Garissa University لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Garissa University لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 13 اپریل، 2015

One student dies, over hundred injured in Nairobi campus stampede

NAIROBI: A Kenyan student died and more than 100 others were injured as they fled after a electrical explosion triggered fears that their campus was being attacked before dawn on Sunday, officials said. 

      Students jumped from windows at their University of Nairobi residence halls or rushed out in a stampede that underlined growing tensions just over a week after Islamist gunmen stormed another university campus, killing 148 people.
“I could see the students jumping and one of them landed on his head,” said third-year student Felix Muriuki. Others said there were three loud blasts, plunging the dormitory into darkness, which heightened the panic among the students.
“We thought it was another al Shabaab attack,” said Eddy Capella, a first-year student. The dead student was among others who had tried to jump to safety at the Kikuyu campus, university vice chancellor Peter Mbithi told Reuters.
“We have lost one male student who fell from fifth floor,” Mbithi said outside the emergency section of the country’s main public hospital, Kenyatta National.
Kenya Power, the country’s main electricity distributor, said the explosion was caused by overloaded underground cable. Initial witness accounts had said a transformer exploded. Kikuyu students called on the government to do more to secure all universities. “I’m not feeling 100 percent safe on campus but I will continue with my studies,” Muriuki said.
Witnesses said the explosion occurred at about 4.30 am (0130 GMT), setting off terrified screams from the women’s wing of a dormitory.
The panic spread to the men’s wing, where students woke up and scrambled to get out. Students said the incident evoked memories of the April 2 attack on Garissa University College, about 200 km from the Somali border. Somalia’s Al Qaeda-aligned group al Shabaab claimed responsibility for that raid, which also came before dawn.

ہفتہ، 4 اپریل، 2015

عسکریت پسندوں کے مزید حملوں کے انتباہ کے بعد، کینیا کے صدر کاسخت جوابی کارروائی کا عزم

گاریسا، کینیا: صومالیہ کے انتہا پسند گروپ الشباب نے، جمعرات کے روز گاریسا یونیورسٹی کالج پر حملہ کرکے، 148 افراد ہلاک کر دیئے تھے۔
اس گروپ نے ہفتہ (4 اپریل  2015) کے روز دھمکی دی ہے کہ، وہ اس طرح کے حملے جاری رکھیں گے۔ دہشگردوں کا کہنا ہے کہ، کینیا کے شہر سرخ خون میں بہا دیئے جائیں گے۔ دہشتگرد اپنے ان حملوں کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ، صومالیہ میں ان کے خلاف کینیا کی افواج نے حصہ لیا، جس کا اب وہ انتقام لے رہے ہیں

جمعہ، 3 اپریل، 2015

کینیا: گریسا یونیورسٹی حملہ، ہلاکتیں 147 ہوگئیں

جمعرات (2 اپریل 2015) کی صبح کو، عسکریت پسند گروپ 'الشباب' کے نقاب پوش مسلح افراد نے شمال مشرقی کینیا میں ایک یونیورسٹی پر دھاوا بول دیا اور یونیورسٹی میں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا۔ کینیا کے حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک افراد کی تعداد 147 تک پہنچ چکی ہے اور حفاظتی آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔ حکام کے مطابق چار حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے تمام طلباء کی گنتی کی جا چکی ہے جس کے مطابق 147  ہلاک ہوچکے ہیں۔ جبکہ 587 طالب علموں کو نکالا گیا ہے جن میں سے 79 زخمی ہیں۔ نو شدید زخمی طالب علموں کو علاج کے لیے دارالحکومت نیروبی پہنچایا گیا ہے۔ ملک کے کچھ حصوں میں رات کو کرفیو لگایا جا رہا ہے

دہشت گرد کافروں کے ایجنڈے پر ہیں


کینیا کی گریسا یونیورسٹی میں دہشتگردی کی واردات میں تقریباً 147 ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ  امریکی ایجنسی سی آئی اے کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم القائدہ کو ہتھیار خریدنے اور دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کے لئے بھاری رقوم فراہم کرتی رہی ہے۔ چونکہ افریقی ممالک میں دہشتگرد تنظیموں مثلاً الشباب اور بوکو حرام وغیرہ کی کڑیاں القاعدہ سے ملتی ہیں اور القاعدہ امریکن سی آئی اے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا بھر میں اکثر دہشت گرد وہابی سوچ کے ہوتے ہیں ان کو القاعدہ کنٹرول کرے یا استعمال کرے بات ایک ہی ہے۔ البتہ وہابیوں (دیوبندیوں) کے نزدیک یہ جہاد ہے۔ اور ان کا ماسٹر مائنڈ کوئی اور نہیں بلکہ امریکی ایجنسی ہے جس نے دو طرفہ پالیسی سے دنیا کا امن تباہ کِیا ہوا ہے۔ میں تو آج پھر وہی کہوں گا جو ایک عرصے سے کہتا آیا ہوں کہ طالبان، (ہر قسم) جماعۃ الدعوہ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، اخوان المسلمون، بوکو حرام، الشباب، داعش (آئی ایس) سمیت وہ تمام تنظیمیں جو اسلام کا نام لے کر بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں وہ مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں۔ انہیں اسلام یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ وہ سی آئی اے جیسی خبیث ایجنسیوں کے کتے ضرور ہیں۔ ان کی اس طرح کی حرکتوں سے کافر ایجنسیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے جواز فراہم ہو جاتا ہے۔