جمعہ، 5 ستمبر، 2014

تجھے بہت جلد گولی لگ جائے گی

مجھے کہا جاتا ہے کہ تو پاگل ہو گیا ہے! تجھے بہت جلد گولی لگ جائے گی۔ کوئی وہابی،دیوبندی، سنی یا شیعہ تجھے پھڑکا دے گا۔ ورنہ کوئی کافر یا ملحد تجھے قتل کر دے گا۔ کسی مرتد کوتیری باتیں پسند نہ آئیں تو تیری خیر نہیں!تو نواز شریف کو"بنجمن نیتن یاہو" یا اس سے بھی بڑا ظالم کہتا ہے تجھے نون لیگ والے مار دیں گے۔ تجھے فلاں فلاں پارٹی سے اختلاف ہے! تو ایسا کیوں ہے! تو ویسا کیوں ہے؟
بس کیا کر یار! اتنی باتیں نہ کیا کر! کسی وقت خاموش ہو جایا کرو! اگر تم دس منٹ خاموش رہو گے تو میں تجھے دس روپے انعام دوں گا! یار تیری ان باتوں کا فائدہ ہے! مجھے تیری ان باتوں سے حاصل؟ اپنا سر کیوں کھپاتے ہو؟ دوسروں کادماغ کیوں کھاتے ہو؟ تم ڈاکٹر طاہرالقادری سے اختلاف کے باوجود احتیاط سے کام لینے کو کیوں کہتے ہو؟ تم فلسطین جا کر کیوں نہیں لڑتے؟ تم امریکہ کو تباہ کیوں نہیں کرتے؟ تم افغانستان، شام، لیبیا، مصر، شام اور عراق وغیرہ میں خانہ جنگی کے خلاف کیوں ہو؟ تم علماء (سوء) کے خلاف کیوں بولتے ہو؟ تم کتے ہو! کتے بھونکتے رہتے ہیں اور راہی گزر جاتے ہیں؟ سن 2012ء، 2013ء میں تم جس طاہرالقادری کے خلاف میسیج نشر کرتے تھے اب اس کے ایجنڈے سے اتفاق کیوں کرتے ہو اس کے حق میں کیوں ہو؟
 میرا حسین ابھی کربلا نہیں پہنچا
 میں حر ہوں اور ابھی لشکرِ یزید میں ہوں
 تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ یہ وقتی جذباتی اُبال ہے! یہ تمہارا استحصال ہوا ہے کچھ عرصے کے بعد تم خود کو غلط کہو گے! لوگوں کو کافر کافر کہنے کا رجحان تم نے پروان چڑھایا ہے! اگر تم امام احمد رضا خان قادری بریلوی کے مرید ہو تو (نام نہاد) بریلوی مولویوں کی غداریوں کے خلاف کیوں بولتے ہو؟ سب علماء ایک پیج پر ہیں! پاکستان آرمی اور ایجنسیاں اتنی فارغ نہیں ہیں کہ وہ سازشیں کرتی پھریں انہیں اور بہت سے اچھے کام کرنے کی طرف دھیان ہے؟ فلاں فلاں تو امریکی جمہوریت کی بات کرتا ہے اس نے مصطفوی انقلاب کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا ہے ہمیں ایسی ویسی جمہوریت نہیں چاہیئے! ریاست میں انقلاب کے نام پر غنڈہ گردی جیسے واقعات سے نپٹنے کیلئے ریاستی دہشت گردی ناگزیر ہوتی ہے! ملک میں جمہوریت پر شب خون مارے جانے کا خوف ہے اور تم نواز شریف کو پھانسی کے پھندے پر کیوں لٹکا ہوا دیکھنا چاہتے ہو؟ تم جمہوریت کے دشمن ہو؟ تم گمراہ ہو گئے ہو۔ تم کافر مرتد اور گستاخ کی حمایت کیوں کر رہے ہو؟ وغیرہ وغیرہ
 زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
 اور کافر یہ سمجھتا ہے کہ مُسلمان ہوں میں

جانے کب کون کیسے مار دے کافر کہہ کر
 سارے کا سارا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
 ایک نقطے نے محرم سے مجرم کر (بنا) دیا


یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
 جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے

 یہ ہجومِ شہرِ ستم گراں نہ سنے گا تیری صدا کبھی
 میری حسرتوں کو سخن سنا میری خواہشوں سے خطاب کر

 جب ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو نواز شریف کے چہیتے طالبان شہید کرتے ہیں تو منہاج القرآن والے اس کی تعزیت میں کانفرنس منعقد کرکے اس قتل کی مذمت کرتے ہیں اور جب منہاج القرآن پر حملہ ہوتا ہے تو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں کہ وارثانِ سرفراز نعیمی کہاں کھڑے ہیں! وارثانِ محراب و منبر وقتِ قیام کو کس سجدے میں گرے ہوئے ہیں! مجھے قرآن پاک میں کہیں بھی نہتے اور بے گناہ لوگوں پر ظلم و ستم روا رکھنا نظر نہیں آیا تو ظالم کی حمایت کرنا چہ معنی دارد؟

 یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
 یہ ناداں گر گئے سجدوں (سجدے) میں جب وقت قیام آیا

 کہا جاتا ہے کہ کوئی ایک کتے کو پانی پلانے کی وجہ سے جنت میں جائے گا۔ کوئی کسی بِلی کو پانی پلانے کی وجہ سے جنت میں جائے گا۔ کوئی کسی ایک بِلی کو بھوکا پیاسا رکھنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گی۔ نبی تاجدار سرورِ دوعالم، پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کے ساتھ جاتے ہوئے صرف ایک کتیا (جو اپنے بچوں کو دودھ پلا رہی تھی) کے کام و آرام میں مخل ہونے سے بچانے کیلئے اپنے جان نثاروں  رضی اللہ عنہم کے لشکر کو دور سے گھما دیا تھا۔ مظلوم اونٹ کو خرید کر آزاد فرما دیا تھا۔ تو یہ لوگ کون ہیں کس سماجی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو فلسطین اور ممتاز قادری کے نام پر لوگوں کا استحصال کرتے ہیں لیکن۔۔۔ جامعہ منہاج القرآن کو غزہ بنا دینے  پرمنہ کو تالے لگائے ہوئے ہیں۔

بولتے کیوں نہیں میرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟

اگر جامعہ منہاج القرآن پر حملہ ہوجانے کے بعد مزاحمت ناجائز تھی تو کیا غزوہ خندق (احزاب) میں مدینہ پر حملہ ہو جانے پر بھی مزاحمت نہیں کرناچاہیئے تھی؟

 توں کی جانے بھولیے مَجّھے انار کلی دیاں شاناں

 کیاکبھی کسی بدمعاش نے آپ کے کسی پلاٹ یا مکان پر قبضہ کیا ہے؟ یا آپ کو راستے میں ڈاکوؤں نے لوٹا ہے؟ کیا کبھی چوروں نے رات کو آپ کے گھر سے کوئی قیمتی اثاثہ چرایا ہے؟ کیا کبھی آپ کے نامعلوم دشمن آپ پر رات کے وقت بھوکے کتوں کی طرح ٹوٹے ہیں؟ کیا آپ کا کوئی بھائی کراچی میں یا کسی بم دھماکے میں قتل ہوا ہے؟ کیا آپ کو کبھی کوئی اندھی گولی لگی ہے؟ کیا آپ کے کسی معصوم بچے کو کسی نے چیر پھاڑ کر پھینکا ہے؟ کیا کبھی آپ کے راہ چلتے دہی لینے جاتے بیٹے کو کسی نے گولی مار کر قتل کیا ہے؟ کیا آپ کی نوجوان بہن کا کبھی ریپ ہوا ہے؟ کبھی گاؤں کے کسی نمبردار یا محلے کے ناظم نے غنڈے بلوا کر آپ کے گھر والوں کے ساتھ ظلم و جبر کیا ہے؟ کیا کبھی آپ کی والدہ کو برہنہ کر کے قصبے کی گلیوں میں پھرایا گیا ہے؟ کیا آپ کے خاندان میں سے کسی نے خودکشی کی ہے؟َ اگر ان سب سوالوں کا نفی میں ہے۔۔۔۔ تو اے پیرانِ عظام! اور اے مفتیانِ کرام! اور علماءِ ذی وقار! صحافی برادران اور سیاست کے عہدے داران! اور اے مولوی صاحبان! اور کاروباری حضرات یا وکلاء برادران! مذہب و ملت کے سزاواران! او انصاف کی کرسی پر براجمان! او قانون کے محافظان اور کالم نگاران!!! آپ سب سچے ہیں۔
 آپ کو مظلوم کی ڈیفینیشن (تعریف) کا علم ہی نہیں۔آپ تو ٹی وی پر جس رویے کے ساتھ کوئی فلم یا ڈرامہ ملاحظہ فرما لیتے ہیں بالکل اسی رویے سے جس طرح کوئی کہانی یا ناول پڑھا جاتا ہے، آپ کیلئےظلم و جبر کی داستان جو خبروں والے چینل پر آتی ہے آپ کےلئے وہ بھی ایک لطیفے جیسی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اخبار پر آنے والی ظلم و تشدد کی خبریں تو کسی حساب و شمار میں نہیں۔آپ تو کتابوں سے رٹے رٹائے جملے یاد کرکے ان سب منصبوں (مناصب) تک جا پہنچے اور دن رات وعظ و تلقین کا ذمہ اُٹھائے ہوئے ہیں۔ جو کہ صرف رسمی حد تک ہے۔ اگر آپ کی باتوں میں تاثیر ہوتی تو جس قدر مصلح اور خیر خواہ اِس قوم کے موجود ہیں ان کی تبلیغ و تحریر سے آج کا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن چکا ہوتا۔ اور دلوں میں کوئی حقیقی انقلاب رونما ہو چکا ہوتا۔ پھر کسی انقلابی کو اپنی آواز بلند کرنے کی ضرورت باقی نہ رہتی اور نہ ہی حکومت کے ریاستی درندے رات کے وقت جا کرکسی کے گھر پر دھاوا بولتے اور نہ ہی گلیاں خون سے نہاتیں۔ اور ہسپتالوں کے وارڈز زخمیوں سے نہ بھرتے۔ ماؤں کے لال بے گناہ قتل نہ ہوتے۔ بہنوں کے مان نہ ٹوٹتے اور سہاگنوں کے سہاگ سلامت رہتے۔ کہیں کوئی ظلم نہیں ہوا جامعہ منہاج القرآن پر حملہ جائز تھا۔

 اجی! ہم پاکستان کی قومی پالیسی کے خلاف بات نہیں کرتے! سبحان اللہ! کیا پاکستان کی پالیسیاں کسی الہامی کتاب کا پیغام ہیں؟ اگر پاکستان کی پالیسیاں قرآن و حدیث کے خلاف ہوں تو کیا ہم اپنی آواز بلند کرکے دلیل سے اپنا مؤقف پیش نہ کریں کہ یہ غلط ہے وہ درست ہے؟ پاکستانیت کیا ہے؟ بچپن میں ہم نصابی کتب میں پڑھتے تھے کہ تحریکِ پاکستان کے نعروں میں سے ایک نعرہ یہ تھا "سینے پہ گولی کھائیں گے، پاکستان بنائیں گے۔ " اب گزشتہ سڑسٹھ برسوں سے پاکستان بن جانے کے بعد سینوں پر گولیاں کیوں کھائی گئیں۔ اگر گولیاں کھانے کے لئے ہی یہ ملک بنایا تھا تو ہندوؤں سے کھا لیتے علیحدگی کس لئے اختیار کی تھی؟ ملکِ پاکستان ہمارے اکابر نے دس لاکھ سے زائد قربانیاں دے کر اور ایک لاکھ کے قریب عزت مآب عصمتیں لٹا کر اس لئے تو حاصل نہیں کیا تھا کہ اس کے حکمران شرابی، زانی اور بدکردار ہوں گے اور اس ملک کے ہر سرکاری اور پرائیویٹ شعبے میں استحصال ہوگا یہ ملک رشوت خوری اور سود خوری کے لئے نہیں بنایا گیا تھا یہ ملک سڑسٹھ سال تک کافر انگریز کے آئین کی اندھی تقلید کرنے کے لئے نہیں بنایا گیا تھا اسلام صرف عبادات (نماز، روزے، حج اور زکوٰۃ) کا مجموعہ نہیں ہے اس میں 80 فیصد سے زائد دیگر موضوعات، مثلاً سیاست، معاشرت، تجارت اور معیشت سمیت جیسے بہت سےمعاملات شامل ہیں اسلام سے ان تمام موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر رہنمائی ملتی ہے اور اسلام ان کے عملی نفاذ کا تقاضا کرتا ہے۔ عالَم اسلام کے تمام مسلمانوں کو باہم وحدت اختیار کرکے اپنے حالات کا معروضی لینا ضروری ہے، اس ضمن میں اہل علم و دانش پر، صاحبان اقتدار پر اور اہل ثروت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور باہم آگاہی پھیلانے کے حوالے سے ہر مسلمان ذمہ دار ہے۔ اسلام کا قانونِ شریعت کوئی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد والے مُلّا  کا قانون تھوڑی ہے بلکہ یہ آئین و دستور تمام انسانیت کے لئے تا ابد بہترین اور ایک مثالی نظامِ حیات ہے اس آئین کے خلاف بات کرنے والے منہ سنبھال کر بات کریں کہ آج اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں وہ اعلیٰ اقدار کی شقیں موجود نہیں ہیں جن کا عملی مظاہرہ اسلام چودہ صدیاں قبل پیش کر چکا ہے۔مسلمانو! اسلام کی خاطر اور اسلامیت کی خاطر کڑھنا اور عملی طور پر اس کے لئے کام کرنا شروع کردو تاکہ آپ کی آئندہ نسلیں ایک بہتر مستقبل میں زندگیاں بسر کر سکیں، اسلام کو خود پر اور ریاستی سطح پر نافذ کرنے میں ہی فلاح ہے، ورنہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن یہ درندے ہماری ہڈیاں بھی نوچ کھائیں گے۔

میں نے سناتھاکہ 2007 میں لال مسجدوالوں کےساتھ چودھری شجاعت کے مذاکرات ہوچکےتھے لیکن وزیراعظم شوکت عزیزکی قلفی کھانےکی مصروفیت نے آپریشن نہ رکوایا۔ لال مسجد والے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو نعوذباللہ باغی کہتے تھے وہ تو امام عالی مقام کو صحابی ماننے سے انکار کرتے تھے اور یزید لعنتی ملعون کو معاذاللہ 'رحمہ اللہ علیہ' کہتے ہیں لیکن "سائیلنس آپریشن" کو انہوں نے سانحہ کربلا سے تشبیہ دی اور امام عالی مقام کے دامن میں پناہ لی۔ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تعصب یہ نہیں کہ تو اپنی قوم سے محبت کرے تعصب یہ ہے کہ تو ظلم کرنے میں اپنی قوم کا ساتھ دے!!!
 ہمارے رویے کچھ اس قسم کے ہیں کہ کوئی جتنا زیادہ جاہل ہے وہ اتنا ہی زیادہ ہٹ دھرم اور متعصب ہے۔ ہم لوگ اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کیلئے ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے اور تعصب کی تعریف کے حوالے سے لوگ باگ،آقا کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان سے بےخبر ہیں اور سورۃ انفال جو دسویں جماعت کے نصاب میں تھی اس کے مطابق دشمن سے معاہدے والی آیت یاد نہیں۔
 جامعہ منہاج القرآن پر حملہ کرنے اور کروانے والوں پر اللہ کی لعنت! بےگناہ نہتے لوگوں پر دہشتگرد مافیا کی شہہ پر پولیس کاحملہ قابل مذمت ہے۔ جو اہلِ علم، علمی اختلافات کی آڑ میں منہاج القرآن پر حملے کی مذمت نہیں کرتے وہ خود قابلِ مذمت ہیں، وہ سب اپنی ہٹ دھرمی کے ساتھ جہنم میں جائیں ۔ اگر عیسائیوں پر حملوں کی مذمت کرنے سے مسلمان، کافر نہیں ہوتے تو جامعہ منہاج پر حملے کی مذمت کرنے سے بھی سب مسلمان ہی رہیں گے آج کے صحافی اور مولوی کے مشہور ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کسی مشہور و معروف شخصیت کو ہدفِ تنقید بنا لے اور خود بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائے لیکن کبھی کبھار ایسا نہیں بھی ہوتا یا شاید ممکن نہیں ہوتا، ممکن ہے کہ ایسا ممکن تو ہو لیکن دل گردہ اور پِتّہ ساتھ نہ دیتا ہو مثال کے طور پر محقق العصر علامہ مفتی محمد خان صاحب قادری، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے قائل رہے ہیں کسی مائی کے لال نے ان پر گمراہ یا کافر ہونے کا فتویٰ سٹیج پر نشر کیا ہو تو آگاہ کیا جائے! یہ سستی شہرت حاصل کرنے کا سنہری موقع مُلّا نے کیش کیوں نہیں کروایا کیونکہ ایک تو دوسری جانب علم کا سمندر ہے اور دوسرے اس معاملے میں پشت پر تھپکی دینے والے نہ ہونے کے برابر ہیں قبلہ مفتی صاحب نے میڈیا پر فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (حافظ سعید ) کے کام کو سراہا کسی نے کوئی فتویٰ دیا؟ آخر خود کو اُمّت کا مالِک سمجھنے والے مُلّا اس معاملے میں کیوں دُم دباتے نظر آتے ہیں بھئی یہ باتیں تو دوسرے فرقوں کے حق میں جاتی ہیں نکالو اپنا دائرہِ اسلام اور جتنے جی میں آئے لوگوں کو اُس میں سے خارج کر ڈالو۔
 رانا ثناء اللہ صاحب! آپ نے داتا دربار پر حملے کروائے عوام برداشت کرگئے آپ نے ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی کو شہید کروایا۔ اہلسنت وہ بھی برداشت کرگئےآپ نے جنوبی پنجاب کو پنجابی طالبان کا گڑھ بنا دیااس کا کوئی جواز ہے آپ کے پاس؟آپ وزیر قانون رہے ہیں یا وکیلِ دہشتگردی؟ اگر مسئلہ صرف بیرئیر اور نوگو ایریا کا ہے تو رانا صاحب! آئیے آپ کی آنکھوں پر لگی ہوئی پٹی اتاریں آپ کوشہرِ لاہور میں نون لیگ کے قبضے میں کوئی تجاوزات دکھائی نہ دے سکیں؟ آپ کو لیک روڈ لاہور پر حافظ سعید کا بکتر بند قلعہ نظر نہیں آتا جامعہ اشرفیہ اور منصورہ کے مراکز دیکھتے وقت آپ کی آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے؟ معروف قول ہے کہ جماعتِ اسلامی سے کارکن نکل جاتا ہے لیکن اس کارکن میں سے جماعتِ اسلامی کبھی نہیں نکلتی جس کا عملی مظاہرہ خواجہ سعد رفیق نے (جامعہ منہاج پر ظلم کرنے کے بعد) اپنا خبثِ باطن میڈیا کے سامنےبیان دے کر کِیا، ساری دنیا میں دہشت گردی کا نصف سے زیادہ کریڈٹ جماعتِ اسلامی (باقی دیگر دیوبندیوں،وہابیوں،سعودی ظالم حکومت، امریکہ بشمول اس کے اتحادیوں اور اخوان المسلمون)کو جاتا ہے۔ میاں شہباز اور میاں نواز کو یاد رہے کہ ظلم کی اخیر خدا کا بیر ہوتا (اَت خدا دا وَیر) ہے۔ آخر کب تک آپ فرعون کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوکر نہتے عوام اور اہلسنت کا قتل عام کرواتے رہیں گےکیا قیامت والے دن آپ اللہ کی عدالت میں حاضر ہونے سے بچ جائیں گے؟
 اہلسنت کے علماء اور پیر یہ بات ذہن نشین فرما لیں کہ اگر اب بھی اہلسنت اپنی اپنی تنظیموں کے تعصب کی وجہ سے انتشار کا شکار رہے تو آپ کی لاشوں پر نمازِ جنازہ ادا کرنے والا بھی کوئی زندہ نہیں بچے گامسلم لیگ( ن) کے حمایتی پیروں کیلئے بھی لمہ ءِ فکریہ ہے!!! سیاست میں ڈاکٹر طاہرالقادری سے یہ کارنامہ سرانجام ہوا ہے کہ وہ زمامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لے کر انقلاب کے خواہشمند ہیں، انقلاب صرف دل کی کیفیت کی تبدیلی کا نام ہے جو عقائد اور اعمال کی اصلاح سے ممکن ہوتا ہےصرف نعرے اور دعوے کرنے سے انقلاب نہیں آتے! اور عقائد میں اجتہاد نہیں ہوتا ایک تو سات صدیوں سے اجتہاد کادروزہ بند ہے۔ اما م احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مجتہد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ اجتہاد مسائل میں ہوتا تھا عقائد میں  تو یہ ممکن ہی نہیں (ممکن ہے اس بارے میری معلومات محدود ہوں، کیونکہ میں بھی علمی طور پر یتیم ہوں ناں!)۔
 خواب کے نام پر بیان کئے گئے بیانات)ان کی تحقیق کیلئے میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سی ڈی لایا ہوں، اور قانونِ ناموسِ رسالت کے اطلاق کی تحقیق کیلئے بھی، جس کے بعد انہیں ممتاز قادری کا دشمن اور سلمان تاثیر کا وکیل کہا گیا، وہ بنیادی طور پر ایک وکیل اور قانون دان ہیں اور ان کی بات قانون کا طالب علم درست انداز میں سمجھ سکتا ہے۔ میں تحقیق کے بعد اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر دوں گا۔ ان شاء اللہ) اور دیگر مظاہرے اوردھرنے وغیرہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا تمسخر اڑانے کیلئے مخالفین کے پاس مؤثر ہتھیار ہیں۔ کچھ لوگوں  کےبقول ،غازی ممتاز قادری کے موضوع پر پوری امت طاہرالقادری کی فریق ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طاہرالقادری کو حبِ جاہ نے بند گلی میں دھکیل دیا ہےانقلابی شخصیت کے حامل ڈاکٹر طاہر اب پیچھے ہٹنے کے نہیں لگتے کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منہاج (پاکستان عوامی تحریک) والوں کی اور نون لیگ دونوں کی اجتماعی خودکشی کے مترادف ہوگا۔لیکن اب اہلسنت کے مدارس کو دن رات سکیورٹی کا مسئلہ لاحق ہوچکا ہے۔کیونکہ خوارجی بھیڑئیے ہر وقت ظلم کا موقع ملنے کی تاک میں ہیں۔
میں نے 3 مارچ 1989ء کو ڈاکٹر طاہرالقادری کی اتفاق مسجد میں ہونے والی جمعہ کی آخری ڈیڑھ گھنٹے پرمحیط تقریر کی وڈیو دیکھی ہےجس میں وہ میاں محمدشریف، نواز اور شہبازوغیرہ کومنہ پر واضح طور کہتےہیں کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو کھڑے ہوکر تردید کردیں اُس تقریر کا لب لباب یہ ہے کہ ڈاکٹر نے شریف خاندان سے کبھی ایک روپیہ نہیں لیا اس تقریر میں ڈاکٹر طاہرالقادری کہتے ہیں کہ تنخواہ، ھدیہ، نذرانہ تو کجا! کبھی تحریک منہاج القرآن کیلئے بھی ایک ٹیڈی پیسہ اتفاق برادرز (شریف خاندان) یا حکومت سے نہیں لیا۔ نہ اُس خاندان کو کبھی کوئی سیاسی  فائدہ دیا اور نہ ہی کبھی کوئی مالی فائدہ لیا! البتہ دوبار قرض لیا تھا اور واپس کردیا تھا۔ ایک بار اپنے ذاتی کام کیلئے اور ایک بار تحریک کیلئے۔
 کسی جنگل میں چار بیل تھے ان کی نااتفاقی کی وجہ سے شیر سب کو کھا گیا۔ اب یا تو علماء اہلسنت طاہرالقادری کے معاملےپر اپنی حتمی رائے دیں ورنہ جو ممکنہ رعایت ہو اس کی گنجائش پیدا کریں تاکہ امت مخمصے سے باہر آسکے)کچھ علماء کا مؤقف سامنے آچکا ہے وہ ظالم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں)۔ اب آر یا پار کرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ حالات انتہائی نازک سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ مجھےخدشہ ہے کہ اگر اہلِ سنت مکمل طور پر غیر جانب دار رہے اور مارشل لاء بھی نہ لگا تو ادارہ منہاج کا نام دنیا سے مٹ جائے گا)یہ بات جون 2014ء میں لکھی گئی تھی(۔ اور پھر جامعہ فلاں، پھر جامعہ فلاں، اور پھر جامعہ فلاں.......یوں اہلسنت کا نام پاکستان سے سعودیہ کی طرح ختم ہوجائے گا(آج 2 اپریل 2015 کو اپڈیٹ کر رہا ہوں کہ اس سال جنوری میں ان بریلوی ملاؤں کے مدارس پر پولیس کے چھاپے پڑے تھے جو سانحہ منہاج القرآن کے بعد اس ظالم حکومت کی گود میں تھے، لیکن اب آکے وہ اسی حکومت کو ظالم ظالم کہہ رہے ہیں)۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا منہاج پر حملے سے خوارج کے سینے میں ٹھنڈ پڑی یا نہیں۔اہلسنت منہاج سے نہیں منہاج کی بنیادوں میں اہلسنت کا خون پسینہ تھا اس لئے خوارج سر چڑھ رہے ہیں، البتہ ڈاکٹر طاہر القادری اور پاکستان عوامی تحریک سے کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے اس کا فیصلہ وقت کر دے گا کہ کون ٹھیک تھا کون غلط۔۔
 نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے ظالم رفقاء اپنی اپنی اولاد پولیس سے قتل کروا کے قومی خزانے سے تیس تیس لاکھ روپے وصول کرلیں، لوگوں کے بچوں کو قتل کروانا ان ظالم بھیڑیوں کے لئے ایک کھیل کی سی حیثیت رکھتا ہے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو قتل کیوں نہیں کرواتے جو سب کے سب عیاشی میں بدمست ہیں۔ نوجوان نسل ان سب ظالم حکومتی لیڈروں پر اکٹھی لعنت بھیجے ان ظالموں کےلئے سڑ کوں پر نکلنے سے بہتر ہے کہ سکون سے اپنے گھروں میں بیٹھے، علم دین سیکھ کر اس پر عمل کرے اور فرقہ واریت (مطلب !قتل و غارت گری (سے پرہیز کرے حلال روزی کما کر اپنے گھر والوں کو کھلائے۔ اگر ان کتوں کو لگام نہ دی گئی تو نون لیگ کے ریاستی دہشت گرد ہر ایک سُنّی اور عوام کو قتل کرنا ایک مذاق سمجھ بیٹھیں گے اور ہر عام آدمی کے پاس تو پاور نہیں ہے کہ ان شریر کتوں کو پتھر مارسکے (جو لوگ نون لیگ کے ظلم سے محبت کرتے ہیں وہ مرنے سے پہلے اپنی چتا کو جلانے کی وصیت لکھ جائیں کیونکہ قرآن پڑھنے والے اور درود شریف پڑھنے والوں پر تو یہ ظلم اور درندگی کو جائز سمجھتے ہیں مولوی حضرات بھی ان ظالم درندوں کا سوشل بائیکاٹ کریں ان کے جنازے کوئی نہ پڑھے)۔
 ڈاکٹر طاہرالقادری سے اختلاف کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ حکومت کو تقویت دینے کیلئے بکواس کی جائے۔ مثال کے طور پر راولپنڈی یا اسلام آباد میں کوئی جلسہ یا کنونشن منعقد ہونےجا رہا تھا، وہاں غازی ممتاز دامت برکاتھم العالیہ کی رہائی کیلئے پاور دکھائی جانے والی تھی خدانخواستہ اگر وہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا تو اہلسنت کا ردعمل کیا ہوتا؟ کیا درندہ لیگ کےحکمرانوں نے غازی صاحب کو رہا کردیا ہے؟
 یوں لگتا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے پاکستان عوامی تحریک اور ڈاکٹر طاہرالقادری کا ایجنڈا صرف پاک فوج کی حمایت کرنا تھا۔انقلاب وغیرہ شاید ایسے نہیں آجاتے شاید آتے بھی ہوں  )جس طرح انقلابِ ایران 5 نومبر 1979ء برپا ہوا تھا(! لہذا نجدیت کے پیٹ میں مروڑ اٹھا اور انہوں نے حکومتی سرپرستی میں جامعہ منہاج القرآن والوں کو اہلسنت مان کر منہاج القرآن یونیورسٹی پر دھاوا بول دیا اور سُنی مولوی صاحبان، ڈاکٹر طاہرالقادری کی ذات میں سے کیڑے نکالتے رہے! بھئی مسئلہ یہ ہے کہ پولیس نے بھیڑیوں کی طرح بے گناہ لوگوں پر ظلم کیا ہے!!! مظلوم چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں ان پر ظلم ہوا ہے یہ حکومت، حکومت نہیں درندوں کا اکٹھ ہے مظلوم کی حمایت نہ کرکے مسلمان دنیا و آخرت کی ذلت خرید رہے ہیں۔ )ان پر بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی عذاب نازل ہورہے ہیں جوابھی تک ان کی سمجھ میں نہیں آسکے) اِس قدر ظلم کرنے کے بعد شریف خاندان کو جینے کا کوئی حق نہیں!!! شریف خاندان نے ظلم کروایا ہے لہذا اب فوج آ کر مارشل لاء لگائے اور ان ظالموں کو تمام خاندان کےساتھ جہنم واصل کرے! ورنہ یہ درندے آئےروز کسی نہ کسی کاخون پیتے رہیں گے۔ قتل کابدلہ قتل۔ رانا ثناء اللہ جیسے درندوں اور شریف خاندان کوقتل ہو جانا چاہئے۔ ان ناپاک درندوں سے یہ دھرتی پاک ہونی چاہئے۔

 اگر طاہرالقادری سڑک پر آکر کسی قانون کو ہاتھ میں لیتا یا اس کی جماعت کا بندہ کوئی توڑ پھوڑ کرتا تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل پھینکنا سمجھ میں آتے تھے)یہ جملہ بھی جون یا جولائی 2014ء میں لکھا گیا تھا لیکن حالات نے ثابت کر دیا کہ ڈی چوک اسلام آباد سے حرکت کرنے پر بغیر کسی قانون کے توڑے حکومت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے نہتے مظاہرین پر ظلم و تشدد کی حد کردی جس کی زد میں آکر درجنوں بے گناہ لوگ شہید ہوگئے اور میڈیا نے صرف تین شہادتیں اور صرف چند سو زخمی رپورٹ کیے۔ حیران کن بات ہے کہ پچیس ہزار مظاہرین پر پندرہ گھنٹے سے زائد عرصہ چالیس ہزار پولیس نے ایکسپائرڈ آنسو گیس کی شیلنگ کی، کیمیکلز کی طوفانی بارش کی، ربڑ اور حقیقی گولیوں کی بارش کی اور پندرہ گھنٹوں میں صرف تین شہادتیں ہوئیں۔ ڈاکٹرز نے گولی کو گولی کہنے سے بھی انکار کر دیا۔۔۔) اوئے کسی کے گھر میں جاکر بدمعاشی کروانے والے انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں!اور خاموش تماشائی بھی ظالم!ظالم کےساتھی بدرجہا ظالم! عذرِ گناہ بدتر از گناہ است! ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی ذات، سیاسی فلسفے اور سیاسی تحریک سے قطع نظر، مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور پولیس نے 17 جون 2014ء کو جامعہ منہاج القرآن ماڈل ٹاؤن لاہور، پاکستان میں پندرہ گھنٹے لائیو ، نہتے لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور اہلسنت نے حظ اٹھایا نجدیت کے دل میں ٹھنڈ پڑی۔
 تعصب نے قوم سے دل ِبینا چھین لیا اور پاگل وحشی بنا دیا! کیا یہی اسلام ہے کہ ہم سمجھ لیں کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی تحریک کے کارکنان کو برین واش کرکے پاگل بنا دیا تھا لہٰذا اُن کو ریاستی طور پر قتل کرنا حلال ہوگیا ہے؟ اگرہم کسی صاحب کےساتھ ملکر غازی ممتاز قادری صاحب کیلئے سڑک پر آتے ہیں تو مُلحد لوگ ہمیں پاگل قرار دیں گے تو کیا غازی ممتاز قادری کے دیوانوں، شمع رسالت کے پروانوں اور پاگلوں پر پندرہ گھنٹے ظلم روا ہے؟ ورنہ دوسری طرف کسی کے گھر جاکر ان پر ظلم کرنا کس طرح پاگلوں کو مارنے کا سرٹیفیکیٹ ہے؟
 یار لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری ہرگز مظلوم نہیں ہے! تو کون کہہ رہا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری مظلوم ہے؟ البتہ اس وقت وہ ایک مظلوم جماعت کا قائد ضرور ہے۔ میرے نادان دوستوں کو خوب معلوم ہے پھر بھی ہٹ دھرمی والی اکڑ باقی ہے!!! اور (محض تعصب کی بناء پر) مجھےڈاکٹر کا یار کہتےہیں کہتے رہو! مجھے اس سے چڑ ہو یا نہ ہو انہیں ضرورمحظوظ ہونا ہے۔ جناب والا! میں تو درندہ لیگ کے ظلم کےخلاف بات کر رہا ہوں تاکہ دوسرےانسان ان کی ظالم سرشت سے بچ سکیں سب انسان مذاہب سےپہلے انسانی حقوق رکھتے ہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تعصب کے بارے میں جو فرمایا اس کے خلاف ہٹ دھرمی اختیار کرنے پر قوم کی عقل ماری گئی ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ تعصب یہ نہیں کہ تو اپنی قوم سے محبت کرے، تعصب یہ ہے کہ تو ظلم کرنے میں اپنی قوم کا ساتھ دے۔
 ملالہ پر حملے کے خلاف اہلسنت کے 500 علماء کا فتوی آیا!!! اہلسنت عوام نے ملالہ کی مخالفت کی۔عوام ِ اہلسنت نے ممتاز قادری کے معاملہ پر منہاج کی بھی مخالفت کی۔ کون ملالہ؟ جس کے نظریات کافروں جیسے ہیں اس کے حق میں علماء اہلسنت کا فتوی آن دی ریکارڈ ہے!!!  دیوبندیوں کی تحقیق پر عوامِ اہلسنت نے ملالہ کی مخالفت کی۔ منہاج کے مقتولین کے حق میں فتویٰ کیوں نہیں آیا؟ کیا منہاج کے مقتول لوگ ملالہ سے بھی بدتر تھے؟
 کیا نون لیگ والے طالبان کے حمایتی نہیں ہیں؟ یا حکمرانوں کو خدا مان لیا گیا ہے؟ میرے نادان دوستوں کی سمجھ میں اتنا سا نکتہ نہیں آرہا کہ یہ ڈاکٹر طاہرالقادری پر طنز کرکے اپنا قیمتی وقت ضائع کرکے ظالم کی قوت کو تقویت دے رہے ہیں اور ظلم کی داستان ان کی بکواس کے نیچے دب گئی ظلم کسی مذہب کے ماننے والوں پر روا نہیں۔ اس ظلم سے ثابت ہو گیا ہے کہ قوم کے گھر محفوظ نہیں ہیں۔ میڈیا اور عوام کا جو رویہ ہے اس کی رو سے جتنا ظلم جامعہ منہاج القرآن میں ہوا ہے یہ تو فلم کا ٹریلر بھی نہیں بنتا!!! ان بے جس اور بے ضمیر لوگوں کو خود پر ہونے والی محض تنقید بھی برداشت نہیں ہوتی؟ اور دوسرے لوگوں پر قیامت کا ڈھایا جانا بھی ایک شغل میلہ لگتا ہے۔لعنت ایسی سوچ پر!!!
سن 2012ء کے اواخر میں میرا ذہن صرف اس بات پر رک گیا تھا کہ مسلمانوں نے گستاخانہ فلم کا کیا ردِّعمل کیا ہے؟ اور اب میرا ذہن اس بات پر اٹک گیا ہے عوام نے جامعہ منہاج القرآن پر ریاستی حملے کو ایک فلم کیوں سمجھ لیا ہے؟ ٹھنڈے ذہن سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ جب دہشت گردوں کے حملے ہوتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی لیکن جب ظلم کی کارروائی خود حکومت کے حکم پر اور نگرانی میں ہورہی ہو تو حکومت باقی کہاں رہ جاتی ہے، مینڈیٹ کہاں رہ جاتا ہے؟ کیا ایسے حکمران پھانسی پر نہیں لٹکا دینے چاہئیں؟
ہم نے بچپن میں گدھے پر چارہ وغیرہ ڈھویا ہے گدھا لکیر کا فقیر ہوتا ہے وہ ہمیشہ شارٹ کٹ پر عمل کرتا ہے اور کام چور ہوتا ہے بعض اوقات جفاکشی بھی دکھا جاتا ہے لیکن شاید گدھا تعصب سے پاک ہوتا ہے بعض اوقات تعصب میں ظلم کاساتھ دنیا انسان کا خاصہ ہے لیکن اکڑ گدھے والی ہوتی ہے!!! ہماری ذات پر کسی کے الفاظ کا حملہ ہماری لغت میں ناقابلِ معافی ہوتا ہے تو ایک درجن گھنٹوں سے زائد گولیوں اور گالیوں کی بوچھاڑ کیونکر بھول جانے والا واقعہ ہے ہم نے جابر حکمران کے خلاف حق کی آواز بلند کرنے کی بجائے محظوظ ہونے کے سوا کوئی قابلِ ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دیا ہمارا علاقہ پاکستان مسلم لیگ نون کا گڑھ ہے لوگوں نے اپنے ایمان نون لیگ کی جھولی میں ڈال کر ظلم پر خوشی کا اور جشن جیسا اظہار کیا ہے اب ان سب نے اپنا خدا اور سب کچھ نواز شریف اور شہباز شریف کو مان لیا ہے حالانکہ حقیقی طاقت اللہ کے پاس ہے اور اللہ ہی سب کا رب ہے(یہاں 13 اگست 2014ء کو مقامی سیاست دانوں نے اجلاس کرکے، میڈیا کے سامنے نون لیگ سے منحرف ہوکر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ یاد رہے یہی حلقہ وزیر اعظم نواز شریف کا ہے جس سے وہ ایم-این-اے منتخب ہوا۔ اور ابھی تک مینڈیٹ پر بضد ہے۔ حالانکہ اس کے حلقے میں نون لیگ کے لیڈرز اس کی جماعت سے نہ صرف بغاوت کر چکے ہیں بلکہ 13 اگست کو انہوں نے عمران خان زندہ باد اور طاہر القادری زندہ باد کے نعرے بھی لگائے جو آن ریکارڈ بات ہے!  گلو بٹ غنڈہ لیگ المعروف درندہ لیگ پر مسلم لیگ کا نام استعمال پر سپریم کورٹ پابندی لگائے!!!

اگر یہی حملہ منصورہ مرکز پر، جامعہ اشرفیہ یا مرکز قادسیہ پر ہوا ہوتا؟ اگر اسی طرز کا حملہ کسی شدت پسند فرقے کے کسی مرکز پر ہوتا تو ملک میں ایسی آگ لگتی جو بہت کچھ بھسم کر ڈالتی۔ آج سنُی چیتے اپنی کچھاروں میں بھی دبک کر نہ بیٹھ پاتے! آگ اور خون کا وہ سماں ہوتا کہ دنیا دیکھتی، اور کسی قسم کا باغی ان بپھرے ہوئے باغیوں کی ٹانگیں نہ کھینچتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان اتنا اعلیٰ ظرف ہو کہ اُس کی گفتار اور اُس کا کردار دیکھ کر دیگر اقوام مثبت تاثر لیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا ایجنڈا صرف پاک فوج کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنا تھا۔ درندہ بٹ گلو لیگ اور میرے سیاسی بصیرت سے بے بہرہ دوستوں نے اسے انا اور مذہب کا مسئلہ سمجھ کر نادانگی کی انتہا کردی۔ ہم عمران خان کے خلاف اس لئے نہیں بولتے کہ شاید وہ صرف سیاسی لیڈر ہے ورنہ ممتاز قادری کے بارے میں متنازع بیان وہ بھی دے چکا ہے(عمران کی سیاسی جدوجہد سے کس کو انکار ہے اُس بندے نے اِس قوم کو ایک ولولہ تازہ دے دیا ہے)۔
میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف کتنی بکواس کرتا رہا ہوں؟ لیکن اہلسنت کے علماء نے ڈاکٹر موصوف کو کبھی کافر نہیں کہا! کیوں؟ کیونکہ علماء کی بصیرت گہری ہے اس کا جواب علماء ہی دے سکتے ہیں!!! ممکن ہے کہ ابھی تک ان کے دل میں نرم گوشہ ہے لیکن جن مُلَّاؤں کے پیٹ میں زیادہ سخت مروڑ ہے وہ ایک ہی بار ڈاکٹر طاہر کے بارے میں کفر کا فتویٰ دے کر گھر کیوں نہیں بیٹھ جاتے! شاید وہ ڈاکٹر کی اصلاح چاہتے ہیں اور اسے آج بھی اہلسنت کا سرمایہ مانتے ہوں یا ان کے دل میں کوئی ایسی بات ہو جس کا مجھے اندازہ نہیں کہ وہ ڈاکٹر کو اپنا کیوں سمجھتے ہیں یا مخاصمت کیوں رکھتے ہیں !!! ممکن ہو تحقیق کی کمی ہو ! یا انہیں اس بارے میں صَرف کرنے کیلئے  اتنا وقت نہ ملا ہو یا کوئی غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہوں یا غلط خبریں)ممکن ہے صحیح خبریں غلط طریقے سے) بہم پہنچائی گئی ہوں۔
 سیاسی کہانی یہ ہے کہ سارے شعبدہ باز خفیہ ہاتھوں کے اشارے پر تماشا کرتے ہیں اور خفیہ ہاتھ ان کٹھ پتلیوں کو کبھی بھی اقتدار نہیں سونپتے، بلکہ پچھلے سال خفیہ ہاتھوں نے عمران خان کو بھی بادشاہ نہیں بننے دیا تو ڈاکٹر طاہرالقادری کیلئے کیسے ممکن ہے۔ لیکن درندہ لیگ کے حق میں جانے والی تنقید ظلم کاساتھ ہے۔۔۔ میں 18 جون2014ء سے درندہ لیگ کی درندگی کے خلاف میسیج لکھ کر بھیجتا رہا اور میرےدوست احباب، ڈاکٹر طاہرالقادری کی ذات کے خلاف اپنے تعصب کی بناء پر، پُرانے کیڑے نئی محنت سے نکال نکال سامنے لاتے رہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے بارے میں مذہبی طور پر جتنا شدید ردعمل میرا رہا ہے ہے سب دوستوں کو معلوم ہے! آپ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں یہ کیا بات ہوئی کہ حکومت، رات کے پچھلے پہر پاگل کتوں کی طرح اپنے شہریوں کو قتل کرنا شروع کردے! شہری کوئی سے بھی ہوں! ریاستی ظلم روا نہیں! اگر ظلم کسی دہشت گرد کی جانب سے ہو تو حکومت اور عدالت سے انصاف مانگا جاتا ہے اور اگر ظلم حکومت ہی طرف سے کیا جائے تو کسے وکیل کریں؟ کس سے منصفی چاہیں؟ اگر جامعہ منہاج القرآن اور اسلام آباد میں نہتے مظاہرین پر ظلم روا ہے تو فلسطین میں کیوں جائز نہیں؟ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت کیوں کی جاتی ہے؟ اگر کافر کرے تو ناجائز اگر مسلمان کرے تو جائز؟ کیوں؟ کس منطق اور فلسفے کے تحت یہ ہٹ دھرمی اپنائی جارہی ہے؟

 قرآن پاک میں جابجا اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ کافروں کے دلوں پر ہٹ دھرمی کی وجہ سے مہر لگا ئی گئی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ میرے ساتھیوں کے ساتھ ہوا کہ یہ ڈاکٹر طاہر القادری کے تعصب میں اتنا آگے نکل گئے ہیں کہ اب انسانیت کا احساس بھی ان کے دلوں سے ختم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے ۔ ان کے ذہنوں پر بس ڈاکٹر سوار ہے۔۔۔ ڈاکٹر خطرے کی گھنٹی ہے!!! ڈاکٹر پاکستان آکر ان کے عہدوں پر قبضہ کرلے گا۔ ان کی بجائے (کیا پدی کیا پدی کا شوربہ) میڈیا، اس کی کوریج کرے گا۔ ڈاکٹر یہ! ڈاکٹر وہ! صبح ڈاکٹر! شام ڈاکٹر! سوتے جاگتے میں اس کا خیال۔۔۔ وہ حواس اور عقل پر چھا گیا۔ طاہر القادری آگیا۔۔۔

میں کٹر سنی بریلوی اس وقت ہوا تھا جب میں نے حجۃ الاسلام مفتی ابوداؤد محمد صادق رضوی کی تنقیدی کتاب خطرے کی گھنٹی ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف پڑھی۔ لیکن انہوں نے وہ خواب والا بیان لکھ کر کافر نہیں کہا جبکہ ایک عام سے مسلمان کا ایمان اجازت نہیں دیتا کہ وہ اُس وڈیو کو دیکھ سن کر ڈاکٹر کے بارے میں سخت رد عمل نہ کرے (اب میں ان خوابوں اور بشارتوں کے حوالے سے ڈاکٹر کی علمی محاکمے والی سی ڈی لایا ہوں دیکھئے کیا سمجھ میں آتا ہے۔ ان شاء اللہ میں وہ نکتہ نظر ضرور بیان کر دوں گا۔ اپڈیٹ یہ ہے کہ میں نے وہ چار گھنٹے سے طویل تقریر سی تھی اس کے بعد میرا ذہن اس معاملے پر صاف ہوگیا تھا۔ واللہ اعلمیار لوگ ریاستی درندگی کو جائز کہتے ہیں۔ مجھے ایک ہفتے سے زیاد وقت ہوگیا تھا یہ کہتے ہوئے کہ حکومت کے کتوں کے منہ کو خون لگ چکا ہے اب وہ سب کو چیر پھاڑ کر سب کا خون پئیں گے اس کا عملی مظاہرہ اسلام آباد میں23 جون 2014ء کو کیا گیا کہ حکومتی کتوں نے پاکستان عوامی تحریک کارکنوں کا عرصہ حیات تنگ کردیا اور پولیس کو مظلوم بتا دیا! جس کے پاس پاور ہو وہ سارے ثبوت پیدا کرکے مخالف فریق کو جھوٹا بنا دیتا ہے اور جوکوئی صاحبانِ اقتدار کے رحم و کرم پر ہوں ان پر رحم ہونا چاہئے تاکہ حکمرانوں پر اللہ رحم فرمائے جس کے پاس طاقت ہے اسے قتلِ عام کا لائسنس نہیں دیا جانا چاہئے
 یہی میرا نکتہ نظر ہے کیا اہل علم و دانش کسی مظلوم کے حق میں اسی لئے بولنے سے پرہیز کریں کہ مظلوم کے قائد کےساتھ ہمارا نظریاتی اختلاف ہے اس قسم کے اہل علم و دانش خود اس ظلم میں برابر سے زیادہ شریک ہیں کیونکہ وہ ظالم کو نہتے لوگوں کے خون سے کُھل کھیلنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ سختی کےساتھ تو کوئی ایک گلی کے لوگوں پر حکومت نہیں کرسکتا،حکومت کو اندرونی اور بیرونی جانب سے بہت دباؤ ہوتا ہے۔حکومت کیلئے رعایا اولاد کی طرح ہوتی ہے!!! جو حکومت رات کے وقت اپنی بے گناہ رعایا پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اس پر اللہ کی لعنت! اور مظلوم کامذاق اڑانے والوں پربھی، حد تو یہ ہے کہ مقدمے بھی مظلوم لوگوں پر ہوئے۔
 طالبان نے کئی سالوں سے قوم کا جینا حرام کردیا تھا اُن کے معاملے میں کئی سال کا ظلم شامل ہے اور سب کچھ قوم کے سامنے اعلانیہ ہوا۔ ان کے ساتھ مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور امن کو "ایک موقع" دیا جاتا ہے۔ آج وہاں لاکھوں متاثرین ہیں لیکن قوم آپریشن کو اپنے لئے نجات کا باعث سمجھتی ہے! جبکہ پر امن تحریک کے دفتر پر پاگل کتوں کی طرح حملہ کردینا حکمرانوں کی موت کے سوا کچھ اور نہیں! یہاں بیریئر ہٹانے کیلئے مذاکرات کیوں نہ کیے گئے اور امن کو ایک اور موقع کیوں نہ دیا گیا۔ ظلم آخر ظلم ہے ہم منہاج القرآن کے معاملے کو کربلا سے ہرگز تشبیہ نہیں دے سکتے لیکن کربلا میں نہتی عورتوں کو شہید نہیں کیا گیا۔ میں پھر لکھتا ہوں کہ لال مسجد والے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو نعوذباللہ باغی کہتے تھے لیکن "سائیلنس آپریشن" کو انہوں نے سانحہ کربلا سے تشبیہ دی اور امام عالی مقام کے دامن میں پناہ لی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کےقافلےکوروک کر شہیدکیاگیا تھا آپ رضی اللہ عنہ کسی میدانِ جنگ میں لڑنے کیلئے تو نہیں گئےتھے ناں! لیکن جب حملہ ہوگیاتو جتنا دفاع کر سکے روز لگا کے دفاع فرمایا۔ پھر ساری قوم خاموش ہوگئی۔ لیکن مختار ثقفی کی للکار کے بعد قوم کو ہوش آیا اور ظالموں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔
 کوفی ہونے کی اصطلاح دو طرح سے ہے ایک بےوفا کوفی جنہوں نے حضرت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ سے بے وفائی کی۔ دوسرے حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے کوفی! ہم حنفی کوفی ہیں۔ ہم پہلے والے غدار کوفی نہیں! ہم حسینی کوفی ہیں! ہم ہرگز یزیدی کوفی نہیں! ان شاء اللہ قوم کو ایک دن جاگ آجائے گی ۔ واللہ عزیز ذوانتقام۔ہٹلر کو تاریخ میں سب سے بڑا قاتل کیوں گردانا جاتا ہے؟ کیونکہ اس نے اپنی رعایا کے لوگوں کو قتل کروایا چاہے وہ یہودی تھے یا جو بھی تھے سوال یہ ہے کہ اپنی رعایا کو کیوں قتل کروایا عورتوں کو فرعون بھی قتل نہیں کرواتا تھا لیکن درندہ لیگ کے گلو بٹوں نے عورتیں کو بھی قتل کیا بلکہ شہید کیا۔

جمعرات، 4 ستمبر، 2014

پاکستانی قوم کے لیے لمحہ فکریہ!!!

مولانا فضل الرحمن نے فرمایا ۔۔۔۔۔ خلاصہ " پارلیمنٹ سے باہر مسلح لشکر کھڑے ہیں ( ڈنڈوں ، پتھروں اور غلیلوں سے مسلح )۔ جنہوں نے ہماری پولیس پر حملے کیے جس میں کئی پولیس والے زخمی ہوئے ۔ اس وقت جمہوریت اور آئین سخت خطرے میں ہیں ۔ ان کو بچانے کے لیے ہم پوری طرح حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ان لشکروں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی ہونی چاہئے " ( مطلب ان کا قتل عام وغیرہ )
آج سے چند دن پہلے تک ٹی ٹی پی نے پاکستان بھر میں اپنے مسلح لشکر بنائے ( خودکش جیکٹوں ، ٹائم بموں ، راکٹ لانچروں اور ہر قسم آٹومیٹک ہتھیاروں سے مسلح) ۔۔۔ انہوں نے پاکستان کو ہی ماننے سے انکار کر دیا اور پاکستان کے آئین اور جمہوریت کو کفر قرار دیا ۔ پاکستان کے بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر کے اپنی حکومت بنائی ۔ پولیس والوں کے سر کاٹ کر ان کے سینوں پر رکھ دیتے تھے ۔ ایف سی والوں کے سروں سے فٹبال کھیلا ۔ بہت سے آرمی والوں کو ذبح کیا اور ہزاروں کی تعداد میں عوام کو بموں سے اڑا دیا ۔
تب مولانا صاحب نے فرمایا ۔۔۔ " ان کو کچھ نہ کہا جائے ۔ انکے خلاف طاقت کا استعمال حرام ہے اور چاہے یہ کچھ بھی کر لیں ان سے صرف اور صرف بات چیت کی جائے " ۔۔۔
مولانا کے رویے میں اس عظیم الشان تضاد کی وجہ صرف مولانا خود ہی بیان کر سکتے ہیں ۔ ہم جیسے ناسمجھ اس معاملے میں عاجز ہیں ۔۔ تاہم مولانا کے کچھ "بدخواہ" مولانا پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ سادہ سی وجہ ہے ۔۔۔۔ لالچ اور خوف ۔۔ ٹی ٹی پی سے خوفزدہ تھے اور نواز شریف کے ساتھ انکی تین وزارتیں جانے کا ڈر ہے ۔۔۔!!!
محمود اچکزئی نے فرمایا۔۔۔ خلاصہ ۔۔۔۔" پارلیمنٹ سے باہر جمہوریت اور آئین کے دشمن کھڑے ہیں ۔ یہ پولیس پر مسلح حملے کرتے ہیں ڈنڈوں ، پتھروں اور غلیلوں سے اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ہمارے دشمن ہٰیں ۔ انہوں نے پی ٹی وی پر حملہ کیا اور پارلمینٹ کی عمارت پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کو بچانے کے لیے ہم پوری طرح حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ان لشکروں کے خلاف کاروائی میں دیر نہیں کرنی چاہئے " ( مطلب ان کا قتل عام وغیرہ )
بلوچستان میں بی ایل اے نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ جمہوریت اور آئین تو ایک طرف پاکستان کو ہی نہیں مانتے اور بلوچستان الگ کر کے پاکستان کو توڑ دینگے ۔ انہوں نے قائد اعظم کی ریزیڈنسی اڑا دی ۔ پنجابیوں کو بسوں سے اتار اتار کر قتل کیا ۔ پولیس کے بہت سے افسروں اور سکول ٹیچروں کو قتل کر چکے ہیں ۔ گیس پائپ لائن روزانہ اڑا دیتے ہیں ۔
لیکن حیرت انگیز طور پر آج تک محمود اچکزئی صاحب نے کبھی ایک دن بھی انکو پاکستان کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا ۔ ان کے خلاف ہر قسم کی کاروائی کی سخت ترین مذمت کی اور اعلان کیا کہ " ناراض بھائیوں کا راضی کرو چاہے کچھ بھی کرو " ۔۔۔۔
محمود اچکزئی کے اس رویے کی شائد آپ وضاحت کر سکیں ؟؟ ۔۔۔ بعض لوگ انکی افغانستان کے ان لوگوں سے آئے دن ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہیں جو بی ایل اے کو کنٹرول کرتے ہیں اور سنا ہے کہ موجودہ حکومت میں نواز شریف کے بعد اچکزئی کے سب سے زیادہ رشتے داروں کو عہدے ملے ہیں !!!!!!
کیا کوئی دوست مجھے بتائیگا کہ " منافق " سے کیا مراد ہوتی ہے
بشکریہ Faisal Mehmood Tahir

بدھ، 3 ستمبر، 2014

Tehreek-e-Khatme_Nubuwwat-1974 تحریک ختم نبوت1974

1974ء ميں وزیراعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں احمدیوں(قادیانیوں، مرزائیوں)کوغیرمسلم اقلیت قرار دیدیاگیا، اس تحریک کے اصل محرک مولانا شاہ احمد نورانی تھے انہوں نے 30 جون کو ایک تاریخی قرارداد جمع کرائی اور 6 ستمبر 1974 تک بحث و تمحیص کے بعد اسے ایک قانونی شق کی حیثیت دے دی گئی۔

قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں کے خلاف کئی سال تک تحریکیں چلتی رہیں، 1953 اس حوالے سے زیادہ مشہور سال ہے ان تحریکوں میں کئی علماء مثلاً مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا مودودی صاحب کو پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہوا۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں قادیانی عقائد کے خلاف ایک قرارداد منظور ہو چکی تھی کہ پنجاب کے شہر ربوہ میں 29 مئی کو مسلمان طلباء پر قادیانیوں نے حملہ کرکے تشدد کیا جسے سانحہ ربوہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں پریشانی کی ایک لہر دوڑ گئی اور اس واقعہ کے تھوڑا عرصہ بعد مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی نے قومی اسمبلی (پاکستان) میں 30 جون 1974 کوقادیانیوں/احمدیوں اور لاہوری گروپ کے بارے میں ایک قرارداد پیش کی کہ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور رسول تھے لہٰذا اس باطل عقیدے کی بناء پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے

اس تحریک میں سب مکاتب فکر کے علماء مثلاً مولانا محمد یوسف بنوری، مفتی محمود اورمولانا مودودی کے علاوہ شیعہ علماء بھی شامل تھے علماء کے علاوہ دیگر بہت سے سیاستدانوں نے حصہ لیا جن میں جناب نوابزادہ نصر اللہ خان کا نام نمایاں ہے، سوائے چند ایک ارکان قومی اسمبلی پاکستان کے اکثر ارکان نے اس قرارداد کی حمایت میں دستخط کر دئیے، مرزائی/قادیانی اور لاہوری گروپ کے نمائندوں کو ان کی خواہش کے مطابق اپنی صفائی کا مکمل موقع دیا گیا اور دوماہ اس پر بحث ہوتی رہی پوری قومی اسمبلی کے ارکان کو ایک کمیٹی کی شکل دے دی گئی تھی اور کئی کئی گھنٹے کیمرے کے سامنے بیانات و دلائل و جرح کا سلسلہ جاری رہتا، اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحیٰ بختیار فریقین کے مؤقف کو سن کر ایک دوسرے تک بیان پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ کمیٹی اس بات کی پابند تھی کہ کئی سال تک اس مناظرے کو کہیں نشر نہیں کرے گی

بہت سے سیاستدان اس تحریک سے قبل اس مسئلے کی سنگینی سے ناواقف تھے، لیکن جب انہیں کیمرے کے سامنے قادیانی نمائندوں (مرزا ناصر وغیرہ) کے قول و اقرار سے اصل صورت حال کا علم ہوا تو وہ بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے سلسلے میں سنجیدہ ہو گئے، بالآخر مرزا ناصر سے ایک سوال ہوا کہ اگر کبھی دنیا میں کہیں تم لوگوں کی حکومت قائم ہوجائے تو تم غیر احمدی (قادیانی/مرزائی) کلمہ گو مسلمانوں کو وہاں کس درجے میں رکھو گے تو اس نے جواب دیا کہ ہم انہیں اقلیت سمجھیں گے، یوں اس کے کلیہ کے مطابق قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ اب پاکستان کے مسلمان غیر سرکاری طور پر 7 ستمبر کو یوم ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں

اس قانون کے پاس ہوتے ہی قادیانیوں نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اس قانونی ترمیم کو چیلنج کیا، مسلمانوں کی طرف سے ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی اور قادیانیوں کی طرف سے فخرالدین جی ابراہیم نے اس کیس کی پیروی کی، لیکن مرزا غلام احمد کی تصانیف میں لکھی ہوئی اسلام مخالف باتیں دلائل قاطعہ ثابت ہوئیں اور قادیانی کورٹس میں بھی خود کو مسلمان ثابت نہ کر سکے

منگل، 2 ستمبر، 2014

ڈاکٹروں کا ' گولی کو گولی' کہنے سے گریز

اسلام آباد : پاکستانی انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شارع دستور پر ہفتے کی شب جھڑپوں کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے دو افراد کی ہلاکت " تیز رفتار دھاتی متحرک چیز" کی وجہ سے ہوئی ہے۔
پیر کو جاری بیان میں ہسپتال انتظامیہ نے ان دھاتی چیزوں کو "گولیاں" کہنے سے گریز کیا ہے، تاہم ہسپتال کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان لاشوں کا پوسٹمارٹم کرنے والے رکنی میڈیکل بورڈ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ ان دونوں کو کسی ہتھیار سے گولیاں ماری گئی ہیں۔
ایک گولی ممکنہ طور پر کسی چھوٹے اسلحے جیسے ہینڈ گن سے چلائی گئی تھی جسے رفیع اللہ کے سر سے نکالا گیا ہے، جبکہ گلفام عادل نامی شخص کے زخموں کی نوعیت بھی فائرنگ سے ہونے والے زخموں جیسے ہیں۔
پمز کے منتظم ڈاکٹر الطاف حسین نے بتایا ہے کہ" یہ اموات کسی تیز رفتار دھاتی چیز کی وجہ سے ہوئیں، جن میں سے کچھ کی شکل بدل گئی ہے اور ہم نے انہیں تجزئیے کے لیے سہالہ پولیس سٹیشن کے ماہرین کو بھجوا دیا ہے"۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پمز میں زیرعلاج افراد کے زخم بھی کسی چھوٹے بور کے اسلحے کی فائرنگ سے ہونے والے ان زخموں جیسے ہیں جو دو افراد کی ہلاکت کا باعث بنے۔
پیر کو پاکستان عوامی تحریک(پی اے ٹی) کے حامی اور سابق پولیس اہلکار محمد یوسف، جو ربڑ کی کئی گولیوں کا نشانہ بن کر زخمی ہوئے تھے، کہ گھٹنے سے بھی ایسی ہی دھاتی" چیز" نکالی گئی تھی۔
ڈاکٹر حسین نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دوگھنٹے کے آپریشن کے بعد ایسی ہی چیز ایک اور زخمی عثمان گلفام کی بائیں ران سے بھی نکالی ہے۔
پمز کے ایک سنیئر میڈیکل عہدیدار نے وضاحت کی کہ تیز رفتار چیز جیسے گولی جب فائر کی جاتی ہے تو بہت گرم ہوتی ہے اور یہ کسی ٹھوس شے جیسے انسانی ہڈیوں سے ٹکرانے کے بعد شکل بدل لیتی ہے۔
ان کی رائے میں ہجوم منتشر کرنے والے ہتھیار جیسے کم رفتار ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل سے اس طرح کے زخم نہیں آسکتے جو ہسپتال میں زیرعلاج متعدد زخموں کے جسموں پر ہیں۔
پمز کے سابق میڈیکولیگل آفیسر ڈاکٹر وسیم خواجہ نے ڈان کو بتایا کہ ربڑ کی گولیاں بہت کم ہی انسانی جسم کو پھاڑ کر نکل پاتی ہیں، اور ایسا اسی وقت ہوتا جب انہیں بہت زیادہ قریب سے فائر کیا جائے۔
رفیع اللہ کی لاش سے نکالی جانے والی گولی کو فارنسک تجزیئے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے، پوسٹمارٹم میں شامل رہنے والے افراد نے ڈان کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی تیس بور کی گن سے نکلی ہوئی گولی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس شے کے تجزئیے سے پہلے اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر مجاہد شیردل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پولیس نے خودکار اسلحہ استعمال نہیں کیا، ان کا کہنا تھا" اگرچہ پولیس نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں فائر کیں، مگر انہیں میری یا ایس ایس پی کی جانب سے اتھارٹی نہیں دی گئی تھی"۔
پیر کی دوپہر تک دو سو اسی سے زائد زخمیوں کو علاج کے لیے پمز لایا گیا، جن میں سے 76 کو علاج کے لیے ہسپتال میں رکھا گیا اور پھر ڈسچارج کردیا گیا، تاہم 29 زخمی تاحال ہسپتال میں ہیں اور گیارہ کی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے لیے سرجری کی ضرورت ہے۔ 

 بشکریہ ڈان نیوز اردو
جمال شاہد اور منور عظیم
تاریخ اشاعت 02 ستمبر, 2014

اتوار، 31 اگست، 2014

آپ ایک انسان ہونے کے ناتے کس گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں

بالفرض آپ کسی دفتر میں کام کرتے ہوں اور وہاں صفائی کا کام کرنے والا آفس بوائے ایک فرض شناس اور محنتی شخص ہو جو باقاعدگی سے آپ کے دفتر کی ہر ایک اس چیز کی صفائی کرتا ہو جو روز مرہ کے استعمال میں آتی ہو اور اس کا صاف شفاف ہونا ایک لازمی امر ہو اور آپ کے دفتر کا نظام بالکل ٹھیک طریقے سے کام کر رہا ہو۔ اس میں دوسرے افراد بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سرانجام دے رہے ہوں اور وہ اسی درست راہ پر گامزن ہوں تو۔۔۔۔ اچانک آپ کے دفتر کی صفائی کا ذمہ دار بندہ کام چھوڑ جاتا ہے اس کی کوئی بھی وجہ ہو
پھر ایک نئے آفس بوائے کی تقرری ہوجائے اور وہ چند روز گزرنے کے بعد اپنے فرائض میں کوتاہی برتنا شروع کردے، مثلاً آپ کے دفتر کا پانی والا ٹینک صاف نہ ہوتا ہو یا واٹر فلٹر باقاعدگی سے تبدیل نہ کیا جائے، وہ فرش کو تو روزانہ صاف کردے لیکن الماریوں کے اندرونی خانوں میں مکڑیوں کے جالے بن جائیں اور کھڑکیوں کے باہر گندگی جم جائے، دفتر کے دوسرے ارکان خوش اسلوبی سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں لیکن ان میں سے اکثر ارکان مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگیں جس کی حقیقی وجہ صفائی کا فقدان ہو لیکن مسئلہ کسی کی سمجھ میں نہ آرہا ہو اور اس طرح کے واقعات ایک معمے کی صورت اختیار کرجائیں
اسی دوران میں آپ کی کمپنی کی کسی دوسری برانچ سے ایک تنقیدی ذہن رکھنے والا ایک ذمہ دار رکن اس دفتر میں مقرر ہوجائے اور وہ حالات کا معروضی جائزہ لے کر اس مسئلے کے اسباب کی نشاندہی کردے۔ لیکن ٹھہریئے! اگر اس سے قبل ایک اور نمائندہ حالات کی جانچ پرکھ کرکے اصلاح کا یجنڈا لے کر آپ کے دفتر میں نظامِ صفائی کو درست کرنے کی ٹھان لے اور آپ کے دفتر کی بہت سی املاک کو توڑ کر برباد کردے، اس کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ تو صفائی کا نظام درست کررہا ہے اس طرح وہ کمپنی کو بھاری مالی نقصان پہنچا ڈالے لیکن ہمیشہ اس کو پیار سے سمجھایا جاتا رہے اور امن کو ایک اور موقع دیا جاتا رہےاس نقصان پہنچانے والے سے ایک لمبے عرصے تک مذاکرات کیے جاتے رہیں لیکن دفتر کے دیگر اراکین چیخ چیخ کر کہتے ہوں کہ یہ بندہ جب بھی کسی قیمتی چیز کو صفائی کے نام پر توڑتا ہے تو ہماری تنخواہوں سے فنڈ اکٹھا کرکے دوبارہ نیا سامان خریدا جاتا ہے ہمارے ساتھ یہ نا انصافی کیوں ہوتی ہے، ساتھ ساتھ کچھ اراکینِ دفتر اس مصلح کے ایجنڈے کے خلاف باتیں کرتے رہتے ہوں اور ایک ایسا وقت آئے کہ اس موذی رکن سے جان چھڑوائی جانے کے فیصلے کا وقت آجائے دفتر کا ہر بندہ اس کے کرتوتوں سے متنفر ہو لیکن دفتر کا مینیجر اس نقصان دہ شخص کو دیدہ دلیر اور بے شرم ہونے کی وجہ سے سپورٹ کرتا ہو اور اسے اپنے لئے ایک قیمتی اثاثہ سمجھتا ہو۔ اتنے میں دفتر کے سب لوگ اکٹھے ہوکر اس شخص کو دفتر سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کردیں بلکہ اس کی موجودگی میں کام کرنے سے انکار کردیں، اس طرح دفتر میں کام چھوڑ ہڑتال ہو جائے اورمینیجر صاحب بادلِ نخواستہ اس نقصان دہ شخص  کو فارغ کردینے کا عندیہ بھی دے دیں۔
   اتنے میں وہ نیا رکن جو کسی دوسری برانچ سے آیا ہو وہ آکر بتائے کہ اس مسئلے کا حل بتائے کہ قیمتی املاک کا نقصان نہیں بلکہ ان کی صفائی کرنے کے لئے جو بندہ مامور ہے اسے اپنے فرائض ٹھیک طریقے سے سر انجام دینے چاہئیں ورنہ اسے بھی دفتر سے چلتا کرو ۔ اور ایک نیا آفس بوائے بھرتی کرلو جوباقاعدگی سے بروقت صفائی کرے۔ دفتر کے اکثر اراکین اس کی اس تجویز سے اتفاق کرلیں اور یہ نیا لائحہ عمل لے کرمینیجر کے پاس چلے آئیں، اتنے میں وہ پرانا نقصان دہ شخص دفتر میں اپنی آخری تنخواہ لینے آتا ہے اور اسے اپنی ملازمت کی برطرفی کا دکھ بھی ہوتا ہے اسے اس نئی پیدا ہونے والی صورت حال کا پتہ چل جائے اور اب وہ مینیجر اور آفس بوائے کو  کسی طرح  ایک سازش کے ذریعے یہ سمجھانے میں کامیاب ہوجائے کہ یہ نیا آنے والا ساتھی ہمارے دفتر کا نظام سمیٹنا چاہتا ہے یہ ایک گروپ بن چکا ہے اور یہ سب اراکینِ دفتراس دفتر پر یا تو قبضہ کرنا چاہتے ہیں یا پھر اس دفتر کو بند کراکے آپ کا دھندہ ختم کرانے کی سازشیں کر رہے ہیں، مینیجر چونکہ پہلے ہی اس بیوقوف شخص کے ساتھ رعایت سے کام لیتا تھا چاہے اس سے سب کا نقصان ہوتا ہو اور اب اس کی چھٹی کے بعد اپنی انا کا مسئلہ بنا لے کہ میں آفس بوائے کو فارغ نہیں کروں گا۔ اور آنے والےنئے ساتھی کی بات نہیں مانوں گا چاہے سب کا نقصان ہو اور سب بیمار ہوں، دفتر کا قیمتی سامان برباد ہوجائے۔ چاہے اس طرح کی صورت حال سے آہستہ آہستہ ویسےہی کمپنی کی یہ شاخ بند ہوجائے لیکن اب میرے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ حالانکہ سیدھی سی بات ہوکہ باقاعدہ پانی والے ٹینک کی صفائی ہوتی رہے، واٹر فلٹر اپنی مقررہ مدت کے بعد تبدیل ہوتا رہے، الماریوں کی صفائی ہوتی رہے اور کھڑکیوں، روشندانوں کی صفائی درست طریقے سے ہوتی رہے تو اس سے بہت سے مسئلے حل ہوجائیں گے، کیونکہ باقی اراکین تو اپنے فرائض کو ٹھیک طریقے سے نباہ رہے ہیں ناں! اب وہ پرانا بندہ کبھی درپردہ آفس بوائے کو دیگر ملازمین کے خلاف بھڑکاتا رہے اور کبھی کھل کر مینیجر سے ملاقاتیں کرکے دیگر ملازمین پر مختلف قسم کی زیادتی کی وارداتیں کرنے کے منصوبے بناتا رہے، اتنے میں وہ مینیجر ایک دن غصے میں آکر بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر ، انصاف پسند اور امن پسند گروپ کے بندوں پر کرائے غنڈوں سے فائرنگ کرواکے ان میں سے کچھ کو قتل اور کچھ کو زخمی کروادے۔
اب صورت حال ذرا گمبھیر/گھمبیر ہوجائے اور اس مینیجر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جانے لگے، اسی دوران میں دفتر میں غیر جانب دار ملازمین کا ایک اور گروپ سامنے آجائے جو رشوت لے کر مینیجر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جائے، اور امن پسند انصاف پسند گروپ کی مخالفت پر اتر آئے۔ یہ نیا گروپ اب قتل ہونے والے گروپ کے لوگوں کو ظالم/دہشتگرد اور غنڈوں کا لقب دینے لگ جائے۔ اور انصاف پسند/امن پسند گروپ کے نئے آنے والے ساتھی کی ذات میں کیڑے نکال نکال کر، الزام لگا کر دوسروں کو ان سے متنفر کرتا پھرے اور ان کے خلاف بھڑکاتا پھرے تو آپ کس گروپ کا ساتھ دیں گے، ظالم مینیجر والے بے غیرت گروپ کا! یا پھر مظلوم گروپ والے امن پسند انصاف مانگنے والے گروپ کا؟
اگر چند روز کے بعد جب انصاف مانگنے والے مینیجر کے کمرے کے باہر اس کا استعفیٰ طلب کررہے ہوں اور کمپنی میں اس ناسور کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہوں تو ان نہتے اراکین پر ایک بار پھر ظلم ستم کرکے ان کے بے گناہ ساتھیوں کو قتل کردیا جائے ، ان کے مقتول اور زخمی ساتھیوں کو غائب کر دیا جائے تو آپ ایک انسان ہونے کے ناتے کس گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں
1۔ غیر ذمہ دار آفس بوائے کے ساتھ
2۔ نقصان دہ مصلح کے ساتھ
3۔ ظالم مینیجر اور اس کے درندوں کے ساتھ
4۔ یا امن پسند انصاف مانگنے والوں کے ساتھ
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دفتر کا بیڑہ فرق ہونے/کرنے سے بہتر تھا کہ صرف ایک ذمہ دار آفس بوائے کا تقرر کیا جاتا اور نقصان دہ فریق کو اپنی من مانی کرکے کھل کھیلنے کا موقع نہ دیا جاتا؟

Welldone Nawaz Sharif Netanyahu of Pakistan Islamabad Massacre 31th of August 2014












ہفتہ، 30 اگست، 2014

Justice keeps balance among society: Says Arshad ul Qadri, Grand Mufti (Cleric) of Pakistan

Lahore: Thursday (28 August 2014) Mufti-e-Azam Pakistan Allama Maulana Mohammad Arshad al-Qadri (Grand Mufti of Pakistan) said in his speech that the Justice keeps balance among society.
Islam teaches kindness to others along with justice, while other Systems just teach social justice. He added more, that the best society was formed by Prophet Muhammad peace and blessings be upon him. He was addressing in Islamic Rizvia University (Jamia Islamia Razwia) Rachna Town, Shahdara, Lahore on thursday evening during weekly gathering of an Islamic Movement, Taleem-o-Tarbiyat Islami Pakistan (The Movement of Islamic education and training, Pakistan). At the end of program he aslo prayed for a peaceful solution, to the political crisis in Pakistan.


https://www.facebook.com/ArshadalQadri/photos/a.218974484904919.53895.218614628274238/503210983147933/?type=1&theater

لاہور: مفتی اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد ارشد القادری جمعرات (28 اگست 2014ء) کی شام مرکز تعلیم و تربیت، جامعہ اسلامیہ رضویہ رچنا ٹاؤن شاہدرہ لاہور میں حلقہ ذکرو بیان سے خطاب فرما رہےتھے انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عدل سےمعاشرے میں توازن قائم رہتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ معاشرےمیں چاشنی صرف عدل سے نہیں آتی بلکہ دین_ اسلام اس کےساتھ ساتھ احسان کرنے کا درس دیتا ہے جبکہ دوسرے معاشرے صرف عدل کی بات کرتے ہیں سب سے بہترین معاشرہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تشکیل فرمایا۔ تحریک تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کے اس ہفتہ وار اجتماع سے بیان کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں جاری سیاسی بحران کے پرامن حل کے لئے دعا بھی فرمائی۔

بدھ، 27 اگست، 2014

Model Town clashes: LHC upholds order to register FIR against PM, Punjab CM

By Rana Yasif

Published: August 26, 2014
A file photo of clashes between PAT supporters and police in Model Town. PHOTO: MEHMOOD QURESHI/EXPRESS
LAHORE: 
The Lahore High Court on Tuesday upheld a sessions court’s decision to register FIRs against the PML-N’s top leadership, including Prime Minister Nawaz Sharif over the Model Town tragedy, while dismissing a petition from four PML-N federal ministers against the decision.
In his short order, Justice Mahmood Maqbool Bajwa observed that the petitioners failed to establish their case. However, the judge directed the police to complete investigations before arresting any person named in the Minhajul Quran Secretariat application.
Earlier, a sessions court had ordered police to register murder cases against 21 federal and provincial authorities including Prime Minister Nawaz Sharif and Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif. However, Information Minister Pervaiz Rasheed, Defence Minister Khawaja Asif, Railways Minister Khawaja Saad Rafique and Minister of State for Water and Power Abid Sher Ali challenged the order in the Lahore High Court.
During the course of hearing, Minhajul Quran’s counsel Mansoorur Rehman Afridi said police had deliberately ignored substantial evidences and statements of eyewitnesses and lodged a one-sided FIR on the complaint of a police official.
Further, Afridi said the FIR registered by the police had no value in the law, adding a bench of Sindh High Court had ordered a third FIR to be registered in the same case.
The joint investigation team (JIT)’s head additional Inspector General Arif Mushtaq also appeared and submitted a report to the judge in his chamber.
Petitioner’s counsel Azam Nazir Tarar argued that Pakistan Awami Tehreek (PAT) leaders including Dr Tahirul Qadri refused to join the investigations. Tarar added nobody turned up on behalf of the Minhajul Quran or PAT despite several invitations by police and the joint investigation team (JIT), made by the government for an impartial investigation of the June 17 clashes.
Further, Tarar alleged the petition filed by the Minhajul Quran before the sessions court was politically motivated. “Prime Minister Nawaz Sharif and others named as suspects in the application of Minhajul Quran had no link with the incident,” he said.
Tarar also argued that an ordinance whereby sub-section 6 was added to section 22-A and 22-B of Cr.P.C. had lapsed and the session’s court no longer enjoyed the power to order lodging of an FIR.
Advocate General Punjab Hanif Khatana said the sessions court passed the order without viewing investigation reports of the joint investigation team and police.
However, the LHC dismissed the petitions while also dismissing a petition demanding implementation of the sessions court’s order filed by Pakistan Tehreek-e-Insaf leader Zubair Niazi. The judge observed that the petitioner was not the aggrieved party in this case.

Thanks to Tribune
This report was published in Tribune.com.pk/.

پیر، 25 اگست، 2014

25 اگست 2014 کی ملی جلی خبریں

فضل الرحمن کا بیان خانہ جنگی کرانے کی سازش ہے: اہلسنت تنظیمیں

25 اگست 2014


فضل الرحمن کا بیان خانہ جنگی کرانے کی سازش ہے: اہلسنت تنظیمیں

لاہور(خصوصی نامہ نگار) سنی اتحاد کونسل، جماعت اہلسنّت، تحفظ ِ ناموسِ رسالت محاذ، سنی تحریک، منہاج القرآن علماء کونسل اور جے یو پی سمیت 35 اہلسنّت تنظیمات کے رہنمائوں نے لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان ملک میں خانہ جنگی کروانے کی سازش ہے۔ حکومتی جماعت کی ریلیوں سے ٹکرائو، تصادم، اشتعال انگیزی اور محاذ آرائی بڑھے گی۔ مسلم لیگ ن اپنی ریلیاں منسوخ کرے۔ کالعدم تنظیموں کی حکومت کے حق میں ریلیوں سے حکمرانوں اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ ثابت ہو گیا ۔ راہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ سانحۂ ماڈل ٹائون کے شہداء کے ورثاء کی ایف آئی آر فی الفور درج کی جائے اور ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔    پریس کانفرنس کے شرکاء میں سنی اتحاد کونسل کے مفتی محمد حسیب قادری، جماعت اہلسنّت کے علامہ قاری فیروز صدیقی، تحفظ ِ ناموسِ رسالت محاذ کے مولانا محمد علی نقشبندی، سنی تحریک کے مولانا مجاہد عبدالرسول، منہاج القرآن علماء کونسل کے علامہ حاجی امداد اﷲ نعیمی، نیشنل مشائخ کونسل کے خواجہ غلام قطب الدین فریدی، جے یو پی نیازی کے پیر سیّد محمد معصوم نقوی، انجمن طلبائے اسلام کے محمد اکرم رضوی، جمعیت علمائے پاکستان نورانی کے مولانا حافظ نصیر احمد نورانی، پاکستان عوامی تحریک کے چوہدری ارشاد احمد طاہر، تحریک منہاج القرآن کے ممتاز احمد صدیقی اور دیگر بھی شامل تھے۔


لاہور میں عوامی تحریک‘ مجلس وحدت مسلمین‘ سنی اتحاد کونسل کے دھرنے

25 اگست 2014

لاہور + ساہیوال (خصوصی نامہ نگار + نامہ نگار) لاہور میں پریس کلب کے سامنے انقلاب مارچ کے حق میں پاکستان عوامی تحریک‘ مجلس وحدت مسلمین اور سنی اتحاد کونسل کے زیراہتمام دھرنا دیا گیا جبکہ ساہیوال میں پاکستان تحریک انصاف کے حق میں احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ لاہور میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا  ڈاکو اور لٹیرے ایک دوسرے کو بچانے کیلئے سرگرم ہیں پاکستان میں سٹیٹس کو کی پیداوار اپنی بقا کی جنگ کے لئے متحد ہو گئے لہٰذا پاکستانی غریب عوام کو قائداعظم کا پاکستان بچانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، اقتدار کے ہوس میں حکمران اندھے ہو چکے ہیں عوامی غیض و غضب سے حکمرانوں کا بچنا ممکن نہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن بدترین ریاستی بربریت اور پنجاب کے حکمرانوں کا سیاہ کارنامہ ہے اس کا حساب قانون و آئین کے مطابق ہم ضرور لیں گے۔ مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے رہنما علامہ حسن ہمدانی نے کہا کہ اقتدار کے ہوس میں حکمران اندھے ہو چکے ہیں عوامی غیض و غضب سے حکمرانوں کا بچنا ممکن نہیں۔ عوامی تحریک کے رہنما  محمد حنیف طاہر صدیقی نے کہا کہ ہمارے شہداء کے قاتلوں کیخلاف ایف آئی آر عدالتی حکم کے باوجود بھی درج نہیں کیا جا رہا ہمارے کارکنوں کو پنجاب بھر میںہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم اپنے مطالبات اور اپنے اہداف کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ سنی اتحاد کونسل کے رہنما مفتی محمد حبیب قادری نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن بدترین ریاستی بربریت اور پنجاب کے حکمرانوں کا سیاہ کارنامہ ہے اس ظلم کا حساب ہم ضرور لیں گے جبکہ ساہیوال میں پاکستان تحریک انصاف ضلع ساہیوال اور یوتھ ونگ نے مشترکہ کالج چوک میں حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا دھرنے میں میاں بابر صغیر، سید رضوان شاہ، شہزاد خان، میاں نوید اسلم، ڈاکٹر جابر حسین اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمران ملک و قوم پر رحم کھائیں اور نوشتہ دیوار سمجھ کر مستعفی ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ احتجاج حکومت کی رخصتی تک جاری رہے گا۔

ملی یکجہتی کونسل کے رہنمائوں کی طاہرالقادری سے ملاقات، 10 نکات کی حمایت

25 اگست 2014


اسلام آباد(ثناء نیوز) ملی یکجہتی کونسل نے پاکستان عوامی تحریک کے 10نکات کی حمایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بعض قوتیں دھرنوں کو بنیاد بنا کر ملک میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلانا چاہتی ہیں امید ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔ گذشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سے ان کے کنٹینر میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے  امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ جلد ہی حل ہوجائے اور ملک نظام مصطفی کا گہوارہ بنے گا انہوں نے کہا یہ ہماری بھی خواہش ہے اور ہم اس کے لیے جدوجہد بھی کررہے ہیں ڈاکٹر طاہرالقادری اسی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حق میں ہیں۔ انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور ملک نظام مصطفی کا گہوارہ بنے گا اس موقع پر ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ اس حادثے کے بعد وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو مستعفی ہوجانا چاہیے کیونکہ جب تک عدالت کی طرف انہیں کلین چٹ نہیں مل جاتی انہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس منصب پر فائز رہیں۔ اس کے لیے ایک ایسا عدالتی کمیشن بننا چاہیے جس میں پنجاب کا کوئی جج شامل نہ ہو تاکہ وہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر سکے۔  قبل ازیں ملک کی 30سے زائد دینی مذہبی جماعتوں وتنظیموں اور تمام مسالک کے جید علماء کرام پر مشتمل ملکی یکجہتی کونسل نے تجویز دی ہے کہ  وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے استعفوں کا مطالبہ عدالتی کمیشن کی رپورٹس سے منسلک کردیا جائے  سانحہ ماڈل ٹائون کے عدالتی کمیشن پر اعتماد پیدا کرنے کے لیے پنجاب سے باہر کے جج حضرات کا کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ کونسل نے اسلام آباد میں سیاسی متحارب فریقین میں مصالحت  اور حکومت، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے رابطوں کے ذریعے باعزت درمیانی راستہ نکالنے کا اعلان کر دیا کونسل نے واضح کیا ہے کہ عوام پر مہنگائی بیروزگاری کرپشن کا ذمہ دار مراعات یافتہ مٹھی بھر طبقہ مسلط ہے مسائل اور مشکلات دور کرنے کیلئے اسلام کے معاشی نظام سے انحراف اور سودی نظام ختم کیا جائے جمعہ کی تعطیل بحال کی جائے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پارلیمنٹ میں زیر بحث لائی جائیں اور قرآن و سنت سے متصادم قوانین کو ختم کرتے ہوئے اسلامی قانون سازی کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار کونسل کے گذشتہ روز ہنگامی مشاورتی اجلاس کے بعد کونسل کے صدر ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ، سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، علامہ ساجد علی نقوی اور دیگر رہنمائوں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رابطوں کے لئے علامہ امین شہیدی کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے۔ کونسل کا اجلاس ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کونسل کے صدر ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے پریس کانفرنس میں یہ اعلامیہ پڑھا جس میں کہا گیا کہ پاکستان چاروں اطراف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ فوجی اور سکیورٹی اداروں کے افسر اور جوان قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس لیے ملک کسی سیاسی، جمہوری یا پارلیمانی حادثے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ حکومت اور آزادی وانقلاب مارچ کے قائدین حالات کی سنگینی کا ادراک کریں اور مذاکرات کے ذریعے باعزت ودرمیانی راستہ اختیار کریں۔ ڈیڈلاک اور بند گلی میں بند ہونے کی حکمت عملی سب کے لیے تباہی کا باعث ہوگی۔


کسی کو پارلیمنٹ یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی: شاہ اویس نورانی، مفتی منیب الرحمن

25 اگست 2014


کراچی (این این آئی) آزادی اور انقلاب کے نام پر بے حیائی کو پروان چڑھانے کا عمل ختم کیا جائے، تمام فریق مل بیٹھ کر آئین اور قانون کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کریں۔ کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ منتخب پارلیمنٹ کو یرغمال بنائے۔ 14 اگست کا دن آزادی کا ہے لیکن افسوس اسکو بھی سوالیہ نشان بنادیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء پاکستان کے ناظم اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن نے بیت الرضوان میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ 14 اگست سے اب تک جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس نے جہاں ملکی معیشت اور استحکام کو تباہ کردیا ہے وہیں پر قوم نفسیاتی مریض بن گئی ہے۔ پارلیمنٹ نظام کو بچانے کیلئے متفق ہے لیکن کچھ لوگ چند افراد کے ساتھ دھرنوں کے ذریعے نظام کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں۔ مخلوط رقص اور احتجاج دینی، ملی اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے۔ اگر آزادی کے ٹریلر کا یہ عالم ہے تو پھر مکمل آزادی کس طرح کی ہوگی۔ ہمیں جو چہرے نظر آرہے ہیں ان کا غریبوں سے کوئی تعلق نہیں۔ فوج نے اب تک جس صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ ایک طرف آپریشن ضرب عضب جاری ہے دوسری طرف بھارت دھمکیاں دے رہا ہے لیکن ہم ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے بجائے انتشار کا شکار ہیں۔ فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ شاہ محمد اویس نورانی نے کہا کہ انقلاب اور آزادی کے نام پر یوم آزادی کو مسخ کردیا گیا ہے۔ ہم جمہوریت پسند قوتوں کے ساتھ ہیں اور ان کے اقدام کی تائید کرتے ہیں۔

علی بابا چالیس چور جمہوریت کی چھتری تلے سول ڈکٹیٹرشپ کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں: مشرف

25 اگست 2014


کراچی/ اسلام آباد (آئی این پی) آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے نواز زراری ملاقات پر کہا ہے کہ علی بابا چالیس چور آج جمہوریت کی چھتری کے نیچے اکٹھے ہو کر سول ڈکٹیٹرشپ کے تمام ریکارڈ توڑ رہے ہیں، شاہراہ دستور پر ان کی جمہوریت کے عملی مناظر قوم خود اچھی طرح سے دیکھ سکتی ہے، ملک بھر سے اپنے حقوق کیلئے آنے والوں کو دہشت گردی کے نام پر کنٹینرز لگا کر قید کر دیا گیا ہے، ہزاروں خواتین، بچے، بوڑھے، مرد و جوان پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، جمہوریت تو میرے دور میں تھی جب دو مرتبہ بلدیاتی و قومی الیکشن ہوئے، تمام حکومتوں نے ملکی  تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی آئینی مدت پوری کی، مجھے ڈکٹیٹر کہنے والے جمہوریت کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں پوری قوم سب دیکھ رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج یہ خود اپنے ہاتھوں ہی انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ وہ ڈاکٹر محمد امجد اور اے پی ایم ایل کے سینئر نائب صدر میجر جنرل (ر) راشد قریشی سے  اتوار کو ٹیلی فونک بات  چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے پارٹی ذمہ داران کو پھر ہدایت کی کہ انقلاب مارچ  کے شرکاء کو پینے کا صاف پانی ناشتہ اور کھانا باقاعدگی سے مہیا کریں۔ ڈاکٹر امجد اور میجر جنرل راشد قریشی نے پاکستان عوامی تحریک کی قیادت کو پرویز مشرف کا اظہار یکجہتی کا پیغام بھی پہنچایا۔ عوامی تحریک نے پانی اور ناشتہ فراہم کرنے پر پرویز مشرف، ڈاکٹر محمد امجد اور میجر جنرل (ر) راشد قریشی کا شکریہ ادا کیا۔