Urdu Poet لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Urdu Poet لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 7 جولائی، 2021

عمار اقبال۔۔۔ ایک تعارف ۔۔۔ پہلا حصہ

عمارؔ اقبال۔۔۔ ایک تعارف ۔۔۔ پہلا حصہ

تحقیق و ترتیب: عبدالرزاق قادری

آپ کے ہر دلعزیز شاعر و فلسفی جنابِ  عمار  اقبال یوں تو اپنی اچھوتی شاعری اور منفرد لب و لہجے کے سبب دُنیا بھر میں مشہور و معروف ہیں، لیکن اُن کی ذاتی زندگی اور حالات باقاعدہ کہیں تحریری صورت میں موجود نہیں ہیں،   میں نے مختلف  انٹرویوز سُن کر اور خود انٹرویو کر کے عمار اقبال کے حالات ترتیب دئیے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

عمار اقبال صاحب کے والدِ محترم اقبال مسعود 1970ءکے بعدکسی دور میں لکھنؤ ،بھارت سے ہجرت کرکے کراچی پاکستان منتقل ہوئے، اور آپ خاندانی طور پر حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ہیں اس لئے اُن کا پورا نام اقبال مسعود  ادھمی تھا، عمار اقبال کا مکمل نام بھی ”عمار اقبال ادھمی“ ہے، یوں اُن کی اس صوفی بزرگ  کے ساتھ نہ صرف نسبت بلکہ اُنسیت بھی بڑھ جاتی ہے، غالباً اُسی درویشانہ خون کے رگوں میں دوڑنے کے باعث عمار صاحب کے تخیل میں بلا کی زرخیزی اور استغنائیت اور کمال جوہر پایا جاتا ہے، وہ خود ایک انٹرویو میں کہتے ہیں،کہ  شہرۂ آفاق مصور”پکاسو“ نے کہا تھا کہ تمام لوگ فنکار پیدا ہوتے ہیں، پھر گزرتے وقت کے ساتھ بہت سوں میں سے وہ فنکارانہ صلاحیتیں زمانہ چھین لیتا ہے، اور بہت کم اپنے اندر کے فن کو سنبھال کر رکھ پاتے ہیں۔

 اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتاہے کہ صرف عمار ہی کو تقدیر نے  ابلاغ کی اُس طاقت سے کیوں نوازا،جو کہ اس ادھمی خاندان میں یا اُن کے ہم عصروں میں جانے کتنے لوگ اس کا مظاہرہ نہیں کر پارہے، تو اس کاجواب بھی وہ ”قیصر وجدی“ صاحب کو  انٹرویو میں دے چکے ہیں کہ جب انسان کو کسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تواس کے بعد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا وہ اس سے گھبرا جاتا ہے، ڈر کر اپنی فن سے منہ پھیر لیتا ہے، یا اُسی ناکامی سے طاقت پکڑ کر،  وہ مزید مضبوط اعصاب کا مالک بن جاتا ہے اور زمانے کو وہی کام کرکے دِکھا دیتا ہے جس کا اُسے ذوق ہو اور کچھ کر دکھانے کا جنون ہو،،عموماًیا تو اُس سے توقع نہیں کی جاتی یا پھر اُس شخص کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں جن کو عبور کرتا ہوا وہ منزلِ مقصود تک جا پہنچتا ہے۔ تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاعری کی کٹھنائی  میں یوں عازمِ سفر ہونا کوئی آسان کام نہ تھا، لیکن عمار نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور اپنے فن کے بل بوتے پر پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔

لوہے سے یاد آیا کہ اُن کے والد صاحب، جناب اقبال مسعود  ایک مکینکل انجینئر تھے اور پاکستان سٹیل ملز میں کام کرتے تھے، وہ عمار سے کہا بھی کرتے تھے کہ میں پگھلے ہوئے لوہے میں سے زندگی نکال کر تمہارے لیے لاتا ہوں۔

            یہاں مجھے تنویر سپرا کا شعر یاد آرہا ہے۔

؎            آج بھی سپراؔ اس کی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے

میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

عمار، اپنے والد کے لیے یوں گویا ہیں۔

پتھر کے بازو تھے سینہ لوہے کا

تاج میں حضرت کے تھا نگینہ لوہے کا

قزاقوں کے بعد سمندر جانتا ہے

ڈوب نہیں سکتا تھا سفینہ لوہے کا

موڑ رہا ہے اپنی نرمی گرمی سے

پونچھ رہا ہے کوئی پسینہ لوہے کا

شیشے کی اس کارگہ زرداری میں

کام کیا کرتا ہے کمینہ لوہے کا

اور عمار کی والدہ ایک معلمہ تھیں، یوں عمار ہمیشہ (سے ہی) اپنی والدہ کے ساتھ تعلیمی ادارے میں جاتے رہے،اور خود ہمارے ممدوح،آکسفورڈ ہائی اسکول اور انڈس یونیورسٹی، سے تعلیم حاصل کرکے آغا خان کالج میں تدریس فرماتے رہے،آپ کے والد نے آپ کی شاعری دیکھ کر علمِ عروض وغیرہ سیکھنے کی ترغیب دی تو اہلِ فن کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا سلسلہ جاری رہا، حتیٰ کہ عمار اقبال کی دعا سلام ایک اُستاد شاعر نعیم گیلانی صاحب سے ہوئی تو اُنہوں نے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کے جدید وسائل کے ذریعے عمار اقبال کو علمِ عروض یعنی شاعری کے فنی محاسن  بڑی محنت سے سکھائے جس کا نہ صرف عمار اقبال کو اچھا خاصا ادراک ہے، بلکہ وہ اُستادِ محترم کی دل و جان سے عزت کرتے ہیں اور اپنی پہلی کتاب ”پرِندگی“ کا انتساب بھی نعیم گیلانی کے نام کیا ہے۔

عمار صاحب کہتے ہیں کہ اُن کے خاندان کے کچھ لوگ اقبال مسعود (عمار کے والد) کے پاکستان آ جانے سے قبل یہاں آ چکے تھے، اور یہاں رہ رہے تھے، کچھ لوگ بعد میں آئے، عمار کے دادا جان اور والدین کی یہ دو نسلیں تو اپنے ڈرائنگ روم میں ہندوستانی زندگی، کلچر اور اپنے پرانے رہن سہن کو یاد کرتے رہے۔لیکن عمار اقبال کی پیدائش فروری 1986ء میں ہوئی اور اب اُن کا کہنا یہ ہے کہ یہاں سے ہماری تیسری نسل کا پاکستان میں وجود پیدا ہوا، جو یہیں پیدا ہوئے، بلکہ اُن میں سے عمار اقبال اپنی فیملی میں سب سے پہلے اِس (پاکستانی) دُنیاآئے اور وہ پہلا پاکستانی ہونے کا شرف رکھتے ہیں۔ تو یہ جو تیسری نسل ہے یہ خالصتاً پاکستانی ہے، اس کا کلچر، رہن سہن، اور یادیں پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں۔

 اُنہوں نے کراچی ہی میں تعلیم حاصل کی اور آغا خان کالج میں پڑھاتے رہے، اُن کی آواز خاصی اچھی ہے،جس میں درس و تدریس کا ایک خاص کردار ہے۔آپ بزنس،اُردو اور انگریزی پڑھا تے ہیں۔اور اِس کےعلاوہ کراچی میں ایک ایف۔ایم ریڈیو میں پروگرام بھی کرتے رہے ہیں، گزشتہ چند برس سے لاہور میں مقیم ہیں،اور یہاں بھی لکھنے لکھانے کا شغل قائم ہے۔ آپ کے گھر میں ایک گوشہ اُن جانوروں کے لئے مخصوص ہے جو لاوارث ہو جاتے ہیں، اور پھر وہ یہاں وقت گزارتے ہیں۔

عمار نے اپنے سُخن کی ابتداء غزل سے کی، اور اُن کی پہلی غزلوں میں سے یہ غزل بھی تھی۔

؎                 عکس کتنے اُتر گئے مجھ میں

پھر نہ جانے کدھر گئے مجھ میں

ایک مارکیٹنگ ادارے کے لئے بھی لکھتے ہیں جس سے روزی روٹی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، تراجم کرتے ہیں،شاعری لکھتے ہیں، شاعری کھاتے ہیں، شاعری پیتے ہیں، اس کے علاوہ نغمے لکھتے ہیں اور چودہ اگست 2021ء میں ایک بہت خاص نغمے کے لئے پُر جوش بھی ہیں۔

نعیم گیلانی

آپ تقریباً 2010ء سے مشاعرے میں پڑھ رہے ہیں، جبکہ اُستادِ محترم نعیم گیلانی نے منع فرمایاتھا کہ ا بھی مشاعرے میں شرکت مت کرنا لیکن اُن کی بات نہیں مانی گئی،اور آج اس بات کا اعتراف کرتےہیں کہ مجھے اُس کا نقصان ہوا،2014ء تک کراچی بھر میں مقبول ترین شاعر بن چکے تھے لیکن پھر بھی ایک بارایک مشاعرے کے سٹیج سے بغیر وجہ بتائے اٹھا بھی دئیے گئے، حالانکہ اس سے قبل عالمی مشاعروں میں بھی اپنا کلام سُنا چکے تھے۔

آپ سینئرز کی رہنمائی کو سراہتے ہیں خصوصاً اپنے اُستاد جی، نعیم گیلانی کی بہت سی خوبیوں کے معترف ہیں، ساتھ ہی ساتھ عمار صاحب کا کہنا ہے، کہ گیلانی صاحب کا اپنا اسلوب بالکل منفرد ہے، اور انہوں نے کبھی اپنا رنگ مجھ پر نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی، کہ شاگرد کا اپنا اُسلوب اپنی جگہ برقرار رہے۔ اس کے علاوہ اُن کی پہلی کتاب بھی  نعیم گیلانی صاحب نے ہی شائع کی۔وہ نعیم گیلانی  کا اپنی پسند کا ایک شعر مثال کے طور پر  پیش کرتے ہیں۔

؎              گِلہ معاف مگر میں جہاں پڑا ہوا ہوں

میرے چراغ تیری روشنی اِدھرکم ہے

 

غزل اور اصنافِ سُخن

عمار کے خیال سے غزل کی بندشیں  ایک  سخنور کو اپنے انداز سے لاشعوری پر بہت کچھ بیان کرنے پر مجبورکرتی ہیں، جو بعض اوقات شاعر کو خود اندازہ  نہیں ہوتا کہ وہ کیا پیش کررہا ہے۔ مثلاً یہ کہ غزل آپ کے تخیل کی چڑیا کو اُلٹا اڑاتی ہے، آپ قافیہ سے ردیف سے خیال کی طرف جا رہے ہوتے ہیں، اور یوں آپ کے لامحدود جذبات و احساسات اوزان کی پابندیوں میں بندھ کر رہ جاتے ہیں اور اظہار نہیں ہو پاتا۔ عمار کے نزدیک اصناف سُخن ایک گلاس یا برتن کی سی مثال ہے، جس میں کسی کو پینے کے لیے جو دیں گے اُسی طرح کے برتن میں دیں گے،جیسا کہ چائے کپ میں، او ر پانی گلاس میں۔ یہ پیش کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اظہار  کس صورت میں کرنا چاہتاہے، یا پھر وہ کیا مواد پیش کرنا چاہ رہا ہے! اُسی طرز کی صنف کو اپنا کرپیش کیا جاسکتا ہے ۔

تصانیف

1.    عمارؔ اقبال کے پہلے شعری مجموعے ”پرندگی“ کی تقریبِ رونمائی 2 فروری 2015ء کو کراچی آرٹ کونسل میں ہوئی تھی، جس میں ڈاکٹر ستیہ پال آنند، پروفیسر سحر انصاری، میراحمدنوید اور فاطمہ حسن صاحبہ مدعو تھے۔

2.    عمار اقبال کی تصانیف میں سے ایک پاول بھی انگریزی زبان میں لندن  سے طبع ہوا  ہے، جو کہ شاعری اور ناول(Poetry+Novel) کو جمع کرکے پاول کہلایا،جس میں فلسفیانہ فکشن ہے ، آپ کی کتاب ”پرندگی“ اور چند تازہ غزلیں شبھم شرما(शुभम शर्मा) نے ہندی میں ترجمہ کرکے بھارت میں بھی چھاپ دی ہیں۔

3.    عمار اقبال نے ایک کتاب ”پرونیٹ“ (نثری نظموں پر مشتمل) بھی لکھی ہے جو کہ نثری سانیٹ ہوتی ہے، لفظِ ”پرونیٹ“ انگریزی کے دو لفظ (Prose+Sonnet) مل کر پرونیٹ بن جاتا ہے۔ آپ کے مطابق پاکستان میں کوئی دو اڑھائی سو نوجوان پرونیٹ لکھ رہے ہیں، جو کہ مختلف ادبی رسالوں میں چھپ رہے ہیں،  سب نے اُس میں اپنی اپنی تبدیلیاں کی ہیں، کسی نے اُس کو چودہ سطروں میں لکھا ہے،کسی نے تھوڑی بہت تبدیلی کی ہے۔

اُردو زبان میں پرونیٹ کے مؤجد عمار اقبال ہی ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ اُسلوب میں نے نثری نظم کا ”علاج“ کرنے کے لیے متعارف کروایا ہے۔بات صرف یہ ہے کہ نثری سانیٹ (پرونیٹ) میں لائنز نثر کی ہیں جس میں کوئی میٹر(وزن) نہیں ہے، اور اِس میں نظمیت قوافی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ عمارکہتے ہیں کہ خود پرونیٹ لکھنے  میں بھی زیادہ مزا اس لیے آیا کہ اس میں ایکسپریشن (اپنی ذات کااظہار کرنے) کا زیادہ سے زیادہ موقع ملتا ہے۔

عمارؔ اقبال کی دیگر کُتب کا مفصل تعارف اس تحریر کے دوسرے حصے میں آ رہا ہے، اور ان شاءاللہ اُس سے بھی اگلے حصہ میں آپ کے متعلق کچھ ہم عصراہلِ علم کی آراء شامل ہوں گی۔اور اس کے بعد ان کے کلام پر سیرحاصل گفتگو ہوگی، پھر آپ کے مفصل  حالتِ زندگی بیان ہوں گے، یُوں یہ ایک پوری کتاب کی صورت اختیار کرجائے گی۔

نمونۂِ  کلامِ عمارؔ

بلبلیں نغمہ سرا ہوں مدحتِ غالب کے بعد

لب کشا عمار ہونا منتِ غالب کے بعد

شاہ کے دربار میں غالب کئی آئے گئے

حضرتِ غالب سے پہلے حضرتِ غالب کے بعد

جاری ہے۔۔۔

اتوار، 6 جنوری، 2019

ڈاکٹر کمار وشواس کے ساتھ خواب میں دوسری ملاقات

جہاں تک مجھے یاد ہے ڈاکٹر کمار وِشواس آج دوسری بار میرے خواب میں آیا ہے، آج کے خواب میں میرا ذہن دیدِ قبلاً (فرانسیسی:déjà vu) کے طور پر گزشتہ خواب کو ملاقات سمجھ بیٹھا تھا، میرا ذہن آج کے خواب کو ڈاکٹر کمار کی لاہور میں دوسری مرتبہ آمد مان رہا تھا، دونوں مرتبہ اُن کی تشریف آوری پُرانے لاہور میں ہوئی، یہ دہلی گیٹ سے لے کر شاہ عالم گیٹ اور گندے نالے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ موری گیٹ تک کا سفر رہا، وہاں پہلی اور دوسری مرتبہ، شیعہ حضرات کے مذہبی مقامات پر کسی نہ کسی مجلس وغیرہ میں اکٹھے ہوتے رہے۔
یہ دید قبلاً کیا ہے، آپ کو کسی کام کے کرتے وقت احساس ہوتا ہے کہ شاید آپ یہ جملہ پہلے بھی کبھی کہہ چکے ہیں، یا اس جگہ سے پہلے بھی گزر چکے ہیں، یا یہ واقعہ بعینہٖ پہلے بھی وقوع پذیر ہو چکا ہے، حالانکہ آپ اُس جگہ کو پہلی بار دیکھ رہے ہوتے ہیں یا وہ معاملہ پہلی بار وقوع پذیر ہوتا ہے، تو اس فریب عقلی کو ”دید قبلاً“ کہا جاتا ہے۔ میرے ذاتی تجربات کی روشنی میں یہ آپ کا ایک خواب ہی ہوتا ہے، جو کسی واقعہ کی ہُوبہو کاربن کاپی کی مانند پہلے ہی آپ کے ذہن میں محفوظ ہو جاتا ہے تو آج کے خواب میں ڈاکٹر صاحب کی ملاقات کو دوسری اسی لیے کہہ رہا ہوں کہ پہلے والا خواب ایک واقعہ ہی مانا جا رہا تھا۔
گزشتہ خواب میں کسی ٹانگہ وغیرہ کا سفر بھی شامل تھا اور ہماری دونوں کہانیاں اسی گندے نالے کے گرد گھومتی ہیں، پہلے خواب میں انہوں نے شاید مجھے کوئی کتاب دی تھی یا کتاب کے متعلق کوئی اور معاملہ تھا، آج کی ملاقات میں،  کسی لڑکی کی شادی کے انتظامات کی باتیں ہوتی ہیں تو میں کہتا ہوں کہ یہ ڈاکٹر صاحب انڈیا سے آئے ہیں اِن کے پاس بہت پیسہ ہے ان سے کہو کہ کچھ رقم دیں یہ تو وہاں مائیک پر کہتے ہیں، ”آپ بھارت کے سب سے مہنگے کَوِی کو سُن رہے ہیں“۔۔۔ مَیں نے انہیں اُس (خواب والی) ملاقات کی تاریخ، مقام اور گفتگو بتائی تو وہ میرے حافظے کے معترف نظر آئے، چونک آج بھی ہم کسی شیعہ پارٹی میں مجتمع تھے تو وہاں کھانے کے دوران وہ مجھے اپنی شاعری، اپنے لہجے میں سُنانے کی فرمائش کرتے رہے، میں نے کہا کہ کھانے کے بعد سُناتے ہیں، اگلے منظر میں ایک ہمسائیہ لڑکی مجھے ایک پرچی پر کچھ لکھ کر دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ڈاکٹر کو خُوب کھری سی جُگت مارنا، اُس پرچی کے ساتھ ایک سو روپے کا نوٹ بھی ہوتا ہے۔
اگلے منظر میں ایک ہمسائیہ لڑکا مجھ سے کچھ ٹائپ کرنے کی درخواست کرتا ہے، میں نے کہا کہ کمپیوٹر پر لکھوا لو، ایڈیٹنگ میں آسانی رہے گی، پھر ڈاکٹر صاحب ایک مجلس میں ہوتے ہیں تو وہاں وہ میرے کچھ الفاظ سے جانے کیا تاثر لیتے ہیں، اس کے بعد میں سیڑھیاں اُتر کر نیچے جاتا ہوں اور ایک ڈپارٹمنٹ نما کسی جگہ جاتا ہوں پتہ نہیں وہاں کیا کرنے  جاتا ہوں، پھر اوپر آتا ہوں تو میری سائیڈ والی جیب میں سے آدھی پرچی اور ایک سو روپے کا نوٹ غائب ہوتا ہے یہ دونوں چیزیں ڈاکٹر کمار نے اپنا حق سمجھ کر نکال لی ہوتی ہیں۔ میں وضاحت کی کوشش کرتا ہوں لیکن بے سود،  اُس ٹائپنگ والے لڑکے نے کسی کرکٹ ٹیم کا سوشل میڈیا پر کوئی گروپ وغیرہ بنانا ہوتا ہے بقیہ خواب دُھندلا ہے
گزشتہ خواب میں دہلی دروازے کے گیٹ پر ٹانگے کی سواری میں میری والدہ بھی ساتھ تھیں، جبکہ اس خواب میں بھاٹی گیٹ کے باہر بائیں ہاتھ شیخ ہندی مارکٹ کے ساتھ جہاں اسلامیہ سکول ہے، وہاں ہم نے ایک بہت بڑا مکان مہنگے کرایہ پر لیا ہوا ہے اور وہاں ایک پوش ایریا کی مانند بڑے مکانات اور خوبصورت رہائش گاہیں قائم ہیں۔
ڈاکٹر کمار کی پہلی وڈیو میں نے ؁2012ء میں سُنی جو کہ ؁2002ء کی ریکارڈنگ ہے۔ اس کے بعد درجنوں وڈیوز کو گھنٹوں دیکھا، اور کئی انٹرویوز دیکھے، اس کے علاوہ سیاسی انٹرویوز دیکھے، غالباً ”آپ کی عدالت“ میں دو بار انٹرویوز دیکھے۔ اور کئی اکیڈیمیز میں اُن کے بھاشن سُنے، مجھے اُن سے اختلافات ضرور ہیں لیکن اتنے بھی نہیں کہ وہ خواب میں نہ آتے۔

جمعرات، 19 مئی، 2016

ندیم بھابھہ میری زندگی کا مؤثر ترین شاعر

ندیم بھابھہ میری زندگی کا مؤثر ترین شاعر ہے، میں اُسے تمام لوگوں کے لئے سب سے عظیم شاعر قرار نہیں دے رہا، دراصل مجھے شاعری کے فنی محاسن کا ادراک نہیں، پر اسے پڑھنے میں لطف و سرور پاتا ہوں بچپن سے لے کر اپنی سوچوں کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ شاعری میں سے نت نئے مفاہیم و مطالب اخذ ہوتے رہے ہیں، آج کل مجھے اکثر شعرا کا (نیا/پرانا) کلام سیاسی لگتا ہے۔ مجھے کسی بھی غزل یا نظم میں سے اُس (کہے جانے کے) دور کے سیاسی حالات کے بارے شاعر کے خیالات کا اندازہ ہوجاتا ہے، ممکن ہے یہ مبالغہ آرائی ہو، بہرحال سیاست، معاشرت اور سماج کا اثر کلام میں جھلکنا ایک فطری امر ہے۔
مجھے ولی دکنی اور خواجہ درد کے کلام کو سمجھنے کے لئے جس ذہنی کاوش کی ضرورت تھی اس سے ذرا تہی دامن/سہل پسند رہا ہوں کیونکہ
؎                 اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
بہرحال مرزا غالب سے جیسے میری یاری رہی ہو، حقیقتاً کلامِ غالب میں سے بھی میں نے چند اردو اشعار پڑھے ہیں۔ رہی بات فارسی کی تو اس کے میں قریب نہیں گیا، پھر بھی غالب جیسے دل پہ اثر کرتا ہے بیسویں صدی میں فیضؔ اور ساغر صدیقی کا کلام مجھے چھو کر گزرا، البتہ فیض کے سیاسی نظریات کا میں ہوبہو قائل نہیں اس کی اردو دانی کا معترف ہوں (پڑھے لکھے حضرات سے گزارش ہے کہ میں ”چھوٹا منہ بڑی بات“ کر رہا ہوں کیوںکہ میں نے کلامِ فیض میں سے بھی ایک، دو غزلیں ہی پڑھی ہیں) جبکہ ساغرؔ میرے دل کی بات کرتا ہے، ساغر جیسے عظیم لوگ واقعی صدیوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں وہ بیسویں صدی کا سب سے مظلوم شاعر ہے مجھے نہیں معلوم شعراء (نقادوں) نے اُسے آج تک ”داخل دفتر“ کیوں رکھا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انیسویں صدی کا غالبؔ بھی ایک طویل مدت تک اسی ظُلم کا شکار رہا پھر بیسویں صدی میں جاکر شعرا اور ادیبوں نے اسے اپنا امام مانا۔
بہرنو، اب محمد ندیم بھابھہ کی بات کرتا ہوں ان کی شاعری کی پہلی کتاب ”میں کہیں اور جا نہیں سکتا“ مجھے منظور کے ردی کے گودام سے (تقریباً 2003ء یا 2004ء میں) ملی، ہم لوگ بچپن سے دیکھتے آئے ہیں کہ ردی پیپرز کا کام ہمارے گھروں تک پہنچا ہوا تھا۔ ردی ورقوں سے وابستہ ہونے کی وجہ سے بچپن سے مختلف النوع کتب و رسائل (بیشتر پرانے) پڑھنے کو ملے بلکہ جو ملا پڑھ ڈالا۔
میں اس کتاب کو گھر لے گیا، گھر ہمارا کیا تھا لاہور میں چوہان روڈ کے (بند روڈ) پار ایک سڑک دربارِ رفاعیہ کو جاتی ہے اس پر ایک بدبودار جگہ پہ (بطورِ کرایہ دار) بسیرا تھا۔ ان دنوں میں حفظِ قرآن پاک کا طالب علم تھا اور ”جامعہ حنفیہ عنایت صدیق“ میں زیرِ تعلیم تھا۔ سن 2003ء سے پہلے امی اور بہن گاؤں میں تھے پھر یہاں آئے تو ایک کمرہ نما گھر کرائے پر لیا، میں نے 2003ء کے اکتوبر تک چھبیس پارے حفظ کرلئے تھے بعد میں لاہور کی سڑکیں ماپنا شروع کر دیں ان دنوں ندیمؔ بھابھہ کی کتاب مجھے مل گئی، بچپن سے میں نے اپنی روح کو ایک گہری اداسی کا شکار پایا تھا جسے میں نہ آج تک جان پایا ہوں اور نہ ہی اس معمے کا کوئی حل مل سکا ہے۔
کتاب میں پہلے نعت تھی جسے پڑھ کر بہت راحت ہوئی، پھر
میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں
کسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوں
ایسی غزل سے کتاب کا آغاز ہورہا تھا تو تن بدن میں آگ لگنا ایک لازمی امر تھا اس کے بعد اکثر غزلوں پھر نظموں نے دِل موہ لیا۔ سن 2004ء میں میرا ایک خالہ زاد مدثر شریف وہاں آتا تو اسے میں بھابھہ صاحب کا کلام سناتا اور وہ جھرجھریاں لے کر رہ جاتا اور ہمیشہ میری سوجھ بوجھ کو ”انڈر مائن“ کرتا رہتا۔
شاید اس کتاب کی غزلوں کو کئی بار پڑھا تھا اور نظموں کو روح میں اتارا تھا جن میں اداسی اداسی کی کہانیاں مندرج تھیں، اسی لئے اس کتاب کے کئی مصرعے اور شعر سن 2010ء تک یاد رہے، کیونکہ میں نے وہ کتاب پھر واپس جاکر منظور کے حوالے کردی تھی کہ ”دیکھو یار! اس بندے نے کیا شاعری کی ہے وغیرہ وغیرہ“ اور وہاں سے وہ کتاب گم ہوگئی۔
سن 2010ء میں مجھے انٹرنیٹ تک رسائی ہوئی تو گوگل کیا ندیم بھابھہ، پھر وہ جناب فیس بک پر بھی مل گئے۔
اب محمد ندیمؔ بھابھہ کی ایک غزل پیش کرکے اجازت چاہتا ہوں۔

اس کی باتیں، اس کا لہجہ اور میں ہوں
نظم پڑی ہے مصرعہ مصرعہ، اور میں ہوں

ایک دیا رکھا ہے ہوا کے کاندھے پر
جس کا لرزتا، جلتا سایا اور میں ہوں

اس گاؤں کی آبادی بس اتنی ہے
شہر سے بھاگ کے آنے والا اور میں ہوں

چاروں جانب تنہائی کے لشکر ہیں
بے ترتیب سا ایک ہے کمرہ اور میں ہوں

ویسے تو سب لوگ یہاں پر مردہ ہیں
اس نے مجھ کو زندہ سمجھا، اور میں ہوں