بدھ، 27 مئی، 2015

اس طرح تو آپ سب سے بڑے چور ہیں

میں (عبدالرزاق): صاحب! غیرت مند بنئے۔ میری تحریر کو اپنی ترتیب و پیشکش قرار دے دیا 

Abdul Razzaq​
Hey Dr, I think this content is my intellectual property, and it can't be used without my permission. Could you please message me back about this or take it down?

Abdul Razzaq​
Hey Dr, I think this content is my intellectual property, and it can't be used without my permission. Could you please message me back about this or take it down?


Dr 
وعلیکم سلام محترم بھت شکریہ آپ نے یاد کروایا میرا مقصد پیغام آگے پہنچانا ھے آپ میرے بلوگ سے میرا سب مواد لے کر اپنے نام سے پہنچائیے فقیر کو کوئ اعتراض نہیں ھوگا صرف مواد میں تبدیلی نہ ھو ماشاء اللہ بھت اچھا کام فراما رھے ھیں آپ بھی سنیت کا فقیر کا رابہ نمبر یہ ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بلاگ یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو مکمّل اجازت ھے میرا مقصد اپنی ذات نہیں صرف پیغام آگے پہنچانا ھے اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے آمین فقیر لاھور میں ھی خطیب ھے آپ جب حکم فرمائیں داتا حضور حاضری کے وقت ملاقات ھو جائ گی ان شاء اللہ


Abdul Razzaq
اول تو یہ کہ شاید آپ نے بلاگ پر بھی مواد چوری کرکے لگایا ہو۔ اور دوسرا یہ کہ میں کیوں کسی کی تحریر کو اپنے نام سے شائع کروں۔ میں تو لعنت بھیجتا ہوں ایسے کردار پر۔ بھئی! کیا آپ کے نزدیک 'سنیت' اسی چیز کا نام ہے کہ جہاں کوئی چیز اچھی لگے اسے چوری کرکے آگے اپنی جائیداد بتاتے پھرو۔ میں کسی سنیت یا اسلام کا ٹھیکے دار نہیں ہوں۔ اگر ہمارا مذہبی طبقہ اس طرح کی گھٹیا حرکتیں کرنے سے باز آجائے تو معاشرے میں کافی بہتری آجائے۔ سیدھی سی بات ہے کہ میری تحریر کو آپ نے شائع کر ہی لیا ہے تو کم از کم اتنی شرم کر لیں کہ وہاں نام ہی میرا لکھ دیں، ورنہ چلو بھر پانی میں ڈوب مریں۔ میں تو کسی شخص کے ساتھ اپنی ذات کے لئے اتنی بحث بھی کرتا جتنا سر آپ کے ساتھ مجھے مارنا پڑا۔ چہ جائے کہ میں وقت نکال کر آپ کو کال کروں اور داتا دربار پر ملاقات کرتا پھروں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ آپ کی عقل اتنی موٹی کیوں ہے۔ سمپلی Edit کرکے وہاں اصل تخلیق کار کا نام لکھتے ہوئےآپ کو موت کیوں پڑ رہی ہے۔


Dr 
please correct ur character nd then say something to any one .... u have taken this data from different books ..... have u written name of those books r authors ....



Abdul Razzaq
میں نے اوپر سب حوالے ساتھ ساتھ لکھے ہیں۔ آپ نے کاپی پیسٹ کرلیا لیکن پڑھا نہیں کہ کیا کیا حوالے ہیں۔ یعنی آپ خود کو چور مانتے ہوئے شرما رہے ہیں۔



Dr
۔"محترم عبد الرّزاق صاحب اس طرح بیہودہ گفتگو آپ سے متوقع نہیں تھی اس طرح تو سب سے بڑے چور ھیں کیا یہ سب آپ نے مختلف جگہ سے چوری نہیں کی جو حوالے آپ دے سکتے ھیں کوئ دوسرا مطالعہ نہیں کر سکتا بتر ھو گا تھذیب کے دائرے میں بات کریں آپ جیسے بچے میرے شاگرد ھیں
آپ کو کون سی موت پڑی کہ اتنا دعوائے علم اور اتنا گھٹیا گفتگو آپ جیسے نیچ ذھن کے لوگوں سے مل کر میں کیا کرونگا
شائید اس فقیر کا مطالعہ ھے اتنا آپ کی عمر نہیں ھے اور جتنا فقیر پڑھا چکا ھے درس نظامی اتنے سال آپ کی عمر ھی نہیں اور دعوائے علم اور انداز گفتگو اتنا جاھلانہ آپ کے انداز گفتگو کو پڑھ کر مجھے شرم آرھی ھے
میرا مقصد ملاقات یہ تھا کہ آپ کو آگاھی ھو کہ فویر کون ھے بس اس کے سوا مجھے کوئ شوق نہیں آپ جیسے ھزاروں میرے پیچھے پھرتے ھیں
شرم تو آپ میں نہیں ھے کہ بڑوں سے بات کیسے کرتے ھیں
شائید جتنا آپ مطالعہ کرتے ھوں فقیر کی مطالعہ و تحقیق کی عمر آپ کی کل عمر سے زیادہ ھو
اگر آپ میں ذرا بھی علمی سوچ ھے تو اپنے گھٹیا الفاظ کو پڑھیئے اور شرماتے رھیئے
آپ کی اوقات کتنی ھے ٹیویشن پڑھا کر قرآن کے نام پہ کھاتے ھو اور مجھ سے ملاقات کا وقت نہیں واہ آپ جیسے آوارہ گرد ذھنوں کےلیئے فقیر کی جوتیوں میں بھی جگہ نہیں ھے کجا ملاقات پڑھتے جائیے شرماتے جیائے اور اپنی اوقات میں رھیئے
چلینج آپ کو اس موضوع پر فقیر سے مناظرہ کر لو مطالعہ و تحقیق کا پتہ چل جائے گا کوئ بک ساتھ نہیں ھوگی زبانی اور فی البدیح اس موضوع پر مناظرہ ھوگا کس کے دلائل کتنا وزنی ھونگی ھر ایک کی اوقات سامنے آ جائے گی

5/24, 9:36pm

کیا آپ مطالعہ کر اور لکھ سکتے ھیں اور کوئ دوسرا مطالعہ و تحقیق نہیں کر سکتا جن وسائل تک آپ کی رسائ ھے کسی دوسرے کی نہیں ھو سکتی ویکی پیڈیا آپ کی جاگیر نہیں ھے وھاں تک ھر ایک کی رسائ ھے اور ذخیرہ کتب بھی آپ کی جاگیر نہیں ھے فقیر کی لائیبریری میں 5 ھزار کے قریب کتب موجود ھے ھیں بھت دکھ ھوا آپ جیسا علم کا دعوے دار اتنا گھٹیا گفتگو کر رھا ھے

5/24, 9:37pm

اب اگر بات کریں تو اپنی کوٹ ادو کی گھٹیا سوچ کو وھیں رکھ کر کیجیئے گا

5/24, 9:46pm

اور ھاں یاد رکھیئے گا اس فقیر کے پاس آپ جیسے گھٹیا اور چھوٹی سوچ کے لوگوں سے ملنے کا نہ وقت ھے اور نہ ھی شوق امید ھے آپ کو اپنی گفتگو کا مناسب جواب مل گیا ھو گا کاش آپ گھٹیا انداز گفتگو شروع نہ کرتے

5/24, 9:49pm

اھلسنّت و جماعت بریلوی کون ھیں اس موضوع پر فقیر کے پاس اتنا مواد ھے کہ جہاں تک آپ کی سوچ بھی نہیں پہنچ سکتی اور فقیر نے اس چپر بھت کچھ لکھا گوگل پر موجود ھے فقیر مختلف ناموں سے لکھتا ھے آپ کو کیا معلوم مسلک کا درد کیا ھوتا ھے آپ مسلک کے ٹھیکیدار نہیں ھیں آپ تو پیٹ کے ٹھیکیدار ھیں ھیں آپ نے سچ کہا واہ یہ تھی آپ کی سوچ کہ آپ کو سنیت کا کوئ درد ھی نہیں"۔



نوٹ: یہ باتیں لکھنے والے "ڈاکٹر"نے میری ایک تحریر اپنے نام سے فیس بک پر شائع کی تھی، میرے اصرار کرنے پر کہ وہاں میرانام لکھا جائے، جناب نے مذکورہ بالا کلمات ارشاد فرمائے ہیں۔
عبدالرزاق

بدھ، 29 اپریل، 2015

خود کشی کی حرمت ۔ علامہ مفتی محمد ارشد القادری

حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنا گلا گھونٹ کر مرتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مارتا رہے گا۔
 جو نیزہ مار کر خو د کو قتل کرتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو نیزہ مارتارہے گا(بخاری ،کتاب الجنائز) اس حدیث مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک بہت بڑی نعمت ’’ زندگی ‘‘ کا ذکر ہے اور جو اس کو خو د ضائع کرڈالے یعنی خو د کشی کرے اس کی سزا بیان ہوئی ہے ۔واقعی زندگی من جانب اللہ ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کا کفر ان یقیناًاللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے ۔ زندگی نعمت عظمی ہے اس کو خو د ختم کر ڈالنا اپنے اوپر تو ستم ہے ہی ، مخلوقِ خدا پر بھی ظلم کرنے کے مترادف ہے ۔خو دکشی حرام ہے ۔چونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی عطاکر دہ بہت بڑی نعمت ہے اس لیے اس کو خو د اپنے ہاتھوں ختم کر نا گناہ کبیرہ اورعملِ حرام ہے ماناکہ اس جہانِ فانی میں انسان پر بڑے بڑے سخت لمحات آتے ہیں مصا ئب وآلام کے پہاڑ ٹو ٹتے ہیں ظلم و ستم کے دروازے کھلتے ہیں ۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ اجیرن ہوجاتا ہے،انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی ختم کرنے کی سو چنے لگتا ہے مگر صبر و تحمل کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے آڑے مو قع پر وہ یہ سمجھے اور باور کرے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں انبیاء کرام ، صحابہ کرام اور اولیا ء عظام پر اس سے بھی کڑے اوقات آئے ۔ مگر وہ ثابت قدم رہے صبر اور تحمل سے کام لیا ۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کرم نوازی اور مہربانی کے دروازے کھول دیئے اور وہ دین و دنیا میں شاد ہو گئے ۔ یہ جو آئے دن اخبارات میں خودکشی کے واقعات کا تذکرہ آتا ہے اگر ان کا بغور جائزہ لیا جائے تو یقیناًبے صبری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے جان دے دینا ۔ حالا ت زمانہ کا مقابلہ نہ کر سکتے ہوئے جان دے دنیا استقلا ل کا دامن چھوڑ کر جان دے دینا کسی کے سر چڑھ کر جان دے دینا بزعم خویش محبت و عشق کے نام پر جان دے دینا اور اس جہاں میں گویا اپنی مثال قائم کرنے کا گماں رکھنا ، یہ سب غلط اور بے سو د ہے اللہ و رسول نے اس کام اور ایسے فعل کو حرام قرار دیا ہے لہذا خو د کشی کرنے سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہیے ہاں اگر مصائب و آلام حدسے بڑھ جائیں اور پیمانہ صبر لبریز ہو جائے تو اہل علم ، علما ء دین اور نیک لو گوں کی صحبت اختیار کی جائے انشا ء اللہ ان دین والوں کی بیٹھک کا اثر یہ ہو گا کہ اس (غموں کے مارے ہوئے ) کا غم کا فور ہو جائے گا۔ اور اس جہان فانی میں کچھ کر جانے ، کوئی نیک کام انجام دے جانے کو جی چاہے گا ۔نعمت عظمی کا کفران :ایک حدیث مبارکہ میں آیا ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، کچھ مانگو تو جنت الفردوس مانگو ، لمبی عمر صحت و تندرستی والی مانگو اور نیکیاں کثیر کرنے کی توفیق مانگو ، زندگی یقیناًایک انمول نعمت ہے اس کی حفاظت ضروری ہے مگر بعض نا عا قبت اندیش قسم کے لو گ دنیا میں ذرا سی ناکامی کے باعث مو ت کے منہ میں جانے کا سو چنے لگتے ہیں۔ مثلا کسی سے عشق ہو گیا اور اس میں ناکامی پر خو د کشی کرنے پر تل جانا اور یہ سمجھنا کہ ہم اس دنیا میں معزز ہوجائیں گے خو د کشی کرنے والے اکثر افراد کا نظریہ یہی ہوتاہے
محبت میں تو ناکام رہے
اب دنیا میں تو نام رہے
سچ یہ ہے کہ اگر محبت اللہ و رسول سے کی جائے تو کبھی ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہزاروں نہیں کروڑوں بلکہ لاتعداد بھلائیاں ہیں حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب کشف المحجوب میں نقل کرتے ہیں ۔حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ابتداً حضرت عبداللہ بن مبارک ایک نوعمر لڑکی پر فریفتہ ہو گئے ایک رات اپنے ساتھیوں سے اُٹھے اور ایک دوست کو ہمراہ لے کر معشو قہ کی دیوار کے نیچے آکر کھڑے ہوئے محبوبہ وقت مقررہ پر بر سر بام آئی اور صبح تک دونوں ایک دوسرے کے مشاہد ہ میں محو کھڑے رہے ۔ جب آپ نے نماز فجر کی اذان سُنی تو خیال کیا نماز عشا ء کی اذان ہے جب دن روشن ہو او ر آپ کو معلوم ہوا کہ ساری رات تو محبوبہ کے مشاہدہ میں محو ہو کر گزر ی ہے ۔ اس بات سے ان کو ایک سخت تبنیہ حاصل ہوئی او ر د ل میں کہنے لگے اے مبارک کے بیٹے تجھے شرم آنی چاہیے آج ساری رات تو خواہش نفس کے لیے کھڑا رہا اور پھر بھی تو بزرگی چاہتا ہے اور اس کے برعکس اگر امام نماز میں ذرا لمبی سورہ پڑھ لے تو دیوانہ ہو جاتا ہے اس دعوے ہوائے نفس کے مقابلہ میں تیرا دعویٰ ایمان کہاں ؟ چنانچہ آپ نے اسی وقت توبہ کی علم کی تلاش میں مشغول ہوگئے ۔ زہد و دیانت اختیار کی اور آخر کار ایسے بلند مرتبہ ہوئے کہ ایک دفعہ آپ کی والدہ نے باغ میں جاکر دیکھا کہ آپ سو رہے ہیں اور ایک بہت بڑاسانپ نیاز بوکی ٹہنی منہ میں لیے آپ پر سے مکھیاں ہٹا رہا ہے ۔بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے :ابوہر یرہ  رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے فلا ں کو اپنا محبوب بنا لیا ہے تو بھی اُسے یار بنا لے ۔ تو جبریل بھی اسے محبوب بنالیتے ہیں پھر جبریل علیہ السلام تما م اہل آسمان میں اعلا ن کرتے ہیں بے شک اللہ تعالیٰ فلاں کو اپنا محبوب بنا چکا تم بھی اسے محبو ب بنا لو ۔ تو آسمان والے بھی اسے دوست بنالیتے ہیں اور اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔ پھر دنیا میں اس کی مقبولیت پیدا کر دی جاتی ہے ۔اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ ولی اللہ بہت مقام و مرتبے کا مالک ہو تا ہے جس سے اللہ محبت کرے ۔ حضر ت جبریل علیہ السلام محبت کریں تمام اہل اسلام محبت کریں اور تمام اہل زمین محبت کریں اس سے بڑھ کر مرتبہ کس کا ہو گا ۔ یہ جو بعض لو گ کہتے ہیں کہ قرآن میں دکھاؤ اللہ نے یہ فرمایا ہو کہ میں ولیوں کا دوست ہوں بھئی یہ بات کرنے والا تو جاہل ہی ہو سکتا ہے ۔ ولیوں کا مقام قرآن کی نص سے ثابت ہے اور ان کی مقبولیت کل کائنات میں ہے ۔ یہ حدیث صحیح ثابت ہے ۔ قرآن کریم سورہ جاثیہ کی آیت نمبر ۱۹ اور بخاری شریف کی حدیث ابھی ابھی آپ نے پڑھی ہے ۔ ایمان سے کہیے کیا اس سے ولیوں کی اللہ کے ہا ں مقبولیت کا ثبوت نہیں ملتا۔ یقیناًملتا ہے۔

مخلوق خدا پر ظلم
خو د کشی کرنے والا اپنے اوپر تو ظلم کرتا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کا یہ عمل مخلوق خدا پر بھی ظلم کرنے کے مترادف ہے وہ ایسے کہ خو د کشی کرنے والے کے ماں باپ ہوں گے ۔ بہن بھائی ہوں گے ۔ دوست یار ہوں گے اور عزیز و اقر باء ہوں گے اس کے مرنے سے جوان سب افرادپر گزرے گی اس کا ذمہ دار بھی یہ خو دکشی کرنے والا ہی ہو گا ۔ اس لیے اگر مو ت خو د کشی سے نہ ہوتی تو مذکورہ بالا سب حضرات پر وہ پر یشانی اور غم والم مسلط نہ ہوتا جو خو د کشی سے مرنے والے کی موت سے ہو گا۔ پھر یہ بھی عین ممکن ہے خو د کشی کرنے والے کے مرنے کے بعد لو گ اس کے دوستوں میں سے کسی کو اس کے گھر والوں میں سے کسی کو یا اس کے عزیز و اقارب میں سے کسی کو مور دِ الزام ٹھہرائیں تو پریشانی اور بڑھ جائے گی ۔ بہر حال ہر مسلمان کو وہ جوان ہو یا بوڑھا خو دکشی جیسی نازیب حرکت سے بچنا چاہیے اگر کوئی کہے کہ تقدیر ایسے ہی تھی تو جواب قلندرِ لاہور سے سنیے

تیرے دریا میں طوفان کیوں نہیں ہے
خو دی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبث ہے شِکوہِ تقدیر یزداں
تو خو د تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

خو د کشی کی سزا : جب خو دکشی حرام ہے تو یقیناًاس جُرم کا ارتکاب کرنے والے کو سزا بھی ہو گی ۔ چنانچہ بخاری شریف میں ثابت بن ضحاک  رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی عمداً قسم کھائی تو وہ وہی کچھ ہے جو اس نے کہا جس نے خو د کشی کی اپنے آپ کو کسی ہتھیار سے قتل کیا اس کو جہنم میں اسی ہتھیار سے عذاب دیا جائے گا۔حجاج بن منہال نے جریربن حازم ، حسن اور جندب کے حوالہ سے اس مسجد میں بیان کیا کہ نہ ہم بھولے اور نہ ہمیں خو ف ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ روایت کریں گے ایک شخص جو زخمی تھا اس نے اپنے آپ کو مار ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے اپنی جان خو د ہی دے دی ااس لیے میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے ۔ (بخاری ، کتاب الجنائز )

ہاں مسلم شریف کی ایک روایت ہے :۔ حضرت جابر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو طفیل بن عمر و  صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہجرت کی اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک شخص نے بھی ہجرت کی ، پھر مدینہ کی ہوا ان کو ناموافق ہوئی وہ شخص جو طفیل کے ساتھ آیا تھا بیمار ہوااور تکلیف کے باعث اس نے کسی ہتھیار سے اپنی انگلیوں کے جو ڑ کاٹ لیے دونوں ہاتھوں سے خو ن بہنے لگا یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔ پھر طفیل بن عمر و نے اس کو خو اب میں دیکھا اس کی شکل اچھی تھی مگر دونوں ہاتھوں کو چھپائے ہوئے تھا ۔ طفیل نے پو چھا تیرے ساتھ تیرے رب نے کیا سلوک کیا ؟ اس نے جو اب دیا اللہ نے مجھے بخش دیا اس لیے کہ میں نے ہجرت کی تھی اس کے نبی کی جانب ، طفیل نے کہا کیا وجہ ہے میں دیکھتا ہوں کہ تو نے اپنے ہاتھ چُھپائے ہوئے ہیں ۔ اس نے کہا حکم ہوا ہے کہ ہم ان کو درست نہیں کریں گے جن کو تو نے خو د بگاڑا ہے ۔ پھر یہ خواب طفیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ نے فرمایا ، اے اللہ اس کے دونوں ہاتھو ں کو بھی بخش دے جیسے تو نے اس کے سارے بدن پر رحم کیا ہے۔ ( مسلم کتاب ایمان ، شرح نو وی) اس حدیث مبارک کی تشریح میں امام نو وی فرماتے ہیں :۔ اس حدیث میں دلیل ہے اس بڑے قاعدے کی جو اہلسنت نے قراردیا ہے کہ جو شخص خو د کشی کر لے یا کوئی اور گناہ کرے پھر تو بہ کیے بغیر مرجائے تو وہ کافر نہیں ہے اور نہ ضروری ہے کہ وہ جہنم میں جائے بلکہ وہ خدا کی مشیت پرہے اور قاعدہ ہے کہ گنہگاروں کو عذاب ہو گا اور گناہوں سے نقصان پہنچتا ہے اس حدیث کی روشنی میں علماء کرام نے خو دکشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دی ہے بلکہ اللہ سے دعا ہے وہ سب مومنوں کو راہ ہدایت پر قائم رکھے اور اپنے محبو ب صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا پکا غلا م بننے کی تو فیق عطافرمائے ۔

آج کا معاشرہ :  آج مسلم معاشرہ جن مشکلا ت سے دو چار ہے وہ کسی صاحب عقل سے پوشیدہ نہیں ہر شخص اپنے نجی مفادت کے تحفظ میں لگا ہے اسے اس بات کی قطعا کوئی فکر ہی نہیں کہ نجی تحفظ کبھی اجتماعی تحفظ کی ضمانت نہیں ہو تا ہاں البتہ اجتماعی تحفظ نجی تحفظ کا ضامن ہو تا ہے ۔ اُمت مسلمہ جب بام عروج پر پہنچی تھی اس وقت وہ احتماعی سوچ ، اجتماعی تحفظ اور اجتماعی مفاد کی حامل تھی اہل ایمان ہمیشہ دوسروں کا خیال کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دوسروں کے جذبات کی قدرکرنے کی توفیق عطا فرمائے( آمین )

علامہ مفتی محمد ارشد القادری (بانی جامعہ اسلامیہ رضویہ و امیر تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان) کی کتاب ”جنت کا راستہ“ سے انتخاب

جمعہ، 17 اپریل، 2015

توبہ - یہ اسلام کے مبلغ

فیس بک پر مجھے ایک صاحب فرما رہے ہیں کہ ''میرے امام تو بہت عالی مقام ہیں آپ ان کے مقلد کیوں نہیں ہوجاتے''
میں نے لکھا "میں آپ کو کسی نظریے کا قائل ہونے کا نہیں کہہ رہا۔ یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ میرا ذاتی معاملہ کیا ہے وہ مجھ پہ چھوڑ دیں"

جناب کا جواب:۔۔۔۔۔۔۔ اسلام میں نظریاتی طبقوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ بلکہ یہ مکمل دین ہے اس کو اس کی اصل روح اور حالت میں اختیار کرنا دین اسلام سے جڑنے کا نام ہے۔ بصورت دیگر آپ بہتر جانتے ہیں۔

Abdul Razzaq Qadri     میں
ہاں! آپ نے اسلام ٹھیکے پر لے رکھا ہے ناں

دوسرے صاحب!
آپ تو ناراض ہوگئے بھائی۔ اسلام میں غصہ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

Abdul Razzaq Qadri
آپ کا کون سا اسلام ہے؟

دوسرے صاحب!
جو اللہ کے رسول نے سکھایا۔ اسے اصل حالت میں بغیر کسی تردد کے قبول کرلیا اور اسی میں بہت خوش ہوں۔


Abdul Razzaq Qadri
کس رسول کو مانتے ہیں آپ؟


دوسرے صاحب!
اللہ تعالی کے ارسال کردہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتا ہوں کہ اس کے بغیر میرا دین ہی نامکمل ہے۔


Abdul Razzaq Qadri
مجھے سمجھ نہیں آئی آپ کس کس نبی کی بات کر رہے ہیں؟ پہلے آپ رسول کہہ رہے تھے۔ اب انبیاء۔


دوسرے صاحب!
مجھ پر لازم ہے کہ میں تمام انبیاء پر ایمان لاوں اور بے شک ان انبیاء میں چند ایک رسول بھی کہلاتے ہیں۔


Abdul Razzaq Qadri
ٹھیک ہے۔


دوسرے صاحب!
شکریہ۔


اب مجھے اس مبلغِ اسلام کے فرمودات میں سے کچھ پلے نہیں پڑا کہ کس امام، نبی اور رسول کی بات کر رہے تھے۔ کیونکہ میں انہیں جانتا نہیں کہ یہ صاحب کون تھے


مزید تفصیل جاننے کے لئے مندرجہ ذیل لنک

پیر، 13 اپریل، 2015

بنیادی حقوق محنت اور صلہ

انسان بنیادی حقوق کا طلبگار ہے اس کی روزمرہ  کی ضروریات با آسانی میسر ہونا اس کا فطری حق ہے پھر اسے اپنی آئندہ نسلوں کی بقا کا بھی خیال رہتا ہے، زندگی میں بہت سے معاملات پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔
 جس کسی کے حالات و واقعات زمانے کو قابلِ تحسین نظر آرہے ہوں اسے بہت محنتی اور باکمال مانا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ چیزیں اس کا مقدر ہوتی ہیں جو اسے میسر ہیں۔ ان کو حاصل کرنے کے دو طریقے تھے، حقیقت میں ان چیزوں سے بڑھ کر یہ دیکھا جانا چاہئیے کہ یہ وسائل کوئی درست طریقے سے حاصل کرتا ہے یا غلط راستے کا انتخاب کرتا ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ کام کاج کرتے ہیں اس لئے وہ مال و دولت کماتے ہیں، یہ صرف ایک حوصلہ ہے جو خود کو دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ کام کاج کو رزق کا معیار مانتے ہیں دل سے وہ یہ چاہتے ہیں کہ کام نہ کرنا پڑے اور ایسے وسائل ہاتھ لگ جائیں کہ آمدنی کا ذریعہ بند نہ ہو۔ اس کی مثال یہ ہے کہ پاکستان میں اکثر لوگ ملازمت چاہتے ہیں لیکن ملازم بن کر کام نہیں کرنا چاہتے۔ یہ لوگ تعلیم اس لئے حاصل نہیں کرتے کہ ان کی شخصیت میں نکھار آئے گا، بلکہ تعلیمی اسناد کو ایک ایسا ہتھیار مانا جاتا ہے جو کسی تعلیم یافتہ کو مال و زر کمانے کے قابل بنا دے۔  بھلا تعلیم کسی کے روزگار کو ماپنے کا کون سا پیمانہ ہوا؟ تعلیم یافتہ کا مطلب بر سرِ روزگار نہیں ہوتا۔
بلکہ معاشرے میں ایک ایسا عمومی رویہ ہونا چاہئیے جو دورانِ تعلیم بھی بچوں کو کام کاج کی عملی عادت ڈالے۔ کیا گریجویٹ ہونے کا معیار یہ ہے کہ جنابِ گریجویٹ کو سرے سے کسی کام کی سُدھ بُدھ نہ ہو۔ صرف چودہ یا سولہ سالہ تعلیم کی ڈگریاں ایک انسان کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لئے کافی نہیں ہوتیں، ایک جوان فرد کو کوئی عملی کام بھی کرنا آنا چاہئیے۔ صرف سندیں اکٹھی کرکے نوکری نہ ملنے کے شکوے کرتے رہنا اور بے کار بیٹھے رہنا کوئی کمال نہیں۔
یہ درست ہے کہ اس معاشرے میں ساری گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ جس میں رہنمائی کا فقدان ایک بڑا عنصر ہے۔ اس قوم کو زیادہ سے زیادہ با شعور دانشمند حضرات کی طرف سے رہنمائی کی ضرورت ہے۔ہماری قوم کا رویہ تنقیدی ہے اب یہ تنقیدی انداز بہت ہوگیا۔ اب اس سے نکل کر تعمیری انداز اپنانا چاہئیے جس سے عوام کو معلوم پڑے کہ کرنا کیا ہے، جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے بہت اچھے طریقے سے قوم کی رہنمائی کی جا سکتی ہے
البتہ انسان کو اس کے بنیادی حقوق ہر صورت ملنے چاہئیں اس کے ساتھ ساتھ ہر کسی کو کوئی نہ کوئی کام ضرور کرنا چاہئیے۔ کام کرنا ضروری ہے صلہ قدرت کی جانب سے خود ہی مل جاتا ہے۔ صلے کی خاطر کام نہیں، بلکہ کام برائے کام ہونا چاہیے اور صلہ بطورِ بنیادی حقوق (میسر ہونا چاہیے)۔

One student dies, over hundred injured in Nairobi campus stampede

NAIROBI: A Kenyan student died and more than 100 others were injured as they fled after a electrical explosion triggered fears that their campus was being attacked before dawn on Sunday, officials said. 

      Students jumped from windows at their University of Nairobi residence halls or rushed out in a stampede that underlined growing tensions just over a week after Islamist gunmen stormed another university campus, killing 148 people.
“I could see the students jumping and one of them landed on his head,” said third-year student Felix Muriuki. Others said there were three loud blasts, plunging the dormitory into darkness, which heightened the panic among the students.
“We thought it was another al Shabaab attack,” said Eddy Capella, a first-year student. The dead student was among others who had tried to jump to safety at the Kikuyu campus, university vice chancellor Peter Mbithi told Reuters.
“We have lost one male student who fell from fifth floor,” Mbithi said outside the emergency section of the country’s main public hospital, Kenyatta National.
Kenya Power, the country’s main electricity distributor, said the explosion was caused by overloaded underground cable. Initial witness accounts had said a transformer exploded. Kikuyu students called on the government to do more to secure all universities. “I’m not feeling 100 percent safe on campus but I will continue with my studies,” Muriuki said.
Witnesses said the explosion occurred at about 4.30 am (0130 GMT), setting off terrified screams from the women’s wing of a dormitory.
The panic spread to the men’s wing, where students woke up and scrambled to get out. Students said the incident evoked memories of the April 2 attack on Garissa University College, about 200 km from the Somali border. Somalia’s Al Qaeda-aligned group al Shabaab claimed responsibility for that raid, which also came before dawn.

منگل، 7 اپریل، 2015

آل سعود نجدی کون ہیں

مسیلمہ کذاب (نبوت کا جھوٹا دعوے دار) کا نام، ابن حبیب، الحنیفی تھاجس سے پتا چلتا ہے کہ وہ اہل نجد کے علاقے میں آباد عرب کے سب سے بڑے قبائل میں سے ایک قبیلہ بنو حنیفہ کےحبیب نامی شخص کا بیٹا تھا۔ بنو حنیفہ، بنو بکر کی ایک عیسائی شاخ اور اسلام سے قبل ایک آزاد خود مختار قبیلہ تھا









Musaylimah's name was Ibn Habib al-Hanifi, which indicates that he was the son of Habib, of the tribe Banu Hanifa, one of the largest tribes of Arabia that inhabited the region of Najd. The Banu Hanifa were a Christian branch of Banu Bakr and led an independent existence prior to Islam. [1]

مسیلمہ کذاب اپنی جن خرافات کو 'وحی' بتاتا تھا ان میں سے اکثر باتیں قریش کے خلاف، اپنے قبیلے بنی حنیفہ کی برتری جتلانے والی ہوتیں۔

Most of his verses extolled the superiority of his tribe, the Bani Hanifa, over the Quraysh. [2]

ارتداد کی تحریک میں ان کے کردار کی وجہ سے، حضرت ابو صدیق رضی اللہ عنہ نے، بنو حنیفہ کے لوگوں پر ابتدائی مسلم فتوحات/جنگی مہمات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس پابندی کو اٹھا لیا، اس کے بعد بنو حنیفہ کے لوگ عراق میں مسلمان فوج میں بھرتی ہونے لگے۔ ساتھ ساتھ 'حصون' یعنی فوجی چھاؤنیوں جیسا کہ کوفہ میں پاؤں جمانے لگے۔ 

Due to their role, in the Apostasy movement, members of Banu Hanifa were initially banned from participating in the early Muslim conquests by the first Caliph, Abu Bakr. The ban was lifted by Abu Bakr's successor Umar, and members of Bani Hanifa subsequently joined Muslim forces in Iraq, with some settling in garrison towns such as al-Kufa. [3]

 سعودی عرب کے موجودہ حکمران آل ِسعود اسی بنو حنیفہ قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں جو دراصل گستاخِ رسول مسیلمہ کذاب کا قبیلہ تھا اس کی تفصیلات جاننے کے لئے بنو حنیفہ کی یہ تاریخ پڑھنا سودمند رہے گا

Tribesmen from Banu Hanifa also supplied the ranks of rebellious movements such as the Kharijites. One member of the tribe by the name of Najdah ibn 'Amir, even founded a short-lived Kharijite state in al-Yamama during the Umayya era. [4]

13th Century OnwardsIn the 14th century, however, Ibn Batuta relating his visit to Hadjr, also states that most of its inhabitants are from Banu Hanifa, and even joins their emir, one Tufail ibn Ghanim, on a pilgrimate to Mecca. Little else is heard from Banu Hanifa thereafter, except that a number of clans in the region of Wadi Hanifa are given a Hanafite lineage by Jabr ibn Sayyar, the ruler of nearby Al-Qassab, in his short 17th-century manuscript on the genealogies of the people of Nejd. One such clan mentioned by Ibn Sayyar were the Mrudah, among whom later appeared Saudi Arabia's current rulers, the clan of Al Saud. Most of these clans mentioned by Ibn Sayyar, however, today claim membership of the large tribe of 'Anizzah, or to Wa'il, the purported patriarch of both 'Annizah and Hanifah. Scholars such as Hamad Al-Jassir attribute this to the need to associate with a more powerful bedouin tribe, and that 'Anizzah was chosen due to shared ancestry. [5]

اسی موضوع پر ایک معلوماتی اور دل افروز مضمون 'نقشِ اول کی تلاش' پڑھنے کے لئے یہ لنک  وزٹ کریں۔  [6]

صلاح الدین محمود کا یہ مضمون 'نقش اول کی تلاش' ایک معروف کتاب، تاریخِ نجد و حجاز، از مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی قادری سے لیا گیا۔ تاریخ نجد و حجاز، ابن عبدالوھاب نجدی کی تحریک اور خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت، اہل نجد کا حجاز مقدس پر قبضہ اور مظالم اور اس سے متعلق مکمل تاریخی دستاویز ہے۔ کتاب پڑھنے کے لئے درج ذیل تین لنک وزٹ کریں۔ [7]
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ







پیر، 6 اپریل، 2015

مرزا محمد ہادی رسوا


مرزا محمد ہادی رسوا (1857ء تا 21 اکتوبر، 1931ء) ایک اردو شاعر اور فکشن کے مصنف (بنیادی طور پر مذہب، فلسفہ، اور فلکیات کے موضوعات پر) گرفت رکھتے تھے۔ انہیں اردو، فارسی، عربی، عبرانی، انگریزی، لاطینی، اور یونانی زبان میں مہارت تھی۔ ان کا مشہور زمانہ ناول امراؤ جان ادا 1905ء میں شائع ہوا جو ان کا سب سے پہلا ناول مانا جاتا ہے۔ یہ ناول لکھنؤ کی ایک معروف طوائف اور شاعرہ امراؤ جان ادا کی زندگی کے گرد گھومتا ہے بعد ازاں ایک پاکستانی فلم امراؤ جان ادا (1972)، اور دو بھارتی فلموں، امراو جان (1981) اور امراو جان (2006) کے لئے بنیاد بنا۔ 2003ء میں نشر کئے جانے والے ایک پاکستانی ٹی وی سیریل کی بھی بنیاد یہی ناول تھا۔
مرزا محمد ہادی رسوا کی زندگی کی درست تفصیلات دستیاب نہیں ہیں اور ان کے ہم عصروں کی طرف سے دی گئی معلومات میں تضادات موجود ہیں البتہ رسوا نے خود تذکرہ کیا ہے کہ ان کے آباء و اجداد فارس سے ہندوستان میں آئے اور ان کے پردادا سلطنت اودھ کے نواب کی فوج میں ایک ایڈجوٹنٹ تھے۔ جس گلی میں رسوا کا گھر تھا اسے ایڈجوٹنٹ کی گلی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے والد اور دادا کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا کہ وہ دونوں ریاضی اور فلکیات میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ مرزا محمد ہادی رسوا 1857ء کو، ایک گھڑسوار، فوجی افسر، مرزا محمد تقی کے گھر لکھنؤ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔انہوں نے گھر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ وہ سولہ سال کے تھے جب ان کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے۔ نوجوانی میں وفات پانے والےان کے بڑے بھائی مرزا محمد ذکی، ایک علمی شخصیت تھے۔ اس دور کے ایک مشہور خطاط حیدر بخش نے رُسوا صاحب کو خوش خطی سکھائی اور انہیں کام کرنے کے لئے کچھ رقم ادھار بھی لیکن حیدر بخش کی آمدنی ڈاک کی جعلی ٹکٹ سازی سے آتی تھی لہٰذا اُسے گرفتار کر لیا گیا اور ایک طویل مدت کے لئے قید کی سزا سنائی گئی۔رُسوا کے لکھنے کے کیریئر میں اُن کی مدد کرنے والے بہت سے لوگوں میں سے ایک اردو شاعر، دبیر بھی تھے۔ رسوا نے گھر میں تعلیم حاصل کی اور میٹرک پاس کیا، اس کے بعد انہوں نے منشی فاضل کے کورس کا امتحان دیا اور منشی فاضل ہوگئے۔
پھر رُسوا نے، روڑکی میں تھامس انجینئرنگ سکول سے، ایک اورسیر یعنی نگہبان (داروغہ، مہتمم، ناظر) کا ڈپلوما حاصل کیا۔ اس کے بعد، انہوں نے ریلوے میں ملازمت اختیار کرکے بلوچستان میں ٹریکس بچھائے۔ اس دوران انہوں نے مطالعہ کرنے اور لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کے پسندیدہ مضامین کیمسٹری، الکیمیا اور علم فلکیات تھے۔ مرزا ہادی رسوا نے ایک مختصر عرصہ کے لئے یہ سرکاری خدمات انجام دیں، پھر تدریس اور لکھنے لکھانے کے لئے لکھنئو واپس پہنچ گئے۔ انہوں نے، ایک مقامی مشن اسکول میں ایک استاد کے طور پر اور اس کے بعد کرسچین کالج میں لیکچرر کے طور پر  کام کیا۔ وہاں انہوں نے ریاضی، سائنس، فلسفہ اور فارسی پڑھائی۔ پھروہ حیدر آباد چلے گئے اور ایک سال کے لئے عثمانیہ یونیورسٹی میں ٹرانسلیشن بیورو میں کام کیا۔ وہ 21 اکتوبر 1931  کو ٹائیفائیڈ بخار سے پچھتر سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔

انگریزی وکیپیڈیا سے اردو وکیپیڈیا کے لئے  ترجمہ: عبدالرزاق قادری

اگلی قسط کے لئے انتظار فرمائیں، یا انگریزی وکیپیڈیا وزٹ کرکے پڑھ لیں

ہفتہ، 4 اپریل، 2015

عسکریت پسندوں کے مزید حملوں کے انتباہ کے بعد، کینیا کے صدر کاسخت جوابی کارروائی کا عزم

گاریسا، کینیا: صومالیہ کے انتہا پسند گروپ الشباب نے، جمعرات کے روز گاریسا یونیورسٹی کالج پر حملہ کرکے، 148 افراد ہلاک کر دیئے تھے۔
اس گروپ نے ہفتہ (4 اپریل  2015) کے روز دھمکی دی ہے کہ، وہ اس طرح کے حملے جاری رکھیں گے۔ دہشگردوں کا کہنا ہے کہ، کینیا کے شہر سرخ خون میں بہا دیئے جائیں گے۔ دہشتگرد اپنے ان حملوں کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ، صومالیہ میں ان کے خلاف کینیا کی افواج نے حصہ لیا، جس کا اب وہ انتقام لے رہے ہیں

جمعہ، 3 اپریل، 2015

کینیا: گریسا یونیورسٹی حملہ، ہلاکتیں 147 ہوگئیں

جمعرات (2 اپریل 2015) کی صبح کو، عسکریت پسند گروپ 'الشباب' کے نقاب پوش مسلح افراد نے شمال مشرقی کینیا میں ایک یونیورسٹی پر دھاوا بول دیا اور یونیورسٹی میں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا۔ کینیا کے حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک افراد کی تعداد 147 تک پہنچ چکی ہے اور حفاظتی آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔ حکام کے مطابق چار حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے تمام طلباء کی گنتی کی جا چکی ہے جس کے مطابق 147  ہلاک ہوچکے ہیں۔ جبکہ 587 طالب علموں کو نکالا گیا ہے جن میں سے 79 زخمی ہیں۔ نو شدید زخمی طالب علموں کو علاج کے لیے دارالحکومت نیروبی پہنچایا گیا ہے۔ ملک کے کچھ حصوں میں رات کو کرفیو لگایا جا رہا ہے

دہشت گرد کافروں کے ایجنڈے پر ہیں


کینیا کی گریسا یونیورسٹی میں دہشتگردی کی واردات میں تقریباً 147 ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ  امریکی ایجنسی سی آئی اے کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم القائدہ کو ہتھیار خریدنے اور دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کے لئے بھاری رقوم فراہم کرتی رہی ہے۔ چونکہ افریقی ممالک میں دہشتگرد تنظیموں مثلاً الشباب اور بوکو حرام وغیرہ کی کڑیاں القاعدہ سے ملتی ہیں اور القاعدہ امریکن سی آئی اے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا بھر میں اکثر دہشت گرد وہابی سوچ کے ہوتے ہیں ان کو القاعدہ کنٹرول کرے یا استعمال کرے بات ایک ہی ہے۔ البتہ وہابیوں (دیوبندیوں) کے نزدیک یہ جہاد ہے۔ اور ان کا ماسٹر مائنڈ کوئی اور نہیں بلکہ امریکی ایجنسی ہے جس نے دو طرفہ پالیسی سے دنیا کا امن تباہ کِیا ہوا ہے۔ میں تو آج پھر وہی کہوں گا جو ایک عرصے سے کہتا آیا ہوں کہ طالبان، (ہر قسم) جماعۃ الدعوہ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، اخوان المسلمون، بوکو حرام، الشباب، داعش (آئی ایس) سمیت وہ تمام تنظیمیں جو اسلام کا نام لے کر بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں وہ مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں۔ انہیں اسلام یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ وہ سی آئی اے جیسی خبیث ایجنسیوں کے کتے ضرور ہیں۔ ان کی اس طرح کی حرکتوں سے کافر ایجنسیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے جواز فراہم ہو جاتا ہے۔

پیر، 23 مارچ، 2015

سوئے حجاز ۔ خطبات نورانی کی آواز

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
22 مارچ 2015

بردارم ملک محبوب الرسول قادری نے مجھے خطبات نورانی پر مشتمل کتاب دی۔ کتاب کے نام سے لگتا ہے کہ یہ روشنائی سے لکھے ہوئے خطبے ہیں۔ قلم کی سیاہی کے لئے اللہ کے رسول رحمۃ للعالمین، محسن انسانیت، نور کی ساری حقیقتوں کے شناسا حضرت محمدؐ نے فرمایا جبکہ وہ روشنیوں کا مرکز تھے، خود نور سے بنے ہوئے تھے۔ میرے خیال میں روشنی اور نور میں فرق ہے۔ یہ فرق عشق اور عشقِ رسولؐ کی کیفیتوں کی سر مستیوں سے لبالب بھرے ہوئے لوگ جانتے ہیں۔ یہ کتاب جمعیت العلمائے پاکستان کے صدر حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کے خطبات پر مشتمل ہیں۔ مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی جنرل سیکرٹری تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیڈر تھے۔ دونوں کو ایک دوسرے کا اتنا احترام کرتے دیکھا کہ کوئی دوسرا اس کا تصور نہیں کر سکتا۔ عشقِ رسولؐ دونوں کی ایسی سانجھ تھی جو کبھی نہ ٹوٹ سکی۔ دونوں کے درمیان کچھ شکر رنجی بھی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی مگر عشقِ رسولؐ کو ایمان کا درجہ دینے والوں کے لئے رنج بھی شکر (شوگر) بن جاتا ہے۔ حضرت شاہ احمد نورانی قائدِ اہلسنت تھے۔ انہوں نے سیاست میں عشقِ رسولؐ اور عشق و مستی کو رلانے ملانے کی کوشش کی۔ ناموسِ رسالتؐ کی تڑپ رکھنے والے لوگ آج تک اُن کی رفاقت اور قیادت کے نشے میں چُور ہیں، جن میں لاکھوں لوگ ہیں۔ ملک محبوب الرسول نمایاں لوگوں میں سے ہیں۔ وہ ایک رسالہ نکالتے ہیں اُس کا نام ’’سوئے حجاز‘‘ ہے۔ عشقِ رسولؐ والے جہاں بھی ہوں، جس راستے پر ہوں وہ دیکھتے ’’سوئے حجاز‘‘ ہیں۔ اُن کی نظر گنبدِ خضریٰ پر رہتی ہے۔
تحفظِ ناموس رسالتؐ کے لئے اپنی زندگیاں محبوب الرسول قادری جیسے لوگوں نے وقف کی ہوئی ہیں۔ وہ بار بار عمرے کے لئے جاتے ہیں۔ اس میں یہ آرزو بھی دل میں تڑپتی رہتی ہے کہ روضۂ رسول پر حاضری نصیب ہو گی۔ حضورؐ کی خدمت میں حاضری حضوری ہے۔ قادری صاحب نے کتاب دیتے ہوئے مجھے کہا کہ عشقِ رسولؐ اور ناموسِ رسالتؐ کے حوالے سے خطبات نورانی پر کچھ لکھئے۔ اُن کی سب باتیں عشقِ رسولؐ کے دائرے میں گھومتی ہیں اور جھومتی ہیں۔ میں آپ کا یہ کالم روضۂ اطہرؐ کے سامنے حضور نبی کریم رحمۃ للعالمین حضرت محمدؐ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ یہ الفاظ سیدھے میرے دل میں اُتر گئے۔ ہم تو اُن لوگوں میں سے ہیں جو عشق رسولؐ کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں بلکہ اصل ایمان ہی یہی ہے۔
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نر سیدی تمام بوالہبیت
نورانی صاحب نے عشقِ رسولؐ کو حلاوت ایمان قرار دیا ہے۔ اُن کے اٹھارہ خطبات میں عشقِ رسولؐ کا چراغ جل رہا ہے۔ ان روشنیوں کو قادری صاحب نے مرتب کر کے ’’خطباتِ نورانی‘‘ کے نام کتابی صورت میں شائع کر دیا ہے۔ یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں حضرت نورانی صاحب کی خدمت میں موجود ہوں، ان کا خطاب ہو رہا ہے، ان کی آواز کسی نورانی راز کی طرح میری سماعتوں کے سارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔
عبدالستار خان نیازی سے میری عزیز داری تھی۔ وہ میرے دادا جہاں خان ذیلدار موسیٰ خیل ضلع میانوالی کے لئے بیٹوں کی طرح تھے۔ میرے والد کریم داد خان اور نیازی صاحب کلاس فیلو تھے۔ میں نے عشقِ رسولؐ کی روشنی اپنے ابا مرحوم سے لی ہے۔ میری زندگی میں ایسا لمحہ کبھی نہ آیا کہ والد صاحب کے سامنے کسی نے آپؐ کا نام لیا ہو اور وہ روئے نہ ہوں۔ ہم نے اپنے گھر میں صرف کتابیں دیکھی تھیں۔ شعر و ادب اور مختلف علوم پر مشتمل کتابیں تھیں۔ زیادہ تعداد سیرت النبیؐ کے حوالے سے کتابوں کی تھی۔ اُن کے انتقال کے بعد وہ سب کتابیں میں لاہور لے آیا ہوں۔ مولانا نیازی کے ساتھ میانوالی کے لوگ صرف عشقِ رسولؐ کی وجہ سے عشق کرتے تھے اور انہوں نے میانوالی کے لوگوں کو نیازی بنایا۔ اس سے پہلے لوگ اپنے نام کے ساتھ خان تو لکھتے تھے نیازی نہیں لکھتے تھے۔ مگر نورانی صاحب کے ساتھ نسبت میں نیازی صاحب کی دوستی بھی تھی مگر عشقِ رسولؐ کی نسبت رشتہ داری سے آگے نکل گئی۔ میں کہا کرتا ہوں کہ نسبت نسب سے بڑھ کر ہے اور عقیدت عقیدے سے بڑی ہے۔
چچا شیر احمد خان لاہور میں جمعیت العلمائے پاکستان کے آفس سیکرٹری تھے، ان کی دعوت پر ہمارے گائوں بھی نورانی صاحب تشریف لائے تھے۔
اس موقع پر ایک عاشق رسولؐ ایڈووکیٹ برادرم منصور الرحمن آفریدی یاد آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی عظیم ماں سے عشقِ رسولؐ کی خوشبو پائی۔ ایک بار روضۂ رسولؐ کے سامنے اپنی ماں کو جا کھڑا کیا تو درود و سلام کی لوریوں سے آفریدی صاحب کی پرورش کرنے والی ماں نے جذب و کیف کی مستی میں اپنے سچے بیٹے سے کہا کہ مانگ جو کچھ تُجھے چاہئے۔ تم صدرِ پاکستان یا وزیراعظم بننا چاہتے ہو۔ آفریدی صاحب نے عرض کی، ماں جی! آپ عشقِ رسولؐ کے صدقے میں یہ دعا فرمائیے اور حضورؐ کی خدمتِ اقدس میں درخواست کیجئے کہ وہ دونوں جہانوں کے سردار ہیں۔ مجھے اللہ دونوں جہانوں میں عزت، ایمان اور عشقِ رسولؐ کی دولت سے سرفراز فرمائے۔ اب یہ دولت اتنی آفریدی صاحب کے پاس ہے کہ اُن سے سنبھالی نہیں جاتی۔ میں نے بھی ملک محبوب الرسول قادری سے گزارش کی کہ وہ میرا سلامِ نیاز اُن کی خدمت میں پہنچا دے۔
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

بشکریہ: نوائے وقت

منگل، 17 مارچ، 2015

American CIA is behind Al Qaeda

سی آئی اے ’القائدہ‘ کی مالی امداد میں ملوث نکلی
March 15, 2015 14:43 
واشنگٹن: امریکی ایجنسی سی آئی اے کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم القائدہ کو ہتھیار خریدنے اور دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کے لئے بھاری رقوم فراہم کرتی رہی ہے۔

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے نے افغان حکومت کے خفیہ فنڈ میں 10 لاکھ امریکی ڈالر فراہم کئے جن میں سے پانچ لاکھ ڈالر پاکستان سے اغوا کیے گئے افغان قونصل جنرل عبدالخالق فاراہی کی رہائی کے لئے استعمال کیے گئے۔

امریکی اخبار کے مطابق 2011 میں جب نیوی کمانڈوز نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو مارگرایاتومکان کی تلاشی کے دوران وہاں سے ایسے دستاویزات برآمد ہوئے جن کی رو سے سی آئی اے افغان صدرحامد کرزئی کو القاعدہ کے لئے رقوم فراہم کرتی رہی ہے۔

اخبار کے مطابق القائدہ کے سینئر کمانڈروں کے ساتھ ہونے والی خط وکتابت پر تحقیق کے ذریعے یہ پتا چلا کہ القائدہ اغوا برائے تاوان کے ذریعے حاصل کردہ رقم کو ہتھیار خریدنے ، دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور تنظیم کے جنگجوؤں کے خاندانوں کی مالی کفالت میں استعمال کرتی رہی ہے۔

امریکی اخبار نے افغانستان کےایک سرکاری حکام کے بیان کے مطابق دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے کی جانب سے فراہم کردہ رقوم القائدہ ، دیگر جنگجو گروہوں کے رہنماؤں اور پارلیمانی نمائندوں کو صدارتی محل سے فراہم کی جاتی رہیں ہیں اور نو منتخب افغان صدر اشرف غنی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اس سلسلے میں کمی آئی ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ یہ تحقیق افغان اور یورپی حکام سے کی گئی گفتگو کے نتیجے میں مرتب کی گئی ہے جبکہ سی آئی اے نے اس معاملے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

اتوار، 15 مارچ، 2015

قیام پاکستان کے مخالف مولوی کون؟

Anti Pakistan Ulema during Independence Movement
ابھی ابھی فیس بک پر ایک تحریر نظر سے گزری جس میں کسی صاحب کی مولویوں پر کی گئی کسی تنقید کے جواب میں جوابی تنقید اور مولویوں کی وکالت تھی۔ جس پیج والوں نے مولویوں کی وکالت کرنے کا بیڑہ اپنے کندھوں پر اٹھایا انہوں نے ایک بات یہ لکھی

"عارف کسانہ صاحب نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ مولویوں کے کفر کے فتووں کی وجہ سے مسلمانوں کا خون سب سے زیادہ بہا ہے۔ کسانہ صاحب نے کسی تاریخی واقعے کی جانب اشارہ نہیں کیا اور تیر بھی چلا دیا۔ شاید ہٹلر کے مشیرِ خاص گوئبلز نے اسی اندازِ گفتگو کو پروپیگنڈے سے تعبیر کیا ہے۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم پر مولویوں نے کفر کے فتوے لگائے مگر کوئی ان کفر کے فتوے لگانے والے مولویوں کے نام بھی جانتا ہے؟ لوگ تو اشرف علی تھانوی کو جانتے ہیں، سلیمان ندوی کو جانتے ہیں، شبیر احمد عثمانی کو جانتے ہیں جنہوں نے تحریکِ پاکستان میں قائدِ اعظم کا ساتھ دیا۔ اگر کوئی شعبدے باز، مفاد پرست، چال باز، دشمن ایجنٹ مولوی کے روپ میں کوئی ایسا کام کرے جو مسلم امہ کے مفاد میں نہ ہو تو بجائے یہ کے اس کام پر تنقید کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی نشان دہی کر کے صفوں سے باہر کیا جائے، اپنے ہی علما پر تنقید نابالغی اور مضحکہ خیزی کے زمرے میں آتی ہے۔ مولویوں کا تشخص استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ کرنا اسلام دشمن قوتوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔" وغیرہ وغیرہ
اب میں نے مناسب سمجھا کہ چند حوالے دے کر قوم کو بتا دوں کہ پاکستان کے مخالف مولوی کون تھے۔ چنانچہ 
 جہاں تک سوال ہے دیوبندی مکتبہ فکر کے اکابر کا، تو انہوں نہ صرف دو قومی نظریہ کی مخالفت کی بلکہ قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو کافرِ اعظم تک قرار دیا اور پاکستان کو ناپاکستان یا پلیدستان کے القابات سے پُکارا۔ ذیل میں تحریک آزادی کے حوالے سے اُن کا کردار تفصیل کے ساتھ آ رہا ہے۔

دیوبند کون ہیں؟ 
تحریک دیوبند پہلے دن ہی سے وہابیت سے متاثر ایک مذہبی جماعت ہے انیسویں صدی میں مولوی مملوک علی (جو پہلے حنفی سنی تھا) حج کرنے گیا اور وہاں سے وہابیت کے جراثیم لے کر آیا اور ایک نیا مکتبہ فکر وجود میں آ گیا، اس کے خیالات سے متاثر لوگوں میں سے قاسم نانوتوی ، رشید احمد گنگوہی اور یعقوب نانوتوی وغیرہم نے جامعہ دیوبند قائم کیا جس کے قیام کے متعلق بے شمار افسانوں سے کتابوں کے صفحات سیاہ ہوئے پڑے ہیں ان میں سے بشارت نامی ایک رسالے کا حوالہ بھی ملتا ہے جس سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ شاید یہ مدرسہ انگریزوں نے خود قائم کروایا تھا تاکہ برصغیر کے مسلمانوں کا رشتہ ان کے علماءِ اہلسنت سے توڑا جا سکے، دریں اثناء 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریز نے بے شمار علماءِ اہلسنت کو شہید کردیا تھا اور کالے پانی کی سزائیں دی تھیں۔  1919ء میں مسٹر گاندھی کی سربراہی میں چلنے والی تحریک خلافت (جو بعد میں تحریک ہجرت اور پھر تحریک ترک موالات میں بدل گئی) اس میں دیوبندی حضرات نے گاندھی کی خوب کاسہ لیسی کی اسے تقریباً نبی کے برابر بھی کہا اور مساجد میں لے جا کر اس کی تقاریر کرواتے رہے ان لوگوں نے انگریزوں کے ساتھ موالات ترک کرنے کا بہانہ بنا کر مشرکوں سے گٹھ جوڑ بنائے رکھا اور ساتھ ساتھ دیوبندی مولوی، سنی عوام پر شرک کے فتوے بھی لگاتے رہے 1919ء میں ان لوگوں نے جمعیت علمائے ہند قائم کی جس کا بنیادی مقصد مسٹر گاندھی کی سربراہی میں نظریہ وطنیت کی حفاظت کرنا تھا اور ہندوستانی قومیت کا پرچار کرنا تھا۔ دیوبندی علماء کے ایک بہت بڑےگروپ  نے مسلم اور غیرمسلم کے نام پر ہونے والی سیاست کی مخالفت کی، جس  کی سربراہی قائد اعظم محمد علی جناح فرما رہے تھے اور ان کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ آزاد مملکت کا حصول تھا۔ جمعیت علماءِ ہند کی طرح مجلس احرار اسلام، ایک دیوبندی  سیاسی پارٹی کی بنیاد 29 دسمبر 1929ء کو لاہور میں  رکھی گئی۔ جس کے بانیان میں سے چودھری افضل حق، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حبیب الرحمن لدھیانوی، مظہر علی اظہر، ظفر علی خان اور داؤد غزنوی قابل ذکر ہیں۔ اس پارٹ کے قیام کا مقصد بھی قائد اعظم  محمد علی جناح کی مخالفت اور ایک آزاد اسلامی مملکت پاکستان کے قیام کی مخالفت کرنا تھا۔ اس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کا قیام 1945ء میں اس وقت عمل میں آیا جب جمعیت علمائے ہند نے تقسیم ہند کے حوالے سے انڈین نیشنل کانگریس کے موقف کی حمایت کی، یوں اس موقف سے اختلاف پر علامہ شبیر احمد عثمانی کی زیر قیادت جمعیت علمائے اسلام وجود میں آئی۔ ان سیاسی سرگرمیوں اور ان تحاریک کے متعلق تحقیقی مواد غیر جانب ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے جس میں انگریزی وکیپیڈیا سرفہرست ہے اور وہاں ان باتوں میں سے ایک ایک کے  ثبوت کے لئے کئی کئی حوالے موجود ہیں چنانچہ ذیل میں اصل متن دیا جا رہا ہے

Deobandi Movement 
The Deobandi Movement has been influenced by Wahhabism from its early days. A large group of Deobandi scholars opposed Pakistan being established along sectarian lines, particularly the demands of Muhammad Ali Jinnah's Muslim League for the Partition of British India into Muslim and non-Muslim sections. The Deobandi movement advocated a notion of a composite nationalism according to which Hindus and Muslims constituted one nation.

Jamiat Ulema-e-Islam
Jamiat Ulema-e-Islam (JUI) is a Deobandi organization, part of the Deobandi movement. The JUI formed when members broke from the Jamiat Ulema-e-Hind in 1945 after that organization backed the Indian National Congress against the Muslim League's lobby for a separate Pakistan. The first president of the JUI was Shabbir Ahmad Usmani.

Majlis-e-Ahrar-e-Islam
Majlis-e-Ahrar-e-Islam (Urdu: مجلس احرارلأسلام‎), also known in short as Ahrar, was a conservative Deobandi political party in the Indian subcontinent during the British Raj (prior to the Partition of India) founded December 29, 1929 at Lahore. Chaudhry Afzal Haq, Syed Ata Ullah Shah Bukhari, Habib-ur-Rehman Ludhianvi, Mazhar Ali Azhar, Zafar Ali Khan and Dawood Ghaznavi were the founder's of the party. The Ahrar was composed of Indian Muslims disillusioned by the Khilafat Movement, which cleaved closer to the Congress Party. The party was associated with opposition to Muhammad Ali Jinnah and establishment of an independent Pakistan.

Jamiat Ulema-e-Hind
Jamiat Ulema-e-Hind is a Deobandi organizations in India. It was founded in 1919 by Abdul Mohasim Sajjad, Qazi Hussain Ahmed, Ahmed Saeed Dehlvi, and Abdul Bari Firangi Mehli.

قیام ِ پاکستان کے حامی دیوبندی
تحریکِ پاکستان کی حمایت کرنے والے دیوبندی حضرات کی تعداد اتنی کم ہے کہ انہیں بیان کرنے کے لئے صرف چند سطور ہی کافی ہیں۔ ان میں ایک بڑا  نام  علامہ شبیر احمد عثمانی  کا ہے۔ وہ  1944ء میں، مسلم لیگ کے رکن بن گئے اور پاکستان کے قیام کی حمایت کی، ان کا مقصد جمعیت علمائے ہند کے پروپیگنڈے اور سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے، انہوں نے 1945ء میں جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد رکھی اور وہ تاحیات اس کے صدر رہے۔ لیکن بعد میں جمعیت علمائے اسلام ان لوگوں کے ہاتھوں  میں چلی گئی جو جمعیت علمائے ہند کا حصہ تھے اور قیامِ پاکستان کے بدترین دشمن تھے۔ مثال کے طور پر مفتی محمود اور مولوی غلام غوث ہزاروی وغیرہما۔

Shabbir Ahmad Usmani
During the Balkan War, Usmani held a prominent position collecting donations for the Hilal-e-Ahmar Fund. In 1944, he became a member of the Muslim League and was one of the few Deobandis who supported the creation of Pakistan. In order to counteract the propaganda and activities of the Jamiat Ulema-e-Hind, he founded the Jamiat Ulema-e-Islam in 1945. He served as JUI's president until his death.


دیوبندی اکابرین کی قادیانیت نوازی 
دیوبندی اکابرین کی سیاسی عبقریت کے مزید حالات جاننے سے پہلے مذہب میں ان کے عقائد اور معلومات پر ایک نظر ڈالنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا تاکہ اس بات کااندازہ لگایا جاسکے کہ مذہبی طور پر یہ کس قدر راسخ العقیدہ لوگ ہیں۔ گزشتہ صدی میں قاسم نانوتوی سے لے کر اس فرقے کے مولویوں نے جو گستاخیاں سرورِ دوعالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں کی ہیں ان سے اکثر لوگ واقف ہیں اب  حبیب الرحمٰن لدھیانوی  کا بیٹا انیس الرحمٰن لدھیانوی فیصل آباد سے ایک رسالہ  ماہنامہ“ملیہ” شائع کرتا ہے اس میں وہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خلاف زہر افشانی کرتا رہتا ہے،(یاد رہے حبیب الرحمان لدھیانوی پہلے فوت ہوچکا ہے۔ آج کل اس کا وارث انیس الرحمان لدھیانوی جامعہ ملیہ فیصل آباد سے شائع ہونے والے شمارے 'ملیہ' میں ایک نئی من گھرٹ تاریخ لکھ رہا ہے جو حقائق سے کافی حد تک ہٹ کر ہے میں نے آصف بھلی کالم نگار کو فون کال کرکے اس واقعے کی طرف توجہ دلائی تھی جس کا شاید کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا لیکن پھر 16 اپریل 2014ء کو یہ معمہ کالم نگار ظفر علی راجا کی نوکِ قلم کی زد میں آگیا، یوں لگتا ہے کہ مندرجہ بالا مضمون حبیب الرحمان لدھیانوی کی کوئی تقریر تھی جو ایک عرصے کے بعد اس کے جانشین نے سپرد قلم کی اور اس پر صادق علی زاہد نے اپنا جواب دیا جسے راجا صاحب نے بیان کیا۔ فقط۔ عبدالرزاق قادری)
چنانچہ نوائے وقت کے کالم نگار ظفر علی راجا 16 اپریل 2014ء کو شائع ہونے والے اپنے کالم(اقبالؒ اور مولانا حبیب لدھیانوی کی “منطق”) میں لکھتے ہیں:۔
اسلام آباد سے شائع ہونے والے ماہنامہ ضیائے حرم کے شمارہ مارچ میں صادق علی زاہد کا ایک مضمون بعنوان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال اور فہم عقیدہ نبوت شامل اشاعت ہے۔ اس مضمون میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی کی ایک تقریر کو موضوع بنایا گیا ہے جو ماہنامہ ملیہ فیصل آباد کے شمارہ اکتوبر 2013ءمیں شائع ہوئی ہے۔ مولانا لدھیانوی نے علامہ اقبال پر جو تقریری کیچڑ اچھالا ہے اس کا تجزیہ کیا جائے تو علامہ ہی کا ایک شعر ذہن کی تاریکی میں چمکنے لگتا ہے ....
ملا کی نظر نور فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے مے خانہ صوفی کے مئے ناب

مولانا لدھیانوی لکھتے ہیں۔ آجکل ہمارے ملک میں ڈاکٹر سر محمد اقبال کے نظریات و افکار کو پیش کرکے عوام الناس کو علماءکے خلاف اکسایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ اسلام کی جو تشریح علامہ اقبال نے کی ہے وہی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ اس کے بعد مولانا لدھیانوی نے اقبال کے عقیدہ ختم نبوت پر حملہ آور ہوتے ہوئے لکھا ہے کہ علامہ نے ملا کو اپنے اشعار میں ہدف تنقید علماءسے دوری کی وجہ سے بنایا۔ بعد میں علامہ کو انہی علماءکی جوتیوں میں بیٹھ کر اپنے عقیدے کی اصلاح کا موقع ملا۔ اس سے آگے علامہ کے بارے میں ان کا بغض خود ان کے الفاظ میں پڑھئے۔ لکھتے ہیں۔
“ علامہ اقبال مرحوم جو کہ ساری زندگی اپنے آپ کو ایک عاشق رسول کی حیثیت سے متعارف کرواتے رہے وہ ختم نبوت کے عقیدے کو نہ سمجھ سکے۔ اس لئے انکے والد نور محمد اور بڑا بھائی عطا محمد مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے تھے بلکہ قادیانیوں کا دعویٰ یہاں تک ہے کہ علامہ اقبال خود بھی مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے تھے۔ آگے چل کر خود ہی اپنی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”اس کے بعد علامہ اقبال نے اپنے والد نور محمد پر محنت کی اور ان کو دوبارہ مسلمان بنایا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے والد کا نکاح اپنی والدہ سے دوبارہ خود پڑھایا تھا۔”.... پھر ایک جگہ لکھا:
“ڈاکٹر اقبال شروع شروع میں ملاں کے سخت مخالف تھے۔ وہ ایک عرصہ تک اپنے طور پر مسائل کے حل کے لئے مرزا قادیانی کے جانشین حکیم نور الدین سے فتوے منگواتے رہے۔ اقبال نے کئی مواقع پر ملاں پر اپنے شعروں میں پھبتی بھی کسی جوکہ آجکل اقبال فروش دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اقبال نے ملاں کی دینی حیثیت کو نہیں پرکھا تھا مگر جب اقبال علمائے کرام کے قریب آیا اور اس نے علماءاسلام کی دینی فقاہت کو دیکھا جوکہ دینی مدارس کا فیض تھا تو اسے پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملا۔”
صادق علی زاہد نے ثبوتوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ملاں لدھیانوی نے اپنی تقریری تحریر کے ذریعے “فی سبیبل اللہ فساد” پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جس دور میں علامہ کے والد نے مرزا قادیانی کی بیعت کی تھی اس وقت وہ ایک عالم دین کی حیثیت سے مشہور تھا۔ جبکہ اقبال اس وقت سکول کے طالب علم تھے۔ دعویٰ نبوت کے چھ سال قبل ہی شیخ نور محمد پر مرزا قادیانی کی اصلیت ظاہر ہونے لگی تو 1895ءمیں اس کے نام ایک خط لکھا اور بیعت توڑ ڈالی۔ اس پر مرزا قادیانی نے میر حامد شاہ کے نام خط میں لکھا کہ شیخ نور محمد کو کہہ دیں کہ وہ جماعت سے ہی الگ نہیں بلکہ اسلام سے بھی الگ ہے۔
صادق علی زاہد نے مستند حوالہ جات سے ثابت کیا ہے کہ علامہ کے والد تو مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے قبل ہی اسکی جماعت سے الگ ہو گئے تھے لیکن خود لدھیانوی صاحب کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے بزرگ مرزا قادیانی کی عقیدت میں گرفتار رہے۔ رشید احمد گنگوہی نے مرزا قادیانی کو صالح کہا اور اس کے الہامات کی تاویلات پیش کیں۔ اشرف علی تھانوی اسے کافر کہنے کے بجائے مسلمان کہتے رہے اور اس کے حق میں دعائیں کرواتے رہے بلکہ اس کی امامت میں نمازیں بھی پڑھتے رہے۔ مفتی کفایت اللہ نے مرزائیوں کو اہل کتاب قرار دیا اور انکے ہاتھ کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے قادیان میں قادیانی امام کے پیچھے پہلی صف میں کھڑے ہو کر نمازیں پڑھیں۔ مرزا کی وفات پر امرتسر سے لاہور آکر اسکے جنازے کے ساتھ بٹالہ تک سفر کیا۔
مولانا لدھیانوی کے ممدو حسن کا طرز عمل تو یہ تھا جبکہ علامہ اقبال کے بارے میں کتاب سیرت المہدی میں مرزا بشیر قادیانی نے خود لکھا ہے۔“ملک کے نو تعلیم یافتہ طبقہ میں احمدیت کے خلاف جو زہر پھیلا اس کی بڑی وجہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا مخالفانہ پراپیگنڈہ تھا”
مولانا لدھیانوی تو اقبال کو عقیدہ ختم نبوت کی اصلیت سے ناواقف قرار دیتے ہیں جبکہ 1935ءمیں احمدی عقائد سے متعلق اقبال کے ایک مقالے کی اشاعت پر لکھنؤ کے اخبار “صدق”نے یکم اگست کی اشاعت میں لکھا: .... “علامہ سر محمد اقبال کے اس حقیقت خیز اور ولولہ انگیز مقالے نے ہمالیہ سے راس کماری تک ہلچل مچا دی ہے جس میں انہوں نے مسئلہ ختم نبوت کے فلسفیانہ پہلو کو قدرتی قانون پر منطبق کرکے رسول اللہﷺ کی خدمت گزاری کا عظیم شرف حاصل کیا ہے”؟ صادق علی زاہد کا پندرہ صفحات پر پھیلا ہوا تحقیقی مضمون پڑھنے کے بعد ہم سوچ رہے تھے کہ اقبال کے فہم ختم نبوت کو مشکوک قرار دینے والے کا اپنا فہم نبوت کس درجے کا ہے۔ اقبال نے سچ ہی کہا تھا :
پنجاب کے ارباب نبوت کی شریعت
کہتی ہے کہ یہ مومن پارینہ ہے کافر
________________________________

اکبر اور گاندھی میں مماثلت
جس طرح کی بے دینی و بے حمیتی کا مظاہرہ اکبر مغل نے کیا اور تمام ادیان کو باہم مجتمع کرنے کی مذموم سعی کی بالکل اسی طرح سے گاندھی نے بھی دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے اکبری طرز کا فلسفہ اپنایا۔ وہ بظاہر تو اہنسا پرَشاد* کا داعی تھا لیکن قیامِ پاکستان کے وقت لاکھوں مسلمانوں کا خون پی گیا اس نے اور اس کے چیلوں نے مسلمانوں کے دودھ پیتے بچے بھی ذبح کروانے میں ظالموں کی پشت پناہی کی اور عفت مآب مسلمان خواتین کی بے حُرمتی میں بھی درندوں کو شہہ دی ایسے درندہ صفت انسان کو اہنسا پرشاد٭ کے فلسفے کا نام لیتے ہوئے شرم آنی چاہئے جس کے نزدیک کتے بلی تو انتہائی قدر و قیمت رکھتے تھے لیکن مسلمان انسانوں کا خون رائیگاں حیثیت رکھتا تھا۔
٭اہنسا پرَشاد مسٹر گاندھی کا ایک مکر ہے جسے عالمی سطح پر جانداروں کے تحفظ کا فلسفہ مانا جاتا ہے، مسلمانوں کو گائے قربان کرنے سے منع کرنا اصل مقصود تھا ورنہ ہندو ظالم تنظیموں نے گاندھی کی آشیر باد سے لاکھوں مسلمانوں کو ذبح کر ڈالا تھا کیا وہ جاندار نہ تھے! مزید برآں یاد رہے مسٹر گاندھی خاندانی طور پر جین مت کا قائل تھا جس میں گوشت کھانا انتہائی سختی سے منع ہے

 مولانا ضیاء الحامدی نقشبندی مجددی اپنی کتاب پاکستان اور کانگریسی علماء میں لکھتے ہیں:۔
متحدہ قومیت کا فتنہ
برصغیر پاک و ہند میں سلطنت مغلیہ کے شہنشاہ اکبر نے اپنے عہد میں اپنے اقتدار کے استحکام کے لئے متحدہ قومیت کی بنیاد رکھی جس کے خلاف امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ نے جہاد کیا اور بفضلہٖ  تعالیٰ جہانگیری عہد میں متحدہ قومیت کے بُت کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا، ہندوستان کے دورِ غلامی میں متحدہ قومیت کے مردہ کو گاندھی نے پھر زندہ کیا جس پر ابوالفضل اور فیضی جیسے دین فروش علماء سُو ایمان لے آئے، حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ابوالفضل اور فیضی نے شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کی حمایت میں قرآن وحدیث میں تحریفیں کی تھیں اور دنیوی مفاد کی خاطر ناموس رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قربان کردیا اسی طرح گاندھی کی متحدہ قومیت کی حمایت میں مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور ان کے رفقاء قرآن و حدیث کو غلط معنیٰ پہنا کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سر توڑ کوششیں کرتے رہے اور گاندھی و نہرو کی قیادت مین لادینی نظام کے قیام کیلئے کوشاں رہے، لیکن بفضلہٖ تعالےٰ برِّصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے قائد اعظم (رحمۃ اللہ علیہ) کی قیادت میں متحدہ قومیت کے فتنہ کا ڈت کر مقابلہ کیا اور پاکستان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
___________________________________


دیوبند خود کو معتدل اور امت وسط قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ہرگز حقائق کے منافی ہے۔ دراصل دیوبندیت، وہابیت سے بھی اگلے درجے کی منافقت اور خباثت کا نام ہے، موجودہ دور میں ایک طرف وہ عوام الناس کے اذہان کو سنیت اور پاکستان سے متنفر کررہے ہیں تو دوسری جانب انٹرنیٹ پر خود کو پاکستان کا سچا حامی اور بانی ثابت کرنے کے لئے بھی زور رہے ہیں۔ جس طرح اندلس میں لاکھوں مسلمانوں کا قتلِ عام کرکے عیسائیوں نے 1492 میں وہاں قبضہ کرلیا تھا بالکل اسی طرح کے آثار بیسویں صدی کے وسط میں ہندوستان میں نظر آرہے تھے اور ابوعبداللہ جیسے غداروں کی ایک فوج ظفر موج مسٹر گاندھی کے ساتھ تھی چنانچہ اسی حقیقت کو طشت ازبام کرتے ہوئے صحافی، بریگیڈیئر (ر) شمس الحق قاضی اپنے کالم مطبوعہ مورخہ 07 اپریل 2012،روزنامہ  نوائے وقت میں لکھتے ہیں:۔

مولانا ابوالکلام آزاد کے مواعظ 
ایک نجی ٹی وی چینل کے سینئر اینکر نے بتایا کہ 1944ءسے 1947ءکے دوران دہلی میں مولانا ابوالکلام آزاد نے مختلف اوقات پر پاکستان کے مستقل کے بارے میں جو خدشات ظاہر کئے وہ سو فیصد سچ اور درست معلوم ہوتے ہیں ۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا کہ پاکستان بن گیا تو یہ مسلمانانِ ہندوستان کو تقسیم کر دے گا۔ اور اس سے مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان ہو گا۔
راقم بھی واں موجود تھا مجھے یاد ہے ذرا ذرا
راقم اس دوران 1945ءسے 1947تک تاریخ پاکستان کی جدوجہدکے دوران دہلی میں موجود تھا اور مختلف اوقات میں مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے پاکستان مخالف مسلمانوں اور کانگریسی لیڈروں کے بیانات اور تقاریر سنتا رہا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی طاقت کو پاکستان بننے کے ذریعے کمزور کرنا پاکستان کی وجہ سے تھا یا مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے کانگریسی لیڈروں کی خواہشات پر مبنی تھا۔ راقم غالباً وہ واحد فرد موجود ہے جس نے برطانوی پاکستان کی پاکستان تجویز کے بارے میں نئی دہلی میں کانگریس کا جلسہ دیکھا اور سنا۔ اس جلسہ میں مولانا ابوالکلام آزاد سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان اور دوسرے غیر ہندوں لیڈروں نے جو تقاریر کی تھیں ان کاموضوع وہی تھا جو اس چینل نے اپنے پروگرام میں بتایا۔ اس میں جو بات نوٹ کرنے والی تھی وہ اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد اب بھی مجھے یاد ہے کہ ہندو لیڈر سردار ولبھ بھائی پٹیل ہوم منسٹر نے بتایا کہ ہندوستان میں مسلمان ہمارے لئے کینسر کی بیماری ہیں جن کو اکھیڑ کر پھینک دینا ہماری صحت کیلئے بہت ضروری ہے اور اسی کانام انگریزوں کی پاکستان تجویز ہے۔ میں اپنی منسٹری میں کسی مسلمان چپڑاسی پر بھی اعتبار نہیں کرسکتا۔ اسلئے انگریز حکومت کی بنائی تجویز ہماری زندگی کیلئے نہایت ضروری ہے چنانچہ اسی دوران ولبھ بھائی پٹیل نے ہندوستان کے مختلف علاقوں دہلی ، بہار، کلکتہ اور اس کے قرب و جوار وغیرہ میں مسلمانوں کا قتل عام کراکے وہ نقشہ دکھایا جو کانگریسی ہندوﺅں کے دل میں تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی تقریر میں بتایا کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے حالات اتنے خراب ہونگے یعنی خراب کر دئیے جائیں گے کہ پاکستان چھ ماہ کے اندر اندر اپنے گھٹنوں کے بل ہو کر دوبارہ ہندوستان میں شامل ہونے کیلئے ہمارے قدم پکڑے گا۔
چنانچہ ہندو کانگریس کا یہ پروگرام تھا کہ ایک طرف تو ہندوستان کے مسلمانوں کو ختم کیا جائے جس میں مولانا آزاد اور دوسرے کانگریسی مسلمان بھی شامل تھے اور دوسری طرف پاکستان کی نئی مملکت کا ناطقہ بند کیا جائے تاکہ وہ ملک چلنے کے قابل ہی نہ رہے اور پنڈت نہرو نے بطور خاص اپنے نمائندے پنڈت درگا پرشاد دھر وغیرہ کو مسلم ہسپانیہ میں یہ دریافت کرنے کیلئے بھیجا کہ ہسپانیہ میں عیسائیوں نے مسلمانوں کی 800 سالہ حکومت کو ختم کرکے مکمل طور پر مسلمانو ں سے کیسے خلاصی حاصل کی اس میں ہندوﺅں اور عیسائیوں کے دوست مسلمان بھی شامل تھے۔ ہسپانیہ اور ہندوستان دونوں علاقوں میں اسلام دشمن عیسائیوں اور ہندووں کو مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح کے آلہ کارمہیا تھے جو دشمنوں کا پروگرام آگے چلانے کیلئے تیار تھے مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد کونمونے کے طور پر کانگریس کا صدر بنا کر برٹش گورنمنٹ کے ساتھ گفت و شنید کیلئے استعمال کیا گیا قائد اعظم نے مولانا ابوالکلام آزاد کو کانگریس کاشوبوائے بتایاجب پاکستان اور ہندوستان دو آزاد ملک بنانے پر فیصلہ ہو گیا تو مولانا ابوالکلام آزاد کو کھُڈے لائن لگا کر پنڈت جواہر لال نہرو خود کانگریس کا صدر بن کر ہندوستان کا پہلا وزیراعظم بن گیا مولانا ابوالکلام آزاد کو پنجاب کی تقسیم کیلئے ا ستعمال کیا گیا۔ چنانچہ مولانا ابوالکلام آزاد لاہور جا کر وزیراعظم پنجاب سرخضرحیات کے ساتھ ملاقات کر کے اُس کو کانگریس لیڈر کی حمائت کا یقین دلا کر صوبائی اسمبلی سے پنجاب کی تقسیم پاس کرا کر کانگریس کی ایسے خدمت کی جس کےلئے ساری عمر ہندووں پر احسان جتاتے رہے کہ انہوں نے آدھا پنجاب اور کشمیر دونوں کو ہندوستان کیلئے حاصل کر لیا۔ دوسری طرف جب ہندوں کا مقصد پورا ہو گیا تو انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد اور شیخ عبداللہ دونوں کو اپنی INNERکابینہ سے نکال دیا بلکہ شیخ عبداللہ کو قید و بند سے بھی گزرنا پڑا ۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی ابتدائی زندگی کا بیشتر حصہ تفسیر وقرآن اور اُس کے متعلقہ علوم کی تلاش اور اشاعت میں گزرا۔ مثال کے طور پر مولانا ابوالکلام آزاد کی مشہور ترین تالیف ترجمان القرآن جلد اوّل میں 200صفحات سے اوپر صرف سورة فاتحہ کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ مولانا غلام رسول مہر نے بڑی کاوش سے مولانا ابوالکلام آزاد کی مرتب کردہ کُتب کی فہرست اپنی کتاب باقیات ترجمان القرآن میں درج کی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی کے کسی مقام پر مولانا ابوالکلام آزاد اپنی اصلی منزل بھول کر ہندووں کی تعریف و توصیف کے ساتھ اُن کے پروگرام کا حصہ بن گئے۔ اسی لیے علامہ اقبال نے لکھا تھا مولانا آزاد کی تفسیر کو احتیاط سے پڑھا جائے اور عمر کے آخری حصہ میں اپنی اس قلا بازی پر اس قدر پشیمان ہوئے کہ اس صدمے کوبھلانے کیلئے انکو شراب کا سہارا لینا پڑا چنانچہ پنڈت نہرو کا پرائیویٹ سیکرٹری اپنی کتاب میں لکھتاہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد آخری عمر میں شراب کے غلام ہو چکے تھے ۔ جن کو انگریزی میں
 AL-COHOLIC
کہتے ہیں یعنی جب تک ان کو طلب کے مطابق شراب نہ دی جاتی تو ان کا بدن بے جان ہو جاتا اور وہ اپنے پیروں پر بھی کھڑے ہونے کے قابل نہ ہوتے ۔ پنڈت نہرو کے سیکریٹری نے لکھا کہ کئی بار مولانا ابوالکلام آزاد کو شراب پلاکر ملاقات کے قابل بنایا اور پھر وہ پنڈت نہرو کی میٹنگ میں شامل ہوئے ۔ چنانچہ مذکورہTVنے 23مارچ کے پروگرام میں جو کچھ بیان کیا واقعی پاکستان کا وہی حال ہے جس کی پیش گوئی مولانا ابوالکلام آزاد نے کی تھی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ مولانا ابوالکلام آزاد اور ان جیسے دوسرے مسلمان لیڈر ہندو کانگریس کے آلہ کار بن کر پاکستان کے موجودہ حالات تک پہنچانے کے لیے ذمہ دار تھے۔ مثلاً دیو بندی علماءمیں سے مولانا مفتی محمود نے پاکستان میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہ تھا۔
بہرحال مولانا ابوالکلام آزاداور دیو بندی علمائے اسلام تو پاکستان کے قیام کو ہندوستان کے مسلمانوں کو تقسیم کر کے مسلمانوں کے نقصان کا ذمہ دار بنا رہے تھے۔ لیکن ہمارے صوبہ سرحد کے باچا خان عبدالغفار صاحب کا کہناتھا کہ آپ کے بیان کردہ نقصانات بجا ہیں۔ مسلمانوں پر پاکستان بننے کا کیا اثر ہو گا۔ ہمیں اس سے غرض نہیں ہے ہمیں تو صرف پختونوں کی فکر ہے۔ اور کانگریس نے پاکستان منظور کر کے ہمیں پاکستانی بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا ہے۔ چنانچہ خان عبدالغفار کی دلجوئی کے لئے کانگرس نے صوبہ سرحد کے مجوزہ ریفرنڈم میں صوبہ کو ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونے کے علاوہ آزاد پختونستان بنانے کی بھی اجازت دی جائے وائسرائے کے سٹاف نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ ہم صوبوں کو آزاد ملک بنانے کو منظور کر کے ہندوستان کو Bulknizationیعنی مشرقی یورپ میں ریاست ہائے بلقان کی طرح تقسیم کر دینے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ خان عبدالغفار خان کی پاکستان سے نفرت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ خان صاحب نے اپنی میت کو بھی پاکستان میں دفن ہونا گوارا نہیں کیا۔ چنانچہ اُن کی وصیت کے مطابق اُنکو افغانستان کے شہرجلال آباد میں دفن کیا گیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن ہندو آلہ کار لیڈروں کو مسلمانوں کی فکر نہیں تھی کیونکہ اگر ہندو کانگریس اِنکو اپنی پالیسی ساز کابینہ میں شامل رکھتے تو اُن کو پنڈت نہرو ہندوملٹری افسروں سے مل ملٹری کُوکے ذریعے سارے ہندوستان پر قبضہ کرنے کا منصوبہ معلوم ہو جاتا۔ مسلم لیگ ہائی کمان کو نہرو کے اس ملٹری کُو پلان کا علم ہو گیا ۔ ایک طرف قائد اعظم اور نوابزادہ لیاقت علی خان دونوں نے وائسرئے کی پارٹیشن کمیٹی میں علیحدہ علیحدہ احتجاج درج کرایا جس کا ذکر پاکستان ہائی کمیشن لندن میں ہمارے کونسلر جناب قطب الدین عزیز نے اپنی کتاب
 Quaid-i-Azam Jinnah and the Battle for Pakistan
صفحہ92-93پر کیا ہے۔دوسری طرف قائد اعظم نے پنڈت نہرو کے ملٹری کُو منصوبہ کا تدارک کرنے کےلئے راقم کی ڈیوٹی لگائی کہ سینئر مسلمان افسروں کی ملاقات مسلم لیگ ہائی کمان سے کرائی جائے۔ جن کا ذکر میجر محمد سلمان جنجوعہ سگنل کور اور کرنل (ر) مقبول الٰہی درویش نے بھی کتاب “وقت کے ساتھ ساتھ” میں کیا ہے۔ راقم نے جن سینئر مسلمان افسروں کی ملاقات لیاقت علی خان صاحب سے کرائی اُن میں بریگیڈئیر(ر) محمداکبر خان کو لے کر راقم بذاتِ خود فنانس منسٹر کے چیمبر میں گیاواضح رہے کہ یہ بریگیڈیئر (ر) محمد اکبر خان انڈین آرمی میں ہندو، مسلمان، سکھ، اور عیسائی افسروں میں سینئر موسٹ تھے۔ انکی لیاقت علی خان سے ملاقات دلچسپ اور پڑھنے کے قابل ہے۔ اس کی تفصیل میری کتاب “وقت کے ساتھ ساتھ” میں صفحہ 42-43پر دیکھی اور پڑھی جا سکتی ہے۔ مولانا آزاد صاحب نے اپنی کچھ یاداشتیں لکھ کر اس شرط پر حکومت ہند کے حوالہ کر دی تھیں کہ انکی وفات کے 25برس بعد انکی تحریر کو کھول کر پڑھا جائے اخباری اطلاعات کے مطابق مولانا آزاد کی صاحب زادی نے انڈین عدلیہ کو یہ تحریر انکے حوالہ کرنے کی درخواست کی تھی جو کہ نامنظور کر دی گئی تھی اس لیے مولانا آزاد کی تحریر کا علم صرف حکومتِ ہند کو ہے۔ اندازہ ہے کہ ان یاداشتوں میں مولانا آزاد اور دوسرے کانگریسی لیڈروں کی پالیسی کو بے نقاب کیا گیا ہے جو کہ ہندوستان کو تقسیم کرنے کا سبب بنے۔ اور جو ہندوستان میں مسلمانوں کو ہسپانیہ کی طرح مکمل طور پر نیست نابود کرنا چاہتے تھے لیکن پاکستان کے وجود سے ہندووں کو یہ ہمت نہ ہوئی....
دُنیا کو دیکھ ایک ہی شیطان سے گھبر اُٹھی
تو مجھ کو دیکھ کتنے شیطانوں میں گھِرا تھا