‏Politics لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Politics لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 19 فروری، 2023

انقلاب فرانس کی بازگشت

Public Domain - Wikipedia

عبدالرزاق قادری

ایک سال میں قوم نے دیکھ لیا کہ بہت سے صحافیوں، تجزیہ کاروں اور مبصرین کی آراء غلط ثابت ہوئیں اور ان کے اندازے بھی غلط ثابت ہوتے رہے حتی کہ ایک واقعہ یا پیش آمدہ صورتحال ابھی مکمل بیان نہ ہو پائی ہوتی اور اس کے ساتھ ہی کچھ مزید واقعات جنم لے چکے ہوتے۔


میں نے پچھلے سال (مارچ 2022ء میں) وڈیو لاگز بنانے شروع کر دئیے تھے لیکن پھر تحریک عدم اعتماد آ گئی اور میں خود کو سیاسی ابحاث سے علیحدہ رکھنا چاہتا تھا۔ میرا یہ شوق نہیں ہے کہ لوگ مجھے سیاسی تبصرہ کار کے طور پر پہچانیں، حالانکہ یہاں نامور تجزیہ کاروں کی چربہ سازی سے کچھ بہتر حافظہ رکھتا ہوں اور کسی بات کو مختلف پہلوؤں سے دیکھنے اور بیان کرنے کی بھی صلاحیت موجود ہے لیکن میں نے صحافت کو اپنی روزی روٹی کا ذریعہ نہیں بنایا اور ان طریقوں سے بنانا بھی نہیں چاہتا جو کہ رائج ہیں۔


بہت سے صحافی گفتگو اور تحریر کے دوران لکھ کر اس امر کا ہلکا سا اشارہ دیتے رہتے ہیں کہ جس سے وہ تنخواہ لیتے ہیں اسی کے ڈر سے وہ "مکمل سچ" نہیں بول پاتے، یا یوں سمجھ لیں کہ وہ کسی میڈیا ہاؤس کے پالیسی بیانیے کے خلاف نہیں جا سکتے اور مجبورا خود کو ملے ہوئے ٹاپک پر چیف ایڈیٹر یا ایم۔ ڈی۔ کے احکامات کے مطابق تبصرہ لکھتے ہیں اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرتے ہیں۔


بہرحال اس ایک سال کے سیاسی واقعات نے صحافت کا چہرہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا ہے اور سوشل میڈیا پر "چینلز" کا جو جمگھٹا لگ رہا تھا اس کی قلعی بھی کھل چکی ہے، کہ کوئی کیوں سنے تمہارا چینل؟ جب لوگوں کو فرسٹ ہینڈ انفارمیشن مل رہی ہے وہ آپ سے گھسی پٹی جعلی خبریں کیوں سنے اور کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے 30 سال پرانے مائنڈ سیٹ کے ساتھ جو فضول "خبر" آپ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دس مہینے سے وہی جھوٹ الاپتے چلے جا رہے ہیں جو مئی جون میں سوچا گیا تھا تو لوگ کب تک ان چیزوں کو حقیقت سمجھتے رہیں گے۔


قومی سلامتی کے اداروں کے حوالے سے ہمیشہ سے پاکستانی عوام کے جذبات یہی رہے ہیں کہ یہ ہمارے ملک کی سرحدوں کے محافظ ہیں لیکن سن 2022ء میں ہونے والے بے شمار واقعات نے عوام کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اور حتی کہ پشاور میں پولیس کی مسجد میں دھماکے کے بعد پولیس کے لوگوں نے جلوس نکالا اور نعرے لگائے کہ، "یہ جو نامعلوم ہیں سب ہمیں معلوم ہیں"۔


پاکستان کی 75 سال کی تاریخ میں ایسی واضح آوازیں کبھی نہیں اٹھیں کہ لوگ چیزوں کو سمجھ بھی رہے ہیں اور انہیں بیان بھی کر رہے ہیں۔


اس کے ساتھ ساتھ ٹی۔ایل۔پی کی اسلامیات ساری ایکسپوز ہو گئی کہ ایک حکمران کے لیے فرانس بلاوجہ "حرام" تھا دوسرے حکمران کے لیے وجہ کے ساتھ بھی "حلال" ہی رہا۔

جو یہاں پیو تو حرام ہے وہاں پیو تو حلال ہے۔ انہی کے ٹولے کے مفتی منیب الرحمان صاحب بھی قرآن و حدیث کی ایسی تشریحات کرتے رہے کہ علماء سوء ہوتے کیا ہیں؟ سب کو سمجھ آگئی۔


ان عناصر کے ساتھ ساتھ

1۔ عامر لیاقت

2۔ جواد احمد

3۔ شاہد آفریدی

4۔ قاسم علی شاہ

اور

5۔ مرزا انجینئر جیسے زبان درازوں کو بھی میدان میں اتارا گیا۔


ان سے پہلے بھی "جعلی صحافیوں" کی ایک کھیپ گوگلی نیوز اور "نیا دور" کی صورت میں گالیوں کی برسات کر رہی تھی۔

لیکن۔۔۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کے مصداق جتنے بھی بدزبان مارکیٹ میں اتارے گئے وہ منہ کی کھا کر ایسے راندہء درگاہ ثابت ہوئے کہ لوگوں کے دلوں سے اتر گئے۔


ترے دل سے نکالے تو کہاں پہنچے

جب پہنچے تو یاد آیا، نکلنا بھی ضروری تھا


چشم فلک نے بدمعاشی کی وہ حدیں بھی دیکھیں کہ جس میں سیاستدانوں کو زود و کوب کیا گیا، ارشد شریف کو قتل کیا گیا اور باقی ماندہ تجزیہ نگاروں کو بھی ارشد شریف کی طرح خبردار کر کے بھیگی بلی بنا دیا گیا، ٹی وی شوز بند ہو گئے۔ اور قانونی کارروائی کرنے کے الفاظ کو دہشتگردی سے نہ صرف تعبیر کیا گیا بلکہ اسی پر سال بھر چکر لگتے رہے، اور ڈاکوؤں کو منبر و محراب کی مسندیں مل گئیں ان پر تحقیق و تف کرنے والے سرکاری ملازم بے موت مارے گئے۔ ملک میں سے اشیائے خورد و نوش ختم ہو گئیں، کسان کو انہی تجربہ کاروں کے سابق دور کی طرح برباد کر دیا گیا۔


لیکن

زمین جنبد نہ جنبد گل محمد

اب صورتحال یہ ہے کہ سری لنکا میں تو شاید چند لوگ ایسے تھے جن کے اندر انقلاب فرانس کے جیسی خراب کھوپڑیاں موجود تھیں لیکن یہ تو پاک سر زمین شاد باد ہے یہاں ایسے حالات کی ضرورت کیوں پیش آئے۔

اگے تیرے بھاگ لچھئیے۔

جمعرات، 16 نومبر، 2017

زمباوے میں فوجی بغاوت ، خاتونِ اول گریس موگابے اور سیاسی پس منظر

زیرِ حراست صدر موگابے اور خاتونِ اول گریس موگابے: ویکیپڈیا
رپورٹ: عبدالرزاق قادری
گریس موگابے، زمباوے کے صدر رابرٹ موگابے کی بیوی  اور خاتونِ اول ہے وہ جنوبی افریقہ میں بینونی کے مقام پر پیدا ہوئی تھیں اور ان کی شادی صدر موگابے کے ساتھ 1996ء میں ہوئی۔ سن 2014ء سے میڈم گریس،  زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ کے خواتین ونگ کی سربراہ  مقرر ہوئیں، زمباوے کی حکومت میں اُن کے کردار کی وجہ سے  ان پر یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق  ، ملک کے دارالحکومت ہرارے میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 51 سالہ گریس موگابے کا کہنا تھا کہ ”ایک دن جب خدا کی مرضی سے رابرٹ موگابے فوت ہو جائیں گے تو ہم ان کی لاش کو انتخابات میں کھڑا کریں گے۔“ زمبابوے کی خاتونِ اول کا مزید کہنا تھا کہ ”آپ دیکھیں گے کہ لوگ موگابے کی لاش کو بھی ووٹ دیں گے، میں یہ بات آپ کو سنجیدگی سے بتا رہی ہوں۔ لوگ ایسا صدر کے ساتھ اپنا پیار دیکھانے کے لیے کریں گے۔“
زمبابوے افریقی نیشنل یونین ۔ پیٹریاٹک فرنٹ ایک سیاسی جماعت ہے جو 1980ء سے زمباوے کی آزادی سے لے کر حکومت میں رہی  ہے،   رابرٹ موگابے پہلے بطورِ وزیر اعظم ” زمبابوے افریقی نیشنل یونین“ کی  قیادت کرتے  رہے اور پھر جب 1988ء میں اُنہوں نے” زمباوے افریقن پیپلز یونین “کے ساتھ انضمام کر لیا تب صدرکے طور پر اس کے رہنما رہے  اور پھر اپنی سیاسی جماعت کے لیے ”زمبابوے افریقی نیشنل یونین ۔ پیٹریاٹک فرنٹ“ کا ٹائٹل  اختیار کر لیا۔
سن 2008 ء کے پارلیمانی انتخابات میں، زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ ، اپنی پارٹی کی تاریخ میں پہلی اور آخری مرتبہ پارلیمان کا کنٹرول کھو گئی  اور ”دی موومنٹ فار ڈیموکریٹک  چینج۔ سوانگیرائی“ کے ساتھ اتحاد کرکے مخلوط حکومت  کا معاہد کر لیا۔لیکن اس کے بعد 2013 ء کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے فتح حاصل کی۔
جبکہ، ”دی موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج زمباوے“ جسے عام طور پر  موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج ۔ سوانگیرائی کہا جاتا ہے   اسمبلی میں موجود ایک مرکزی اپوزیشن جماعت ہے۔  سن 2005ء کی تقسیم کے بعد یہ مورگن سوانگیرائی کی زیرِ قیادت اس جماعت کے دو دھڑوں میں سے اکثریتی حصہ ہے، دوسرا قدرے اقلیتی حصہ ”موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج۔نکیوبے“ ہے جس کے قائد ویلشمین نکیوبے ہیں۔
رابرٹ گیبریل موگابے،فروری 1924ء میں پیدا ہونے والے ایک زمباوی انقلابی اور سیاستدان ہیں جو 1987ء کے بعد سے زمبابوے کے صدر ہیں۔ اس سے قبل وہ 1980ء سے لے کر 1987ء تک زمباوے کے وزیرِاعظم رہے وہ 1975ء سے اپنی سیاسی جماعت کے چیئرمین ہیں، نظریاتی طور پر ایک افریقن نیشنلسٹ، 1970ء  اور 1980ء کی دہائی میں وہ خود  کومارکسٹ۔لینینسٹ جبکہ 1990ء کی دہائی سے صرف سوشلسٹ قرار دیتے ہیں، ان کی پالیسیوں کو موگابیزم کہا جاتاہے۔
 صدر موگابے  ترانوے برس کے ہو چکے ہیں اور اُنہوں نے سیاسی سرگرمیاں بھی محدود کر دی ہیں تاہم ان کی پارٹی سن 2018ء کے انتخابات کے لیے انہیں ایک بار پھر صدارتی امیدوار  نامزد کرنا چاہتی تھی کہ اچانک مارشل لاء لگنے کی خبریں آگئیں۔14 نومبر 2017ء کی شام، زمبابوے کی دفاعی افواج کے افسرانِ بالا، زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے کے ارد گرد جمع ہوئے، اور زمبابوے براڈکاسٹنگ کارپوریشن اور شہر کے دوسرے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اگلے روز انہوں نے یہ بیان جاری کیا کہ یہ مارشل لاء نہیں لگایا گیا اور صدر موگابے بالکل محفوظ ہیں اور جب وہ موگابے کے اردگرد موجود زمباوے کے معاشرتی۔ معاشی مسائل کے ذمہ داران   ”مجرموں“ کے ساتھ نمٹ لیں گے پھر حالات معمول کی جانب پلٹ آئیں گے۔  جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زُما، نے موگابے کو فون پر  کال کر کے معلوم کیا تو تصدیق ہوئی کہ موگابے بالکل ”ٹھیک“ ہیں لیکن زیرِ حراست ہیں۔
مارشل لاء ایسے حالات میں عائد ہوا ہے جب  زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ کے سابقہ وائس پریزیڈنٹ ایمرسن منانگاگوا (جنہیں فوج کی حمایت حاص ہے) اور خاتونِ اول گریس موگابے (جنہیں ینگر جی۔40 دھڑے کی حمایت حاصل ہے) کے درمیان 93 سالہ بوڑھے صدر موگابے کا جانشین بننے کی چپقلش جاری تھی۔  ایمرسن منانگاگوا کے جب پارٹی سے نکالا گیا اور جبراً ملک بدر کیا گیا تو ایک ہفتے کے بعد، لیکن فوج کے  دارلحکوم ہرارے میں داخل ہونے سے ایک روز قبل آرمی چیف کونسٹین ٹینو چیونگا نے ایک بیان جاری کیا تھا کہ  زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ کے اعلیٰ عہدے دار جیسا کہ  ایمرسن منانگاگوا کو بے دخل کیا گیا ہے، ایسی  حرکتوں سے باز رہناچاہیے۔

منگل، 24 نومبر، 2015

سانحہ فرانس اور ہم

میں نے سانحہ فرانس پر کئی بار لکھنے کا سوچا پھر سوچا کہ رہنے دوں، اس جنونی قوم کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہاں مُلّا نے ان کی برین واشنگ کی ہوئی ہے اور اپنے بیٹے امریکہ میں 'اعلیٰ تعلیم' کے لئے بھیج رکھے ہیں۔ ان خبیثوں کے گھر میں نہ کوئی دھماکہ ہوا اور نہ ہی ان کا کبھی کوئی عزیز اس طرح کی اندوہناک موت سے دوچار ہوا، یہ شراب کے جام چڑھا کر قوم کو فوٹو شاپ سے وڈیوز اور تصاویر بنا کر دے دیں گے کہ دیکھو مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے! بھئی فرانس میں دہشت گردی کی واردات کا مسلمان اور کافر سے کیا لینا دینا؟ کیا یہ مسلم اور غیر مسلم کی جنگ ہے؟ اگر کسی نے ایک ظلم کے خلاف احتجاج کے لئے فرانس کا جھنڈا لگا لیا تو کونسی قیامت آگئی۔ اس واردات میں کئی مسلمان مارے گئے ہوں گے بلکہ ایک مسلمان کی خبر آئی تھی وہ  اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کی مدد کرتا رہا ۔ چند ماہ قبل جب وہاں  اس گستاخ میگزین کے دفتر پر حملہ ہوا تھا تو خبروں سے معلوم ہوا کہ فرانس کی پولیس میں مسلمان سپاہی بھی ہیں! نجانے میری قوم کو کس پاگل کتے نے کاٹ لیا ہے؟ یہ عقل و شعور سے پیدل ہو چکے ہیں۔ بھئی ظلم جہاں بھی ہو قابلِ مذمت ہے۔
 اس درندگی کے واقعہ کے بعد پشاور سکول کے شہید بچوں کے والدین کے زخم  ایک بار پھر سے تازہ ہوگئے اور وہ روئے، لیکن جس کو معلوم ہی نہیں کہ دکھ درد کیا ہوتا ہے وہ تو ایک ڈی-پی لگانے پر بھی ٹوکہ پکڑ لے گا۔ جب ہمارے ہاں کوئی افسوسناک واقعہ پیش آتا ہے تو ساری دنیا کے لوگ درد سے بلک اٹھتے ہیں لیکن میری حرام کھانے والی قوم کو کیا معلوم کہ کسی  کا درد کیا ہوتا ہے۔
            مجھے صد ہزار مرتبہ یقین ہے کہ قوم کو ملالہ کے خلاف اکسانے اور سانحہ پیرس کے خلاف بھڑکانے میں طالبان کی سوچ کارفرما ہے، طالبان کوئی خلائی مخلوق نہیں یہی دیوبندی مدارس کے جنونی درندے ہیں، وہ لال مسجد سے ہوں یا رائیونڈ سے یہ سب داعش کے ہمنوا ہیں۔
بھائی لوگو! ذرا ہوش سے کام لو۔ جس نے فرانس کے مقتولین کا دکھ منایا، ُاس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ وہ مسلمانوں کا دشمن ہے۔ جس  دن سانحہ پشاور ہوا تھا، وہ 16 دسمبر 2014ء تھا۔ آپ گوگل میں یہ تاریخ لکھ کر کسی بھی اخبار کا نام لکھیں آپ کو بے شمار کافر ،اس سانحہ پر افسوس کرتے دکھائی دیں گے۔ کیا بھارت کے سکولوں میں بچوں نے افسوس میں خاموشی اختیار نہیں کی تھی۔۔۔۔۔ بلکہ میں نے تو شاید اُسی رات گارڈین میں افریقہ سے لکھا ہوا کسی کا تعزیت نامہ پڑھا تھا۔ پوری دنیا کے لوگ خون کے آنسو روئے تھے۔ اللہ اس طرح کے حادثوں سے محفوظ رکھے۔
دوسری قسط:معذرت کے ساتھ!

ہفتہ، 31 اکتوبر، 2015

لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں بلدیاتی الیکشن

آج 31 اکتوبر 2015 ہے لاہور سمیت پنجاب کے بارہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں میں پرسوں شام سے اپنے ایک دوست حسیب نذیر کے گاؤں سرائچ آیا ہوا ہوں۔ یہ گاؤں لاہور سے قصور جانے والی بڑی سڑک فیروز پور روڈ کے سٹاپ سوا آصل کے  مشرق میں پانچ کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ میرا گھر داتا دربار لاہور کے پاس ہے اس طرح میں گھر سے تقریباً  پینتیس کلومیٹر دور حسیب کے گھر کی  سیڑھیوں کے اوپر والے کمرے میں بیٹھا یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔
چند روز قبل یہاں ایک شدید زلزلہ آیا تھا جس سے آپ لوگ واقف ہوں گے اس کے آفٹر شاکس بھی چوبیس گھنٹے میں  آئے  لیکن ہماری تماش بین قوم نے کل کی ہیڈ لائن  کو اس کے آفٹر شاکس مان لیا لازمی طور پر آپ عمران خان کی طلاق والی ہیڈ لائن اور اس پر قیاس آرائیاں بھی ملاحظہ فرما چکے ہوں گے۔ 
اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں چونکہ آج الیکشن کا دن ہے اور جس یونین کونسل کی حدود میں میرا قیام ہے  اس کے بڑے بڑے انتخابی نشانات بالترتیب بالٹی، ہیرا، شیر، بلا ، سیف الماری اور پریشر ککر ہیں، ان میں سے شیر نون لیگ کا اور بلا تحریک انصاف کا ہے دیگر نشانات آزاد امیدواروں کے ہیں مندرجہ بالا ترتیب میرے دوست حسیب کے حساب سے ہے وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس لحاظ سے اکثریتی ووٹوں کے نتائج سامنے آئیں گے، حالانکہ ان کی ہمدردیاں تحریک انصاف سے وابستہ امیدوار کے ساتھ ہیں لیکن وہ جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے اپنے تجزیے کو  اپنے  تنقیدی مشاہدے اور جائزے کی بنا پر  بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا اپنے دوستوں کو صرف ایک ہی پیغام ہے کہ شیر نہ جیتنے پائے باقی جسے مرضی ووٹ دے دیجیئے گا ۔ صرف شیر پر مُہر نہ لگانا۔  درحقیقت میرے اپنے جذبات کچھ اسی طرح کے ہیں کہ نون لیگ جیسی ظالم جماعت کا امیدوار نہ جیتنے پائے اس کے علاوہ کوئی بھی کامیاب ہوجائے میری بلا سے۔ میرای اپنی  ووٹر لسٹ میرے شناختی کارڈ کے مطابق ضلع لیہ میں ہے یوں میں صرف اس جمہوری فرض کو نبھانے کے لئے تگ و دو کرکے  لیہ نہیں جا  سکا، ویسے بھی  میرے کئی تحفظات اس جمہوریت  سے وابستہ ہیں۔
کل میرے کچھ آن لائن اسباق تھے جو  میں نے  حسیب کے لیپ ٹاپ سے پڑھائے اور شام کے وقت ہمارے ایک دوست اشفاق میئو  کے گھر ڈنر کیا ۔ آج کا دن بہرحال کافی جوش و خروش کا دن رہا، میری توقعات سے زیادہ گہما گہمی رہی بلکہ ابھی تک ووٹرز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ  سہہ پہر کے سوار چار  کا وقت ہے۔ مقامی سیاست، چودھراہٹ  اور برادری نوازی کا مطالعہ کرنے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔ کہنے کو یہ ایک گاؤں ہے لیکن اگر اس کا موازنہ ہمارے ضلع لیہ کے دیہات سے کیا جائے تو یہ لاہور شہر کا ایک حصہ ہی مانا جائے گا اس کے شواہد بھی موجود ہیں یعنی ہمارے دیہات سے جو مزدور کسب معاش کے سلسلے میں لاہور آتے ہیں ان میں سے  بعض لوگ اسی سوا آصل سٹاپ کے آس پاس والی فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں بلکہ ضلع لیہ سے میرے کئی جاننے والے ان فیکٹریوں میں کام کرتے رہے ہیں اور سوا آصل بس سٹاپ سے بخوبی واقف ہیں۔ اس گاؤں کی آبادی میرے اندازے کے مطابق پندرہ سو افراد سے زیادہ ہوگی جبکہ ہمارے لیہ والے گاؤں 475 ٹی ڈی اے میں شام کے وقت پندرہ نوجوان کرکٹ کے میدان میں جمع نہیں ہوسکتے کیونکہ وہاں آبادی بہت کم ہے۔
زیادہ مصروفیت والے لوگ صبح سویرے جاکر مقامی سکول کی اس قطار میں کھڑے ہوگئے جہاں ووٹرز کی تصدیق کی جاتی اور انہیں ووٹ کاسٹ کرنے کا طریقہ بتایا جاتا جبکہ میرے دوست اس انتظار میں رہے کہ  کب ہجوم میں کمی واقع ہو اور وہ مکمل پروٹوکول کے ساتھ اپنا حقِ رائے دہی استعمال فرما سکیں، ان دوستوں  میں حسیب نذیر، قاسم سجاد میئو اور  ریحان پی سی او  والے  اشفاق جٹ سرِ فہرست ہیں۔ سہہ پہر کے تین بجے ان ساتھیوں نے سکول کے اندر جا کر جائزہ لیا توہجوم ابھی باقی تھا ، لہٰذا حسیب اور قاسم طوعاً و کرھاً  اسی قطار میں کھڑے ہوگئے جبکہ جٹ صاحب نے  ہنوز لیت و لعل سے کام لیا اور ایک بار پھر دکان کی راہ لی۔ یہ مناظر دیکھ کر میں یہاں گھر واپس آگیا اور حسیب کے بھائی عبدالرؤف سے چائے کا تقاضا کرکے  اس تحریر کو لکھنے میں مصروف ہوگیا اسی اثنا میں حسیب بھی تصدیق کروا کے ایک بار آیا اور اپنی والدہ کو میری چائے کا کہہ کے شاید واپس سکول کی جانب چلا گیا، عبدالرؤف کب کا مجھے چائے دے بھی گیا ،  جس کاذائقہ ابھی تک میرے دہن میں ہے۔
اس الیکشن کے منظرنامے میں مجھے سب سے دلچسپ پہلو دیہاتیوں کی بذلہ سنجی اور برداشت کا دکھائی دیا، دوپہر کے وقت ایک مقام پر دو آدمیوں کے درمیان ہلکی سی  تلخ کلامی کی افواہ سنائی دی تھی جبکہ  مجموعی طور پر برداشت کی روایت برقرار رہی، لطف کی بات یہ کہ میرے جاننے والے کئی لوگ یعنی حسیب کے ہی دوست مختلف امیدواروں کے حق میں تھے پھر بھی آپس میں گاڑھی چھن رہی تھی بلکہ مخالف جماعتوں کے یا آزاد امیدواروں کی خوبیاں بھی سننے کو ملتی رہیں مثلاً ایک امیدوار ذرا جدت پسندانہ طریقے سے لوگوں کو قائل کرتا تھا اور دیگر کئی  دلکش خوبیوں کا  حامل تھا حسیب اور قاسم دونوں اس کی خوبیوں کی داد دے رہے تھے حالانکہ دونوں ہی  اسے ووٹ نہیں دینے والے تھے۔
ہمارے لاہور والے علاقے بلال گنج اور ملک پارک میں نون لیگ اور تحریک انصاف کا زیادہ واویلا تھا بلکہ نون لیگ چھائی ہوئی ہے یوں سمجھنا چاہیے کہ لاہور کا یہ علاقہ مسلم لیگ (نون) کا گڑھ ہے کیونکہ وزیر اعظم میاں نواز شریف  کا انتخاب اسی حلقے سے  بطور ایم۔این۔اے ہوا  تھا۔ اس گاؤں کے حلقے کی کہانی یہ ہے کہ یہاں سے وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب بطور ایم۔پی۔اے ہوا تھا، تو عین ممکن ہے کہ  اس علاقے کی یونین کونسلز سے نون لیگ کے امیدواران کامیاب ہوجائیں۔

اتوار، 15 مارچ، 2015

قیام پاکستان کے مخالف مولوی کون؟

Anti Pakistan Ulema during Independence Movement
ابھی ابھی فیس بک پر ایک تحریر نظر سے گزری جس میں کسی صاحب کی مولویوں پر کی گئی کسی تنقید کے جواب میں جوابی تنقید اور مولویوں کی وکالت تھی۔ جس پیج والوں نے مولویوں کی وکالت کرنے کا بیڑہ اپنے کندھوں پر اٹھایا انہوں نے ایک بات یہ لکھی

"عارف کسانہ صاحب نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ مولویوں کے کفر کے فتووں کی وجہ سے مسلمانوں کا خون سب سے زیادہ بہا ہے۔ کسانہ صاحب نے کسی تاریخی واقعے کی جانب اشارہ نہیں کیا اور تیر بھی چلا دیا۔ شاید ہٹلر کے مشیرِ خاص گوئبلز نے اسی اندازِ گفتگو کو پروپیگنڈے سے تعبیر کیا ہے۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم پر مولویوں نے کفر کے فتوے لگائے مگر کوئی ان کفر کے فتوے لگانے والے مولویوں کے نام بھی جانتا ہے؟ لوگ تو اشرف علی تھانوی کو جانتے ہیں، سلیمان ندوی کو جانتے ہیں، شبیر احمد عثمانی کو جانتے ہیں جنہوں نے تحریکِ پاکستان میں قائدِ اعظم کا ساتھ دیا۔ اگر کوئی شعبدے باز، مفاد پرست، چال باز، دشمن ایجنٹ مولوی کے روپ میں کوئی ایسا کام کرے جو مسلم امہ کے مفاد میں نہ ہو تو بجائے یہ کے اس کام پر تنقید کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی نشان دہی کر کے صفوں سے باہر کیا جائے، اپنے ہی علما پر تنقید نابالغی اور مضحکہ خیزی کے زمرے میں آتی ہے۔ مولویوں کا تشخص استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ کرنا اسلام دشمن قوتوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔" وغیرہ وغیرہ
اب میں نے مناسب سمجھا کہ چند حوالے دے کر قوم کو بتا دوں کہ پاکستان کے مخالف مولوی کون تھے۔ چنانچہ 
 جہاں تک سوال ہے دیوبندی مکتبہ فکر کے اکابر کا، تو انہوں نہ صرف دو قومی نظریہ کی مخالفت کی بلکہ قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو کافرِ اعظم تک قرار دیا اور پاکستان کو ناپاکستان یا پلیدستان کے القابات سے پُکارا۔ ذیل میں تحریک آزادی کے حوالے سے اُن کا کردار تفصیل کے ساتھ آ رہا ہے۔

دیوبند کون ہیں؟ 
تحریک دیوبند پہلے دن ہی سے وہابیت سے متاثر ایک مذہبی جماعت ہے انیسویں صدی میں مولوی مملوک علی (جو پہلے حنفی سنی تھا) حج کرنے گیا اور وہاں سے وہابیت کے جراثیم لے کر آیا اور ایک نیا مکتبہ فکر وجود میں آ گیا، اس کے خیالات سے متاثر لوگوں میں سے قاسم نانوتوی ، رشید احمد گنگوہی اور یعقوب نانوتوی وغیرہم نے جامعہ دیوبند قائم کیا جس کے قیام کے متعلق بے شمار افسانوں سے کتابوں کے صفحات سیاہ ہوئے پڑے ہیں ان میں سے بشارت نامی ایک رسالے کا حوالہ بھی ملتا ہے جس سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ شاید یہ مدرسہ انگریزوں نے خود قائم کروایا تھا تاکہ برصغیر کے مسلمانوں کا رشتہ ان کے علماءِ اہلسنت سے توڑا جا سکے، دریں اثناء 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریز نے بے شمار علماءِ اہلسنت کو شہید کردیا تھا اور کالے پانی کی سزائیں دی تھیں۔  1919ء میں مسٹر گاندھی کی سربراہی میں چلنے والی تحریک خلافت (جو بعد میں تحریک ہجرت اور پھر تحریک ترک موالات میں بدل گئی) اس میں دیوبندی حضرات نے گاندھی کی خوب کاسہ لیسی کی اسے تقریباً نبی کے برابر بھی کہا اور مساجد میں لے جا کر اس کی تقاریر کرواتے رہے ان لوگوں نے انگریزوں کے ساتھ موالات ترک کرنے کا بہانہ بنا کر مشرکوں سے گٹھ جوڑ بنائے رکھا اور ساتھ ساتھ دیوبندی مولوی، سنی عوام پر شرک کے فتوے بھی لگاتے رہے 1919ء میں ان لوگوں نے جمعیت علمائے ہند قائم کی جس کا بنیادی مقصد مسٹر گاندھی کی سربراہی میں نظریہ وطنیت کی حفاظت کرنا تھا اور ہندوستانی قومیت کا پرچار کرنا تھا۔ دیوبندی علماء کے ایک بہت بڑےگروپ  نے مسلم اور غیرمسلم کے نام پر ہونے والی سیاست کی مخالفت کی، جس  کی سربراہی قائد اعظم محمد علی جناح فرما رہے تھے اور ان کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ آزاد مملکت کا حصول تھا۔ جمعیت علماءِ ہند کی طرح مجلس احرار اسلام، ایک دیوبندی  سیاسی پارٹی کی بنیاد 29 دسمبر 1929ء کو لاہور میں  رکھی گئی۔ جس کے بانیان میں سے چودھری افضل حق، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حبیب الرحمن لدھیانوی، مظہر علی اظہر، ظفر علی خان اور داؤد غزنوی قابل ذکر ہیں۔ اس پارٹ کے قیام کا مقصد بھی قائد اعظم  محمد علی جناح کی مخالفت اور ایک آزاد اسلامی مملکت پاکستان کے قیام کی مخالفت کرنا تھا۔ اس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کا قیام 1945ء میں اس وقت عمل میں آیا جب جمعیت علمائے ہند نے تقسیم ہند کے حوالے سے انڈین نیشنل کانگریس کے موقف کی حمایت کی، یوں اس موقف سے اختلاف پر علامہ شبیر احمد عثمانی کی زیر قیادت جمعیت علمائے اسلام وجود میں آئی۔ ان سیاسی سرگرمیوں اور ان تحاریک کے متعلق تحقیقی مواد غیر جانب ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے جس میں انگریزی وکیپیڈیا سرفہرست ہے اور وہاں ان باتوں میں سے ایک ایک کے  ثبوت کے لئے کئی کئی حوالے موجود ہیں چنانچہ ذیل میں اصل متن دیا جا رہا ہے

Deobandi Movement 
The Deobandi Movement has been influenced by Wahhabism from its early days. A large group of Deobandi scholars opposed Pakistan being established along sectarian lines, particularly the demands of Muhammad Ali Jinnah's Muslim League for the Partition of British India into Muslim and non-Muslim sections. The Deobandi movement advocated a notion of a composite nationalism according to which Hindus and Muslims constituted one nation.

Jamiat Ulema-e-Islam
Jamiat Ulema-e-Islam (JUI) is a Deobandi organization, part of the Deobandi movement. The JUI formed when members broke from the Jamiat Ulema-e-Hind in 1945 after that organization backed the Indian National Congress against the Muslim League's lobby for a separate Pakistan. The first president of the JUI was Shabbir Ahmad Usmani.

Majlis-e-Ahrar-e-Islam
Majlis-e-Ahrar-e-Islam (Urdu: مجلس احرارلأسلام‎), also known in short as Ahrar, was a conservative Deobandi political party in the Indian subcontinent during the British Raj (prior to the Partition of India) founded December 29, 1929 at Lahore. Chaudhry Afzal Haq, Syed Ata Ullah Shah Bukhari, Habib-ur-Rehman Ludhianvi, Mazhar Ali Azhar, Zafar Ali Khan and Dawood Ghaznavi were the founder's of the party. The Ahrar was composed of Indian Muslims disillusioned by the Khilafat Movement, which cleaved closer to the Congress Party. The party was associated with opposition to Muhammad Ali Jinnah and establishment of an independent Pakistan.

Jamiat Ulema-e-Hind
Jamiat Ulema-e-Hind is a Deobandi organizations in India. It was founded in 1919 by Abdul Mohasim Sajjad, Qazi Hussain Ahmed, Ahmed Saeed Dehlvi, and Abdul Bari Firangi Mehli.

قیام ِ پاکستان کے حامی دیوبندی
تحریکِ پاکستان کی حمایت کرنے والے دیوبندی حضرات کی تعداد اتنی کم ہے کہ انہیں بیان کرنے کے لئے صرف چند سطور ہی کافی ہیں۔ ان میں ایک بڑا  نام  علامہ شبیر احمد عثمانی  کا ہے۔ وہ  1944ء میں، مسلم لیگ کے رکن بن گئے اور پاکستان کے قیام کی حمایت کی، ان کا مقصد جمعیت علمائے ہند کے پروپیگنڈے اور سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے، انہوں نے 1945ء میں جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد رکھی اور وہ تاحیات اس کے صدر رہے۔ لیکن بعد میں جمعیت علمائے اسلام ان لوگوں کے ہاتھوں  میں چلی گئی جو جمعیت علمائے ہند کا حصہ تھے اور قیامِ پاکستان کے بدترین دشمن تھے۔ مثال کے طور پر مفتی محمود اور مولوی غلام غوث ہزاروی وغیرہما۔

Shabbir Ahmad Usmani
During the Balkan War, Usmani held a prominent position collecting donations for the Hilal-e-Ahmar Fund. In 1944, he became a member of the Muslim League and was one of the few Deobandis who supported the creation of Pakistan. In order to counteract the propaganda and activities of the Jamiat Ulema-e-Hind, he founded the Jamiat Ulema-e-Islam in 1945. He served as JUI's president until his death.


دیوبندی اکابرین کی قادیانیت نوازی 
دیوبندی اکابرین کی سیاسی عبقریت کے مزید حالات جاننے سے پہلے مذہب میں ان کے عقائد اور معلومات پر ایک نظر ڈالنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا تاکہ اس بات کااندازہ لگایا جاسکے کہ مذہبی طور پر یہ کس قدر راسخ العقیدہ لوگ ہیں۔ گزشتہ صدی میں قاسم نانوتوی سے لے کر اس فرقے کے مولویوں نے جو گستاخیاں سرورِ دوعالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں کی ہیں ان سے اکثر لوگ واقف ہیں اب  حبیب الرحمٰن لدھیانوی  کا بیٹا انیس الرحمٰن لدھیانوی فیصل آباد سے ایک رسالہ  ماہنامہ“ملیہ” شائع کرتا ہے اس میں وہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خلاف زہر افشانی کرتا رہتا ہے،(یاد رہے حبیب الرحمان لدھیانوی پہلے فوت ہوچکا ہے۔ آج کل اس کا وارث انیس الرحمان لدھیانوی جامعہ ملیہ فیصل آباد سے شائع ہونے والے شمارے 'ملیہ' میں ایک نئی من گھرٹ تاریخ لکھ رہا ہے جو حقائق سے کافی حد تک ہٹ کر ہے میں نے آصف بھلی کالم نگار کو فون کال کرکے اس واقعے کی طرف توجہ دلائی تھی جس کا شاید کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا لیکن پھر 16 اپریل 2014ء کو یہ معمہ کالم نگار ظفر علی راجا کی نوکِ قلم کی زد میں آگیا، یوں لگتا ہے کہ مندرجہ بالا مضمون حبیب الرحمان لدھیانوی کی کوئی تقریر تھی جو ایک عرصے کے بعد اس کے جانشین نے سپرد قلم کی اور اس پر صادق علی زاہد نے اپنا جواب دیا جسے راجا صاحب نے بیان کیا۔ فقط۔ عبدالرزاق قادری)
چنانچہ نوائے وقت کے کالم نگار ظفر علی راجا 16 اپریل 2014ء کو شائع ہونے والے اپنے کالم(اقبالؒ اور مولانا حبیب لدھیانوی کی “منطق”) میں لکھتے ہیں:۔
اسلام آباد سے شائع ہونے والے ماہنامہ ضیائے حرم کے شمارہ مارچ میں صادق علی زاہد کا ایک مضمون بعنوان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال اور فہم عقیدہ نبوت شامل اشاعت ہے۔ اس مضمون میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی کی ایک تقریر کو موضوع بنایا گیا ہے جو ماہنامہ ملیہ فیصل آباد کے شمارہ اکتوبر 2013ءمیں شائع ہوئی ہے۔ مولانا لدھیانوی نے علامہ اقبال پر جو تقریری کیچڑ اچھالا ہے اس کا تجزیہ کیا جائے تو علامہ ہی کا ایک شعر ذہن کی تاریکی میں چمکنے لگتا ہے ....
ملا کی نظر نور فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے مے خانہ صوفی کے مئے ناب

مولانا لدھیانوی لکھتے ہیں۔ آجکل ہمارے ملک میں ڈاکٹر سر محمد اقبال کے نظریات و افکار کو پیش کرکے عوام الناس کو علماءکے خلاف اکسایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ اسلام کی جو تشریح علامہ اقبال نے کی ہے وہی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ اس کے بعد مولانا لدھیانوی نے اقبال کے عقیدہ ختم نبوت پر حملہ آور ہوتے ہوئے لکھا ہے کہ علامہ نے ملا کو اپنے اشعار میں ہدف تنقید علماءسے دوری کی وجہ سے بنایا۔ بعد میں علامہ کو انہی علماءکی جوتیوں میں بیٹھ کر اپنے عقیدے کی اصلاح کا موقع ملا۔ اس سے آگے علامہ کے بارے میں ان کا بغض خود ان کے الفاظ میں پڑھئے۔ لکھتے ہیں۔
“ علامہ اقبال مرحوم جو کہ ساری زندگی اپنے آپ کو ایک عاشق رسول کی حیثیت سے متعارف کرواتے رہے وہ ختم نبوت کے عقیدے کو نہ سمجھ سکے۔ اس لئے انکے والد نور محمد اور بڑا بھائی عطا محمد مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے تھے بلکہ قادیانیوں کا دعویٰ یہاں تک ہے کہ علامہ اقبال خود بھی مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے تھے۔ آگے چل کر خود ہی اپنی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”اس کے بعد علامہ اقبال نے اپنے والد نور محمد پر محنت کی اور ان کو دوبارہ مسلمان بنایا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے والد کا نکاح اپنی والدہ سے دوبارہ خود پڑھایا تھا۔”.... پھر ایک جگہ لکھا:
“ڈاکٹر اقبال شروع شروع میں ملاں کے سخت مخالف تھے۔ وہ ایک عرصہ تک اپنے طور پر مسائل کے حل کے لئے مرزا قادیانی کے جانشین حکیم نور الدین سے فتوے منگواتے رہے۔ اقبال نے کئی مواقع پر ملاں پر اپنے شعروں میں پھبتی بھی کسی جوکہ آجکل اقبال فروش دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اقبال نے ملاں کی دینی حیثیت کو نہیں پرکھا تھا مگر جب اقبال علمائے کرام کے قریب آیا اور اس نے علماءاسلام کی دینی فقاہت کو دیکھا جوکہ دینی مدارس کا فیض تھا تو اسے پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملا۔”
صادق علی زاہد نے ثبوتوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ملاں لدھیانوی نے اپنی تقریری تحریر کے ذریعے “فی سبیبل اللہ فساد” پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جس دور میں علامہ کے والد نے مرزا قادیانی کی بیعت کی تھی اس وقت وہ ایک عالم دین کی حیثیت سے مشہور تھا۔ جبکہ اقبال اس وقت سکول کے طالب علم تھے۔ دعویٰ نبوت کے چھ سال قبل ہی شیخ نور محمد پر مرزا قادیانی کی اصلیت ظاہر ہونے لگی تو 1895ءمیں اس کے نام ایک خط لکھا اور بیعت توڑ ڈالی۔ اس پر مرزا قادیانی نے میر حامد شاہ کے نام خط میں لکھا کہ شیخ نور محمد کو کہہ دیں کہ وہ جماعت سے ہی الگ نہیں بلکہ اسلام سے بھی الگ ہے۔
صادق علی زاہد نے مستند حوالہ جات سے ثابت کیا ہے کہ علامہ کے والد تو مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے قبل ہی اسکی جماعت سے الگ ہو گئے تھے لیکن خود لدھیانوی صاحب کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے بزرگ مرزا قادیانی کی عقیدت میں گرفتار رہے۔ رشید احمد گنگوہی نے مرزا قادیانی کو صالح کہا اور اس کے الہامات کی تاویلات پیش کیں۔ اشرف علی تھانوی اسے کافر کہنے کے بجائے مسلمان کہتے رہے اور اس کے حق میں دعائیں کرواتے رہے بلکہ اس کی امامت میں نمازیں بھی پڑھتے رہے۔ مفتی کفایت اللہ نے مرزائیوں کو اہل کتاب قرار دیا اور انکے ہاتھ کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے قادیان میں قادیانی امام کے پیچھے پہلی صف میں کھڑے ہو کر نمازیں پڑھیں۔ مرزا کی وفات پر امرتسر سے لاہور آکر اسکے جنازے کے ساتھ بٹالہ تک سفر کیا۔
مولانا لدھیانوی کے ممدو حسن کا طرز عمل تو یہ تھا جبکہ علامہ اقبال کے بارے میں کتاب سیرت المہدی میں مرزا بشیر قادیانی نے خود لکھا ہے۔“ملک کے نو تعلیم یافتہ طبقہ میں احمدیت کے خلاف جو زہر پھیلا اس کی بڑی وجہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا مخالفانہ پراپیگنڈہ تھا”
مولانا لدھیانوی تو اقبال کو عقیدہ ختم نبوت کی اصلیت سے ناواقف قرار دیتے ہیں جبکہ 1935ءمیں احمدی عقائد سے متعلق اقبال کے ایک مقالے کی اشاعت پر لکھنؤ کے اخبار “صدق”نے یکم اگست کی اشاعت میں لکھا: .... “علامہ سر محمد اقبال کے اس حقیقت خیز اور ولولہ انگیز مقالے نے ہمالیہ سے راس کماری تک ہلچل مچا دی ہے جس میں انہوں نے مسئلہ ختم نبوت کے فلسفیانہ پہلو کو قدرتی قانون پر منطبق کرکے رسول اللہﷺ کی خدمت گزاری کا عظیم شرف حاصل کیا ہے”؟ صادق علی زاہد کا پندرہ صفحات پر پھیلا ہوا تحقیقی مضمون پڑھنے کے بعد ہم سوچ رہے تھے کہ اقبال کے فہم ختم نبوت کو مشکوک قرار دینے والے کا اپنا فہم نبوت کس درجے کا ہے۔ اقبال نے سچ ہی کہا تھا :
پنجاب کے ارباب نبوت کی شریعت
کہتی ہے کہ یہ مومن پارینہ ہے کافر
________________________________

اکبر اور گاندھی میں مماثلت
جس طرح کی بے دینی و بے حمیتی کا مظاہرہ اکبر مغل نے کیا اور تمام ادیان کو باہم مجتمع کرنے کی مذموم سعی کی بالکل اسی طرح سے گاندھی نے بھی دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے اکبری طرز کا فلسفہ اپنایا۔ وہ بظاہر تو اہنسا پرَشاد* کا داعی تھا لیکن قیامِ پاکستان کے وقت لاکھوں مسلمانوں کا خون پی گیا اس نے اور اس کے چیلوں نے مسلمانوں کے دودھ پیتے بچے بھی ذبح کروانے میں ظالموں کی پشت پناہی کی اور عفت مآب مسلمان خواتین کی بے حُرمتی میں بھی درندوں کو شہہ دی ایسے درندہ صفت انسان کو اہنسا پرشاد٭ کے فلسفے کا نام لیتے ہوئے شرم آنی چاہئے جس کے نزدیک کتے بلی تو انتہائی قدر و قیمت رکھتے تھے لیکن مسلمان انسانوں کا خون رائیگاں حیثیت رکھتا تھا۔
٭اہنسا پرَشاد مسٹر گاندھی کا ایک مکر ہے جسے عالمی سطح پر جانداروں کے تحفظ کا فلسفہ مانا جاتا ہے، مسلمانوں کو گائے قربان کرنے سے منع کرنا اصل مقصود تھا ورنہ ہندو ظالم تنظیموں نے گاندھی کی آشیر باد سے لاکھوں مسلمانوں کو ذبح کر ڈالا تھا کیا وہ جاندار نہ تھے! مزید برآں یاد رہے مسٹر گاندھی خاندانی طور پر جین مت کا قائل تھا جس میں گوشت کھانا انتہائی سختی سے منع ہے

 مولانا ضیاء الحامدی نقشبندی مجددی اپنی کتاب پاکستان اور کانگریسی علماء میں لکھتے ہیں:۔
متحدہ قومیت کا فتنہ
برصغیر پاک و ہند میں سلطنت مغلیہ کے شہنشاہ اکبر نے اپنے عہد میں اپنے اقتدار کے استحکام کے لئے متحدہ قومیت کی بنیاد رکھی جس کے خلاف امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ نے جہاد کیا اور بفضلہٖ  تعالیٰ جہانگیری عہد میں متحدہ قومیت کے بُت کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا، ہندوستان کے دورِ غلامی میں متحدہ قومیت کے مردہ کو گاندھی نے پھر زندہ کیا جس پر ابوالفضل اور فیضی جیسے دین فروش علماء سُو ایمان لے آئے، حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ابوالفضل اور فیضی نے شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کی حمایت میں قرآن وحدیث میں تحریفیں کی تھیں اور دنیوی مفاد کی خاطر ناموس رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قربان کردیا اسی طرح گاندھی کی متحدہ قومیت کی حمایت میں مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور ان کے رفقاء قرآن و حدیث کو غلط معنیٰ پہنا کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سر توڑ کوششیں کرتے رہے اور گاندھی و نہرو کی قیادت مین لادینی نظام کے قیام کیلئے کوشاں رہے، لیکن بفضلہٖ تعالےٰ برِّصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے قائد اعظم (رحمۃ اللہ علیہ) کی قیادت میں متحدہ قومیت کے فتنہ کا ڈت کر مقابلہ کیا اور پاکستان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
___________________________________


دیوبند خود کو معتدل اور امت وسط قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ہرگز حقائق کے منافی ہے۔ دراصل دیوبندیت، وہابیت سے بھی اگلے درجے کی منافقت اور خباثت کا نام ہے، موجودہ دور میں ایک طرف وہ عوام الناس کے اذہان کو سنیت اور پاکستان سے متنفر کررہے ہیں تو دوسری جانب انٹرنیٹ پر خود کو پاکستان کا سچا حامی اور بانی ثابت کرنے کے لئے بھی زور رہے ہیں۔ جس طرح اندلس میں لاکھوں مسلمانوں کا قتلِ عام کرکے عیسائیوں نے 1492 میں وہاں قبضہ کرلیا تھا بالکل اسی طرح کے آثار بیسویں صدی کے وسط میں ہندوستان میں نظر آرہے تھے اور ابوعبداللہ جیسے غداروں کی ایک فوج ظفر موج مسٹر گاندھی کے ساتھ تھی چنانچہ اسی حقیقت کو طشت ازبام کرتے ہوئے صحافی، بریگیڈیئر (ر) شمس الحق قاضی اپنے کالم مطبوعہ مورخہ 07 اپریل 2012،روزنامہ  نوائے وقت میں لکھتے ہیں:۔

مولانا ابوالکلام آزاد کے مواعظ 
ایک نجی ٹی وی چینل کے سینئر اینکر نے بتایا کہ 1944ءسے 1947ءکے دوران دہلی میں مولانا ابوالکلام آزاد نے مختلف اوقات پر پاکستان کے مستقل کے بارے میں جو خدشات ظاہر کئے وہ سو فیصد سچ اور درست معلوم ہوتے ہیں ۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا کہ پاکستان بن گیا تو یہ مسلمانانِ ہندوستان کو تقسیم کر دے گا۔ اور اس سے مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان ہو گا۔
راقم بھی واں موجود تھا مجھے یاد ہے ذرا ذرا
راقم اس دوران 1945ءسے 1947تک تاریخ پاکستان کی جدوجہدکے دوران دہلی میں موجود تھا اور مختلف اوقات میں مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے پاکستان مخالف مسلمانوں اور کانگریسی لیڈروں کے بیانات اور تقاریر سنتا رہا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی طاقت کو پاکستان بننے کے ذریعے کمزور کرنا پاکستان کی وجہ سے تھا یا مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے کانگریسی لیڈروں کی خواہشات پر مبنی تھا۔ راقم غالباً وہ واحد فرد موجود ہے جس نے برطانوی پاکستان کی پاکستان تجویز کے بارے میں نئی دہلی میں کانگریس کا جلسہ دیکھا اور سنا۔ اس جلسہ میں مولانا ابوالکلام آزاد سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان اور دوسرے غیر ہندوں لیڈروں نے جو تقاریر کی تھیں ان کاموضوع وہی تھا جو اس چینل نے اپنے پروگرام میں بتایا۔ اس میں جو بات نوٹ کرنے والی تھی وہ اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد اب بھی مجھے یاد ہے کہ ہندو لیڈر سردار ولبھ بھائی پٹیل ہوم منسٹر نے بتایا کہ ہندوستان میں مسلمان ہمارے لئے کینسر کی بیماری ہیں جن کو اکھیڑ کر پھینک دینا ہماری صحت کیلئے بہت ضروری ہے اور اسی کانام انگریزوں کی پاکستان تجویز ہے۔ میں اپنی منسٹری میں کسی مسلمان چپڑاسی پر بھی اعتبار نہیں کرسکتا۔ اسلئے انگریز حکومت کی بنائی تجویز ہماری زندگی کیلئے نہایت ضروری ہے چنانچہ اسی دوران ولبھ بھائی پٹیل نے ہندوستان کے مختلف علاقوں دہلی ، بہار، کلکتہ اور اس کے قرب و جوار وغیرہ میں مسلمانوں کا قتل عام کراکے وہ نقشہ دکھایا جو کانگریسی ہندوﺅں کے دل میں تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی تقریر میں بتایا کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے حالات اتنے خراب ہونگے یعنی خراب کر دئیے جائیں گے کہ پاکستان چھ ماہ کے اندر اندر اپنے گھٹنوں کے بل ہو کر دوبارہ ہندوستان میں شامل ہونے کیلئے ہمارے قدم پکڑے گا۔
چنانچہ ہندو کانگریس کا یہ پروگرام تھا کہ ایک طرف تو ہندوستان کے مسلمانوں کو ختم کیا جائے جس میں مولانا آزاد اور دوسرے کانگریسی مسلمان بھی شامل تھے اور دوسری طرف پاکستان کی نئی مملکت کا ناطقہ بند کیا جائے تاکہ وہ ملک چلنے کے قابل ہی نہ رہے اور پنڈت نہرو نے بطور خاص اپنے نمائندے پنڈت درگا پرشاد دھر وغیرہ کو مسلم ہسپانیہ میں یہ دریافت کرنے کیلئے بھیجا کہ ہسپانیہ میں عیسائیوں نے مسلمانوں کی 800 سالہ حکومت کو ختم کرکے مکمل طور پر مسلمانو ں سے کیسے خلاصی حاصل کی اس میں ہندوﺅں اور عیسائیوں کے دوست مسلمان بھی شامل تھے۔ ہسپانیہ اور ہندوستان دونوں علاقوں میں اسلام دشمن عیسائیوں اور ہندووں کو مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح کے آلہ کارمہیا تھے جو دشمنوں کا پروگرام آگے چلانے کیلئے تیار تھے مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد کونمونے کے طور پر کانگریس کا صدر بنا کر برٹش گورنمنٹ کے ساتھ گفت و شنید کیلئے استعمال کیا گیا قائد اعظم نے مولانا ابوالکلام آزاد کو کانگریس کاشوبوائے بتایاجب پاکستان اور ہندوستان دو آزاد ملک بنانے پر فیصلہ ہو گیا تو مولانا ابوالکلام آزاد کو کھُڈے لائن لگا کر پنڈت جواہر لال نہرو خود کانگریس کا صدر بن کر ہندوستان کا پہلا وزیراعظم بن گیا مولانا ابوالکلام آزاد کو پنجاب کی تقسیم کیلئے ا ستعمال کیا گیا۔ چنانچہ مولانا ابوالکلام آزاد لاہور جا کر وزیراعظم پنجاب سرخضرحیات کے ساتھ ملاقات کر کے اُس کو کانگریس لیڈر کی حمائت کا یقین دلا کر صوبائی اسمبلی سے پنجاب کی تقسیم پاس کرا کر کانگریس کی ایسے خدمت کی جس کےلئے ساری عمر ہندووں پر احسان جتاتے رہے کہ انہوں نے آدھا پنجاب اور کشمیر دونوں کو ہندوستان کیلئے حاصل کر لیا۔ دوسری طرف جب ہندوں کا مقصد پورا ہو گیا تو انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد اور شیخ عبداللہ دونوں کو اپنی INNERکابینہ سے نکال دیا بلکہ شیخ عبداللہ کو قید و بند سے بھی گزرنا پڑا ۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی ابتدائی زندگی کا بیشتر حصہ تفسیر وقرآن اور اُس کے متعلقہ علوم کی تلاش اور اشاعت میں گزرا۔ مثال کے طور پر مولانا ابوالکلام آزاد کی مشہور ترین تالیف ترجمان القرآن جلد اوّل میں 200صفحات سے اوپر صرف سورة فاتحہ کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ مولانا غلام رسول مہر نے بڑی کاوش سے مولانا ابوالکلام آزاد کی مرتب کردہ کُتب کی فہرست اپنی کتاب باقیات ترجمان القرآن میں درج کی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی کے کسی مقام پر مولانا ابوالکلام آزاد اپنی اصلی منزل بھول کر ہندووں کی تعریف و توصیف کے ساتھ اُن کے پروگرام کا حصہ بن گئے۔ اسی لیے علامہ اقبال نے لکھا تھا مولانا آزاد کی تفسیر کو احتیاط سے پڑھا جائے اور عمر کے آخری حصہ میں اپنی اس قلا بازی پر اس قدر پشیمان ہوئے کہ اس صدمے کوبھلانے کیلئے انکو شراب کا سہارا لینا پڑا چنانچہ پنڈت نہرو کا پرائیویٹ سیکرٹری اپنی کتاب میں لکھتاہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد آخری عمر میں شراب کے غلام ہو چکے تھے ۔ جن کو انگریزی میں
 AL-COHOLIC
کہتے ہیں یعنی جب تک ان کو طلب کے مطابق شراب نہ دی جاتی تو ان کا بدن بے جان ہو جاتا اور وہ اپنے پیروں پر بھی کھڑے ہونے کے قابل نہ ہوتے ۔ پنڈت نہرو کے سیکریٹری نے لکھا کہ کئی بار مولانا ابوالکلام آزاد کو شراب پلاکر ملاقات کے قابل بنایا اور پھر وہ پنڈت نہرو کی میٹنگ میں شامل ہوئے ۔ چنانچہ مذکورہTVنے 23مارچ کے پروگرام میں جو کچھ بیان کیا واقعی پاکستان کا وہی حال ہے جس کی پیش گوئی مولانا ابوالکلام آزاد نے کی تھی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ مولانا ابوالکلام آزاد اور ان جیسے دوسرے مسلمان لیڈر ہندو کانگریس کے آلہ کار بن کر پاکستان کے موجودہ حالات تک پہنچانے کے لیے ذمہ دار تھے۔ مثلاً دیو بندی علماءمیں سے مولانا مفتی محمود نے پاکستان میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہ تھا۔
بہرحال مولانا ابوالکلام آزاداور دیو بندی علمائے اسلام تو پاکستان کے قیام کو ہندوستان کے مسلمانوں کو تقسیم کر کے مسلمانوں کے نقصان کا ذمہ دار بنا رہے تھے۔ لیکن ہمارے صوبہ سرحد کے باچا خان عبدالغفار صاحب کا کہناتھا کہ آپ کے بیان کردہ نقصانات بجا ہیں۔ مسلمانوں پر پاکستان بننے کا کیا اثر ہو گا۔ ہمیں اس سے غرض نہیں ہے ہمیں تو صرف پختونوں کی فکر ہے۔ اور کانگریس نے پاکستان منظور کر کے ہمیں پاکستانی بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا ہے۔ چنانچہ خان عبدالغفار کی دلجوئی کے لئے کانگرس نے صوبہ سرحد کے مجوزہ ریفرنڈم میں صوبہ کو ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونے کے علاوہ آزاد پختونستان بنانے کی بھی اجازت دی جائے وائسرائے کے سٹاف نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ ہم صوبوں کو آزاد ملک بنانے کو منظور کر کے ہندوستان کو Bulknizationیعنی مشرقی یورپ میں ریاست ہائے بلقان کی طرح تقسیم کر دینے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ خان عبدالغفار خان کی پاکستان سے نفرت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ خان صاحب نے اپنی میت کو بھی پاکستان میں دفن ہونا گوارا نہیں کیا۔ چنانچہ اُن کی وصیت کے مطابق اُنکو افغانستان کے شہرجلال آباد میں دفن کیا گیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن ہندو آلہ کار لیڈروں کو مسلمانوں کی فکر نہیں تھی کیونکہ اگر ہندو کانگریس اِنکو اپنی پالیسی ساز کابینہ میں شامل رکھتے تو اُن کو پنڈت نہرو ہندوملٹری افسروں سے مل ملٹری کُوکے ذریعے سارے ہندوستان پر قبضہ کرنے کا منصوبہ معلوم ہو جاتا۔ مسلم لیگ ہائی کمان کو نہرو کے اس ملٹری کُو پلان کا علم ہو گیا ۔ ایک طرف قائد اعظم اور نوابزادہ لیاقت علی خان دونوں نے وائسرئے کی پارٹیشن کمیٹی میں علیحدہ علیحدہ احتجاج درج کرایا جس کا ذکر پاکستان ہائی کمیشن لندن میں ہمارے کونسلر جناب قطب الدین عزیز نے اپنی کتاب
 Quaid-i-Azam Jinnah and the Battle for Pakistan
صفحہ92-93پر کیا ہے۔دوسری طرف قائد اعظم نے پنڈت نہرو کے ملٹری کُو منصوبہ کا تدارک کرنے کےلئے راقم کی ڈیوٹی لگائی کہ سینئر مسلمان افسروں کی ملاقات مسلم لیگ ہائی کمان سے کرائی جائے۔ جن کا ذکر میجر محمد سلمان جنجوعہ سگنل کور اور کرنل (ر) مقبول الٰہی درویش نے بھی کتاب “وقت کے ساتھ ساتھ” میں کیا ہے۔ راقم نے جن سینئر مسلمان افسروں کی ملاقات لیاقت علی خان صاحب سے کرائی اُن میں بریگیڈئیر(ر) محمداکبر خان کو لے کر راقم بذاتِ خود فنانس منسٹر کے چیمبر میں گیاواضح رہے کہ یہ بریگیڈیئر (ر) محمد اکبر خان انڈین آرمی میں ہندو، مسلمان، سکھ، اور عیسائی افسروں میں سینئر موسٹ تھے۔ انکی لیاقت علی خان سے ملاقات دلچسپ اور پڑھنے کے قابل ہے۔ اس کی تفصیل میری کتاب “وقت کے ساتھ ساتھ” میں صفحہ 42-43پر دیکھی اور پڑھی جا سکتی ہے۔ مولانا آزاد صاحب نے اپنی کچھ یاداشتیں لکھ کر اس شرط پر حکومت ہند کے حوالہ کر دی تھیں کہ انکی وفات کے 25برس بعد انکی تحریر کو کھول کر پڑھا جائے اخباری اطلاعات کے مطابق مولانا آزاد کی صاحب زادی نے انڈین عدلیہ کو یہ تحریر انکے حوالہ کرنے کی درخواست کی تھی جو کہ نامنظور کر دی گئی تھی اس لیے مولانا آزاد کی تحریر کا علم صرف حکومتِ ہند کو ہے۔ اندازہ ہے کہ ان یاداشتوں میں مولانا آزاد اور دوسرے کانگریسی لیڈروں کی پالیسی کو بے نقاب کیا گیا ہے جو کہ ہندوستان کو تقسیم کرنے کا سبب بنے۔ اور جو ہندوستان میں مسلمانوں کو ہسپانیہ کی طرح مکمل طور پر نیست نابود کرنا چاہتے تھے لیکن پاکستان کے وجود سے ہندووں کو یہ ہمت نہ ہوئی....
دُنیا کو دیکھ ایک ہی شیطان سے گھبر اُٹھی
تو مجھ کو دیکھ کتنے شیطانوں میں گھِرا تھا




اتوار، 7 ستمبر، 2014

عمران خان اور طاہر القادری کا جرم عظیم

شام ڈھل رہی تھی، جب میں ایک دوست کے ہمراہ شاہراہ دستور پر پہنچا۔ انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کے شرکا کو یہ تو معلوم تھا کہ آج آگے بڑھنا ہے، لیکن کس طرف کو آگے بڑھنا ہے، یہ معلوم نہ تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا خطاب شروع ہوا تو ان کے تیوروں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ تہیۂ طوفان کیے ہوئے ہیں۔
اصغر عبداللہ


mohammad_asghar_abdullah@yahoo.com

اور پھر جیسے ہی انھوں نے اعلان کیا کہ آج یہ دھرنا پرامن طور پر پارلیمنٹ ہاوس کے مقابل سے وزیر اعظم ہاوس کے مقابل منتقل کر دیا جائے گا، تو انقلاب مارچ کے شرکا کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنا سے نکل کر قریب ہی عمران خان کے دھرنا میں آیا تو آزادی مارچ کے شرکا بھی پیش قدمی کے لیے تیار تھے۔
جس لمحہ عمران خان نے اعلان کیا کہ آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے، یوں لگا جیسے وہاں موجود سب لوگ یہی چاہتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ انقلاب مارچ کے شرکا کے برعکس آزادی مارچ کے شرکا کو پیش آمدہ خطرے کا مطلق احساس نہ تھا۔ دونوں دھرنوں میں عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، لیکن حیرت انگیز طور پر وہ ہراساں نہ تھے۔ میں نے دو افراد سے، جو خاندان سمیت دھرنوں میں شریک تھے، اس کی وجہ دریافت کی، تو ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے قائدین اس خطرناک صورت حال میں کئی دن سے ان کے درمیان موجود ہیں، تو وہ بھی ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اخباری زندگی میں جماعت اسلامی سمیت متعدد سیاسی پارٹیوں کے اجتماعات دیکھے، لیکن جو جذبہ، جو ولولہ اور جو کمٹمنٹ عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں دیکھی، کہیں اور نہیں دیکھی۔ ان کارکنوں کو اپنے گھر بار چھوڑے دو ہفتے گزر چکے تھے، اس کے باوجود ان کے چہروں پر کوئی ملال نہیں تھا۔ ایک ہی نعرہ ان کی زبان پر تھا کہ جب تک ان کے گھر سے نکلنے کا مقصد پورا نہیں ہو گا، وہ واپس نہیں جائیں گے۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ حکومت کو یقین ہے کہ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری کے ہمراہ وزیر اعظم ہاوس کی طرف پیشقدمی نہیں کریں گے۔
سو، آج رات وہ دونوں دھرنوں سے الگ الگ نمٹ لے گی۔ لیکن حکومت کی یہ منصوبہ بندی اس وقت دھری کی دھری رہ گئی، جب انقلاب مارچ کے بعد آزادی مارچ نے بھی وزیر اعظم ہاوس کی طرف بڑھنے کا اعلان کر دیا۔ عمران خان کا قافلہ، ڈاکٹر طاہر القادری کے قافلہ کے پیچھے روانہ ہوا، تو اول اول یوں معلوم ہوا، جیسے پولیس نے دونوں مارچوں کو راستہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عمران خان نے اپنے کینٹینر سے کہہ بھی دیا کہ پولیس پیچھے ہٹ گئی ہے۔ لیکن ابھی فضا میں اس اعلان کی گونج باقی تھی کہ اگلی سمت سے شور بلند ہوا، اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹکراو شروع ہو گیا۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں کی فائرنگ نے قیامت کا سماں برپا کر دیا۔ ستم یہ تھا کہ جب آگے سے پولیس نے مظاہرین پر حملہ کیا تو وہ پولیس جس نے پہلے راستہ چھوڑ دیا تھا اور پیچھے ہٹ گئی تھی، وہ بھی اطراف سے مظاہرین پر ٹوٹ پڑی۔
یہ بڑے ہی دلدوز مناظر تھے۔ عورتیں اور بچے چیخ رہے تھے۔ کئی عورتیں اپنے بچوں کو پکارتی، ڈھونڈتی ادھر ادھر بھاگ رہی تھیں۔ آنسو گیس کی شیلنگ اتنی زیادہ تھی اور اس کے دھوئیں میں کیمیکل اتنا تیز تھا کہ سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے گیلا رومال آنکھوں پر پھیرا، لیکن جلن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ شاہراہ دستور اب کسی میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ عمران خان اور طاہر القادری کے کارکن، ان کے کینٹینروں کے گرد پرانوں کی طرح اکٹھے ہو گئے تھے۔
اندیشہ محسوس ہو رہا تھا کہ اگر اس جذباتی فضا میں عمران خان اور طاہر القادری کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، تو بہت خون خرابہ ہو گا۔ آنسو گیس کی شیلنگ میں ایک بار پھر شدت آ گئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں اسٹریٹ لائٹس بھی بند ہو گئیں، تو شاہراہ دستور کی اس رات کی ہولناکی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نڈھال ہو کر میں اور میرا دوست سڑک سے اتر کر ایک طرف بیٹھ گئے۔ شاعر انقلاب، فیض احمد فیضؔ کے نظم ’’ ملاقات ‘‘ یاد آ گئی، جو انھوں نے اس وقت لکھی تھی ، جب 1953 میں ان کو ’’ بغاوت ‘‘ کی ’’جرم‘‘ میں منٹگمری جیل میں قید کر دیا گیا ؎
یہ رات اس درد کا شجر ہے
جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں
میں لاکھ، مشعل بکف ستاروں
کے کارواں، گِھر کے کھو گئے ہیں
ہزار مہتاب اس کے سایے
میں اپنا سب نور، رو گئے ہیں
میں اس رات بھی یہ سوچ رہا تھا، اور آج بھی سوچ رہا ہوں کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا ’’جرم‘‘ کیا ہے کہ ’’ناقابل معافی‘‘ قرار پایا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا مطالبہ اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور انتخابی نظام کو ایک انقلاب کی ضرورت ہے۔ آج سے 23 سال پہلے جب انھوں نے پاکستان عوامی تحریک قائم کی، تب بھی ان کا یہی مطالبہ تھا، ا ور آج بھی ان کا یہی مطالبہ ہے۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان کے پہلے مذہبی رہنما ہیں، جنھوں نے اپنی سیاست کی بنیاد اسلام کے سماجی مساوات کے تصور پر رکھی ہے۔ پاکستان کے مذہبی رہنماوں کی روایتی سیاست سے وہ اس حد تک بیزار ہیں کہ اپنے نام کے ساتھ ’’مولانا ‘‘ کا سابقہ لگانا بھی پسند نہیں کرتے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہ آئین اور قانون کو نہیں مانتے، یا الیکشن کے عمل کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ طویل عرصہ پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں آئین اور قانون پڑھاتے رہے ہیں، ان کی پارٹی دو مرتبہ الیکشن میں حصہ لے چکی ہے، اور2002 میں خود بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ 2013 میں بھی ان کی پارٹی الیکشن میں حصہ لینا چاہتی تھی۔ لیکن جب الیکشن کمیشن پر ان کے آئینی اعتراضات کو سننے سے یکسر انکار کر دیا گیا، تو مجبوراً انھوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی پارٹی بوجوہ کسی الیکشن کا بائیکاٹ کر دیتی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک غیر سیاسی گروہ بن گئی ہے۔ لندن میں ڈاکٹر طاہر القادری اور چوہدری برادران کے درمیان جو دس نکاتی معاہدہ طے پایا تھا، یا انقلاب مارچ کے لیے نکلنے سے پہلے لاہور میں ان کے اور عمران خان کے درمیان جن چار نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان نکات میں سے کوئی ایک نکتہ بھی ایسا نہیں، جو آئین کے دائرہ سے باہر ہو، یا اس سے متصادم ہو، بلکہ حقیقتاً یہ وہ مطالبات ہیں، جن کا آئین پاکستان تقاضا کرتا ہے۔
اس طرح عمران خان کا مطالبہ بھی اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور انتخابی نظام کو بدعنوانی اور دھاندلی سے پاک ہونا چاہیے۔ آج سے 18 سال پہلے جب انھوں نے تحریک انصاف کے قیام کا اعلان کیا تھا، تب بھی ان کا یہی مطالبہ تھا، اور آج بھی ان کا یہی مطالبہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ عمران خان پہلے سیاستدان ہیں اور تحریک انصاف پہلی سیاسی پارٹی ہے، جس نے پاکستان کے سیاسی اور انتخابی نظام میں کرپشن کے خاتمہ کو اپنی سیاسی جدوجہد کا نصب العین قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح عمران خان بھی کوئی پیشہ ور سیاست دان نہیں۔ پاکستان کی سیاست میں کئی کھلاڑی سیاست میں آئے اور گئے، لیکن یہ تنہا عمران خان ہیں، جنھوں نے کامیابی حاصل کی۔ ظاہراً اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے روایتی سیاست کی اور نہ ہمت ہاری۔ تحریک انصاف تین مرتبہ الیکشن میں حصہ لے چکی ہے، لیکن اس کو بریک تھرو ملا 2013 میں، جب نہ صرف یہ کہ وہ خیبر پختون خوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی، بلکہ باوجود مشکلات کے، پنجاب میں بھی دوسری بڑی پارٹی بن کے ابھری۔ الیکشن 2013 کے بعد عمران خان اول دن سے کہہ رہے تھے کہ پنجاب میں ان کا مینڈیٹ ہائی جیک کیا گیا ہے، اور اگر ان کو الیکشن کمیشن سے، سپریم کورٹ سے اور پارلیمنٹ سے انصاف نہ ملا تو وہ ضرور سڑکوں پر آئیں گے۔ اس کے باوجود یہ کہنا یا باور کرانا کہ تحریک انصاف کسی کے اشارے پر حکومت کے خلاف نکلی ہے، سراسر غیر منطقی بات ہے۔
نظر بظاہر یہ آتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا ’’جرم‘‘ یہ ہے کہ انھوں نے سیاست میں ’اسٹیٹس کو‘ کو چیلنج کیا ہے۔ نتیجتاً، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام سیاسی اور غیر سیاسی پارٹیاں، جن کے مفادات ’اسٹیٹس کو‘ سے وابستہ ہیں، ان کے خلاف متحد ہو چکی ہیں۔ لطف یہ ہے کہ جماعت اسلامی، جو خود کو اسلامی انقلابی پارٹی کہتی ہے، وہ بھی پیپلز پارٹی کے شانہ بہ شانہ مصالحت کاری کے نام ن لیگ حکومت کو ریسکیو کر رہی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے ’اسٹیٹس کو‘ کو چیلنج کر کے، جو ’’جرم عظیم‘‘ کیا ہے، وہ واقعتاً ’’ناقابل معافی‘‘ ہے۔ ان کی حالیہ جدوجہد کا نتیجہ جو بھی ہو، پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں اسٹیٹس کو کے خلاف ان کی یہ انقلابی جدوجہد تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ پس دیوار زندان شاعر نے کہا تھا ؎
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

Thanks to Express

ہفتہ، 6 ستمبر، 2014

مسلم لیگ ن نثار کو پریس کانفرنس ملتوی کرنے پر رضامند کرنے میں ناکام

06 ستمبر 2014

اسلام آباد (محمد نواز رضا‘ وقائع نگار خصوصی) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور اعتزاز احسن کے درمیان ’’سیاسی جنگ‘‘ نے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔  وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان
نے وزیراعظم کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے کر پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے پریس کانفرنس کرنے کی پیشکش کی لیکن وزیراعظم نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ موجودہ  سیاسی بحران میں دو بار وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ دے چکے ہیں جسے  وزیراعظم نے مسترد کر دیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلم لیگ ن سے  تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے وفاقی وزیر پر شدید دباؤ ڈالے رکھا وہ بیرسٹر اعتزاز احسن کی تقریر کا ردعمل ظاہر نہ کریں اور اس معاملہ پر مزید کسی نئے تنازعہ میں نہ پڑیں۔ چودھری نثار علی خان نے  یہ اپنا جواب دینے کا حق استعمال کرنے پر اصرار برقرار رکھا۔ بعدازاں ان کی  وزیراعظم سے ملاقات ہوئی جو تین گھنٹے تک جاری رہی۔ وزیراعظم نے  انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اب مزید سخت  لہجہ نہ رکھیں تاہم چودھری نثار علی خان نے وزیراعظم کے سامنے اپنا یہ  اصرار جاری رکھا وہ  پریس کانفرنس کر کے حقائق ضرور بیان کریں گے۔
بشکریہ: نوائے وقت

جمعرات، 4 ستمبر، 2014

پاکستانی قوم کے لیے لمحہ فکریہ!!!

مولانا فضل الرحمن نے فرمایا ۔۔۔۔۔ خلاصہ " پارلیمنٹ سے باہر مسلح لشکر کھڑے ہیں ( ڈنڈوں ، پتھروں اور غلیلوں سے مسلح )۔ جنہوں نے ہماری پولیس پر حملے کیے جس میں کئی پولیس والے زخمی ہوئے ۔ اس وقت جمہوریت اور آئین سخت خطرے میں ہیں ۔ ان کو بچانے کے لیے ہم پوری طرح حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ان لشکروں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی ہونی چاہئے " ( مطلب ان کا قتل عام وغیرہ )
آج سے چند دن پہلے تک ٹی ٹی پی نے پاکستان بھر میں اپنے مسلح لشکر بنائے ( خودکش جیکٹوں ، ٹائم بموں ، راکٹ لانچروں اور ہر قسم آٹومیٹک ہتھیاروں سے مسلح) ۔۔۔ انہوں نے پاکستان کو ہی ماننے سے انکار کر دیا اور پاکستان کے آئین اور جمہوریت کو کفر قرار دیا ۔ پاکستان کے بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر کے اپنی حکومت بنائی ۔ پولیس والوں کے سر کاٹ کر ان کے سینوں پر رکھ دیتے تھے ۔ ایف سی والوں کے سروں سے فٹبال کھیلا ۔ بہت سے آرمی والوں کو ذبح کیا اور ہزاروں کی تعداد میں عوام کو بموں سے اڑا دیا ۔
تب مولانا صاحب نے فرمایا ۔۔۔ " ان کو کچھ نہ کہا جائے ۔ انکے خلاف طاقت کا استعمال حرام ہے اور چاہے یہ کچھ بھی کر لیں ان سے صرف اور صرف بات چیت کی جائے " ۔۔۔
مولانا کے رویے میں اس عظیم الشان تضاد کی وجہ صرف مولانا خود ہی بیان کر سکتے ہیں ۔ ہم جیسے ناسمجھ اس معاملے میں عاجز ہیں ۔۔ تاہم مولانا کے کچھ "بدخواہ" مولانا پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ سادہ سی وجہ ہے ۔۔۔۔ لالچ اور خوف ۔۔ ٹی ٹی پی سے خوفزدہ تھے اور نواز شریف کے ساتھ انکی تین وزارتیں جانے کا ڈر ہے ۔۔۔!!!
محمود اچکزئی نے فرمایا۔۔۔ خلاصہ ۔۔۔۔" پارلیمنٹ سے باہر جمہوریت اور آئین کے دشمن کھڑے ہیں ۔ یہ پولیس پر مسلح حملے کرتے ہیں ڈنڈوں ، پتھروں اور غلیلوں سے اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ہمارے دشمن ہٰیں ۔ انہوں نے پی ٹی وی پر حملہ کیا اور پارلمینٹ کی عمارت پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کو بچانے کے لیے ہم پوری طرح حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ان لشکروں کے خلاف کاروائی میں دیر نہیں کرنی چاہئے " ( مطلب ان کا قتل عام وغیرہ )
بلوچستان میں بی ایل اے نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ جمہوریت اور آئین تو ایک طرف پاکستان کو ہی نہیں مانتے اور بلوچستان الگ کر کے پاکستان کو توڑ دینگے ۔ انہوں نے قائد اعظم کی ریزیڈنسی اڑا دی ۔ پنجابیوں کو بسوں سے اتار اتار کر قتل کیا ۔ پولیس کے بہت سے افسروں اور سکول ٹیچروں کو قتل کر چکے ہیں ۔ گیس پائپ لائن روزانہ اڑا دیتے ہیں ۔
لیکن حیرت انگیز طور پر آج تک محمود اچکزئی صاحب نے کبھی ایک دن بھی انکو پاکستان کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا ۔ ان کے خلاف ہر قسم کی کاروائی کی سخت ترین مذمت کی اور اعلان کیا کہ " ناراض بھائیوں کا راضی کرو چاہے کچھ بھی کرو " ۔۔۔۔
محمود اچکزئی کے اس رویے کی شائد آپ وضاحت کر سکیں ؟؟ ۔۔۔ بعض لوگ انکی افغانستان کے ان لوگوں سے آئے دن ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہیں جو بی ایل اے کو کنٹرول کرتے ہیں اور سنا ہے کہ موجودہ حکومت میں نواز شریف کے بعد اچکزئی کے سب سے زیادہ رشتے داروں کو عہدے ملے ہیں !!!!!!
کیا کوئی دوست مجھے بتائیگا کہ " منافق " سے کیا مراد ہوتی ہے
بشکریہ Faisal Mehmood Tahir

اتوار، 31 اگست، 2014

آپ ایک انسان ہونے کے ناتے کس گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں

بالفرض آپ کسی دفتر میں کام کرتے ہوں اور وہاں صفائی کا کام کرنے والا آفس بوائے ایک فرض شناس اور محنتی شخص ہو جو باقاعدگی سے آپ کے دفتر کی ہر ایک اس چیز کی صفائی کرتا ہو جو روز مرہ کے استعمال میں آتی ہو اور اس کا صاف شفاف ہونا ایک لازمی امر ہو اور آپ کے دفتر کا نظام بالکل ٹھیک طریقے سے کام کر رہا ہو۔ اس میں دوسرے افراد بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سرانجام دے رہے ہوں اور وہ اسی درست راہ پر گامزن ہوں تو۔۔۔۔ اچانک آپ کے دفتر کی صفائی کا ذمہ دار بندہ کام چھوڑ جاتا ہے اس کی کوئی بھی وجہ ہو
پھر ایک نئے آفس بوائے کی تقرری ہوجائے اور وہ چند روز گزرنے کے بعد اپنے فرائض میں کوتاہی برتنا شروع کردے، مثلاً آپ کے دفتر کا پانی والا ٹینک صاف نہ ہوتا ہو یا واٹر فلٹر باقاعدگی سے تبدیل نہ کیا جائے، وہ فرش کو تو روزانہ صاف کردے لیکن الماریوں کے اندرونی خانوں میں مکڑیوں کے جالے بن جائیں اور کھڑکیوں کے باہر گندگی جم جائے، دفتر کے دوسرے ارکان خوش اسلوبی سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں لیکن ان میں سے اکثر ارکان مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگیں جس کی حقیقی وجہ صفائی کا فقدان ہو لیکن مسئلہ کسی کی سمجھ میں نہ آرہا ہو اور اس طرح کے واقعات ایک معمے کی صورت اختیار کرجائیں
اسی دوران میں آپ کی کمپنی کی کسی دوسری برانچ سے ایک تنقیدی ذہن رکھنے والا ایک ذمہ دار رکن اس دفتر میں مقرر ہوجائے اور وہ حالات کا معروضی جائزہ لے کر اس مسئلے کے اسباب کی نشاندہی کردے۔ لیکن ٹھہریئے! اگر اس سے قبل ایک اور نمائندہ حالات کی جانچ پرکھ کرکے اصلاح کا یجنڈا لے کر آپ کے دفتر میں نظامِ صفائی کو درست کرنے کی ٹھان لے اور آپ کے دفتر کی بہت سی املاک کو توڑ کر برباد کردے، اس کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ تو صفائی کا نظام درست کررہا ہے اس طرح وہ کمپنی کو بھاری مالی نقصان پہنچا ڈالے لیکن ہمیشہ اس کو پیار سے سمجھایا جاتا رہے اور امن کو ایک اور موقع دیا جاتا رہےاس نقصان پہنچانے والے سے ایک لمبے عرصے تک مذاکرات کیے جاتے رہیں لیکن دفتر کے دیگر اراکین چیخ چیخ کر کہتے ہوں کہ یہ بندہ جب بھی کسی قیمتی چیز کو صفائی کے نام پر توڑتا ہے تو ہماری تنخواہوں سے فنڈ اکٹھا کرکے دوبارہ نیا سامان خریدا جاتا ہے ہمارے ساتھ یہ نا انصافی کیوں ہوتی ہے، ساتھ ساتھ کچھ اراکینِ دفتر اس مصلح کے ایجنڈے کے خلاف باتیں کرتے رہتے ہوں اور ایک ایسا وقت آئے کہ اس موذی رکن سے جان چھڑوائی جانے کے فیصلے کا وقت آجائے دفتر کا ہر بندہ اس کے کرتوتوں سے متنفر ہو لیکن دفتر کا مینیجر اس نقصان دہ شخص کو دیدہ دلیر اور بے شرم ہونے کی وجہ سے سپورٹ کرتا ہو اور اسے اپنے لئے ایک قیمتی اثاثہ سمجھتا ہو۔ اتنے میں دفتر کے سب لوگ اکٹھے ہوکر اس شخص کو دفتر سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کردیں بلکہ اس کی موجودگی میں کام کرنے سے انکار کردیں، اس طرح دفتر میں کام چھوڑ ہڑتال ہو جائے اورمینیجر صاحب بادلِ نخواستہ اس نقصان دہ شخص  کو فارغ کردینے کا عندیہ بھی دے دیں۔
   اتنے میں وہ نیا رکن جو کسی دوسری برانچ سے آیا ہو وہ آکر بتائے کہ اس مسئلے کا حل بتائے کہ قیمتی املاک کا نقصان نہیں بلکہ ان کی صفائی کرنے کے لئے جو بندہ مامور ہے اسے اپنے فرائض ٹھیک طریقے سے سر انجام دینے چاہئیں ورنہ اسے بھی دفتر سے چلتا کرو ۔ اور ایک نیا آفس بوائے بھرتی کرلو جوباقاعدگی سے بروقت صفائی کرے۔ دفتر کے اکثر اراکین اس کی اس تجویز سے اتفاق کرلیں اور یہ نیا لائحہ عمل لے کرمینیجر کے پاس چلے آئیں، اتنے میں وہ پرانا نقصان دہ شخص دفتر میں اپنی آخری تنخواہ لینے آتا ہے اور اسے اپنی ملازمت کی برطرفی کا دکھ بھی ہوتا ہے اسے اس نئی پیدا ہونے والی صورت حال کا پتہ چل جائے اور اب وہ مینیجر اور آفس بوائے کو  کسی طرح  ایک سازش کے ذریعے یہ سمجھانے میں کامیاب ہوجائے کہ یہ نیا آنے والا ساتھی ہمارے دفتر کا نظام سمیٹنا چاہتا ہے یہ ایک گروپ بن چکا ہے اور یہ سب اراکینِ دفتراس دفتر پر یا تو قبضہ کرنا چاہتے ہیں یا پھر اس دفتر کو بند کراکے آپ کا دھندہ ختم کرانے کی سازشیں کر رہے ہیں، مینیجر چونکہ پہلے ہی اس بیوقوف شخص کے ساتھ رعایت سے کام لیتا تھا چاہے اس سے سب کا نقصان ہوتا ہو اور اب اس کی چھٹی کے بعد اپنی انا کا مسئلہ بنا لے کہ میں آفس بوائے کو فارغ نہیں کروں گا۔ اور آنے والےنئے ساتھی کی بات نہیں مانوں گا چاہے سب کا نقصان ہو اور سب بیمار ہوں، دفتر کا قیمتی سامان برباد ہوجائے۔ چاہے اس طرح کی صورت حال سے آہستہ آہستہ ویسےہی کمپنی کی یہ شاخ بند ہوجائے لیکن اب میرے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ حالانکہ سیدھی سی بات ہوکہ باقاعدہ پانی والے ٹینک کی صفائی ہوتی رہے، واٹر فلٹر اپنی مقررہ مدت کے بعد تبدیل ہوتا رہے، الماریوں کی صفائی ہوتی رہے اور کھڑکیوں، روشندانوں کی صفائی درست طریقے سے ہوتی رہے تو اس سے بہت سے مسئلے حل ہوجائیں گے، کیونکہ باقی اراکین تو اپنے فرائض کو ٹھیک طریقے سے نباہ رہے ہیں ناں! اب وہ پرانا بندہ کبھی درپردہ آفس بوائے کو دیگر ملازمین کے خلاف بھڑکاتا رہے اور کبھی کھل کر مینیجر سے ملاقاتیں کرکے دیگر ملازمین پر مختلف قسم کی زیادتی کی وارداتیں کرنے کے منصوبے بناتا رہے، اتنے میں وہ مینیجر ایک دن غصے میں آکر بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر ، انصاف پسند اور امن پسند گروپ کے بندوں پر کرائے غنڈوں سے فائرنگ کرواکے ان میں سے کچھ کو قتل اور کچھ کو زخمی کروادے۔
اب صورت حال ذرا گمبھیر/گھمبیر ہوجائے اور اس مینیجر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جانے لگے، اسی دوران میں دفتر میں غیر جانب دار ملازمین کا ایک اور گروپ سامنے آجائے جو رشوت لے کر مینیجر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جائے، اور امن پسند انصاف پسند گروپ کی مخالفت پر اتر آئے۔ یہ نیا گروپ اب قتل ہونے والے گروپ کے لوگوں کو ظالم/دہشتگرد اور غنڈوں کا لقب دینے لگ جائے۔ اور انصاف پسند/امن پسند گروپ کے نئے آنے والے ساتھی کی ذات میں کیڑے نکال نکال کر، الزام لگا کر دوسروں کو ان سے متنفر کرتا پھرے اور ان کے خلاف بھڑکاتا پھرے تو آپ کس گروپ کا ساتھ دیں گے، ظالم مینیجر والے بے غیرت گروپ کا! یا پھر مظلوم گروپ والے امن پسند انصاف مانگنے والے گروپ کا؟
اگر چند روز کے بعد جب انصاف مانگنے والے مینیجر کے کمرے کے باہر اس کا استعفیٰ طلب کررہے ہوں اور کمپنی میں اس ناسور کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہوں تو ان نہتے اراکین پر ایک بار پھر ظلم ستم کرکے ان کے بے گناہ ساتھیوں کو قتل کردیا جائے ، ان کے مقتول اور زخمی ساتھیوں کو غائب کر دیا جائے تو آپ ایک انسان ہونے کے ناتے کس گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں
1۔ غیر ذمہ دار آفس بوائے کے ساتھ
2۔ نقصان دہ مصلح کے ساتھ
3۔ ظالم مینیجر اور اس کے درندوں کے ساتھ
4۔ یا امن پسند انصاف مانگنے والوں کے ساتھ
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دفتر کا بیڑہ فرق ہونے/کرنے سے بہتر تھا کہ صرف ایک ذمہ دار آفس بوائے کا تقرر کیا جاتا اور نقصان دہ فریق کو اپنی من مانی کرکے کھل کھیلنے کا موقع نہ دیا جاتا؟

ہفتہ، 30 اگست، 2014

Justice keeps balance among society: Says Arshad ul Qadri, Grand Mufti (Cleric) of Pakistan

Lahore: Thursday (28 August 2014) Mufti-e-Azam Pakistan Allama Maulana Mohammad Arshad al-Qadri (Grand Mufti of Pakistan) said in his speech that the Justice keeps balance among society.
Islam teaches kindness to others along with justice, while other Systems just teach social justice. He added more, that the best society was formed by Prophet Muhammad peace and blessings be upon him. He was addressing in Islamic Rizvia University (Jamia Islamia Razwia) Rachna Town, Shahdara, Lahore on thursday evening during weekly gathering of an Islamic Movement, Taleem-o-Tarbiyat Islami Pakistan (The Movement of Islamic education and training, Pakistan). At the end of program he aslo prayed for a peaceful solution, to the political crisis in Pakistan.


https://www.facebook.com/ArshadalQadri/photos/a.218974484904919.53895.218614628274238/503210983147933/?type=1&theater

لاہور: مفتی اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد ارشد القادری جمعرات (28 اگست 2014ء) کی شام مرکز تعلیم و تربیت، جامعہ اسلامیہ رضویہ رچنا ٹاؤن شاہدرہ لاہور میں حلقہ ذکرو بیان سے خطاب فرما رہےتھے انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عدل سےمعاشرے میں توازن قائم رہتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ معاشرےمیں چاشنی صرف عدل سے نہیں آتی بلکہ دین_ اسلام اس کےساتھ ساتھ احسان کرنے کا درس دیتا ہے جبکہ دوسرے معاشرے صرف عدل کی بات کرتے ہیں سب سے بہترین معاشرہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تشکیل فرمایا۔ تحریک تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کے اس ہفتہ وار اجتماع سے بیان کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں جاری سیاسی بحران کے پرامن حل کے لئے دعا بھی فرمائی۔

اتوار، 13 جولائی، 2014

خبریں تبصرے کے بغیر

گوجرانوالہ کے رمضان بازاروں کا اچانک دورہ‘ گراں فروشوں‘ ذخیرہ اندوزوں کو من مانی نہیں کرنے دینگے : شہباز شریف

13 جولائی 2014



گوجرانوالہ کے رمضان بازاروں کا اچانک دورہ‘ گراں فروشوں‘ ذخیرہ اندوزوں کو من مانی نہیں کرنے دینگے : شہباز شریف
لاہور + گوجرانوالہ (خصوصی رپورٹر+ نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا ہے کہ رمضان بازاروں کا مقصد عام آدمی کو خوردونوش کی اشیاء مناسب داموں پر فراہم کرنا ہے، حکومت گرانفروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کو کسی قیمت پر من مانی نہیں کرنے دیگی۔ وہ گوجرانوالہ میں رمضان بازار کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔گوجرانوالہ کی انتظامیہ کو بھی وزیراعلیٰ کے اس اچانک دورے کی بھی خبر نہ تھی۔ وزیراعلیٰ راولپنڈی سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور واپس آرہے تھے کہ انہوں نے بغیر کسی پیشگی پروگرام پائلٹ کو گوجرانوالہ اترنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے پہلے پیپلز کالونی کے رمضان بازار کا دورہ کیا اور وہاں لگائے گئے ایک ایک سٹال پرگئے اوران سٹالوں پر رکھی گئی اشیاء کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے خریداری کے لئے آئے لوگوں سے دریافت کیا کہ کیا  وہ اشیاء کے معیا راور قیمتوں سے مطمئن ہیں؟ جس پر لوگوں نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ رمضان بازاروں میں معیاری اشیاء ضروریہ ،سبزیاں اور پھل مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ بعدازاں وہ شاہین آباد رمضان بازار گئے، وہاں آٹے کے تھیلے میں زائد نمی ثابت ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ مظفر فلور مل کو سیل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ میڈیا سے گفتگو میں شہبازشریف نے کہاکہ قصور اور اوکاڑہ کی نسبت گوجرانوالہ میں رمضان بازاروں کے انتظامات بہتر اور قابل ستائش ہیں، گرانفروش اور ذخیرہ اندوز مجھ سے کسی نرمی کی توقع نہ کریں۔ اسلام آباد میں اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے ہر حال میں نجات دلائیگی ۔2017ء تک توانائی کے جاری تمام منصوبوں کی ہر قیمت پر تکمیل یقینی بنائی جائے گی، مسائل اور پیچیدگیوں کے باوجود توانائی کے شعبے میں چین کے بھر پور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بجلی ہوگی تو ہمارے کھیت کھلیان لہرائیں گے۔صنعت و معیشت کا پہیہ چلے گا۔ علاوہ ازیں شہبازشریف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے پختون بہن بھائیوں کی مدد کے لئے قائم کئے گئے چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں 2کروڑ 70لاکھ روپے کے چیک دئیے۔ صوبائی پرائس کمیٹی سے خطاب میں شہبازشریف نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب عوام کو رمضان المبارک کے دوران سستے آٹے کی فراہمی پر 5ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے، آٹے کی کوالٹی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ غیرمعیاری آٹا سپلائی کرنے والی فلور ملوں کا گندم کوٹہ معطل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے رمضان بازاروں میں بہترین انتظامات پر راولپنڈی اور گوجرانوالہ کے ڈی سی اوز اور متعلقہ عملے کو شاباش دی۔ لاہور سمیت پنجاب کے بعض علاقوں میں پینے کے پانی کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے شہبازشریف نے پانی کی قلت دور کرنے کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ شہبازشریف نے معروف نیورو سرجن بریگیڈئر (ر) ڈاکٹر خالد محمود بٹ کے انتقال پر اظہار کیا ہے۔
شہبازشریف

آپ کو میرے اچانک رمضان بازارو ں کے دورے کا کیسے علم ہوا، وزیراعلی کا صحافیو ں سے سوال

13 جولائی 2014

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ شہباز شریف رمضان بازاروں کے اچانک دورے پر گوجرانوالہ پہنچے تو دورے کا علم انکے پرسنل سٹاف افسر کو بھی نہ تھا۔ وزیراعلیٰ نے صحافیوں سے گفتگو میں پوچھا کہ آپ کو میرے اچانک دورے کا کیسے علم ہوا تو انہوں نے کہاکہ ہیلی کاپٹر کو فضا میں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ آپ رمضان بازاروں کے دورے پرآر ہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے دورے کی ا طلاع پر وفاقی وزیر خرم دستگیر خان اور بعض ارکان اسمبلی بھی پہنچ گئے۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی وزیر خرم دستگیر خان سے پوچھاکہ آپ رمضان بازاروں میں انتظامات کو چیک کرنے کیلئے کتنی بار آئے ہیں جس پر خرم دستگیر خان نے بتا یاکہ وہ اکثر رمضان بازاروں کے دورے کرتے ہیں اور جب سے آپ نے رمضان بازاروں کے اچانک دوروں کا سلسلہ شروع کیا ہے ہماری نظریں آسمان پر ہی رہتی ہیں۔

وزیراعلیٰ کا ’’اچانک‘‘ دورہ: گوجرانوالہ انتظامیہ نے دکانوں کے پھٹے اٹھوا کر شاہین آباد رمضان بازار میں عارضی سٹال قائم کردئیے

13 جولائی 2014

گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی) گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کی حکمت عملی کام آگئی، وزیراعلی پنجاب کی رمضان بازاروں کے دورے کیلئے ’’اچانک‘‘ آمد کی اطلاعات کے پیش نظر انتظامیہ نے مختلف علاقوں سے دکانوں کے پھٹے اٹھوا کر شاہین آباد رمضان بازار سجانے کیلئے عارضی سٹال قائم کردئیے تھے۔ انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے افسروں کو وزیراعلیٰ پنجاب کے اچانک دورے کی اطلاعات تھیں تاہم اس حوالے سے انتظامیہ کو تاریخ کے بارے میں علم نہیں تھا۔

  1. http://www.nawaiwaqt.com.pk/national/13-Jul-2014/315348
  2. http://www.nawaiwaqt.com.pk/lahore/13-Jul-2014/315339
  3. http://www.nawaiwaqt.com.pk/miscellaneous/13-Jul-2014/315266