Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 19 فروری، 2023

انقلاب فرانس کی بازگشت

Public Domain - Wikipedia

عبدالرزاق قادری

ایک سال میں قوم نے دیکھ لیا کہ بہت سے صحافیوں، تجزیہ کاروں اور مبصرین کی آراء غلط ثابت ہوئیں اور ان کے اندازے بھی غلط ثابت ہوتے رہے حتی کہ ایک واقعہ یا پیش آمدہ صورتحال ابھی مکمل بیان نہ ہو پائی ہوتی اور اس کے ساتھ ہی کچھ مزید واقعات جنم لے چکے ہوتے۔


میں نے پچھلے سال (مارچ 2022ء میں) وڈیو لاگز بنانے شروع کر دئیے تھے لیکن پھر تحریک عدم اعتماد آ گئی اور میں خود کو سیاسی ابحاث سے علیحدہ رکھنا چاہتا تھا۔ میرا یہ شوق نہیں ہے کہ لوگ مجھے سیاسی تبصرہ کار کے طور پر پہچانیں، حالانکہ یہاں نامور تجزیہ کاروں کی چربہ سازی سے کچھ بہتر حافظہ رکھتا ہوں اور کسی بات کو مختلف پہلوؤں سے دیکھنے اور بیان کرنے کی بھی صلاحیت موجود ہے لیکن میں نے صحافت کو اپنی روزی روٹی کا ذریعہ نہیں بنایا اور ان طریقوں سے بنانا بھی نہیں چاہتا جو کہ رائج ہیں۔


بہت سے صحافی گفتگو اور تحریر کے دوران لکھ کر اس امر کا ہلکا سا اشارہ دیتے رہتے ہیں کہ جس سے وہ تنخواہ لیتے ہیں اسی کے ڈر سے وہ "مکمل سچ" نہیں بول پاتے، یا یوں سمجھ لیں کہ وہ کسی میڈیا ہاؤس کے پالیسی بیانیے کے خلاف نہیں جا سکتے اور مجبورا خود کو ملے ہوئے ٹاپک پر چیف ایڈیٹر یا ایم۔ ڈی۔ کے احکامات کے مطابق تبصرہ لکھتے ہیں اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرتے ہیں۔


بہرحال اس ایک سال کے سیاسی واقعات نے صحافت کا چہرہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا ہے اور سوشل میڈیا پر "چینلز" کا جو جمگھٹا لگ رہا تھا اس کی قلعی بھی کھل چکی ہے، کہ کوئی کیوں سنے تمہارا چینل؟ جب لوگوں کو فرسٹ ہینڈ انفارمیشن مل رہی ہے وہ آپ سے گھسی پٹی جعلی خبریں کیوں سنے اور کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے 30 سال پرانے مائنڈ سیٹ کے ساتھ جو فضول "خبر" آپ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دس مہینے سے وہی جھوٹ الاپتے چلے جا رہے ہیں جو مئی جون میں سوچا گیا تھا تو لوگ کب تک ان چیزوں کو حقیقت سمجھتے رہیں گے۔


قومی سلامتی کے اداروں کے حوالے سے ہمیشہ سے پاکستانی عوام کے جذبات یہی رہے ہیں کہ یہ ہمارے ملک کی سرحدوں کے محافظ ہیں لیکن سن 2022ء میں ہونے والے بے شمار واقعات نے عوام کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اور حتی کہ پشاور میں پولیس کی مسجد میں دھماکے کے بعد پولیس کے لوگوں نے جلوس نکالا اور نعرے لگائے کہ، "یہ جو نامعلوم ہیں سب ہمیں معلوم ہیں"۔


پاکستان کی 75 سال کی تاریخ میں ایسی واضح آوازیں کبھی نہیں اٹھیں کہ لوگ چیزوں کو سمجھ بھی رہے ہیں اور انہیں بیان بھی کر رہے ہیں۔


اس کے ساتھ ساتھ ٹی۔ایل۔پی کی اسلامیات ساری ایکسپوز ہو گئی کہ ایک حکمران کے لیے فرانس بلاوجہ "حرام" تھا دوسرے حکمران کے لیے وجہ کے ساتھ بھی "حلال" ہی رہا۔

جو یہاں پیو تو حرام ہے وہاں پیو تو حلال ہے۔ انہی کے ٹولے کے مفتی منیب الرحمان صاحب بھی قرآن و حدیث کی ایسی تشریحات کرتے رہے کہ علماء سوء ہوتے کیا ہیں؟ سب کو سمجھ آگئی۔


ان عناصر کے ساتھ ساتھ

1۔ عامر لیاقت

2۔ جواد احمد

3۔ شاہد آفریدی

4۔ قاسم علی شاہ

اور

5۔ مرزا انجینئر جیسے زبان درازوں کو بھی میدان میں اتارا گیا۔


ان سے پہلے بھی "جعلی صحافیوں" کی ایک کھیپ گوگلی نیوز اور "نیا دور" کی صورت میں گالیوں کی برسات کر رہی تھی۔

لیکن۔۔۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کے مصداق جتنے بھی بدزبان مارکیٹ میں اتارے گئے وہ منہ کی کھا کر ایسے راندہء درگاہ ثابت ہوئے کہ لوگوں کے دلوں سے اتر گئے۔


ترے دل سے نکالے تو کہاں پہنچے

جب پہنچے تو یاد آیا، نکلنا بھی ضروری تھا


چشم فلک نے بدمعاشی کی وہ حدیں بھی دیکھیں کہ جس میں سیاستدانوں کو زود و کوب کیا گیا، ارشد شریف کو قتل کیا گیا اور باقی ماندہ تجزیہ نگاروں کو بھی ارشد شریف کی طرح خبردار کر کے بھیگی بلی بنا دیا گیا، ٹی وی شوز بند ہو گئے۔ اور قانونی کارروائی کرنے کے الفاظ کو دہشتگردی سے نہ صرف تعبیر کیا گیا بلکہ اسی پر سال بھر چکر لگتے رہے، اور ڈاکوؤں کو منبر و محراب کی مسندیں مل گئیں ان پر تحقیق و تف کرنے والے سرکاری ملازم بے موت مارے گئے۔ ملک میں سے اشیائے خورد و نوش ختم ہو گئیں، کسان کو انہی تجربہ کاروں کے سابق دور کی طرح برباد کر دیا گیا۔


لیکن

زمین جنبد نہ جنبد گل محمد

اب صورتحال یہ ہے کہ سری لنکا میں تو شاید چند لوگ ایسے تھے جن کے اندر انقلاب فرانس کے جیسی خراب کھوپڑیاں موجود تھیں لیکن یہ تو پاک سر زمین شاد باد ہے یہاں ایسے حالات کی ضرورت کیوں پیش آئے۔

اگے تیرے بھاگ لچھئیے۔

ہفتہ، 18 اپریل، 2020

کراچی میں اموات کی کڑیاں یہاں تو نہیں جڑتیں؟ Deaths in Karachi

کراچی میں دو ماہ قبل جو زہریلی گیس آئی تھی، بقول شخصے وہ ایٹمی پاور پلانٹ سے لیک ہوئی تھی {شاید یہ (عالمی) سازش تھی}۔ کیونکہ اُنہی دنوں میں نے ایک انٹرنیشنل جریدے میں ”فول پروف“ ایٹمی پاور پلانٹس کی اشتہار ٹائپ خبر دیکھی تھی۔ آج کل میڈیا جو قیاس آرائیاں پھیلا رہا تھا، شاید اُس کے پس منظر یہ کہانی ہو۔ 

ہفتہ، 17 اگست، 2019

فی سبیل اللہ فساد۔۔۔ تحریر: عبدالرزاق قادری

میں ایک طویل عرصہ سے کچھ کہنا چھوڑ ہی چکا تھا، آج ایک حضرت صاحب کی ٹائم لائن سے دوسرے اور پھر آگے سے آگے دیکھتا گیا، وہ سارے مولوی صاحبان، علامہ خادم رضوی کی سربراہی میں جہادِ کشمیر لڑرہے تھے اور پاکستانی حکومت و افواج کے خلاف محاذ کھولے بیٹھے تھے، مجھے اعتراف ہے کہ میں بھی حکومت کا ناقد اور کسی حد تک ہمارے نااہل اداروں پر بھی تنقید کرتا ہوں، لیکن میں پاک فوج یا ملکِ پاکستان کا مخالف یا دُشمن ہرگز کبھی نہیں رہا، لیکن ان فی سبیل اللہ فساد والے مولویوں کے طرزِ تخاطب سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ نعوذباللہ شاید نبی کریم ﷺ نے بھی ”دوسروں“ پر قتال محض اپنے اقتدار وغیرہ کے لیے تھا۔ نعوذ باللہ من ذٰلک۔ اِن مولویوں میں سے کتنے لوگ دیانت دار ہیں یہ کون جانتا ہے، ہم تو کسی حد تک اِن کی قبیل سے ہیں، جو کام اِن کے ذمہ ہیں وہ جانے کون کرے گا، جبکہ جو فرائض کسی دوسرے کے ہیں اُن کے متعلق شور مچاتے رہتے ہیں، آج تک مساجد میں دس ہزار روپے تنخواہ تو کروا نہیں پائے (بعض جدید مساجد میں بیس سے پچیس ہزار مل جاتی ہے، لیکن اکثریت کا حصہ بڑے بڑے جثے والے قائدین کھا جاتے ہیں)۔ ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ یہ سارے مولوی اہلِ سنت ہیں، کوئی وہابی یا دیوبندی ٹائپ نہیں، جنہیں کل تک ہم دہشتگرد کہتے تھے کہ وہ ہماری مساجد پر حملے کرنے والوں کا دفاع کرتے تھے، آج یہ اہلِ سنت (بریلوی) بھی خود کو دہشت گرد دہشتگرد قرار دے ہیں۔ انہیں اس بات کا خدشہ کیوں ہے کہ حکومت انہیں دہشتگرد قرار دے گی؟
اگر کوئی ریاست کے خلاف کسی غیر قانونی کارروائی میں متشددانہ ذہنیت کے ساتھ مسلسل ملوث ہوگا تو اُسے ریاست دہشتگرد قرار دے گی، خواہ وہ بریلوی ہو یا پھر شیعہ۔ وہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہوگا تو اُسے بھی اسی زمرے میں رکھا جائے گا۔
اب رہ گئی بات کہ کشمیر میں ظُلم ہو رہا ہے، تو کیا یہ ظلم عمران خان یا پاک فوج کروا رہی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔
دوسری بات کہ، ہر ذی شعور مسلمان کیا، دُنیا بھر کے سلیم الفطرت انسانوں میں اس ظلم کی کی وجہ سے بے چینی پائی جاتی ہے، جس کا اظہار دُنیا بھر میں کیا جا رہا ہے۔
یہ جاہل مولویوں کا ٹولہ، جہاد، جہاد کہہ رہا ہے۔ کیا کبھی جہاد بند بھی ہوا ہے۔ ان بے خبروں کو یہاں تک معلوم نہیں کہ قتال کی بات کرنی ہے یا جہاد کی! اگر قتال کی بات ہے تو علامہ غلام رسول صاحب سعیدی کا قول برحق ہے کہ اپنی آزادی کے لیے لڑنے والے فریڈم فائٹر ہوتے ہیں، اُنہیں دہشتگرد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن کبھی قتال کی شرائط کا بھی مطالعہ فرمالیں کہ وہ کب شروع کرنا چاہیے، اگر شرائط مکمل ہیں تو پاک فوج اور عمران خان کو آگاہ کریں، آپ نے تو ان شرائط کا مطالعہ کر رکھا ہوگا۔
رہا یہ مسئلہ کہ کیا آج بھارت اس قدر طاقتور ہو چکا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کشمیر میں دندناتا پھرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پچھلی سات دہائیوں میں اقوامِ عالم کے سامنے اپنا مدعا رکھنے کے لیے آپ کے سفیروں نے کیا کِیا۔ محض اپنے بچے بیرونِ ملک منتقل کر کے انہیں وہاں کا مستقل رہائشی بنایا! ویسے بہت سے اسلام کے نام لیوا مولویوں نے بھی اسی طرح کی حرکتیں کی ہیں اور پاکستان میں امریکہ شمریکہ کے خلاف جہاد کا درس دیا ہے۔ یہ منافقانہ رویے ہیں۔ پاکستان میں، لاہور میں، کراچی میں، ملتان میں اور دیگر تقریباً تمام علاقوں میں ”مسلمان“ کہلوانے والے بڑے بڑے غنڈے اور درندے عوام الناس کی سانسوں تک، پر حکومت کرتے ہیں اور اُن کا خون پی جاتے ہیں۔ مولویوں نے اُن کے خلاف کیا کِیا۔ سیاسی جماعتوں کے ووٹ انہی غنڈوں کے مرہونِ منت ہوتے ہیں، یہ مولوی لوگ اُن کے ساتھ ایک سٹیج پر جا کر بیٹھتے ہیں اور محافلِ میلاد ہوتی ہیں۔ یہ کس غیرت کی بات کررہے ہیں، جب یہاں لاہور میں (میں اُس وقت ڈاکٹر طاہرالقادری کا ناقد تھا، میرے دوست اس کے گواہ ہیں) جامعہ منہاج القرآن پر گورنمنٹ کے ریاستی دہشتگردوں نے حملہ کیا تو اِن مولویوں نے کیا کیا، میں بتاتا ہوں، 17 اگست 2014ء کو ایک پرویز رشید ہوتا تھا، اُس نے فلسطین کا جھنڈا گلے میں ڈالا تو ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے بھی فلسطین کے حق میں احتجاج کیا، کیا ڈاکٹر صاحب کو لاہور میں بنا ہوا غزہ نظر نہیں آرہا تھا (یاد رہے اُس وقت خادم رضوی گروپ علیحدہ نہیں ہوا تھا، وہ اور جلالی صاحب یک زبان ہوتے تھے)۔
اب دیکھتے ہیں کہ آج خادم صاحب کے ماننے والوں کو ”دہشتگرد“ قرار دئیے جانے کا خدشہ کیوں ہے؟ کیونکہ خادم صاحب کوئی ایک دہائی قبل یعنی تقریباً دس سال پہلے امریکی ایجنسیوں کی پروردہ ”حزب التحریر“ کے ہاتھوں میں کھیل چکے ہیں، یہ دُنیا کی سب سے سخت ترین خوارجی جماعت ہے، یہ داعش سے بھی چار قدم آگے کی چیز ہے، لہٰذا میں اپنے تجزیے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ خادم صاحب ایک خوارجی گروہ کے نمائندہ بن چکے ہیں، اب اگر ان کے ماننے والے مسلمانوں ہی کو کافر قرار دے کر قتل کرنا جائز قرار دے دیں تو کچھ حیرت کی بات نہ ہوگی۔16 اگست 2019ء

پیر، 12 نومبر، 2018

The Modern Jihadists: Khawarij or Mujahideen? ~ Dr. Yasir Qadhi





Is the killing of Non-Muslim Civilians allowed in #Islam? Does Islam legitimate any (right or wrong) act of Muslims...?

Difference between #Jihad and #Terrorism... What's the mentality of #Khawarij... Status of Khawarij in #Islam... Does Islam justify the acts of #terror...? The #History of #Modern terrorism... Who attacked on #Mecca in 1979...? Which #organization planted the "#Assassination of #AnwarSadat..?

Who is Doctor Fadl and Imam al-Sharif..?

Where did Osama Bin #Laden and Ayman al #Zawahiri got the ideology of #Jihad from...?

Who wrote the #EncyclopediaOfJihad and then its rejection #Tarsheed al-Jihad...?

What did the Prophet Muhammad say about Khawarij and the signs of Khawarij...?

Who framed the fake Imam al-Mahdi and killed innocent #Muslims...?

#AlQaeda, #Daish, #Isis, #Taliban #BokoHaram #AlShabab

اتوار، 11 نومبر، 2018

ماسکو روس میں طالبان کی میٹنگ۔ ایک مختصر پس منظر

تحریر: عبدالرزاق قادری
روس کی دین دُشمنی، الحاد پسندی، خُدا کے انکار کے سبب اور مُسلم ممالک کو تاراج کرنے کی وحشیانہ یلغار کو روکنے کے لیے مُسلم اُمت کے ”مجاہدین“ طالبان امریکہ کے ساتھ مل کر یہ جنگ لڑتے رہے یا یوں کہہ لیں کہ امریکہ کی یہ جنگ لڑتے رہے، پھر نائن الیون کا اندوہناک سانحہ ہوا اور اُسامہ بن لادن اینڈ کمپنی پر الزام عائد ہوا، افغانستان میں قائم طالبانی حکومت نے اُس اسامہ کو امریکہ کے حوالے سے انکار کر دیا تو امریکہ نے 2001ء ہی میں افغانستان پر یلغار کر دی۔

طالبان کے سابق حمایتی تب اُس امریکہ کے ساتھی بن گئے، پھر طالبان نے پاکستان میں بھی ایک طویل وحشیانہ قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھا اور افغانستان میں بھی امریکی افواج کے خلاف لڑتے رہے، کبھی کبھی اُنہی امریکیوں سے پیسے لے کر (پاکستانی مُسلمانوں خصوصاً سُنی اور شیعہ مکتب کی مساجد، درگاہوں اور امام بارگاہوں کو بموں سے اُڑایا اور عیسائیوں کے گرجا گھروں پر بھی اپنی بربریت کے پہاڑ توڑے، اِس جنگ کو امریکہ نے ”دہشت پر جنگ“ قرار دیا ہوا تھا۔ البتہ اس دہشت سے وہابیوں اور دیوبندیوں کی مسجدیں، مدارس اور تبلیغی مراکز محفوظ رہے، ہر حملے کے بعد اکثر لوگ اِن حملوں میں امریکی، بھارتی اور اسرائیلی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کی افواہیں اُڑاتے لیکن کبھی تردید نہ کی گئی لیکن ایک بار صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک دیوبندی تبلیغی مرکز پر حملہ ہوا تو کسی نے امریکہ کا نام لیا، تو فوراً امریکی حکام کی جانب سے رد کیا گیا کہ ہمارا اس حملے سے کوئی تعلق نہ ہے۔) اُس کے بعد سے امریکہ کو مذہب دُشمن، مُنکرِ خُدا بلکہ ہمارا باس ”اللہ یا امریکہ؟“ جیسے القابات و نعروں سے نوازا گیا۔

کبھی ان طالبان نے پاکستان کے کہنے پر پاکستان کے دشمنوں کے حساب کو چُکتا کر دیا۔ کبھی پاکستان کے ایک سپہ سالار نے رشوت میں اپنی سروس کی تین سالہ توسیع کی بنیاد پر جو بھارتی کمپنیوں کو پاکستان کی سڑکیں پیپلز پارٹی کے کہنے پر روندنے کے لیے دے دیں تو انہوں نے زمینی راستوں سے افغانستان اور قبائلی علاقوں میں مقیم طالبان کو چارہ ڈالا اور پاکستان میں 2013ء اور 2014ء میں آگ لگی رہی (جس پر ایک فلم ”وآر“ بھی بنی)۔ پھر 2014ء کے 16 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول میں ایک خونچکاں سانحہ ہوا اور جونئیر سمیت سینئر فوجی افسران کے بچے بھی اُس کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اُس کے بعد ”نیشنل ایکشن پلان“ تشکیل دیا گیا اور سابق آرمی چیف سمیت موجودہ نے بھی پہلے سے گرفتار دہشتگردوں کو ملٹری کورٹ سے سنائی جانے والی سزائے موت پر دستخط کیے اور مُجرم پھانسیوں پر چڑھا دئیے، بعد میں بعض ایسے دہشتگردوں کو بھی پھانسی دی گئی جو حالیہ واقعات میں ملوث تھے۔

سن 2015ء سے پاکستان میں قوم کی بڑے پیمانے پر انڈین ایجنسی ”RAW“ کے خلاف ذہن سازی کی گئی اور اُس کے بعد اخبارات کی اطلاعات کے مطابق افغانستان میں دھماکوں میں شدت آئی، خصوصاً حکومتی مقامات اور عہدے دار اس کا نشانہ بنتے رہے۔

ٹھہریئے! اس دوران 2010ء سے جنم لینے کے بعد، 2011ء اور 2012ء میں پروان چڑھنے کے 2013ء اور 2014ء میں عراق و کے شام کے بارڈر پر ایک شدید نوعیت کی فسادی تنظیم ”داعش“ نے قرنِ شیطان کی مثل سر اُٹھایا اور دُنیا دہشت کے نئے مفاہیم و معانی سے آشنا ہوئی اور القاعدہ کو بھول گئی، داعش کے قیام میں جہاں تک مالی امداد کا تعلق رہا ہے تو اُس میں سعودی عریبیہ کے کچھ مالدار لوگوں کا کردار تھا، اُنہیں سعودی حکومت نے اس لیے نہ روکا کہ ”چلو شام کی حکومت والی شیعے مریں گے، ہمیں کیا فرق پڑتا ہے“۔ اس تنظیم کو اسلحہ پہنچانے کے لیے امریکی کمپنیوں اور ایجنسیوں کا کردار تھا اِن کے خبیث جنگجوؤں کی تربیت کے لیے اسرائیل سے لے کر ”دُنیا بھر“ کی ایجنسیوں کا کردار شامل تھا (میرا یہ بھی ماننا ہے کہ نائن الیون کے حملے میں بھی ”دُنیا بھر“ کی ایجنسیوں کا حصہ شامل تھا، کیونکہ نیو ورلڈ آرڈر یونہی نہیں بنا کرتے)۔ بعد میں جب سعودی عریبیہ کو خدشہ ہوا کہ مبادا داعش، عراق کے علاقوں کو چیر کر سعودیہ کے گھر تک جا پہنچے تو اُس نے اپنے بارڈر کی سکیورٹی مزید مضبوط کی اور حج کے خطبے میں بھی اِن دہشگردوں کے خلاف بیان جاری کرایا (واضح رہے کہ، یہی سعودیہ روس کے خلاف لڑنے والے ”مجاہدین“ کو فنڈنگ دیتا رہا تھا، پھر نائن الیون کے بعد ان دیوبندی طالبان کی امداد بند کر دی اور لشکرِ طیبہ (جماعۃ الدعوۃ) کی امداد جاری رکھی، اب شاید ان کی بھی بند کر دی ہو)۔

اس ساری صورت حال میں ترکی کا کردار نہایت مجرمانہ رہا ہے، جسے کسی جنگ کا بظاہر سامنا نہ تھا، سوائے کُرد حریت پسندوں کے (یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی قومیت کی بناء پر ایران، عراق، ترکی اور شام کے سنگھم پر ایک آزاد ریاست کے خواہاں ہیں)۔ لہٰذا ترکی کے کرپٹ اور بے غیرت سیاستدان رجب طیب اردگان نے داعش کی مدد جاری رکھی، وہ یوں کہ اُس کا بیٹا بلال طیب داعش کے دہشتگردوں سے تیل خریدتا رہا۔۔۔ سو ”کام“ چلتا رہا۔۔۔ ترکی نے داعش کو کُردوں کے لیے ”اللہ کا عذاب“ بنا دیا اور مزے سے بیٹھ کر اپنے ہمسائے میں تین مُلکوں میں جاری بے سر و پا جنگ کا تماشا دیکھتے رہے، اور انجوائے کرتے رہے۔

سن 2013ء میں رجب طیب اردگان کی کرپشن سامنے آئی تو وہ خود کو ایکسپوز کرنے والے میڈیا کے خلاف ہو گیا، اپنے پیر جیسے اُستاد بھائی ”فتح اللہ گئولن“ کے خلاف ہو گیا، پھر ایک بار آرمی میں مارشل لاء کی سوچ چلی تو طیب اردگان کو خبر ہوگئی، وہ نہ صرف بچ نکلا، بلکہ سرکاری خرچ پر اپنے لیے ایک مخصوص ”ذاتی سیکویرٹی ایجنیسی“ تشکیل دے ڈالی، جس کا کام فوج کی جاسوسی کرنا ہے تا کہ وہ مارشل لاء کا نہ سوچ پائے، لیکن شومئی قسمت جولائی 2016ء میں ترکی کی ائیر فورس نے مارشل لاء لگانے کی کوشش کی، اور آرمی چیف کو بھی یرغمال بنا لیا، اُس وقت رجب طیب اردگان مُلک سے باہر تھا، اور ایسے واقعات اتفاق نہیں ہوا کرتے۔ پھر طیب اردگان سوشل میڈیا پر ظاہر ہوا اور قوم سے مدد کی اپیل کی، اُسی ذاتی سیکیورٹی ایجنسی کے بدمعاش ”گُلو بٹ“ سڑکوں پر آ گئے اور ائیر فورس کی بغاوت کی کوشش ناکام بنا دی۔ دُنیا کے اکثر میڈیا گروپس نے کہا کہ ترکی کے عوام رجب طیب کے ساتھ محبت کرتے ہیں اس لیے، عوام اور پولیس نے ائیر فورس کو ”لوہے کے چنے“ چبا دئیے۔

اسی اثناء میں سعودی عریبیہ سے یمن میں ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور پھر پاکستان کی افواج کر ”ہائر“ کرنے کی باتیں چلتی رہیں، کہ یہ جا کر یمن میں سعودی عقیدے کی جنگ کرایہ پر لڑیں گی لیکن اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس قسم کی کسی پیشکش کو ٹھکرا دیا لیکن ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم جانے کس مد میں وصول کر لی تھی، بہرحال اس کے بعد بھی یمن میں سعودیہ کی جانب سے بمباریوں کے سلسلے جاری رہے اور ہنوز جاری ہیں (ان برسوں میں سعودی عرب کے اندر بھی شیعہ کمیونٹی کو ختم کی بھر پور کوشش کی گئی، شیخ نمر باقر النمر کا قتل اس کی ایک مثال ہے)۔

داعش کے اُبھرنے کے بعد ایران و عراق میں مقیم قدیم مجوسی عقیدے کے لوگوں کو اخبارات نے ”یزیدی“ کے عنوان سے پہچان دی حالانکہ یہ عنوان غلط تھا جبکہ آج تک اخبارات میں استعمال ہورہا ہے۔ اس کے لیے ”ایزدی“ شاید درست عنوان تھا، اس قوم کے ساتھ بھی داعش کے جنگجوؤں کا رویہ ظالمانہ رہا۔

ایران کو فلسطین اور یمن میں موجود ”حزب اللہ“ سے کچھ لینا دینا تھا، اُسے یمن میں موجود شیعہ جماعتوں سے بھی ہمدردی تھی، امریکہ گِدھ کی ناک ایران کی طرف سے آنے والی کیمیکلی فضاؤں کو سونگھ کر فیصلہ نہیں کر پارہی تھی کہ شمالی کوریا کی طرح ایران کی مرگ قبل از موت ممکن ہے یا نہیں، کیونکہ حملہ اُسی ملک ہر کرتا ہے جس کا اُسے یقین آ جائے کہ اس کے پاس ”ایٹمی طاقت“ نہیں ہے۔ تو قارئین کرام! ایران نے اپنے ہم مسلک ”حزب اللہ“ کے جنگجوؤں اور یمن میں حوثی زیدی شیعوں کی امداد جاری رکھی۔

اپریل 2017ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے سرکاری دورے میں سعودی عرب میں اکثر مُسلم ممالک کے عمائدین کو ایک نئے ورلڈ آرڈر کا درس دیا۔ اس میں ایک عنصر قطر بھی ہے، قطر میں سے بھی کئی امیر لوگ داعش کے لوگوں کو فنڈز دیتے تھے، اب چونکہ سعودی عرب امریکہ سے ایک بلین ڈالرز سے بھی زائد مالیت کے اسلحے خریدنے کی ڈیلز کر چکا تھا لہٰذا اُس نے بھی قطر پر دباؤ ڈالا کہ ہمارے ”امیر المملکۃ السعودیہ جناب ڈونلڈ ٹرمپ“ کی بات مان لو! لیکن قطر اپنی بات پر مُصر رہا۔ سن 2017ء میں امریکہ نے انہیں خبردار کیا، اور اُن پر حملہ کرنا چاہا (یاد رکھیں داعش کے قیام و انصرام میں امریکا کا خود بھی، بلکہ سب سے بڑا کردار تھا) لیکن ایران جو کہ قطری وہابیوں کا نطریاتی مخالف تھا اُس نے عراق کو راستے دے دئیے، سعودیہ اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف وسط ایشیائی ممالک اُس کا بائیکاٹ کر چکے تھے، بلکہ ایک بار تو قطریوں کے حج ادا کرنے پر بھی پابندی لگ گئی تھی، لیکن پھر وہ کھل گئی اب وہ پاکستانیوں اور بھارتیوں کی طرح باقاعدہ ویزہ لے کر اور جہاز وغیرہ کا سفر کر کے جا سکتے ہیں اُن کا خرچ بھی تقریباً پاکستانیوں کے خرچ کے برابر ہوتا ہے، پہلے وہ بارڈر پار کرکے آسانی کے ساتھ کم خرچ بالا نشین کے مصداق سستا حج کر لیتے تھے۔

آج جبکہ ”فادر آف طالبان“ کی وفات ہو چکی تو ماسکو روس میں طالبان کی میٹنگ منعقد ہوئی ہے جس میں طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

بی بی سی نے لکھا ہے، ”افغانستان کی امن کونسل کے ارکان نے جمعے کے روز ماسکو میں ایک کثیر ملکی کانفرنس کے دوران طالبان کے ایک وفد سے ملاقات کی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے کسی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی ہو جس سے افغانستان کے تنازعے کے سیاسی حل کی امید روشن ہو گئی ہے۔

روسی خبررساں ادارے آر آئی اے کے مطابق امن کونسل کے ترجمان احسان طاہری نے کہا: 'ہم نے طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے موضوع پر بات کی اور ان سے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے جگہ اور وقت مقرر کریں۔'

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکہ کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد بھی طالبان کے ساتھ قطر میں ایک الگ ملاقات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ 'ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ سیاسی حل کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، اور اس بات کی ضرورت ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ملک اور علاقائی شراکت دار بھی فعال طریقے سے اس میں حصہ لیں۔'

مغربی ملک اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کی حکومت روس میں ہونے والے اس اجلاس کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس عمل کی قیادت افغانستان کو کرنی چاہیے۔

طالبان کے پانچ رکنی وفد کے علاوہ اس اجلاس میں پاکستان، انڈیا، چین، امریکہ، قطر اور دوسرے ملکوں کے علاوہ کئی اہم افغان سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں سے بعض کے اشرف غنی کی حکومت سے اختلافات چل رہے ہیں۔ “

جمعہ، 31 اگست، 2018

گیرٹ وائلڈرز نے گستاخانہ کارٹون کا مقابلہ کینسل کر دیا

گیرٹ وائلڈرز، ہالینڈ میں ایک اسلام مخالف اپوزیشن لیڈر نے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ کارٹونز کا مقابلہ منعقد کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں احتجاج پھوٹ پڑے تھے
یہ انتہا پسند سیاستدان، جو کہ مہاجرین اور اسلام کے خلاف اپنی اشتعال انگیز تقاریر کی وجہ سے مشہور ہے اس نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ وہ نومبر میں اپنے منصوبے کے مطابق اس مقابلے کے انعقاد کی وجہ سے دیگر خطرات سے دوچار نہیں ہونا چاہتا۔
اس نے ایک تحریری بیان میں موت کی دھمکیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اسلامی تشدد سے متاثر ہونے کے ڈر سے میں نے کارٹون مقابلہ نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے“۔
اس طے شدہ مقابلے کی خبروں نے پاکستان میں شدید غم و غصے والے احتجاج کو جنم دیا ہے اور رواں ہفتے میں ایک چھبیس سالہ مبینہ پاکستانی نوجوان کی طرف سے موت کی دھمکی دی جانے کی بنا پر اسے منگل کو ہیگ میں گرفتار کر لیا گیا ہے
اس سے پہلے جمعرات کو ایک ولندیزی جج نے اس ملزم کی حراست میں توسیع کر دی تھی جو مبینہ طور پر گیرٹ وائلڈرز پر حملہ کرنا چاہتا تھا
پراسیکیوٹر نے ایک بیان میں کہا کہ ایک تفتیشی جج نے ملزم کو زیرِ حراست رکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس دوران میں اس پر دھمکی دینے، قتل کی تیاری کرنے اور اُکسانے کی تفتیش کی جا سکے
ایک سیاسی سائنسدان ٹیجن وان کیسل نے الجزیرہ کو بتایا کہ وائلڈرز کی جانب سےاس مقابلے کے انعقاد کا مقصد محض اپنی کم ہوتی ہوئی عوامی مقبولیت کے باعث، میڈیا کی توجہ حاصل کرنا تھا
کیسل کا کہنا تھا کہ ”وہ اس کارٹونسٹ مقابلے میں سنجیدہ نہیں تھا لیکن اس ذریعے سے اس نے میڈیا کی توجہ حاصل کر لی؛ اور اسے امید ہے کہ بالآخر وہ اس کے بدلے ووٹ حاصل کرلے گا“۔
اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی تشبیہ یا تصویر وغیرہ پیش کرنا منع ہے اور مسلمانوں کے لیے گہرے دکھ کا باعث بنتا ہے
پاکستان میں وائلڈرز کے منصوبے پر ردعمل کے طور پر ہزاروں لوگوں نے جمعرات کو دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کیا ہے
تحریکِ لبیک پاکستان نے بُدھ کے روز ایک لاکھ حامیوں نے حکومت کو نیدرلینڈز کے ساتھ سفارتی تعلقات کو ختم کرنے کے لیے زور دینے کے لیے ایک مارچ کیا تھا۔
پاکستان کی حکومت نے اس مقابلے کے خلاف اقوامِ متحدہ میں احتجاج کرنے کا عندیہ دیا تھا
ولندیزی حکومت کو خود کو اس کارٹون مقابلے سے علیحدہ کر لیا ہے،  وزیر اعظم مارک روٹ  نے واضح کیا ہے کہ اپوزیشن  جماعت فریڈم پارٹی کا لیڈر گیرٹ وائلڈرز  حکومت  کا حصہ نہیں ہے۔
وائلڈرز نے جون میں اس مقابلے کے انعقاد کا اعلان کیا تھا جس کے لیے 200 اینٹریز ہوئی تھیں اور جیتنے والے کو نقدی کے انعام بھی ملنا تھا۔
رپورٹ: الجزیرہ، ترجمہ: عبدالرزاق قادری

منگل، 26 ستمبر، 2017

کینولہ، کسان اور زراعت

===== کینولہ کانفرنس =====
آج وہاڑی میں کینولہ کی کاشت آگاہی کی کانفرنس ہےجو اب تک تھی کا درجہ حاصل کر چکی ہوگی، بہت سے کسان اپنے خرچے پر آئے ہونگےکافی باتیں کی گئی ہوں گی ، پنجاب کے وزیرِ زراعت بھی موجود ہونگے اور زراعت کا عملہ بھی موجود ہوگا، چادر یعنی مجھلی والے کسان پچھلی نشستوں پر ہونگے ، شلوار قمیض والے کسان ان سے اگلی صف پر ہونگے ، ان سے آگے ڈیلر صاحبان تشریف فرما ہونگے ، اگلی صف پر ویسٹ کوٹ پہنے لوگ بیٹھے ہونگے اور سٹیج پینٹ کوٹ والے لوگوں کی جلوہ گاہ ہوگا۔ مجھے دعوت تھی کہ میں کینولا کے بارے میں کسانوں کو آگاہ کروں ، اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو کینولہ کے ابتدائی کاشت کاروں میں سے میں ایک کاشت کار ہوں جس نے طریقہ کاشت تک کمپنی کو سمجھایا جس سے کینولہ کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائی جا سکتی ہےابتدائی دنوں میں آئی سی آئی کے فیلڈ ماہرین نے کینولہ کو کھیلوں پر کاشت کرنے سے منع کیا تھامگر میں نے کھیلوں پر کاشت کرکے زیادہ پیداوار لے کر ماہرین پر ثابت کیا تھا کہ کتاب کا علم ذہن تک ہے جب تک کسی بھی علم کو پانچوں حواس سے استعمال نہ کیا جائے اس کا فیض جاری نہیں ہوتا یعنی تجربہ علم پر حاوی ہے، دوسری وجہ یہ تھی کہ مجھے تھوڑا بہت بولنا آتا ہےبولنا بھی کیا کہ یہاں سچ بولا ہی نہیں جا سکتا آپ بس یوں سمجھیے کہ مجھے مجمع لگانا آتا ہے، اپنی تقریری زندگی میں میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگ سچ سننا ہی نہیں چاہتے بلکہ باتوں کا تڑکا سننا چاہتے ہیں جسے تعلی یا مبالغہ کہا جا سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ زراعت کو اجاڑنے میں حکمرانوں کا بہت بڑا ہاتھ ہےجب ہم حکمران کی بات کرتے ہیں تو یاد رہے ایک سپاہی سے لے کر صدرِ پاکستان تک سب حکمران ہیں یعنی محکمہ زراعت کے فیلڈ اسسٹنٹ سے لے کر وزیراعظم پاکستان تک سب حکمران ہیں، یہ بات غالباً 2004 کی ہے جب پہلی بار کینولہ کاشت کیا گیا تھا ، اس کے بے شمار فائیدے ہوئے ، اکتوبر میں کاشت ہونے والی یہ فصل تین پانیوں کی فصل ہے اور بہت کم کھاد وغیرہ پر زیادہ آمدنی والی فصل ہے مجھے یاد ہے تب 2950 روپے یا 2850 روپے کے مجموعی ریٹ پر کینولہ فروخت کیا تھا ، کم دورانیے کی وجہ سے کپاس کی فصل کی کاشت بھی جلدی ہو جاتی تھی اگیتی کاشت کی وجہ سے کپاس کی فصل جو کینولہ کے کھیت کے بعد اسی رقبے میں لگائی جاتی تھی کی آمدنی بھی نسبتاً زیادہ ہوتی تھی، دیکھا دیکھی کینولہ دیگر کاشت کاروں نے بھی کاشت کرنا شروع کر دیا اور یوں ربیع اور خریف کی فصلیں زبردست منافع والی فصلیں بن گئیں پھر 2008 آیا مشرف صاحب گئے جمہوری حکومت آئی تب بھی یہ فصلیں لہلاتی ہوئی ہوتی تھیں2009 بہت شاندار رہا پیداوار کے حساب سے بھی اور نرخ کے حساب سے بھی ، مگر بعد میں کینولہ آہستہ آہستہ کم آمدنی والا ہوتا گیافی ایکڑ پیداوار کم ہوتی چلی گئی جسے موسم کے تغیر و تبدل کے سر تھوپ دیا جاتا رہاحتیٰ کہ 30 من فی ایکڑ پیداوار والا کینولہ 10 من تک رہ گیا اور ریٹ سکڑ کر 2200 تک آگیاجبکہ اسی دوران ڈیزل مہنگا ہوا بجلی مہنگی ہوئی ٹریکٹر مہنگا ہوا کھادیں مہنگی ہوئیں مارکیٹ میں ہر چیز مہنگی ہوئی مگر کینولہ ، کپاس ، آلو ، گنا وغیرہ پیداوار میں بھی کم ہوئے اور ریٹ بھی کم ہوئے، اب اس کا ذمے دار کون ہے مارکیٹ یا حکومت۔
ہمارے ہاں آج تک سورج مکھی ، کینولہ ، آلو اور بہت سی سبزیوں کے بیج امپورٹ کیے جاتے ہیں یعنی ہائبرڈ سیڈ ٹیکنالوجی نہ ہونے کے برابر ہے اور ہمارے امپورٹرز ملک سے زیادہ اپنی املاک سے مخلص ہیں جب کسی چیز کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے تو اس میں ملاوٹ شروع ہو جاتی ہے یہی حال کینولہ کے بیج کے ساتھ بھی ہوا آئی سی آئی سے خریدا گیا بیج بھی اپنے اندر وہ طاقت نہیں رکھتا تھا جو کبھی ماضی میں پیداواری صلاحیت والا بیج ملتا تھا، کینولہ کی کاشت کا ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ بیج سفارش سے لینا پڑتا تھا ۔
آج وہاڑی میں آئی سی آئی نے کینولہ کی کاشت کی ورکشاپ کی تھی کینولہ جو 30 من فی ایکڑ پیداوار سے کم ہو کر 8 من فی ایکڑ تک رہ گیا ہے اور لوگوں نے کاشت کرنا چھوڑ دیا ہےاب نہ کوئی سفارش سے بیج حاصل کرتا ہے اور نہ کسی کے پاس کینولہ کے بعد کاشت ہونے والی کپاس کو کاشت کرنے کی ہمت ہے، کسان اپنی بھوک کے باعث بحریہ ٹاؤن اور ڈیفنس میں بننے والے گھروں کی اینٹیں ڈھو رہا ہے ، زرعی زمینیں اجڑ کر کالونیاں بن رہی ہیں اور رہی سہی مٹی اینٹوں کے کام آ رہی ہے ، اسوقت ہمارا ملک آب و ہوا کی آلودگی کا شکار ہے اور فصل نہ ہونے کی وجہ سے کسان اپنے رقبے میں لگے درخت بیچ رہے ہیں جو فرنیچر اور جلانے کے کام آ رہے ہیں ، بجلی کی کمی کے باعث بہت سے کارخانے لکڑی جلا کر چلائے جا رہے ہیں جس سے آلودگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، آپ ملتان جائیں کبھی سینکڑوں ایکڑوں پر پھیلے آم کے باغات کٹ چکے ہیں اور ڈیفنس بن چکا ہے بہت اچھی رہائشی سوسائٹی ہے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے انمول تحفہ مگر وہ کس آب وہوا میں سانس لیں گے جو تب تک زہر سے بھر چکی ہوگی کیونکہ ہم سڑک چوڑی کرنے کے لیے درخت کاٹتے ہیں گھر بنانے کے لیے درخت کاٹتے ہیں ، فیکٹری چلانے کے لیے درخت کاٹتے ہیں درخت کیا کاٹے گویا اپنے سانس کاٹے۔
کچھ ایسی ہی تقریر میں نے کرنی تھی جسے نہ کرنے کا فیصلہ کر کے میں نے خود کو حکومت دوست ثابت کر دیا ہےکیونکہ حکومت نے کسان کے بارے پالیسیاں بنانے میں کبھی کسان کو تو شامل ہی نہیں کیا اب یہ مت کہیے گا کہ وزیرِ زراعت بھی کسان ہے وزیرِ زراعت تو اول آخر کسان ہے پر اس کا سیکرٹری کسان نہیں ہے اور کرنا سب کچھ سیکرٹری نے ہے، سیکرٹری جو کہ اصل میں وزیر کا جواب دہ ہے پر ہے نہیں، دیکھیے آپ سب کہتے ہیں طاقت کے زور پر ووٹ لیا جاتا ہے تو پھر ووٹ کی طاقت کیا بلا ہےیہ میں نہیں سمجھ سکا۔
کالم نگار سیاست درست کر رہے ہیں گویوں کی طرح راگ درباری ایجاد کر رہے ہیں تان سین نے تو شرط رکھی تھی کہ بادشاہ سلامت یہ راگ آپ کی فرمائش پر بنایا گیا ہے لہٰذا اسے آپ تخت سے اتر کر میرے پاس بیٹھ کر سنیں گےنئے تان سین اس شرط کے بغیر اونچی اور دھیمی سروں والے راگ اپنے اپنے حکمران کو سنا رہے ہیں اور بدلے میں سانس کٹتے جا رہے ہیں زراعت کا اجڑنا سانسوں کا اجڑنا ہے کیونکہ ہر پودا ہر درخت ہمیں آکسیجن دیتا ہےپودے ہو نہیں رہے اور درخت کٹ رہے ہیں
ندیم بھابھہ

جمعرات، 23 مارچ، 2017

23 مارچ 1940ء تا 2017ء کیا کھویا کیا لایا

قراداد لاہور یعنی قرارداد پاکستان کے سات برس پاکستان حاصل ہوا

لیکن بہت سے علاقے چھن گئے، پاکستان کو اس کے خزانے میں سے بھی مکمل حصہ نہ ملا،  انتظامیہ کو سہولتیں نہ مل سکیں، مہاجرین اور لاشوں کے معاملات درپیش آئے

پھر 1949ء میں قرارداد مقاصد منظور ہوئی جس کی رو پاکستان کے آئین اور قانون کی بنیادیں اسلامی قانون پر استوار کرنے کا عہد ہوا

لیکن اس سے پہلے جہادِ کشمیر میں مکمل کشمیر آزاد نہ ہو پایا جنرل گریسی نے اپنے چیف کمانڈر کا حکم نہ مانا

رانا لیاقت علی خاں نے بطورِ وزیراعظم ڈکٹیٹر کا عہدہ سنبھال لیا لیکن افسوس انہیں ایک نجانے کس نے قتل کر دیا اور وہ شہید ملت کہلائے

پھر غداروں کی ایک فوج ظفر موج نے اپنی باریاں شروع کر دیں

سکندر مرزا جیسے رذیل بھی پاکستان کے حکمران بنے اور پھر خود ہی مارشل لاء لگوا کر کھڈے لائن لگ گئے

پھر ایوب خاں نے انقلابی کارنامہ ہائے سرانجام دیئے لیکن پاکستان کو قرضوں کی دلدل میں دھنسا گئے

محترمہ فاطمہ جناح کی شان میں ہر قسم کی گستاخی روا رکھی گئی

منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم وجود میں آئے

تعلیم کے لیے آج تک کسی حکومت نے کوئی قابلِ ذکر کارنامہ نہیں دکھایا

تب 1965ء کی جنگ جیت کر میز پر ہارے

پھر ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جھوٹ کی تھیلی میں سے تاشقند معاہدہ نکالنے کی کوشش کی لیکن آج تک وہ بلی اسی تھیلے میں ہے اسی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی وجود میں آئی

پھر مشرقی پاکستان کھویا

جنرل یحییٰ جیسا بد قماش بھی مکروہ دھندوں میں مشغول رہا

پھر 1973ء میں آئین میسر آیا

پھر بھٹو صاحب ڈکٹیٹر کی اداکاری کرنے لگے تو ان سے بھی بدتر جنرل ضیاء الحق مسلط ہو گئے

پھر پاکستان نے جوہری توانائی حاصل کر لی

ضیاء کے بعد پیپلز پارٹی اور نوازشریف پارٹی کی باریاں شروع ہو گئیں

پھر ایٹمی دھماکے کیے گئے

پھر کارگل ہارے

پھر پرویز مشرف ہیرو بن کے آیا لیکن بعد میں نہایت بزدلانہ فیصلے ہوئے ، پاکستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی ملی

دہشتگردی کا جو بیج "الذوالفقار" نے بویا تو لشکرِ جھنگوی اور طالبان تحفے میں ملے جنہیں آج تک پاکستان کے کرتا دھرتا سینے سے لگائے بیٹھے ہیں

پھر میثاقِ جمہوریت اور این، آر، اوز ہوئے اور خلق خدا کی وہ حکمرانی قائم ہوئی کہ جس سے آج تک پاکستان کے درو دیوار چمک رہے ہیں اور عوام کے چہرے دمک رہے ہیں

اب پاک چین راہداریاں اور غلام گردشیں بن رہی ہیں اور پاکستان ترقی کی نت نئی منازل طے کر رہا ہے، امن اس قدر وافر ہے کہ ہر چھ ماہ کے بعد ایک نئی فورس جنم لے رہی ہے لیکن پھر وہ ”اشرافیہ“ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، جج سلطان راہی کی طرح بیانات جاری کرکے عوام کو محظوظ کرتے ہیں اور اہلِ اقتدار ٹی وی پر لوگوں کی ماؤں بہنوں پر اپنے افکارِ عالیہ کا اظہار فرماتے ہیں، ہر بار الیکشن آرمی کے زیرِ سایہ منعقد ہوتے ہیں اور وہاں سے اُن کے من پسند ”گلو بٹ“ مسندِ اقتدار پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ اوہ! ایک سونامی آنا تھی وہ جانے کیا ہوئی اور بھائی لوگ بھی آج تک بھائی ہیں۔
؎                                                                                                                                                                                                                                    وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے


منگل، 24 نومبر، 2015

سانحہ فرانس اور ہم

میں نے سانحہ فرانس پر کئی بار لکھنے کا سوچا پھر سوچا کہ رہنے دوں، اس جنونی قوم کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہاں مُلّا نے ان کی برین واشنگ کی ہوئی ہے اور اپنے بیٹے امریکہ میں 'اعلیٰ تعلیم' کے لئے بھیج رکھے ہیں۔ ان خبیثوں کے گھر میں نہ کوئی دھماکہ ہوا اور نہ ہی ان کا کبھی کوئی عزیز اس طرح کی اندوہناک موت سے دوچار ہوا، یہ شراب کے جام چڑھا کر قوم کو فوٹو شاپ سے وڈیوز اور تصاویر بنا کر دے دیں گے کہ دیکھو مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے! بھئی فرانس میں دہشت گردی کی واردات کا مسلمان اور کافر سے کیا لینا دینا؟ کیا یہ مسلم اور غیر مسلم کی جنگ ہے؟ اگر کسی نے ایک ظلم کے خلاف احتجاج کے لئے فرانس کا جھنڈا لگا لیا تو کونسی قیامت آگئی۔ اس واردات میں کئی مسلمان مارے گئے ہوں گے بلکہ ایک مسلمان کی خبر آئی تھی وہ  اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کی مدد کرتا رہا ۔ چند ماہ قبل جب وہاں  اس گستاخ میگزین کے دفتر پر حملہ ہوا تھا تو خبروں سے معلوم ہوا کہ فرانس کی پولیس میں مسلمان سپاہی بھی ہیں! نجانے میری قوم کو کس پاگل کتے نے کاٹ لیا ہے؟ یہ عقل و شعور سے پیدل ہو چکے ہیں۔ بھئی ظلم جہاں بھی ہو قابلِ مذمت ہے۔
 اس درندگی کے واقعہ کے بعد پشاور سکول کے شہید بچوں کے والدین کے زخم  ایک بار پھر سے تازہ ہوگئے اور وہ روئے، لیکن جس کو معلوم ہی نہیں کہ دکھ درد کیا ہوتا ہے وہ تو ایک ڈی-پی لگانے پر بھی ٹوکہ پکڑ لے گا۔ جب ہمارے ہاں کوئی افسوسناک واقعہ پیش آتا ہے تو ساری دنیا کے لوگ درد سے بلک اٹھتے ہیں لیکن میری حرام کھانے والی قوم کو کیا معلوم کہ کسی  کا درد کیا ہوتا ہے۔
            مجھے صد ہزار مرتبہ یقین ہے کہ قوم کو ملالہ کے خلاف اکسانے اور سانحہ پیرس کے خلاف بھڑکانے میں طالبان کی سوچ کارفرما ہے، طالبان کوئی خلائی مخلوق نہیں یہی دیوبندی مدارس کے جنونی درندے ہیں، وہ لال مسجد سے ہوں یا رائیونڈ سے یہ سب داعش کے ہمنوا ہیں۔
بھائی لوگو! ذرا ہوش سے کام لو۔ جس نے فرانس کے مقتولین کا دکھ منایا، ُاس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ وہ مسلمانوں کا دشمن ہے۔ جس  دن سانحہ پشاور ہوا تھا، وہ 16 دسمبر 2014ء تھا۔ آپ گوگل میں یہ تاریخ لکھ کر کسی بھی اخبار کا نام لکھیں آپ کو بے شمار کافر ،اس سانحہ پر افسوس کرتے دکھائی دیں گے۔ کیا بھارت کے سکولوں میں بچوں نے افسوس میں خاموشی اختیار نہیں کی تھی۔۔۔۔۔ بلکہ میں نے تو شاید اُسی رات گارڈین میں افریقہ سے لکھا ہوا کسی کا تعزیت نامہ پڑھا تھا۔ پوری دنیا کے لوگ خون کے آنسو روئے تھے۔ اللہ اس طرح کے حادثوں سے محفوظ رکھے۔
دوسری قسط:معذرت کے ساتھ!

جمعرات، 10 ستمبر، 2015

علامہ غلام رسول جلالی کا پہلا عرس مبارک

میں آج بعد نماز ظہر، مولانا غلام رسول کے عرس میں جامع بلال مسجد کباڑی مارکیٹ، بلال گنج لاہور میں حاضر ہوا۔ یہ ایک محفل تھی جس میں قرآن مجید کی تلاوت، حمد و نعت کے علاوہ علامہ رضائے مصطفیٰ نقشبندی کا بیان ہوا۔ سوا چار بجے میں واپس آگیا، میری کلاس کا وقت قریب آرہا تھا، جب میں مسجد کے دروازے سے باہر نکلا اُس وقت سلامِ رضا کی صدا فضا میں گونج رہی تھی۔ حضرت مولانا غلام رسول، طیب نورانی کے والد تھے۔ پچھلے سال ان کا انتقال ہوگیا۔ آج ان کا پہلا عرس اُسی مسجد میں ایک محفل کی صورت میں منعقد کیا گیا جہاں انہوں نے تقریباً نصف صدی تک دین کی بے لوث خدمت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ان کی کوئی مقرر کردہ تنخواہ نہ تھی وہ اللہ کی رضا کے لئے بلا معاوضہ مسجد میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اللہ رب العزت انہیں بہترین اجر سے نوازے۔ یہ سامنے ان کے دو صاحبزادے بیٹھے ہیں،
ان میں سے بائیں جانب والے طیب نورانی ہیں۔ مولانا غلام رسول کو قائد ملتِ اسلامیہ، مولانا شاہ احمد نورانی سے سچی عقیدت تھی۔ حضرت صاحب قرآن مجید کے حافظ اور باعمل عالمِ دین تھے۔ ان کے بچے بھی الحمدللہ باعمل عالمِ دین ہیں۔ میں نے پچھلے سال بلال گنج میں ان کے چہلم کے اشتہارات لگے ہوئے دیکھے تھے لیکن میں ان سے واقف نہیں تھا، بعد ازاں طیب صاحب سے بلال گنج مارکیٹ میں ملاقات ہوئی تب بھی علامہ صاحب کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ طیب صاحب فیس بک پر اپنے سٹیٹس میں والد صاحب کی رحلت کا بتاتے تھے تب بھی پتہ نہ تھا کہ یہ وہی شخصیت ہیں جن کے چہلم کے اشتہارات میں دیکھ چکا تھا۔ ایک دن طیب نے علامہ غلام رسول جلالی رحمۃ اللہ علیہ کا نام لکھ کر فیس بک پر پھر اپنے پسرانہ جذبات کا اظہار کیا تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تو اُسی علامہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ حضرت صاحب کو غریقِ رحمت کرے اور ان کے صدقے ان کی اولاد اور ہم سب پر اپنا فضل و کرم فرمائے۔ آمین۔ 

ہفتہ، 18 جولائی، 2015

Celebrating Silver Jubilee-Answering The Questions at Data Darbar Lahore


Grand Mufti of Pakistan Muhammad Arshad al-Qadri has been answering the questions of public in the light of Quran and Hadith since 19th of July 1990 at The Masjid of Data Darbar (Ali Hujvery) Lahore. The question-and-answer sessions are held several times a week there.

Only written questions were counted in 2010 AD. These were 96,000 questions in counting, which were answered by him during the period of 20 years. However, verbal questions are countless. Now, more questions has been added during these five years till 2015. In this field, he has an Individual status for such a tough duty (4 times a week) for last 25 years in Pakistan. His Fatawa (Collection of Answers-Verdicts) is being prepared; it will be in hands soon.

Rana Arshad Qadri
For a long time in academic and religious circles he had been called "Rana Arshad", because of his family background. Mufti Arshad was born on 15th or 16th of February, 1958 in house of 'Rana Muhammad Tufail. He had been writing word 'Rana' with his name, but later on he gave it up. One of his Teachers Allama Muhammad Abdul Hakeem Sharaf Qadri suggested him to write his name as "Arshad al-Qadri" or "Arshad-ul-Qadri". The majority of the public still knows him as Allama Rana Arshad Qadri Rizvi.

Childhood and Education
His childhood spent in the village of Kot Nainan, Shakargarh,Punjab, Pakistan. His primary education started there. During the Indo-Pakistani War of 1971, his family moved to Lahore city. He started learning his Islamic education from Jamia Rasoolia Sherazia Bilal Gunj Lahore. Timings of Jamia, for those students who also were studying at modern schools at the same time, were different. Those students used to study here early in morning after Fajar prayer. Muhammad Arshad was one of these boys. Their Teacher Allama Muhammad Ali Naqshbandi (Rahmatullahi Ta'ala Alayh) used to teach them during Morning walk, while going to The Ravi River and coming back from there. After this morning session, Arshad used to go to Govt Islamia High School Khazana Gate Lahore to learn his Modern education, he passed his matric there. He passed his intermediate from M.A.O College Lahore, and graduation from G.C.U Lahore with Gold Medal. He completed his masters degree in Islamic Studies from The University of Punjab Lahore. Later on, he earned degrees of M.A Arabic and M.A history from the same University. For traditional Islamic studies he properly attempted and succeeded in the exams of Tanzeem Ul Madaris Ahle Sunnat Pakistan with a good performance.

His Teachers
A few names of his great Teachers and Muslim Scholars are as follows:
1. Mufti Abdul Qayyum Hazarvi Rahmatullahi Ta'ala Alayh (D.2003)
2. Mufti Abdul Qayyum Khan Hazarvi
3. Mufti Muhammad Abdul Aleem Sialvi
4. Allama Mufti Faiz Ahmad Owaisi Rahmatullahi Ta'ala Alayh(D. 2010)
5. Allama Mufti Muhammad Abdul Hakeem Sharaf Qadri Rahmatullahi Ta'ala Alayh (D. 2007)

Bayah and Khilafah
His sheikh is Abu Muhammad, Muhammad Abdul Rasheed Qadri from city of Samundri near Faisalabad. Arshad ul Qadri was given Ijazah and Khilafah in all four orders of Sufism. Chain of his sheikh is linked to Imam Ahmad Raza Khan Qadri.

Ideology
Mufti Arshad ul Qadri is influenced by the work of Imam Ahmad Raza Khan Qadri, Doctor Muhammad Iqbal and Maulana Shah Ahmad Noorani. He held a conference about Imam Ahmad Raza Khan Qadri's teaching On January 30, 2011 at Jamia Islamia Rizvia Lahore, Rachna Town. According to his views, Reverence of The Holy Prophet Muhammad (Sallallahu Alaihi Wasallam) is an obligation for every Muslim. On 14th of October 2012 he held a conference to reply the blasphemy movie "Innocence of Muslims" in Jamia Islamia Rizvia.

Books
Mufti Mohammad Arshad Qadri is the author of many books. Two dozen of them have been published. He is writing "Fuyoodh-un-Nabi" an Urdu Interpretation of Hadith Book of 'Tirmidhi'. Two volumes of this work were published in 2014. Hundreds of his books and pamphlets are waiting for publishing.

Organization
Mufti Arshad al Qadri has founded a movement called "Taleem o Tarbiyat Islami Pakistan". Various gatherings, conferences and seminars are held by this organization. On 28th of April 2013, Islamic Learning Session was organized by this movement at Aiwan e Iqbal Lahore. Movement also takes part in various social welfare activities. Manifesto of this movement is to create unity, service and stability among Muslims. Its Main Office is known as Jamia Islamia Rizvia Lahore. It is located in Rachna Town, Ferozwala, Shahdara. It is working in various fields including publications. Land line phone number of Jamia Islamia Rizvia is 0092-423-7962152

For further information please visit: www.facebook.com/ArshadalQadri

Written by: Abdul Razzaq Qadri on saturday, July 18, 2015

Celebrating Silver Jubilee-Answering The Questions at Data Darbar Lahore



Grand Mufti of Pakistan Muhammad Arshad al-Qadri has been answering the questions of public in the light of Quran and Hadith since 19th of July 1990 at The Masjid of Data Darbar (Ali Hujvery) Lahore. The question-and-answer sessions are held several times a week there. Only written questions were counted in 2010 AD. These were 96,000 questions in counting, which were answered by him during the period of 20 years. However, verbal questions are countless. Now, more questions has been added during these five years till 2015. In this field, he has an Individual status for such a tough duty (4 times a week) for last 25 years in Pakistan. His Fatawa (Collection of Answers-Verdicts) is being prepared; it will be in hands soon.

Rana Arshad Qadri
For a long time in academic and religious circles he had been called "Rana Arshad", because of his family background. Mufti Arshad was born on 15th or 16th of February, 1958 in house of 'Rana Muhammad Tufail. He had been writing word 'Rana' with his name, but later on he gave it up. One of his Teachers Allama Muhammad Abdul Hakeem Sharaf Qadri suggested him to write his name as "Arshad al-Qadri" or "Arshad-ul-Qadri". The majority of the public still knows him as Allama Rana Arshad Qadri Rizvi.

Childhood and Education
His childhood spent in the village of Kot Nainan, Shakargarh,Punjab, Pakistan. His primary education started there. During the Indo-Pakistani War of 1971, his family moved to Lahore city. He started learning his Islamic education from Jamia Rasoolia Sherazia Bilal Gunj Lahore. Timings of Jamia, for those students who also were studying at modern schools at the same time, were different. Those students used to study here early in morning after Fajar prayer. Muhammad Arshad was one of these boys. Their Teacher Allama Muhammad Ali Naqshbandi (Rahmatullahi Ta'ala Alayh) used to teach them during Morning walk, while going to The Ravi River and coming back from there. After this morning session, Arshad used to go to Govt Islamia High School Khazana Gate Lahore to learn his Modern education, he passed his matric there. He passed his intermediate from M.A.O College Lahore, and graduation from G.C.U Lahore with Gold Medal. He completed his masters degree in Islamic Studies from The University of Punjab Lahore. Later on, he earned degrees of M.A Arabic and M.A history from the same University. For traditional Islamic studies he properly attempted and succeeded in the exams of Tanzeem Ul Madaris Ahle Sunnat Pakistan with a good performance.

His Teachers
A few names of his great Teachers and Muslim Scholars are as follows:
1. Mufti Abdul Qayyum Hazarvi Rahmatullahi Ta'ala Alayh (D.2003)
2. Mufti Abdul Qayyum Khan Hazarvi
3. Mufti Muhammad Abdul Aleem Sialvi
4. Allama Mufti Faiz Ahmad Owaisi Rahmatullahi Ta'ala Alayh (D. 2010)
5. Allama Mufti Muhammad Abdul Hakeem Sharaf Qadri Rahmatullahi Ta'ala Alayh (D. 2007)

Bayah and Khilafah
His sheikh is Abu Muhammad, Muhammad Abdul Rasheed Qadri from city of Samundri near Faisalabad. Arshad ul Qadri was given Ijazah and Khilafah in all four orders of Sufism. Chain of his sheikh is linked to Imam Ahmad Raza Khan Qadri.

Ideology
Mufti Arshad ul Qadri is influenced by the work of Imam Ahmad Raza Khan Qadri, Doctor Muhammad Iqbal and Maulana Shah Ahmad Noorani. He held a conference about Imam Ahmad Raza Khan Qadri's teaching On January 30, 2011 at Jamia Islamia Rizvia Lahore, Rachna Town. According to his views, Reverence of The Holy Prophet Muhammad (Sallallahu Alaihi Wasallam) is an obligation for every Muslim. On 14th of October 2012 he held a conference to reply the blasphemy movie "Innocence of Muslims" in Jamia Islamia Rizvia.

Books
Mufti Mohammad Arshad Qadri is the author of many books. Two dozen of them have been published. He is writing "Fuyoodh-un-Nabi" an Urdu Interpretation of Hadith Book of 'Tirmidhi'. Two volumes of this work were published in 2014. Hundreds of his books and pamphlets are waiting for publishing.

Organization
Mufti Arshad al Qadri has founded a movement called "Taleem o Tarbiyat Islami Pakistan". Various gatherings, conferences and seminars are held by this organization. On 28th of April 2013, Islamic Learning Session was organized by this movement at Aiwan e Iqbal Lahore. Movement also takes part in various social welfare activities. Manifesto of this movement is to create unity, service and stability among Muslims. Its Main Office is known as Jamia Islamia Rizvia Lahore. It is located in Rachna Town, Ferozwala, Shahdara. It is working in various fields including publications. Land line phone number of Jamia Islamia Rizvia is 0092-423-7962152

For further information please visit:
 www.facebook.com/ArshadalQadri

Written by: Abdul Razzaq Qadri on saturday, July 18, 2015