‏Urdu Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Urdu Articles لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 26 جنوری، 2025

جوگ کتھا از سید اویس قرنی

 

جوگ کتھا
مصنف: سید اویس قرنی المعروف جوگی جادوگر
اشاعت: فروری 2025ء
پبلشر: ألقرون پبلشرز، لاہور
صفحات: 400
تبصرہ نگار: عبدالرزاق قادری
(ألقرون پبلشرز، لاہور00923454809757)
”جوگ کتھا“ سید اویس قرنی کی دوسری تصنیف ہے، جو ادب، فلسفہ، اور روحانیت کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ یہ کتاب قاری کو صرف ایک سفرنامہ ہی پیش نہیں کرتی بلکہ ایک فکری اور روحانی سفر پر بھی لے جاتی ہے۔ مصنف کی پہلی تصنیف ”طلسماتِ غالب“ کی غیر معمولی کامیابی کے بعد، ”جوگ کتھا“کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا، اور الحمدللہ! اب یہ کتاب فروری 2025ء سے  قارئین کی توقعات کے عین مطابق اعلیٰ پیپر پر مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
کتاب کا موضوع :
“جوگ کتھا” بظاہر ایک سفرنامہ ہے جو ٹلہ جوگیاں کے قدرتی، تاریخی، اور روحانی مناظر کا احاطہ کرتا ہے۔ لیکن اس کتاب کی گہرائی قاری کو فلسفیانہ اور روحانی جہتوں میں بھی لے جاتی ہے۔ مصنف نے اپنے سفر کے دوران پیش آنے والے مناظر، تجربات، اور مشاہدات کو ایسے ادبی اسلوب میں بیان کیا ہے کہ قاری خود کو اس سفر کا حصہ محسوس کرتا ہے۔”جوگ کتھا“ مصنف کے ضلع لودھراں کے نواحی قصبے دھنوٹ سے ٹلہ جوگیاں تک کے سفر پر مبنی ہے۔ اس سفر کے دوران، مصنف نے جوگ، جوگی، اور ٹلہ جوگیاں کے موضوعات پر تفصیلی بحث کی ہے۔ مزید برآں، راستے میں آنے والے شہروں کی تاریخ اور ان سے متعلق متنوع معلومات بھی پیش کی گئی ہیں۔مصنف نے پہاڑوں، جنگلوں، تالابوں، اور دیگر قدرتی مناظر کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا ہے، جس سے قاری قدرت کے قریب ہونے کا احساس کرتا ہے۔
 ادبی اور فلسفیانہ رنگ:
مصنف نے علامہ اقبال، غالب، اور دیگر شعراء و فلاسفہ کے حوالوں سے کتاب کو ایک ادبی شاہکار بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ نکات قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔کتاب میں جا بجا، اُردو، فارسی پنجابی، سرائیکی و دیگر زبانوں کے شعر یا اقتباسات سے مُختلف رنگ بکھیرے گئے ہیں، مصنّف کا کمال یہ ہے کہ آپ کسی بات پر پہلے کلام کرتے ہیں پھر دلائل پیش کرتے ہیں اور پھر اُن دلائل کو تقویت دینے کے قُرآن مجید کی آیات،حدیث پاک کے فرامین یا کسی دوسرے مستند ذریعے سے اُن کی حقّانیت کو واضح کرتے ہیں پھر اِن حوالہ جات کے بعد دوبارہ دلائل کے سلسلے کا آغاز، بعض مقامات پر بہت سے ”مُنہ بولے“ محققین کا قبلہ درست کرتے ہوئے ایک کرارا سا جملہ پیش کرتے ہیں اور آگے نکل جاتے ہیں پھر دلائل و براہین کا انبار لگاتے ہیں، جیسا کہ دھنوٹ شہر کی وجۂِ تسمیہ پر ایک صاحب کی تحقیق کو مُنہ کے بل گراتے ہیں جبکہ دوسرے محقق کی خطا کو خطا ہی قرار دیتے ہیں، اِسی طرح موئن جو دڑّو کے ہم عصر شہروں کی تحقیق میں سرجان مارشل سے ہونے والی خطاؤں کا نوٹس زیادہ سختی سے نہیں لیتے بلکہ اُن کی خطا کو پیش کر کے نظر انداز کرکے اپنی ہاکڑہ تہذیب والی تحقیق کو بالمقابل پیش کرتے ہیں اور ڈاکٹررفیق مغل کی تحقیق کو سلام پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ بعض مقامات پر مصنّف قدیم زمانے کے مشاہیر کے متعلق معلومات کی کمیابی کے باعث ایک نرم گوشہ پیش کرتے ہوئے اُن کے امکانات کو قبول کرتے ہوئے ان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، اور دیگر محققین کے لئے تحقیق کا راستہ کُھلا چھوڑ دیتے ہیں۔
 روحانی تجربات:
“جوگ کتھا” کا ہر صفحہ مصنف کی روحانی جستجو اور باطنی تجربات کی گواہی دیتا ہے۔ مصنف نے مراقبہ، جوگ، اور انسانی روح کی گہرائیوں کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
 تاریخی پس منظر:
سفر کے دوران شہروں کا تذکرہ: سفر کے دوران، مصنف مختلف شہروں سے گزرتے ہیں اور ان کی معلوم تاریخ کی تفصیلات کی بہت سی جزئیات، ثقافت، اور اہم واقعات و شخصیات کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ حصے قاری کو پاکستان کے مختلف علاقوں کی تاریخ اور ثقافت سے متعارف کراتے ہیں۔مصنف نے ٹلہ جوگیاں کے تاریخی اور مذہبی پہلوؤں کو بھی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ اس مقام کی اہمیت، ماضی کی روایات، اور تاریخی واقعات کو دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
 زبان اور اندازِ بیان:
کتاب کی زبان سادہ، مگر ادبی ہے۔ تشبیہات، استعارے، اور محاوروں کا خوبصورت استعمال قاری کو کتاب کے ساتھ باندھے رکھتا ہے۔سید اویس قرنی نے کتاب کے اکثر حصوں میں بذلہ سنجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت سے نئے محاورات وضع کیے ہیں اور اُن میں مختلف زبانوں کو مجتمع کر کے ایک نئی لغت بھی ترتیب دی ہے، جو لوگ خصوصاً اُردو ادب کا ایک وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور تسلسل کے ساتھ جوگی جادوگر کی تحاریر پڑھنے کے عادی ہیں، انہیں  گزشتہ کتاب کی طرح اس کتاب میں بھی نہایت دلچسپ چاشنی دیکھنے کو ملے گی، عموماً ایک فن کار یا تخلیق کار کا پہلا فن پارہ اگر کامیابی سے ہمکنار ہو جائے تو دوسری تخلیق میں بودا پن دَر آتا ہے، جبکہ یہاں مصنف کی دوسری کتاب میں نہ تو یکسانیت کی تکرار ہے، اور نہ ہی تخلیق میں ایسا پھیکا پن ہے کہ قارئین اُکتاہٹ کا شکار ہو جائیں۔
تفصیلی جائزہ
کتاب کا موضوع چونکہ ہندوستان میں ازمنۂِ قدیم سے انسان کی روحانی جبلت کی تسکین کے لئے جن ناموَر ہستیوں نے مختلف انداز میں تربیتی نصاب وضع کیے اورمقامی زبانوں میں لوگوں کی رہنمائی فرمائی، اُن کی تاریخ اورقدیم کُتب سے دستیاب معلومات کی روشنی میں جانچا پرکھا گیا ہے۔”جوگ کتھا“ نہ صرف فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے دلچسپ ہے بلکہ ان قارئین کے لیے بھی اہم ہے جو فلسفہ، روحانیت، اور زندگی کی گہری معنویت کو سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ کتاب ایک ایسی دعوت ہے جو قاری کو اپنی ذات کی دریافت کے سفر پر لے جاتی ہے۔ ”جوگ کتھا“ ایک غیر معمولی تصنیف ہے جو ادب، تاریخ، فلسفہ، اور روحانیت کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ یہ کتاب صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ محسوس کرنے کے لیے ہے۔ قاری کو یوں لگتا ہے جیسے وہ خود ٹلہ جوگیاں کی پگڈنڈیوں پر چل رہا ہو، قدرت کے حسین مناظر دیکھ رہا ہو، اور روحانی سکون حاصل کر رہا ہو۔
”جوگ کتھا“ سید اویس قرنی کی ایک ایسی تصنیف ہے جو قاری کو ایک نئے فکری سفر پر لے جاتی ہے۔ یہ کتاب یقیناً ادب اور روحانیت کے دلدادہ افراد کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے۔ یہ نہ صرف لائبریری کا حصہ بننے کے لائق ہے بلکہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو زندگی کے گہرے رازوں کو سمجھنا چاہتا ہے۔اِس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک باشعور قاری کا ذہن کہتا ہے کہ اُردو دان طبقے میں ہر مکتبِ فکر اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کو بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے اپنے قلوب و اذہان کووسیع المشربی سے روشناس کرانے کے لئے ”جوگ کتھا“ کامطالعہ کریں اور اپنے درونِ خانہ میں پوشیدہ جوگی کو دریافت کریں کہ جوگ کسی خاص مذہب کے ساتھ لاحق ایک عمل یا طرز نہیں بلکہ ایک آفاقی فلسفہ ہے، جو آپ کو اپنا مذہب چھوڑنے کا نہیں کہتا اور دیگر مذاہب کے بانیان کی کھوج لگانے کی جوت آپ کے من میں جگاتا ہے کہ ممکن ہے کہ بہت سے غیر سامی مذاہب کے رہنما بھی اُسی خدا کے فرستادے تھے جسے مسلمان یا سامی مذاہب کے ماننے والے اپنا رب کہتے ہیں، حالانکہ وہ رب العٰلمین ہے۔

ہفتہ، 17 اگست، 2019

فی سبیل اللہ فساد۔۔۔ تحریر: عبدالرزاق قادری

میں ایک طویل عرصہ سے کچھ کہنا چھوڑ ہی چکا تھا، آج ایک حضرت صاحب کی ٹائم لائن سے دوسرے اور پھر آگے سے آگے دیکھتا گیا، وہ سارے مولوی صاحبان، علامہ خادم رضوی کی سربراہی میں جہادِ کشمیر لڑرہے تھے اور پاکستانی حکومت و افواج کے خلاف محاذ کھولے بیٹھے تھے، مجھے اعتراف ہے کہ میں بھی حکومت کا ناقد اور کسی حد تک ہمارے نااہل اداروں پر بھی تنقید کرتا ہوں، لیکن میں پاک فوج یا ملکِ پاکستان کا مخالف یا دُشمن ہرگز کبھی نہیں رہا، لیکن ان فی سبیل اللہ فساد والے مولویوں کے طرزِ تخاطب سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ نعوذباللہ شاید نبی کریم ﷺ نے بھی ”دوسروں“ پر قتال محض اپنے اقتدار وغیرہ کے لیے تھا۔ نعوذ باللہ من ذٰلک۔ اِن مولویوں میں سے کتنے لوگ دیانت دار ہیں یہ کون جانتا ہے، ہم تو کسی حد تک اِن کی قبیل سے ہیں، جو کام اِن کے ذمہ ہیں وہ جانے کون کرے گا، جبکہ جو فرائض کسی دوسرے کے ہیں اُن کے متعلق شور مچاتے رہتے ہیں، آج تک مساجد میں دس ہزار روپے تنخواہ تو کروا نہیں پائے (بعض جدید مساجد میں بیس سے پچیس ہزار مل جاتی ہے، لیکن اکثریت کا حصہ بڑے بڑے جثے والے قائدین کھا جاتے ہیں)۔ ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ یہ سارے مولوی اہلِ سنت ہیں، کوئی وہابی یا دیوبندی ٹائپ نہیں، جنہیں کل تک ہم دہشتگرد کہتے تھے کہ وہ ہماری مساجد پر حملے کرنے والوں کا دفاع کرتے تھے، آج یہ اہلِ سنت (بریلوی) بھی خود کو دہشت گرد دہشتگرد قرار دے ہیں۔ انہیں اس بات کا خدشہ کیوں ہے کہ حکومت انہیں دہشتگرد قرار دے گی؟
اگر کوئی ریاست کے خلاف کسی غیر قانونی کارروائی میں متشددانہ ذہنیت کے ساتھ مسلسل ملوث ہوگا تو اُسے ریاست دہشتگرد قرار دے گی، خواہ وہ بریلوی ہو یا پھر شیعہ۔ وہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہوگا تو اُسے بھی اسی زمرے میں رکھا جائے گا۔
اب رہ گئی بات کہ کشمیر میں ظُلم ہو رہا ہے، تو کیا یہ ظلم عمران خان یا پاک فوج کروا رہی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔
دوسری بات کہ، ہر ذی شعور مسلمان کیا، دُنیا بھر کے سلیم الفطرت انسانوں میں اس ظلم کی کی وجہ سے بے چینی پائی جاتی ہے، جس کا اظہار دُنیا بھر میں کیا جا رہا ہے۔
یہ جاہل مولویوں کا ٹولہ، جہاد، جہاد کہہ رہا ہے۔ کیا کبھی جہاد بند بھی ہوا ہے۔ ان بے خبروں کو یہاں تک معلوم نہیں کہ قتال کی بات کرنی ہے یا جہاد کی! اگر قتال کی بات ہے تو علامہ غلام رسول صاحب سعیدی کا قول برحق ہے کہ اپنی آزادی کے لیے لڑنے والے فریڈم فائٹر ہوتے ہیں، اُنہیں دہشتگرد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن کبھی قتال کی شرائط کا بھی مطالعہ فرمالیں کہ وہ کب شروع کرنا چاہیے، اگر شرائط مکمل ہیں تو پاک فوج اور عمران خان کو آگاہ کریں، آپ نے تو ان شرائط کا مطالعہ کر رکھا ہوگا۔
رہا یہ مسئلہ کہ کیا آج بھارت اس قدر طاقتور ہو چکا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کشمیر میں دندناتا پھرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پچھلی سات دہائیوں میں اقوامِ عالم کے سامنے اپنا مدعا رکھنے کے لیے آپ کے سفیروں نے کیا کِیا۔ محض اپنے بچے بیرونِ ملک منتقل کر کے انہیں وہاں کا مستقل رہائشی بنایا! ویسے بہت سے اسلام کے نام لیوا مولویوں نے بھی اسی طرح کی حرکتیں کی ہیں اور پاکستان میں امریکہ شمریکہ کے خلاف جہاد کا درس دیا ہے۔ یہ منافقانہ رویے ہیں۔ پاکستان میں، لاہور میں، کراچی میں، ملتان میں اور دیگر تقریباً تمام علاقوں میں ”مسلمان“ کہلوانے والے بڑے بڑے غنڈے اور درندے عوام الناس کی سانسوں تک، پر حکومت کرتے ہیں اور اُن کا خون پی جاتے ہیں۔ مولویوں نے اُن کے خلاف کیا کِیا۔ سیاسی جماعتوں کے ووٹ انہی غنڈوں کے مرہونِ منت ہوتے ہیں، یہ مولوی لوگ اُن کے ساتھ ایک سٹیج پر جا کر بیٹھتے ہیں اور محافلِ میلاد ہوتی ہیں۔ یہ کس غیرت کی بات کررہے ہیں، جب یہاں لاہور میں (میں اُس وقت ڈاکٹر طاہرالقادری کا ناقد تھا، میرے دوست اس کے گواہ ہیں) جامعہ منہاج القرآن پر گورنمنٹ کے ریاستی دہشتگردوں نے حملہ کیا تو اِن مولویوں نے کیا کیا، میں بتاتا ہوں، 17 اگست 2014ء کو ایک پرویز رشید ہوتا تھا، اُس نے فلسطین کا جھنڈا گلے میں ڈالا تو ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے بھی فلسطین کے حق میں احتجاج کیا، کیا ڈاکٹر صاحب کو لاہور میں بنا ہوا غزہ نظر نہیں آرہا تھا (یاد رہے اُس وقت خادم رضوی گروپ علیحدہ نہیں ہوا تھا، وہ اور جلالی صاحب یک زبان ہوتے تھے)۔
اب دیکھتے ہیں کہ آج خادم صاحب کے ماننے والوں کو ”دہشتگرد“ قرار دئیے جانے کا خدشہ کیوں ہے؟ کیونکہ خادم صاحب کوئی ایک دہائی قبل یعنی تقریباً دس سال پہلے امریکی ایجنسیوں کی پروردہ ”حزب التحریر“ کے ہاتھوں میں کھیل چکے ہیں، یہ دُنیا کی سب سے سخت ترین خوارجی جماعت ہے، یہ داعش سے بھی چار قدم آگے کی چیز ہے، لہٰذا میں اپنے تجزیے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ خادم صاحب ایک خوارجی گروہ کے نمائندہ بن چکے ہیں، اب اگر ان کے ماننے والے مسلمانوں ہی کو کافر قرار دے کر قتل کرنا جائز قرار دے دیں تو کچھ حیرت کی بات نہ ہوگی۔16 اگست 2019ء

جمعرات، 30 اگست، 2018

فیضان عباس نقوی --- لاہور کا کھوجی

تحریر: عبدالرزاق قادری
اگست 24، 2017ء
کچھ لوگوں کی متنوع مصروفیات اور تخلیقات دیکھ کر انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے اور یہ تسلیم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ واقعی ایک آدمی اس قدر مختلف شعبوں میں کثیر اثاثہ چھوڑ سکتا ہے تاریخ اور مذہب دو علیحدہ علیحدہ موضوعات ہیں پھر ایک سے زائد مذاہب اور تواریخ ذیلی شاخیں ہیں تہذیب و تمدن، ثقافت، زبان اور تحقیقات بھی بظاہر اپنی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں تاہم ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن انتہائی قلیل عرصے میں اور نوجوانی کی عمر میں ان ادق موضوعات پر مغز ماری کرنے کی کسے فرصت ہے کیونکہ یہ عمر کا وہ حصہ ہے جس میں لوگ آئیڈلزم کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی زندگی کو سنوارنے اور حصولِ روزگار کے لئے مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں
اس سب کے باوجود ایسے محنتی اور جفاکش لوگوں سے ابھی زمانہ خالی نہیں ہوا جو ہمہ وقت کسی کھوج میں سرگرداں رہتے ہیں اور تحقیقات کی دُنیا میں مگن رہتے ہیں ساتھ ساتھ غمِ روزگار کو بھی نبھاتے چلے جاتے ہیں فیضان عباس نقوی المعروف "لاہور کا کھوجی" بھی ایسے ہی باکمال لوگوں میں سے ایک ہے
اُن سے پہلا تعارف ماہنامہ نوائے منزل لاہور کے دفتر میں ہوا نجانے کامران اختر اُنہیں کہاں سے ڈھونڈ کر لائے تھے تب سے اُن کے ساتھ ہیلو ہائے ہے پہلے پہل تو انہوں نے مجھے ایک مولوی سمجھا اور قدرے فاصلہ قائم رکھا مجھے بھی تحفظات تھے کہ دوسرے فرقے کا بندہ ہے جانے کیسے اخلاق کا مالک ہوگا لیکن اس پانچ سال کی مدت میں نوائے منزل کی ٹیم میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد میں کبھی باہمی بد کلامی در نہیں آئی بلکہ کھوجی صاحب سے قبل بھی اس ادارے میں کئی نظریات کے حامل لوگ تھے پھر بھی معاملات خوش اسلوبی سے طے پاتے رہے، بہرحال بات ہو رہی تھی فیضان کھوجی کی! تو میں اس کثیر الجہت محقق کی کھوج پر ورطہ حیرت میں گم ہوں کہ یہ کیسے اتنے دور دراز علاقوں کے اسفار کرکے مسجدوں، مزاروں، مندروں ، گردواروں اور تاریخی عمارات کو ڈھونڈ نکالتے ہیں کسی تعلیمی ادارے میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے ہیں اور کیمرہ پکڑ کر سیر کے لیے بھی نکل پڑتے ہیں
پھر قلم کا سہارا لیتے ہیں اور تحقیق کر کے کتابیں لکھنے بیٹھ جاتے ہیں کئی میگزین میں بھی مضامین شایع کرتے ہیں اور بعض کی ادارت بھی سنبھالے ہوئے ہیں لاہور شناسی فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام پمفلٹ، پوسٹر شایع اور مظاہرے بھی کرتے ہیں میں ذاتی طور پر ان کی سرگرمیوں کی تعداد اور رفتار سے حیران ہوں انہوں نے فقہ جعفریہ کے کئی اکابرین پر کتابچے چھاپنے کے علاوہ گزشتہ برس سکھوں کے اکابرین پر بھی ایک کتاب لکھی  تھی جس کا عنوان "لاہور میں گرو ارجن دیو جی یادگاروں" تھا اس کتاب کا کینیڈا میں انگریزی اور بھارتی پنجاب میں گرومکھی زبان ترجمہ ہو رہا ہے گزشتہ دنوں انہیں بھارت کی کسی ادبی تنظیم نے گولڈ میڈل سے بھی نوازا ہے
کبھی کبھی مجلہ لاہور شناسی چھاپ کر لے آتے ہیں اور انہوں نے گزشتہ تین سال سے ماہنامہ نوائے منزل کی ادارت سنبھال رکھی ہے اس سے پہلے کامران نے مجھے حکم دیا تھا جبکہ میں اس ذمہ داری کو نبھانے سے بوجوہ قاصر تھا تو پھر کھوجی صاحب ہی اس لیے سب سے بہترین انتخاب تھے اور انہوں نے اسے نہایت تندہی سے سر انجام دیا ہے، بلکہ ان کی ادارت میں قارئین نے رسالے کو پہلے سے زیادہ پسند کیا ہے مزید سراہا ہے
اس برس جب جنوری میں کامران صاحب آئے تھے تو کھوجی صاحب کے تعاون سے ادارہ ہست و نیست میں نہایت تزک و احتشام سے تقسیمِ ایوارڈز کی تقریب منعقد کی، یہ ایک کامیاب پروگرام تھا جس کی ترتیب اور ماحول سے میں بذاتِ خود متاثر ہوا
ایک بار اُنہوں نے نوائے منزل کو چھاپنے کے پراسیس کو بیان کرتے ہوئے درج ذیل کلمات ارشاد فرمائے،
”سب سے پہلے موجودہ ماہ کی مناسبت سے مضامین کی فراہمی کرنا۔ سب مضامین جمع کرنا اور کچھ مضامین کی کمپوزنگ کروانا، پھر ان کی غلطیاں خود لگانا، ان کو قابل اشاعت بنانے کے لئے املاء کو درست کرنا اور ان سے متعلقہ تصاویر جمع کرنا۔ اس کے بعد تمام مسودے کو ایک جگہ جمع کر کے تیار کرنا، کسی خاص شخصیت کا انٹرویو کرنے کے لیے ٹائم لینا اور وقت مقررہ پر پہنچ کر انٹرویو کرنا اور پھر ایک ایک جملہ سن کر لکھنا اور پھر اس کی کمپوزنگ کرنا۔ اسی طرح ہر مضمون کے ساتھ متعلقہ تصاویر۔ اس کے بعد ڈیزائنر سے وقت لیکر کاپی جڑوانے کا مرحلہ کم از کم 3 دن میں طے ہوتا ہے۔ تین دن کا آنا جانا وقت دینا وہ بھی اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں سے، سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ پھر ٹریسنگ کا حصول اور پیسٹنگ کا مرحلہ اور پھر پلیٹیں لگوانا، کاغذ کی خریداری اور پرنٹنگ پریس تک سب کچھ پہنچانا اور 3 دن بعد اخبار کے بنڈل اٹھانا اور اس کو پوسٹ میں بھیجنے کا تکلیف دہ مرحلہ، ایڈریس لگانا، اخبار کو پیک کرنا اور ڈاک کے حوالے کرنا ایک طویل سفر ہیں جو ہر ماہ بنا کسی معاوضے یا کسی عہدے کی طلب سے کرنا ہوتا ہے۔ “
یہ وہ مراحل یا ذمہ داریاں ہیں جو فیضان صاحب ہر ماہ ماہنامہ نوائے منزل کے لئے نبھاتے ہیں دیگر تمام اراکین گھر بیٹھے اس کا مطالعہ کرنے کا لُطف اٹھاتے ہیں مُجھے ورطۂ حیرت میں ڈالنے کے یہی کافی تھا لیکن اس کے علاوہ مختلف شعبہ جات میں ان کی جو مصروفیات ہیں وہ قابلِ تحسین ہیں خصوصاً مختلف شہروں سے کئی یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات آثارِ قدیمہ اور تاریخی تحقیقات میں فیضان صاحب سے رہنمائی لیتے ہیں اور ایم۔اے یا ایم۔فِل وغیرہ کے لیے اپنے مقالہ جات ترتیب دیتے ہیں اور اس میں بھی اہم بات یہ کہ کھوجی صاحب یہ فریضہ بھی صرف ایک کارِ خیر سمجھ کر ادا کر رہے ہیں جبکہ ان طلباء سے کوئی فیس وغیرہ نہیں لیتے۔
میں اپنے مضمون کے آخر میں کامران صاحب کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ اُنہیں اس قدر مخلص اور محنتی دوست میسر آیا ہے جس نے کبھی اراکین اور قارئین کو چیف ایڈیٹر کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا اور اپنے ساتھی لکھاریوں اور نوائے منزل کے قارئین سے بھی التماس کرتا ہوں کہ ایسے بے لوث محسنوں کی قدر فرمائیں۔
٭ نوٹ: یہ تحریر ایک سال قبل لکھی گئی لیکن کھوجی صاحب نے اسے نوائے منزل میں نہیں چھاپا، گزشتہ روز ان کی کتاب ”نواب وزیر خان اور ان کی یادگاریں“ کی تقریبِ رونمائی میں دوستوں کو اظہارِ خیال کا موقع ملا اور پھر بعد ظفر علی راجہ نے نوائے وقت میں ان کے متعلق ایک آرٹیکل لکھ مارا، میں نے سوچا کہ میں بھی یہ پرانی تحریر یہاں شائع کر دوں۔

منگل، 26 ستمبر، 2017

کینولہ، کسان اور زراعت

===== کینولہ کانفرنس =====
آج وہاڑی میں کینولہ کی کاشت آگاہی کی کانفرنس ہےجو اب تک تھی کا درجہ حاصل کر چکی ہوگی، بہت سے کسان اپنے خرچے پر آئے ہونگےکافی باتیں کی گئی ہوں گی ، پنجاب کے وزیرِ زراعت بھی موجود ہونگے اور زراعت کا عملہ بھی موجود ہوگا، چادر یعنی مجھلی والے کسان پچھلی نشستوں پر ہونگے ، شلوار قمیض والے کسان ان سے اگلی صف پر ہونگے ، ان سے آگے ڈیلر صاحبان تشریف فرما ہونگے ، اگلی صف پر ویسٹ کوٹ پہنے لوگ بیٹھے ہونگے اور سٹیج پینٹ کوٹ والے لوگوں کی جلوہ گاہ ہوگا۔ مجھے دعوت تھی کہ میں کینولا کے بارے میں کسانوں کو آگاہ کروں ، اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو کینولہ کے ابتدائی کاشت کاروں میں سے میں ایک کاشت کار ہوں جس نے طریقہ کاشت تک کمپنی کو سمجھایا جس سے کینولہ کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائی جا سکتی ہےابتدائی دنوں میں آئی سی آئی کے فیلڈ ماہرین نے کینولہ کو کھیلوں پر کاشت کرنے سے منع کیا تھامگر میں نے کھیلوں پر کاشت کرکے زیادہ پیداوار لے کر ماہرین پر ثابت کیا تھا کہ کتاب کا علم ذہن تک ہے جب تک کسی بھی علم کو پانچوں حواس سے استعمال نہ کیا جائے اس کا فیض جاری نہیں ہوتا یعنی تجربہ علم پر حاوی ہے، دوسری وجہ یہ تھی کہ مجھے تھوڑا بہت بولنا آتا ہےبولنا بھی کیا کہ یہاں سچ بولا ہی نہیں جا سکتا آپ بس یوں سمجھیے کہ مجھے مجمع لگانا آتا ہے، اپنی تقریری زندگی میں میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگ سچ سننا ہی نہیں چاہتے بلکہ باتوں کا تڑکا سننا چاہتے ہیں جسے تعلی یا مبالغہ کہا جا سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ زراعت کو اجاڑنے میں حکمرانوں کا بہت بڑا ہاتھ ہےجب ہم حکمران کی بات کرتے ہیں تو یاد رہے ایک سپاہی سے لے کر صدرِ پاکستان تک سب حکمران ہیں یعنی محکمہ زراعت کے فیلڈ اسسٹنٹ سے لے کر وزیراعظم پاکستان تک سب حکمران ہیں، یہ بات غالباً 2004 کی ہے جب پہلی بار کینولہ کاشت کیا گیا تھا ، اس کے بے شمار فائیدے ہوئے ، اکتوبر میں کاشت ہونے والی یہ فصل تین پانیوں کی فصل ہے اور بہت کم کھاد وغیرہ پر زیادہ آمدنی والی فصل ہے مجھے یاد ہے تب 2950 روپے یا 2850 روپے کے مجموعی ریٹ پر کینولہ فروخت کیا تھا ، کم دورانیے کی وجہ سے کپاس کی فصل کی کاشت بھی جلدی ہو جاتی تھی اگیتی کاشت کی وجہ سے کپاس کی فصل جو کینولہ کے کھیت کے بعد اسی رقبے میں لگائی جاتی تھی کی آمدنی بھی نسبتاً زیادہ ہوتی تھی، دیکھا دیکھی کینولہ دیگر کاشت کاروں نے بھی کاشت کرنا شروع کر دیا اور یوں ربیع اور خریف کی فصلیں زبردست منافع والی فصلیں بن گئیں پھر 2008 آیا مشرف صاحب گئے جمہوری حکومت آئی تب بھی یہ فصلیں لہلاتی ہوئی ہوتی تھیں2009 بہت شاندار رہا پیداوار کے حساب سے بھی اور نرخ کے حساب سے بھی ، مگر بعد میں کینولہ آہستہ آہستہ کم آمدنی والا ہوتا گیافی ایکڑ پیداوار کم ہوتی چلی گئی جسے موسم کے تغیر و تبدل کے سر تھوپ دیا جاتا رہاحتیٰ کہ 30 من فی ایکڑ پیداوار والا کینولہ 10 من تک رہ گیا اور ریٹ سکڑ کر 2200 تک آگیاجبکہ اسی دوران ڈیزل مہنگا ہوا بجلی مہنگی ہوئی ٹریکٹر مہنگا ہوا کھادیں مہنگی ہوئیں مارکیٹ میں ہر چیز مہنگی ہوئی مگر کینولہ ، کپاس ، آلو ، گنا وغیرہ پیداوار میں بھی کم ہوئے اور ریٹ بھی کم ہوئے، اب اس کا ذمے دار کون ہے مارکیٹ یا حکومت۔
ہمارے ہاں آج تک سورج مکھی ، کینولہ ، آلو اور بہت سی سبزیوں کے بیج امپورٹ کیے جاتے ہیں یعنی ہائبرڈ سیڈ ٹیکنالوجی نہ ہونے کے برابر ہے اور ہمارے امپورٹرز ملک سے زیادہ اپنی املاک سے مخلص ہیں جب کسی چیز کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے تو اس میں ملاوٹ شروع ہو جاتی ہے یہی حال کینولہ کے بیج کے ساتھ بھی ہوا آئی سی آئی سے خریدا گیا بیج بھی اپنے اندر وہ طاقت نہیں رکھتا تھا جو کبھی ماضی میں پیداواری صلاحیت والا بیج ملتا تھا، کینولہ کی کاشت کا ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ بیج سفارش سے لینا پڑتا تھا ۔
آج وہاڑی میں آئی سی آئی نے کینولہ کی کاشت کی ورکشاپ کی تھی کینولہ جو 30 من فی ایکڑ پیداوار سے کم ہو کر 8 من فی ایکڑ تک رہ گیا ہے اور لوگوں نے کاشت کرنا چھوڑ دیا ہےاب نہ کوئی سفارش سے بیج حاصل کرتا ہے اور نہ کسی کے پاس کینولہ کے بعد کاشت ہونے والی کپاس کو کاشت کرنے کی ہمت ہے، کسان اپنی بھوک کے باعث بحریہ ٹاؤن اور ڈیفنس میں بننے والے گھروں کی اینٹیں ڈھو رہا ہے ، زرعی زمینیں اجڑ کر کالونیاں بن رہی ہیں اور رہی سہی مٹی اینٹوں کے کام آ رہی ہے ، اسوقت ہمارا ملک آب و ہوا کی آلودگی کا شکار ہے اور فصل نہ ہونے کی وجہ سے کسان اپنے رقبے میں لگے درخت بیچ رہے ہیں جو فرنیچر اور جلانے کے کام آ رہے ہیں ، بجلی کی کمی کے باعث بہت سے کارخانے لکڑی جلا کر چلائے جا رہے ہیں جس سے آلودگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، آپ ملتان جائیں کبھی سینکڑوں ایکڑوں پر پھیلے آم کے باغات کٹ چکے ہیں اور ڈیفنس بن چکا ہے بہت اچھی رہائشی سوسائٹی ہے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے انمول تحفہ مگر وہ کس آب وہوا میں سانس لیں گے جو تب تک زہر سے بھر چکی ہوگی کیونکہ ہم سڑک چوڑی کرنے کے لیے درخت کاٹتے ہیں گھر بنانے کے لیے درخت کاٹتے ہیں ، فیکٹری چلانے کے لیے درخت کاٹتے ہیں درخت کیا کاٹے گویا اپنے سانس کاٹے۔
کچھ ایسی ہی تقریر میں نے کرنی تھی جسے نہ کرنے کا فیصلہ کر کے میں نے خود کو حکومت دوست ثابت کر دیا ہےکیونکہ حکومت نے کسان کے بارے پالیسیاں بنانے میں کبھی کسان کو تو شامل ہی نہیں کیا اب یہ مت کہیے گا کہ وزیرِ زراعت بھی کسان ہے وزیرِ زراعت تو اول آخر کسان ہے پر اس کا سیکرٹری کسان نہیں ہے اور کرنا سب کچھ سیکرٹری نے ہے، سیکرٹری جو کہ اصل میں وزیر کا جواب دہ ہے پر ہے نہیں، دیکھیے آپ سب کہتے ہیں طاقت کے زور پر ووٹ لیا جاتا ہے تو پھر ووٹ کی طاقت کیا بلا ہےیہ میں نہیں سمجھ سکا۔
کالم نگار سیاست درست کر رہے ہیں گویوں کی طرح راگ درباری ایجاد کر رہے ہیں تان سین نے تو شرط رکھی تھی کہ بادشاہ سلامت یہ راگ آپ کی فرمائش پر بنایا گیا ہے لہٰذا اسے آپ تخت سے اتر کر میرے پاس بیٹھ کر سنیں گےنئے تان سین اس شرط کے بغیر اونچی اور دھیمی سروں والے راگ اپنے اپنے حکمران کو سنا رہے ہیں اور بدلے میں سانس کٹتے جا رہے ہیں زراعت کا اجڑنا سانسوں کا اجڑنا ہے کیونکہ ہر پودا ہر درخت ہمیں آکسیجن دیتا ہےپودے ہو نہیں رہے اور درخت کٹ رہے ہیں
ندیم بھابھہ

منگل، 3 جنوری، 2017

Rahmat DawaKhana: A Mental Rehabilitation Center

رحمت دواخانہ ۔۔۔ ایک گوشۂ عافیت

عبدالرزاق قادری
آج ایک طویل عرصے کے بعد قلم کو اپنے خیالات سمیٹنے کے لیے اٹھایا ہے مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک نئی زندگی عطا کی ہے جس کے لیے میں اُس پاک ذات کا بے حد شکر گزار ہوں اور ساتھ ساتھ حکیم اعجاز حسین کا بہت بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرا جسمانی، اعصابی اور نفسیاتی علاج کیا تو میں زندگی کی طرف واپس چلا آیا۔پچھلے سال (2015ء) کے آخر سے میرے خیالات کو مسلسل پڑھنے والے جانتے ہوں گے کہ اُن میں سے مایوسی جھلکنے لگی تھی لہٰذا میں زندگی سے مایوس ہو چکا تھا۔سن 2011 تک مجھے بچپن سے دائمی ”کیرا “لاحق تھا یہ بلغم بار بار تھوکتے رہنے کی ایک بیماری ہے مریض سمجھتا ہے کہ اس کے تالو کے ساتھ کوئی چیز چمٹی ہوئی ہے۔

کسی کو بِن مانگے مشورہ دینا عجیب سا کام ہے لیکن مجھے ایک صاحب (جنابِ محسن) نے 2011ء کے اواخر میں ایک مشورہ دیا تھا کہ آپ ایک دوا ”اطریفل اُسطوخودوس“ استعمال کریں۔ یہ ایک ہربل دوا ہے جو کہ طلباء و اساتذہ اور ذہنی کام کرنے والوں کے لیے ازحد مفید ہے اور بے ضرر ہے، مجھے اس دوا کے ساتھ ذہنی مضبوطی کا اچھا تجربہ ہوا پھر میں نے دوسرے احباب کو بھی یہ دوا تجویز کی ۔گزشتہ برس کے آغاز سے ہی مجھے منہ میں اور زبان پر زخموں کی بیماری لاحق ہو گئی جو اکتوبر میں جا کر شدت اختیار کر گئی اعصابی کمزوری انتہا کو پہنچ گئی اور میں کئی روز سبق نہ پڑھا پایا۔ میں نے محسن صاحب کو کال کر کے بمشکل بول کر اپنی زبان کے زخموں کے متعلق بتایا تو انہوں نے حکیم اعجاز حسین کے مطب کا پتہ بتا دیا۔

یہ چوبیس اکتوبر تھا حکیم صاحب کی ہربل میڈیسن  زُود اثر تھی اور مجھے پانچ دنوں میں افاقہ ہو گیا لیکن مسئلے کی جڑ معدے کی تیزابیت تھی جو کہ جڑ سے ختم نہ ہو پائی اس کی شاید کئی وجوہات تھیں مجھے  شدید اعصابی کمزوری رہی ہے ساتھ ساتھ یہ معاملہ بھی تھا کہ میں پانی بہت زیادہ پیتا تھا  اور کھانا برائے نام کھاتا تھا یا پھر  ڈیڑھ دو دن کے بعد ہلکی پھلکی کوئی چیز کھا لیتا۔ دریں اثناء حکیم صاحب نےمعدے کی تیزابیت کے خاتمے کے لئے میڈیسن تبدیل کرکے مجھے استعمال کرائی تو یوں لگا جیسےمیرے جسم کی ”اوور ہالنگ“ شروع ہوگئی اور زبان ایک بار پھر پک کر پھوڑا  بن گئی  لیکن اعصابی نظام کی بہتری شروع ہوگئی اور ادویہ کے استعمال کے باعث پانی پینے کی عادت میں کمی واقع ہوتی گئی پھر حکیم صاحب نے اعصابی ورزش اور نفسیاتی معاملات پر گفتگو کرنے کا سلسلہ جاری کیا جس سے میرے بہت سے دیرینہ اور پیچیدہ قسم کے مسائل کھل کر سامنے آئے اور حل ہونے لگے  یوں میرے کئی ”فوبیاز“ اور اوہام کا ازالہ ہوا،ورزش اور میڈیسن سے میں روبہ صحت ہوا اور دل و دماغ مایوسی کی وادیوں سے باہر آنا شروع ہوگئے۔

میرے لیے کسی کے کمال کو ماننا تقریباً ناممکن  ہے میرے دوست اور قارئین جانتے ہیں کہ  کوئی صاحب اتنی برق رفتاری سے میرے دل  ذہن پر حاوی نہیں ہوتے، لیکن میں یہ تسلیم کرتا ہوں حکیم اعجاز حُسین جیسے دانا، محقق اور مخلص لوگ زمانے میں چند ایک ہوتے ہیں۔ آپ اُن کے ہاں جا کر  دیکھیں آپ کو وہ درویش صفت انسان ایک سادہ حلیے میں نظر آئے گا عین ممکن ہے کہ عام لوگ ان کی وضع قطع کو دیکھ کر ان کے ایک اچھے حکیم ہونے کی صلاحیت کو ماننے سے انکار کر دیں یا کم از کم متعجب ضرور ہوں لیکن بخدا وہ مردِ حق پرست ایک ولی صفت محقق حکیم ہے اور اپنے پیشے کو مقدس عبادت سمجھنے والا ایک مجاہد ہے، جس شاید اپنے مریض کی تشخیص کرنے میں کوئی خدائی عطا ہے یا پھر کسی بزرگ کی دُعا کا اثر ہے وہ اپنے  مریض کو دوا اور گفتگو کے ساتھ نئی زندگی بخشنے کا ہُنر جانتا ہے

شاید لاہور جیسے بڑے شہر میں بہت سے اچھے حکیم موجود ہوں لیکن میں چونکہ کبھی کسی ڈاکٹر  یا حکیم کے پاس میڈیسن لینے کیلئے نہیں گیا لہٰذا مجھے اُن دیگر اطباء کے فن سے کوئی خاص آگاہی نہیں، حکیم اعجاز صاحب کہتے ہیں کہ عام تاثر یہی بن چکا ہے کہ ایلوپیتھک میڈیسن بہت تیزی سے اثر کرتی ہیں لیکن دراصل ہربل میڈیسن اس سے بھی پہلے علاج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اُن کے مطابق دیسی ادویہ کی یہ خوبی ہے کہ یہ مریض کا علاج کرکے جسم سے خارج ہوجاتی ہیں جبکہ ایلوپیتھک میڈیسن کے زہریلے کیمیکلز علاج کرنے کے بعد جسم سے خارج نہیں ہوتے اِس طرح وہ انسان کے لیے مُضر ہیں۔
لیکن ان سب کے باوجود اُنہیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم دیسی حکیم یا ہربل میڈیسن کے ادارے امراض کی تشخیص کے لیے اعلیٰ پائے کے اوزار ، اور مشینری تیار نہیں کر پائے  لیکن اہلِ مغرب نے ایلوپیتھک طریقۂ علاج کے وارث ہونے کے ناتے یہ ذمہ داری سرانجام دی ہے لہٰذا ہمیں کوتاہی اور غفلت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے لیکن جدید مشینری کی تحقیق سے مستفید ہونے میں کوئی عار نہیں ہے اور ہربل میڈیسن کے شعبہ میں بہت سا کام کرنے کی ضرورت باقی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دوا دے دینا حکمت نہیں ہے، اتنا سا کام تو عطائی بھی کر لیتا ہے، حکمت ایک فن ہے جس میں تحقیق اور تجربے سے مسئلے کی پیچیدگی کو سمجھنا اور تدبر سے حل نکالنا اصل کام ہے، حکیم صاحب کے تجویز کردہ چند مشورے درج ذیل ہیں۔
  • ایک وقت میں صرف ایک کام پر توجہ مرکوز کرکے اُسی کو احسن طریقے سے انجام دیں ورنہ بیک وقت زیادہ  کام اکٹھے کرنے سے دماغ اور اعصاب پر بوجھ پڑتا ہے۔
  • رات کو سوتے وقت ذہن سے تمام خیالات کو جھٹک کر صرف ذکرِ  خُدا میں مصروف ہو کر سو جائیں
  • صبح جاگ کر کسی خیال کو ذہن پر سوار مت ہونے دیں کم از کم پندرہ  سے منٹ تک ذہن کو لازمی پر سکون رکھ کر صبح کا آغاز کریں
  • اچانک ملنے والی خبر پر فوری ردعمل دینے سے گریز کریں اور مطمئن رہنے کی کوشش کریں

مندرجہ بالا مشوروں کے علاوہ بھی کچھ اعصابی  مشقیں اور ورزش کر رہا ہوں جس سے الحمدللہ میں تیزی سے صحت یاب ہورہا ہوں بلکہ ایک پُر امید کامیاب زندگی کی طرف لوٹ رہا ہوں اللہ سے دعا ہے کہ وہ حکیم صاحب کو برکتیں عطا فرمائے۔اگر کسی صاحب کو ان سے کوئی مشورہ کرنا ہو تو وہ رحمت دواخانہ نزد ماہ نور سویٹ، گیلانی پارک، امیر روڈ بلال گنج لاہور تشریف لا کر ان سے ملاقات کر سکتے ہیں حکیم صاحب کا موبائل نمبر 03434615316 ہے۔
میں نے ان کے لیے درج ذیل سوشل میڈیا کے لنکس بھی بنائے ہیں

Email: hakimijazhussain@gmail.com
Skype: live:hakimijazhussain
www.FaceBook.com/RahmatDawaKhana/
www.twitter.com/hakim_ijaz
Blog Address: http://rahmatdawakhana.blogspot.com/

پیر، 30 مئی، 2016

تھامس ایڈورڈ لارینس المعروف لارنس آف عریبیہ

تھامس ایڈورڈ لارینس 1888 میں پیدا ہوا اور 1935 میں اپنی ساختہ موٹر سائیکل (انتہائی تیز رفتار انجن اس نے خود مرمت کیا تھا، ان دنوں دوسری ریٹائرمنٹ کے بعد اس کا یہی مشغلہ تھا) کے حادثے میں مرا

اس پر افسانوں کے علاوہ 1962 میں ایک فلم بنی "لارنس آف عریبیہ"

تاریخ نجد و حجاز، کتاب ميں اس فلم پر تنقید کی گئی ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کتاب علامہ غلام رسول سعیدی کی تصنیف ہے۔

مجھے 2010 میں ایک اردو کتاب "لارنس آف عریبیہ" ملی، وہ انگریزی کا ترجمہ تھا۔ اُسے اردو بازار سے چھاپا گیا تھا۔ یہ کتاب لارنس کے ایک دوست نے لارنس کی سوانح عمری کے طور پر لکھی تھی ۔
حسنین شاہ نے کہا تھا کہ یہ کتاب تو لارنس کو ایک طلسماتی شخصیت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اسے پڑھ کر قاری، لارنس کو ہیرو قرار دیتا ہے۔

پھر وہ کتاب میرا ایک خیرخواہ لے گیا اس کے گھر سے اس کی بہن لے گئی

سچ تو یہ ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے سقوط میں اکیلے لارنس نے وہ کردار کیا جو پانچ صدیوں سے لاکھوں کروڑوں فوجیوں پر مشتمل افواج کی جنگییں نہ کر پائیں۔

جدید عرب ممالک کے حدود اربع کے نقشے میں لارنس کا کردار پورے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے زیادہ ہے۔

لارنس کے بارے ميں بہت سے افسانہ جات مشہور ہیں۔
ایک افسانہ یہ تھا کہ وہ افغانستان کے بادشاہ سے ملا تھا اور ملاقات کرکے فلاں فلاں سازشیں جنم دی تھیں۔
ایک افسانہ یہ تھا کہ وہ لاہور میں ایک طویل عرصہ تک جعلی پیر بن کے لوگوں کو بیوقوف بناتا رہا تھا۔

وہ برطانوی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ "شاہ" کے نام بھرتی ہوگیا تھا

جارج برنارڈ شا نے اپنے نام کے ساتھ "شا" کا لاحقہ لارنس کی عقیدت میں لگایا تھا

وہ منفی درجہ حرارت میں کئی دنوں تک بھوکا اور ننگا زندہ رہ لیتا تھا۔ اور گرم جھلستے ریگستانوں میں پیاسا کئی روز زندہ رہ لیتا۔

پانی میں کئی گھنٹے سانس ڈوب کر زندہ رہ لیتا۔

وہ چاروں الہامی کتابوں کا حافظ تھا۔

اسے ایک لقب دیا جاتا تھا "درندے کی کھوپڑی میں دانشور کا دماغ"

وہ ایک ماہر آثار قدیمہ، ملٹری آفیسر (دوسری مرتبہ عام سپاہی) اور سفارت کار تھا، اس نے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کے لیے صحرائے سینا اور فلسطینی علاقہ جات میں عثمانی سلطنت کے خاتمے کیلئے عربوں کو بھڑکایا، مواصلات کے ذرائع خصوصاً ریلوے کی پٹڑیوں کو بموں کے ذریعے اس وقت اڑایا جب عثمانی افواج کے دستے ان جگہوں سے گزر رہے ہوتے، عربوں کو ترکی کی کاغذی کرنسی کے خلاف بھڑکا کر سونے کے سکوں کا لالچی بنایا، عرب قوم پرستی کا نعرہ لگوا کر مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کروایا، سازشوں کے لمبے چوڑے جال بننے میں کامیاب رہا

یہ پہلی عالمی جنگ کا دورانیہ تھا۔ مصر پر بھی برطانیہ کا قبضہ تھا اور قاہرہ میں ان کی افواج کا ہیڈ کوارٹر تھا ۔ لارنس ان سے تعلق رکھتا تھا مصر والی برطانوی ایجنسیاں عربوں کو خود مختاری کے نام پر گمراہ کر کے ترکیہ سے آزادی دلوا کر سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کرنا چاہتی تھیں جبکہ متحدہ ہندوستان پر قابض برطانوی ایجنسی ایسی صورت حال کے اس لیے خلاف تھی کہ اگر عرب آزاد ہو گئے تو ہندوستانی لوگ بھی آزادی کے لیے بہت شدت سے مطالبہ کریں گے۔

اُدھر لارنس اینڈ کمپنی نے ترکی کے ٹکڑے کر کے جہاں جرمنی کو ناکوں چنے چبوا دیئے وہاں ساتھ ساتھ فرانس کو دھوکہ دے دیا اور عربوں کی آزاد حکومت کا ڈرامہ رچا دیا

دوسری جانب ہندوستان میں مقیم برطانوی ایجنسیوں نے آل سعود کے بدمعاشوں کو دوبارہ سے طاقتور بنا کر عرب نیشلزم کے لڑا دیا اور نجد و حجاز مقدس پر قومیت پرستی کی بجائے وہابی فرقہ پرستوں کی حکومت قائم کرا دی، اس ظلم کے بدلے آل سعود سے ایک آزاد یہودی ریاست کے قیام کے لیے  فلسطین کی سرزمين پرقبضہ کرکے (ملکِ اسرائیل بنانے کیلئے) ایک معاہدے پر دستخط کروائے جس کی رو سے فریقین (مملکت سعودی عرب اور ریاست اسرائیل) ایک دوسرے کی بقا کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔

تصاویر:  بشکریہ وکیپیڈیا

جمعرات، 19 مئی، 2016

ندیم بھابھہ میری زندگی کا مؤثر ترین شاعر

ندیم بھابھہ میری زندگی کا مؤثر ترین شاعر ہے، میں اُسے تمام لوگوں کے لئے سب سے عظیم شاعر قرار نہیں دے رہا، دراصل مجھے شاعری کے فنی محاسن کا ادراک نہیں، پر اسے پڑھنے میں لطف و سرور پاتا ہوں بچپن سے لے کر اپنی سوچوں کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ شاعری میں سے نت نئے مفاہیم و مطالب اخذ ہوتے رہے ہیں، آج کل مجھے اکثر شعرا کا (نیا/پرانا) کلام سیاسی لگتا ہے۔ مجھے کسی بھی غزل یا نظم میں سے اُس (کہے جانے کے) دور کے سیاسی حالات کے بارے شاعر کے خیالات کا اندازہ ہوجاتا ہے، ممکن ہے یہ مبالغہ آرائی ہو، بہرحال سیاست، معاشرت اور سماج کا اثر کلام میں جھلکنا ایک فطری امر ہے۔
مجھے ولی دکنی اور خواجہ درد کے کلام کو سمجھنے کے لئے جس ذہنی کاوش کی ضرورت تھی اس سے ذرا تہی دامن/سہل پسند رہا ہوں کیونکہ
؎                 اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
بہرحال مرزا غالب سے جیسے میری یاری رہی ہو، حقیقتاً کلامِ غالب میں سے بھی میں نے چند اردو اشعار پڑھے ہیں۔ رہی بات فارسی کی تو اس کے میں قریب نہیں گیا، پھر بھی غالب جیسے دل پہ اثر کرتا ہے بیسویں صدی میں فیضؔ اور ساغر صدیقی کا کلام مجھے چھو کر گزرا، البتہ فیض کے سیاسی نظریات کا میں ہوبہو قائل نہیں اس کی اردو دانی کا معترف ہوں (پڑھے لکھے حضرات سے گزارش ہے کہ میں ”چھوٹا منہ بڑی بات“ کر رہا ہوں کیوںکہ میں نے کلامِ فیض میں سے بھی ایک، دو غزلیں ہی پڑھی ہیں) جبکہ ساغرؔ میرے دل کی بات کرتا ہے، ساغر جیسے عظیم لوگ واقعی صدیوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں وہ بیسویں صدی کا سب سے مظلوم شاعر ہے مجھے نہیں معلوم شعراء (نقادوں) نے اُسے آج تک ”داخل دفتر“ کیوں رکھا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انیسویں صدی کا غالبؔ بھی ایک طویل مدت تک اسی ظُلم کا شکار رہا پھر بیسویں صدی میں جاکر شعرا اور ادیبوں نے اسے اپنا امام مانا۔
بہرنو، اب محمد ندیم بھابھہ کی بات کرتا ہوں ان کی شاعری کی پہلی کتاب ”میں کہیں اور جا نہیں سکتا“ مجھے منظور کے ردی کے گودام سے (تقریباً 2003ء یا 2004ء میں) ملی، ہم لوگ بچپن سے دیکھتے آئے ہیں کہ ردی پیپرز کا کام ہمارے گھروں تک پہنچا ہوا تھا۔ ردی ورقوں سے وابستہ ہونے کی وجہ سے بچپن سے مختلف النوع کتب و رسائل (بیشتر پرانے) پڑھنے کو ملے بلکہ جو ملا پڑھ ڈالا۔
میں اس کتاب کو گھر لے گیا، گھر ہمارا کیا تھا لاہور میں چوہان روڈ کے (بند روڈ) پار ایک سڑک دربارِ رفاعیہ کو جاتی ہے اس پر ایک بدبودار جگہ پہ (بطورِ کرایہ دار) بسیرا تھا۔ ان دنوں میں حفظِ قرآن پاک کا طالب علم تھا اور ”جامعہ حنفیہ عنایت صدیق“ میں زیرِ تعلیم تھا۔ سن 2003ء سے پہلے امی اور بہن گاؤں میں تھے پھر یہاں آئے تو ایک کمرہ نما گھر کرائے پر لیا، میں نے 2003ء کے اکتوبر تک چھبیس پارے حفظ کرلئے تھے بعد میں لاہور کی سڑکیں ماپنا شروع کر دیں ان دنوں ندیمؔ بھابھہ کی کتاب مجھے مل گئی، بچپن سے میں نے اپنی روح کو ایک گہری اداسی کا شکار پایا تھا جسے میں نہ آج تک جان پایا ہوں اور نہ ہی اس معمے کا کوئی حل مل سکا ہے۔
کتاب میں پہلے نعت تھی جسے پڑھ کر بہت راحت ہوئی، پھر
میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں
کسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوں
ایسی غزل سے کتاب کا آغاز ہورہا تھا تو تن بدن میں آگ لگنا ایک لازمی امر تھا اس کے بعد اکثر غزلوں پھر نظموں نے دِل موہ لیا۔ سن 2004ء میں میرا ایک خالہ زاد مدثر شریف وہاں آتا تو اسے میں بھابھہ صاحب کا کلام سناتا اور وہ جھرجھریاں لے کر رہ جاتا اور ہمیشہ میری سوجھ بوجھ کو ”انڈر مائن“ کرتا رہتا۔
شاید اس کتاب کی غزلوں کو کئی بار پڑھا تھا اور نظموں کو روح میں اتارا تھا جن میں اداسی اداسی کی کہانیاں مندرج تھیں، اسی لئے اس کتاب کے کئی مصرعے اور شعر سن 2010ء تک یاد رہے، کیونکہ میں نے وہ کتاب پھر واپس جاکر منظور کے حوالے کردی تھی کہ ”دیکھو یار! اس بندے نے کیا شاعری کی ہے وغیرہ وغیرہ“ اور وہاں سے وہ کتاب گم ہوگئی۔
سن 2010ء میں مجھے انٹرنیٹ تک رسائی ہوئی تو گوگل کیا ندیم بھابھہ، پھر وہ جناب فیس بک پر بھی مل گئے۔
اب محمد ندیمؔ بھابھہ کی ایک غزل پیش کرکے اجازت چاہتا ہوں۔

اس کی باتیں، اس کا لہجہ اور میں ہوں
نظم پڑی ہے مصرعہ مصرعہ، اور میں ہوں

ایک دیا رکھا ہے ہوا کے کاندھے پر
جس کا لرزتا، جلتا سایا اور میں ہوں

اس گاؤں کی آبادی بس اتنی ہے
شہر سے بھاگ کے آنے والا اور میں ہوں

چاروں جانب تنہائی کے لشکر ہیں
بے ترتیب سا ایک ہے کمرہ اور میں ہوں

ویسے تو سب لوگ یہاں پر مردہ ہیں
اس نے مجھ کو زندہ سمجھا، اور میں ہوں

اتوار، 3 اپریل، 2016

Qari Muhammad Ahmad Bakhsh Multani

قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: عبدالرزاق قادری

ضلع وہاڑی کے صدر مقام کے نواح میں ایک قصبے کا نام ”لڈن“ ہے۔ لڈن میں  ایک خاندان خدمتِ قرآن مجید کے حوالے سے مشہور ہے۔ان میں قاری عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ، قاری حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، قاری اللہ رکھا صاحب اور قاری عارف صاحب کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اسی خاندان میں سے ایک اور عظیم نام قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے لاہور میں وہ ”وڈے استاد جی“ یعنی بڑے استاد جی کے نام سے معروف تھے۔ آپ  کی پیدائش قیامِ پاکستان سے قبل ہوئی اور آپ نے نوعمری میں 15 ماہ کے قلیل عرصہ میں مکمل قرآن مجید حفظ کیا۔ شاہ بخش صاحب ملتانی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے پیر و مرشد تھے آپ نے ایک عرصہ ان کی خدمت میں گزرا ، انہی کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ ”ملتانی“ لکھتے رہے۔
    حفظِ  کرلینےکے بعد کچھ عرصہ تک آپ نے قرآن مجید کی تدریس فرمائی پھر کوئی دوسرا شعبہ اختیار کرنا چاہتے تھے لیکن اپنے شیخِ مکرم رحمۃ اللہ علیہ  کی خواہش اور ان کے حکم پر دوبارہ قرآن پاک پڑھانے میں مشغول ہوگئے اس نیک کام کا آغاز تقریباً 1956ء سے ہوا، آپ جامعہ نظامیہ رضویہ(اندرون لوہاری گیٹ) لاہور میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو ”یسرناالقرآن“ قاعدہ پڑھاتے تھے اور قاری حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے چچا زاد بھائی) قرآن مجید کی کلاس سنبھالتے تھے باقی شعبہ جات دوسرے علماء کرام کے پاس تھے، قاری حنیف صاحب کو جامعہ نظامیہ رضویہ تک لے کر جانے کا سہرا علامہ مولانا محمد علی نقشبندی (بانی جامعہ رسولیہ شیرازیہ) کے سر ہے۔ قاری محمد احمد بخش ملتانی نے تقریباً چودہ برس تک جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کا فریضہ سرانجام دیا آپ کے شاگردوں میں کئی جید علماء کرام کے نام شامل ہیں۔
    بڑے استاد جی نے دربار شاہ محمد غوث رحمۃ اللہ علیہ (سرکلر روڈ) کے ساتھ ملحقہ مدرسہ میں چند سال قرآن پاک پڑھایا پھر  داتا دربار اور بھاٹی گیٹ کے درمیان میں واقع جامعہ حنفیہ غوثیہ میں  1992ء تک تدریس فرمائی ۔ اسی دور میں داتا دربار کمپلیکس کی توسیع ہوئی اور جامعہ حنفیہ غوثیہ کو وہاں سے ہٹا دیا گیا لیکن اللہ کی قدرت دیکھیے کہ ایک نیک صالحہ خاتون ”عنایت بی بی“ نے  دربار کی عقبی جانب کچا رشید روڈ پر ” جامعہ حنفیہ عنایت صدیق “ قائم کروا دیا تھا اور استاد جی یہاں منتقل ہوگئے اور آخری دم تک اسی جامعہ  کے مہتمم اعلیٰ رہے۔
میں نے جامعہ عنایت صدیق میں سن 2001ء کے اوائل میں حفظِ قرآن  کے لیے داخلہ لیا مجھے جامعہ میں داخل کروانے کی سعادت میرے ابو کے ایک جاننے والے محمد سعید عالم کے حصے میں آئی، انکل سعید داتا دربار کے قریب بابا فرید روڈ پر  ایک گرم حمام چلاتے تھے اور وہ خود ایک بہترین حجام تھے  میرے ابو  کو شاید  معلوم تھا کہ یہ صاحب اس مدرسے کے استادجی کے واقف کار ہیں لہٰذا انکل سے رابطہ کیا گیا انہوں نے  بڑےاستاد جی سے بات کی اور داخلہ ہوگیا جو کہ پہلے مسترد ہوچکا تھا، جناب محمد سعید عالم 8 اپریل 2013ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے، تاہم میں  اُن کا یہ داخلے والا احسان کبھی نہیں چُکا سکتا۔ ان کے بیٹے  حافظ ایثار عالم آج بھی وہ دوکان چلا رہے ہیں اور میرے گہرے دوست ہیں۔ میں سن 2004ء اواخر تک اس جامعہ میں پڑھتا رہا، میرے اُستاد جی قاری محمد صدیق احمد صاحب ہیں آپ ، قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے  اور قاری محمد خلیل احمد صاحب  چھوٹے بیٹے ہیں۔ بڑے اُستادجی نے اپنی  بیٹوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے آراستہ کیا اور وہ بھی خدمتِ قرآن میں  مصروف رہے۔ میں نے بڑے اُستاد جی سے تقریباً چار مرتبہ سبق  پڑھاہوگا اور قاری خلیل صاحب سے بھی کئی مرتبہ سبق پڑھا تھا لیکن میں باقاعدہ قاری محمد صدیق احمد صاحب کی کلاس میں پڑھتا رہا اور انہی کے پاس  حفظِ قرآن پاک مکمل کیا۔
بڑے استاد جی کی زندگی کے تقریباً ساٹھ شمسی سال خدمتِ قرآن میں بسر ہوئےجو اپنی قبولیت کی سند آپ ہیں۔ آپ کو با آوازِ بلند سنائی دیتا تھا لیکن مجال ہے کہ کبھی کوئی طالب علم آپ کو قرآن مجید کا سبق سنا رہا ہو اور وہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی کرجائے حتیٰ کہ کبھی بھی ع،غ یا شین، قاف کے مخرج کی ادائیگی میں بھی کوتاہی  نہ ہونے دیتے۔ آپ ہر طرح کے تجوید کے قواعد کی پابندی کرواتے مثلاً غنہ، مد، ادغام، اقلاب، اخفا اور اظہار کو نظر انداز کرکے آپ کو قرآن پاک کا سبق نہیں سنایا جاسکتا تھا ۔ آپ نے ایک سادہ زندگی بسر کی اور پوری دلجمعی سے اپنے کام میں مگن رہے آپ کے ابتدائی شاگردوں میں قاری عبدالعزیز، قاری لیاقت علی، قاری محمد اسلم (انگلینڈ)، شیخ محمد اسماعیل( اعظم کلاتھ مارکیٹ لاہور)، حافظ محمود اختر، حافظ محمد طاہر، قاری عطا محمد (سمن آباد لاہور)، قاری سید عاشق حسین شاہ اور موہنی روڈ سے تعلق رکھنے والے صداقت علی کے علاوہ دیگر کئی حفاظ اور قاریوں کے نام ہیں۔
قاری محمد احمد بخش ملتانی نے صحیح معنوں میں اپنی جوانی کو قرآن پاک کی تدریس کے لئے صرف کیا اور محنتِ شاقہ کے ساتھ بہترین حفاظ کرام کے گلدستے اس قوم کی نذر کیے۔ میں نے آپ کی آخری زیارت 2015ء والے عرسِ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ کے موقع پر کی تھی ، سن 2016ء کی 23 جنوری کو آپ کا وصال ہوگیا  اور آپ اپنے آبائی قصبے ”لڈن“ میں آسودۂِ خاک ہیں، اللہ عزوجل آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے۔

منگل، 29 مارچ، 2016

صورت حال کا جائزہ اور حل

میں نے اکثر دوستوں کے خیالات کا مطالعہ کیا، خبریں دیکھیں (written) کالم دیکھے اور زمینی حقائق کا ادراک کیا
لیکن اُسے بیان کرنا فضول سمجھتا ہوں
کیونکہ مجھے شُبہ ہے کہ لوگ صرف اپنی ”جھوٹی انا“ کی پُوجا کرنا چاہتے ہیں یہ شاید میرا نیا فلسفہ ہے کہ ”سچی انا“ کی پُوجا شاید درست ہو، لیکن یہ ”جھوٹی انا“ کی پوجا کیا وقعت رکھتی ہے؟
کچھ لوگ مصوری یا افسانہ نگاری میں پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں، جبکہ میں ابھی ”راہی“ ہوں۔
اچھا! احباب کا ایک یہ عظیم المیہ ہے کہ وہ ٹی وی دیکھ دیکھ کر ”آپ کی کیا رائے ہے؟“ کے عادی ہو چکے ہیں لہٰذا وہ مجھے بھی یہی کہتے ہیں کہ ”رائے“ دو۔
دوستوں سے گزارش ہے کہ میرے فلسفے کو سمجھنے کی کوشش کریں، میں روزانہ کئی لوگوں سے کہتا ہوں، ”Learn to control your mind“ کہ اپنے خیالات پر قابو پانا سیکھیں۔
اگر لوگوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہونے کی ”مہم“ جاری رکھی گئی تو کچھ بھی ہاتھ نہیں آنے والا، اپنے ذہن کو کنٹرول کرنا سیکھیں
اپنی زندگی میں سے کچھ الفاظ یعنی اعمال کا خاتمہ کر دیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ ”ردعمل“
2۔ ”پریشانی“
3۔ ”ٹھیکے داری“
4۔ ”تناؤ یعنی Tension“
5۔ ”نصیحت کرنا یعنی مشورہ دینا“
6۔ ”استحصال“
7۔ ”تاثر لینا“
ہمیں چین کیوں نہیں پڑتا؟ سکون کیوں نہیں مل رہا؟
کیونکہ
1۔ ہم فوراً ردعمل دیتے ہیں اور فوراً ردعمل چاہتے ہیں۔
2۔ ہم کہہ دیتے ہیں کہ یار بڑی پریشانی بن گئی ہے۔
3۔ ہم اسلام، پاکستان، پاک فوج، اپنی سیاسی جماعت، اپنے مذہبی فرقے، اپنی سماجی سوچ، اپنے صوبے، زبان، مٹی، قوم، ذات، برادری، کرکٹ ٹیم، اور کچھ دیگر معاملات کے ٹھیکے دار بن جاتے ہیں جبکہ ہم ان میں سے کسی ایک بھی شعبے کے ماہر نہیں ہوتے، دراصل ماہر ہی ”رائے“ پیش کرسکتا ہے۔
4۔ ٹینشن کا لفظ ایک لعنت کی طرح گلے کا طوق بنا رکھا ہے۔
5۔ سوجھ بوجھ ہوتی نہیں اور غیر شعوری طور پر ”مشوروں کی مشین“ بنے ہوئے ہیں۔
6۔ ہم استحصال یعنی ”بے غیرتی“ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
7۔ ساتویں غلط چیز یہ کہ ہم کسی بھی ”تیسرے درجے کے“ واعظ، شاعر، ادیب، کالم نگار، ٹی وی اینکر، ادکار، گلوکار، کھلاڑی، سیاست دان، ڈاکٹر، پروفیسر، تجزیہ کار اور دیہاڑی دار کو قوم و ملت، اسلام اور پاکستان کی ”ناک“ کا ٹھیکے دار سمجھتے ہوئے اس سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں، بالکل اسی جلدی سے اس کے کسی ناپسندیدہ عمل پہ سختی کے ساتھ ”ردعمل“ پیش کرتے ہیں۔
اب حل کیا ہے؟
1۔ خود کو آئینے میں دیکھ لینا چاہیے
2۔ کبھی کبھی سچ بول دینا چاہیے (جب دل نہ چاہے)
3۔ بعض اوقات سچ مان بھی لینا چاہیے۔
4۔ اپنی غلطی تسلیم کرکے سر تسلیم خم کر دینا چاہیے۔
5۔ اپنا محاسبہ کرنا چاہیے
6۔ صبح کی سیر کرنی چاہیے
7۔ اپنی زندگی کو منظم طریقے سے گزارنا چاہیے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
منہ سے وہی الفاظ نکالیں، جن پر پہرہ دے سکیں، ایک بات کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچیں اور سوچنا یہ ہے کہ اس بارے میں اصلی ”ماہرین“ کی کیا رائے ہے اگر آج وہ یہاں ہوتے تو کیا رائے پیش کرتے۔۔۔ ورنہ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ ٹھیکے دار نہ بنیں۔ دوستوں سے (سچ سچ) کہہ دیں کہ.. میری یاداشت کے مطابق۔۔۔Hmmmm۔۔۔۔۔ فلاں صاحب جو اس موضوع کے ایکسپرٹ ہیں انہوں نے فلاں پلیٹ فارم پر اس طرح کے سوال کا یہ جواب دیا تھا
اب وہ ”رائے“ کی ٹھیکے داری آپ نے اپنی گردن سے اتار کر ”ایکسپرٹ صاحب“ کے کھاتے میں ڈال دی۔ جب کوئی اختلاف کرے گا تو آپ سے نہیں بلکہ اُس تیسرے بندے کی رائے سے کرے گا۔
اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ”اہلِ علم“ کا کاوش کا احترام بھی ہوجاتا ہے، آپ اپنا مطالعہ بھی وسیع کرلیتے ہیں اور دوسرے کی رائے سُن لینے کا حوصلہ بھی آجاتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایسے محقق لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیں جو شروع شروع میں آپ کو سُست اور مدھم اندازِ تحریر کی نظر آئیں
جب آپ دیکھیں گے کہ یہ بندہ ہزاروں کتابیں پڑھ کے بھی ”ماہرین“ کی مختلف آراء کو لکھ رہا ہے تو ذہن سوچے گا کہ میں ہمیشہ ایک ہی رائے سے ”ہٹ دھرم“ بن کے کیوں جُڑا رہتا ہوں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خاموشی بہترین حل ہے، ایک وقت کے بعد غلط رائے رکھنے والے کو درست صورت حال کا علم ہوجاتا ہے اور وہ مان بھی لیتا ہے
لیکن
اگر آپ نے اُسے غلط مؤقف نہ بھولنے دیا تو آپ اُس کے ساتھ ظلم کررہے ہیں یعنی اگر وہ کل تک سمجھتا تھا کہ فلاں صاحب کی ”رائے“ اتنی اہم ہوتی ہے کہ اُسے آنکھیں بند کرکے مان لینا چاہیے (جبکہ آپ کے خیال میں یہ ایک فضول چیز تھی اور آپ سچے بھی تھے) پھر بھی آپ خاموش رہیں، اسی میں بھلائی ہے، اب وہ دوست چھ ماہ کے بعد آ کر کہہ دے کہ ”نہیں بھئی اُن صاحب کی تحقیق ناقص ہے“ تو آپ اپنے دوست کو پھر بھی کچھ نہ کہیں۔
اُسے خاموشی اور سنجیدگی سے سُن لیں، کسی کی بات سُن لینا ایک اچھا عمل ہے، اس سے سُنانے والے کے دل میں آپ کے لئے محبت پیدا ہوتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب کبھی آپ کو محسوس ہو کہ آپ کی بات، رائے، نظریے کو چیلینج کیا گیا ہے تو سوچ لیں کہ شاید کوئی غلطی ہوگئی ہے، اپنی دوبارہ اصلاح کا سوچ لیں اور دل میں عہد کریں کہ اس متعلق مزید تحقیق کرنی ہوگی اور سامنے والے سے کہیں کہ سر! میں اس پر ”غور و فکر“ کروں گا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگر کتا انسان کو کاٹ لے تو انسان اُسے جواباً کاٹتا نہیں ہے
لہٰذا
اگر آپ کو دکھائی دے کہ فلاں بات آپ کو ہضم نہیں ہونے والی تو وہاں سے کنارہ کش ہوجائیں، اچانک آپ کو اپنے فرائض منصبی یاد آجانے چاہئیں اور اپنی ڈیوٹی کی جگہ کی طرف دوڑ لگا دیں اگر شام کا وقت یعنی فرصت کا وقت ہے تو کسی مثبت سرگرمی کی طرف متوجہ ہوجائیں، ایسے واعظ سے اجازات لیں، خود کو جھوٹا کہہ کر امن کی پٹڑی پر گامزن ہوجائیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فیس بک پر صرف یادگار لمحات کی تصاویر اپلوڈ کریں اور کسی بھی قسم کی جذباتی پوسٹ کو ”Hide Post“ کے آپشن سے چھپا دیں۔
ناسمجھ افلاطونوں کو ”un-follow“ کر دیں۔
خبر کی تعریف ”Definition“ سے ناواقف لوگوں کی تحریر اور پوسٹ کو فضول سمجھ کر چھپا دیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نتیجہ کوئی چیز نہیں ہوتا اصل چیز محنت ہوتی ہے
پھل کوئی نہیں ہوتا اصل چیز صبر ہے
اختتام کبھی نہیں ہوتا، جہد مسلسل اصل چیز ہے
ثابت کچھ نہیں ہوتا، دلیل پیش کرتے رہیں
ڈگری کوئی سند نہیں ہوتی، مطالعہ اصل چیز ہے
الجھنے سے کچھ نہیں ملتا، سمجھ لینا مطلوبہ عمل ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اٹھائیس مارچ 2016ء کی صبح تین بج کر 17 منٹ پر مکمل کیا۔ عبدالرزاق قادری

جمعرات، 18 فروری، 2016

ایک کہانی تین نسلوں کی!!!

گزشتہ دنوں میں نے ضلع فیصل آباد کا سفر کیا، وہاں چک نمبر 70 ر۔ب ”گجر سنگھ والا“ میں میری ایک خالہ رہتی تھی، جو سن 2006ء میں اگلے جہاں سدھار گئیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ میری والدہ بھی اسی گاؤں میں (تقریباً 1962ء میں) پیدا ہوئی تھیں ، پنجابی زبان میں والدہ کے میکے کو ”نانکے“ اور اردو میں ننھیال کہا جاتا ہے۔ میرے ننھیال نے تقریباً 1970ء  میں ضلع وہاڑی کی طرف ہجرت کی۔ کچھ وجوہ کی بنا پر انہیں نقل مکانی کرنا پڑی۔اور پھر وہاں سے بھی چھوڑ کر ضلع لیہ میں ایک گاؤں میں تھوڑا عرصہ گزارنے  کے بعد چک نمبر 475 ٹی ڈی اے میں اپنی زمین خرید لی اور وہیں رہنے لگے۔ 
میرے ابتدائی بچپن میں، سب سے خوشی کی بات میرے ننھیال  کے ہاں جانا تھا ( شاید آج بھی ہے)،  تب ہم ضلع وہاڑی کے ایک گاؤں چک نمبر 174 ڈبلیوبی ”راجو“ میں رہتے تھے، میری پیدائش بھی وہیں کی ہے۔ ہم نے 1990ء یا 1991 میں ضلع لیہ کے ایک گاؤں میں نقل مکانی کی، یہ چک نمبر 349 ٹی ڈی   اے”رحمان آباد“  تھا۔ سن 2000ء کے 12 اگست  کو میں لاہور آیا اور یہیں کا ہوکر رہ گیا۔
5 فروری 2016ء کو میں اپنی مرحوم خالہ کے گھر والوں سے ملنے  فیصل آباد گیا تھا، اس تصویر میں  میرے خالو کو بائیں جانب دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا نام شیر ہے۔ درمیان میں ان کے بیٹے، ایم بوٹا شاہین اور دائیں طرف مسٹر عقیل (بوٹا شاہین کا بیٹا) موجود ہے۔ میرے خالو  1947ء کی خونی ہجرت کے چشم دید گواہ ہیں جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان کی عمر اس وقت 13 یا 14 سال تھی  اور آگ اور خون کے منظرنامے میں اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑ کر ایک قافلے کے ساتھ آئے تھے۔ ایم بوٹا  شاہین نے ایک مزدور کے طور پر 2 دہائیوں  تک ٹیکسٹائل ملز میں  مزدوری کی اور اب وہ اپنے گھر کے ایک کمرے میں  کریانہ(پرچون)  کی ایک چھوٹی سی دکان چلا   رہے ہیں۔ عقیل صاحب اب سکول میں تعلیم حاصل نہیں جاتے، حالانکہ وہ ایک بچہ ہے۔پاکستان میں اس لالچی معاشرےکے غلیظ نظام میں مناسب طریقے سے  تعلیم حاصل کرنے کے لئے، ایک بچے  کو بہت سے”مسائل“  سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے، جن میں سے کچھ کا اظہار ایک فلم ”تارے زمیں پر“ میں کیا گیا ہے۔
یہ تصویر 6 فروری 2016ء کو میں نے کھینچی ہے۔ عبدالرزاق

جمعرات، 14 جنوری، 2016

کچھ بانی نوائے منزل کے بارے میں: محمد کامران اختر۔ ایک ہمہ جہت شخصیت

تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ملتے ہیں جو علم دوست ہوں اور ساتھ ساتھ اچھے منتظم بھی ہوں، ہمارے زمانے میں تعلیم حاصل کرنا، علوم تک رسائی حاصل کرنا، اپنے لئے روزگار کے مواقع تلاش کرنا اور معاشرے میں ایک کامیاب فرد کی حیثیت سے خود کو منوانا ایک معرکے سے کم نہیں ہے ۔ لہٰذا اس نفسا نفسی کے دور میں کامیابیوں کے راستے میں جہاں رہنمائی کا فقدان ہے وہاں کسی ابھرتے ہوئے ستارے سے حسد کرنے والے اور اس کے راستے میں روڑے اٹکانے والوں کی کمی نہیں ہوتی۔ آج میں اپنے دور کے ایک کامیاب انسان کی زندگی کے چند گوشوں کو احاطہء تحریر میں لانے کی کوشش کروں گا، میری مراد ماہنامہ نوائے منزل لاہور کے چیف ایڈیٹر اور کیڈٹ کالج  سکردو کے لکچرر (اردو) جناب محمد کامران اختر ہیں۔ جیسا کہ ان کی اور میری پہلی ملاقات کا تفصیلی احوال ایک بار نوائے منزل میں چھپ چکا ہے لہٰذا اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی میں اس تعارفی کہانی کو سن 2009ء کے اکتوبر ہی سے شروع کروں گا۔ اس وقت کامران صاحب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی۔اے (ماس کام) کے تیسرے سمسٹر میں زیرِ تعلیم تھے اور ایک مقامی اکیڈمی میں پڑھانا شروع کررکھا تھا، 2010ء میں میرے بی۔اے کے امتحانات بھی ہونے والے تھے،لیکن جناب کا دعویٰ ہے کہ وہ مجھ سے چھوٹے ہیں ان کی ذہنی پختگی دیکھ کر کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ وہ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔ بہرحال سن 2010ء سے ماہنامہ نوائے منزل کا آغاز ہوا،یہ نومبر کا مہینہ تھا۔ رجسٹریشن کے قواعد و ضوابط کے مطابق میگزین کی پہلی اشاعت اکتوبر سے شروع ہوجانا لازمی تھی لہٰذا پہلے رسالے کو دونوں مہینوں کا اکٹھا رسالہ متصور کیا گیا اور اس کی پیشانی پر اکتوبر، نومبر 2010 لکھا گیا۔
کامران نے میٹرک کے بعد کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم کا ایک ڈپلومہ کر رکھا تھااور بی ۔اے سے پہلےڈی۔ کام، سی۔کام کیا ہوا تھا اور بی۔اے کے ساتھ ساتھ وہ ہومیو پیتھی کا کورس (DHMS) بھی کررہے تھے بلکہ ایک مقامی کلینک میں اس کی پریکٹس کے لئے بھی جاتے۔ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم انہوں نے میانوالی کے کسی کالج سے حاصل کی تھی اور ان کےبقول وہاں کے مقامی اخبارات سے انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا۔ اپنا ایک رسالہ شائع کرنا اُن کا ایک دیرینہ خواب تھا جس کی تعبیر انہوں نے دیکھ لی، وہ صحافت کو ایک مقدس مشن قرار دیتے ہیں جبکہ اسے ایک پیشہ بنا لینے والوں سے تھوڑا سا شکوہ کناں بھی ہیں۔ 2012ء میں جب میں ایم۔اے اردو کی تیاری کررہا تھا تو کامران نے مجھے ایک بار کہا کہ ہائی سکول کی تعلیم کےدوران، میں ایک ڈائری نما کتاب لکھتا تھا جس کا نام ”ادب ِاختر“ تھا، قادری صاحب! اگر آپ اس کتاب میں لکھے تمام الفاظ کے معانی بتانے کا دعویٰ کرسکتے ہیں تو میں آپ کو ایم۔اے اردو پاس قرار دے سکتا ہوں۔ اُس وقت وہ کتاب لاہور میں موجود نہ تھی لیکن مجھے معلوم تھا کہ میں اُس میں درج تمام اردو الفاظ کے معانی بتانے کا اہل نہ تھا، میں نے کامران سے کہا کہ ایم۔اے اردو میں الفاظ معانی نہیں ہوتے (کامران صاحب ان دنوں ماس کمیونیکیشن میں ایم۔ ایس۔ سی کا آغاز کر چکے تھے)، انہوں نے کہا کہ جو بھی ہے اگر آپ اُس کتاب کی وضاحت کردیتے تو میں آپ کو آج ہی ایم۔ اے اردو پاس مان لیتا۔ درحقیقت کامران اختر کی اردو کافی  اچھی ہے جس کا ہمیں پورا پورا اعتراف ہے، وہ بولتے بھی اردو ہیں۔ ہم چونکہ پنجابی بولنے والے ہیں لہٰذا ہمارے لئے اردو بولنا ایک فیشن ہے لیکن کامران کے لئے یہ عادت ہے۔ ویسے بھی ان کی مادری زبان اٹک کی پوٹھوہاری یا اسی طرح کا کوئی لہجہ ہے لیکن کبھی کبھی وہ ماجھی لہجہ بھی اچھا بول لیتے ہیں اور سرائیکی وغیرہ کے لہجوں سے بھی سمجھ لینے کی حد تک مانوس ہیں البتہ ہمارے سادہ لوح دوست انہیں ایک پٹھان سمجھتے ہیں جبکہ شاید کامران کو پشتو زیادہ نہیں آتی ہو، پچھلے دو سال سے ان کے کالج کے رفقاء میں پختون لوگ ایک بڑی تعداد میں ہیں اس وجہ سے ہوسکتا ہے کہ روزمرہ کے چند ایک الفاظ آتے ہوں۔
کامران نے میرے دیکھتے ہی دیکھتے ایم۔اردو بھی کھڑکا لیا اور لاہور سے سکردو کو جست بھرلی، ماس کام بھی ہوگیا، ڈی ایچ ایم ایس کے بعد بی ایڈ بھی کرلیا۔ لاہور کے چند نامور سکولوں میں تدریس بھی کرلی جس کا آغاز لاہور سکول آف ایکسیلینس سے ہوا تھا پھر لاریل بینک سکول اور آخر میں کِپس میں بھی تدریس کرلی۔ ان سکولز کے علاوہ کئی اکیڈیمیز میں بھی تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے اور پھر ایک دن بستہ باندھ کر شمالی علاقہ جات کی طرف چل نکلے اور کوہِ ہمالیہ اور کوہِ قراقرم کے سنگھم پر جا کر رُکے۔ چین کے ہمسایہ ہونے کے باوجود کامران صاحب پاک سرزمین میں تدریس کرتے ہیں انہیں حب الوطنی کا جذبہ گھٹی میں ملا ہے ان کی اتنے طویل فاصلے پر جدائی مجھے تڑپاتی ہے، مجھے وہ کامران بھی یاد جسے لوگ صرف اس لئے بلانا چھوڑ دیتے تھے کہ مبادا کھانا کھلانا پڑ جائے گا۔ اور وہ کامران بھی یاد ہے جس کے لئے لوگوں کے دروازے آج ایک عرصے سے منتظر ہیں، اور آج لوگ کامران سے اُدھار لینا بھی فخر سمجھتے ہیں۔ شاید میرے لئے ان کی لاہور میں موجودگی ایک ٹرانسفارمر یا مہمیز کا کام دیتی ہے جب یہ سکردو چلے جاتے ہیں تو میرا لکھنے کا تخلیقی کام رُک جاتا ہے جب سردیوں میں یہاں تشریف لاتے ہیں اور میں پٹڑی پر آنے لگتا ہوں تو یہ پھر پرواز کر جاتے ہیں۔ زندگی ایک ”چڑیوں کا چنبہ“ ہے جس میں ہر کسی کی ایک لمبی "اڈاری“ ہوتی ہے۔ لیکن ایک بار اڑان بھر لینے والے کو کون روک پایا ہے، موت تو بار بار کی جدائی سے پڑتی ہے۔ جب کامران اختر لاہور سے نکل کر سکردو کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو دل کئی وسوسوں کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ اکثر ان پہاڑوں کی طرف جانے والے راستوں میں ہی دفن ہوجاتے ہیں ایک بار کامران اُدھر سے واپس آرہے تھے تو کہیں ان کے موبائل کے سگنل ڈراپ ہوگئے اور راولپنڈی سے محترمہ طاہرہ نسیم نے مجھ سے رابطہ کرکے پوچھا کہ کامران کا کچھ اَتا پتا ہے۔ حالانکہ راولپنڈی ان پہاڑوں میں ہے جدھر سے کامران آ رہے تھے لیکن خیر کی امید میں لاہور سے رابطہ کرکے اپنے دل کو ڈھارس بندھائی جا رہی تھی۔ 26 اکتوبر 2015ء کو زلزلہ آیا تو مجھے کوئی بھی یاد نہ آیا میں نے صرف کامران کا نمبر ڈائل کرکے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ وہاں کیا ہوا؟ ان کا نمبر بند تھا پھر تھوڑی دیر تک ان کے میسیج آنا شروع ہوگئے تو تسلی ہوئی کہ وہاں خیریت تھی۔
اب کامران صاحب خیر سے ایم۔ایڈ کے امتحانات دے رہے ہیں اور تیسرے ایم۔اے کے لئے پر تول رہے ہیں کچھ  مسائل کی وجہ سے ان کا ایم۔فل ابھی شروع نہیں ہوا۔ آج کے دور میں جو بندہ پرائمری پاس کرکے چار دن کسی ڈسپنسر کو چائے پانی پلا دیتا ہے وہ بھی اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھتا ہے لیکن کامران نے ڈی ایچ ایم ایس کے بعد بھی یہ سابقہ اپنے نام کے ساتھ نہیں لگایا شاید وہ پی۔ایچ۔ڈی کے بعد لگانا پسند کریں۔ کامران صاحب تقریر کرتے ہوئے من و عن ڈاکٹر طاہرالقادری دکھائی دیتے ہیں ممکن ہے وہ مستقبل کے ”طاہرالقادری“ ہو جائیں۔
ان کی بہت سی کامیابیاں ہیں جنہیں صرف اس ایک مضمون میں نہیں سمویا جا سکتا لیکن گزشتہ روز ، وہ اپنی ملازمتیں حاصل کرلینے والی صلاحیت کا راز فاش کررہے تھے۔ انہیں کبھی کہیں سے یہ فقرہ سننے کو ملا تھا کہ نوکریاں کیوں نہیں ملتیں لوگ سی۔وی جمع کرواتے نہیں اور گھر بیٹھتے سفارش اور رشوت کو کوستے رہتے ہیں۔ تب سے کامران نے، انٹرنیٹ سے اور جہاں سے بھی خالی آسامیوں کا پتہ چلا، وہاں اپنا سی۔وی بھیجا خواہ وہ ڈاک کے ذریعے، دستی یا پھر انٹرنیٹ کے ذریعے لیکن سی۔وی وہاں تک ضرور پہنچایا۔ اس کے بعد نوکریاں قطار میں لگ گئیں اور کامران اپنی مرضی سے ان کا انتخاب کرتے رہے اور چھوڑ کر آگے بڑھتے رہے۔ آج اس کامیاب نوجوان کی زندگی سے یہی درس ملتا ہے کہ مسلسل محنت اور جدوجہد کی جائے اور حتی الامکان ہر کوشش کی جائے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے تو کامیابیاں ہمارا مقدر بنتی ہیں۔

پیر، 4 جنوری، 2016

معذرت کے ساتھ!

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے ایک ضلع مردان کے صدر مقام شہرِ مردان میں 29 دسمبر 2015ء بروز منگل کو نادرا کے دفترپر خود کش حملہ ہوا جس میں 26 افراد جاں بحق ہوئے اور بیسیوں زخمی ہوئے، سینکڑوں لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہوئے، کسی پاکستانی یا فیس بکی افلاطون کے کان پر جوں نہیں رینگی پھر مقابلے کرتے ہیں فرانس اور یورپ کے! وہاں 12 لوگ قتل ہوئے تھے 40 ملکوں کے حکمران سڑکوں پر آگئے پورے یورپ میں ماتم کا سماں تھا ابھی حال میں جب پیرس میں پھر حملے ہوئے تو فرانس نے شام میں بمباری شروع کردی، آپ ان کے نظریات سے اختلاف کرتے ہیں ضرور کریں۔ مجھے بھی چارلی ایبڈو کے میگزین سے نفرت ہے لیکن ان کے قتل ہونے کے بعد ان کی قوم نے 'درد' محسوس کیا ہے جبکہ پاکستان میں ایک دن میں سینکڑوں جنازے اٹھ جائیں لوگ دو دو روپے کے دھوکے فراڈ سے چلائی جانے والی اپنی دکانیں بند نہیں کر سکتے، یہ صرف اپنے سسرال کے گھر جاسکتے ہیں یا کیبل-ٹی-وی پر کوئی فلم دیکھ سکتے ہیں یا فیس بک پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر وقت ضائع کرسکتے ہیں، کچھ زیادہ 'غم' منانے کا موڈ ہوا تو کسی سہیلی سے موبائل پر 'جانو، جانو' کھیل لیا اور گھر سے باہر آکر علامہ، مفتی، محدث، مفسر، محقق، فقیہہ اور مجتہد سب کے عہدے سنبھال لئے۔
اگر کوئی اور دلچسپی باقی نہ رہی تو یہی عہدے فیس بک پر سنبھال لئے۔
بھئی دیکھو! پیرس میں حملے ہوئے، فیس بک کے مالک نے اپنی پروفائل پکچر میں فرانس کا جھنڈا لگا لیا دوسرے لوگوں نے بھی لگا لیا، ہمارے افلاطونوں نے اسے غلط قرار دے کر مذکورہ بالا عہدوں کے فرائضِ منصبی سے اپنا دامن بری کر لیا۔ جب امریکہ میں صدارتی امیدوار 'ڈونلڈ ٹرمپ' کے اشتعال انگیز بیان حد سے بڑھتے ہوئے نظر آئے تو فیس بک کے مالک سمیت بہت سے مشہور و معروف غیر مسلموں نے مسلمانوں کی حمایت میں پورے زور سے آواز بلند کی، اس وقت فرانس کے جھنڈے پر فتوے دینے والے افلاطون کہاں سوئے تھے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بات چاہے مشرق کی ہو یا مغرب کی۔ آسمان کی ہو یا زمین کی، ہمارے افلاطون اسے اپنے ذمے ضرور لے کر 'سوموٹو' ایکشن لیں گے اور اگلے دن گوگل سے ڈاؤنلوڈ کرکے فوٹو شاپ کردہ کچھ تصاویر ضرور دِکھائیں کہ یہ دیکھو کشمیر، فلسطین، شام اور برما میں مسلمانوں پر کیا کیا ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میں شرط لگانے کو تیار ہوں کہ یہ لوگ اپنے گھر سے بیٹھ کر ان ملکوں کی درست سمت کا تعین نہیں کرسکتے، انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کراچی ایک ملک ہے یا پاکستان کا ایک شہر! انہیں سینیٹ، اسمبلی، مقننہ، عدلیہ ، انتظامیہ اور میڈیا کی ڈیفینیشن بھی نہیں آتی۔ انہیں شاید یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے صوبے میں کتنے اضلاع ہیں۔ لاہور میں بسنے والے بیشتر افلاطون یہ بھی نہیں جانتے ہوں کہ صبح سورج ان کے گھر کی کس دیوار کی طرف سے طلوع ہوتا ہے۔
میرا ایک دوست عزیر، مردان سے تعلق رکھتا ہے، حادثے والے دن صرف وہی ایک بندہ مجھے اس حوالے سے مختلف چیزیں پوسٹ اور شیئر کرتا دکھائی دِیا، باقی سب کی عزت تیل لینے گئی ہوئی تھی۔
میں کہنا چاہتا ہوں، او ظالم درندو! او پاکستان کے مردہ ضمیر باسیو! سینکڑوں لوگوں پر قیامت گزر گئی اور تمہیں معلوم تک نہ پڑا، میں سو فیصد دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ خدانخواستہ پاکستان میں کوئی کتنا بڑا حادثہ کیوں نہ ہوجائے۔ نائن الیون سے زیادہ لوگ کیوں نہ مرجائیں۔ یہ مردہ دل بے غیرت افلاطون ایسے ہی منہ میں الائچیاں ڈال کر گونگے بن کے بیٹھے رہیں گے، اور کوئی اپنے بچوں کے تحفظ کے چیخ و پکار نہیں کرے گا۔ جب اس پر مصیبت آئے تو کوئی دوسرا نہیں بولے گا۔ جب دوسرے پر آفت آئے گی۔ تیسرا بھی چُپ رہے گا۔ ایسے ہی یہ سلسلہ بڑھتا چلا جائے گا۔

ڈاکٹر غافر شہزاد کے جوابات

ڈاکٹر غافر شہزاد سے میری پہلی ملاقات 30 دسمبر 2015ء کے روز ہوئی اس کی روداد کی پہلی قسط مندرجہ ذیل لنک پر موجود ہے۔ لنک
دوسری ملاقات بھی اسی شام پاک ٹی ہاؤس میں ہوئی (میں دسمبر میں کئی بار پاک ٹی ہاؤس گیا ہوں اور ایک آدھ ادبی محفل میں بھی شریک ہوا ہوں)۔ بہرحال میں نے ان سے جو سوالات پوچھے، ان کے جوابات اپنے الفاظ میں دے رہا ہوں یعنی جوابات کا مفہوم کم و بیش یہی ہے۔

1۔ آپ کے نام کا عبدالغفور سے غافر شہزاد تک کا سفر کیسے طے ہوا؟
جواب: میری تعلیمی اسناد میں میرا نام عبدالغفور ہے ہائی سکول میں ادبی ذوق کی وجہ سے کسی 'ادبی' لفظ کی جستجو تھی جسے قلمی نام کے طور پر لکھا جائے انہی دنوں مجھے کہیں راستے میں ایک ورق پڑا ہوا مِلا، اس پر سورہ غافر (سورۃ مؤمن 40 نمبر سورت) کے کچھ الفاظ لکھے ہوئے تھے، جن میں ایک لفظ 'غافر' تھا۔ یہ بھی اللہ عزوجل کا ایک نام ہے اور غفور کا ہم معنیٰ ہے مجھے یہ نام پسند آیا اور اُس دور میں میری کچھ چیزیں "عبدالغفور غافر" کے نام سے چھپیں لیکن سکول پھر کالج کے کاغذات میں 'عبدالغفور' ہی رہا، بعد ازاں میں نے 'غافر چودھری' لکھنا شروع کردیا یہ نام بھی چھپتا رہا، پھر ادبی دنیا کے مزاج سے مطابقت کے لئے لفظ 'چودھری' لکھنا چھوڑ دیا اور لفظِ 'شہزاد' اپنا کر غافر شہزاد لکھنا شروع کردیا اور اب مکمل دفتری نام "عبدالغفور غافر شہزاد" ہے جبکہ تعلیمی اسناد پر صرف 'عبدالغفور' لکھا ہوا ہے۔ جھنجھٹ سے بچنے کے لئے اُسے تبدیل نہیں کروایا۔ 

2۔ آپ نے 52 برس کی عمر تک اتنا تحقیقی کام کیا کہ آپ خود ایک حوالہ بن گئے آپ اپنی زندگی کی ان کامیابیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
جواب: مجھے یوں لگتا ہے کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے جتنا ہو پایا وہ بہت قلیل ہے کچھ سینئرز سے یہ درس ملتا ہے کہ وہ طویل وقت تک لکھتے رہے جیسا کہ انتظار حسین صاحب اور احمد ندیم قاسمی مرحوم کی مثالیں موجود ہیں۔ میری ایک خوبی یہ ہے کہ میں جس کام کو شروع کرتا ہوں اسے مکمل ضرور کرتا ہوں، اب میں شعوری طور پر کئی مضامین لکھ کر انہیں ایک کتاب کی شکل دینے کی کوشش کرتا ہوں، جیسا کہ قیام پاکستان کے بعد کی تعمیرات کی تحقیق پر بہت کام کی ضرورت ہے۔

3- داتا دربار میں مزار کہیں نیچے ہے یا شروع سے قبر مبارک اوپر ہی ہے؟
جواب: دراصل یہ مزار ایک ٹیلے پر تھا، بعد میں کچھ ناگزیر وجوہ کی بنا پر اس ٹیلے کے نچلے حصے کو چاروں اطراف سے دیوار بنا کر محفوظ کرنا پڑا، اس لئے 1960ء- 1970ء کی دہائیوں میں نچلا حصہ دیکھنے والے کچھ لوگ اس کنفیوژن میں ہیں کہ شاید پہلے قبر نیچے تھی، دراصل یہ قبر اپنی اصل جگہ پر اوپر اونچائی پر واقع ہے۔ (ڈاکٹر صاحب نے اس کی مزید تفصیلات سے بھی وضاحت کی)

4۔ آپ کی شاعری کی کتنی کتب ہیں؟
جواب: دو کتابیں ہیں، لیکن ابھی سٹاک ختم ہوا ہے جلد ہی ایک بار پھر شائع ہو جائیں گی۔

5۔ دو سال قبل ایک بار کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ حلقہ ارباب ذوق کی مجلس (ایوانِ اقبال) میں ڈاکٹرغافر شہزاد خوب گرجے برسے، شاید کسی فن پارے پر تنقید کا کوئی مسئلہ تھا (قارئین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ میں اُسی خبر کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے پاس ڈرا سہما بیٹھا رہا کہ کہیں گرج برس کا امکان کہیں سے ایک بار پھر نہ پیدا ہو جائے)

جواب: ہاں یاد آیا! وہ کسی محترمہ کی ایک مطبوعہ غزل پر بحث ہونے جا رہی تھی جس سے میں نے منع کیا کیونکہ حلقہ اربابِ ذوق کے آئین کے مطابق مطبوعہ غزل پر تنقید  کرنا منع تھا تو صدرِ محفل نے مجھے کہا اگر آپ کو کوئی مسئلہ تو آپ باہرچلے جائیں، میں نے جواب دیا کہ آپ اس تنظیم کے رکن ہونے کا جیسا حق رکھتے ہیں ویسا حق میں بھی رکھتا ہوں پہلے آپ باہر تشریف لے جائیں، پھر میں بھی باہر چلتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اُن کی غزل ہم نے سن لی ہے یہی کافی ہے حالانکہ میں اُسے پہلے سے چھپا ہوا دیکھ چکا تھا، چھپنے کے بعد حلقہ اربابِ ذوق میں تنقید نہیں ہوسکتی۔ تو اس بات کا ذکر کسی اخبار میں آیا ہوگا

6۔ میرے لئے آپ کا کوئی پیغام؟
جواب: آپ ویکیپیڈیا پر لکھنے کا بہت اچھا کام کر رہے ہیں، آج شاید آپ کو اندازہ ہو یا نہ ہو ایک وقت آئے گا یہی کام آپ کی پہچان بن جائے گا۔

سوال نمبر پانچ کے جواب کے بعد مجھے تھوڑا سا اطمینان ہوگیا کہ ڈاکٹر صاحب مجھے ماریں گے نہیں، ورنہ میں ان سے ڈرتا بھی تھا/ہوں۔ جیسا کہ ممتاز مفتی نے 'تلاش' میں اس لاحاصل احترام (ڈر) کی خوب کلاس لگائی ہے۔ میرے ہاتھ میں 'ماہنامہ نوائے منزل لاہور' کے ایک گزشتہ شمارے کی کئی کاپیاں تھیں لیکن ڈاکٹر صاحب کو ایک بھی نہ دے کر آیا، دفتر سے باہر نکلتے ہی میں حسیب کو کال کرکے یہ 'بھولنے' والا واقعہ بتا کر کہا، "مینوں کوئی گالھ کڈھ"، آج زندگی میں پہلی بار خود کوئی گالی سننے کو جی چاہا کہ ایک رسالہ دِکھا کر پھر تھیلے میں ڈال کر لے آیا، بہرحال رات کے وقت 'پاک ٹی ہاؤس' میں محمد کامران اختر کے ہمراہ ملاقات میں میگزین کو موصوف کے ہاتھوں میں جانے کا شرف حاصل ہوا۔
ڈاکٹر صاحب ایک شائستہ سنجیدگی سے ملے، انداز فرینک لیکن مہذبانہ تھا۔ میں خود بھی کافی حد  (جتنا مجھ سے ممکن تھا) تک تہذیب کے دائرے میں رہا۔ میں وہاں وکیپیڈیا پر ان کی حیاتی لکھنے کی غرض سے مواد لینے گیا تھا، لہٰذا وہ بھی مل گیا۔ ابھی اس کی ترتیب دینا باقی ہے، پھر اردو وکیپیڈیا پر ایک جامع مضمون نظر آئے گا۔ ان شاء اللہ-

نوٹ: تحریر میں جوابات کے الفاظ میرے اپنے ہیں، ڈاکٹر صاحب کم و بیش یہی کہنا چاہتے تھے، جو باتیں میں نے حذف کی ہیں وہ احتیاطاً کی ہیں

جمعرات، 31 دسمبر، 2015

ڈاکٹر غافر شہزاد کے ساتھ ایک ملاقات

آج (30 دسمبر 2015ء کو) میری ملاقات ڈاکٹر غافر شہزاد سے ہوئی، میں ان کے نام اور کام سے 2013ء سے واقف ہوں۔ البتہ ابھی تک ان کا لکھا ہوا بہت کم مواد میں نے پڑھا ہے۔ وہ ایک ماہر تعمیرات، شاعر، ادیب اور ایک اچھے انسان ہیں۔ شاید 2012ء کے اواخر میں ان کا نام کچھ اخبارات میں میری نظر سے گزرا اور ان کی دلچسپیوں کے محور کا علم ہوا، پھر میں نے 27 جون، 2013 کو اپنے ایک مضمون "سدا ای وسدا رہنا ڈیرہ داتا دا" میں جناب کے حوالے سے ایک جملہ لکھا تھا، "ان تعمیرات کی تاریخ جاننا مقصود ہو تو ڈاکٹر غافر شہزاد کی کتب دیکھیں۔"

کہانی یوں شروع ہوتی ہے کہ سن 2003ء میں محمد ندیمؔ بھابھہ کی شاعری کی پہلی کتاب مجھے ملی اور اس کے تخیلات میری روح میں سرایت کرگئے، 2010ء کے بعد میں نے بھابھہ صاحب کو فیس بک پر تلاش کرلیا پھر موبائل نمبرز کا تبادلہ ہوا اور ہلکی پھلکی علیک سلیک رہی، سن 2014ء کے 6 ستمبر کی رات بھابھہ صاحب نے فیس بک کے میسیج میں میرا حال پوچھا اور ملاقات کی دعوت دی، اگلے روز ان کے گھر (لاہور) میں ملاقات ہوئی۔
گزشتہ ہفتے کے دوران، میں سنگِ میل پبلیکیشنز کی دکان سے ڈاکٹر غافر شہزاد کی داتا دربا کی تعمیر کے متعلق تحقیقی کتاب کا مطالبہ کیا تو وہاں سے اس موضوع پر ایک بہترین کتاب مل گئی، پھر میں نے ندیمؔ بھابھہ سے ڈاکٹر کا موبائل نمبر لے کر رابطہ کیا اور ملاقات کا وقت طلب کیا جو آج دن کے دو بجے کے قریب ملاقات پر منتج ہوا۔ میں نے حسبِ عادت وہاں بہت سی باتیں کیں، سوالات کیے اور ڈاکٹر صاحب بے خندہ پیشانی سے جوابات دئیے اور کمال شفقت فرمائی۔
ڈاکٹر صاحب کے کسی انٹرویو سے مجھے پتہ چلا تھا کہ ان کے بارے میں انگریزی ویکیپیڈیا پر کوئی تذکرہ ہے لہٰذا میں نے 22 جولائی 2013ء اس کا اردو ترجمہ کرکے اردو ویکیپیڈیا پر ایک پیراگراف لکھ دیا تھا جو درج ذیل ہے۔
"عبدالغفور المعروف ڈاکٹر غافر شہزاد ایک پاکستانی ماہر تعمیرات ہیں۔ جنوری 2011 ء میں UET لاہور نے انہیں فن تعمیر میں اپنی سب سے پہلی پی ایچ ڈی جاری کی۔ انہوں نے "Post Independence Architecture in Lahore" کے عنوان سے ایک مقالہ کے ساتھ فن تعمیرات پر بیچلر ڈگری مکمل کی۔ انہوں نے 1999 میں "Symbolic status and Metamorphosis of Minaret in Mosque Complex" کے عنوان سے ایک مقالہ کے ساتھ فن تعمیرات کی ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے "To investigate the Forces Acting as Religious Magnet: The Shrine in Urban Settlements and their impact on Immediate Surrounding" عنوان کے ساتھ، محمود حسین کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کیا :غافر شہزاد نے مزارات، مساجد اور میناروں کے سانچوں اور تعمیراتی پہلوؤں سمیت مختلف تعمیراتی موضوعات پر پندرہ کتابیں لکھی ہے۔"
بعد ازاں اس پیراگراف میں کچھ اضافہ اور بہتری کی گئی ہے۔
میری آج کی ملاقات میں سوالات کچھ اس طرح کے تھے؟
آپ کے نام کا عبدالغفور سے غافر شہزاد تک کا سفر کیسے طے ہوا؟
آپ نے 52 برس کی عمر تک اتنا تحقیقی کام کیا کہ آپ خود ایک ؟حوالہ بن گئے آپ اپنی زندگی کی ان کامیابیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
تخلیقی ادب میں آپ کا حصہ؟
داتا دربار میں مزار کہیں نیچے ہے یا شروع سے قبر مبارک اوپر ہی ہے؟
آپ کی شاعری کی کتنی کتب ہیں؟
میرے لئے آپ کا کوئی پیغام؟
اس کے علاوہ بھی کئی باتیں ہوئیں، ڈاکٹر صاحب نے مجھے اپنی دو تصانیف تحفے میں عنایت فرمائیں اور چائے بھی پلائی (میں خصوصاً چائے کے لئے خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں)

اتوار، 20 دسمبر، 2015

Those having sound knowledge and those in whose hearts is deviation

راسخ العلم اور ٹیڑھے دل والوں کے بیان کا فرق
سورۃ آلِ عمران:-
وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے (7) اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک تو ہے بڑا دینے والا، (8) اے رب ہمارے بیشک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے اس دن کے لئے جس میں کوئی شبہ نہیں بیشک اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا (9)
اہلِ علم اللہ سے ڈرتے ہیں
سورة فاطر:-
اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں بیشک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے، (28)
ــــــــــــــــــ

کیا علم والے اور جاہل برابر ہیں؟
سورة الزمر:-
کیا وہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں، (9)
ــــــــــــــــــــــــــــ
رحمٰن کے بندوں کا جاہلوں کے ساتھ سلوک کا بیان
سورة الفرقان:-
اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام (63)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اللہ کی آیتوں کے انکار کرنے والے کا بیان
سورة الأعراف:-
اور اے محبوب! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا، (175) اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتے مگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں، (176) کیا بری کہاوت ہے ان کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جان کا برا کرتے تھے، (177) جسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے، (178) اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں، (179)
ـــــــــــــــــــــــــ
اللہ اور رسول کے حکم کا انکار کرنے والوں کا انجام
سورة الأنفال:-
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن سنا کہ اسے نہ پھرو، (20) اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا او ر وہ نہیں سنتے (21) بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں (22) اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر سنا دیتا جب بھی انجام کا ر منہ پھیر کر پلٹ جاتے (23) اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے، (24) اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہ پہنچے گا اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے، (25)
ـــــــــــــــــــــــــ

مسلمانوں کی راہ چھوڑنے والوں کا بیان
سورة النساء:-
اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی (115)

بھلائی یا برائی پہنچنے کا بیان
سورة الأنعام:-
اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے (17)
سورة النساء:-
اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا اور اللہ کافی ہے گواہ (79)

کیا اللہ تعالیٰ وعدے (تقدیر) کو تبدیل فرما دیتا ہے
سورة الرعد:-
اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس (39)
ــــــــــــــــــــــ
نبیوں کی عظمت کا بیان
سورة الأنعام:-
وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں، (82) اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی، ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں بیشک تمہارا رب علم و حکمت والا ہے (83) اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان سب کو ہم نے راہ دکھائی اور ان سے پہلے نوح کو راہ دکھائی اور میں اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو، اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو، (84) اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو یہ سب ہمارے قرب کے لائق ہیں (85) اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو، اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی (86) اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی، (87) یہ اللہ کی ہدایت ہے کہ اپنے بندوں میں جسے چاہے دے، اور اگر وہ شرک کرتے تو ضرور ان کا کیا اکارت جاتا، (88) یہ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تو اگر یہ لوگ اس سے منکر ہوں تو ہم نے اس کیلئے ایک ایسی قوم لگا رکھی ہے جو انکار والی نہیں (89) یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو تم فرماؤ میں قرآن پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کو (90)
سورة مريم:-
اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو، بیشک وہ چنا ہوا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتانے والا، (51)  اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا (52) اور اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون عطا کیا (غیب کی خبریں بتانے والا نبی) (53) اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا، (54) اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیتا اور اپنے رب کو پسند تھا (55) اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا، (56) اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا (57) یہ ہیں جن پر ا لله نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے میں سے آدم کی اولاد سے اور ان میں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے راہ دکھائی اور چن لیا جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے (السجدة) ۵ (58)
سورة آل عمران:-
اور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار (باعزت) ہوگا دنیا اور آخرت میں اور قرب والا (45) اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں اور پکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا، (46) بولی اے میرے رب! میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے جب، کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے، (47) اور اللہ سکھائے گا کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل، (48) اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف، یہ فرماتا ہو کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مور ت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اور میں مُردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو، بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو، (49)
ـــــــــــــــــــــــ


توبہ کرنے والوں کا بیان
سورة التحريم:-
اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے قریب ہے تمہارا رب تمہاری برائیاں تم سے اتار دے اور تمہیں باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہیں جس دن اللہ رسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے دہنے عرض کریں گے، اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کردے اور ہمیں بخش دے، بیشک تجھے ہر چیز پر قدرت ہے، (8)