منگل، 1 ستمبر، 2026

کلیات حمد و نعت از اویس قرنی (جوگی جادوگر)

 ممکن ہے کہ آپ نے درج ذیل تین کتب کے متعلق سُن رکھا ہو یا پھر اُن کا مطالعہ فرمایا ہو۔

An AI Generated Sketch of Kulliyat e Hamd wa Naat Ghalib


1۔ طلسمات غالب 2024ء

2۔ جوگ کتھا 2025ء

3۔ کلیات منقبت (غالب) 2026ء

اِن تینوں کُتب کے مصنف جناب سید اویس قرنی ہیں جو اپنے قلمی نام کے طور پر خود کو ”جوگی جادوگر“ بھی کہتے ہیں۔ اور مُجھے لفظ ”سید“ کا ڈِھنڈورا پیٹنے سے منع کرتے ہیں (وہ بھی ایک ایسے دَور میں جب جھوٹے سادات کی بھر مار ہو۔ پھر بھی کبھی کبھار ہم اپنا ویٹو پاور استعمال کر کے ایسا کر گزرتے ہیں۔ آپ ایک مایہ ناز صاحبِ علم، محقق اور ایک تنقیدی مفَکِّر ہیں، اُنہوں نے یہ کتابیں عامۃ الناس میں غالبیات کے متعلق پھیلی ہوئی غیر مستند ”تحقیقات“ کی گرد جھاڑنے کے لئے اور دیگر روحانی و تاریخی غلط فہمیوں کو دور کرنے لئے مدون فرمائی ہیں۔

پہلی کتاب ”طلسماتِ غالب“ میں 42 اُردو اور 30 فارسی (کُل 72) اشعار کی لفظ در لفظ معانی کے بعد کی گئی تشریح ہے جو کہ اپنے قاری کو غالب کے تخیل کو پہچاننے میں مدد کرتی ہے لیکن اِس ضمن میں مصنف کا کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں رہا کہ اُنہوں نے آپ تک غالب کا مدعا پہنچا دیا ہے، بلکہ اُن کا اِس حوالے سے تصور یہ ہے کہ

؎ اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی

ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

جوگی مہاراج کے خیال کے مطابق میرزا غالب بھی اپنے شعر کی تشریح سمجھنے اور اُس کا حظ اُٹھانے کے لئے اپنے قاری کے ساتھ مل کر بیٹھ جاتے ہیں اور اِس لُطفِ گویائی کے تماشائی بن جاتے ہیں جِس کا معترف ایک زمانہ ہے۔ اِس لئے جوگی میاں نے محض اِدعائے الفاظ و تراکیب کو سُلجھانے میں اپنی سعی کا حِصہ ڈالا ہے، اور پھر وہ بھی قارئین اور میرزا نوشہ (غالب) کے ساتھ مل کر ان اشعار کے طلِسم کو جانچنے پرکھنے میں کہیں کھو جاتے ہیں۔ اِن اشعار کی تعداد شہداء کربلا علیہم السلام کی نسبت سے بہتر (72) رکھی گئی ہے اور اِن میں سے چند اشعار منقبت کے بھی جِن میں مولا علی علیہ السلام کی شان میں ھدیہ تبریک اور امام حسین علیہ السلام کی اُس عظیم قُربانی کے متعلق بھی تشریح کی گئی ہے جِسے اِس کتاب میں کائنات کے طویل رزمیہ کے زیر و بم میں دُکھ کا نوحہ اور صبر و رضا کا درس بھی بتایا گیا ہے۔ ایک پیراگراف نیچے منقول ہے۔ غور فرمائیں۔ ”اگر آدم سے آخری انسان تک کہانی کو مجموعی طور پر ایک رزمیہ (Epic) تصور کیجیے تو اس میوزیکل رزمیہ میں واقعہ کربلا ایک ایسا ایکٹ ہے جو بیک وقت زیر بھی ہے اور بم بھی ہے۔اونچے سُر فریاد / پکار،ہاڑا کرتے وقت نکالے جاتے ہیں۔اور کومل سُر صبر اور رضا کی کیفیت کے بیان کے لیے نکالے جاتے ہیں۔واقعہ کربلا ایک ایسا شاہکار المیہ ہے جس میں فریاد بھی ہے اور صبر و رضا بھی بدرجہ اتم ہیں۔“ صفحہ 416

اِس کتاب میں بہت سے متنوع موضوعات میں بکھری ہوئی اُلجھنوں کو سمیٹ کر سُلجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور یہ کتاب ابھی تک ”سٹاک“ میں موجود ہے۔ اور مِلنے کے پتوں میں سے ایک تو فیس بُک پر ”طلسماتِ غالب“ کا پیج ہے۔ دوسرا ”ألقرون پبلشرز“ کا پیج موجود ہے۔ اِس کتاب کے صفحات 584 ہیں۔ 80 گرام اعلیٰ کوالٹی کا پیپر استعمال ہوا ہے۔ اور آئی ایس بی این کُچھ یُوں ہے۔

( ISBN is as follows: 978 969 7984 06 0)

؎ ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا

صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے

دوسری کتاب ”جوگ کتھا“ بظاہر ایک سفرنامہ ہے، جو دھنوٹ ضلع لودھراں سے شروع ہو کر، ٹِلہ جوگیاں تک ہے۔ لیکن 400 صفحات پر محیط اِس شاہکار میں راستے میں آنے والے تمام شہروں اور قصبوں کے تاریخی آپریشن اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی موجود ہے، ساتھ ساتھ جوگ، جوگی، ٹِلہ جوگیاں کی تعریف و تاریخ اور جوگ کے ارکان کے علاوہ اِس رُوحانی دنیا میں قدم رکھنے والی معروف شخصیات پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔ جِن میں پُورن بھگت، راجہ بھرتری ہری اور تخت ہزارے کے تیدو رانجھا کے علاوہ دیگر اہم گُروؤں اور جوگیوں کا تاریخی و فِکری جائزہ لیا گیا۔ یہ کتاب بھی ابھی تک (ستمبر 2026ء) سٹاک میں موجود ہے، اور طلِسمات غالب کی طرح اس کا اور درج ذیل کتاب کا سٹاک بھی محدود ہے۔ پِھر نہ کہیو خبر نہ ہوئی۔ (ISBN is: 978-627-94660-0-6)

آپ کی تیسری کتاب ”کُلیاتِ منقبت (غالب)“ ہے۔ جو کہ غالب کی منقبت میں تمامی خامہ فرسائی کا مجموعہ اور اُس کا اُردو ترجمہ بھی ساتھ ہے۔ مصنف کے بقول اِس سے قبل منقبتِ غالب کا مکمل اُردو ترجمہ کبھی پیش نہیں کیا گیا اور یہ ترجمہ لفظ بہ لفظ یا با محاورہ کی بجائے غالب کی استعمال کردہ فارسی تراکیب و تلمیحات کو قائم رکھتے ہوئے اُردو ترجمے کی ایک جدید صِنف کے طور پر تراشا گیا ہے۔ کتاب 320 صفحات پر مشتمل ہے، اور حُصول کے لئے دستیاب ہے۔
 (ISBN: 978-627-94660-1-3)

پہلی کتاب طلسماتِ غالب کراچی سے ادارہ ”راہِ ادب“ نے شایع کی تھی اور بعد والی دونوں لاہور سے ”ألقرون پبلشرز“ نے۔
اب آپ کی چوتھی کتاب زیرِ طبع ہے، جِس کا عنوان ”کُلیاتِ حمد و نعت (غالب)“ ہے۔ اِس کے صفحات 432 متوقع ہیں

؎ دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

 اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

اتوار، 30 اگست، 2026

“Kulliyat e Hamd wa Naat Ghalib” by Owais Qarni (Jogi Jadugar)

 You might be aware of the following books, which were published in 2024, 2025, and 2026, respectively.



1.Tilismat-e-Ghalib

2.Jog Katha

3.Kulliyat-e-Manqabat-e-Ghalib

The author of these books is a Pakistani writer, scholar, and researcher Syed Owais Qarni (also popularly known as Jogi Jadugar). He has written these specialized books as part of his extensive research and literary contributions to Urdu literature and Ghalibiyat (the study of Mirza Ghalib).

Tilismat-e-Ghalib (طلسماتِ غالب) – His widely acclaimed analytical and structural work on the complexities of Mirza Ghalib's poetry, which contains the detailed commentary over 42 Urdu and 30 Persian Couplets. The total number of the couplets is 72 with reference to 72 Martyrs of Karbala. This book has 584 pages, and its ISBN is as follows: 978 969 7984 06 0

Jog Katha (جوگ کتھا) – A unique text blending travelogue, philosophy, and spirituality based around a journey from the author’s home town (Dhanote دھنوٹ) in District Lodhran of Pakistani Punjab to Tilla Jogian in Jhelum district of Punjab, Pakistan. This book does not only describes his travel, but also the history of the areas he has gone through. Also the history of Jog, Jogi and their ideas about Jog. It also describes little bit history of ancient Rajas (Kings) and their attraction towards Jog and spritiuality. Jog Katha has 400 Pages and the ISBN is: 978-627-94660-0-6

Kulliyat-e-Manqabat Ghalib (کلیاتِ منقبت غالب) – A compiled collection focusing specifically on the devotional verses (manqabat) written by Mirza Ghalib. But its Unique quality is that it’s the first ever complete Urdu translated collection of the Manqabat. The writers who published Manqabat work by Ghalib before, had never translated the whole collection of his Persian Manqbat into Urdu. His didn’t use the method to translate it word-by-word or merely in phrases, but he has tried to keep the original Persian phrases in his Urdu translations. The total pages of this book are 320 and the ISBN is below: 978-627-94660-1-3

The first book (Talismat e Ghalib) has been published by Raah e Adab Karachi and the other two books have been published by Al Quroon Publishers from Lahore, Pakistan.

Now, Al Quroon Publishers is going to publish his new book very soon. In Sha Allah. The title is “Kulliyat e Hamd wa Naat Ghalib کُلیات حمد و نعت غالب” by Owais Qarni (Jogi Jadugar). The image of its title is just an AI generated sketch, and the actual title will look little differently. The number of its pages could be 432 and the price will be mentioned after its publication which is expected in October 2026.

جمعہ، 13 فروری، 2026

تبصرہ بر کتاب کلیات منقبت غالب

 تبصرہ بر کتاب کلیاتِ منقبتِ غالب

مصنف: اویس قرنی (جوگی جادوگر)

اشاعت: فروری 2026ء

پبلشر: ألقرون پبلشرز، لاہور

صفحات: 320

قیمت: 2200 روپے پاکستانی

طباعتی معیار: مجلد، امپورٹڈ پیپر

ISBN: 978-627-94660-1-3

رابطہ: 00923454809757 

اویس قرنی (جوگی جادوگر) کی تازہ تصنیف “کلیاتِ منقبتِ غالب” اُن کی غالب شناسی کے تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس سے قبل وہ اپنی کتاب “طلسماتِ غالب” کے ذریعے کلامِ غالب کی شرح و توضیح میں ایک معتبر حوالہ کے طور پر سامنے آ چکے ہیں، جبکہ اپنی دوسری تصنیف “جوگ کتھا” میں اُنہوں نے فکری و روحانی اسلوب کا مظاہرہ کیا۔ زیرِ نظر کتاب میں مصنف نے غالب کے اُس منقبتی کلام کو یکجا کیا ہے جو اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام کی شان میں اردو اور فارسی زبان میں تخلیق ہوا۔


کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غالب کے منقبتی اردو کلام کو اصل صورت میں پیش کیا گیا ہے، جبکہ فارسی اشعار کا بامحاورہ اردو ترجمہ شامل کیا گیا ہے تاکہ اردو قارئین بھی اس ذخیرے سے مستفید ہو سکیں۔ چونکہ یہ مجموعہ عمومی قارئین کے لیے مرتب کیا گیا ہے، اس لیے اردو اشعار کی شرح سے گریز کیا گیا ہے اور متن کو سادہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔


اس تصنیف میں غالب کی شخصیت کے اُس پہلو کو سامنے لایا گیا ہے جسے عموماً ان کی شاعری میں کم توجہ ملتی ہے۔ منقبت کے اشعار میں غالب کا اسلوب اپنی فصاحت، عقیدت اور فکری گہرائی کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ مصنف نے ان اشعار کو یکجا کر کے نہ صرف ایک ادبی خدمت انجام دی ہے بلکہ غالبیات کے مطالعے میں ایک مخصوص گوشے کو مستقل عنوان دے دیا ہے۔


 مجموعی طور پر “کلیاتِ منقبتِ غالب” کو غالب شناسی اور مناقب نگاری کے ذوق رکھنے والوں کے لیے ایک اہم اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے یہ کتاب ایک ایسی سنجیدہ کاوش ہے جو تحقیق، ترجمہ اور میرزا غالب کے اہل بیت عظام کے ساتھ عقیدتی پہلو کے طور پر سامنے آئی ہے۔


عبدالرزاق قادری

ہفتہ، 7 فروری، 2026

سکیورٹی، دہشتگردی، بسنت اور ملا

پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے

یا
ڈیڑھ دو ماہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں
بم دھماکے
یا اسی طرح کی

دہشتگردانہ سرگرمیوں کی مشق نظر آتی ہے جو کہ بادیء النظر میں کسی خاص منصوبے کے لیے دنیا کا ماحول تیار ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
پاکستان میں حالیہ واقعے سے قبل آسٹریلیا میں بھی ایک حملہ ہوا تھا۔
اس ضمن میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ وینزویلا کے صدر کو امریکی فوجی پکڑ لاتے، صدر کی اپنی سکیورٹی کہاں تھی اور کیا ان کی کسی کے ساتھ ڈیل ہو چکی تھی؟ اس طرح آسٹریلیا میں حملہ ہوا تو آسٹریلیا کی ایجنسیاں جھک مار رہی تھیں؟ پاکستان کے دارالحکومت میں دھماکہ ہوا تو پاکستان کے ادارے بے خبر تھے؟
اگر کسی ایک مسلک یا فرقے کی مسجد میں دھماکہ ہوگا تو مختلف قسم کی آراء گردش کرتی ہیں یعنی جتنی زیادہ تقسیم ہوگی، لوگ ایک دوسرے کے خلاف بولیں گے، قبرستان میں میلا لگا رہے گا تو سنجی گلیوں میں مرزا یار ناچتا گھومتا پھرتا رہے گا۔
کیا اسلام آباد میں اس دردناک سانحے کے بعد لاہور میں کسی عظیم الشان جشن کی تقریبات کو ملتوی نہیں کر دینا چاہیے تھا؟
لیکن ہمیں *زندہ دلان لاہورئیے* ہونے کا لقب کون دے گا۔ دنیا جائے بھاڑ میں، ہم تو جشن منائیں گے، دھاتی تار سے لوگوں کے گلے کٹیں گے۔ بار بار بجلی کے ٹرانسفارمر بند ہوں گے۔ چھتوں سے بچے بڑے گر کر مریں ہماری بلا سے۔
موٹر سائیکل سوار خطرات کی زد میں رہیں کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔
صرف شہنشاہ اعظم کے لئے تقریبات ہوں اور قوم کے سر پر جوتے پڑتے رہیں۔ قوم خوش رہے گی۔ پرویز مشرف کے دور میں مولویوں نے بسنت کے خلاف اتنی کتابیں لکھیں اسے کفریہ عمل کہا کہ لگتا تھا کہ مولوی سچ بولتے ہیں لیکن یہ کیا اب تو سب مولویوں کو سانپ سونگھ گیا۔ ان کے سب احتجاج عمران خان کے دور میں تھے تب جہلم سے نئے اگنے والے انجنیئر کو بھی سورہ المائدہ کی آیت اور سنن ابی داؤد کی حدیث کی رو سے بسنت حرام، کفر، قابل مذمت اور اموات پر 100 اونٹ کی دیت (خون بہا کی رقم) نظر آتی تھی آج اسی انجنیئر کو پتنگ بازی میں اپنی ذاتی پسند نظر آتی ہے آج اس کی لاجک بدل گئی آج وہ ڈفر کہتا ہے کہ پھر تو تم کرکٹ کو بھی انگریزوں کا کھیل کہہ کر حرام کہہ دو گے۔ جناب عالی! آپ نے ہی خود قرآن پاک کی آیت اور حدیث میں سے فرمایا تھا کہ عمران خان کے وزراء خود اپنی ہی جماعت پر حملے کرتے ہیں اور یہ بسنت میں قتل ہونے والوں کی دیت کون دے گا۔
اب آپ کی جانے کون سی فائلز ایسی دبی ہوئی ہیں کہ آپ کو ایکسپوزیشن کا ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر سچ بولا تو میری فائلز منظر عام پر آ جائیں گی۔ ایڈا توں انجنیئر
اب نہ کوئی بریلوی بولا، نہ وہابی۔۔۔!!! سب کو امن ہی امن کی آشا دکھائی دے رہی ہے سب گناہ بےنظیر، پرویز مشرف اور عمران خان کی حکومت میں نظر آتے تھے۔ اس کے بعد مولویوں کی زبانیں گنگ ہو گئیں، انہیں *اولی الامر* والی آیت یاد آ گئی۔ 2022ء کے اپریل تک جابر حکمران کے سامنے کلمہء حق کہنے والی حدیث یاد تھی، اور جس جابر حکمران کے لیے وہ حدیث تھی اس کے متعلق بولا جائے تو مولوی کفر کا فتوی لگاتا ہے۔ حقیقتا" ان جاہل مولویوں کے خطابات، فتاوی جات اور بکواسیات کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ یہ دنیا کے کتے ہیں اور اس دنیا کے لالچ میں بقول اقبال
خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!

اتوار، 7 دسمبر، 2025

Urdu Speaking Girl and Saghir Tabassum

Saghir Tabassum 21-01-2026

  Muhammad Saghir Tabessum (born April 5, 1981) is a prominent Pakistani Punjabi poet and a radio personality. He is widely recognized for his social commentary and is a respected figure in both Pakistani and Indian Punjab.

Academic & Professional Background

    Beyond his literary pursuits, Tabessum holds a significant role in academia. He serves as the Head of the Department of BS & ADC at the Government Graduate College of Commerce in Bahawalnagar, Punjab.


Education:

MS in Management Sciences: University of South Asia, Lahore.

MBA: Virtual University (VU) of Pakistan.

Master’s in Commerce: Bahauddin Zakariya University (BZU), Multan.

Literary Contributions

    Writing under his pen name, *Saghir Tabessum*, he has authored several works that highlight societal issues and cultural themes. His poetry has also been adapted into songs by various artists such as Sabir, Ramzan Jani, and many other Pakistani and Indian singers.


Published Works

Title

  •  قیدی سُفنے | *Qaidi Sufne* 
  •  جیوندیاں مردیاں آساں | *Jiundian Mardiyan Aasan* 
  •  اساں چُپ نہیں وٹنی دھرتی تے | *Asan Chup Nahi Watni Dharti te* 
  •  اک خیال سمندروں ڈونگھا | *Ek Khayal Sumndron Dongha* 
  •  کُونجاں وچھڑن والیاں نیں | *Kounjan Wichran Waliyan ne* 
  •  واہگیوں آر پار | *Wahgyon Aar Par* 


Awards and Recognition

    Tabessum’s impact on Punjabi literature has earned him numerous prestigious awards from both government, national and international literary bodies:

  • PILAC Award: Received four times (till January 2026) from the Punjab Institute of Language, Art, and Culture (Government of Pakistan).
  • Masud Khaddar Posh Award: A highly respected honor in Punjabi literature.
  • Waris Shah International Award: Recognizing his global contribution to the language.
  • Additional Honors: Baba Farid Adbi Award, World Punjabi Forum Award, and the Pak-British International Award.


In Depth

Saghir Tabassum
at Pak Tea House Lahore
on 6th Nov 2025
Picture by: Abdul Razzaq Qadri
    Saghir Tabassum is a contemporary Punjabi poet, researcher, and academic voice from Bahawalnagar whose work has steadily risen from regional literary circles to international recognition, especially after the viral spread of his long poem Urdū Bolan Vāliye Kuṛiye in 2024–25. Known for blending folk cadence with deep cultural reflection, Tabassum writes poetry that explores the emotional, historical, and linguistic identity of Punjab, while his research highlights the literary traditions of both the Eastern and Western Punjabi regions. Over the years he has authored an impressive body of work, beginning with Qaidī Sufne (2010), followed by Jiyūndiyān̲ Mardiyān̲ Āsān̲ (2018), the major critical study Asān̲ Chup Nahin̲ Vaṭnī Dhartī Te (2021), the cross-border Punjabi collaboration Wāhagioṅ Āra-Pāra (2023), and his celebrated 2024 publications including Urdū Bolan Vāliye Kuṛiye and Ik Khayāl Samandrūn̲ Ḍonghā. His books are widely catalogued in the Library of Congress and appear in university seminars, media discussions, and scholarly reviews, with critics like Anwar Masood and Zafar Iqbal acknowledging his contribution to modern Punjabi literature. Tabassum’s popularity surged when his lyrical, music-like long poem became a social-media sensation, pulling younger audiences toward Punjabi literature, while his academic work, awards such as the Masood Khaddarposh Award, and frequent appearances on platforms like Samaa Punjabi and Suno Punjab TV cement his reputation as one of the significant Punjabi poetic voices of his generation.


"Urdu Bolan Waliye Kuriye" is a contemporary epic-style Punjabi poem, which is a single book of 136 pages that celebrates the cultural, emotional, and linguistic relationship between Punjab and the Punjabi language.


The poem has been written in a lyrical, song-like flow, the poem addresses a symbolic “Urdu-speaking girl,” inviting her into the warmth of Punjabi expression and identity. It blends folk rhythm with modern sensibilities, making it deeply relatable for today’s readers and listeners. Saghir Tabassum, the poet behind this work, is a Punjabi writer, researcher, and poet known for his strong contributions to contemporary Punjabi literature. His writing is rooted in cultural history, language identity, and the literary traditions of Bahawalnagar and the broader Punjabi region.

بدھ، 27 اگست، 2025

دریائے راوی میں شدید سیلابی ریلا: لاہور اور گرد و نواح کے نشیبی علاقے خطرے میں

لاہور (عبدالرزاق قادری) :دریائے راوی میں ایک بڑا سیلابی ریلا داخل ہو چکا ہے جس کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

دنیا نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 240,000 سے زائد کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو کہ انتہائی بلند سطح ہے۔ جبکہ لاہور کے قریب شاہدرہ پر پانی کا بہاؤ تقریباً 72,000 کیوسک ہے اور پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ آج (27 اگست) کی رات ایک بڑا سیلابی ریلا شاہدرہ سے گزرے گا(دنیا نیوز)

روزنامہ پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق بھارتی تھین ڈیم سے 77,000 کیوسک پانی چھوڑا گیا جس کے بعد پاکستان میں دریائے راوی اور پنجاب کے کئی اضلاع میں ہائی فلڈ کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ (روزنامہ پاکستان)

متاثرہ اور خطرے کے علاقوں کی تفصیل

  • لاہور کے نشیبی علاقے: پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی، شاہدرہ اور موٹر وے 2 کے اطراف۔
    • واضح رہے کہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی، جو سیاستدان عبدالعلیم خان کی ملکیت ہے، راوی کے کنارے واقع ہے۔ یہاں ہزاروں افراد نے پلاٹ خرید رکھے ہیں جو اب سیلابی خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
  • نارووال و شکرگڑھ: شکرگڑھ کے قریب بھیکو چک حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں (دنیا نیوز)۔
  • قادر آباد ہیڈ ورکس: یہاں ڈھانچے کو بچانے کے لیے حفاظتی بند میں جان بوجھ کر شگاف ڈالا گیا تاکہ بڑے پیمانے پر تباہی سے بچا جا سکے (ایکسپریس نیوز)۔
  • دیگر اضلاع: قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، حافظ آباد اور نارووال میں فوج اور ریسکیو ٹیمیں انخلا اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں (دی ایکسپریس ٹریبیون)۔

ماہرین کی وارننگ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارشیں مزید جاری رہیں تو دریائے راوی کا یہ ریلا لاہور شہر کے مزید نشیبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو الرٹ رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

1. قادر آباد ہیڈ ورکس والی خبر (ایکسپریس نیوز)

  • یہ خبر دریائے چناب سے متعلق ہے۔
  • قادر آباد ہیڈ ورکس (Qadirabad Barrage) دراصل دریائے چناب پر واقع ہے، ضلع منڈی بہاؤالدین کے قریب۔ وہاں پانی کے دباؤ کو کنٹرول کرنے اور بیراج کو بچانے کے لیے حفاظتی بند میں شگاف ڈالا گیا تھا تاکہ زیادہ بڑا نقصان نہ ہو۔

2. دیگر اضلاع والی خبر (ایکسپریس ٹریبیون)

  • اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ فوج اور ریسکیو ٹیمیں پنجاب کے مختلف اضلاع (قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، حافظ آباد، نارووال) میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
  • یہ اضلاع مختلف دریاؤں سے متاثر ہیں:
    • دریائے راوی لاہور، نارووال کے اطراف میں خطرہ۔
    • دریائے ستلج بہاولنگر اور اوکاڑہ کے علاقے۔
    • دریائے چناب حافظ آباد اور جھنگ کے اطراف۔
  • قادر آباد ہیڈ ورکس دریائے چناب۔

🔗 سورسز:


 #RaviFlood #PunjabFloods #LahoreAlert #FloodUpdate #PakistanFloods #RiverRavi #DisasterResponse #FloodWarning #SaveLahore #RescueOperations

پیر، 5 مئی، 2025

Ajab Donia Ast En Donia - Urdu Translation

 

آرزو عیسیٰ - تاجک شاعر
(تصویر: ویکیپیڈیا از Bahromjalilov)
عجب دنیاست این دنیا
 کیا عجب دنیا ہے یہ دنیا بھی!


یکی بیچاره و تنها
ایک ہے بیچارہ اور تنہا

یکی لبتشنه در صحرا
ایک ہے پیاسا صحرا میں

یکی بیدرد و بیپروا
ایک ہے بے درد اور لاپروا

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی چون ماهی در شست
ایک ہے جیسے مچھلی کانٹے میں

یکی بیپول، یکی پولمست
ایک ہے مفلس، ایک ہے دولت میں مست

یکی بیپا، یکی بیدست
ایک کے پاس پاؤں نہیں، ایک کے ہاتھ نہیں

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی از آدمی دور است
ایک ہے انسانوں سے دور

ز ثروت مست و مغرور است
دولت سے مدہوش اور مغرور ہے

به فکرش از خدا زور است
اس کے خیال میں خدا پر بھی زور چلتا ہے

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی در قلب زندان است
ایک ہے جو قید خانے کے بیچ میں ہے

ز اعمالش پشیمان است
اپنے اعمال پر پشیمان ہے

دلش لبریز از ارمان است
دل اس کا ارمانوں سے لبریز ہے

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی از بچه بیزار است
ایک ہے جو بچوں سے بیزار ہے

یکی بر ناخنش زار است
ایک ہے جو اپنے ناخن پر زار ہے

به یاد بچهی بیمار است
وہ بیمار بچے کی یاد میں ہے

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی دور از وطن باشد
ایک ہے جو وطن سے دور ہے

چو گل دور از چمن باشد
جیسے پھول ہو چمن سے دور

که جان دو ز تن باشد
جیسے جان ہو جسم سے جدا

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی بیدین و ایمان است
ایک ہے جو دین و ایمان سے خالی ہے

و خدمتکارش شیطان است
اور وہ شیطان کا خدمتگار ہے

پی آزار انسان است
وہ انسانوں کو اذیت دینے کے پیچھے ہے

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی از عشق دیوانه
ایک ہے جو عشق میں دیوانہ ہے

میان مردم افسانه
لوگوں میں وہ ایک افسانہ ہے

یکی بیکوی و بیخانه
ایک ہے جس کا نہ کوئی گھر ہے نہ گلی

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!


یکی امید زن دارد
ایک کو بیوی کی امید ہے

یکی آب وطن دارد
ایک کو وطن کا پانی نصیب ہے

یکی فکر کفن دارد
ایک ہے جو اپنے کفن کی فکر میں ہے

عجب دنیاست این دنیا
کیا عجیب ہے یہ دنیا!




یکی در کودکی میرد
ایک ہے جو بچپن میں ہی مر جاتا ہے

ز جبر زندگی میرد
زندگی کے جبر سے مر جاتا ہے

یکی از گشنگی میرد

ایک بھوک کی وجہ سے مر جاتا ہے

عجب دنیاست این دنیا

کیا عجیب ہے یہ دنیا!



شاعر: آرزو عیسیٰ (تاجکستان)
گلوکار: میر مفتون (نے گایا ہے)۔ اُن سے پہلے بھی ایک گائیک (حسن حیدر) نے گایا تھا۔
اُردو پیشکش: عبدالرزاق قادری