Palestine لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Palestine لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 7 ستمبر، 2014

عمران خان اور طاہر القادری کا جرم عظیم

شام ڈھل رہی تھی، جب میں ایک دوست کے ہمراہ شاہراہ دستور پر پہنچا۔ انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کے شرکا کو یہ تو معلوم تھا کہ آج آگے بڑھنا ہے، لیکن کس طرف کو آگے بڑھنا ہے، یہ معلوم نہ تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا خطاب شروع ہوا تو ان کے تیوروں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ تہیۂ طوفان کیے ہوئے ہیں۔
اصغر عبداللہ


mohammad_asghar_abdullah@yahoo.com

اور پھر جیسے ہی انھوں نے اعلان کیا کہ آج یہ دھرنا پرامن طور پر پارلیمنٹ ہاوس کے مقابل سے وزیر اعظم ہاوس کے مقابل منتقل کر دیا جائے گا، تو انقلاب مارچ کے شرکا کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنا سے نکل کر قریب ہی عمران خان کے دھرنا میں آیا تو آزادی مارچ کے شرکا بھی پیش قدمی کے لیے تیار تھے۔
جس لمحہ عمران خان نے اعلان کیا کہ آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے، یوں لگا جیسے وہاں موجود سب لوگ یہی چاہتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ انقلاب مارچ کے شرکا کے برعکس آزادی مارچ کے شرکا کو پیش آمدہ خطرے کا مطلق احساس نہ تھا۔ دونوں دھرنوں میں عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، لیکن حیرت انگیز طور پر وہ ہراساں نہ تھے۔ میں نے دو افراد سے، جو خاندان سمیت دھرنوں میں شریک تھے، اس کی وجہ دریافت کی، تو ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے قائدین اس خطرناک صورت حال میں کئی دن سے ان کے درمیان موجود ہیں، تو وہ بھی ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اخباری زندگی میں جماعت اسلامی سمیت متعدد سیاسی پارٹیوں کے اجتماعات دیکھے، لیکن جو جذبہ، جو ولولہ اور جو کمٹمنٹ عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں دیکھی، کہیں اور نہیں دیکھی۔ ان کارکنوں کو اپنے گھر بار چھوڑے دو ہفتے گزر چکے تھے، اس کے باوجود ان کے چہروں پر کوئی ملال نہیں تھا۔ ایک ہی نعرہ ان کی زبان پر تھا کہ جب تک ان کے گھر سے نکلنے کا مقصد پورا نہیں ہو گا، وہ واپس نہیں جائیں گے۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ حکومت کو یقین ہے کہ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری کے ہمراہ وزیر اعظم ہاوس کی طرف پیشقدمی نہیں کریں گے۔
سو، آج رات وہ دونوں دھرنوں سے الگ الگ نمٹ لے گی۔ لیکن حکومت کی یہ منصوبہ بندی اس وقت دھری کی دھری رہ گئی، جب انقلاب مارچ کے بعد آزادی مارچ نے بھی وزیر اعظم ہاوس کی طرف بڑھنے کا اعلان کر دیا۔ عمران خان کا قافلہ، ڈاکٹر طاہر القادری کے قافلہ کے پیچھے روانہ ہوا، تو اول اول یوں معلوم ہوا، جیسے پولیس نے دونوں مارچوں کو راستہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عمران خان نے اپنے کینٹینر سے کہہ بھی دیا کہ پولیس پیچھے ہٹ گئی ہے۔ لیکن ابھی فضا میں اس اعلان کی گونج باقی تھی کہ اگلی سمت سے شور بلند ہوا، اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹکراو شروع ہو گیا۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں کی فائرنگ نے قیامت کا سماں برپا کر دیا۔ ستم یہ تھا کہ جب آگے سے پولیس نے مظاہرین پر حملہ کیا تو وہ پولیس جس نے پہلے راستہ چھوڑ دیا تھا اور پیچھے ہٹ گئی تھی، وہ بھی اطراف سے مظاہرین پر ٹوٹ پڑی۔
یہ بڑے ہی دلدوز مناظر تھے۔ عورتیں اور بچے چیخ رہے تھے۔ کئی عورتیں اپنے بچوں کو پکارتی، ڈھونڈتی ادھر ادھر بھاگ رہی تھیں۔ آنسو گیس کی شیلنگ اتنی زیادہ تھی اور اس کے دھوئیں میں کیمیکل اتنا تیز تھا کہ سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے گیلا رومال آنکھوں پر پھیرا، لیکن جلن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ شاہراہ دستور اب کسی میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ عمران خان اور طاہر القادری کے کارکن، ان کے کینٹینروں کے گرد پرانوں کی طرح اکٹھے ہو گئے تھے۔
اندیشہ محسوس ہو رہا تھا کہ اگر اس جذباتی فضا میں عمران خان اور طاہر القادری کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، تو بہت خون خرابہ ہو گا۔ آنسو گیس کی شیلنگ میں ایک بار پھر شدت آ گئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں اسٹریٹ لائٹس بھی بند ہو گئیں، تو شاہراہ دستور کی اس رات کی ہولناکی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نڈھال ہو کر میں اور میرا دوست سڑک سے اتر کر ایک طرف بیٹھ گئے۔ شاعر انقلاب، فیض احمد فیضؔ کے نظم ’’ ملاقات ‘‘ یاد آ گئی، جو انھوں نے اس وقت لکھی تھی ، جب 1953 میں ان کو ’’ بغاوت ‘‘ کی ’’جرم‘‘ میں منٹگمری جیل میں قید کر دیا گیا ؎
یہ رات اس درد کا شجر ہے
جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں
میں لاکھ، مشعل بکف ستاروں
کے کارواں، گِھر کے کھو گئے ہیں
ہزار مہتاب اس کے سایے
میں اپنا سب نور، رو گئے ہیں
میں اس رات بھی یہ سوچ رہا تھا، اور آج بھی سوچ رہا ہوں کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا ’’جرم‘‘ کیا ہے کہ ’’ناقابل معافی‘‘ قرار پایا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا مطالبہ اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور انتخابی نظام کو ایک انقلاب کی ضرورت ہے۔ آج سے 23 سال پہلے جب انھوں نے پاکستان عوامی تحریک قائم کی، تب بھی ان کا یہی مطالبہ تھا، ا ور آج بھی ان کا یہی مطالبہ ہے۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان کے پہلے مذہبی رہنما ہیں، جنھوں نے اپنی سیاست کی بنیاد اسلام کے سماجی مساوات کے تصور پر رکھی ہے۔ پاکستان کے مذہبی رہنماوں کی روایتی سیاست سے وہ اس حد تک بیزار ہیں کہ اپنے نام کے ساتھ ’’مولانا ‘‘ کا سابقہ لگانا بھی پسند نہیں کرتے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہ آئین اور قانون کو نہیں مانتے، یا الیکشن کے عمل کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ طویل عرصہ پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں آئین اور قانون پڑھاتے رہے ہیں، ان کی پارٹی دو مرتبہ الیکشن میں حصہ لے چکی ہے، اور2002 میں خود بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ 2013 میں بھی ان کی پارٹی الیکشن میں حصہ لینا چاہتی تھی۔ لیکن جب الیکشن کمیشن پر ان کے آئینی اعتراضات کو سننے سے یکسر انکار کر دیا گیا، تو مجبوراً انھوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی پارٹی بوجوہ کسی الیکشن کا بائیکاٹ کر دیتی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک غیر سیاسی گروہ بن گئی ہے۔ لندن میں ڈاکٹر طاہر القادری اور چوہدری برادران کے درمیان جو دس نکاتی معاہدہ طے پایا تھا، یا انقلاب مارچ کے لیے نکلنے سے پہلے لاہور میں ان کے اور عمران خان کے درمیان جن چار نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان نکات میں سے کوئی ایک نکتہ بھی ایسا نہیں، جو آئین کے دائرہ سے باہر ہو، یا اس سے متصادم ہو، بلکہ حقیقتاً یہ وہ مطالبات ہیں، جن کا آئین پاکستان تقاضا کرتا ہے۔
اس طرح عمران خان کا مطالبہ بھی اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور انتخابی نظام کو بدعنوانی اور دھاندلی سے پاک ہونا چاہیے۔ آج سے 18 سال پہلے جب انھوں نے تحریک انصاف کے قیام کا اعلان کیا تھا، تب بھی ان کا یہی مطالبہ تھا، اور آج بھی ان کا یہی مطالبہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ عمران خان پہلے سیاستدان ہیں اور تحریک انصاف پہلی سیاسی پارٹی ہے، جس نے پاکستان کے سیاسی اور انتخابی نظام میں کرپشن کے خاتمہ کو اپنی سیاسی جدوجہد کا نصب العین قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح عمران خان بھی کوئی پیشہ ور سیاست دان نہیں۔ پاکستان کی سیاست میں کئی کھلاڑی سیاست میں آئے اور گئے، لیکن یہ تنہا عمران خان ہیں، جنھوں نے کامیابی حاصل کی۔ ظاہراً اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے روایتی سیاست کی اور نہ ہمت ہاری۔ تحریک انصاف تین مرتبہ الیکشن میں حصہ لے چکی ہے، لیکن اس کو بریک تھرو ملا 2013 میں، جب نہ صرف یہ کہ وہ خیبر پختون خوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی، بلکہ باوجود مشکلات کے، پنجاب میں بھی دوسری بڑی پارٹی بن کے ابھری۔ الیکشن 2013 کے بعد عمران خان اول دن سے کہہ رہے تھے کہ پنجاب میں ان کا مینڈیٹ ہائی جیک کیا گیا ہے، اور اگر ان کو الیکشن کمیشن سے، سپریم کورٹ سے اور پارلیمنٹ سے انصاف نہ ملا تو وہ ضرور سڑکوں پر آئیں گے۔ اس کے باوجود یہ کہنا یا باور کرانا کہ تحریک انصاف کسی کے اشارے پر حکومت کے خلاف نکلی ہے، سراسر غیر منطقی بات ہے۔
نظر بظاہر یہ آتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا ’’جرم‘‘ یہ ہے کہ انھوں نے سیاست میں ’اسٹیٹس کو‘ کو چیلنج کیا ہے۔ نتیجتاً، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام سیاسی اور غیر سیاسی پارٹیاں، جن کے مفادات ’اسٹیٹس کو‘ سے وابستہ ہیں، ان کے خلاف متحد ہو چکی ہیں۔ لطف یہ ہے کہ جماعت اسلامی، جو خود کو اسلامی انقلابی پارٹی کہتی ہے، وہ بھی پیپلز پارٹی کے شانہ بہ شانہ مصالحت کاری کے نام ن لیگ حکومت کو ریسکیو کر رہی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے ’اسٹیٹس کو‘ کو چیلنج کر کے، جو ’’جرم عظیم‘‘ کیا ہے، وہ واقعتاً ’’ناقابل معافی‘‘ ہے۔ ان کی حالیہ جدوجہد کا نتیجہ جو بھی ہو، پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں اسٹیٹس کو کے خلاف ان کی یہ انقلابی جدوجہد تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ پس دیوار زندان شاعر نے کہا تھا ؎
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

Thanks to Express

منگل، 2 ستمبر، 2014

ڈاکٹروں کا ' گولی کو گولی' کہنے سے گریز

اسلام آباد : پاکستانی انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شارع دستور پر ہفتے کی شب جھڑپوں کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے دو افراد کی ہلاکت " تیز رفتار دھاتی متحرک چیز" کی وجہ سے ہوئی ہے۔
پیر کو جاری بیان میں ہسپتال انتظامیہ نے ان دھاتی چیزوں کو "گولیاں" کہنے سے گریز کیا ہے، تاہم ہسپتال کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان لاشوں کا پوسٹمارٹم کرنے والے رکنی میڈیکل بورڈ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ ان دونوں کو کسی ہتھیار سے گولیاں ماری گئی ہیں۔
ایک گولی ممکنہ طور پر کسی چھوٹے اسلحے جیسے ہینڈ گن سے چلائی گئی تھی جسے رفیع اللہ کے سر سے نکالا گیا ہے، جبکہ گلفام عادل نامی شخص کے زخموں کی نوعیت بھی فائرنگ سے ہونے والے زخموں جیسے ہیں۔
پمز کے منتظم ڈاکٹر الطاف حسین نے بتایا ہے کہ" یہ اموات کسی تیز رفتار دھاتی چیز کی وجہ سے ہوئیں، جن میں سے کچھ کی شکل بدل گئی ہے اور ہم نے انہیں تجزئیے کے لیے سہالہ پولیس سٹیشن کے ماہرین کو بھجوا دیا ہے"۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پمز میں زیرعلاج افراد کے زخم بھی کسی چھوٹے بور کے اسلحے کی فائرنگ سے ہونے والے ان زخموں جیسے ہیں جو دو افراد کی ہلاکت کا باعث بنے۔
پیر کو پاکستان عوامی تحریک(پی اے ٹی) کے حامی اور سابق پولیس اہلکار محمد یوسف، جو ربڑ کی کئی گولیوں کا نشانہ بن کر زخمی ہوئے تھے، کہ گھٹنے سے بھی ایسی ہی دھاتی" چیز" نکالی گئی تھی۔
ڈاکٹر حسین نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دوگھنٹے کے آپریشن کے بعد ایسی ہی چیز ایک اور زخمی عثمان گلفام کی بائیں ران سے بھی نکالی ہے۔
پمز کے ایک سنیئر میڈیکل عہدیدار نے وضاحت کی کہ تیز رفتار چیز جیسے گولی جب فائر کی جاتی ہے تو بہت گرم ہوتی ہے اور یہ کسی ٹھوس شے جیسے انسانی ہڈیوں سے ٹکرانے کے بعد شکل بدل لیتی ہے۔
ان کی رائے میں ہجوم منتشر کرنے والے ہتھیار جیسے کم رفتار ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل سے اس طرح کے زخم نہیں آسکتے جو ہسپتال میں زیرعلاج متعدد زخموں کے جسموں پر ہیں۔
پمز کے سابق میڈیکولیگل آفیسر ڈاکٹر وسیم خواجہ نے ڈان کو بتایا کہ ربڑ کی گولیاں بہت کم ہی انسانی جسم کو پھاڑ کر نکل پاتی ہیں، اور ایسا اسی وقت ہوتا جب انہیں بہت زیادہ قریب سے فائر کیا جائے۔
رفیع اللہ کی لاش سے نکالی جانے والی گولی کو فارنسک تجزیئے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے، پوسٹمارٹم میں شامل رہنے والے افراد نے ڈان کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی تیس بور کی گن سے نکلی ہوئی گولی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس شے کے تجزئیے سے پہلے اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر مجاہد شیردل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پولیس نے خودکار اسلحہ استعمال نہیں کیا، ان کا کہنا تھا" اگرچہ پولیس نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں فائر کیں، مگر انہیں میری یا ایس ایس پی کی جانب سے اتھارٹی نہیں دی گئی تھی"۔
پیر کی دوپہر تک دو سو اسی سے زائد زخمیوں کو علاج کے لیے پمز لایا گیا، جن میں سے 76 کو علاج کے لیے ہسپتال میں رکھا گیا اور پھر ڈسچارج کردیا گیا، تاہم 29 زخمی تاحال ہسپتال میں ہیں اور گیارہ کی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے لیے سرجری کی ضرورت ہے۔ 

 بشکریہ ڈان نیوز اردو
جمال شاہد اور منور عظیم
تاریخ اشاعت 02 ستمبر, 2014

اتوار، 31 اگست، 2014

آپ ایک انسان ہونے کے ناتے کس گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں

بالفرض آپ کسی دفتر میں کام کرتے ہوں اور وہاں صفائی کا کام کرنے والا آفس بوائے ایک فرض شناس اور محنتی شخص ہو جو باقاعدگی سے آپ کے دفتر کی ہر ایک اس چیز کی صفائی کرتا ہو جو روز مرہ کے استعمال میں آتی ہو اور اس کا صاف شفاف ہونا ایک لازمی امر ہو اور آپ کے دفتر کا نظام بالکل ٹھیک طریقے سے کام کر رہا ہو۔ اس میں دوسرے افراد بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سرانجام دے رہے ہوں اور وہ اسی درست راہ پر گامزن ہوں تو۔۔۔۔ اچانک آپ کے دفتر کی صفائی کا ذمہ دار بندہ کام چھوڑ جاتا ہے اس کی کوئی بھی وجہ ہو
پھر ایک نئے آفس بوائے کی تقرری ہوجائے اور وہ چند روز گزرنے کے بعد اپنے فرائض میں کوتاہی برتنا شروع کردے، مثلاً آپ کے دفتر کا پانی والا ٹینک صاف نہ ہوتا ہو یا واٹر فلٹر باقاعدگی سے تبدیل نہ کیا جائے، وہ فرش کو تو روزانہ صاف کردے لیکن الماریوں کے اندرونی خانوں میں مکڑیوں کے جالے بن جائیں اور کھڑکیوں کے باہر گندگی جم جائے، دفتر کے دوسرے ارکان خوش اسلوبی سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں لیکن ان میں سے اکثر ارکان مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگیں جس کی حقیقی وجہ صفائی کا فقدان ہو لیکن مسئلہ کسی کی سمجھ میں نہ آرہا ہو اور اس طرح کے واقعات ایک معمے کی صورت اختیار کرجائیں
اسی دوران میں آپ کی کمپنی کی کسی دوسری برانچ سے ایک تنقیدی ذہن رکھنے والا ایک ذمہ دار رکن اس دفتر میں مقرر ہوجائے اور وہ حالات کا معروضی جائزہ لے کر اس مسئلے کے اسباب کی نشاندہی کردے۔ لیکن ٹھہریئے! اگر اس سے قبل ایک اور نمائندہ حالات کی جانچ پرکھ کرکے اصلاح کا یجنڈا لے کر آپ کے دفتر میں نظامِ صفائی کو درست کرنے کی ٹھان لے اور آپ کے دفتر کی بہت سی املاک کو توڑ کر برباد کردے، اس کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ تو صفائی کا نظام درست کررہا ہے اس طرح وہ کمپنی کو بھاری مالی نقصان پہنچا ڈالے لیکن ہمیشہ اس کو پیار سے سمجھایا جاتا رہے اور امن کو ایک اور موقع دیا جاتا رہےاس نقصان پہنچانے والے سے ایک لمبے عرصے تک مذاکرات کیے جاتے رہیں لیکن دفتر کے دیگر اراکین چیخ چیخ کر کہتے ہوں کہ یہ بندہ جب بھی کسی قیمتی چیز کو صفائی کے نام پر توڑتا ہے تو ہماری تنخواہوں سے فنڈ اکٹھا کرکے دوبارہ نیا سامان خریدا جاتا ہے ہمارے ساتھ یہ نا انصافی کیوں ہوتی ہے، ساتھ ساتھ کچھ اراکینِ دفتر اس مصلح کے ایجنڈے کے خلاف باتیں کرتے رہتے ہوں اور ایک ایسا وقت آئے کہ اس موذی رکن سے جان چھڑوائی جانے کے فیصلے کا وقت آجائے دفتر کا ہر بندہ اس کے کرتوتوں سے متنفر ہو لیکن دفتر کا مینیجر اس نقصان دہ شخص کو دیدہ دلیر اور بے شرم ہونے کی وجہ سے سپورٹ کرتا ہو اور اسے اپنے لئے ایک قیمتی اثاثہ سمجھتا ہو۔ اتنے میں دفتر کے سب لوگ اکٹھے ہوکر اس شخص کو دفتر سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کردیں بلکہ اس کی موجودگی میں کام کرنے سے انکار کردیں، اس طرح دفتر میں کام چھوڑ ہڑتال ہو جائے اورمینیجر صاحب بادلِ نخواستہ اس نقصان دہ شخص  کو فارغ کردینے کا عندیہ بھی دے دیں۔
   اتنے میں وہ نیا رکن جو کسی دوسری برانچ سے آیا ہو وہ آکر بتائے کہ اس مسئلے کا حل بتائے کہ قیمتی املاک کا نقصان نہیں بلکہ ان کی صفائی کرنے کے لئے جو بندہ مامور ہے اسے اپنے فرائض ٹھیک طریقے سے سر انجام دینے چاہئیں ورنہ اسے بھی دفتر سے چلتا کرو ۔ اور ایک نیا آفس بوائے بھرتی کرلو جوباقاعدگی سے بروقت صفائی کرے۔ دفتر کے اکثر اراکین اس کی اس تجویز سے اتفاق کرلیں اور یہ نیا لائحہ عمل لے کرمینیجر کے پاس چلے آئیں، اتنے میں وہ پرانا نقصان دہ شخص دفتر میں اپنی آخری تنخواہ لینے آتا ہے اور اسے اپنی ملازمت کی برطرفی کا دکھ بھی ہوتا ہے اسے اس نئی پیدا ہونے والی صورت حال کا پتہ چل جائے اور اب وہ مینیجر اور آفس بوائے کو  کسی طرح  ایک سازش کے ذریعے یہ سمجھانے میں کامیاب ہوجائے کہ یہ نیا آنے والا ساتھی ہمارے دفتر کا نظام سمیٹنا چاہتا ہے یہ ایک گروپ بن چکا ہے اور یہ سب اراکینِ دفتراس دفتر پر یا تو قبضہ کرنا چاہتے ہیں یا پھر اس دفتر کو بند کراکے آپ کا دھندہ ختم کرانے کی سازشیں کر رہے ہیں، مینیجر چونکہ پہلے ہی اس بیوقوف شخص کے ساتھ رعایت سے کام لیتا تھا چاہے اس سے سب کا نقصان ہوتا ہو اور اب اس کی چھٹی کے بعد اپنی انا کا مسئلہ بنا لے کہ میں آفس بوائے کو فارغ نہیں کروں گا۔ اور آنے والےنئے ساتھی کی بات نہیں مانوں گا چاہے سب کا نقصان ہو اور سب بیمار ہوں، دفتر کا قیمتی سامان برباد ہوجائے۔ چاہے اس طرح کی صورت حال سے آہستہ آہستہ ویسےہی کمپنی کی یہ شاخ بند ہوجائے لیکن اب میرے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ حالانکہ سیدھی سی بات ہوکہ باقاعدہ پانی والے ٹینک کی صفائی ہوتی رہے، واٹر فلٹر اپنی مقررہ مدت کے بعد تبدیل ہوتا رہے، الماریوں کی صفائی ہوتی رہے اور کھڑکیوں، روشندانوں کی صفائی درست طریقے سے ہوتی رہے تو اس سے بہت سے مسئلے حل ہوجائیں گے، کیونکہ باقی اراکین تو اپنے فرائض کو ٹھیک طریقے سے نباہ رہے ہیں ناں! اب وہ پرانا بندہ کبھی درپردہ آفس بوائے کو دیگر ملازمین کے خلاف بھڑکاتا رہے اور کبھی کھل کر مینیجر سے ملاقاتیں کرکے دیگر ملازمین پر مختلف قسم کی زیادتی کی وارداتیں کرنے کے منصوبے بناتا رہے، اتنے میں وہ مینیجر ایک دن غصے میں آکر بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر ، انصاف پسند اور امن پسند گروپ کے بندوں پر کرائے غنڈوں سے فائرنگ کرواکے ان میں سے کچھ کو قتل اور کچھ کو زخمی کروادے۔
اب صورت حال ذرا گمبھیر/گھمبیر ہوجائے اور اس مینیجر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جانے لگے، اسی دوران میں دفتر میں غیر جانب دار ملازمین کا ایک اور گروپ سامنے آجائے جو رشوت لے کر مینیجر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جائے، اور امن پسند انصاف پسند گروپ کی مخالفت پر اتر آئے۔ یہ نیا گروپ اب قتل ہونے والے گروپ کے لوگوں کو ظالم/دہشتگرد اور غنڈوں کا لقب دینے لگ جائے۔ اور انصاف پسند/امن پسند گروپ کے نئے آنے والے ساتھی کی ذات میں کیڑے نکال نکال کر، الزام لگا کر دوسروں کو ان سے متنفر کرتا پھرے اور ان کے خلاف بھڑکاتا پھرے تو آپ کس گروپ کا ساتھ دیں گے، ظالم مینیجر والے بے غیرت گروپ کا! یا پھر مظلوم گروپ والے امن پسند انصاف مانگنے والے گروپ کا؟
اگر چند روز کے بعد جب انصاف مانگنے والے مینیجر کے کمرے کے باہر اس کا استعفیٰ طلب کررہے ہوں اور کمپنی میں اس ناسور کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہوں تو ان نہتے اراکین پر ایک بار پھر ظلم ستم کرکے ان کے بے گناہ ساتھیوں کو قتل کردیا جائے ، ان کے مقتول اور زخمی ساتھیوں کو غائب کر دیا جائے تو آپ ایک انسان ہونے کے ناتے کس گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں
1۔ غیر ذمہ دار آفس بوائے کے ساتھ
2۔ نقصان دہ مصلح کے ساتھ
3۔ ظالم مینیجر اور اس کے درندوں کے ساتھ
4۔ یا امن پسند انصاف مانگنے والوں کے ساتھ
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دفتر کا بیڑہ فرق ہونے/کرنے سے بہتر تھا کہ صرف ایک ذمہ دار آفس بوائے کا تقرر کیا جاتا اور نقصان دہ فریق کو اپنی من مانی کرکے کھل کھیلنے کا موقع نہ دیا جاتا؟

اتوار، 13 جولائی، 2014

شریعت کے جھوٹے دعوے دار!!!

ان شریعت کے جھوٹے دعوے دار شدت پسند ظالموں سے اس قسم کے ناپاک اور کراہت آمیز فعل کی توقع کوئی اچنبھے کی بات نہیں جیسا انہوں نےملکِ شام میں جنسی جہاد کرکے کیا، ان کے پیشرؤوں نے اڑھائی صدیاں قبل عرب (وادی حجاز) میں پھر تقریبا پونے دو صدی قبل یہاں متحدہ ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں میں’’جہاد‘‘ کے نام پر جو فساد بپا کیا تھا جس کا منطقی انجام 1831ء میں ان جاہل درندوں کے قتل سے ہوا، اور تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر پر قابض کافر انگریز ان وہابی خوارج کی پشت پناہی کررہے تھے!!! پھر انہوں نے ہندوستان میں انگریز کی کاسہ لیسی اختیار کی اور’’سر‘‘ اور’’شمس العلماء‘‘ کے خطابات انگریز سے حاصل کئے
جبکہ اس دور میں مسلمان علماء و مشائخ اور مفتیان کرام کو کالے پانی کی سزائیں دی جا رہی تھیں جن میں مجاہد اعظم مولانا فضل حق خیرآبادی کا نام شامل ہے اور مسلمان علماء کو انگریز کے خلاف جہاد کے فتاویٰ دینے کی پاداش میں دلی کے چاندنی چوک میں پھانسی دی جا رہی تھی اور سر سید احمد خان و ڈپٹی نذیر احمد دہلوی جیسے غدار وہابی انگریزوں کی غلامی کو سندِ افتخار بتاتے پھر رہے تھے، ایک طرف مساجد کو مسمار کیا جا رہا تھا کہیں مساجد کو تالے لگائے جا رہے تھے تو کہیں مساجد کو گھوڑوں کے اصطبل میں تبدیل کیا جا رہا تھا اور دلی کی گلیاں مسلمانوں کے خون سے برساتی نالوں کا منظر پیش کر رہی تھیں اتنے میں انگریز کے ایما پر اور امداد سے حتیٰ کہ ہندؤں کے چندے سے ایک’’دارالعلوم دیوبند‘‘ قائم ہونے کے شادیانے بج رہے تھے، ایک صدی بعد اس دارالعلوم کے صد سالہ جشن میں بیٹھی ایک کافر و مشرک عورت جس کا لباس بھی غیر اسلامی تھا، کس طالبانی شریعت کی نمائندہ بنی ہوئی تھی؟ طالبان خوارج کا ایک بھیانک روپ ہے اور اس نے دیوبندیت یعنی حد درجے کی منافقت کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور دیوبندیت کا ماخذ وہابیت ہے جس کا تصور اور تعارف‘‘ہمفر’’ نے اپنی ڈائری میں بیان کیا ہے، ان کا مؤسس اعلیٰ ایک کذاب، نبوت کا جھوٹا دعویدار، محمد بن عبدالوہاب تھا، جس کے’’شرپسندانہ‘‘  اقدامات کے خلاف اس کے محترم والد اور بھائی نے خوب علمی کام کیا حتیٰ کہ اس کے بھائی نے اس کے خلاف ایک کتاب لکھی چونکہ سابقہ باطل فرقوں کی طرح وہابی بھی اپنے بانی محمد بن عبدالوہاب کے نام پر’’محمدی‘‘ کہلوانا چاہتے تھے لیکن مسلمان علماء و مفتیان کرام اور مشائخ عظام نے بروقت ان کے دجل و فریب کا محاسبہ کیا اور دین محمدی کا ٹائٹل ہائی جیک ہونے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کیا، پھر یہ فتنہ وہابیت، وہابیہ اور وہابی کے نام سے معروف ہوا، حتیٰ کہ انیسویں صدی عیسوی کے آخری ربع میں ہندوستان کے انگریزی پالتو وہابیوں نے اپنا ٹائٹل وہابی سے’’اہلحدیث‘‘ منظور کروایا جہاں وہابیت سے بہت سے فتنے نمودار ہوئے وہاں سائنسی طرز پر تحریکی کام کرنے والی شدت پسند تحریکوں کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا جن میں
1. جماعت اسلامی
2. اخوان المسلمون
3. تنظیم اسلامی
4. حزب التحریر سمیت بہت سی تنظیمیں ایسی سائنٹیفک بنیادوں پر مارکیٹ میں لائی گئیں کہ وہ مسلمان عوام میں آسانی سے قدم جما سکیں اور ان کے بھولے بھالے معصوم بچوں کے جہاد کے نام پر ورغلا کر زمین پر فساد پھیلانے کے لئے استعمال کیا جا سکے اگر امریکہ و ہمنوا طالبان اور وہابیوں کے دشمن ہیں تو یہ شام میں اس وقت بھی کیوں ہم پیالہ و ہم نوالہ ہیں، پاکستان سے لشکر جھنگوی سابقہ نام نہاد سپاہ صحابہ پاکستان (اور موجودہ جھوٹی تنظیم اہلسنت والجماعت) کے درندے اور تحریک طالبان کے ظالمان کس انعام کی خاطر شام میں امریکہ کے ایما پر خون کی ہولی کھیل رہے ہیں؟ طالبان اور ان کے ہمنوا فسادیوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ یہ عوام الناس کو فلسطین کے بچوں پر ہونے والے اسرائیلی ظلم کی وڈیوز دکھا دکھا کر جذباتی طور پر اپنا حمایتی بناتے ہیں لیکن لڑائی کرنے ملک اسرائیل میں کبھی نہیں جاتے، وہابی فسادیوں کا ملک اسرائیل کے خلاف جنگ کرنے کے لئے جانا تاریخ میں ایک بار بھی ثابت نہیں ہے اس کی وجہ نہایت واضح ہے کہ فلسطین کی سر زمین، یمن کے قزاقوں نے لارنس آف عریبیہ کے طوفان کے بعد برطانوی سلطنت کو اپنی حکومت کے عوض، ایک معاہدے کے تحت صبح قیامت تک کے لئے لکھ کر دستخط کر کے دے دی تھی اور برطانوی سامراج اس سرزمین پر ایک یہودی صیہونی ریاست قائم کروانے میں بظاہر کامیاب ہو گیا
اب چونکہ سعودی عریبیہ امریکہ کا وفادار ہے اور وہابی دیوبندی فسادی فرقےسعودی عرب کے ریال کھانے والے ہیں اور امریکہ کے ڈالروں پر پلتے ہیں لہٰذا ان ظالموں کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ اپنے آقاؤں کے چہیتے ملک اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لئے جائیں، حال ہی کی بات ہے ستمبر 2013 میں جب امریکی ملک شام پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو سعودی عرب مکمل امریکی اعتماد میں تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کئی عرب ممالک امریکہ کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروا رہے تھے اور پاکستان میں وہابی شدت پسند تنظیموں کے ایجنٹ اچھل اچھل کر امریکہ کی حمایت کا پروانہ جاری کر رہے تھے ان کو خوشی اس بات کی تھی کہ امریکہ کے ہاتھوں ملک شام کے شدت پسند شیعہ حکمران بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوگا پھر وہاں وہابی ‘‘خلافت’’ قائم کی جا سکے گی جو شام کے 80 فیصد اہل سنت کو دبا کر رکھے گی اور شیعہ کا تو جڑ سے صفایا کردے گی ایسے حالات میں سعودی عرب کے کسی وہابی نام نہاد مفتی کا یہ اجازت نامہ جاری کردینا کہ ملک شام میں جاکر جنسی جہاد جیسا حرام زادوں والا کرتوت جائز تھا، یہ ان کے نزدیک ایک چھوٹا سا جرم تھا کیونکہ انہوں نے تو شرک و بدعت کے نام پر اہل بیت کرام، صحابہ کرام اور اولیاء عظام کے مقدس مزارات کو شہید کرنے سے دریغ نہیں کیا، پاکستان میں تقریبا تمام بڑے مزارات پر بم دھماکے ان لوگوں نےکر لئے ہیں، لیبیا کے معمر قذافی کو اقوام متحدہ میں کی گئی ایک کھری تقریر مہنگی پڑ گئی ورنہ اس کی رعایا میں سے تو بیٹا اپنے باپ کی بادشاہ کے خلاف تنقید کو برداشت نہیں کرتا تھا وہاں بھی وہابیت کے ناسور سے ظلم و ستم کا کام لیا گیا اور’’حزب التحریر‘‘ کے فارمولے کے مطابق فوج (شامی فوج کی طرح) کو دو حصوں میں تڑوا کر آپس میں خون کی ہولی کھیلی گئی، مالے میں پانچ اضلاع میں وہابی شریعت کے نفاذ کے بعد اور مزارات کے انہدام کے بعد فرانس کو بھی اس پر حملے کا جواز مل گیا اور لیبیا سمیت بہت سے افریقی مسلم ممالک میں اہل سنت والجماعت ان وہابی ظالم درندوں کے زیر عتاب ہیں وہابیہ کے منہ کو روز اول سے معصوم لوگوں کا خون لگ گیا ہے اور یہ بھیڑئیے کی طرح شکار کی تلاش میں رہتے ہیں ان کی اس خوبی میں سلفی اور دیوبندی وغیرہ کی کوئی تمیز نہیں ہے یہ تمام درندے ہیں، انہوں نے تو معاذاللہ، اللہ کے پاک پیغمبر کے دربار اقدس پر حاضری کو شرک گردانا ہوا ہے اور حتیٰ کہ ان ظالموں نے تو ہمارے پیارے نبی پاک صاحب لولاک رحمۃ اللعٰلمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے مزار اقدس کو شہید کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن جس نبی کو یہ (نعوذ باللہ) مردہ کہتے تھے اللہ عزوجل نے اسی نبیِ رحمت کی قبر انور کو ان فسادیوں سے محفوظ رکھ کر یہ ثابت فرما دیا کہ یہ فسادی جھوٹے ہیں

  1. http://en.wikipedia.org/wiki/Sufism#Current_attacks
  2. http://en.wikipedia.org/wiki/Destruction_of_early_Islamic_heritage_sites_in_Saudi_Arabia
  3. http://www.dailymotion.com/video/xwbzgx_hillary-clinton-admits-the-u-s-government-created-al-qaeda_tech
  4. http://www.dailymotion.com/video/x1a73ii_hillary-clinton-we-created-al-qaeda_news
  5. http://en.wikipedia.org/wiki/Treaty_of_Jeddah
  6. http://en.wikipedia.org/wiki/Treaty_of_Darin
  7. http://en.wikipedia.org/wiki/Treaty_of_Jeddah_(1927)