Nawaiwaqt لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Nawaiwaqt لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 23 مارچ، 2015

سوئے حجاز ۔ خطبات نورانی کی آواز

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
22 مارچ 2015

بردارم ملک محبوب الرسول قادری نے مجھے خطبات نورانی پر مشتمل کتاب دی۔ کتاب کے نام سے لگتا ہے کہ یہ روشنائی سے لکھے ہوئے خطبے ہیں۔ قلم کی سیاہی کے لئے اللہ کے رسول رحمۃ للعالمین، محسن انسانیت، نور کی ساری حقیقتوں کے شناسا حضرت محمدؐ نے فرمایا جبکہ وہ روشنیوں کا مرکز تھے، خود نور سے بنے ہوئے تھے۔ میرے خیال میں روشنی اور نور میں فرق ہے۔ یہ فرق عشق اور عشقِ رسولؐ کی کیفیتوں کی سر مستیوں سے لبالب بھرے ہوئے لوگ جانتے ہیں۔ یہ کتاب جمعیت العلمائے پاکستان کے صدر حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کے خطبات پر مشتمل ہیں۔ مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی جنرل سیکرٹری تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیڈر تھے۔ دونوں کو ایک دوسرے کا اتنا احترام کرتے دیکھا کہ کوئی دوسرا اس کا تصور نہیں کر سکتا۔ عشقِ رسولؐ دونوں کی ایسی سانجھ تھی جو کبھی نہ ٹوٹ سکی۔ دونوں کے درمیان کچھ شکر رنجی بھی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی مگر عشقِ رسولؐ کو ایمان کا درجہ دینے والوں کے لئے رنج بھی شکر (شوگر) بن جاتا ہے۔ حضرت شاہ احمد نورانی قائدِ اہلسنت تھے۔ انہوں نے سیاست میں عشقِ رسولؐ اور عشق و مستی کو رلانے ملانے کی کوشش کی۔ ناموسِ رسالتؐ کی تڑپ رکھنے والے لوگ آج تک اُن کی رفاقت اور قیادت کے نشے میں چُور ہیں، جن میں لاکھوں لوگ ہیں۔ ملک محبوب الرسول نمایاں لوگوں میں سے ہیں۔ وہ ایک رسالہ نکالتے ہیں اُس کا نام ’’سوئے حجاز‘‘ ہے۔ عشقِ رسولؐ والے جہاں بھی ہوں، جس راستے پر ہوں وہ دیکھتے ’’سوئے حجاز‘‘ ہیں۔ اُن کی نظر گنبدِ خضریٰ پر رہتی ہے۔
تحفظِ ناموس رسالتؐ کے لئے اپنی زندگیاں محبوب الرسول قادری جیسے لوگوں نے وقف کی ہوئی ہیں۔ وہ بار بار عمرے کے لئے جاتے ہیں۔ اس میں یہ آرزو بھی دل میں تڑپتی رہتی ہے کہ روضۂ رسول پر حاضری نصیب ہو گی۔ حضورؐ کی خدمت میں حاضری حضوری ہے۔ قادری صاحب نے کتاب دیتے ہوئے مجھے کہا کہ عشقِ رسولؐ اور ناموسِ رسالتؐ کے حوالے سے خطبات نورانی پر کچھ لکھئے۔ اُن کی سب باتیں عشقِ رسولؐ کے دائرے میں گھومتی ہیں اور جھومتی ہیں۔ میں آپ کا یہ کالم روضۂ اطہرؐ کے سامنے حضور نبی کریم رحمۃ للعالمین حضرت محمدؐ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ یہ الفاظ سیدھے میرے دل میں اُتر گئے۔ ہم تو اُن لوگوں میں سے ہیں جو عشق رسولؐ کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں بلکہ اصل ایمان ہی یہی ہے۔
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نر سیدی تمام بوالہبیت
نورانی صاحب نے عشقِ رسولؐ کو حلاوت ایمان قرار دیا ہے۔ اُن کے اٹھارہ خطبات میں عشقِ رسولؐ کا چراغ جل رہا ہے۔ ان روشنیوں کو قادری صاحب نے مرتب کر کے ’’خطباتِ نورانی‘‘ کے نام کتابی صورت میں شائع کر دیا ہے۔ یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں حضرت نورانی صاحب کی خدمت میں موجود ہوں، ان کا خطاب ہو رہا ہے، ان کی آواز کسی نورانی راز کی طرح میری سماعتوں کے سارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔
عبدالستار خان نیازی سے میری عزیز داری تھی۔ وہ میرے دادا جہاں خان ذیلدار موسیٰ خیل ضلع میانوالی کے لئے بیٹوں کی طرح تھے۔ میرے والد کریم داد خان اور نیازی صاحب کلاس فیلو تھے۔ میں نے عشقِ رسولؐ کی روشنی اپنے ابا مرحوم سے لی ہے۔ میری زندگی میں ایسا لمحہ کبھی نہ آیا کہ والد صاحب کے سامنے کسی نے آپؐ کا نام لیا ہو اور وہ روئے نہ ہوں۔ ہم نے اپنے گھر میں صرف کتابیں دیکھی تھیں۔ شعر و ادب اور مختلف علوم پر مشتمل کتابیں تھیں۔ زیادہ تعداد سیرت النبیؐ کے حوالے سے کتابوں کی تھی۔ اُن کے انتقال کے بعد وہ سب کتابیں میں لاہور لے آیا ہوں۔ مولانا نیازی کے ساتھ میانوالی کے لوگ صرف عشقِ رسولؐ کی وجہ سے عشق کرتے تھے اور انہوں نے میانوالی کے لوگوں کو نیازی بنایا۔ اس سے پہلے لوگ اپنے نام کے ساتھ خان تو لکھتے تھے نیازی نہیں لکھتے تھے۔ مگر نورانی صاحب کے ساتھ نسبت میں نیازی صاحب کی دوستی بھی تھی مگر عشقِ رسولؐ کی نسبت رشتہ داری سے آگے نکل گئی۔ میں کہا کرتا ہوں کہ نسبت نسب سے بڑھ کر ہے اور عقیدت عقیدے سے بڑی ہے۔
چچا شیر احمد خان لاہور میں جمعیت العلمائے پاکستان کے آفس سیکرٹری تھے، ان کی دعوت پر ہمارے گائوں بھی نورانی صاحب تشریف لائے تھے۔
اس موقع پر ایک عاشق رسولؐ ایڈووکیٹ برادرم منصور الرحمن آفریدی یاد آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی عظیم ماں سے عشقِ رسولؐ کی خوشبو پائی۔ ایک بار روضۂ رسولؐ کے سامنے اپنی ماں کو جا کھڑا کیا تو درود و سلام کی لوریوں سے آفریدی صاحب کی پرورش کرنے والی ماں نے جذب و کیف کی مستی میں اپنے سچے بیٹے سے کہا کہ مانگ جو کچھ تُجھے چاہئے۔ تم صدرِ پاکستان یا وزیراعظم بننا چاہتے ہو۔ آفریدی صاحب نے عرض کی، ماں جی! آپ عشقِ رسولؐ کے صدقے میں یہ دعا فرمائیے اور حضورؐ کی خدمتِ اقدس میں درخواست کیجئے کہ وہ دونوں جہانوں کے سردار ہیں۔ مجھے اللہ دونوں جہانوں میں عزت، ایمان اور عشقِ رسولؐ کی دولت سے سرفراز فرمائے۔ اب یہ دولت اتنی آفریدی صاحب کے پاس ہے کہ اُن سے سنبھالی نہیں جاتی۔ میں نے بھی ملک محبوب الرسول قادری سے گزارش کی کہ وہ میرا سلامِ نیاز اُن کی خدمت میں پہنچا دے۔
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

بشکریہ: نوائے وقت

اتوار، 13 جولائی، 2014

خبریں تبصرے کے بغیر

گوجرانوالہ کے رمضان بازاروں کا اچانک دورہ‘ گراں فروشوں‘ ذخیرہ اندوزوں کو من مانی نہیں کرنے دینگے : شہباز شریف

13 جولائی 2014



گوجرانوالہ کے رمضان بازاروں کا اچانک دورہ‘ گراں فروشوں‘ ذخیرہ اندوزوں کو من مانی نہیں کرنے دینگے : شہباز شریف
لاہور + گوجرانوالہ (خصوصی رپورٹر+ نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا ہے کہ رمضان بازاروں کا مقصد عام آدمی کو خوردونوش کی اشیاء مناسب داموں پر فراہم کرنا ہے، حکومت گرانفروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کو کسی قیمت پر من مانی نہیں کرنے دیگی۔ وہ گوجرانوالہ میں رمضان بازار کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔گوجرانوالہ کی انتظامیہ کو بھی وزیراعلیٰ کے اس اچانک دورے کی بھی خبر نہ تھی۔ وزیراعلیٰ راولپنڈی سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور واپس آرہے تھے کہ انہوں نے بغیر کسی پیشگی پروگرام پائلٹ کو گوجرانوالہ اترنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے پہلے پیپلز کالونی کے رمضان بازار کا دورہ کیا اور وہاں لگائے گئے ایک ایک سٹال پرگئے اوران سٹالوں پر رکھی گئی اشیاء کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے خریداری کے لئے آئے لوگوں سے دریافت کیا کہ کیا  وہ اشیاء کے معیا راور قیمتوں سے مطمئن ہیں؟ جس پر لوگوں نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ رمضان بازاروں میں معیاری اشیاء ضروریہ ،سبزیاں اور پھل مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ بعدازاں وہ شاہین آباد رمضان بازار گئے، وہاں آٹے کے تھیلے میں زائد نمی ثابت ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ مظفر فلور مل کو سیل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ میڈیا سے گفتگو میں شہبازشریف نے کہاکہ قصور اور اوکاڑہ کی نسبت گوجرانوالہ میں رمضان بازاروں کے انتظامات بہتر اور قابل ستائش ہیں، گرانفروش اور ذخیرہ اندوز مجھ سے کسی نرمی کی توقع نہ کریں۔ اسلام آباد میں اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے ہر حال میں نجات دلائیگی ۔2017ء تک توانائی کے جاری تمام منصوبوں کی ہر قیمت پر تکمیل یقینی بنائی جائے گی، مسائل اور پیچیدگیوں کے باوجود توانائی کے شعبے میں چین کے بھر پور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بجلی ہوگی تو ہمارے کھیت کھلیان لہرائیں گے۔صنعت و معیشت کا پہیہ چلے گا۔ علاوہ ازیں شہبازشریف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے پختون بہن بھائیوں کی مدد کے لئے قائم کئے گئے چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں 2کروڑ 70لاکھ روپے کے چیک دئیے۔ صوبائی پرائس کمیٹی سے خطاب میں شہبازشریف نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب عوام کو رمضان المبارک کے دوران سستے آٹے کی فراہمی پر 5ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے، آٹے کی کوالٹی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ غیرمعیاری آٹا سپلائی کرنے والی فلور ملوں کا گندم کوٹہ معطل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے رمضان بازاروں میں بہترین انتظامات پر راولپنڈی اور گوجرانوالہ کے ڈی سی اوز اور متعلقہ عملے کو شاباش دی۔ لاہور سمیت پنجاب کے بعض علاقوں میں پینے کے پانی کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے شہبازشریف نے پانی کی قلت دور کرنے کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ شہبازشریف نے معروف نیورو سرجن بریگیڈئر (ر) ڈاکٹر خالد محمود بٹ کے انتقال پر اظہار کیا ہے۔
شہبازشریف

آپ کو میرے اچانک رمضان بازارو ں کے دورے کا کیسے علم ہوا، وزیراعلی کا صحافیو ں سے سوال

13 جولائی 2014

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ شہباز شریف رمضان بازاروں کے اچانک دورے پر گوجرانوالہ پہنچے تو دورے کا علم انکے پرسنل سٹاف افسر کو بھی نہ تھا۔ وزیراعلیٰ نے صحافیوں سے گفتگو میں پوچھا کہ آپ کو میرے اچانک دورے کا کیسے علم ہوا تو انہوں نے کہاکہ ہیلی کاپٹر کو فضا میں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ آپ رمضان بازاروں کے دورے پرآر ہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے دورے کی ا طلاع پر وفاقی وزیر خرم دستگیر خان اور بعض ارکان اسمبلی بھی پہنچ گئے۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی وزیر خرم دستگیر خان سے پوچھاکہ آپ رمضان بازاروں میں انتظامات کو چیک کرنے کیلئے کتنی بار آئے ہیں جس پر خرم دستگیر خان نے بتا یاکہ وہ اکثر رمضان بازاروں کے دورے کرتے ہیں اور جب سے آپ نے رمضان بازاروں کے اچانک دوروں کا سلسلہ شروع کیا ہے ہماری نظریں آسمان پر ہی رہتی ہیں۔

وزیراعلیٰ کا ’’اچانک‘‘ دورہ: گوجرانوالہ انتظامیہ نے دکانوں کے پھٹے اٹھوا کر شاہین آباد رمضان بازار میں عارضی سٹال قائم کردئیے

13 جولائی 2014

گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی) گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کی حکمت عملی کام آگئی، وزیراعلی پنجاب کی رمضان بازاروں کے دورے کیلئے ’’اچانک‘‘ آمد کی اطلاعات کے پیش نظر انتظامیہ نے مختلف علاقوں سے دکانوں کے پھٹے اٹھوا کر شاہین آباد رمضان بازار سجانے کیلئے عارضی سٹال قائم کردئیے تھے۔ انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے افسروں کو وزیراعلیٰ پنجاب کے اچانک دورے کی اطلاعات تھیں تاہم اس حوالے سے انتظامیہ کو تاریخ کے بارے میں علم نہیں تھا۔

  1. http://www.nawaiwaqt.com.pk/national/13-Jul-2014/315348
  2. http://www.nawaiwaqt.com.pk/lahore/13-Jul-2014/315339
  3. http://www.nawaiwaqt.com.pk/miscellaneous/13-Jul-2014/315266