جمعہ، 5 جون، 2015

آہ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر آفتاب اصغر

پاکستان کے سب سے بڑے فارسی دان، ماہر اقبالیات، ریسرچ سکالر، محقق اور تاریخ دان ڈاکٹر آفتاب اصغر چار یوم قبل انتقال کر گئے۔
 انکی عمر پچھتر سال تھی اور انہیں اتوار کو نیوکیمپس قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مجھ جیسے کم علم قارئین کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ اس جہاں سے علم و ادب کا کوئی آفتاب اٹھ گیا۔ وہ اورینٹل کالج جامعہ پنجاب شعبہ فارسی کے سربراہ اور جامعہ پنجاب اولڈ کیمپس میں فردوسی چیئر کے پہلے چیئرمین بھی رہے۔ انہوں نے تہران یونیورسٹی سے ایم فل اور فارسی تاریخ نویسی کے مشکل ترین موضوع پر پی ایچ ڈی کیا۔ انہیں علامہ عابدی کا شاگرد ہونے پر فخر تھا۔ پورا ایران انکی فارسی دانی اور صلاحیتوں کا معترف اور گرویدہ تھا۔ ایران میں انکا نام اور حوالہ سب سے معتبر اور مضبوط سمجھا جاتا تھا اور سمجھا بھی کیوں نہ جاتا کیونکہ اس سے پیشتر فارسی اور اہالیان ایران کی محبت میں بہت سے پاکستانی سکالرز نے بہت کچھ لکھا لیکن ڈاکٹر آفتاب اصغر کا کام اور تحقیق سب سے منفرد اور نمایاں رہی۔ انکے علمی و تحقیقی کام میں تاریخ نویسی فارسی، ارمغان کشمیر، تاریخ مبارک شاہی، مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کا فارسی ترجمہ، مرنے کے بعد کیا ہو گا.... کا فارسی ترجمہ، حقیقت نماز، حقیقت جہاد، اسلام کے پانچوں ارکان فارسی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے دو دہائیوں کی محنت کے بعد چھٹی سے بارہویں جماعت تک فارسی کی نصابی کتب تیار کیں۔ انہیں ریڈیو تہران پر اردو سروس شروع کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ صدر ضیاءالحق کی فرمائش پر پی ٹی وی پر مثنوی مولانا روم پر ٹی وی سیریل ”ہشت گفتار“ بھی پیش کی۔ انہیں دو ایرانی صدور خامنائی اور ہاشمی رفسنجانی کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہیں دو تحقیقی کتابیں تاریخ نویسی فارسی اور ارمغان کشمیر پیش کرنے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہوا۔ انہوں نے ایوان صدر میں صدر خامنائی اور افغان صدر داﺅد کی موجودگی میں پاکستانی صدر ضیاءالحق کی تقریر کا فارسی میں برجستہ ترجمہ پیش کیا۔ جس پر ایرانی صدر عش عش کر اٹھے۔ ڈاکٹر آفتاب اصغر علامہ اقبال کا بیشتر اردو کلام فارسی کے قالب میں ڈھال چکے تھے کیونکہ حضرت علامہ کا بیشتر کلام فارسی پر مشتمل ہے اور ڈاکٹر آفتاب اصغر تو جیسے پیدا ہی فارسی زبان کیلئے ہوئے تھے۔
سو علامہ صاحب کا کوئی بھی فارسی شعر انکے حافظہ سے محو نہیں تھا اور وہ اسکا برجستہ استعمال کرتے اور ایک ایک جز کے ساتھ اسکا ترجمہ اور تشریح کرتے۔ ان جیسا درست تلفظ والا زباں داں سکالر بھی شاید ہی کوئی ہو، مجھ جیسے جاہل غلط تلفظ کیساتھ شعر پڑھتے تو بہت عمدگی کیساتھ اسکی اصلاح کرتے۔ اہل ادب کی بڑی تعداد الفاظ کی اصلاح اور تلفظ سیکھنے کیلئے ان کے پاس آنا اعزاز سمجھتی۔ فارسی کی مٹھاس اور خوشبو انکی دلکش شخصیت اور سراپے کا حصہ تھی اور تشنگان ادب اس سے اپنی پیاس بجھاتے۔ انہوں نے پاکستان میں فارسی زبان و ادب کی سفارت کا فریضہ بخوبی نبھایا ۔
ضرورت مند اور مستحق طلبہ کی خاموشی سے مدد کرتے، نیو کیمپس قبرستان میں شدید گرمی میں انکی تدفین کے بعد بھی چار گھنٹے تک انکے شاگرد اور احباب ان کی لحد کو آنسوﺅں سے تر کرتے رہے۔
مولانا رومی، نذیری، انوری، حافظ شیرازی، فردوسی، حضرت امیر خسرو، حضرت شیخ سعدی کا کلام انہیں ازبر تھا اور وہ عام گفتگو میں انکا حوالہ دینا نہ بھولتے۔ یوں تو ہمارے کئی محترم فارسی دان دوست ایران بھی جاتے رہتے ہیں اور طلبہ کو فارسی بھی پڑھا لیتے ہیں اور ان میں سے کئی ماہر اقبالیات بھی ہیں لیکن فارسی بولنے اور سمجھنے میں جو روانی، سلاست اور شستگی اور دسترس ڈاکٹر آفتاب اصغر مرحوم کو حاصل تھی وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ نوائے وقت کے سابق دفتر میں ڈاکٹر آفتاب اصغر ایرانی قونصلیٹ کو جنت مکانی مجید نظامی مرحوم سے ملوانے لائے، سابق مدیر سرراہے اسرار بخاری بھی وہاں موجود تھے، وہ مجھ سے ہمیشہ اس بات کا تذکرہ ضرور کرتے کہ ہاشمی صاحب آپکے ڈاکٹر آفتاب اصغر جیسی فارسی تو کوئی بول ہی نہیں سکتا اور انہیں ایرانی قونصلیٹ کیساتھ محو گفتگو دیکھ کر میں بیک وقت رشک اور حسد کا شکار ہو گیا....“
ڈاکٹر آفتاب اصغر مرحوم ہمیشہ بات لمبی کرتے، ان سے فون پر گفتگو ہمیشہ طویل ہو جاتی کیونکہ ہسٹری اور ادب ہم دونوں کا مشترکہ موضوع تھا اور میگزین کے ساتھی یہی سمجھتے رہتے کہ اتنے انہماک اور اشتیاق سے شاید کسی ”معشوق“ کا فون سنا جا رہا ہے، ڈاکٹر صاحب بلاشبہ معشوق اور چاہے جانے کے قابل ہی تھے۔ وہ اور انکی اہلیہ محترمہ تاریخی کرداروں پر میری ریسرچ کو ہمیشہ سراہتے۔ والد محترم ڈاکٹر سعید الدین ہاشمی جو مولانا رومی، حافظ شیرازی اور شیخ سعدی کے بہت بڑے عاشق تھے وہ رات کو گھر میں ہمیں فارسی ضرور پڑھاتے اور انہوں نے صاحبزادیوں کے نام کے ساتھ بھی رومی لگایا ہوا تھا، انکے بارے میں ہمیشہ تفصیل سے پوچھتے۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلق گجرات سے تھا، سو وہاں کی باتیں بہت دلچسپی سے بتاتے۔ اورنگزیب عالمگیر اور شہزادہ دارالشکوہ قادری پر ہماری ڈسکشن ہمیشہ طویل اور جذباتی ہو جاتی اور کبھی میرے لہجے میں تلخی بھی آ جاتی لیکن وہ ہمیشہ اسی کومل لہجے میں گویا رہتے۔
وہ بہت بڑے محب وطن پاکستانی تھے اور پاکستان کو ہندوستان کا غرناطہ کہتے۔ انکے بقول خیبر پی کے کی اصل پہچان تو شیرشاہ سوری، احمد شاہ ابدالی اور بہلول لودھی ہیں۔ وہ خود کو ”نوائے وقتیا“ کہتے اور بتاتے کہ وہ ساٹھ سال سے زائد عرصہ سے نوائے وقت پڑھ رہے ہیں۔ وہ ”نوائے وقت“ کے باقاعدہ لکھنے والوں میں شامل تھے۔ اقبال ڈے اور دیگر قومی ایام پر انکے تحقیقی مضامین نوائے وقت میگزین اور ایڈیٹوریل کی زینت بنتے اور قارئین سے بھرپور پذیرائی پاتے۔
دوشنبہ یونیورسٹی تاجکستان کے پروفیسر سیف الدین اکرم تو علامہ اقبال اور ان کے اتنے بڑے عاشق ہیں کہ انہوں نے اپنے ہال کمرے میں سب سے اوپر دائیں جانب علامہ اقبال اور بائیں جانب ڈاکٹر آفتاب اصغر اور انکی اہلیہ کی تصاویر آویزاں کی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر آفتاب اصغر کی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خالدہ آفتاب لاہور کالج فار ویمن میں صدر شعبہ فارسی رہی ہیں اور لاہور کے فارسی قلمی نسخوں پر ریسرچ انکا خاص موضوع رہا ہے۔ انہوں نے فقیر خانہ میوزیم بھاٹی گیٹ، ایف سی کالج لائبریری، شاہی قلعہ لائبریری اور لاہور میوزیم کی کیٹلاگ بھی بنائی ہیں۔ یہ ساری کیٹلاگ ایک ہی جلد میں ہیں، مغل عہد کی خواتین اور انکا عہد ڈاکٹر صاحبہ کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ میں نے اپنے احباب میں گھر میں فارسی بولنے والا واحد گھرانہ دیکھا، وہ اور انکی اہلیہ محترمہ آپس میں فارسی بولتے سچ مچ طوطا مینا کی جوڑی لگتے۔
انکی وفات کی المناک خبر فارسی دان حلقوں میں نہایت دکھ اور افسوس کیساتھ سنی گئی۔ انکی رحلت بلاشبہ قومی سانحہ ہے، اب کوئی دوسرا ڈاکٹر آفتاب اصغر آنا دشوارہے۔ انکے بھانجے ڈاکٹر ایاز (انگلینڈ)، داماد محمد کمال اور سابق ڈرائیور افتخار بھی انکی اچانک اور بے وقت موت پر بے حد دکھی تھے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ باغ بہشت میں نذیری، انوری، مولانا رومی، حافظ شیرازی، فردوسی، شیخ سعدی اور طوطی ہند حضرت امیر خسرو کی جلوہ صدرنگ اور خوش گفتار محفل میں ان سب سے داد پا رہے ہونگے اور ان سب کے لب پر بس ایک ہی شکوہ ہو گا کہ آفتاب اصغر آنے میں بہت دیر کر دی!
تھک کر یونہی پل بھر کیلئے آنکھ لگی تھی
سو کر ہی نہ اٹھیں گے یہ ارادہ تو نہیں تھا
مجلس ترقی ادب کے سربراہ اور معروف ادیب، محقق، شاعر اور سکالر ڈاکٹر تحسین فراقی نے ڈاکٹر آفتاب اصغر کی رحلت پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: فارسی ادبیات کے ممتاز استاد و محقق ڈاکٹر آفتاب اصغر کی رحلت مشرقی ادبیات کیلئے ایک سانحے کی حیثیت رکھی ہے، وہ فارسی زبان و ادب کے استاد ہی نہیں اس کے مبلغ بھی تھے۔ انہوں نے کئی نسلوں کو فارسی پڑھائی اور ان میں اس بے مثال زبان کا رچاﺅ پیدا کیا۔ تاریخ اسلام پر بالعموم اور برعظیم کی تاریخ پر ان کی بڑی گہری نظر تھی۔ انہوں نے ”تاریخ نویسی فارسی در ہند و پاکستان“ کے زیرعنوان بہت عمدہ تحقیقی مقالہ لکھا جو شائع ہوا اور اہل علم سے حرف توصیف پاتا رہا۔
ڈاکٹر آفتاب اصغر کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ ایک ممتاز مترجم بھی تھے۔ انہوں نے اردو کی متعدد علمی کتب کا فارسی ترجمہ کیا جن میں مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کی تیسری جلد ایک خاص امتیاز رکھتی ہے۔ وہ ایران اور پاکستان کے مابین ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی رحلت میرے لئے ایک شدید ذاتی صدمے اور محرومی کا باعث ہے۔ اورینٹل کالج کے شعبہ اردو سے وابستگی کے بعد میرا ان سے بہت ربط ضبط رہا۔ 1991ءمیں تبریز میں نظامی گنجوی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلئے میں ان کا ہم سفر اور صحبت نشین رہا اور ان کے مائدہ علم سے ریزہ چین رہا۔ ان کی وفات ایک سچے علم دوست اور لفظ کی زندہ قوت پر غیرمتزلزل ایقان رکھنے والے فرد فرید کی موت ہے۔ اللہ ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔
ڈاکٹر معین نظامی سربراہ شعبہ فارسی اورینٹل کالج نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آفتاب اصغر ایک عظیم استاد، دانشور اور ماہر تعلیم تھے، جدید فارسی زبان و ادب پر انکی ماہرانہ دسترس خود اہل ایران کیلئے بھی باعث تعجب تھی۔ انہوں نے کئی قابل قدر تصانیف اور تحقیقی مقالے لکھے، بہت سے محققین کی رہنمائی کی اور سینکڑوں شاگردوں کی علمی و عملی تربیت کی۔ ان کا یہ عملہ صدقہ جاریہ بن کر اخروی فلاح کا باعث ہو گا۔ انکی وفات سے پاکستانی معاشرہ فارسی زبان و ادب اور مشرقی علوم و فنون کے سچے خیرخواہ اور اعلیٰ اخلاق و کردار کے قابل تقلید نمونے سے محروم ہو گیا ہے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔
تصاویر بشکریہ : فیس بک پیج
یہ فیس بک پیج ان کے چاہنے والے چلاتے ہوں گے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں