Terrorism لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Terrorism لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 17 اگست، 2019

فی سبیل اللہ فساد۔۔۔ تحریر: عبدالرزاق قادری

میں ایک طویل عرصہ سے کچھ کہنا چھوڑ ہی چکا تھا، آج ایک حضرت صاحب کی ٹائم لائن سے دوسرے اور پھر آگے سے آگے دیکھتا گیا، وہ سارے مولوی صاحبان، علامہ خادم رضوی کی سربراہی میں جہادِ کشمیر لڑرہے تھے اور پاکستانی حکومت و افواج کے خلاف محاذ کھولے بیٹھے تھے، مجھے اعتراف ہے کہ میں بھی حکومت کا ناقد اور کسی حد تک ہمارے نااہل اداروں پر بھی تنقید کرتا ہوں، لیکن میں پاک فوج یا ملکِ پاکستان کا مخالف یا دُشمن ہرگز کبھی نہیں رہا، لیکن ان فی سبیل اللہ فساد والے مولویوں کے طرزِ تخاطب سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ نعوذباللہ شاید نبی کریم ﷺ نے بھی ”دوسروں“ پر قتال محض اپنے اقتدار وغیرہ کے لیے تھا۔ نعوذ باللہ من ذٰلک۔ اِن مولویوں میں سے کتنے لوگ دیانت دار ہیں یہ کون جانتا ہے، ہم تو کسی حد تک اِن کی قبیل سے ہیں، جو کام اِن کے ذمہ ہیں وہ جانے کون کرے گا، جبکہ جو فرائض کسی دوسرے کے ہیں اُن کے متعلق شور مچاتے رہتے ہیں، آج تک مساجد میں دس ہزار روپے تنخواہ تو کروا نہیں پائے (بعض جدید مساجد میں بیس سے پچیس ہزار مل جاتی ہے، لیکن اکثریت کا حصہ بڑے بڑے جثے والے قائدین کھا جاتے ہیں)۔ ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ یہ سارے مولوی اہلِ سنت ہیں، کوئی وہابی یا دیوبندی ٹائپ نہیں، جنہیں کل تک ہم دہشتگرد کہتے تھے کہ وہ ہماری مساجد پر حملے کرنے والوں کا دفاع کرتے تھے، آج یہ اہلِ سنت (بریلوی) بھی خود کو دہشت گرد دہشتگرد قرار دے ہیں۔ انہیں اس بات کا خدشہ کیوں ہے کہ حکومت انہیں دہشتگرد قرار دے گی؟
اگر کوئی ریاست کے خلاف کسی غیر قانونی کارروائی میں متشددانہ ذہنیت کے ساتھ مسلسل ملوث ہوگا تو اُسے ریاست دہشتگرد قرار دے گی، خواہ وہ بریلوی ہو یا پھر شیعہ۔ وہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہوگا تو اُسے بھی اسی زمرے میں رکھا جائے گا۔
اب رہ گئی بات کہ کشمیر میں ظُلم ہو رہا ہے، تو کیا یہ ظلم عمران خان یا پاک فوج کروا رہی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔
دوسری بات کہ، ہر ذی شعور مسلمان کیا، دُنیا بھر کے سلیم الفطرت انسانوں میں اس ظلم کی کی وجہ سے بے چینی پائی جاتی ہے، جس کا اظہار دُنیا بھر میں کیا جا رہا ہے۔
یہ جاہل مولویوں کا ٹولہ، جہاد، جہاد کہہ رہا ہے۔ کیا کبھی جہاد بند بھی ہوا ہے۔ ان بے خبروں کو یہاں تک معلوم نہیں کہ قتال کی بات کرنی ہے یا جہاد کی! اگر قتال کی بات ہے تو علامہ غلام رسول صاحب سعیدی کا قول برحق ہے کہ اپنی آزادی کے لیے لڑنے والے فریڈم فائٹر ہوتے ہیں، اُنہیں دہشتگرد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن کبھی قتال کی شرائط کا بھی مطالعہ فرمالیں کہ وہ کب شروع کرنا چاہیے، اگر شرائط مکمل ہیں تو پاک فوج اور عمران خان کو آگاہ کریں، آپ نے تو ان شرائط کا مطالعہ کر رکھا ہوگا۔
رہا یہ مسئلہ کہ کیا آج بھارت اس قدر طاقتور ہو چکا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کشمیر میں دندناتا پھرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پچھلی سات دہائیوں میں اقوامِ عالم کے سامنے اپنا مدعا رکھنے کے لیے آپ کے سفیروں نے کیا کِیا۔ محض اپنے بچے بیرونِ ملک منتقل کر کے انہیں وہاں کا مستقل رہائشی بنایا! ویسے بہت سے اسلام کے نام لیوا مولویوں نے بھی اسی طرح کی حرکتیں کی ہیں اور پاکستان میں امریکہ شمریکہ کے خلاف جہاد کا درس دیا ہے۔ یہ منافقانہ رویے ہیں۔ پاکستان میں، لاہور میں، کراچی میں، ملتان میں اور دیگر تقریباً تمام علاقوں میں ”مسلمان“ کہلوانے والے بڑے بڑے غنڈے اور درندے عوام الناس کی سانسوں تک، پر حکومت کرتے ہیں اور اُن کا خون پی جاتے ہیں۔ مولویوں نے اُن کے خلاف کیا کِیا۔ سیاسی جماعتوں کے ووٹ انہی غنڈوں کے مرہونِ منت ہوتے ہیں، یہ مولوی لوگ اُن کے ساتھ ایک سٹیج پر جا کر بیٹھتے ہیں اور محافلِ میلاد ہوتی ہیں۔ یہ کس غیرت کی بات کررہے ہیں، جب یہاں لاہور میں (میں اُس وقت ڈاکٹر طاہرالقادری کا ناقد تھا، میرے دوست اس کے گواہ ہیں) جامعہ منہاج القرآن پر گورنمنٹ کے ریاستی دہشتگردوں نے حملہ کیا تو اِن مولویوں نے کیا کیا، میں بتاتا ہوں، 17 اگست 2014ء کو ایک پرویز رشید ہوتا تھا، اُس نے فلسطین کا جھنڈا گلے میں ڈالا تو ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے بھی فلسطین کے حق میں احتجاج کیا، کیا ڈاکٹر صاحب کو لاہور میں بنا ہوا غزہ نظر نہیں آرہا تھا (یاد رہے اُس وقت خادم رضوی گروپ علیحدہ نہیں ہوا تھا، وہ اور جلالی صاحب یک زبان ہوتے تھے)۔
اب دیکھتے ہیں کہ آج خادم صاحب کے ماننے والوں کو ”دہشتگرد“ قرار دئیے جانے کا خدشہ کیوں ہے؟ کیونکہ خادم صاحب کوئی ایک دہائی قبل یعنی تقریباً دس سال پہلے امریکی ایجنسیوں کی پروردہ ”حزب التحریر“ کے ہاتھوں میں کھیل چکے ہیں، یہ دُنیا کی سب سے سخت ترین خوارجی جماعت ہے، یہ داعش سے بھی چار قدم آگے کی چیز ہے، لہٰذا میں اپنے تجزیے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ خادم صاحب ایک خوارجی گروہ کے نمائندہ بن چکے ہیں، اب اگر ان کے ماننے والے مسلمانوں ہی کو کافر قرار دے کر قتل کرنا جائز قرار دے دیں تو کچھ حیرت کی بات نہ ہوگی۔16 اگست 2019ء

پیر، 19 نومبر، 2018

٭٭٭خبر کا المیہ٭٭٭ تحریر: عبدالرزاق قادری

خبر یہ نہیں ہوتی کہ ایک کُتے نے انسان کو کاٹ لیا ہے، خبر یہ ہوتی ہے کہ ایک انسان نے کُتے کو کاٹ لیا ہے۔ ایک ایڈیٹر نے سُرخی لگائی، ”بیوی میں دھماکہ“!!! اُس کے چیف نے پوچھا کہ یہ کیا خبر ہے؟ ایڈیٹر نے جواب دیا کہ دراصل خبر یُوں ہے کہ ”میاں والی“ یعنی میاںوالی میں دھماکہ لکھنا مقصود ہے لیکن ”تڑکا“ لگانے کے لیے ”بیوی میں دھماکہ“ کر دیا ہے۔ میتھیو آرنلڈ کا قول ہے کہ صحافت جلدی میں تخلیق کیا جانے والا ”ادب“ ہے۔ اور صحافتی ادب کیا گُل کھلا رہا ہے ہے سب جانتے ہیں۔ خبر کے درونِ خانہ میں چھپی ہوئی ایک خبر بھی ہوتی ہے، دراصل وہی خبر ہوتی ہے اُسے ”خبریت“ کہا جاتا ہے، جو الفاظ اخبار میں شایع ہوتے ہیں اُن میں سے اپنی معلومات، علم، عقل اور تجربے کی بنیاد پر پڑھنے والا جو نتیجہ اخذ کر لیتا ہے اس کی نظر میں وہی خبریت ہے۔
قرآن پاک اللہ کی آخری (الہامی) کتاب ہے، اللہ تعالیٰ نے خبر نشر کرنے اور وصول کے معیار و اصول بیان فرما دیئے ہیں اور سورۃ الحجرات میں وہ آیت موجود ہے آپ نے پڑھ کر سمجھ رکھی ہو گی، میں یہاں اس کی تفصیل اس لیے بیان نہیں کرنا چاہتا ہے کہ آخر ہم نے قرآن و حدیث کا سارا ذمہ مذہبی طبقے کے سپرد کر دیا ہوا ہے اور خود بری الذمہ ہو چکے ہیں اگر قرآن صرف علماء کے سمجھانے سے ہی سمجھ آتا ہے تو جہاں اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ فسئلو اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ وہاں یہ بھی فرما سکتا تھا کہ فسئلو اھل الذکر لقد کنتم لا تعلمون۔ میں یہ مانتا ہوں کہ علماء کرام سے رہنمائی لی جا سکتی بلکہ لینی چاہیے لیکن قرآن کو سمجھنے کے لیے اللہ نے یہ واحد حتمی طریقہ نہیں وضع کیا۔ مثال کے طور پر بہت سے کافر خود قرآن پڑھ کر اسلام قبول کرتے ہیں، میں مانتا ہوں ہوں کہ وہ ترجمہ کسی عالم کا پڑھتے ہیں لیکن عربی کافر بھی تو ہیں انہیں ترجمے کی ضرورت نہیں، وہ خود مسلمان ہو جاتے ہیں ویسے بھی اللہ نے بعض مقامات پر انسانوں کو تخاطب کیا ہے، صرف اہلِ ایمان کو نہیں۔ کیونکہ یہ ابدی پیغام تمام جہان والوں کے لیے ہے۔
اللہ نے نبیوں کو خبر دینے والا بنا کر بھیجا ہے انبیاء کرام علیہم السلام نے لوگوں کو اللہ کی خبر دی ہے اور پُوری دیانت داری کے ساتھ اپنے ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوئے ہیں جس کا گواہ قرآن مجید خود ہے۔
آج خبر رسانی کے کتنے ادارے ہیں دُنیا کی ٹاپ تین نیوز ایجنسیوں کے نام درج کرتا ہوں
امریکی نیوز ایجنسی
1۔ ایسوسی ایٹڈ پریس ۔ AP
برطانوی نیوز ایجنسی
2۔ رائٹرز ۔ Reuters
فرنچ نیوز ایجنسی
3۔ ایجنسی فرانس پریس ۔ AFP نوٹ: یہ نام فرنچ ہے، اس کا تلفظ مختلف ہے
آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی، جس کا نام بعد میں لکھوں گا، کی ایک استانی سکالر نے سن 2015ء کے اکتوبر، نومبر اور دسمبر کے دو دنوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جس میں ملکِ شام میں جاری خانہ جنگی کے متعلق شایع کردہ مواد تھا۔
اس میں وڈیوز بھی تھیں، بلکہ زیادہ رپورٹس کی بنیاد یہی وڈیوز ہی تھیں۔یہ وڈیو کہاں سے آئی تھیں، اور ان کے استناد کی حیثیت کیا تھی!

یوزر جنریٹڈ کی اصطلاح یعنی ٹرم ایسے مواد کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو عوام الناس نے انٹرنیٹ کے استعمال کنندہ ہونے کے ناتے خود اپنی جانب سے کوئی وڈیو یا تصویر بنا کر ایک خبر کے طور پر نشر کی ہو، جیسا کہ پاکستان میں بھی یہ رُجحان ترقی پا رہا ہے اور عوامی تخلیق کردہ یہ مواد کس قدر قابلِ اعتماد ہوتا ہے وہ مبشر لقمان، ڈاکٹر شاہد مسعود، اور اوریا مقبول جان سے بہتر کون جانتا ہے۔ ہر صاحب یا صاحبہ جو بی۔اے تک اپنی اردو کی املا ٹھیک نہیں کر پائے، انگریزی گرامر کے قریب سے نہیں گزرے اور عربی کا ایک لفظ پڑھنا نہیں آتا، ماس کمیونیکیشن کی ا۔ب۔ج نہیں معلوم، تجوید کا نہیں پتہ کہ وہ کیا چیز ہوتی ہے، وہ بھی صحافت اور مذہبی تبلیغ کے اہم ٹائیکون بنے ہوئے ہیں

تو قارئینِ کرام! ان تین انٹر نیشنل نیوز ایجنسیز نے شام و عراق کے طول و عرض میں پھیلے ایسے ہی بلاگرز کی وڈیوز اور تصویروں کو بغیر تحقیق کیے نشر کرنا جاری رکھا اِن ایجنسیز کے کئی زبانوں میں اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز، اور ویب سائٹس موجود ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک کے میڈیا گروپس کی طرح پاکستان کا ان ایجنسیوں کی خبر کا محتاج ہے اور ڈان اخبار جیسے ادارے ان ایجنسیوں کو خبروں کا معاوضہ بھی دیتے ہیں یعنی یہ ایجنسیز دنیا بھر کے ممالک سے مال کماتی ہیں
اُس محترمہ کا مطالعہ و معائنہ یہ بتاتا ہے کہ اے پی، رائٹرز اور اے ایف پی بغیر تحقیق کیے، یا نام نہاد تحقیق کے بعد ان رپورٹس کو دُنیا بھر کے میڈیا میں بیچتے رہے ہیں، اس معائنے میں ان نیوز ایجنسیوں کے ایڈیٹرز کے بالمشافہ اور آن لائن انٹرویوز بھی کیے گئے تو انہوں نے بھی رپورٹس کے استناد کی کوئی ضمانت نہیں دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ پھر ہم پاکستان میں ڈان اخبار، دی نیوز، نیشن، نوائے وقت، جنگ، دنیا اخبار، نئی بات وغیرہ اور ان کے علاوہ دیگر بڑے اور چھوٹے اخبارات و رسائل میں سچ کے نام پر جھوٹے قصے کہانیاں پڑھتے رہے، اور ہمارے ٹیلی ویژن چینلز بھی انہی میڈیا گروپس کے ہیں تو وہ بھی غیر مصدقہ اطلاعات فراہم کرتے رہے۔
اس کے بعد ہمارے سوشل میڈیائی بلاگرز کا تو اللہ ہی حافظ ہے کہ وہ نیوز کے لیے انہی ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔

بھارت کا انگریزی میڈیا مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی افواج کے مظالم کو شد و مد سے اس لیے بیان نہیں کرتا کہ اُسے کشمیری مظلومین سے کوئی ہمدردی ہے بلکہ ان خبروں اور رپورٹس کے ذریعے وہ پاکستان میں موجود جماعۃ الدعوہ کے متشدد جنونی نام نہاد مجاہدین کو اپنے اخبار میں شایع کرنے کے لیے مواد فراہم کرتا ہے کہ پاکستانی عوام کے بھولے بھالے بچوں کو جہاد کے نام پر اُکسا کر تربیت دیں اور کہیں کسی مقام پر جا کر خود گولی مار کر ان کی لاش والدین کو دے دیں کہ آپ کے بیٹے نے بھارتی افواج کے سامنے جامِ شہادت نوش کر لیا ہے۔ یہاں بھی ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حقیقتاً لشکرِ طیبہ کے لوگ لائن آف کنٹرول کو پار کر کے دوسری جانب چلے جاتے ہیں تو وہاں موجود انڈین آرمی کو چھوڑیں، پاکستان آرمی انہیں کیوں گزرنے کا راستہ فرام کرتی ہے؟

قارئین! اب آپ کو صحافت اور خبر کے المیے کا ایک اور رُخ دکھاتا ہوں،
نصرت جاوید ایک معروف اینکر اور کالم نویس ہیں، وہ کئی دہائیوں سے صحافت کے پیشہ کے ساتھ وابستہ ہیں اور آج کل نوائے وقت میں کالم لکھتے ہیں انہوں نے 2 نومبر 2018ء کو اپنے کالم میں لکھا (یہ کالم آن لائن بھی موجود ہے)۔
”صرف صحافت کے ذریعے رزق کمانے کی مجبوری نے کئی معاملات پر خاموش رہنے کو جبلت کی صورت دے رکھی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے لیکن ہمیشہ گریز کیا۔“
مذکورہ بالا اعتراف اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ آزادیٔ صحافت برائے نام ہوتی ہے ٹی وی پر بیٹھ کر عوام الناس کو اشتعال دلانے والوں کا ریموٹ کنٹرول کسی ”اور“ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

ایک اور مثال دیتا ہوں معروف صحافی حسن نثار نے دسمبر 2013ء میں ترکی کے مبلغ فتح اللہ گولن کے متعلق قسط وار کالم لکھے تھے اور ان کی حزمت (خدمت) تحریک کا تعارف پیش کیا تھا، حسن نثار کا کہنا تھا کہ مجھ پر ہمیشہ مایوسی پھیلانے کا الزام ہے لیکن اب مجھے وہ امید کی کرن نطر آگئی ہے اور میرے زمانے کا امام اور مجدد فتح اللہ گولن ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ذیل میں جنابِ حسن نثار کے کالموں میں سے دوسری قسط کا ایک پیرا گراف نقل کیا جا رہا ہے، ملاحظہ فرمائیں، ”اسے اس کے اقوال اور اعمال کی روشنی میں دیکھیں تو محمد فتح اللہ گولن عہد حاضر میں عالم اسلام کا نمائندہ ذہن بھی ہے ضمیر بھی۔ میرے نزدیک نشاۃ ثانیہ کے لئے اس سے بہتر حکمت عملی ممکن نہیں۔ اس آدمی نے ترکی اور ترکی سے باہر فلاحی، تعلیمی،طبی، اشاعتی اور ابلاغی اداروں کا جال بچھادیا ہے۔’’Hizmetموومنٹ ‘‘ کو اردو میں ’’خدمت موومنٹ‘‘ ہی کہیں گے اور یہی دراصل ’’گولن موومنٹ‘‘ ہے جس سے ترکی کے حکمران خوامخواہ خائف ہیں۔ اس موومنٹ کے دنیا بھر میں پھیلے سکول،کالج،یونیورسٹیاں دیکھ کر آدمی دنگ رہ جاتا ہے۔ امریکہ اور منگولیا سے لے کر ہمارے پاکستان تک تعلیمی اداروں کی چین جس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو لاہور، اسلام آباد سے لے کر سندھ تک’’پاک ٹرک سکول‘‘ دیکھ لیں جو اپنی مثال آپ ہیں، ترکی میں ان کے ہسپتال دیکھ کر ہم حیرت و حسرت کی پھوار میں بھیگ گئے، اشاعتی اداروں کا حال یہ کہ وہاں کا سب سے بڑا ٹی وی چینل اور اخبار بھی اسی موومنٹ کا کارنامہ اور دنیا بھر میں پھیلے فلاحی منصوبے اس کے علاوہ۔ کون سا میدان ہے جس میں یہ موومنٹ اپنی معراج پر دکھائی نہیں دیتی۔“

جاری۔۔۔ (بقیہ حصہ دوم میں)
٭٭٭خبر کا المیہ٭٭٭۔۔۔ حصہ دوم (آخری)
حسن نثار نے 2013ء میں ترکی کے مذہبی مبلغ فتح اللہ گئولن کے متعلق قسط وار کالم لکھے اور ترکی کے حکمران کو اس سے خائف قرار دیا، لیکن جب ترکی میں ایئر فورس کی جانب سے مارشل لاء نافذ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی تو رجب طیب اردگان نے وہاں فتح اللہ گئولن سے تعلق رکھنے والے ہر ایک انسان کو انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیا

ایک لاکھ کے قریب فوجیوں کو بغاوت کے نتیجے میں عبرتناک سزاؤں میں سے گزرنا پرا ہے بلکہ وہ ابھی تک مقید ہیں اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ متعدد میڈیا گروپس، اخبارات و ٹیلی ویژن چینلز بند کیے جا چکے ہیں۔ اور پروفیسر حضرات کے علاوہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے اور فتح اللہ گئولن کی تحریک حزمت (خدمت) کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا ہے، ترکی کے بادشاہ نے امریکا سے کئی بار مطالبہ کیا ہے کہ اس بزرگ کو ہمارے حوالے کرو، تا کہ ہم اُسے سزا دے پائیں کہ اس کے تربیت یافتہ سچائی کے علمبرداروں نے میری کرپشن کو ایکسپوز کیوں کیا ہے۔

سن 2016ء میں جنابِ صدر طیب اردگان پاکستان میں حذمت تحریک کے قائم کردہ تعلیمی ادارے بند کرانے کے لیے تشریف لائے اور مشترکہ کرپشن کی کمائی کھانے والے پاکستانی حکمرانوں سے استدعا کی کہ ”پاک ترک سکولز“ بند کیے جائیں، اس کے علاوہ، رجب طیب اردگان صاحب نے کوشش کر کے دنیا بھر میں جہاں کبھی بھی ”پاک ترک سکولز“ واقع تھے انہیں سیاسی و سفارتی تعلقت کی بنیاد پر بند کرا دیا، پاکستان میں اس تحریک کے جیسی ایک جماعت ”تحریکِ منہاج القرآن“ موجود ہے، اُس کے ساتھ بھی شریف برادران نے اس کے جیسا ہی ظلم کرنے کی کوشش کی، ان کے مدرسے پر حملہ کرکے عورتوں سمیت چودہ افراد قتل کر دئیے اور سو کے قریب زخمی کر دئیے لیکن چونکہ افواجِ پاکستان میں ایک ڈسپلن قائم ہے لہٰذا پاکستان کے حمکران تحریک منہاج القرآن کے عالمگیر پھیلے ہوئے نیٹ ورک کو بند نہیں کرا پائے۔
یہاں بھی ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ترکی میں موجود حذمت تحریک کے مخلص لوگوں پر کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا تو حسن نثار ان کے حق میں کیوں نہ بولا، اور دوبارہ ان کے حق میں کیوں نہ لکھا، کیا وہ حالاتِ زمانہ سے بے خبر تھا یا نصرت جاوید کی طرح اس کی بھی صحآفتی مجبوریاں ہیں؟
اور دو سال قبل (2016ء میں) طیب اردگان کی پاکستان آمد پر عمران خان نے اس کو خوش آمدید کہنے کی بجائے، بائیکاٹ قسم کی سیاسیت کی تھی، آج وہی عمران خان ”یوٹرن“ لے کر ترکی کے بادشاہ کے ساتھ ”مُک مکا“ کر بیٹھا ہے، حسن نثار اس کا بہت بڑا معترف رہا ہے، کل کلاں کو اگر عمرانی حکومت نے تحریکِ منہاج القرآن پر کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی تو کیا حسن نثار اپنے طاہر القادری کے ساتھ کھڑا ہوگا یا اپنے عمران خان کے ساتھ؟
حال ہی میں حسن نثار داتا دربار کے باہر دھرنا دینے والی مذہبی و سیاسی جماعت ”تحریک لبیک پاکستان“ کے لوگوں کے مؤقف کو غلط قرار دے کر جج صاحبان کو پڑھا لکھا مسلمان قرار دے چکا ہے، کیا حسن نثار ہمیشہ پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں کو مبنی بر انصاف سمجھتا رہا ہے اور سمجھتا رہے گا یا یہ صرف صحافتی مصلحت ہے؟

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار موبائل سروس 21 اکتوبر 2012ء کو بند کی گئی تھی، کہ اُس روز امریکا میں بننے والی ایک گستاخانہ فلم ”انوسینس آف مسلمز“ کے خلاف احتجاج رونما ہونے والا تھا۔ شواہد بتاتے ہیں کہ اُس دن مال روڈ لاہور پر گھیراؤ جلاؤ کرنے والے مولوی حضرات نہیں تھے بلکہ پولیس اور ایجنسیوں کے لوگ تھے، ان عناصر کا مقصد ہی مولویوں کے مؤقف کو دھندلانا تھا، مولانا خادم حسین رضوی جو سالہا سال سے فورتھ شیڈول میں ہیں وہ مدرسوں کے طلباء کو مشتعل کرکے سڑکوں پر لے جاتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ تخریبی سرگرمیاں کرنے والے عوام نہیں بلکہ پولیس اور ایجنسیوں کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔

مذہبی جماعتوں کی کتابیں اور رسالے اس احتیاط سے شایع کیے جاتے ہیں کہ اولاً اُن کے مسلک و عقیدے کے علاوہ کوئی دوسری بات نہ چھپے اور ثانیاً اگر کسی کے خلاف لکھنا ہے خصوصاً کُفر وغیرہ کا فتویٰ لگانا ہے تو اس کی ذمہ داری لی جاتی ہے، میں ”زید حامد“ نامی کسی شخص سے پہلی بار متعارف ہوا تو خادم صاحب کے زیر نگرانی شایع ہونے والے سہ ماہی (تب وہ سہ ماہی تھا) ”العاقب“ سے ہوا یہ میگزین اکتوبر تا دسمبر 2009ء کا تھا اور اس میں شایع ہوا تھا کہ (تحریر: علی خان صفحہ 141، 143) زید حامد کسی جھوٹے مدعی نبوت یوسف کذاب کا خلیفہ تھا، میرے لیے یہ ایک شدید خبر تھی، پھر 2010ء، 2011ء اور 2012ء میں ہم نے انٹرنیٹ پر زید حامد اور یوسف کے حوالے سے کئی وڈیوز کو چیک کیا، تو فائنلی زید حامد نے کہہ دیا کہ میں تو یوسف علی کو جانتا ہوں کسی یوسف کذاب کو نہیں جانتا۔۔۔
٭ میرے پاس وہ رسالہ موجود ہے۔ میں عکس پیش کروں گا
میں یہاں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ یوسف کے متعلق میرا کوئی مؤقف نہیں ہے اگر وہ جھوٹا مدعی نبوت تھا تو غلط تھا، لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ خبریں گروپ والے ضیاء شاہد نے ایک پلاٹ کے لیے اسے بلیک میل کرنے کے لیے یہ الزام لگایا تھا۔ واللہ اعلم
یوسف کے ساتھ کیا ہوا تھا اس پر سن 2011ء میں سید نور کی ڈائریکشن میں ایک فلم بنی تھی، جس کا عنوان تھا "ایک اور غازی"۔
میرے ذرائع نے بتایا تھا کہ مولانا خادم حسین رضوی کی ایک ملاقات زید حامد کے ساتھ ہوئی تھی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنے میگزین میں اس بندے کو مرتد شایع کرتے یا کراتے ہیں تو انہی کے عقیدے اور طریقے کے مطابق ایسے شخص کے ساتھ ملاقات کرنا کیا معنی رکھتا ہے، اُسے ۔۔۔۔۔

خادم صاحب نے مولانا نورانی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک جماعت کا نام تھوڑا ترمیم کر کے "فدایان ختمِ نبوت" قائم کی، جس کا نمائندہ ترجمان وہ رسالہ العاقب بھی ہے اور خادم صاحب کے شاگردان اور پرستار اس جماعت کے ارکان ہوتے تھے، اس کے علاوہ اہلسنّت کے مسجدوں کے ائمہ اور ان سے تعلق رکھنے والے سنی بھی مولانا خادم کو اپنے ہاں محفلوں میں بلاتے تھے اور ستمبر میں سالانہ "تاجدارِ ختم نبوت کانفرنس" ایوانِ اقبال لاہور میں منعقد ہوتی۔
ایوان اقبال بھر جاتا اور لوگ دروازے سے باہر بھی کھڑے ہوتے۔
سن 2014ء میں انہوں نے وہاں جو العاقب رسالہ عوام میں تقسیم کیا، وہ 2013ء کا اخباری سائز کا میگزین تھا، کم از کم مجھے کسی نے لا کر دیا کہ یہ رسالہ ہے، میں نے کہا اس پر تو 2013ء لکھا ہوا ہے وہ رسالہ میرے پاس موجود نہیں ہے اس میں مصر کے معزول وزیر اعظم ڈاکٹر مرسی، کی حمایت میں ایک مضمون تھا اور غالباً سید قطب کے متعلق بھی ایک مضمون تھا۔

خادم صاحب کو سننے والے بتاتے ہیں کہ وہ مصر کے حسن البنا کو امام اور شہید قرار دیتے ہیں کچھ ایسے ہی خیالات وہ سید قطب کے بارے میں رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ لوگ مصر کے وہابی خوارج ہیں (پاکستان میں وہابیوں کو خادم صاحب کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتے ہیں، یہ بات میں نے خود اُن کے بیان میں سُن رکھی ہے، وہ جامعہ نظامیہ رضویہ میں کوئی سولہ برس قبل میلاد النبی کے موقع پر تقریر کر رہے تھے)

مصر کے یہ وہابی (حسن البنا، سید قطب اور یوسف قرضاوی) برصغیر کے مودودی کے ہم خیال تھے اور جدید دہشتگردی کے آدھے سے زیادہ حصہ دار ہیں انہی کی باقیات میں سے یوسف قرضاوی ابھی ملکِ قطر میں پناہ لیے ہے اور دہشتگردوں کا ماسٹر مائنڈ ہے، ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان کو اس خوارجی کے ساتھ کیا دلچسپی ہے۔ اس کا جواب میں پچھلی تحریر میں دے چکا ہوں کہ صدر کا بیٹا بلال طیب داعش سے تیل خریدتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ اور اگر یوسف قرضاوی و امیرِ قطر کو دہشتگرد گروہ داعش کے ساتھ تعلقات نہ ہوتے تو گزشتہ برس قطر پر پابندیاں لگانے کی باتیں نہ کی جاتیں، کیونکہ امریکا ہر قسم کی بدمعاشی کو اپنا حق سمجھتا ہے۔
ایک سوال یہاں بھی ہے کہ پاکستان میں عوام کے ذہن میں ٹھونسا گیا کہ وہابی گُستاخِ رسول ہوتے ہیں جبکہ مصر کے وہابیوں کو اپنا امام اور شہید مانا جا رہا ہے۔ کیوں؟
٭ حالیہ الیکشن کے بعد سہیل وڑائچ کو انٹرویو دیتے ہوئے خادم صاحب کا کہنا تھا کہ انہیں دیگر فرقوں کے لوگوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔

اب اس قدر گمبھیر صورت حال میں ”خبر“ اور خبریت کے ساتھ کیا سلوک نہیں ہو سکتا وہ قابلِ غور ہے۔
سہ ماہی العاقب، اکتوبر تا دسمبر 2009ء۔ جس میں زید حامد کے متعلق جو کچھ لکھا گیا وہ سامنے ہے۔ (تب یہ میگزین سہ ماہی تھا)

پیر، 12 نومبر، 2018

The Modern Jihadists: Khawarij or Mujahideen? ~ Dr. Yasir Qadhi





Is the killing of Non-Muslim Civilians allowed in #Islam? Does Islam legitimate any (right or wrong) act of Muslims...?

Difference between #Jihad and #Terrorism... What's the mentality of #Khawarij... Status of Khawarij in #Islam... Does Islam justify the acts of #terror...? The #History of #Modern terrorism... Who attacked on #Mecca in 1979...? Which #organization planted the "#Assassination of #AnwarSadat..?

Who is Doctor Fadl and Imam al-Sharif..?

Where did Osama Bin #Laden and Ayman al #Zawahiri got the ideology of #Jihad from...?

Who wrote the #EncyclopediaOfJihad and then its rejection #Tarsheed al-Jihad...?

What did the Prophet Muhammad say about Khawarij and the signs of Khawarij...?

Who framed the fake Imam al-Mahdi and killed innocent #Muslims...?

#AlQaeda, #Daish, #Isis, #Taliban #BokoHaram #AlShabab

اتوار، 11 نومبر، 2018

ماسکو روس میں طالبان کی میٹنگ۔ ایک مختصر پس منظر

تحریر: عبدالرزاق قادری
روس کی دین دُشمنی، الحاد پسندی، خُدا کے انکار کے سبب اور مُسلم ممالک کو تاراج کرنے کی وحشیانہ یلغار کو روکنے کے لیے مُسلم اُمت کے ”مجاہدین“ طالبان امریکہ کے ساتھ مل کر یہ جنگ لڑتے رہے یا یوں کہہ لیں کہ امریکہ کی یہ جنگ لڑتے رہے، پھر نائن الیون کا اندوہناک سانحہ ہوا اور اُسامہ بن لادن اینڈ کمپنی پر الزام عائد ہوا، افغانستان میں قائم طالبانی حکومت نے اُس اسامہ کو امریکہ کے حوالے سے انکار کر دیا تو امریکہ نے 2001ء ہی میں افغانستان پر یلغار کر دی۔

طالبان کے سابق حمایتی تب اُس امریکہ کے ساتھی بن گئے، پھر طالبان نے پاکستان میں بھی ایک طویل وحشیانہ قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھا اور افغانستان میں بھی امریکی افواج کے خلاف لڑتے رہے، کبھی کبھی اُنہی امریکیوں سے پیسے لے کر (پاکستانی مُسلمانوں خصوصاً سُنی اور شیعہ مکتب کی مساجد، درگاہوں اور امام بارگاہوں کو بموں سے اُڑایا اور عیسائیوں کے گرجا گھروں پر بھی اپنی بربریت کے پہاڑ توڑے، اِس جنگ کو امریکہ نے ”دہشت پر جنگ“ قرار دیا ہوا تھا۔ البتہ اس دہشت سے وہابیوں اور دیوبندیوں کی مسجدیں، مدارس اور تبلیغی مراکز محفوظ رہے، ہر حملے کے بعد اکثر لوگ اِن حملوں میں امریکی، بھارتی اور اسرائیلی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کی افواہیں اُڑاتے لیکن کبھی تردید نہ کی گئی لیکن ایک بار صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک دیوبندی تبلیغی مرکز پر حملہ ہوا تو کسی نے امریکہ کا نام لیا، تو فوراً امریکی حکام کی جانب سے رد کیا گیا کہ ہمارا اس حملے سے کوئی تعلق نہ ہے۔) اُس کے بعد سے امریکہ کو مذہب دُشمن، مُنکرِ خُدا بلکہ ہمارا باس ”اللہ یا امریکہ؟“ جیسے القابات و نعروں سے نوازا گیا۔

کبھی ان طالبان نے پاکستان کے کہنے پر پاکستان کے دشمنوں کے حساب کو چُکتا کر دیا۔ کبھی پاکستان کے ایک سپہ سالار نے رشوت میں اپنی سروس کی تین سالہ توسیع کی بنیاد پر جو بھارتی کمپنیوں کو پاکستان کی سڑکیں پیپلز پارٹی کے کہنے پر روندنے کے لیے دے دیں تو انہوں نے زمینی راستوں سے افغانستان اور قبائلی علاقوں میں مقیم طالبان کو چارہ ڈالا اور پاکستان میں 2013ء اور 2014ء میں آگ لگی رہی (جس پر ایک فلم ”وآر“ بھی بنی)۔ پھر 2014ء کے 16 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول میں ایک خونچکاں سانحہ ہوا اور جونئیر سمیت سینئر فوجی افسران کے بچے بھی اُس کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اُس کے بعد ”نیشنل ایکشن پلان“ تشکیل دیا گیا اور سابق آرمی چیف سمیت موجودہ نے بھی پہلے سے گرفتار دہشتگردوں کو ملٹری کورٹ سے سنائی جانے والی سزائے موت پر دستخط کیے اور مُجرم پھانسیوں پر چڑھا دئیے، بعد میں بعض ایسے دہشتگردوں کو بھی پھانسی دی گئی جو حالیہ واقعات میں ملوث تھے۔

سن 2015ء سے پاکستان میں قوم کی بڑے پیمانے پر انڈین ایجنسی ”RAW“ کے خلاف ذہن سازی کی گئی اور اُس کے بعد اخبارات کی اطلاعات کے مطابق افغانستان میں دھماکوں میں شدت آئی، خصوصاً حکومتی مقامات اور عہدے دار اس کا نشانہ بنتے رہے۔

ٹھہریئے! اس دوران 2010ء سے جنم لینے کے بعد، 2011ء اور 2012ء میں پروان چڑھنے کے 2013ء اور 2014ء میں عراق و کے شام کے بارڈر پر ایک شدید نوعیت کی فسادی تنظیم ”داعش“ نے قرنِ شیطان کی مثل سر اُٹھایا اور دُنیا دہشت کے نئے مفاہیم و معانی سے آشنا ہوئی اور القاعدہ کو بھول گئی، داعش کے قیام میں جہاں تک مالی امداد کا تعلق رہا ہے تو اُس میں سعودی عریبیہ کے کچھ مالدار لوگوں کا کردار تھا، اُنہیں سعودی حکومت نے اس لیے نہ روکا کہ ”چلو شام کی حکومت والی شیعے مریں گے، ہمیں کیا فرق پڑتا ہے“۔ اس تنظیم کو اسلحہ پہنچانے کے لیے امریکی کمپنیوں اور ایجنسیوں کا کردار تھا اِن کے خبیث جنگجوؤں کی تربیت کے لیے اسرائیل سے لے کر ”دُنیا بھر“ کی ایجنسیوں کا کردار شامل تھا (میرا یہ بھی ماننا ہے کہ نائن الیون کے حملے میں بھی ”دُنیا بھر“ کی ایجنسیوں کا حصہ شامل تھا، کیونکہ نیو ورلڈ آرڈر یونہی نہیں بنا کرتے)۔ بعد میں جب سعودی عریبیہ کو خدشہ ہوا کہ مبادا داعش، عراق کے علاقوں کو چیر کر سعودیہ کے گھر تک جا پہنچے تو اُس نے اپنے بارڈر کی سکیورٹی مزید مضبوط کی اور حج کے خطبے میں بھی اِن دہشگردوں کے خلاف بیان جاری کرایا (واضح رہے کہ، یہی سعودیہ روس کے خلاف لڑنے والے ”مجاہدین“ کو فنڈنگ دیتا رہا تھا، پھر نائن الیون کے بعد ان دیوبندی طالبان کی امداد بند کر دی اور لشکرِ طیبہ (جماعۃ الدعوۃ) کی امداد جاری رکھی، اب شاید ان کی بھی بند کر دی ہو)۔

اس ساری صورت حال میں ترکی کا کردار نہایت مجرمانہ رہا ہے، جسے کسی جنگ کا بظاہر سامنا نہ تھا، سوائے کُرد حریت پسندوں کے (یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی قومیت کی بناء پر ایران، عراق، ترکی اور شام کے سنگھم پر ایک آزاد ریاست کے خواہاں ہیں)۔ لہٰذا ترکی کے کرپٹ اور بے غیرت سیاستدان رجب طیب اردگان نے داعش کی مدد جاری رکھی، وہ یوں کہ اُس کا بیٹا بلال طیب داعش کے دہشتگردوں سے تیل خریدتا رہا۔۔۔ سو ”کام“ چلتا رہا۔۔۔ ترکی نے داعش کو کُردوں کے لیے ”اللہ کا عذاب“ بنا دیا اور مزے سے بیٹھ کر اپنے ہمسائے میں تین مُلکوں میں جاری بے سر و پا جنگ کا تماشا دیکھتے رہے، اور انجوائے کرتے رہے۔

سن 2013ء میں رجب طیب اردگان کی کرپشن سامنے آئی تو وہ خود کو ایکسپوز کرنے والے میڈیا کے خلاف ہو گیا، اپنے پیر جیسے اُستاد بھائی ”فتح اللہ گئولن“ کے خلاف ہو گیا، پھر ایک بار آرمی میں مارشل لاء کی سوچ چلی تو طیب اردگان کو خبر ہوگئی، وہ نہ صرف بچ نکلا، بلکہ سرکاری خرچ پر اپنے لیے ایک مخصوص ”ذاتی سیکویرٹی ایجنیسی“ تشکیل دے ڈالی، جس کا کام فوج کی جاسوسی کرنا ہے تا کہ وہ مارشل لاء کا نہ سوچ پائے، لیکن شومئی قسمت جولائی 2016ء میں ترکی کی ائیر فورس نے مارشل لاء لگانے کی کوشش کی، اور آرمی چیف کو بھی یرغمال بنا لیا، اُس وقت رجب طیب اردگان مُلک سے باہر تھا، اور ایسے واقعات اتفاق نہیں ہوا کرتے۔ پھر طیب اردگان سوشل میڈیا پر ظاہر ہوا اور قوم سے مدد کی اپیل کی، اُسی ذاتی سیکیورٹی ایجنسی کے بدمعاش ”گُلو بٹ“ سڑکوں پر آ گئے اور ائیر فورس کی بغاوت کی کوشش ناکام بنا دی۔ دُنیا کے اکثر میڈیا گروپس نے کہا کہ ترکی کے عوام رجب طیب کے ساتھ محبت کرتے ہیں اس لیے، عوام اور پولیس نے ائیر فورس کو ”لوہے کے چنے“ چبا دئیے۔

اسی اثناء میں سعودی عریبیہ سے یمن میں ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور پھر پاکستان کی افواج کر ”ہائر“ کرنے کی باتیں چلتی رہیں، کہ یہ جا کر یمن میں سعودی عقیدے کی جنگ کرایہ پر لڑیں گی لیکن اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس قسم کی کسی پیشکش کو ٹھکرا دیا لیکن ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم جانے کس مد میں وصول کر لی تھی، بہرحال اس کے بعد بھی یمن میں سعودیہ کی جانب سے بمباریوں کے سلسلے جاری رہے اور ہنوز جاری ہیں (ان برسوں میں سعودی عرب کے اندر بھی شیعہ کمیونٹی کو ختم کی بھر پور کوشش کی گئی، شیخ نمر باقر النمر کا قتل اس کی ایک مثال ہے)۔

داعش کے اُبھرنے کے بعد ایران و عراق میں مقیم قدیم مجوسی عقیدے کے لوگوں کو اخبارات نے ”یزیدی“ کے عنوان سے پہچان دی حالانکہ یہ عنوان غلط تھا جبکہ آج تک اخبارات میں استعمال ہورہا ہے۔ اس کے لیے ”ایزدی“ شاید درست عنوان تھا، اس قوم کے ساتھ بھی داعش کے جنگجوؤں کا رویہ ظالمانہ رہا۔

ایران کو فلسطین اور یمن میں موجود ”حزب اللہ“ سے کچھ لینا دینا تھا، اُسے یمن میں موجود شیعہ جماعتوں سے بھی ہمدردی تھی، امریکہ گِدھ کی ناک ایران کی طرف سے آنے والی کیمیکلی فضاؤں کو سونگھ کر فیصلہ نہیں کر پارہی تھی کہ شمالی کوریا کی طرح ایران کی مرگ قبل از موت ممکن ہے یا نہیں، کیونکہ حملہ اُسی ملک ہر کرتا ہے جس کا اُسے یقین آ جائے کہ اس کے پاس ”ایٹمی طاقت“ نہیں ہے۔ تو قارئین کرام! ایران نے اپنے ہم مسلک ”حزب اللہ“ کے جنگجوؤں اور یمن میں حوثی زیدی شیعوں کی امداد جاری رکھی۔

اپریل 2017ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے سرکاری دورے میں سعودی عرب میں اکثر مُسلم ممالک کے عمائدین کو ایک نئے ورلڈ آرڈر کا درس دیا۔ اس میں ایک عنصر قطر بھی ہے، قطر میں سے بھی کئی امیر لوگ داعش کے لوگوں کو فنڈز دیتے تھے، اب چونکہ سعودی عرب امریکہ سے ایک بلین ڈالرز سے بھی زائد مالیت کے اسلحے خریدنے کی ڈیلز کر چکا تھا لہٰذا اُس نے بھی قطر پر دباؤ ڈالا کہ ہمارے ”امیر المملکۃ السعودیہ جناب ڈونلڈ ٹرمپ“ کی بات مان لو! لیکن قطر اپنی بات پر مُصر رہا۔ سن 2017ء میں امریکہ نے انہیں خبردار کیا، اور اُن پر حملہ کرنا چاہا (یاد رکھیں داعش کے قیام و انصرام میں امریکا کا خود بھی، بلکہ سب سے بڑا کردار تھا) لیکن ایران جو کہ قطری وہابیوں کا نطریاتی مخالف تھا اُس نے عراق کو راستے دے دئیے، سعودیہ اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف وسط ایشیائی ممالک اُس کا بائیکاٹ کر چکے تھے، بلکہ ایک بار تو قطریوں کے حج ادا کرنے پر بھی پابندی لگ گئی تھی، لیکن پھر وہ کھل گئی اب وہ پاکستانیوں اور بھارتیوں کی طرح باقاعدہ ویزہ لے کر اور جہاز وغیرہ کا سفر کر کے جا سکتے ہیں اُن کا خرچ بھی تقریباً پاکستانیوں کے خرچ کے برابر ہوتا ہے، پہلے وہ بارڈر پار کرکے آسانی کے ساتھ کم خرچ بالا نشین کے مصداق سستا حج کر لیتے تھے۔

آج جبکہ ”فادر آف طالبان“ کی وفات ہو چکی تو ماسکو روس میں طالبان کی میٹنگ منعقد ہوئی ہے جس میں طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

بی بی سی نے لکھا ہے، ”افغانستان کی امن کونسل کے ارکان نے جمعے کے روز ماسکو میں ایک کثیر ملکی کانفرنس کے دوران طالبان کے ایک وفد سے ملاقات کی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے کسی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی ہو جس سے افغانستان کے تنازعے کے سیاسی حل کی امید روشن ہو گئی ہے۔

روسی خبررساں ادارے آر آئی اے کے مطابق امن کونسل کے ترجمان احسان طاہری نے کہا: 'ہم نے طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے موضوع پر بات کی اور ان سے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے جگہ اور وقت مقرر کریں۔'

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکہ کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد بھی طالبان کے ساتھ قطر میں ایک الگ ملاقات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ 'ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ سیاسی حل کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، اور اس بات کی ضرورت ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ملک اور علاقائی شراکت دار بھی فعال طریقے سے اس میں حصہ لیں۔'

مغربی ملک اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کی حکومت روس میں ہونے والے اس اجلاس کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس عمل کی قیادت افغانستان کو کرنی چاہیے۔

طالبان کے پانچ رکنی وفد کے علاوہ اس اجلاس میں پاکستان، انڈیا، چین، امریکہ، قطر اور دوسرے ملکوں کے علاوہ کئی اہم افغان سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں سے بعض کے اشرف غنی کی حکومت سے اختلافات چل رہے ہیں۔ “

منگل، 25 اپریل، 2017

اسلحے کی دوڑ ۔ امریکہ ۔ چین ۔ روس ۔ سعودیہ

             ایک تازہ رپورٹ کے مطابق روس تیل کی قیمتوں میں کمی اور معاشی پابندیوں کے باوجود اسلحے کی دوڑ  یا دوسرے لفظوں میں عسکری اخراجات کے لحاظ سے  2016ء میں تیسرے نمبر پر رہا ہے ، روس نے  2016ء میں 62.2 بلین ڈالر عسکری مد میں خرچ کیے جو 2015ء کی نسبت 5.9 فیصد اضافی ہیں ۔
             سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ اپنی آزادی کے بعد سے روس کی طرف سے آج تک اس مد میں خرچ کیا جانے والا سب سے بڑا تناسب ہے۔سن 2014ء میں جب یوکرائن کا تنازع ہوا تھا تب سے مغرب کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں اور تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے باعث روس کی سخت مشکلات میں گھری ہوئی معیشت کے لیے اخراجات میں یہ اضافہ ایسے حالات میں بہت بڑا بوجھ ہے۔
             سن 2015ء میں سعودی عرب اسلحہ کا تیسرا بڑا صارف تھا لیکن 2016ء میں 63.7 بلین ڈالر کے عسکری اخراجات میں 30 فیصد کمی کے ساتھ چوتھے نمبر پر آ گیا، باوجود یکہ وہ خطے میں جنگیں مسلط کرنے میں ملوث رہتا ہے، ادارے کے ایک محقق نان تیان کا کہنا ہے کہ تیل کے زر مبادلہ میں کمی اور دیگر متعلقہ معاشی مسائل نے تیل کی قیمت کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کی بناء پر تیل پر انحصار کرنے والے متعدد ممالک عسکری اخراجات کم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، مزید یہ کہ سعودیہ نے 2015ء اور 2016ء کے درمیان عسکری اخراجات میں سب سے زیادہ کمی دکھائی ہے۔
             امریکا 2015ء اور 2016ء کے درمیان 611 بلین ڈالر میں 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں سرِ فہرست رہا جبکہ چین نے 215 بلین ڈالر کے اخراجات میں 5.4 فیصد اضافہ کیا جو کہ گزشتہ برسوں کی نسبت قدرے کم ہے ۔رپورٹ کے مطابق امریکی عسکری اخراجات میں سن 2016ء  میں اضافہ ”شاید اِن اخراجات میں کمی کے رُجحان کو ختم کر دے“  جو سن 2008ء میں معاشی بُحران کی وجہ سے آیا تھا اور امریکی افواج کا افغانستان اور عراق سے انخلا ہوا تھا۔
             اپریل کی 13 تاریخ کو امریکہ نے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کےدور دراز کے  علاقے میں دولتِ اسلامیہ (داعش) گروپ  کے ٹھکانے کو نشانہ بناتے ہوئے اپنا سب سے بڑا (غیر ایٹمی) بم گرایا تھا۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ  کے ڈائریکٹر عاد فلورینٹ کا کہنا ہے، ”ان اخراجات میں مزید اضافے کی معلومات ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی تبدیلی کی وجہ سے ابھی تک غیر واضح ہیں“۔
             مغربی یورپ، جو کہ 2015ء سے دہشتگردی کے سانحات کی زد میں ہے، نے بھی 2016ء میں   تواتر کے ساتھ دوسرے سال بھی اپنے عسکری اخراجات میں  2.6 کی نسبت سے اضافہ کیا ہے۔ وسطی یورپ نے بھی 2016ء میں 2.4 فیصد کی نسبت سے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔انسٹیٹیوٹ  کے  ایک سینئرتحقیق کار سائمن ویزمن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وسطی یورپ میں عسکری اخراجات میں بڑھوتری  کو کسی حد تک  اس رائے کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے کہ روس اُن کے لیے  ایک بڑا خطرہ بن رہا ہےتاہم انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ یہ حقیقت اس کے باوجود اپنی جگہ ہے کہ اکیلے روس کا 2016ء میں عسکری بجٹ، یورپی نیٹو ارکان کے کُل اخراجات کا 27 فیصد تھا۔

جمعرات، 8 دسمبر، 2016

Ghulam Rasool Dehlvi

Ghulam Rasool Dehlvi, Courtesy:Facebook


Ghulam Rasool Dehlvi, is a Muslim[1] journalist[2][3][4], reporter[5], translator, author[6] and speaker[7]. He writes books and articles in English, Arabic, Persian and Urdu languages.[8] He has addressed numerous religious and political issues[9] around the themes of Sufi Islam, terrorism and international politics in the national and international conferences and seminars in different languages.[10] His basic philosophy is "Word for peace", he also runs an article publishing website with the same title.[11] His columns and articles are occasionally published in Indian-English Newspapers (First Post,[12] The Asian Age,[13] Deccan Chronicle [14]) on various topics. He also write articles in Inqilab, Jagran, Nubhart Times and in Rashtriya Sahara. He got the media fame when he appeared on Indian Media and took a part in debates (and wrote) about Zakir Naik and terrorism.[15][16][17][18] Dehlvi is also national secretary of the World Sufi Forum Besides, he is editor-in-chief of a web-magazine promoting peace journalism, [19]


Education

Ghulam Rasool Dehlvi has obtained a certificate of Islamic Studies (Islamic Scholar) from the Jamia Amjadia Rizvia (Mau, UP, India), Research in Quranic Studies from Al-Jame-atul-Islamia, Faizabad, UP, India and got his certificate of Ilm-al-Hadith from Al-Azhar Institute of Islamic Studies, Badaun. Then, he pursued BA (Hons) in Arabic Language and Masters in Comparative Religions and Islamic Studies from Jamia Millia Islamia [20][21]

Views

Ghulam Rasool Dehlvi has his on views on different topics, which are very important and some of them are controversial in his (contemporary) era.

On Sufism

Dehlvi has written that the “Foundations of Sufism” are: Tawheed (oneness of God), Wahdatul wujud (unity of existence), ilmul yaqeen (knowledge with firm faith), zikr (incantation), muraqaba (meditation), observance of taqwa (God-consciousness) and tawba (repentance on sins), ikhlas (sincerity), tawakkul (contentment), sidq (truthfulness), amanah (trustworthiness), istiqamah (uprightness) and shukr (thankfulness).[22] However, Dehlvi opines that the soul and spirit of Sufism is dying out even at the Dargahs and Khanqahs (Sufi shrines), which imbibed an egalitarian tradition of inclusiveness.[23]

On Sunni-Sufi creed

Dehlvi endorsed the stand that “Ahluls Sunna wal Jama’ah [Sufi-Sunni Muslims] are the Ash’arites or Muturidis (adherents of Abu Mansur al-Maturidi's systematic theology which is also identical to Imam Abu Hasanal-Ash'ari’s school of logical thought). In matters of belief, they are followers of any of the four schools of thought (Hanafi, Shaf’ai, Maliki or Hanbali) and are also the followers of pure Sufism in doctrines, manners and [spiritual] purification.”[24]

About terrorism, radicalization and violent extremism

Ghulam Rasool Dehlvi has extensively written on terrorism, radicalization and violent extremism. He writes: “the ‘gun culture’ underpinned by a nefarious ideology has been playing havoc in the spate of terrorist atrocities from Brussels, Paris, Pathankot to San Bernardino and lately in Orlando’s LGBT nightclub. The obnoxious act of violent extremism in Florida, as anywhere else in the world, is not just a law and order problem. Neither it is practically expedient to paint it as a political incident. The ‘gun culture’ coupled with an exclusivist, retrogressive and chauvinistic ideology is the actual stimulus for the extremist zealots to go haywire”.

On Counter-extremism

Dehlvi views that just blocking the jihadist, pro-Islamic State accounts on certain social platforms is not the solution. A well-thought-out, well-reasoned, coherent and effective counter-narrative against the extremist rhetoric is imperative, avers. [25]

On Zakir Naik

Dehlvi wrote that the country’s Muslims are distressed at the misleading stand of Zakir Naik on suicide bombing.[26] He thinks that Indian Muslims, both Sunnis and Shias, have deeper ideological problem with Zakir Naik. He also went on writing that Naik has been trying to lure the Indian Muslims, anchored in an age-old traditional Sufi Islam, into professing and practicing the pernicious theology of Salafism.[27]

On girls' education

Dehlvi strongly encourages the education of women, in both the social and religious domains. He believes that girls’ education and cultural training are an integral part of inclusive development of a community. “There is no priority for men in relation to the right to education. Both are equally encouraged to acquire education. Indeed, all the Qur’anic verses which relate to education and knowledge are directed to both men and women alike. “When the Qur’an enshrined such a lofty status for women and accorded them rights that they could not otherwise even imagine in 7th century Arabia, why this discrepancy between the actual Qur’anic provisions for women and their sorry state of affairs in the Muslim world today?”, he writes: [28]

Work

Along with his dozens of essays and articles his following books also have been published.
  1. Sufism, Counter- extremism and Indian media [29]
  2. Sufism, the heart of humanity [30]
  3. Islamic Televangelism in India [31]
  4. Caliphate Hejaz and Saudi State an Urdu Translation of the book of Imran Nazar Hosein
 _______________________________________________________

References


  1. http://gulfnews.com/news/asia/india/india-s-islamic-schools-walk-the-middle-path-1.1441132
  2. http://www.caravanmagazine.in/lede/divine-tongues
  3. http://gulfnews.com/news/asia/india/india-s-islamic-schools-walk-the-middle-path-1.1441132
  4. http://gulfnews.com/culture/heritage/india-s-islamic-schools-need-an-overhaul-1.1522784
  5. http://timesofindia.indiatimes.com/toireporter/author-Ghulam-Rasool-Dehlvi.cms
  6. https://sabrangindia.in/content-authors/ghulam-rasool-dehlvi
  7. http://themoroccantimes.com/2015/11/17400/sufism-shield-religious-extremism
  8. http://www.newageislam.com/islam-and-politics/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/all-islamic-fundamentals-are-aimed-at-military-preparation-for-jihad,-said-maulana-maududi,-what-do-the-mainstream-ulema-say?/d/101454
  9. http://www.eurasiareview.com/21102016-india-debate-on-triple-talaq-and-uniform-civil-code-is-unsolicited-polemic-oped/
  10. http://www.wordforpeace.com/?s=Ghulam%20Rasool%20De
  11. http://www.wordforpeace.com/
  12. http://www.firstpost.com/author/ghulam-rasool-dehlvi
  13. http://www.asianage.com/mystic-mantra/chiragh-e-dehli-illuminating-lamp-delhi-537
  14. http://www.deccanchronicle.com/byline/ghulam-rasool-dehlvi
  15. https://www.youtube.com/watch?v=IoNaDSMPke4
  16. http://www.firstpost.com/india/ban-on-zakir-naik-not-the-end-india-needs-vigilance-to-save-muslim-youth-3116838.html
  17. http://ir.voanews.com/a/3525518.html
  18. http://www.oneindia.com/bengaluru/exclusive-interview-scholar-ghulam-rasool-dhelvi-on-orlando-shooting-2126428.html
  19. https://cafedissensusblog.com/2016/07/01/sufi-islam-an-interview-with-ghulam-rasool-dehlvi/
  20. http://www.education-for-peace.com/Print.aspx?ID=34600
  21. http://jmi.academia.edu/GhulamRasoolDehlvi
  22. http://www.aiumb.org/sufism/what-is-sufism/
  23. http://www.firstpost.com/india/a-deeper-reflection-on-the-haji-ali-case-is-sufism-disappearing-from-the-indian-dargahs-2980564.html
  24. http://www.firstpost.com/world/islamic-conference-in-chechnya-why-sunnis-are-disassociating-themselves-from-salafists-2998018.html
  25. http://www.firstpost.com/world/tweeting-jihadism-how-the-online-onslaught-of-islamic-state-can-be-countered-2970164.html
  26. http://www.firstpost.com/world/suicide-bombing-is-haram-in-islam-only-salafist-ideologues-like-zakir-naik-view-it-as-a-war-tactic-2898840.html
  27. http://www.firstpost.com/india/zakir-naik-and-salafism-why-islamic-scholars-can-dismantle-influence-of-extremist-theology-2893504.html
  28. http://www.milligazette.com/news/12896-women-in-islam-exploring-new-paradigms
  29. http://www.firstpost.com/india/world-sufi-forum-how-sufism-runs-as-a-counter-to-hardline-ideologies-2680958.html
  30. http://www.asianage.com/mystic-mantra/chiragh-e-dehli-illuminating-lamp-delhi-537
  31. http://newageislam.com/debating-islam/islamic-televangelism--the-salafi-window-to-their-paradise/d/107563