منگل، 1 ستمبر، 2026

کلیات حمد و نعت از اویس قرنی (جوگی جادوگر)

 ممکن ہے کہ آپ نے درج ذیل تین کتب کے متعلق سُن رکھا ہو یا پھر اُن کا مطالعہ فرمایا ہو۔

An AI Generated Sketch of Kulliyat e Hamd wa Naat Ghalib


1۔ طلسمات غالب 2024ء

2۔ جوگ کتھا 2025ء

3۔ کلیات منقبت (غالب) 2026ء

اِن تینوں کُتب کے مصنف جناب سید اویس قرنی ہیں جو اپنے قلمی نام کے طور پر خود کو ”جوگی جادوگر“ بھی کہتے ہیں۔ اور مُجھے لفظ ”سید“ کا ڈِھنڈورا پیٹنے سے منع کرتے ہیں (وہ بھی ایک ایسے دَور میں جب جھوٹے سادات کی بھر مار ہو۔ پھر بھی کبھی کبھار ہم اپنا ویٹو پاور استعمال کر کے ایسا کر گزرتے ہیں۔ آپ ایک مایہ ناز صاحبِ علم، محقق اور ایک تنقیدی مفَکِّر ہیں، اُنہوں نے یہ کتابیں عامۃ الناس میں غالبیات کے متعلق پھیلی ہوئی غیر مستند ”تحقیقات“ کی گرد جھاڑنے کے لئے اور دیگر روحانی و تاریخی غلط فہمیوں کو دور کرنے لئے مدون فرمائی ہیں۔

پہلی کتاب ”طلسماتِ غالب“ میں 42 اُردو اور 30 فارسی (کُل 72) اشعار کی لفظ در لفظ معانی کے بعد کی گئی تشریح ہے جو کہ اپنے قاری کو غالب کے تخیل کو پہچاننے میں مدد کرتی ہے لیکن اِس ضمن میں مصنف کا کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں رہا کہ اُنہوں نے آپ تک غالب کا مدعا پہنچا دیا ہے، بلکہ اُن کا اِس حوالے سے تصور یہ ہے کہ

؎ اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی

ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

جوگی مہاراج کے خیال کے مطابق میرزا غالب بھی اپنے شعر کی تشریح سمجھنے اور اُس کا حظ اُٹھانے کے لئے اپنے قاری کے ساتھ مل کر بیٹھ جاتے ہیں اور اِس لُطفِ گویائی کے تماشائی بن جاتے ہیں جِس کا معترف ایک زمانہ ہے۔ اِس لئے جوگی میاں نے محض اِدعائے الفاظ و تراکیب کو سُلجھانے میں اپنی سعی کا حِصہ ڈالا ہے، اور پھر وہ بھی قارئین اور میرزا نوشہ (غالب) کے ساتھ مل کر ان اشعار کے طلِسم کو جانچنے پرکھنے میں کہیں کھو جاتے ہیں۔ اِن اشعار کی تعداد شہداء کربلا علیہم السلام کی نسبت سے بہتر (72) رکھی گئی ہے اور اِن میں سے چند اشعار منقبت کے بھی جِن میں مولا علی علیہ السلام کی شان میں ھدیہ تبریک اور امام حسین علیہ السلام کی اُس عظیم قُربانی کے متعلق بھی تشریح کی گئی ہے جِسے اِس کتاب میں کائنات کے طویل رزمیہ کے زیر و بم میں دُکھ کا نوحہ اور صبر و رضا کا درس بھی بتایا گیا ہے۔ ایک پیراگراف نیچے منقول ہے۔ غور فرمائیں۔ ”اگر آدم سے آخری انسان تک کہانی کو مجموعی طور پر ایک رزمیہ (Epic) تصور کیجیے تو اس میوزیکل رزمیہ میں واقعہ کربلا ایک ایسا ایکٹ ہے جو بیک وقت زیر بھی ہے اور بم بھی ہے۔اونچے سُر فریاد / پکار،ہاڑا کرتے وقت نکالے جاتے ہیں۔اور کومل سُر صبر اور رضا کی کیفیت کے بیان کے لیے نکالے جاتے ہیں۔واقعہ کربلا ایک ایسا شاہکار المیہ ہے جس میں فریاد بھی ہے اور صبر و رضا بھی بدرجہ اتم ہیں۔“ صفحہ 416

اِس کتاب میں بہت سے متنوع موضوعات میں بکھری ہوئی اُلجھنوں کو سمیٹ کر سُلجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور یہ کتاب ابھی تک ”سٹاک“ میں موجود ہے۔ اور مِلنے کے پتوں میں سے ایک تو فیس بُک پر ”طلسماتِ غالب“ کا پیج ہے۔ دوسرا ”ألقرون پبلشرز“ کا پیج موجود ہے۔ اِس کتاب کے صفحات 584 ہیں۔ 80 گرام اعلیٰ کوالٹی کا پیپر استعمال ہوا ہے۔ اور آئی ایس بی این کُچھ یُوں ہے۔

( ISBN is as follows: 978 969 7984 06 0)

؎ ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا

صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے

دوسری کتاب ”جوگ کتھا“ بظاہر ایک سفرنامہ ہے، جو دھنوٹ ضلع لودھراں سے شروع ہو کر، ٹِلہ جوگیاں تک ہے۔ لیکن 400 صفحات پر محیط اِس شاہکار میں راستے میں آنے والے تمام شہروں اور قصبوں کے تاریخی آپریشن اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی موجود ہے، ساتھ ساتھ جوگ، جوگی، ٹِلہ جوگیاں کی تعریف و تاریخ اور جوگ کے ارکان کے علاوہ اِس رُوحانی دنیا میں قدم رکھنے والی معروف شخصیات پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔ جِن میں پُورن بھگت، راجہ بھرتری ہری اور تخت ہزارے کے تیدو رانجھا کے علاوہ دیگر اہم گُروؤں اور جوگیوں کا تاریخی و فِکری جائزہ لیا گیا۔ یہ کتاب بھی ابھی تک (ستمبر 2026ء) سٹاک میں موجود ہے، اور طلِسمات غالب کی طرح اس کا اور درج ذیل کتاب کا سٹاک بھی محدود ہے۔ پِھر نہ کہیو خبر نہ ہوئی۔ (ISBN is: 978-627-94660-0-6)

آپ کی تیسری کتاب ”کُلیاتِ منقبت (غالب)“ ہے۔ جو کہ غالب کی منقبت میں تمامی خامہ فرسائی کا مجموعہ اور اُس کا اُردو ترجمہ بھی ساتھ ہے۔ مصنف کے بقول اِس سے قبل منقبتِ غالب کا مکمل اُردو ترجمہ کبھی پیش نہیں کیا گیا اور یہ ترجمہ لفظ بہ لفظ یا با محاورہ کی بجائے غالب کی استعمال کردہ فارسی تراکیب و تلمیحات کو قائم رکھتے ہوئے اُردو ترجمے کی ایک جدید صِنف کے طور پر تراشا گیا ہے۔ کتاب 320 صفحات پر مشتمل ہے، اور حُصول کے لئے دستیاب ہے۔
 (ISBN: 978-627-94660-1-3)

پہلی کتاب طلسماتِ غالب کراچی سے ادارہ ”راہِ ادب“ نے شایع کی تھی اور بعد والی دونوں لاہور سے ”ألقرون پبلشرز“ نے۔
اب آپ کی چوتھی کتاب زیرِ طبع ہے، جِس کا عنوان ”کُلیاتِ حمد و نعت (غالب)“ ہے۔ اِس کے صفحات 432 متوقع ہیں

؎ دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

 اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں