جمعہ، 28 اکتوبر، 2022

اہل بیت کے دشمن مولوی

 عمران خان نے اپنے وزارت عظمی کے پہلے دن اپوزیشن سے کہہ دیا تھا ہم نے 126 دن دھرنا دیا تھا، اگر کسی کو شوق ہے تو پورا کر لے۔ ہم "مولانا" کو کنٹینر خود دیں گے۔ پھر ساڑھے تین سال ن، پی پی، اور مولانا شوق پورا کرتے رہے اور ان کا احتجاج بقول محمد مالک پی ٹی وی پر بھی دکھایا جاتا تھا۔

رہی بات، شہباز شریف کے خادم ادنی کی تحریک لبیک کی غنڈہ گردی کی، تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ انہوں نے جتنے بھی احتجاج کیے اور دھرنے دئیے۔ سب کے سب قرآن و حدیث کے احکامات کی رو سے باطل تھے۔

یہ جاہل لوگ کتاب و سنت کے مقابلے میں ایک جعلی شدت پسندانہ ذہنیت بنائے بیٹھے ہیں اور ان کا حتمی مقصد صوبہ پنجاب میں ن لیگ کی جماعت کی حمایت کرنا ہوتا ہے۔

طاقتور طبقات اور ٹی۔ ایل۔ پی۔ میں گھسے امریکی کرداروں نے ان جنونی شدت پسندوں کو خوب خوب استعمال کیا اور تحریک انصاف کی حکومت کو مفلوج کیے رکھا۔

جس کے باعث حکومت کے لوگوں کو دباؤ میں رکھا گیا۔ یہ اسلام کے جھوٹے مبلغین، اسلامی تعلیمات کے عین برعکس خطابات کرتے رہے اور مسلمانوں ہی کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر بھرتے ہیں۔

مولوی خادم حسین نے ساری زندگی زہر آلود زبان استعمال کر کے نفرت پھیلا کر جو بھی لوگ اکٹھے کیے، انہیں عرفان شاہ مشہدی کے بھائی محفوظ مشہدی کی جھولی میں ڈال دیا اور اس نے نون لیگ کے ساتھ الحاق رکھا ہے اور یوں ہمیشہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی اور مولوی خادم کی محنت کا پھل نون لیگ نے کھایا۔

خادم رضوی کی برین واشنگ کرنے میں حزب التحریر(خوارج) کا بہت کردار رہا ہے، جس کا ذکر انہوں نے "خفیہ نوجوان" کے عنوان سے سہیل وڑائچ کے ساتھ انٹرویو میں کیا ہے۔ وہاں سنا جا سکتا ہے۔

یہ جماعت امریکی مقاصد کے لیے خوارج کے جیسی سخت زبان استعمال کرنے والی جماعت ہے۔ اور وہی آیت("ان الحکم الا للہ") پڑھتے ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ لڑنے والے خوارج پڑھتے تھے۔

برطانوی غنڈے عرفان شاہ مشہدی کا بھائی، محفوظ مشہدی پنجاب اسمبلی کا رکن رہا ہے اور آج بھی نون لیگ کا رکن ہے۔ اور یہ بندہ مولوی اشرف آصف جلالی کے پیر کا بیٹا ہے تو اب وہ اپنے پیروں کے خلاف تو نہیں بولے گا۔

پیر خواہ کتنا ہی کرپٹ کیوں نہ ہو، وہ اپنے اندھے عقیدت مندوں میں تو جنت کے ٹکٹ بانٹتا پھر رہا ہوتا ہے۔

*یہ تو تھیں، اس طبقے کی سیاسی خدمات*

اب ایک نظر ڈالتے ہیں ان کی مذہبی خدمات پر۔ ان میں سے کسی مولوی یا پیر نے ایک بھی ایسی کتاب نہیں لکھی جسے کوئی کتاب کہا جائے، (گرامر کی کتاب علیحدہ موضوع ہے)

اور خوارج کی پیروی میں یہ طبقہ دس محرم کو حضرت علی اور اہل بیت کے دشمنوں پر سیمینار کرتا ہے۔ 2018ء میں اونچی مسجد اندرون بھاٹی گیٹ لاہور میں بھی خطاب کا یہی موضوع تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی بار یہ چاند چڑھایا ہے کہ دشمنان اہل بیت کے سیمینار رکھے گئے، اور انہیں بے گناہ قرار دیا گیا۔

ارشد شریف اگر دنیا سے چلا گیا تو قیامت تک جینے کا سرٹیفکیٹ کسی کے پاس نہیں ہے۔

میں نے بہت سے جو کام خوف کی وجہ سے روکے ہوئے تھے، اور مزید پختہ ہونے کا منتظر تھا اب آہستہ آہستہ اپنی قوم کی دبی ہوئی آواز کو آزاد کرنے کی کوشش میں ہوں کہ اپنے حصے کا کام کر جاؤں۔

*مر تو میں نے بھی جانا ہی ہے تو اب ڈر سے باہر کیوں نہ نکلا جائے*

آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ جن مولویوں اور پیروں کا سارا زور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دشمنوں کو نیک ثابت کرنے میں لگتا ہے اور ساری زندگی اسی موضوع پر وعظ کیا ہو، کیا وہ بھی امت مسلمہ کے ساتھ مخلص ہیں؟

مولوی خادم نے پنجابی میں واضح طور پر کہہ رکھا ہے کہ "ہم نہیں مانتے تمہاری تحقیقات کو۔ ہم ان تحقیقات کو دور پھینک دیں گے۔"

کیوں نہیں مانتے؟

حدیثوں کی کتابوں میں اور سیرت و تاریخ کی کتابوں میں سب موجود ہے تو پھر بھی کیوں نہیں مانتے۔

یہ سیدھا سا فارمولا ہے کہ جو اہل بیت رسول پاک کے وفادار نہیں اور جو لوگوں اہل بیت کے دشمنوں کو ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہی لوگ ہر دور کے کرپٹ اور خائن حکمرانوں کے حق میں بولتے ہیں۔

اگر واضح طور پر ان کے حق میں نہ بولیں تو بددیانت حکمرانوں کے خلاف بولنے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف بول کر کرپٹ لوگوں کی طاقت بنتے ہیں اور یہی کام بریلوی، دیوبندی اور وہابی علماء کی اکثریت نے پاکستان میں کیا ہے۔

میں ان کے مکروہ چہروں سے مزید نقاب اتار دوں کہ 2013ء میں جب مصر کے خوارجی حکمران ڈاکٹر مرسی پر مارشل لاء کا نفاذ ہوا تو پاکستان کے مولوی اور مفتی اس کے حق میں بولے۔

لیکن جب ترکی کے ظالم بادشاہ رجب طیب اردگان نے تھوڑا عرصہ بعد اپنے ملک میں فتح اللہ گئولن کی تحریک کو برباد کیا تو کوئی مولوی نہیں بولا کیونکہ وہ صوفیاء کی جماعت ہے۔ اگر وہ بھی خوارج کی جماعت ہوتے تو جماعت اسلامی سے لے کر مفتی منیب الرحمان تک سب کو درد ہوتا۔

عبدالرزاق