اتوار، 3 اپریل، 2016

Qari Muhammad Ahmad Bakhsh Multani

قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: عبدالرزاق قادری

ضلع وہاڑی کے صدر مقام کے نواح میں ایک قصبے کا نام ”لڈن“ ہے۔ لڈن میں  ایک خاندان خدمتِ قرآن مجید کے حوالے سے مشہور ہے۔ان میں قاری عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ، قاری حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، قاری اللہ رکھا صاحب اور قاری عارف صاحب کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اسی خاندان میں سے ایک اور عظیم نام قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے لاہور میں وہ ”وڈے استاد جی“ یعنی بڑے استاد جی کے نام سے معروف تھے۔ آپ  کی پیدائش قیامِ پاکستان سے قبل ہوئی اور آپ نے نوعمری میں 15 ماہ کے قلیل عرصہ میں مکمل قرآن مجید حفظ کیا۔ شاہ بخش صاحب ملتانی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے پیر و مرشد تھے آپ نے ایک عرصہ ان کی خدمت میں گزرا ، انہی کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ ”ملتانی“ لکھتے رہے۔
    حفظِ  کرلینےکے بعد کچھ عرصہ تک آپ نے قرآن مجید کی تدریس فرمائی پھر کوئی دوسرا شعبہ اختیار کرنا چاہتے تھے لیکن اپنے شیخِ مکرم رحمۃ اللہ علیہ  کی خواہش اور ان کے حکم پر دوبارہ قرآن پاک پڑھانے میں مشغول ہوگئے اس نیک کام کا آغاز تقریباً 1956ء سے ہوا، آپ جامعہ نظامیہ رضویہ(اندرون لوہاری گیٹ) لاہور میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو ”یسرناالقرآن“ قاعدہ پڑھاتے تھے اور قاری حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے چچا زاد بھائی) قرآن مجید کی کلاس سنبھالتے تھے باقی شعبہ جات دوسرے علماء کرام کے پاس تھے، قاری حنیف صاحب کو جامعہ نظامیہ رضویہ تک لے کر جانے کا سہرا علامہ مولانا محمد علی نقشبندی (بانی جامعہ رسولیہ شیرازیہ) کے سر ہے۔ قاری محمد احمد بخش ملتانی نے تقریباً چودہ برس تک جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کا فریضہ سرانجام دیا آپ کے شاگردوں میں کئی جید علماء کرام کے نام شامل ہیں۔
    بڑے استاد جی نے دربار شاہ محمد غوث رحمۃ اللہ علیہ (سرکلر روڈ) کے ساتھ ملحقہ مدرسہ میں چند سال قرآن پاک پڑھایا پھر  داتا دربار اور بھاٹی گیٹ کے درمیان میں واقع جامعہ حنفیہ غوثیہ میں  1992ء تک تدریس فرمائی ۔ اسی دور میں داتا دربار کمپلیکس کی توسیع ہوئی اور جامعہ حنفیہ غوثیہ کو وہاں سے ہٹا دیا گیا لیکن اللہ کی قدرت دیکھیے کہ ایک نیک صالحہ خاتون ”عنایت بی بی“ نے  دربار کی عقبی جانب کچا رشید روڈ پر ” جامعہ حنفیہ عنایت صدیق “ قائم کروا دیا تھا اور استاد جی یہاں منتقل ہوگئے اور آخری دم تک اسی جامعہ  کے مہتمم اعلیٰ رہے۔
میں نے جامعہ عنایت صدیق میں سن 2001ء کے اوائل میں حفظِ قرآن  کے لیے داخلہ لیا مجھے جامعہ میں داخل کروانے کی سعادت میرے ابو کے ایک جاننے والے محمد سعید عالم کے حصے میں آئی، انکل سعید داتا دربار کے قریب بابا فرید روڈ پر  ایک گرم حمام چلاتے تھے اور وہ خود ایک بہترین حجام تھے  میرے ابو  کو شاید  معلوم تھا کہ یہ صاحب اس مدرسے کے استادجی کے واقف کار ہیں لہٰذا انکل سے رابطہ کیا گیا انہوں نے  بڑےاستاد جی سے بات کی اور داخلہ ہوگیا جو کہ پہلے مسترد ہوچکا تھا، جناب محمد سعید عالم 8 اپریل 2013ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے، تاہم میں  اُن کا یہ داخلے والا احسان کبھی نہیں چُکا سکتا۔ ان کے بیٹے  حافظ ایثار عالم آج بھی وہ دوکان چلا رہے ہیں اور میرے گہرے دوست ہیں۔ میں سن 2004ء اواخر تک اس جامعہ میں پڑھتا رہا، میرے اُستاد جی قاری محمد صدیق احمد صاحب ہیں آپ ، قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے  اور قاری محمد خلیل احمد صاحب  چھوٹے بیٹے ہیں۔ بڑے اُستادجی نے اپنی  بیٹوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے آراستہ کیا اور وہ بھی خدمتِ قرآن میں  مصروف رہے۔ میں نے بڑے اُستاد جی سے تقریباً چار مرتبہ سبق  پڑھاہوگا اور قاری خلیل صاحب سے بھی کئی مرتبہ سبق پڑھا تھا لیکن میں باقاعدہ قاری محمد صدیق احمد صاحب کی کلاس میں پڑھتا رہا اور انہی کے پاس  حفظِ قرآن پاک مکمل کیا۔
بڑے استاد جی کی زندگی کے تقریباً ساٹھ شمسی سال خدمتِ قرآن میں بسر ہوئےجو اپنی قبولیت کی سند آپ ہیں۔ آپ کو با آوازِ بلند سنائی دیتا تھا لیکن مجال ہے کہ کبھی کوئی طالب علم آپ کو قرآن مجید کا سبق سنا رہا ہو اور وہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی کرجائے حتیٰ کہ کبھی بھی ع،غ یا شین، قاف کے مخرج کی ادائیگی میں بھی کوتاہی  نہ ہونے دیتے۔ آپ ہر طرح کے تجوید کے قواعد کی پابندی کرواتے مثلاً غنہ، مد، ادغام، اقلاب، اخفا اور اظہار کو نظر انداز کرکے آپ کو قرآن پاک کا سبق نہیں سنایا جاسکتا تھا ۔ آپ نے ایک سادہ زندگی بسر کی اور پوری دلجمعی سے اپنے کام میں مگن رہے آپ کے ابتدائی شاگردوں میں قاری عبدالعزیز، قاری لیاقت علی، قاری محمد اسلم (انگلینڈ)، شیخ محمد اسماعیل( اعظم کلاتھ مارکیٹ لاہور)، حافظ محمود اختر، حافظ محمد طاہر، قاری عطا محمد (سمن آباد لاہور)، قاری سید عاشق حسین شاہ اور موہنی روڈ سے تعلق رکھنے والے صداقت علی کے علاوہ دیگر کئی حفاظ اور قاریوں کے نام ہیں۔
قاری محمد احمد بخش ملتانی نے صحیح معنوں میں اپنی جوانی کو قرآن پاک کی تدریس کے لئے صرف کیا اور محنتِ شاقہ کے ساتھ بہترین حفاظ کرام کے گلدستے اس قوم کی نذر کیے۔ میں نے آپ کی آخری زیارت 2015ء والے عرسِ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ کے موقع پر کی تھی ، سن 2016ء کی 23 جنوری کو آپ کا وصال ہوگیا  اور آپ اپنے آبائی قصبے ”لڈن“ میں آسودۂِ خاک ہیں، اللہ عزوجل آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے۔

منگل، 29 مارچ، 2016

صورت حال کا جائزہ اور حل

میں نے اکثر دوستوں کے خیالات کا مطالعہ کیا، خبریں دیکھیں (written) کالم دیکھے اور زمینی حقائق کا ادراک کیا
لیکن اُسے بیان کرنا فضول سمجھتا ہوں
کیونکہ مجھے شُبہ ہے کہ لوگ صرف اپنی ”جھوٹی انا“ کی پُوجا کرنا چاہتے ہیں یہ شاید میرا نیا فلسفہ ہے کہ ”سچی انا“ کی پُوجا شاید درست ہو، لیکن یہ ”جھوٹی انا“ کی پوجا کیا وقعت رکھتی ہے؟
کچھ لوگ مصوری یا افسانہ نگاری میں پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں، جبکہ میں ابھی ”راہی“ ہوں۔
اچھا! احباب کا ایک یہ عظیم المیہ ہے کہ وہ ٹی وی دیکھ دیکھ کر ”آپ کی کیا رائے ہے؟“ کے عادی ہو چکے ہیں لہٰذا وہ مجھے بھی یہی کہتے ہیں کہ ”رائے“ دو۔
دوستوں سے گزارش ہے کہ میرے فلسفے کو سمجھنے کی کوشش کریں، میں روزانہ کئی لوگوں سے کہتا ہوں، ”Learn to control your mind“ کہ اپنے خیالات پر قابو پانا سیکھیں۔
اگر لوگوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہونے کی ”مہم“ جاری رکھی گئی تو کچھ بھی ہاتھ نہیں آنے والا، اپنے ذہن کو کنٹرول کرنا سیکھیں
اپنی زندگی میں سے کچھ الفاظ یعنی اعمال کا خاتمہ کر دیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ ”ردعمل“
2۔ ”پریشانی“
3۔ ”ٹھیکے داری“
4۔ ”تناؤ یعنی Tension“
5۔ ”نصیحت کرنا یعنی مشورہ دینا“
6۔ ”استحصال“
7۔ ”تاثر لینا“
ہمیں چین کیوں نہیں پڑتا؟ سکون کیوں نہیں مل رہا؟
کیونکہ
1۔ ہم فوراً ردعمل دیتے ہیں اور فوراً ردعمل چاہتے ہیں۔
2۔ ہم کہہ دیتے ہیں کہ یار بڑی پریشانی بن گئی ہے۔
3۔ ہم اسلام، پاکستان، پاک فوج، اپنی سیاسی جماعت، اپنے مذہبی فرقے، اپنی سماجی سوچ، اپنے صوبے، زبان، مٹی، قوم، ذات، برادری، کرکٹ ٹیم، اور کچھ دیگر معاملات کے ٹھیکے دار بن جاتے ہیں جبکہ ہم ان میں سے کسی ایک بھی شعبے کے ماہر نہیں ہوتے، دراصل ماہر ہی ”رائے“ پیش کرسکتا ہے۔
4۔ ٹینشن کا لفظ ایک لعنت کی طرح گلے کا طوق بنا رکھا ہے۔
5۔ سوجھ بوجھ ہوتی نہیں اور غیر شعوری طور پر ”مشوروں کی مشین“ بنے ہوئے ہیں۔
6۔ ہم استحصال یعنی ”بے غیرتی“ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
7۔ ساتویں غلط چیز یہ کہ ہم کسی بھی ”تیسرے درجے کے“ واعظ، شاعر، ادیب، کالم نگار، ٹی وی اینکر، ادکار، گلوکار، کھلاڑی، سیاست دان، ڈاکٹر، پروفیسر، تجزیہ کار اور دیہاڑی دار کو قوم و ملت، اسلام اور پاکستان کی ”ناک“ کا ٹھیکے دار سمجھتے ہوئے اس سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں، بالکل اسی جلدی سے اس کے کسی ناپسندیدہ عمل پہ سختی کے ساتھ ”ردعمل“ پیش کرتے ہیں۔
اب حل کیا ہے؟
1۔ خود کو آئینے میں دیکھ لینا چاہیے
2۔ کبھی کبھی سچ بول دینا چاہیے (جب دل نہ چاہے)
3۔ بعض اوقات سچ مان بھی لینا چاہیے۔
4۔ اپنی غلطی تسلیم کرکے سر تسلیم خم کر دینا چاہیے۔
5۔ اپنا محاسبہ کرنا چاہیے
6۔ صبح کی سیر کرنی چاہیے
7۔ اپنی زندگی کو منظم طریقے سے گزارنا چاہیے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
منہ سے وہی الفاظ نکالیں، جن پر پہرہ دے سکیں، ایک بات کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچیں اور سوچنا یہ ہے کہ اس بارے میں اصلی ”ماہرین“ کی کیا رائے ہے اگر آج وہ یہاں ہوتے تو کیا رائے پیش کرتے۔۔۔ ورنہ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ ٹھیکے دار نہ بنیں۔ دوستوں سے (سچ سچ) کہہ دیں کہ.. میری یاداشت کے مطابق۔۔۔Hmmmm۔۔۔۔۔ فلاں صاحب جو اس موضوع کے ایکسپرٹ ہیں انہوں نے فلاں پلیٹ فارم پر اس طرح کے سوال کا یہ جواب دیا تھا
اب وہ ”رائے“ کی ٹھیکے داری آپ نے اپنی گردن سے اتار کر ”ایکسپرٹ صاحب“ کے کھاتے میں ڈال دی۔ جب کوئی اختلاف کرے گا تو آپ سے نہیں بلکہ اُس تیسرے بندے کی رائے سے کرے گا۔
اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ”اہلِ علم“ کا کاوش کا احترام بھی ہوجاتا ہے، آپ اپنا مطالعہ بھی وسیع کرلیتے ہیں اور دوسرے کی رائے سُن لینے کا حوصلہ بھی آجاتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایسے محقق لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیں جو شروع شروع میں آپ کو سُست اور مدھم اندازِ تحریر کی نظر آئیں
جب آپ دیکھیں گے کہ یہ بندہ ہزاروں کتابیں پڑھ کے بھی ”ماہرین“ کی مختلف آراء کو لکھ رہا ہے تو ذہن سوچے گا کہ میں ہمیشہ ایک ہی رائے سے ”ہٹ دھرم“ بن کے کیوں جُڑا رہتا ہوں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خاموشی بہترین حل ہے، ایک وقت کے بعد غلط رائے رکھنے والے کو درست صورت حال کا علم ہوجاتا ہے اور وہ مان بھی لیتا ہے
لیکن
اگر آپ نے اُسے غلط مؤقف نہ بھولنے دیا تو آپ اُس کے ساتھ ظلم کررہے ہیں یعنی اگر وہ کل تک سمجھتا تھا کہ فلاں صاحب کی ”رائے“ اتنی اہم ہوتی ہے کہ اُسے آنکھیں بند کرکے مان لینا چاہیے (جبکہ آپ کے خیال میں یہ ایک فضول چیز تھی اور آپ سچے بھی تھے) پھر بھی آپ خاموش رہیں، اسی میں بھلائی ہے، اب وہ دوست چھ ماہ کے بعد آ کر کہہ دے کہ ”نہیں بھئی اُن صاحب کی تحقیق ناقص ہے“ تو آپ اپنے دوست کو پھر بھی کچھ نہ کہیں۔
اُسے خاموشی اور سنجیدگی سے سُن لیں، کسی کی بات سُن لینا ایک اچھا عمل ہے، اس سے سُنانے والے کے دل میں آپ کے لئے محبت پیدا ہوتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب کبھی آپ کو محسوس ہو کہ آپ کی بات، رائے، نظریے کو چیلینج کیا گیا ہے تو سوچ لیں کہ شاید کوئی غلطی ہوگئی ہے، اپنی دوبارہ اصلاح کا سوچ لیں اور دل میں عہد کریں کہ اس متعلق مزید تحقیق کرنی ہوگی اور سامنے والے سے کہیں کہ سر! میں اس پر ”غور و فکر“ کروں گا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگر کتا انسان کو کاٹ لے تو انسان اُسے جواباً کاٹتا نہیں ہے
لہٰذا
اگر آپ کو دکھائی دے کہ فلاں بات آپ کو ہضم نہیں ہونے والی تو وہاں سے کنارہ کش ہوجائیں، اچانک آپ کو اپنے فرائض منصبی یاد آجانے چاہئیں اور اپنی ڈیوٹی کی جگہ کی طرف دوڑ لگا دیں اگر شام کا وقت یعنی فرصت کا وقت ہے تو کسی مثبت سرگرمی کی طرف متوجہ ہوجائیں، ایسے واعظ سے اجازات لیں، خود کو جھوٹا کہہ کر امن کی پٹڑی پر گامزن ہوجائیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فیس بک پر صرف یادگار لمحات کی تصاویر اپلوڈ کریں اور کسی بھی قسم کی جذباتی پوسٹ کو ”Hide Post“ کے آپشن سے چھپا دیں۔
ناسمجھ افلاطونوں کو ”un-follow“ کر دیں۔
خبر کی تعریف ”Definition“ سے ناواقف لوگوں کی تحریر اور پوسٹ کو فضول سمجھ کر چھپا دیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نتیجہ کوئی چیز نہیں ہوتا اصل چیز محنت ہوتی ہے
پھل کوئی نہیں ہوتا اصل چیز صبر ہے
اختتام کبھی نہیں ہوتا، جہد مسلسل اصل چیز ہے
ثابت کچھ نہیں ہوتا، دلیل پیش کرتے رہیں
ڈگری کوئی سند نہیں ہوتی، مطالعہ اصل چیز ہے
الجھنے سے کچھ نہیں ملتا، سمجھ لینا مطلوبہ عمل ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اٹھائیس مارچ 2016ء کی صبح تین بج کر 17 منٹ پر مکمل کیا۔ عبدالرزاق قادری

بدھ، 16 مارچ، 2016

The Way of Ahl al Sunnah- راہِ اہل سنت

مسلمانوں کے سب سے بڑے گروہ کو اہلسنت یا اہلسنت والجماعت کہا جاتا ہے عربی میں اسے  أهل السنة والجماعة یا أهل السنہ والجماعہ لکھا جاتا ہے برصغیر میں اسے اہلِ سنت و جماعت یا جماعتِ اہلسنت بھی کہتے ہیں  اہلسنت سے تعلق رکھنے والے لوگ مختصراً سنی بھی کہلاتے ہیں دنیا میں کسی بھی دینی طبقے کی یہ سب سے بڑی جماعت ہے اہلِ اسلام میں سے 75 فی صد تا 80 فیصد لوگ اہل سنت کے عقائد رکھتے ہیں، سن 2010ء میں پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے کئے گئے اور جنوری 2011ء میں پیش کئے گئے ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں 1.62 ارب مسلمان موجود ہیں اور یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ان میں سے سنی آبادی   75 سے 90 فیصد کے درمیان ہے،اس اصطلاح کو مسلمانوں کے روایتی مذہب کو ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سنی اصطلاح لفظ سنت ( عربی : سنة ) سے ماخوذ ہے جس سے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے اقوال و افعال مراد ہیں اہلسنت کے چاروں فقہی مذاہب قران مجید اور حدیث پاک کی روشنی میں اپنے راسخ عقائد پر قائم ہیں اور فقہ کی تشریح کے لئے انہی بنیادی ماخذ پر انحصار کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ چاروں ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ علیہم اجمعین نے صحابہ کرام کے اجماع اور قیاس سے بھی مختلف فیہ مسائل کے حل تلاش کرکے امتِ مسلمہ پر احسانِ عظیم فرمایا ہے۔ اہل سنت سے مراد ہے نبی پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والے اور جماعت سے مراد، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کے نقش قدم پر چلنے والی جماعت ہے یعنی سنی وہ ہوتا ہے جو آقا کریم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرے اور آپ کے صحابہ کی جماعت کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہو۔
مسلمان علماء جنہیں اہل سنت کہا جاتا ہے انہوں نے چودہ صدیوں سے اسلام کے عقائد، احکام اور نواہی پر ہزاروں کے حساب سے مستند اور قابل قدر کتابوں کو لکھا اور مسلمانوں کی خدمت کرنے کا حق ادا کیا۔ ان میں سے بہت سی کتب کو آفاقی اور لازوال مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کا دنیا بھر میں کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور اسلام کا پیغامِ علم و معرفت، حکمت و الفت کے ساتھ پوری دنیا میں پہنچا۔ دوسری جانب دین دشمن ، علماء سوء  نے مسلمانوں کے اعتقادات اور مفادات پر بُری طرح سے حملہ کیا ، علماء اہل سنت کو بدنام کرنے کی سازشیں کیں،اور اسلامی تعلیمات کو تبدیل کرنے کی ناپاک کوششیں کیں مسلمانوں اورلادینی قوتوں کے درمیان اس طرح کی کشمکش  ہر صدی میں رہی ہے اور رہتی دنیا تک جاری رہے گی یہ مشیت ایزدی جو ٹھہری۔
مسلمان علماء (خواص) اور عوام پر مشتمل ہیں۔ عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جو  عربی گرائمر اور ادب کے قوانین نہیں جانتے، وہ فتاویٰ جات کو سمجھنے سے قاصر ہیں ان کے لئے لازم ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی عقائد  سے متعلقہ علوم اور عبادات کو سیکھیں۔ دوسری جانب علماء کرام کا فرض ہے کہ وہ  تحریر و تقریر کے ذریعے پہلے  اسلام کے بنیادی عقائد اور پھر عبادات کے پانچ بنیادی ستون  اور شریعت کے قوانین دنیا کو سکھائیں جو ایمان کی بنیادی باتوں اور عقائد اہل سنت بنیادی اہمیت کے حامل ہیں یہی وجہ ہے کہ عظیم مسلمان علماء جو کہ بہت سے علو م و فنو ن کے ماہر رہے انہوں نے برسوں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل سنت کے عقائد کی تبلیغ فرمائی جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔اہل سنت علماء اپنی تحریر و تقریر سے  ہمیشہ بنیادی اسلامی عقائد اور بہترین اخلاقیات کی تعلیم دیتے آئے ہیں، اور اسلامی ریاست کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مدد کرنے کا جذبہ ابھارتے چلے آئے ہیں۔ اہل سنت علماء نے، دین سے بے خبر ایسے لوگوں کی تحریروں کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی جو  مسلمانوں کو ورغلاکر ان کے ملک کے خلاف کرتے ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین تلواروں کے سائے میں ہے، کیونکہ اگر اسلامی ریاست مضبوط ہو تو لوگ اس میں زیادہ امن اور خوشی سے رہ سکتے ہیں اسی لیے مسلمان اپنی ریاست اور اس کے قوانین کی حفاظت میں با آسانی زندگی بسر کرسکتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح جن غیر اسلامی  ممالک میں مسلمان آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنے مذہبی فرائض بجا لانے میں آزاد ہیں وہ وہاں کے قانون کی پابندی کرتے ہیں اور فتنہ پرور عناصر کے شر سے اپنا دامن بچا کر رکھتے ہیں ان کے لئے اہلسنت وجماعت کے علماء کی طرف سے  یہ ایک پیغام ہے  کہ انہیں ایسے فتنہ پرور عناصر سے خود کو دور رکھنا چاہئے جو ہمہ وقت مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرتے ہیں اور اقوام عالم میں مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ صد شکر ہے کہ مشاہدے کی بات ہے   کہ تقریباً  تمام مسلم ممالک میں دینی رہنما اہل سنت کے اس درست راستے کو اپنانے کی تبلیغ  اور اس کا دفاع کرنے میں کوشاں رہے ہیں۔  تاہم، چند جاہل قسم کے لوگ، جنہوں نے یا تو علماء اہل سنت کی کتب کو پڑھا نہیں یا سمجھا نہیں، وہ کچھ زبانی یا تحریری بیان جاری کرتے رہتے ہیں، حالانکہ ان کی جاہلانہ اور دھوکہ دہی والی باتیں مسلمانوں کا ایمان برباد کرنے اور باہمی منافرت پھیلانے کے سوا کوئی کام نہیں دیتیں۔ مسلمانوں میں گھسی ہوئی نقصان دہ علیحدگی پسند تحریکیں علم الحال کی کتب اور اہل سنت کے  عظیم علماء ا ور صوفیاء کو بدنام کی کوششیں کرتی رہتی ہیں، اہل سنت کے علماء نے ان کے مسکت جوابات لکھے ہیں اور قرآن و حدیث سے ثابت شدہ دین کی حفاظت کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے جس کو تبدیل کرنے کی کوشش بے دین کرتے ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

یہ مضمون 2014ء میں لکھا گیا۔ عبدالرزاق قادری

جمعرات، 18 فروری، 2016

ایک کہانی تین نسلوں کی!!!

گزشتہ دنوں میں نے ضلع فیصل آباد کا سفر کیا، وہاں چک نمبر 70 ر۔ب ”گجر سنگھ والا“ میں میری ایک خالہ رہتی تھی، جو سن 2006ء میں اگلے جہاں سدھار گئیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ میری والدہ بھی اسی گاؤں میں (تقریباً 1962ء میں) پیدا ہوئی تھیں ، پنجابی زبان میں والدہ کے میکے کو ”نانکے“ اور اردو میں ننھیال کہا جاتا ہے۔ میرے ننھیال نے تقریباً 1970ء  میں ضلع وہاڑی کی طرف ہجرت کی۔ کچھ وجوہ کی بنا پر انہیں نقل مکانی کرنا پڑی۔اور پھر وہاں سے بھی چھوڑ کر ضلع لیہ میں ایک گاؤں میں تھوڑا عرصہ گزارنے  کے بعد چک نمبر 475 ٹی ڈی اے میں اپنی زمین خرید لی اور وہیں رہنے لگے۔ 
میرے ابتدائی بچپن میں، سب سے خوشی کی بات میرے ننھیال  کے ہاں جانا تھا ( شاید آج بھی ہے)،  تب ہم ضلع وہاڑی کے ایک گاؤں چک نمبر 174 ڈبلیوبی ”راجو“ میں رہتے تھے، میری پیدائش بھی وہیں کی ہے۔ ہم نے 1990ء یا 1991 میں ضلع لیہ کے ایک گاؤں میں نقل مکانی کی، یہ چک نمبر 349 ٹی ڈی   اے”رحمان آباد“  تھا۔ سن 2000ء کے 12 اگست  کو میں لاہور آیا اور یہیں کا ہوکر رہ گیا۔
5 فروری 2016ء کو میں اپنی مرحوم خالہ کے گھر والوں سے ملنے  فیصل آباد گیا تھا، اس تصویر میں  میرے خالو کو بائیں جانب دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا نام شیر ہے۔ درمیان میں ان کے بیٹے، ایم بوٹا شاہین اور دائیں طرف مسٹر عقیل (بوٹا شاہین کا بیٹا) موجود ہے۔ میرے خالو  1947ء کی خونی ہجرت کے چشم دید گواہ ہیں جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان کی عمر اس وقت 13 یا 14 سال تھی  اور آگ اور خون کے منظرنامے میں اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑ کر ایک قافلے کے ساتھ آئے تھے۔ ایم بوٹا  شاہین نے ایک مزدور کے طور پر 2 دہائیوں  تک ٹیکسٹائل ملز میں  مزدوری کی اور اب وہ اپنے گھر کے ایک کمرے میں  کریانہ(پرچون)  کی ایک چھوٹی سی دکان چلا   رہے ہیں۔ عقیل صاحب اب سکول میں تعلیم حاصل نہیں جاتے، حالانکہ وہ ایک بچہ ہے۔پاکستان میں اس لالچی معاشرےکے غلیظ نظام میں مناسب طریقے سے  تعلیم حاصل کرنے کے لئے، ایک بچے  کو بہت سے”مسائل“  سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے، جن میں سے کچھ کا اظہار ایک فلم ”تارے زمیں پر“ میں کیا گیا ہے۔
یہ تصویر 6 فروری 2016ء کو میں نے کھینچی ہے۔ عبدالرزاق

A Journey of 3 generations!!!

Recently, I've visited the district of Faisalabad, where my Khala (sister of
my mother) used to reside and she died in 2006. The village is called 'Gujjar Singh Wala 70/RB'. 
It is guessed that My mother was born in the same village (nearly) about 1962. Mother's parents are called "naankay" in Punjabi & "Nannhiyaal" in Urdu Language. My 'naankay' migrated from Gujjar Singh Wala to District Vehari (about 1970) & then to Layyah.They were farmers. Because of some reasons they had to move from the district of Faisalabad. They changed their residence twice in different villages in Layyah & Finally got their own Land in Chak no 475/TDA.
In my early childhood, the happiest thing was to visit my 'naankay-village'. My father's family lived in Chak no 174/WB in district Vehari. I was born their & our family migrated to District Layyah (Chak no 349/TDA) about 1990 or 1991. I came in Lahore on 12th of August in 2000 AD and I'm living here for last 15 & half years.
On 5th of February, 2016 I went to see the family members of my late Khala (sister of my mother). In this picture her husband (an old man) can be seen in left. His name is Shear. In the mid there is his son, M Boota Shaheen and on right hand side Mr Aqeel (Son of Boota Shaheen).
My Khalu (uncle) Shear is an eye witness of bloody migration of 1947, when Pakistan was made. He was a boy of 13 or 14 years at that time. He left his 'Hometown' with a Caravan in the scenario of Blood and fire.
M Boota Shaheen had been working in Textile Mills for 2 decades as a laborer. Now, he is running a small shop of Grocery (in Retail) in a room of his house.The young boy Mr Aqeel is not studying anymore in school, although he is a child yet.
There are many "problems" in Pakistan for a child to study properly in the filthy system of this greedy society. One can understand the issues by watching the movie 'Taare Zameen Par'.
 
The picture was taken in the morning of 6th of Februry, 2016 by me.
Abdul Razzaq​

جمعہ، 12 فروری، 2016

Progress Report and Feedback of Tyara

Tyara is one of our bright students residing in Perth, Australia. She started her lessons with us (E Learning Holy Quran) from 30th of January, 2013 with Arabic alphabets in Basic Book. After this book she read last two parts of Quran & 4 and half parts from right side.  At the end of 2013 she had a break for a short while, then came back in beginning of 2014 once again. She has learned Namaz (Salaat) and other necessary stuff about Islam. She also was taught a little bit Arabic grammar & some of the translation(s) of Quranic Text.
She is reading Surah al-Saffaat in part no 23, which is (in fact) 25th part for her. Now, 5 and half parts (out of 30 parts) are left more. Hopefully, she will be able to complete her Quran reading (for first time) at the end of April 2016, In-Sha-Allah.
Tyara has written and shared her experience with us, have a look at the feedback given below:
“Mr Abdul Razzaq Qadri has been my Quaranic Studies teacher for a few years now. This began firstly through the E-Learning Holy Qu’ran website which employed many teachers to teach the Qu’ran to students across the globe despite the company being based in Pakistan. This method proved very convenient and effective in fitting in these lessons with school and so when the company discontinued my parents and I struggled with finding a suitable replacement in terms of teaching abilities and convenience, so when he approached us again saying that he would be continuing his teaching online, we were very happy. During my lessons with Mr Abdul Razzaq Qadri I have not only been able to learn how to correctly pronounce sounds in the Arabic language (a language that I previously did not know how to read or speak) that helps me read more fluently, but also along with reading, I have learnt the meanings and stories behind each page I read. This gives me a purpose in reading the Quran as it helps me learn more in depth about my religion instead of just aimlessly reading something I don’t understand. If I ever need an explanation on a translation I don’t understand, his excellent English skills helps me understand it. I am a student fortunate enough to live in a country like Australia where we have very few Internet issues, and so sometimes we face net issues that occur over there but despite this, he does his best to keep the lessons going and if need be, arranges a suitable time for a make-up lesson which means you get the full value of your money.  Over all he is a very kind teacher who offers constructive criticism and possesses great abilities in teaching.”

Progress Report and Feedback of Tyara

Tyara is one of our bright students residing in Perth, Australia. She started her lessons with us (E Learning Holy Quran) from 30th of January, 2013 with Arabic alphabets in Basic Book. After this book she read last two parts of Quran & 4 and half parts from right side.  At the end of 2013 she had a break for a short while, then came back in beginning of 2014 once again. She has learned Namaz (Salaat) and other necessary stuff about Islam. She also was taught a little bit Arabic grammar & some of the translation(s) of Quranic Text.
She is reading Surah al-Saffaat in part no 23, which is (in fact) 25th part for her. Now, 5 and half parts (out of 30 parts) are left more. Hopefully, she will be able to complete her Quran reading (for first time) at the end of April 2016, In-Sha-Allah.
Tyara has written and shared her experience with us, have a look at the feedback given below:
“Mr Abdul Razzaq Qadri has been my Quaranic Studies teacher for a few years now. This began firstly through the E-Learning Holy Qu’ran website which employed many teachers to teach the Qu’ran to students across the globe despite the company being based in Pakistan. This method proved very convenient and effective in fitting in these lessons with school and so when the company discontinued my parents and I struggled with finding a suitable replacement in terms of teaching abilities and convenience, so when he approached us again saying that he would be continuing his teaching online, we were very happy. During my lessons with Mr Abdul Razzaq Qadri I have not only been able to learn how to correctly pronounce sounds in the Arabic language (a language that I previously did not know how to read or speak) that helps me read more fluently, but also along with reading, I have learnt the meanings and stories behind each page I read. This gives me a purpose in reading the Quran as it helps me learn more in depth about my religion instead of just aimlessly reading something I don’t understand. If I ever need an explanation on a translation I don’t understand, his excellent English skills helps me understand it. I am a student fortunate enough to live in a country like Australia where we have very few Internet issues, and so sometimes we face net issues that occur over there but despite this, he does his best to keep the lessons going and if need be, arranges a suitable time for a make-up lesson which means you get the full value of your money.  Over all he is a very kind teacher who offers constructive criticism and possesses great abilities in teaching.”

جمعرات، 14 جنوری، 2016

کچھ بانی نوائے منزل کے بارے میں: محمد کامران اختر۔ ایک ہمہ جہت شخصیت

تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ملتے ہیں جو علم دوست ہوں اور ساتھ ساتھ اچھے منتظم بھی ہوں، ہمارے زمانے میں تعلیم حاصل کرنا، علوم تک رسائی حاصل کرنا، اپنے لئے روزگار کے مواقع تلاش کرنا اور معاشرے میں ایک کامیاب فرد کی حیثیت سے خود کو منوانا ایک معرکے سے کم نہیں ہے ۔ لہٰذا اس نفسا نفسی کے دور میں کامیابیوں کے راستے میں جہاں رہنمائی کا فقدان ہے وہاں کسی ابھرتے ہوئے ستارے سے حسد کرنے والے اور اس کے راستے میں روڑے اٹکانے والوں کی کمی نہیں ہوتی۔ آج میں اپنے دور کے ایک کامیاب انسان کی زندگی کے چند گوشوں کو احاطہء تحریر میں لانے کی کوشش کروں گا، میری مراد ماہنامہ نوائے منزل لاہور کے چیف ایڈیٹر اور کیڈٹ کالج  سکردو کے لکچرر (اردو) جناب محمد کامران اختر ہیں۔ جیسا کہ ان کی اور میری پہلی ملاقات کا تفصیلی احوال ایک بار نوائے منزل میں چھپ چکا ہے لہٰذا اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی میں اس تعارفی کہانی کو سن 2009ء کے اکتوبر ہی سے شروع کروں گا۔ اس وقت کامران صاحب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی۔اے (ماس کام) کے تیسرے سمسٹر میں زیرِ تعلیم تھے اور ایک مقامی اکیڈمی میں پڑھانا شروع کررکھا تھا، 2010ء میں میرے بی۔اے کے امتحانات بھی ہونے والے تھے،لیکن جناب کا دعویٰ ہے کہ وہ مجھ سے چھوٹے ہیں ان کی ذہنی پختگی دیکھ کر کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ وہ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔ بہرحال سن 2010ء سے ماہنامہ نوائے منزل کا آغاز ہوا،یہ نومبر کا مہینہ تھا۔ رجسٹریشن کے قواعد و ضوابط کے مطابق میگزین کی پہلی اشاعت اکتوبر سے شروع ہوجانا لازمی تھی لہٰذا پہلے رسالے کو دونوں مہینوں کا اکٹھا رسالہ متصور کیا گیا اور اس کی پیشانی پر اکتوبر، نومبر 2010 لکھا گیا۔
کامران نے میٹرک کے بعد کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم کا ایک ڈپلومہ کر رکھا تھااور بی ۔اے سے پہلےڈی۔ کام، سی۔کام کیا ہوا تھا اور بی۔اے کے ساتھ ساتھ وہ ہومیو پیتھی کا کورس (DHMS) بھی کررہے تھے بلکہ ایک مقامی کلینک میں اس کی پریکٹس کے لئے بھی جاتے۔ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم انہوں نے میانوالی کے کسی کالج سے حاصل کی تھی اور ان کےبقول وہاں کے مقامی اخبارات سے انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا۔ اپنا ایک رسالہ شائع کرنا اُن کا ایک دیرینہ خواب تھا جس کی تعبیر انہوں نے دیکھ لی، وہ صحافت کو ایک مقدس مشن قرار دیتے ہیں جبکہ اسے ایک پیشہ بنا لینے والوں سے تھوڑا سا شکوہ کناں بھی ہیں۔ 2012ء میں جب میں ایم۔اے اردو کی تیاری کررہا تھا تو کامران نے مجھے ایک بار کہا کہ ہائی سکول کی تعلیم کےدوران، میں ایک ڈائری نما کتاب لکھتا تھا جس کا نام ”ادب ِاختر“ تھا، قادری صاحب! اگر آپ اس کتاب میں لکھے تمام الفاظ کے معانی بتانے کا دعویٰ کرسکتے ہیں تو میں آپ کو ایم۔اے اردو پاس قرار دے سکتا ہوں۔ اُس وقت وہ کتاب لاہور میں موجود نہ تھی لیکن مجھے معلوم تھا کہ میں اُس میں درج تمام اردو الفاظ کے معانی بتانے کا اہل نہ تھا، میں نے کامران سے کہا کہ ایم۔اے اردو میں الفاظ معانی نہیں ہوتے (کامران صاحب ان دنوں ماس کمیونیکیشن میں ایم۔ ایس۔ سی کا آغاز کر چکے تھے)، انہوں نے کہا کہ جو بھی ہے اگر آپ اُس کتاب کی وضاحت کردیتے تو میں آپ کو آج ہی ایم۔ اے اردو پاس مان لیتا۔ درحقیقت کامران اختر کی اردو کافی  اچھی ہے جس کا ہمیں پورا پورا اعتراف ہے، وہ بولتے بھی اردو ہیں۔ ہم چونکہ پنجابی بولنے والے ہیں لہٰذا ہمارے لئے اردو بولنا ایک فیشن ہے لیکن کامران کے لئے یہ عادت ہے۔ ویسے بھی ان کی مادری زبان اٹک کی پوٹھوہاری یا اسی طرح کا کوئی لہجہ ہے لیکن کبھی کبھی وہ ماجھی لہجہ بھی اچھا بول لیتے ہیں اور سرائیکی وغیرہ کے لہجوں سے بھی سمجھ لینے کی حد تک مانوس ہیں البتہ ہمارے سادہ لوح دوست انہیں ایک پٹھان سمجھتے ہیں جبکہ شاید کامران کو پشتو زیادہ نہیں آتی ہو، پچھلے دو سال سے ان کے کالج کے رفقاء میں پختون لوگ ایک بڑی تعداد میں ہیں اس وجہ سے ہوسکتا ہے کہ روزمرہ کے چند ایک الفاظ آتے ہوں۔
کامران نے میرے دیکھتے ہی دیکھتے ایم۔اردو بھی کھڑکا لیا اور لاہور سے سکردو کو جست بھرلی، ماس کام بھی ہوگیا، ڈی ایچ ایم ایس کے بعد بی ایڈ بھی کرلیا۔ لاہور کے چند نامور سکولوں میں تدریس بھی کرلی جس کا آغاز لاہور سکول آف ایکسیلینس سے ہوا تھا پھر لاریل بینک سکول اور آخر میں کِپس میں بھی تدریس کرلی۔ ان سکولز کے علاوہ کئی اکیڈیمیز میں بھی تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے اور پھر ایک دن بستہ باندھ کر شمالی علاقہ جات کی طرف چل نکلے اور کوہِ ہمالیہ اور کوہِ قراقرم کے سنگھم پر جا کر رُکے۔ چین کے ہمسایہ ہونے کے باوجود کامران صاحب پاک سرزمین میں تدریس کرتے ہیں انہیں حب الوطنی کا جذبہ گھٹی میں ملا ہے ان کی اتنے طویل فاصلے پر جدائی مجھے تڑپاتی ہے، مجھے وہ کامران بھی یاد جسے لوگ صرف اس لئے بلانا چھوڑ دیتے تھے کہ مبادا کھانا کھلانا پڑ جائے گا۔ اور وہ کامران بھی یاد ہے جس کے لئے لوگوں کے دروازے آج ایک عرصے سے منتظر ہیں، اور آج لوگ کامران سے اُدھار لینا بھی فخر سمجھتے ہیں۔ شاید میرے لئے ان کی لاہور میں موجودگی ایک ٹرانسفارمر یا مہمیز کا کام دیتی ہے جب یہ سکردو چلے جاتے ہیں تو میرا لکھنے کا تخلیقی کام رُک جاتا ہے جب سردیوں میں یہاں تشریف لاتے ہیں اور میں پٹڑی پر آنے لگتا ہوں تو یہ پھر پرواز کر جاتے ہیں۔ زندگی ایک ”چڑیوں کا چنبہ“ ہے جس میں ہر کسی کی ایک لمبی "اڈاری“ ہوتی ہے۔ لیکن ایک بار اڑان بھر لینے والے کو کون روک پایا ہے، موت تو بار بار کی جدائی سے پڑتی ہے۔ جب کامران اختر لاہور سے نکل کر سکردو کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو دل کئی وسوسوں کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ اکثر ان پہاڑوں کی طرف جانے والے راستوں میں ہی دفن ہوجاتے ہیں ایک بار کامران اُدھر سے واپس آرہے تھے تو کہیں ان کے موبائل کے سگنل ڈراپ ہوگئے اور راولپنڈی سے محترمہ طاہرہ نسیم نے مجھ سے رابطہ کرکے پوچھا کہ کامران کا کچھ اَتا پتا ہے۔ حالانکہ راولپنڈی ان پہاڑوں میں ہے جدھر سے کامران آ رہے تھے لیکن خیر کی امید میں لاہور سے رابطہ کرکے اپنے دل کو ڈھارس بندھائی جا رہی تھی۔ 26 اکتوبر 2015ء کو زلزلہ آیا تو مجھے کوئی بھی یاد نہ آیا میں نے صرف کامران کا نمبر ڈائل کرکے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ وہاں کیا ہوا؟ ان کا نمبر بند تھا پھر تھوڑی دیر تک ان کے میسیج آنا شروع ہوگئے تو تسلی ہوئی کہ وہاں خیریت تھی۔
اب کامران صاحب خیر سے ایم۔ایڈ کے امتحانات دے رہے ہیں اور تیسرے ایم۔اے کے لئے پر تول رہے ہیں کچھ  مسائل کی وجہ سے ان کا ایم۔فل ابھی شروع نہیں ہوا۔ آج کے دور میں جو بندہ پرائمری پاس کرکے چار دن کسی ڈسپنسر کو چائے پانی پلا دیتا ہے وہ بھی اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھتا ہے لیکن کامران نے ڈی ایچ ایم ایس کے بعد بھی یہ سابقہ اپنے نام کے ساتھ نہیں لگایا شاید وہ پی۔ایچ۔ڈی کے بعد لگانا پسند کریں۔ کامران صاحب تقریر کرتے ہوئے من و عن ڈاکٹر طاہرالقادری دکھائی دیتے ہیں ممکن ہے وہ مستقبل کے ”طاہرالقادری“ ہو جائیں۔
ان کی بہت سی کامیابیاں ہیں جنہیں صرف اس ایک مضمون میں نہیں سمویا جا سکتا لیکن گزشتہ روز ، وہ اپنی ملازمتیں حاصل کرلینے والی صلاحیت کا راز فاش کررہے تھے۔ انہیں کبھی کہیں سے یہ فقرہ سننے کو ملا تھا کہ نوکریاں کیوں نہیں ملتیں لوگ سی۔وی جمع کرواتے نہیں اور گھر بیٹھتے سفارش اور رشوت کو کوستے رہتے ہیں۔ تب سے کامران نے، انٹرنیٹ سے اور جہاں سے بھی خالی آسامیوں کا پتہ چلا، وہاں اپنا سی۔وی بھیجا خواہ وہ ڈاک کے ذریعے، دستی یا پھر انٹرنیٹ کے ذریعے لیکن سی۔وی وہاں تک ضرور پہنچایا۔ اس کے بعد نوکریاں قطار میں لگ گئیں اور کامران اپنی مرضی سے ان کا انتخاب کرتے رہے اور چھوڑ کر آگے بڑھتے رہے۔ آج اس کامیاب نوجوان کی زندگی سے یہی درس ملتا ہے کہ مسلسل محنت اور جدوجہد کی جائے اور حتی الامکان ہر کوشش کی جائے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے تو کامیابیاں ہمارا مقدر بنتی ہیں۔

پیر، 4 جنوری، 2016

معذرت کے ساتھ!

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے ایک ضلع مردان کے صدر مقام شہرِ مردان میں 29 دسمبر 2015ء بروز منگل کو نادرا کے دفترپر خود کش حملہ ہوا جس میں 26 افراد جاں بحق ہوئے اور بیسیوں زخمی ہوئے، سینکڑوں لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہوئے، کسی پاکستانی یا فیس بکی افلاطون کے کان پر جوں نہیں رینگی پھر مقابلے کرتے ہیں فرانس اور یورپ کے! وہاں 12 لوگ قتل ہوئے تھے 40 ملکوں کے حکمران سڑکوں پر آگئے پورے یورپ میں ماتم کا سماں تھا ابھی حال میں جب پیرس میں پھر حملے ہوئے تو فرانس نے شام میں بمباری شروع کردی، آپ ان کے نظریات سے اختلاف کرتے ہیں ضرور کریں۔ مجھے بھی چارلی ایبڈو کے میگزین سے نفرت ہے لیکن ان کے قتل ہونے کے بعد ان کی قوم نے 'درد' محسوس کیا ہے جبکہ پاکستان میں ایک دن میں سینکڑوں جنازے اٹھ جائیں لوگ دو دو روپے کے دھوکے فراڈ سے چلائی جانے والی اپنی دکانیں بند نہیں کر سکتے، یہ صرف اپنے سسرال کے گھر جاسکتے ہیں یا کیبل-ٹی-وی پر کوئی فلم دیکھ سکتے ہیں یا فیس بک پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر وقت ضائع کرسکتے ہیں، کچھ زیادہ 'غم' منانے کا موڈ ہوا تو کسی سہیلی سے موبائل پر 'جانو، جانو' کھیل لیا اور گھر سے باہر آکر علامہ، مفتی، محدث، مفسر، محقق، فقیہہ اور مجتہد سب کے عہدے سنبھال لئے۔
اگر کوئی اور دلچسپی باقی نہ رہی تو یہی عہدے فیس بک پر سنبھال لئے۔
بھئی دیکھو! پیرس میں حملے ہوئے، فیس بک کے مالک نے اپنی پروفائل پکچر میں فرانس کا جھنڈا لگا لیا دوسرے لوگوں نے بھی لگا لیا، ہمارے افلاطونوں نے اسے غلط قرار دے کر مذکورہ بالا عہدوں کے فرائضِ منصبی سے اپنا دامن بری کر لیا۔ جب امریکہ میں صدارتی امیدوار 'ڈونلڈ ٹرمپ' کے اشتعال انگیز بیان حد سے بڑھتے ہوئے نظر آئے تو فیس بک کے مالک سمیت بہت سے مشہور و معروف غیر مسلموں نے مسلمانوں کی حمایت میں پورے زور سے آواز بلند کی، اس وقت فرانس کے جھنڈے پر فتوے دینے والے افلاطون کہاں سوئے تھے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بات چاہے مشرق کی ہو یا مغرب کی۔ آسمان کی ہو یا زمین کی، ہمارے افلاطون اسے اپنے ذمے ضرور لے کر 'سوموٹو' ایکشن لیں گے اور اگلے دن گوگل سے ڈاؤنلوڈ کرکے فوٹو شاپ کردہ کچھ تصاویر ضرور دِکھائیں کہ یہ دیکھو کشمیر، فلسطین، شام اور برما میں مسلمانوں پر کیا کیا ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میں شرط لگانے کو تیار ہوں کہ یہ لوگ اپنے گھر سے بیٹھ کر ان ملکوں کی درست سمت کا تعین نہیں کرسکتے، انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کراچی ایک ملک ہے یا پاکستان کا ایک شہر! انہیں سینیٹ، اسمبلی، مقننہ، عدلیہ ، انتظامیہ اور میڈیا کی ڈیفینیشن بھی نہیں آتی۔ انہیں شاید یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے صوبے میں کتنے اضلاع ہیں۔ لاہور میں بسنے والے بیشتر افلاطون یہ بھی نہیں جانتے ہوں کہ صبح سورج ان کے گھر کی کس دیوار کی طرف سے طلوع ہوتا ہے۔
میرا ایک دوست عزیر، مردان سے تعلق رکھتا ہے، حادثے والے دن صرف وہی ایک بندہ مجھے اس حوالے سے مختلف چیزیں پوسٹ اور شیئر کرتا دکھائی دِیا، باقی سب کی عزت تیل لینے گئی ہوئی تھی۔
میں کہنا چاہتا ہوں، او ظالم درندو! او پاکستان کے مردہ ضمیر باسیو! سینکڑوں لوگوں پر قیامت گزر گئی اور تمہیں معلوم تک نہ پڑا، میں سو فیصد دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ خدانخواستہ پاکستان میں کوئی کتنا بڑا حادثہ کیوں نہ ہوجائے۔ نائن الیون سے زیادہ لوگ کیوں نہ مرجائیں۔ یہ مردہ دل بے غیرت افلاطون ایسے ہی منہ میں الائچیاں ڈال کر گونگے بن کے بیٹھے رہیں گے، اور کوئی اپنے بچوں کے تحفظ کے چیخ و پکار نہیں کرے گا۔ جب اس پر مصیبت آئے تو کوئی دوسرا نہیں بولے گا۔ جب دوسرے پر آفت آئے گی۔ تیسرا بھی چُپ رہے گا۔ ایسے ہی یہ سلسلہ بڑھتا چلا جائے گا۔

ڈاکٹر غافر شہزاد کے جوابات

ڈاکٹر غافر شہزاد سے میری پہلی ملاقات 30 دسمبر 2015ء کے روز ہوئی اس کی روداد کی پہلی قسط مندرجہ ذیل لنک پر موجود ہے۔ لنک
دوسری ملاقات بھی اسی شام پاک ٹی ہاؤس میں ہوئی (میں دسمبر میں کئی بار پاک ٹی ہاؤس گیا ہوں اور ایک آدھ ادبی محفل میں بھی شریک ہوا ہوں)۔ بہرحال میں نے ان سے جو سوالات پوچھے، ان کے جوابات اپنے الفاظ میں دے رہا ہوں یعنی جوابات کا مفہوم کم و بیش یہی ہے۔

1۔ آپ کے نام کا عبدالغفور سے غافر شہزاد تک کا سفر کیسے طے ہوا؟
جواب: میری تعلیمی اسناد میں میرا نام عبدالغفور ہے ہائی سکول میں ادبی ذوق کی وجہ سے کسی 'ادبی' لفظ کی جستجو تھی جسے قلمی نام کے طور پر لکھا جائے انہی دنوں مجھے کہیں راستے میں ایک ورق پڑا ہوا مِلا، اس پر سورہ غافر (سورۃ مؤمن 40 نمبر سورت) کے کچھ الفاظ لکھے ہوئے تھے، جن میں ایک لفظ 'غافر' تھا۔ یہ بھی اللہ عزوجل کا ایک نام ہے اور غفور کا ہم معنیٰ ہے مجھے یہ نام پسند آیا اور اُس دور میں میری کچھ چیزیں "عبدالغفور غافر" کے نام سے چھپیں لیکن سکول پھر کالج کے کاغذات میں 'عبدالغفور' ہی رہا، بعد ازاں میں نے 'غافر چودھری' لکھنا شروع کردیا یہ نام بھی چھپتا رہا، پھر ادبی دنیا کے مزاج سے مطابقت کے لئے لفظ 'چودھری' لکھنا چھوڑ دیا اور لفظِ 'شہزاد' اپنا کر غافر شہزاد لکھنا شروع کردیا اور اب مکمل دفتری نام "عبدالغفور غافر شہزاد" ہے جبکہ تعلیمی اسناد پر صرف 'عبدالغفور' لکھا ہوا ہے۔ جھنجھٹ سے بچنے کے لئے اُسے تبدیل نہیں کروایا۔ 

2۔ آپ نے 52 برس کی عمر تک اتنا تحقیقی کام کیا کہ آپ خود ایک حوالہ بن گئے آپ اپنی زندگی کی ان کامیابیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
جواب: مجھے یوں لگتا ہے کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے جتنا ہو پایا وہ بہت قلیل ہے کچھ سینئرز سے یہ درس ملتا ہے کہ وہ طویل وقت تک لکھتے رہے جیسا کہ انتظار حسین صاحب اور احمد ندیم قاسمی مرحوم کی مثالیں موجود ہیں۔ میری ایک خوبی یہ ہے کہ میں جس کام کو شروع کرتا ہوں اسے مکمل ضرور کرتا ہوں، اب میں شعوری طور پر کئی مضامین لکھ کر انہیں ایک کتاب کی شکل دینے کی کوشش کرتا ہوں، جیسا کہ قیام پاکستان کے بعد کی تعمیرات کی تحقیق پر بہت کام کی ضرورت ہے۔

3- داتا دربار میں مزار کہیں نیچے ہے یا شروع سے قبر مبارک اوپر ہی ہے؟
جواب: دراصل یہ مزار ایک ٹیلے پر تھا، بعد میں کچھ ناگزیر وجوہ کی بنا پر اس ٹیلے کے نچلے حصے کو چاروں اطراف سے دیوار بنا کر محفوظ کرنا پڑا، اس لئے 1960ء- 1970ء کی دہائیوں میں نچلا حصہ دیکھنے والے کچھ لوگ اس کنفیوژن میں ہیں کہ شاید پہلے قبر نیچے تھی، دراصل یہ قبر اپنی اصل جگہ پر اوپر اونچائی پر واقع ہے۔ (ڈاکٹر صاحب نے اس کی مزید تفصیلات سے بھی وضاحت کی)

4۔ آپ کی شاعری کی کتنی کتب ہیں؟
جواب: دو کتابیں ہیں، لیکن ابھی سٹاک ختم ہوا ہے جلد ہی ایک بار پھر شائع ہو جائیں گی۔

5۔ دو سال قبل ایک بار کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ حلقہ ارباب ذوق کی مجلس (ایوانِ اقبال) میں ڈاکٹرغافر شہزاد خوب گرجے برسے، شاید کسی فن پارے پر تنقید کا کوئی مسئلہ تھا (قارئین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ میں اُسی خبر کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے پاس ڈرا سہما بیٹھا رہا کہ کہیں گرج برس کا امکان کہیں سے ایک بار پھر نہ پیدا ہو جائے)

جواب: ہاں یاد آیا! وہ کسی محترمہ کی ایک مطبوعہ غزل پر بحث ہونے جا رہی تھی جس سے میں نے منع کیا کیونکہ حلقہ اربابِ ذوق کے آئین کے مطابق مطبوعہ غزل پر تنقید  کرنا منع تھا تو صدرِ محفل نے مجھے کہا اگر آپ کو کوئی مسئلہ تو آپ باہرچلے جائیں، میں نے جواب دیا کہ آپ اس تنظیم کے رکن ہونے کا جیسا حق رکھتے ہیں ویسا حق میں بھی رکھتا ہوں پہلے آپ باہر تشریف لے جائیں، پھر میں بھی باہر چلتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اُن کی غزل ہم نے سن لی ہے یہی کافی ہے حالانکہ میں اُسے پہلے سے چھپا ہوا دیکھ چکا تھا، چھپنے کے بعد حلقہ اربابِ ذوق میں تنقید نہیں ہوسکتی۔ تو اس بات کا ذکر کسی اخبار میں آیا ہوگا

6۔ میرے لئے آپ کا کوئی پیغام؟
جواب: آپ ویکیپیڈیا پر لکھنے کا بہت اچھا کام کر رہے ہیں، آج شاید آپ کو اندازہ ہو یا نہ ہو ایک وقت آئے گا یہی کام آپ کی پہچان بن جائے گا۔

سوال نمبر پانچ کے جواب کے بعد مجھے تھوڑا سا اطمینان ہوگیا کہ ڈاکٹر صاحب مجھے ماریں گے نہیں، ورنہ میں ان سے ڈرتا بھی تھا/ہوں۔ جیسا کہ ممتاز مفتی نے 'تلاش' میں اس لاحاصل احترام (ڈر) کی خوب کلاس لگائی ہے۔ میرے ہاتھ میں 'ماہنامہ نوائے منزل لاہور' کے ایک گزشتہ شمارے کی کئی کاپیاں تھیں لیکن ڈاکٹر صاحب کو ایک بھی نہ دے کر آیا، دفتر سے باہر نکلتے ہی میں حسیب کو کال کرکے یہ 'بھولنے' والا واقعہ بتا کر کہا، "مینوں کوئی گالھ کڈھ"، آج زندگی میں پہلی بار خود کوئی گالی سننے کو جی چاہا کہ ایک رسالہ دِکھا کر پھر تھیلے میں ڈال کر لے آیا، بہرحال رات کے وقت 'پاک ٹی ہاؤس' میں محمد کامران اختر کے ہمراہ ملاقات میں میگزین کو موصوف کے ہاتھوں میں جانے کا شرف حاصل ہوا۔
ڈاکٹر صاحب ایک شائستہ سنجیدگی سے ملے، انداز فرینک لیکن مہذبانہ تھا۔ میں خود بھی کافی حد  (جتنا مجھ سے ممکن تھا) تک تہذیب کے دائرے میں رہا۔ میں وہاں وکیپیڈیا پر ان کی حیاتی لکھنے کی غرض سے مواد لینے گیا تھا، لہٰذا وہ بھی مل گیا۔ ابھی اس کی ترتیب دینا باقی ہے، پھر اردو وکیپیڈیا پر ایک جامع مضمون نظر آئے گا۔ ان شاء اللہ-

نوٹ: تحریر میں جوابات کے الفاظ میرے اپنے ہیں، ڈاکٹر صاحب کم و بیش یہی کہنا چاہتے تھے، جو باتیں میں نے حذف کی ہیں وہ احتیاطاً کی ہیں

جمعرات، 31 دسمبر، 2015

ڈاکٹر غافر شہزاد کے ساتھ ایک ملاقات

آج (30 دسمبر 2015ء کو) میری ملاقات ڈاکٹر غافر شہزاد سے ہوئی، میں ان کے نام اور کام سے 2013ء سے واقف ہوں۔ البتہ ابھی تک ان کا لکھا ہوا بہت کم مواد میں نے پڑھا ہے۔ وہ ایک ماہر تعمیرات، شاعر، ادیب اور ایک اچھے انسان ہیں۔ شاید 2012ء کے اواخر میں ان کا نام کچھ اخبارات میں میری نظر سے گزرا اور ان کی دلچسپیوں کے محور کا علم ہوا، پھر میں نے 27 جون، 2013 کو اپنے ایک مضمون "سدا ای وسدا رہنا ڈیرہ داتا دا" میں جناب کے حوالے سے ایک جملہ لکھا تھا، "ان تعمیرات کی تاریخ جاننا مقصود ہو تو ڈاکٹر غافر شہزاد کی کتب دیکھیں۔"

کہانی یوں شروع ہوتی ہے کہ سن 2003ء میں محمد ندیمؔ بھابھہ کی شاعری کی پہلی کتاب مجھے ملی اور اس کے تخیلات میری روح میں سرایت کرگئے، 2010ء کے بعد میں نے بھابھہ صاحب کو فیس بک پر تلاش کرلیا پھر موبائل نمبرز کا تبادلہ ہوا اور ہلکی پھلکی علیک سلیک رہی، سن 2014ء کے 6 ستمبر کی رات بھابھہ صاحب نے فیس بک کے میسیج میں میرا حال پوچھا اور ملاقات کی دعوت دی، اگلے روز ان کے گھر (لاہور) میں ملاقات ہوئی۔
گزشتہ ہفتے کے دوران، میں سنگِ میل پبلیکیشنز کی دکان سے ڈاکٹر غافر شہزاد کی داتا دربا کی تعمیر کے متعلق تحقیقی کتاب کا مطالبہ کیا تو وہاں سے اس موضوع پر ایک بہترین کتاب مل گئی، پھر میں نے ندیمؔ بھابھہ سے ڈاکٹر کا موبائل نمبر لے کر رابطہ کیا اور ملاقات کا وقت طلب کیا جو آج دن کے دو بجے کے قریب ملاقات پر منتج ہوا۔ میں نے حسبِ عادت وہاں بہت سی باتیں کیں، سوالات کیے اور ڈاکٹر صاحب بے خندہ پیشانی سے جوابات دئیے اور کمال شفقت فرمائی۔
ڈاکٹر صاحب کے کسی انٹرویو سے مجھے پتہ چلا تھا کہ ان کے بارے میں انگریزی ویکیپیڈیا پر کوئی تذکرہ ہے لہٰذا میں نے 22 جولائی 2013ء اس کا اردو ترجمہ کرکے اردو ویکیپیڈیا پر ایک پیراگراف لکھ دیا تھا جو درج ذیل ہے۔
"عبدالغفور المعروف ڈاکٹر غافر شہزاد ایک پاکستانی ماہر تعمیرات ہیں۔ جنوری 2011 ء میں UET لاہور نے انہیں فن تعمیر میں اپنی سب سے پہلی پی ایچ ڈی جاری کی۔ انہوں نے "Post Independence Architecture in Lahore" کے عنوان سے ایک مقالہ کے ساتھ فن تعمیرات پر بیچلر ڈگری مکمل کی۔ انہوں نے 1999 میں "Symbolic status and Metamorphosis of Minaret in Mosque Complex" کے عنوان سے ایک مقالہ کے ساتھ فن تعمیرات کی ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے "To investigate the Forces Acting as Religious Magnet: The Shrine in Urban Settlements and their impact on Immediate Surrounding" عنوان کے ساتھ، محمود حسین کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کیا :غافر شہزاد نے مزارات، مساجد اور میناروں کے سانچوں اور تعمیراتی پہلوؤں سمیت مختلف تعمیراتی موضوعات پر پندرہ کتابیں لکھی ہے۔"
بعد ازاں اس پیراگراف میں کچھ اضافہ اور بہتری کی گئی ہے۔
میری آج کی ملاقات میں سوالات کچھ اس طرح کے تھے؟
آپ کے نام کا عبدالغفور سے غافر شہزاد تک کا سفر کیسے طے ہوا؟
آپ نے 52 برس کی عمر تک اتنا تحقیقی کام کیا کہ آپ خود ایک ؟حوالہ بن گئے آپ اپنی زندگی کی ان کامیابیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
تخلیقی ادب میں آپ کا حصہ؟
داتا دربار میں مزار کہیں نیچے ہے یا شروع سے قبر مبارک اوپر ہی ہے؟
آپ کی شاعری کی کتنی کتب ہیں؟
میرے لئے آپ کا کوئی پیغام؟
اس کے علاوہ بھی کئی باتیں ہوئیں، ڈاکٹر صاحب نے مجھے اپنی دو تصانیف تحفے میں عنایت فرمائیں اور چائے بھی پلائی (میں خصوصاً چائے کے لئے خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں)

اتوار، 20 دسمبر، 2015

Those having sound knowledge and those in whose hearts is deviation

راسخ العلم اور ٹیڑھے دل والوں کے بیان کا فرق
سورۃ آلِ عمران:-
وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے (7) اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک تو ہے بڑا دینے والا، (8) اے رب ہمارے بیشک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے اس دن کے لئے جس میں کوئی شبہ نہیں بیشک اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا (9)
اہلِ علم اللہ سے ڈرتے ہیں
سورة فاطر:-
اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں بیشک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے، (28)
ــــــــــــــــــ

کیا علم والے اور جاہل برابر ہیں؟
سورة الزمر:-
کیا وہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں، (9)
ــــــــــــــــــــــــــــ
رحمٰن کے بندوں کا جاہلوں کے ساتھ سلوک کا بیان
سورة الفرقان:-
اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام (63)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اللہ کی آیتوں کے انکار کرنے والے کا بیان
سورة الأعراف:-
اور اے محبوب! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا، (175) اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتے مگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں، (176) کیا بری کہاوت ہے ان کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جان کا برا کرتے تھے، (177) جسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے، (178) اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں، (179)
ـــــــــــــــــــــــــ
اللہ اور رسول کے حکم کا انکار کرنے والوں کا انجام
سورة الأنفال:-
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن سنا کہ اسے نہ پھرو، (20) اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا او ر وہ نہیں سنتے (21) بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں (22) اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر سنا دیتا جب بھی انجام کا ر منہ پھیر کر پلٹ جاتے (23) اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے، (24) اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہ پہنچے گا اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے، (25)
ـــــــــــــــــــــــــ

مسلمانوں کی راہ چھوڑنے والوں کا بیان
سورة النساء:-
اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی (115)

بھلائی یا برائی پہنچنے کا بیان
سورة الأنعام:-
اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے (17)
سورة النساء:-
اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا اور اللہ کافی ہے گواہ (79)

کیا اللہ تعالیٰ وعدے (تقدیر) کو تبدیل فرما دیتا ہے
سورة الرعد:-
اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس (39)
ــــــــــــــــــــــ
نبیوں کی عظمت کا بیان
سورة الأنعام:-
وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں، (82) اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی، ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں بیشک تمہارا رب علم و حکمت والا ہے (83) اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان سب کو ہم نے راہ دکھائی اور ان سے پہلے نوح کو راہ دکھائی اور میں اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو، اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو، (84) اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو یہ سب ہمارے قرب کے لائق ہیں (85) اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو، اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی (86) اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی، (87) یہ اللہ کی ہدایت ہے کہ اپنے بندوں میں جسے چاہے دے، اور اگر وہ شرک کرتے تو ضرور ان کا کیا اکارت جاتا، (88) یہ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تو اگر یہ لوگ اس سے منکر ہوں تو ہم نے اس کیلئے ایک ایسی قوم لگا رکھی ہے جو انکار والی نہیں (89) یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو تم فرماؤ میں قرآن پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کو (90)
سورة مريم:-
اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو، بیشک وہ چنا ہوا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتانے والا، (51)  اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا (52) اور اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون عطا کیا (غیب کی خبریں بتانے والا نبی) (53) اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا، (54) اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیتا اور اپنے رب کو پسند تھا (55) اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا، (56) اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا (57) یہ ہیں جن پر ا لله نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے میں سے آدم کی اولاد سے اور ان میں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے راہ دکھائی اور چن لیا جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے (السجدة) ۵ (58)
سورة آل عمران:-
اور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار (باعزت) ہوگا دنیا اور آخرت میں اور قرب والا (45) اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں اور پکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا، (46) بولی اے میرے رب! میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے جب، کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے، (47) اور اللہ سکھائے گا کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل، (48) اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف، یہ فرماتا ہو کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مور ت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اور میں مُردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو، بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو، (49)
ـــــــــــــــــــــــ


توبہ کرنے والوں کا بیان
سورة التحريم:-
اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے قریب ہے تمہارا رب تمہاری برائیاں تم سے اتار دے اور تمہیں باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہیں جس دن اللہ رسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے دہنے عرض کریں گے، اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کردے اور ہمیں بخش دے، بیشک تجھے ہر چیز پر قدرت ہے، (8)

جمعہ، 4 دسمبر، 2015

ندیم بھابھہ کا دورہ بھارت

28 نومبر کو ہم نے واہگہ کے راستے بارڈر کراس کیا ، دل میں عجیب وسوسے تھے لیکن کنور رنجیت سنگھ چوہان کی دعوت میں محبت ہی اتنی تھی کہ خطروں اور وسوسوں کی کوئی پرواہ نہ رہی ، 2 بجے کے قریب ہم نے انڈیا میں اپنا پہلا قدم رکھا اور دل سے اللہ اکبر کی صدا گونجی ، بارڈر پر پرویز نام کے ایک عیسائی دوست لینے آئے ہوئے تھے 15 سے 20 منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم امرتسر پہنچ گئے کھانا وغیرہ کھاتے ہی ہماری ٹرین کا وقت ہوگیا اور ہم شتابدی نامی ٹرین میں سوار ہو گئے ۔ ٹرین کے انتظامات دیکھ کر ہماری آنکھیں پھٹی رہ گئیں بلاشبہ بھارت نے ٹرین کے نظام کو بہت اچھا بنایا ہوا ہے سفر وہاں بہت سستا ہے شتابدی وہاں کی ہائی کلاس ٹرین ہے جس نے ہمیں 5.30 گھنٹوں میں دہلی پہنچا دیا دہلی اسٹیشن پر رنجیت ہمارا انتظار کر رہے تھے اور یوں ہم ان کی ہمراہی میں ہوٹل پہنچ گئے واہگہ سے لے کر دہلی تک ہمیں کوئی دقت نہیں ہوئی اللہ پاک کے کرم سے ہم خیریت کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ گئے تھے لیکن اس دوران ہمیں ٹرین کی سہولیات دیکھ کر اپنی پاکستانی ریلوے کی وزارت پر بہت غصہ بھی آیا اور افسوس بھی ہوا کہ انگریز کے بعد آج تک ہم نے کوئی نیا ٹریک ہی نہیں بنایا ۔۔۔ صاحبان ٹرین کا سفر دنیا میں محفوظ ترین سفر تصور کیا جاتا ہے ہم نے یورپ میں بھی سامان اور مسافروں کے لیے ٹرین کا استعمال کا رواج عام پایا اور انڈیا میں بھی لیکن پاکستان کی بدقسمتی کہ مسافران کے لیے بسوں کے علاوہ کوئی سواری نہیں اور بسیں غیر سرکاری ہیں جو اپنی مرضی کا کرایہ وصول کرتی ہیں اگر ہم ٹرین کا سسٹم اچھا بنا لیں تو سالانہ روڈ رپیئر کے نام پر نکالے جانے والا اربوں کی مالیت کا پیسہ بھی بچا سکتے ہیں اور اور سفر کو محفوظ ترین بنا سکتے ہیں ساتھ ہی پاکستان کی حکومتی آمدنی کو بھی بڑھا سکتے ہیں مگر ہمارے سیاست دان تو دنیا کی نمبر 1 ائیر لائن کا بھی بیڑہ غرق کر چکے ہیں
29 نومبر کو کانفرنس اور مشاعرے کا آغاز ہوا کانفرنس کے سیشن سنے تو اندازہ ہوا عوامی مسائل وہاں اور یہاں کے ایک جیسے ہیں مگر سیاست دان قدرے مختلف ہیں یہاں کے سیاست دان اپنے فائیدے کے لیے ملک کا سودا بھی کر سکتے ہیں مگر وہاں کے سیاست دان اپنے ملک کا سودا نہیں کرتے باقی کھانا پینا ایک جیسا ہے ۔۔۔
مشاعرے میں اللہ پاک نے بہت نوازا جب ہم اشعار سنا کر واپس نشست پر جانے لگے تو سارا ہال کافی دیر تک تالیاں بجاتا رہا اور ہماری آنکھوں سے شکر کے آنسو نکلتے رہے مشاعرے کے بعد کھانے کا انتظام تھا پاکستان سے ہم تین لوگ تھے محترمہ کشور ناہید ، علی یاسر اور فقیر ، اس قدر دار کے بعد ہمارے مداحین نے ہمیں گھیرے میں لے لیا اور کافی دلچسپ گفتگو ہوتی رہی کچھ لوگوں کو ہمارے اشعار پہلے سے یاد تھے جن کو سن کر ہمیں حیرت ہوتی رہی
اگلے دن ہم نے دہلی گھومنا تھا سب سے پہلے ہم نے لال قلعہ دیکھا پھر جامع مسجد اتنے میں شام ہوگئی اور رات کا کھانا ہم نے پرویز خان صاحب کے ہاں کھانا تھا لہٰذا سیر چھوڑ کر پیٹ کی طرف متوجہ ہوئے
اگلے روز ہم نے صبح سویرے حضرت سید عبدالرحمان گیلانی دہلوی کی بارگاہ میں حاضری دینا تھی مگر راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہم حاضر نہ ہوسکے لیکن اسی بہانے ہم نے دہلی کا صدر بازار بہت گھوما اور چند مزارات پر فاتحہ خوانی بھی کی
وہاں سے فارغ ہوکر ہم 11 بجے ہوٹل واپس پہنچے جہاں ریختہ والے زمرد صاحب ہمارا انٹرویو کرنے کے تشریف لانے والے تھے اور یوں ہم 3 بجے تک انٹرویو میں کھوئے رہے جس کے بعد ہم حضرت نظام الدین کی بارگاہ میں پہنچے جہاں بہت کمال حاضری ہوئی سرکار نے بہت کرم کیا اور وہاں کے منتظمین نے بہت عزت کے ساتھ ہمیں زیارت کرائی حضرت امیر خسرو کی دربار حضرت نظام الدین کے قدموں کی طرف تھی وہاں بھی حاضری دی اور غالب کو بھی سلام پیش کیا اور یوں ہم رات 7 بجے دہلی سے امرتسر واپس روانہ ہوئے
امرتسر پہنچ کر ہم نے سکھوں کا گولڈن ٹمپل دیکھا وہاں کی صفائی اور انتظامات دیکھ کر بہت حیران ہوئے ہم لوگ قطاروں میں پورے نظم و ضبط کے ساتھ صبح سویرے حاضری دے رہے تھے ہمیں جان کر خوشی ہوئی کہ گولڈن ٹمپل کی بنیاد حضرت میاں میر صاحب کے مبارک ہاتھوں سے رکھائی گئی تھی اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ سکھ اولیا اللہ کا کتنا احترام کرتے ہیں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سکھ ننگے سر گرودوارہ میں نہیں جانے دیتے اور اپنی کتاب گرنتھ کو گرنتھ صاحب کہہ کر اس کا احترام کرتے ہیں گرنتھ صاحب کا زیادہ تر حصہ حضرت بابا فرید گنج شکر کے کلام پر مشتمل ہے اور اب سکھ کتاب کو ہی اپنا گرو مانتے ہیں ہمیں اندازہ ہوا کہ سکھوں میں اور اسلام میں بہت مماثلت ہے 
سکھ ازم کے بانی گرونانک تھے جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ مسلمان انہیں مسلمان سمجھتے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے ایک حافظ قرآن ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا تھا جو انہیں قرآن پڑھ کر سناتا تھا
امرتسر میں کئی کسانوں سے بھی ملاقات ہوئی اور ان کی خوشحالی کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ، پاکستان کے کسانوں کی بدحالی اب ہم سے کہاں چھپی ہوئی ہے لہٰذا موازنہ کرنے کے لیے معلومات اکٹھی کیں تو ایک بار پھر یہاں کی حکومت پر غصہ آیا وہ معلومات آپ کے ساتھ بھی شئیر کرتا چلوں
10 ہارس پاور کی ٹیوب ویل وہاں حکومت کا بجلی کا محکمہ کسان کو بغیر اجرت کے خود لگا کر دیتا ہے جس کا بل ہے 1000 ماہانہ اور مزے کی بات یہ ہے کہ جس مہینے بارشیں ہوجائیں کسانوں سے 1000 روپیہ بھی نہیں لیا جاتا جبکہ پاکستان میں 25 ہارس پاور کی ٹیوب ویل کا بل 40000 روپے تک آتا ہے اور بجلی ایسی کہ 24 گھنٹوں میں صرف 8 گھنٹے وہ بھی مسلسل نہیں ملتی عین بجائی کے وقت بل نہ ادا کرنے پر کنکشن کاٹ لیا جاتا ہے
یوریا کھاد وہاں 380 روپے سے 400 تک ہے جبکہ یہاں 1800 روپے تک ہے
ڈی اے پی وہاں 850 روپے کی ہے جبکہ یہاں 4000 تک ہے اور اصلی تو شاید ملے
وہاں گندم جسے وہ گیہوں کہتے 1400 روپے من فروخت ہوتی ہے جبکہ یہاں سرکاری ریٹ 1300 روپے ہے مگر سرکار خریدتی نہیں اس لیے پرائیویٹ خریدار 1100 سے 1200 روپے تک ہی خریدتے ہیں اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہماری لاگت فصل اور بچت کا حساب یوں ہوگا
زمین کی تیاری بحساب ڈیزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3500
2 بوری یوریا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3600
1 بوری ڈی اے پی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3800
گندم بیج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2000
4 پانی + راونی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 8000
مزدوری کٹائی بجائی وغیرہ اندازا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 6000
کل لاگت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 26900
آمدن 35 من بحساب 1300 روپے ۔۔۔۔۔۔ 45500
بچت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 18600 اگر گندم 1300 کے ریٹ پر بک جائے تو اور گندم کا یہاں بکنا بھی بہت مشکوک ہوتا ہے
اب انڈیا کا اندازہ کرتے ہیں یاد رہے وہاں ڈیزل 46 روپے لیٹر ہے تقریبا جبکہ یہاں 85 روپے ہے
زمین کی تیاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1800
2 بوری یوریا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 760
1 بوری ڈی اے پی ۔۔۔۔۔۔ 850 بلکہ اس سے بھی کم لیکن ہم اندازے میں زیادہ سے زیادہ ریٹ لگا رہے ہیں
گندم بیج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1800
پانی راونی وغیزہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فری
مزدوری کٹائی وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 4000
کل لاگت فی ایکڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9210
آمدن 35 من فی ایکڑ بحساب 1400 روپے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 49000
بچت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 39790 یاد رہے وہاں کا ایک روپیہ ہمارے 2 روپے کے برابر ہے
دوستو ان حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے ملک کی قسمت اور حکمرانوں کی عیاشیوں پر بہت غصہ آیا مانا کہ انڈیا ہمارا دشمن ملک ہے پر دشمن کی اچھائی کی تعریف نہ کرنا بھی بد دیانتی ہے ہم 20 کروڑ کو خوشحال نہ کر سکے اور انہوں نے 120 کروڑ کو بھی خوشحال کرنا شروع کردیا ہے اور وہ کامیاب ہوتے جا رہے ہیں
ایک بات عام پھیلائی جاتی ہے کہ وہاں 12.5 ایکڑ کے زمیندار ہیں اس لیے زراعت اچھی تو بھائی اس کا بھی سن لیں وہاں گھر کا فی فرد 12.5 ایکڑ کا مالک ہے اور ایک ایک گھر کے 20 سے 30 افراد ہیں وہاں کا ایکڑ بھی ہمارے ایکڑ سے رقبے کے لہاظ سے بڑا ہے
خیر میری عرض ہے کہ تمام پاکستان کے شہریوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے کسانوں کو بچائیں کیونکہ انٹرنیشنل پلاننگ کی وجہ سے ہمارے ملک کی زراعت کو ختم کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے آئی ایم ایف بہت حرکت میں ہے
اللہ پاک ہمارے ملک کو اور ہمارے ملک کی عوام کو سلامت رکھیں اور ان سب لٹیروں سے بچائیں
آمین
یہ تحریر جلدی میں لکھی گئی ہے مکمل باتیں کبھی فرصت میں لکھوں گا کہ وہاں کے مذہبی رجحانات اور سیاسی و سماجی و عوامی رجحانات کیا ہے
ندیم بھابھہ