئے رنج بھی شکر (شوگر) بن جاتا ہے۔ حضرت شاہ احمد نورانی قائدِ اہلسنت تھے۔ انہوں نے سیاست میں عشقِ رسولؐ اور عشق و مستی کو رلانے ملانے کی کوشش کی۔ ناموسِ رسالتؐ کی تڑپ رکھنے والے لوگ آج تک اُن کی رفاقت اور قیادت کے نشے میں چُور ہیں، جن میں لاکھوں لوگ ہیں۔ ملک محبوب الرسول نمایاں لوگوں میں سے ہیں۔ وہ ایک رسالہ نکالتے ہیں اُس کا نام ’’سوئے حجاز‘‘ ہے۔ عشقِ رسولؐ والے جہاں بھی ہوں، جس راستے پر ہوں وہ دیکھتے ’’سوئے حجاز‘‘ ہیں۔ اُن کی نظر گنبدِ خضریٰ پر رہتی ہے۔
    تحفظِ ناموس رسالتؐ کے لئے اپنی زندگیاں محبوب الرسول قادری جیسے لوگوں نے وقف کی ہوئی ہیں۔ وہ بار بار عمرے کے لئے جاتے ہیں۔ اس میں یہ آرزو بھی دل میں تڑپتی رہتی ہے کہ روضۂ رسول پر حاضری نصیب ہو گی۔ حضورؐ کی خدمت میں حاضری حضوری ہے۔ قادری صاحب نے کتاب دیتے ہوئے مجھے کہا کہ عشقِ رسولؐ اور ناموسِ رسالتؐ کے حوالے سے خطبات نورانی پر کچھ لکھئے۔ اُن کی سب باتیں عشقِ رسولؐ کے دائرے میں گھومتی ہیں اور جھومتی ہیں۔ میں آپ کا یہ کالم روضۂ اطہرؐ کے سامنے حضور نبی کریم رحمۃ للعالمین حضرت محمدؐ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ یہ الفاظ سیدھے میرے دل میں اُتر گئے۔ ہم تو اُن لوگوں میں سے ہیں جو عشق رسولؐ کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں بلکہ اصل ایمان ہی یہی ہے۔
    بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
    اگر بہ او نر سیدی تمام بوالہبیت
    نورانی صاحب نے عشقِ رسولؐ کو حلاوت ایمان قرار دیا ہے۔ اُن کے اٹھارہ خطبات میں عشقِ رسولؐ کا چراغ جل رہا ہے۔ ان روشنیوں کو قادری صاحب نے مرتب کر کے ’’خطباتِ نورانی‘‘ کے نام کتابی صورت میں شائع کر دیا ہے۔ یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں حضرت نورانی صاحب کی خدمت میں موجود ہوں، ان کا خطاب ہو رہا ہے، ان کی آواز کسی نورانی راز کی طرح میری سماعتوں کے سارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔
    عبدالستار خان نیازی سے میری عزیز داری تھی۔ وہ میرے دادا جہاں خان ذیلدار موسیٰ خیل ضلع میانوالی کے لئے بیٹوں کی طرح تھے۔ میرے والد کریم داد خان اور نیازی صاحب کلاس فیلو تھے۔ میں نے عشقِ رسولؐ کی روشنی اپنے ابا مرحوم سے لی ہے۔ میری زندگی میں ایسا لمحہ کبھی نہ آیا کہ والد صاحب کے سامنے کسی نے آپؐ کا نام لیا ہو اور وہ روئے نہ ہوں۔ ہم نے اپنے گھر میں صرف کتابیں دیکھی تھیں۔ شعر و ادب اور مختلف علوم پر مشتمل کتابیں تھیں۔ زیادہ تعداد سیرت النبیؐ کے حوالے سے کتابوں کی تھی۔ اُن کے انتقال کے بعد وہ سب کتابیں میں لاہور لے آیا ہوں۔ مولانا نیازی کے ساتھ میانوالی کے لوگ صرف عشقِ رسولؐ کی وجہ سے عشق کرتے تھے اور انہوں نے میانوالی کے لوگوں کو نیازی بنایا۔ اس سے پہلے لوگ اپنے نام کے ساتھ خان تو لکھتے تھے نیازی نہیں لکھتے تھے۔ مگر نورانی صاحب کے ساتھ نسبت میں نیازی صاحب کی دوستی بھی تھی مگر عشقِ رسولؐ کی نسبت رشتہ داری سے آگے نکل گئی۔ میں کہا کرتا ہوں کہ نسبت نسب سے بڑھ کر ہے اور عقیدت عقیدے سے بڑی ہے۔
    چچا شیر احمد خان لاہور میں جمعیت العلمائے پاکستان کے آفس سیکرٹری تھے، ان کی دعوت پر ہمارے گائوں بھی نورانی صاحب تشریف لائے تھے۔
    اس موقع پر ایک عاشق رسولؐ ایڈووکیٹ برادرم منصور الرحمن آفریدی یاد آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی عظیم ماں سے عشقِ رسولؐ کی خوشبو پائی۔ ایک بار روضۂ رسولؐ کے سامنے اپنی ماں کو جا کھڑا کیا تو درود و سلام کی لوریوں سے آفریدی صاحب کی پرورش کرنے والی ماں نے جذب و کیف کی مستی میں اپنے سچے بیٹے سے کہا کہ مانگ جو کچھ تُجھے چاہئے۔ تم صدرِ پاکستان یا وزیراعظم بننا چاہتے ہو۔ آفریدی صاحب نے عرض کی، ماں جی! آپ عشقِ رسولؐ کے صدقے میں یہ دعا فرمائیے اور حضورؐ کی خدمتِ اقدس میں درخواست کیجئے کہ وہ دونوں جہانوں کے سردار ہیں۔ مجھے اللہ دونوں جہانوں میں عزت، ایمان اور عشقِ رسولؐ کی دولت سے سرفراز فرمائے۔ اب یہ دولت اتنی آفریدی صاحب کے پاس ہے کہ اُن سے سنبھالی نہیں جاتی۔ میں نے بھی ملک محبوب الرسول قادری سے گزارش کی کہ وہ میرا سلامِ نیاز اُن کی خدمت میں پہنچا دے۔
    ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

    بشکریہ: نوائے وقت