ہفتہ، 7 فروری، 2026

سکیورٹی، دہشتگردی، بسنت اور ملا

پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے

یا
ڈیڑھ دو ماہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں
بم دھماکے
یا اسی طرح کی

دہشتگردانہ سرگرمیوں کی مشق نظر آتی ہے جو کہ بادیء النظر میں کسی خاص منصوبے کے لیے دنیا کا ماحول تیار ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
پاکستان میں حالیہ واقعے سے قبل آسٹریلیا میں بھی ایک حملہ ہوا تھا۔
اس ضمن میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ وینزویلا کے صدر کو امریکی فوجی پکڑ لاتے، صدر کی اپنی سکیورٹی کہاں تھی اور کیا ان کی کسی کے ساتھ ڈیل ہو چکی تھی؟ اس طرح آسٹریلیا میں حملہ ہوا تو آسٹریلیا کی ایجنسیاں جھک مار رہی تھیں؟ پاکستان کے دارالحکومت میں دھماکہ ہوا تو پاکستان کے ادارے بے خبر تھے؟
اگر کسی ایک مسلک یا فرقے کی مسجد میں دھماکہ ہوگا تو مختلف قسم کی آراء گردش کرتی ہیں یعنی جتنی زیادہ تقسیم ہوگی، لوگ ایک دوسرے کے خلاف بولیں گے، قبرستان میں میلا لگا رہے گا تو سنجی گلیوں میں مرزا یار ناچتا گھومتا پھرتا رہے گا۔
کیا اسلام آباد میں اس دردناک سانحے کے بعد لاہور میں کسی عظیم الشان جشن کی تقریبات کو ملتوی نہیں کر دینا چاہیے تھا؟
لیکن ہمیں *زندہ دلان لاہورئیے* ہونے کا لقب کون دے گا۔ دنیا جائے بھاڑ میں، ہم تو جشن منائیں گے، دھاتی تار سے لوگوں کے گلے کٹیں گے۔ بار بار بجلی کے ٹرانسفارمر بند ہوں گے۔ چھتوں سے بچے بڑے گر کر مریں ہماری بلا سے۔
موٹر سائیکل سوار خطرات کی زد میں رہیں کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔
صرف شہنشاہ اعظم کے لئے تقریبات ہوں اور قوم کے سر پر جوتے پڑتے رہیں۔ قوم خوش رہے گی۔ پرویز مشرف کے دور میں مولویوں نے بسنت کے خلاف اتنی کتابیں لکھیں اسے کفریہ عمل کہا کہ لگتا تھا کہ مولوی سچ بولتے ہیں لیکن یہ کیا اب تو سب مولویوں کو سانپ سونگھ گیا۔ ان کے سب احتجاج عمران خان کے دور میں تھے تب جہلم سے نئے اگنے والے انجنیئر کو بھی سورہ المائدہ کی آیت اور سنن ابی داؤد کی حدیث کی رو سے بسنت حرام، کفر، قابل مذمت اور اموات پر 100 اونٹ کی دیت (خون بہا کی رقم) نظر آتی تھی آج اسی انجنیئر کو پتنگ بازی میں اپنی ذاتی پسند نظر آتی ہے آج اس کی لاجک بدل گئی آج وہ ڈفر کہتا ہے کہ پھر تو تم کرکٹ کو بھی انگریزوں کا کھیل کہہ کر حرام کہہ دو گے۔ جناب عالی! آپ نے ہی خود قرآن پاک کی آیت اور حدیث میں سے فرمایا تھا کہ عمران خان کے وزراء خود اپنی ہی جماعت پر حملے کرتے ہیں اور یہ بسنت میں قتل ہونے والوں کی دیت کون دے گا۔
اب آپ کی جانے کون سی فائلز ایسی دبی ہوئی ہیں کہ آپ کو ایکسپوزیشن کا ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر سچ بولا تو میری فائلز منظر عام پر آ جائیں گی۔ ایڈا توں انجنیئر
اب نہ کوئی بریلوی بولا، نہ وہابی۔۔۔!!! سب کو امن ہی امن کی آشا دکھائی دے رہی ہے سب گناہ بےنظیر، پرویز مشرف اور عمران خان کی حکومت میں نظر آتے تھے۔ اس کے بعد مولویوں کی زبانیں گنگ ہو گئیں، انہیں *اولی الامر* والی آیت یاد آ گئی۔ 2022ء کے اپریل تک جابر حکمران کے سامنے کلمہء حق کہنے والی حدیث یاد تھی، اور جس جابر حکمران کے لیے وہ حدیث تھی اس کے متعلق بولا جائے تو مولوی کفر کا فتوی لگاتا ہے۔ حقیقتا" ان جاہل مولویوں کے خطابات، فتاوی جات اور بکواسیات کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ یہ دنیا کے کتے ہیں اور اس دنیا کے لالچ میں بقول اقبال
خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!

اتوار، 7 دسمبر، 2025

Urdu Speaking Girl and Saghir Tabassum

Saghir Tabassum 21-01-2026

  Muhammad Saghir Tabessum (born April 5, 1981) is a prominent Pakistani Punjabi poet and a radio personality. He is widely recognized for his social commentary and is a respected figure in both Pakistani and Indian Punjab.

Academic & Professional Background

    Beyond his literary pursuits, Tabessum holds a significant role in academia. He serves as the Head of the Department of BS & ADC at the Government Graduate College of Commerce in Bahawalnagar, Punjab.


Education:

MS in Management Sciences: University of South Asia, Lahore.

MBA: Virtual University (VU) of Pakistan.

Master’s in Commerce: Bahauddin Zakariya University (BZU), Multan.

Literary Contributions

    Writing under his pen name, *Saghir Tabessum*, he has authored several works that highlight societal issues and cultural themes. His poetry has also been adapted into songs by various artists such as Sabir, Ramzan Jani, and many other Pakistani and Indian singers.


Published Works

Title

  •  قیدی سُفنے | *Qaidi Sufne* 
  •  جیوندیاں مردیاں آساں | *Jiundian Mardiyan Aasan* 
  •  اساں چُپ نہیں وٹنی دھرتی تے | *Asan Chup Nahi Watni Dharti te* 
  •  اک خیال سمندروں ڈونگھا | *Ek Khayal Sumndron Dongha* 
  •  کُونجاں وچھڑن والیاں نیں | *Kounjan Wichran Waliyan ne* 
  •  واہگیوں آر پار | *Wahgyon Aar Par* 


Awards and Recognition

    Tabessum’s impact on Punjabi literature has earned him numerous prestigious awards from both government, national and international literary bodies:

  • PILAC Award: Received four times (till January 2026) from the Punjab Institute of Language, Art, and Culture (Government of Pakistan).
  • Masud Khaddar Posh Award: A highly respected honor in Punjabi literature.
  • Waris Shah International Award: Recognizing his global contribution to the language.
  • Additional Honors: Baba Farid Adbi Award, World Punjabi Forum Award, and the Pak-British International Award.


In Depth

Saghir Tabassum
at Pak Tea House Lahore
on 6th Nov 2025
Picture by: Abdul Razzaq Qadri
    Saghir Tabassum is a contemporary Punjabi poet, researcher, and academic voice from Bahawalnagar whose work has steadily risen from regional literary circles to international recognition, especially after the viral spread of his long poem Urdū Bolan Vāliye Kuṛiye in 2024–25. Known for blending folk cadence with deep cultural reflection, Tabassum writes poetry that explores the emotional, historical, and linguistic identity of Punjab, while his research highlights the literary traditions of both the Eastern and Western Punjabi regions. Over the years he has authored an impressive body of work, beginning with Qaidī Sufne (2010), followed by Jiyūndiyān̲ Mardiyān̲ Āsān̲ (2018), the major critical study Asān̲ Chup Nahin̲ Vaṭnī Dhartī Te (2021), the cross-border Punjabi collaboration Wāhagioṅ Āra-Pāra (2023), and his celebrated 2024 publications including Urdū Bolan Vāliye Kuṛiye and Ik Khayāl Samandrūn̲ Ḍonghā. His books are widely catalogued in the Library of Congress and appear in university seminars, media discussions, and scholarly reviews, with critics like Anwar Masood and Zafar Iqbal acknowledging his contribution to modern Punjabi literature. Tabassum’s popularity surged when his lyrical, music-like long poem became a social-media sensation, pulling younger audiences toward Punjabi literature, while his academic work, awards such as the Masood Khaddarposh Award, and frequent appearances on platforms like Samaa Punjabi and Suno Punjab TV cement his reputation as one of the significant Punjabi poetic voices of his generation.


"Urdu Bolan Waliye Kuriye" is a contemporary epic-style Punjabi poem, which is a single book of 136 pages that celebrates the cultural, emotional, and linguistic relationship between Punjab and the Punjabi language.


The poem has been written in a lyrical, song-like flow, the poem addresses a symbolic “Urdu-speaking girl,” inviting her into the warmth of Punjabi expression and identity. It blends folk rhythm with modern sensibilities, making it deeply relatable for today’s readers and listeners. Saghir Tabassum, the poet behind this work, is a Punjabi writer, researcher, and poet known for his strong contributions to contemporary Punjabi literature. His writing is rooted in cultural history, language identity, and the literary traditions of Bahawalnagar and the broader Punjabi region.

بدھ، 27 اگست، 2025

دریائے راوی میں شدید سیلابی ریلا: لاہور اور گرد و نواح کے نشیبی علاقے خطرے میں

لاہور (عبدالرزاق قادری) :دریائے راوی میں ایک بڑا سیلابی ریلا داخل ہو چکا ہے جس کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

دنیا نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 240,000 سے زائد کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو کہ انتہائی بلند سطح ہے۔ جبکہ لاہور کے قریب شاہدرہ پر پانی کا بہاؤ تقریباً 72,000 کیوسک ہے اور پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ آج (27 اگست) کی رات ایک بڑا سیلابی ریلا شاہدرہ سے گزرے گا(دنیا نیوز)

روزنامہ پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق بھارتی تھین ڈیم سے 77,000 کیوسک پانی چھوڑا گیا جس کے بعد پاکستان میں دریائے راوی اور پنجاب کے کئی اضلاع میں ہائی فلڈ کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ (روزنامہ پاکستان)

متاثرہ اور خطرے کے علاقوں کی تفصیل

  • لاہور کے نشیبی علاقے: پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی، شاہدرہ اور موٹر وے 2 کے اطراف۔
    • واضح رہے کہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی، جو سیاستدان عبدالعلیم خان کی ملکیت ہے، راوی کے کنارے واقع ہے۔ یہاں ہزاروں افراد نے پلاٹ خرید رکھے ہیں جو اب سیلابی خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
  • نارووال و شکرگڑھ: شکرگڑھ کے قریب بھیکو چک حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں (دنیا نیوز)۔
  • قادر آباد ہیڈ ورکس: یہاں ڈھانچے کو بچانے کے لیے حفاظتی بند میں جان بوجھ کر شگاف ڈالا گیا تاکہ بڑے پیمانے پر تباہی سے بچا جا سکے (ایکسپریس نیوز)۔
  • دیگر اضلاع: قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، حافظ آباد اور نارووال میں فوج اور ریسکیو ٹیمیں انخلا اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں (دی ایکسپریس ٹریبیون)۔

ماہرین کی وارننگ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارشیں مزید جاری رہیں تو دریائے راوی کا یہ ریلا لاہور شہر کے مزید نشیبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو الرٹ رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

1. قادر آباد ہیڈ ورکس والی خبر (ایکسپریس نیوز)

  • یہ خبر دریائے چناب سے متعلق ہے۔
  • قادر آباد ہیڈ ورکس (Qadirabad Barrage) دراصل دریائے چناب پر واقع ہے، ضلع منڈی بہاؤالدین کے قریب۔ وہاں پانی کے دباؤ کو کنٹرول کرنے اور بیراج کو بچانے کے لیے حفاظتی بند میں شگاف ڈالا گیا تھا تاکہ زیادہ بڑا نقصان نہ ہو۔

2. دیگر اضلاع والی خبر (ایکسپریس ٹریبیون)

  • اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ فوج اور ریسکیو ٹیمیں پنجاب کے مختلف اضلاع (قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، حافظ آباد، نارووال) میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
  • یہ اضلاع مختلف دریاؤں سے متاثر ہیں:
    • دریائے راوی لاہور، نارووال کے اطراف میں خطرہ۔
    • دریائے ستلج بہاولنگر اور اوکاڑہ کے علاقے۔
    • دریائے چناب حافظ آباد اور جھنگ کے اطراف۔
  • قادر آباد ہیڈ ورکس دریائے چناب۔

🔗 سورسز:


 #RaviFlood #PunjabFloods #LahoreAlert #FloodUpdate #PakistanFloods #RiverRavi #DisasterResponse #FloodWarning #SaveLahore #RescueOperations

پیر، 5 مئی، 2025

Ajab Donia Ast En Donia - Urdu Translation

 

آرزو عیسیٰ - تاجک شاعر
(تصویر: ویکیپیڈیا از Bahromjalilov)
عجب دنیاست این دنیا
 کیا عجب دنیا ہے یہ دنیا بھی!


یکی بیچاره و تنها
ایک ہے بیچارہ اور تنہا

یکی لبتشنه در صحرا
ایک ہے پیاسا صحرا میں

یکی بیدرد و بیپروا
ایک ہے بے درد اور لاپروا

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی چون ماهی در شست
ایک ہے جیسے مچھلی کانٹے میں

یکی بیپول، یکی پولمست
ایک ہے مفلس، ایک ہے دولت میں مست

یکی بیپا، یکی بیدست
ایک کے پاس پاؤں نہیں، ایک کے ہاتھ نہیں

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی از آدمی دور است
ایک ہے انسانوں سے دور

ز ثروت مست و مغرور است
دولت سے مدہوش اور مغرور ہے

به فکرش از خدا زور است
اس کے خیال میں خدا پر بھی زور چلتا ہے

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی در قلب زندان است
ایک ہے جو قید خانے کے بیچ میں ہے

ز اعمالش پشیمان است
اپنے اعمال پر پشیمان ہے

دلش لبریز از ارمان است
دل اس کا ارمانوں سے لبریز ہے

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی از بچه بیزار است
ایک ہے جو بچوں سے بیزار ہے

یکی بر ناخنش زار است
ایک ہے جو اپنے ناخن پر زار ہے

به یاد بچهی بیمار است
وہ بیمار بچے کی یاد میں ہے

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی دور از وطن باشد
ایک ہے جو وطن سے دور ہے

چو گل دور از چمن باشد
جیسے پھول ہو چمن سے دور

که جان دو ز تن باشد
جیسے جان ہو جسم سے جدا

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی بیدین و ایمان است
ایک ہے جو دین و ایمان سے خالی ہے

و خدمتکارش شیطان است
اور وہ شیطان کا خدمتگار ہے

پی آزار انسان است
وہ انسانوں کو اذیت دینے کے پیچھے ہے

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی از عشق دیوانه
ایک ہے جو عشق میں دیوانہ ہے

میان مردم افسانه
لوگوں میں وہ ایک افسانہ ہے

یکی بیکوی و بیخانه
ایک ہے جس کا نہ کوئی گھر ہے نہ گلی

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی امید زن دارد
ایک کو بیوی کی امید ہے

یکی آب وطن دارد
ایک کو وطن کا پانی نصیب ہے

یکی فکر کفن دارد
ایک ہے جو اپنے کفن کی فکر میں ہے

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!




یکی در کودکی میرد
ایک ہے جو بچپن میں ہی مر جاتا ہے

ز جبر زندگی میرد
زندگی کے جبر سے مر جاتا ہے

یکی از گشنگی میرد

ایک بھوک کی وجہ سے مر جاتا ہے

عجب دنیاست این دنیا

کیا عجیب ہے یہ دنیا!



شاعر: آرزو عیسیٰ (تاجکستان)
گلوکار: میر مفتون (نے گایا ہے)۔ اُن سے پہلے بھی ایک گائیک (حسن حیدر) نے گایا تھا۔
اُردو پیشکش: عبدالرزاق قادری

پیر، 24 فروری، 2025

محنت، لگن اور کامیابی کی سچی کہانی

میرا پیارا راج دلارا محمد نوید 1994ء میں ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی کے ایک قصبے گڑھا موڑ کے ایک نواحی پسماندہ گاؤں میں پیدا ہوا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں نہ صرف بنیادی سہولیات کی شدید کمی تھی بلکہ ساتھ ساتھ مین روڈ سے پانچ کلومیٹر کی دوری کا مسئلہ بھی تھا۔ اس گاؤں میں ایک ظالم خاندان کی اجارہ داری تھی جو لوگوں پر بلاوجہ حکم چلاتا اور ظلم کرتا تھا۔


جب نوید 9 سال کا ہوا تو سن 2003ء میں اس کے والدین نے بچوں کے بہتر مستقبل اور اچھی تعلیم کی خاطر لاہور کا رخ کیا۔ میاں محمد منشی ہسپتال کے قریب کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا لیکن بہتر زندگی کی امید نے ان کی ہمت کو برقرار رکھا۔


نوید نے اپنی ابتدائی تعلیم بلال گنج کے قرب و جوار کے اسکولوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد پنجاب کالج اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے 16 سال تک تعلیمی سفر جاری رکھا۔ میں، عبدالرزاق قادری، اس کی تعلیم و تربیت میں اس وقت سے شامل ہوں جب وہ ساتویں جماعت میں تھا۔ 2010ء میں میں نے اسے میتھس کے بنیادی اصول سمجھائے اور اس کی تعلیم میں بھرپور مدد کی۔ میں اس کے ساتھ ہر قدم پر رہا، اسے ٹیوشن دیتا رہا، اور اسکول کا سبق یاد کرواتا رہا۔


نوید کے والد ایک بس ڈرائیور تھے اور بعد میں کار بھی چلانے لگے۔ ان کی معمولی آمدنی کے باوجود نوید نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ مشکلات کے باوجود اپنی پڑھائی پر توجہ دیتا رہا اور ایم ایس سی میتھس مکمل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے میں قدم رکھا۔ پہلے لاہور میں میتھس (ریاضی) پڑھایا اور بعد ازاں آن لائن تدریس شروع کی۔


آج نوید امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، دبئی، سعودی عرب، برطانیہ اور یورپ کے کئی ممالک میں آن لائن ریاضی پڑھاتا ہے۔ اس کی محنت نے اسے آسودہ حال کر دیا ہے۔ یہ وہی بچہ ہے جسے میں نے مشکل حالات میں محنت کرتے دیکھا تھا، اور آج اس کی محنت ہی اس کی کامیابی کی ضمانت بن گئی ہے۔


کل 23 فروری 2025ء کو اس کی شادی ہوئی اور آج اس کا ولیمہ ہے۔ میں اپنی فیملی کے ساتھ سب سے پہلے شادی ہال میں پہنچا ہوں اور بے حد خوش ہوں۔ اللہ نوید اور اس کی بیگم کو ہمیشہ خوش رکھے۔ میری دعا ہے کہ اللہ اسے دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا فرمائے۔


یہ کہانی صرف نوید کی نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہارتا اور اپنی محنت کو اپنی کامیابی کی بنیاد بنا لیتا ہے۔

اتوار، 2 فروری، 2025

زندگی کی مشکلات اور کامیابی کی راہ


زندگی ایک کھیل کی طرح ہے، جہاں ہر دن ایک نیا چیلنج ہوتا ہے۔ جیسے کسی کھیل میں جیتنے کے لیے محنت، صبر اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے ہی حقیقی زندگی میں بھی کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس کی زندگی میں مشکلات نہ آئی ہوں۔ کچھ لوگ ان مشکلات سے گھبرا جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ان کا مقابلہ کر کے کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ اصل کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو ہمت نہیں ہارتے اور ہر مشکل کو نئے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ہر انسان کی زندگی میں کسی نہ کسی طرح کی مشکلات آتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں، کچھ کو تعلیمی مسائل کا سامنا ہوتا ہے، کچھ اپنی فیل ہونے کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں، تو کچھ اپنے گھر کے حالات کو لے کر فکرمند ہوتے ہیں۔


لیکن یاد رکھیں! ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے۔ صرف وہی لوگ ناکام ہوتے ہیں جو ہار مان کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مشکل سے گزر رہے ہیں، تو اسے ایک موقع سمجھیں، جس سے آپ کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں۔


دنیا میں جتنے بھی کامیاب لوگ ہوئے ہیں، وہ سبھی کسی نہ کسی مشکل سے گزرے ہیں۔ مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری، بلکہ مسلسل جدوجہد کی اور کامیاب ہوئے۔


1. تھامس ایڈیسن – بار بار ناکامی، مگر آخر کار کامیابی


تھامس ایڈیسن کو بچپن میں اسکول سے نکال دیا گیا تھا، کیونکہ استاد نے کہا تھا کہ وہ کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ لیکن اس کی ماں نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔ اس نے ہزاروں بار ناکامی کے بعد بھی بجلی کا بلب ایجاد کر لیا۔ اگر وہ کچھ بار کی ناکامی کے بعد ہار مان لیتا، تو شاید آج دنیا اندھیرے میں ہوتی۔


2. عبد الستار ایدھی – دوسروں کے لیے جینا


ایدھی صاحب پاکستان کے سب سے بڑے سماجی کارکن تھے۔ ان کے پاس کوئی بڑی دولت یا طاقت نہیں تھی، مگر انہوں نے اپنے عزم سے ایک ایسا فلاحی نظام بنایا جو دنیا بھر میں مشہور ہو گیا۔ انہوں نے دکھوں میں گھرے لوگوں کی مدد کی اور ان کا نام ہمیشہ کے لیے تاریخ میں لکھ دیا گیا۔


3. جے کے رولنگ – مشکلات سے نکل کر کامیابی کی طرف


مشہور ناول "ہیری پوٹر" کی مصنفہ جے کے رولنگ ایک وقت میں بے روزگار تھیں اور ان کے پاس کھانے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ مگر انہوں نے اپنی کہانی لکھی، کئی پبلشرز نے اسے مسترد کر دیا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ آج وہ دنیا کی سب سے کامیاب لکھاریوں میں شمار ہوتی ہیں۔


مشکلات کو کیسے ہمت اور حوصلے میں بدلا جائے؟


کبھی ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے، مگر حقیقت میں یہ صرف ایک نیا آغاز ہوتا ہے۔ جب بھی زندگی میں کوئی مشکل آئے، تو یہ طریقے آزمائیں:


1. ہمیشہ خود پر یقین رکھیں


اگر آپ کو خود پر یقین ہے، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو شکست نہیں دے سکتی۔ کامیابی کا پہلا قدم یہی ہے کہ آپ خود کو قابل سمجھیں اور اپنی محنت پر بھروسہ کریں۔


2. ناکامی سے گھبرائیں نہیں، اس سے سیکھیں


ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ناکام انسان ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے کچھ نیا سیکھا ہے۔ جب بھی آپ کسی چیز میں فیل ہوں، تو دیکھیں کہ آپ کہاں غلطی کر رہے ہیں اور اسے بہتر کرنے کی کوشش کریں۔


3. ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں


اگر آپ کسی چیز میں ناکام ہو جائیں، تو یہ نہ سوچیں کہ "میں کبھی کچھ نہیں کر سکتا"، بلکہ یہ سوچیں کہ "میں نے کچھ نیا سیکھا ہے، اب میں دوبارہ بہتر کوشش کروں گا۔" مثبت سوچ رکھنے والے لوگ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں۔


4. محنت کرتے رہیں، کامیابی خود آئے گی


اگر آپ کوئی ہنر سیکھنا چاہتے ہیں، امتحان میں اچھے نمبر لینا چاہتے ہیں، یا زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتے ہیں، تو بس محنت کرتے رہیں۔ کامیابی فوراً نہیں آتی، مگر مسلسل محنت کرنے والے لوگ ایک دن سب کو حیران کر دیتے ہیں۔


5. شکر گزار بنیں اور صبر کریں


کبھی کبھی ہمیں وہ چیز نہیں ملتی جس کی ہمیں امید ہوتی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ناکام ہیں۔ اللہ کی ہر چیز میں بہتری ہوتی ہے، اس لیے ہمیشہ شکر گزار بنیں اور صبر کریں۔


کامیابی کی اصل پہچان


کامیابی صرف دولت یا شہرت کا نام نہیں، بلکہ اصل کامیابی وہ ہوتی ہے جو آپ کے دل کو سکون دے اور دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔ ایک اچھا طالب علم، ایک اچھا دوست، ایک اچھا انسان بننا بھی کامیابی ہے۔


اگر آپ ہمت اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھیں گے، تو آپ کی کامیابی صرف وقت کی بات ہے۔ یاد رکھیں:


"ناکامی صرف ایک سبق ہوتا ہے، مگر مسلسل محنت کامیابی کی کنجی ہے!"


تو ہمت کریں، آگے بڑھیں، اور کبھی ہار نہ مانیں! 



ہفتہ، 1 فروری، 2025

افسانہ: تھل کا خاموش چرواہا

 عباس گِل جٹ

1960ء: ریگستان مں پیدا ہونے والا مسافر

تھل کی بے رحم ریت، جہاں سورج آگ برساتا ہے اور ہوائیں کبھی شعلہ بن کر چلتی ہیں تو کبھی خاموشی میں گم ہو جاتی ہیں، وہی زمین عباس گِل جٹ کا مقدر بنی۔ ضلع لیہ کے ایک گاؤں میں، جہاں نہر کا پانی کبھی کبھی کھیتوں تک پہنچتا، جہاں ہلکی پھلکی فصل ہو جاتی مگر زندگی کا اصل انحصار مویشیوں پر تھا، عباس نے آنکھ کھولی۔

گاؤں میں غربت تھی، مگر خودداری بھی۔ عباس کا بچپن مویشی چرانے میں گزرا۔ صبح سویرے چادر کندھے پر ڈال کر، ڈنڈا ہاتھ میں لیے وہ ریت کے ٹیلوں میں نکل جاتا، مویشیوں کو سبزہ تلاش کر کے کھلاتا اور شام ڈھلے انہیں ہانکتا ہوا واپس آتا۔ بچپن کے دن کہاں معلوم ہوتے ہیں کہ کل کیا ہوگا؟ عباس بھی اسی بے فکری میں پلا بڑھا، مگر ایک جٹ مرد کی طرح، محنت اور قربانی اس کی گھٹی میں تھی۔

1980ء: جوانی کا آغاز اور زندگی کی کشمکش

وقت بدلا، مگر تھل کی سختیاں نہ بدلیں۔ عباس جوان ہوا تو بھی وہی مویشی، وہی کھارا پانی، وہی ریت کے طوفان۔ نہر کا پانی گاؤں تک آتا تھا، مگر زمینیں زیادہ زرخیز نہ تھیں، تھوڑا بہت گندم ہو جاتی، مگر عباس چارہ کاشت کرنے کے بجائے مویشیوں کو کھلا چرا کر پالنے کا عادی رہا۔ وہ صبح نکلتا، دن بھر مویشیوں کے ساتھ رہتا، اور شام ڈھلے گھر لوٹتا۔

1995ء: شیخوپورہ سے آئی شہناز بی بی اور نیا گھر

عباس کی شادی شیخوپورہ کے ایک گاؤں کی شہناز بی بی سے ہوئی، جو صبر، محبت اور سلیقے میں اپنی مثال آپ تھی۔ اسے جب بیاہ کر لیہ لایا گیا، تو وہ شہروں کے نسبتاً بہتر حالات سے نکل کر تھل کے صحرا میں آ بسی۔ مگر اس نے کبھی شکایت نہیں کی، وہ جانتی تھی کہ عباس ایک محنتی مرد ہے، جو ساری زندگی صرف اپنے گھر والوں کے لیے وقف کر دے گا۔

جلد ہی ان کے ہاں اولاد کی نعمت بھی مل گئی۔ پہلے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں، پھر بیٹا اویس آیا، اور اس کے بعد مزید دو بیٹیاں۔ یوں اویس دو بڑی بہنوں کا لاڈلا بھائی اور دو چھوٹی بہنوں کا محافظ بن گیا۔ عباس کو اویس کی صورت میں اپنی جوانی کا عکس نظر آتا تھا، جو ایک دن اس کی جگہ لے گا اور مویشیوں کے ساتھ کھیت سنبھالے گا۔

2005ء: زہریلے پانی کی تباہی کا آغاز

نہر کا پانی زمین کو کچھ دیر کے لیے سیراب کر دیتا تھا، مگر پینے کے لیے عباس اور گاؤں کے دیگر لوگ وہی زیر زمین کھارا پانی استعمال کرتے، جو سالہا سال سے ان کے جسم میں زہر گھول رہا تھا۔ صنعتی فیکٹریوں کا کیمیکل جب زمین کے اندر پہنچا، تو پانی بھی زہر بن گیا، مگر گاؤں کے لوگ یہ سمجھ نہ سکے کہ ان کے جسموں میں ایک خاموش قاتل پل رہا ہے۔

2015ء: محنت، ترقی اور اولاد کے لیے قربانی

عباس کی زندگی میں سب سے بڑی خوشی اس کی اولاد تھی، اور اس نے ہمیشہ ان کے لیے سوچا۔ وہ جانتا تھا کہ صرف مویشی پالنا کافی نہیں، اس لیے اس نے محنت کی، زمین ٹھیکے پر لی، چارہ بھی کاشت کرنے لگا۔

پھر اس نے بیوی اور بچوں کے خواب پورے کرنے کے لیے ایک فیصلہ کیا—وہ ایک پکا گھر بنائے گا، تاکہ اس کے بعد بچوں کو صعوبتیں نہ سہنی پڑیں۔

اور وہ یہ خواب پورا کر گیا!

اس نے گھر بنایا، کھیتوں میں چارہ کاشت کیا، اور سب سے بڑی بات، اپنے بچوں کے لیے ایک ٹریکٹر خرید لیا۔ اب اویس اور بیٹیاں آرام سے زندگی گزار سکتے تھے، اپنے کھیتوں کی دیکھ بھال کر سکتے تھے، مویشی پالنے کے ساتھ کھیتی بھی کر سکتے تھے۔ عباس کے چہرے پر سکون تھا، جیسے ایک باپ اپنی آخری ذمہ داری پوری کر چکا ہو۔

2024ء: کینسر کی خبر اور زندگی کی آخری راتیں

لیکن قسمت کچھ اور ہی لکھ چکی تھی۔ عباس گِل جٹ جو زندگی بھر کھارا پانی پیتا رہا، جو خود کو ہر تکلیف کا عادی سمجھتا تھا، وہ یہ نہ جان سکا کہ اس کے اندر کینسر پل چکا تھا۔

جب درد ناقابلِ برداشت ہوا، تو اویس اسے ضلع لیہ کے اسپتال لے گیا۔ رپورٹس آئیں، ڈاکٹر نے نظریں جھکا لیں۔

"یہ کینسر آخری اسٹیج پر ہے، زیادہ وقت نہیں رہا۔"

شہناز بی بی رو پڑی، بیٹیاں سسکنے لگیں، مگر عباس مسکرا دیا۔ "رونے کا وقت نہیں، میں نے سب کچھ تمہارے لیے پہلے ہی مکمل کر دیا ہے۔ میرے بعد تمہیں کسی کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا!"

جنوری 2025ء: تھل کے چرواہے کی آخری سانس

وہ جنوری کی ایک ٹھنڈی شام تھی، جب عباس گِل جٹ کی سانسیں مدھم ہونے لگیں۔ بیٹیاں پاس بیٹھی تھیں، شہناز بی بی دعا پڑھ رہی تھی، اویس ضبط کیے کھڑا تھا۔ عباس نے آخری بار آسمان کی طرف دیکھا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو، پھر آہستہ سے بولا،

"اویس، بیٹیوں کا خیال رکھنا۔ کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا، ہمیشہ محنت کرنا، زمین مت بیچنا!"

یہ کہہ کر اس کی آنکھیں بند ہو گئیں، اور تھل کا یہ چرواہا خاموشی سے دنیا چھوڑ گیا۔

اختتام: عباس تو چلا گیا، مگر سوال چھوڑ گیا

اویس نے باپ کو قبر میں اتارا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی۔ وہ جان چکا تھا کہ اس کا باپ صرف مویشی چرانے والا نہیں تھا، وہ تھل کا عظیم چرواہا تھا، جو اپنی اولاد کے لیے سب کچھ چھوڑ کر گیا تھا۔

لیکن یہ پانی؟ یہ زہر؟

یہی سوال تھا، جو عباس کی قبر پر کھڑے ہر چرواہے، ہر کسان، ہر محنت کش کے دل میں تھا۔ لیہ کے تھل میں ہزاروں عباس گِل جٹ ابھی بھی زندہ ہیں، مگر وہ نہیں جانتے کہ ان کے اندر بھی وہی خاموش موت پل رہی ہے!

لیکن کب تک؟