‏English Books لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏English Books لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 18 جنوری، 2025

محمد قیوم اعوان: ضیاء النبیﷺ کے مترجم

  تحریر و تحقیق:عبدالرزاق قادری، لاہور، پاکستان

نام

محمد قیوم اعوان

تاریخ پیدائش

یکم جنوری 1957ء؁

جائے پیدائش

پنڈی گھیب، اٹک، پنجاب، پاکستان

تاریخ وفات

30 جنوری، 2012ء؁

جائے تدفین

آبائی گاؤں، پنڈی گھیب، پاکستان

پیشہ

بیوروکریٹ، تصنیف، ترجمہ

وجۂ شہرت

ضیاء النبیﷺ کا انگریزی ترجمہ

تصانیف کی تعداد

27

محمد قیوم اعوان(1 جنوری 1957 – 30 جنوری 2012ء) پاکستان کے معروف سول سرونٹ، مصنف، اور مترجم تھے۔ وہ جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کی تصنیف ضیاء النبی ﷺ کے انگریزی ترجمے کے لیے مشہور ہیں، جو سیرت النبی ﷺ پر ایک مایہ ناز اردو کتاب ہے۔ ان کی زندگی اور خدمات میں انتظامی مہارت اور ادبی ذوق کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
محمد قیوم اعوان 1 جنوری 1957 کو تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ایک سادہ اور روحانی گھرانے میں پرورش پانے والے اعوان نے بچپن ہی سے ادب اور اسلامی علوم میں دلچسپی پیدا کی۔ ان کی علمی کامیابیاں انہیں سرکاری ملازمت میں لے گئیں، جہاں انہوں نے ایک قابل منتظم اور دانشور کے طور پر اپنا لوہا منوایا۔
سرکاری خدمات


آپ نے پنجاب سول سروس (PCS) میں شمولیت اختیار کی اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے، جن میں شامل ہیں:
• ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر (DCO) حافظ آباد
• ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا
• اسسٹنٹ کمشنر (AC) تلہ گنگ
• ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر (ریونیو) چکوال
• ڈسٹرکٹ لینڈ ریونیو آفیسر (DLR) لاہور
• ڈسٹرکٹ کلیکٹر چکوال
• ڈائریکٹر جنرل (DG) اسلام آباد/راولپنڈی
اُن کا دورِ ملازمت عوامی فلاح و بہبود اور دیانت داری سے عبارت تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں اور عوام میں بے حد احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔
ادبی خدمات
محمد قیوم اعوان نے کل 27 کتب تصنیف کیں، جن میں ذاتی ترقی، بیوروکریسی، روحانیت، اور اسلامی تعلیمات کے موضوعات شامل ہیں۔ ان کا سب سے مشہور کارنامہ ضیاء النبی ﷺ کا انگریزی ترجمہ ہے۔
ضیاء النبی ﷺ کا ترجمہ
• اصل کتاب: جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کی تصنیف، جو سیرت النبی ﷺ پر مبنی ہے جوکہ( 3000 سے زائد صفحات پر مشتمل) سات جلدوں پر محیط ہے۔ضیاء النبی کا مطلب ہے ”نبی کا نور“۔ یہ کتاب بیسویں صدی کی اہم ترین اردو تصانیف میں شمار ہوتی ہے، جس کا موضوع حضور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہے۔یہ کتاب پیر محمد کرم شاہ الازہری (1918-1998) نے لکھی، جو کہ پاکستان کے معروف اسلامی اسکالر، جج اور صوفی بزرگ تھے۔
• پہلی مرتبہ یہ کتاب ضیاء القرآن پبلیکیشنز سے 1995 میں شائع ہوئی اور بعد ازاں محمد قیوم اعوان نے اسے انگریزی میں ترجمہ کیا، جو 2005 میں مکمل ہوا۔
1) پہلی جلد میں اسلام سے پہلے مختلف تہذیبوں (ایران، یونان، مصر، ہندوستان، چین اور جزیرہ نما عرب) کی تاریخ اور سماجی حالات کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔اس جلد کا مقصد ان معاشروں کی اخلاقی، سماجی اور مذہبی حالت کو بیان کرنا ہے تاکہ اسلام کے آنے سے پہلے کے حالات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
2) دوسری جلد نبی کریم ﷺ کی ولادت، بچپن، پہلی شادی، وحی اور مکی زندگی کی مشکلات پر مبنی ہے۔
3) تیسری جلدمیں ہجرت، مدینہ میں آمد، غزوات اور ”واقعہ افک“ شامل ہیں۔
4) چوتھی جلدمیں غزوہ خندق، صلح حدیبیہ، مکہ فتح، حج اور وصال بیان ہوا ہے۔
5) پانچویں جلد نبی کریم ﷺ کے فضائل، اخلاق، معجزات اور درود و سلام بیان کرتی ہے۔
6) چھٹی جلد: اسلام سے پہلے یہود و نصاریٰ کے حالات اور مستشرقین کے اعتراضات پر مشتمل ہے۔
7) ساتویں جلدمیں مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات اور سیرتِ نبوی ﷺ کا دفاع مذکور ہے۔
• کتاب کے اہم نکات:
اسلام سے پہلے کی دنیا کی حالت:کتاب کے پہلے حصے میں مختلف معاشروں کی اخلاقی اور روحانی زوال کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔مصنف نے تحقیق کی بنیاد پر یہ دکھایا ہے کہ ان تہذیبوں میں ناانصافی، ظلم، اور طبقاتی فرق عام تھے۔مثال کے طور پر،ایران کے بادشاہ اردشیر کی انصاف پسندی کو سراہا گیا۔یونان کے فلسفی افلاطون کی غیر انسانی نظریات (جیسے بیمار اور معذور بچوں کو قتل کرنا) پر تنقید کی گئی۔
• اسلام کا پیغام:
مصنف نے بتایا کہ اسلام نے کس طرح اس تاریک دور میں روشنی اور انصاف کا پیغام دیا،نبی کریم ﷺ کی تعلیمات نے مساوات، محبت، اور بھائی چارے کی بنیاد رکھی۔یہ کتاب نبی کریم ﷺ کی سیرت پر ایک جامع تحقیق اور مسلمانوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔مصنف اور مترجم دونوں نے برسوں کی محنت سے اس کتاب کو مرتب کیا، جس پر امتِ مسلمہ ان کی شکر گزار ہے۔یہ کتاب اسلامی تاریخ اور سیرتِ نبوی ﷺ کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے اور مستشرقین کے اعتراضات کا مدلل جواب فراہم کرتی ہے۔
کتاب میں مختلف اسلامی کتب، تاریخی حوالہ جات، اور مستند ماخذات کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سیرت ابنِ ہشام،طبری کی تاریخ،ول ڈیورانٹ کی ”ایج آف فیتھ“اور دیگر کئی مشہور کتب شامل ہیں۔
• ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
• تکمیلِ ترجمہ: 17 جولائی 2004 (9 ربیع الثانی 1426ھ)۔
• مترجم کی جانب سےنظرثانی کی تکمیل: 11 اکتوبر 2005 (7 رمضان المبارک کی شب)۔
• اشاعت: میرے پاس انگریزی زبان میں ترجمہ شُدہ ”ضیاء النبیﷺ“ کا دوسرا ایڈیشن موجود ہے جوکہ دسمبر 2013ء؁میں شائع ہوا۔ترجمہ شدہ کتاب میں پروف ریڈنگ کی(ادارتی) غلطیاں موجود ہیں، جو پڑھنے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔
یہ ترجمہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور برٹش لائبریری سمیت دیگر مشہور کتب خانوں میں موجود ہے۔
دیگر تصانیف
ان کی دیگر اہم کتب میں شامل ہیں:
• کنٹرول مائنڈ
• میں ایک عام پاکستانی ہوں
• بیوروکریسی کا زوال
• انوکھی جنت
• پاور گیم
• لا شریک
• کامیاب بزنس مین بنیے
• ہر بچہ کامیاب ہو سکتا ہے
• احسن البیان (ہدیہ درود و سلام)
یہ کتب ان کی علمی گہرائی اور سماجی و روحانی ترقی کے لیے ان کے عزم کی عکاس ہیں۔


وراثت
سوشل میڈیا کی اطلاعات کے مطابق محمد قیوم اعوان 30 جنوری 2012 کو وفات پا گئے اور اپنے آبائی علاقے پنڈی گھیب کے قریب اپنے گاؤں میں دفن کیے گئے۔ ان کی خدمات اور تصانیف آج بھی تحقیق و تعلیم کے میدان میں مشعل راہ ہیں۔
میں (عبدالرزاق قادری) نے ان کی خدمات کو محفوظ رکھنے اور ان کے کام کو عام کرنے کے لیے یہ حقیر سی کوشش کی ہے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے استفادہ کر سکیں۔
حوالہ جات اور مزید معلومات کے لئے
• ضیاء القرآن پبلشرز، لاہور
• عبدالرزاق، ای لرننگ ہولی قرآن (www.elearningholyquran.com)
• اردو ویکیپیڈیا مضمون: محمد قیوم اعوان (مرتّبہ:عبدالرزاق قادری)
• ساگر پبلشرز، لاہور
• پروفیسر الطاف حسین ظفر، تلہ گنگ


جمعرات، 3 دسمبر، 2015

ڈاکٹر محمد ہارون برطانوی نومسلم پروفیسر

ڈاکٹر محمد ہارون متوفیٰ: 1998ء (پیدائشی نام: Alfred Neville May) کیمبرج یونیورسٹی کے فاضل (پی ایچ ڈی) اور ایک نو مسلم تھے۔ وہ 1944ء کو لیور پول, برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1970ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی پھر 1988ء کے دوران 44 سال کی عمر میں عیسائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کے بارے میں ایک درجن سے زائد کتب لکھیں۔ رضا اکیڈمی (برطانیہ) نے ان کی کتابوں کو شائع کیا اس کے علاوہ رضا اکیڈمی کے ترجمان 'دی اسلامک ٹائمز' میں ڈاکٹر صاحب کے کئی مضامین بھی چھپتے رہے۔ دراصل رضا اکیڈمی انٹرنیشنل کے بانی پیر محمد الیاس کشمیری کی ترغیب پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے قبولِ اسلام کی وجوہ پر مبنی پہلی کتاب لکھی پھر یہ سلسلہ چل نکلا، ایک عرصے تک ڈاکٹر صاحب رضا اکیڈمی کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ ان کی کچھ کتابیں (انگریزی، اردو) آن لائن دستیاب ہیں۔ ذیل میں ان کی چند کتب کے عنوانات درج ہیں۔

1۔ امام احمد رضا خان بریلوی کی عالمی اہمیت 1994ء
2۔ مسلمانوں میں وحدت کیسے قائم کی جائے
3۔ حزب التحریر کے بارے میں مسلمان کے لئے ایک انتباہ
4۔ اسلام کا سماجی ڈھانچہ: روایتی اسلام میں معاشرے کی نوعیت
5۔ سورہ یسین (ترجمہ)
6۔ غوث اعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کی عالمی اہمیت 1995ء
7۔ میں نے اسلام کیوں قبول کیا 1990ء
8۔ خدا کی حکمرانی: جدید دنیا کے مسائل، سنی اسلام کے جوابات 1994ء
9۔ امام احمد رضا بریلوی کی اصلاحی حکمتِ عملی 1997ء
10۔ اسلام اور تصورِ ریاست 1997ء
11۔ اسلام اور خواتین 1995ء
12۔ اسلام اور سزا 1993ء
13۔ اسلام اور شراب 1994ء
14۔ امام احمد رضا خان بریلوی (رحمۃاللہ علیہ) کے 1912ء کے چار نکاتی پروگرام کی اہمیت اور اس پر لائحہ عمل 1996ء
15۔ قرآن کی اہمیت اور حقیقت 1994ء
16۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (حضور نبی کریم کی سالگرہ) 1994ء
17۔ میں نے اسلام کیوں قبول کیا 1990ء (اشاعتِ اول)
18۔ اسلام اور سائنس کی حدود 1995ء
19۔ امام احمد رضا خان کی عظیم کاوشیں 2005ء

کتابیں مفت ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کریں۔
  1. انگریزی How to Achieve Muslim Unity: https://yanabi.files.wordpress.com/2009/01/unity.doc
  2. انگریزی World Importance of Ghaus al Azam Hazrat Sheikh Muhyiddin Abdul Qadir Jilani 1995 : http://tableeghseerat.com/English%20Books/Life%20Of%20Ghaus%20-E-Azam.pdf
  3. انگریزی Importance of the 1912 Four-Point Programme of Imam Ahmad Raza Khan Barelvi (Rahmatullahi Alaih) and How to Carry it Out 1996 : http://www.yanabi.wordpress.com/files/2009/01/4point-plan.pdf
  4. انگریزی ISLAM AND ALCOHOL : http://www.spiritualfoundation.org.uk/index.php/academic/146-islam-and-alcohol
  5. انگریزی The World Importance of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi : http://afkaremuslim.blogspot.com/2013/08/the-world-importance-of-imam-ahmed-raza.html
  6. اردو، امام احمد رضا خان قادری بریلوی کی عالمی اہمیت : http://afkaremuslim.blogspot.com/2013/05/the-world-importance-of-imam-ahmed-raza.html
  7. اردو، اسلام اور سائنس کی حدود :
  8. http://books.nafseislam.com/details.php?book_id=3063&book=islam-aur-science-ke-hadood
  9. اردو، اسلامی ریاست کا تصور :
  10. http://books.nafseislam.com/details.php?book_id=2741&book=islami-rayasat-ka-tasawwurr
  11. اردو، میں نے اسلام کیوں قبول کیا :
  12. http://www.marfat.com/BookDetailPage.aspx?bookId=b1b99920-de74-4025-9b77-efd8dd022681
  13. اردو، امام احمد رضا خان کی عظیم کاوشیں :
  14. http://www.marfat.com/BookDetailPage.aspx?bookId=7c5145df-9c95-4046-bed7-5ad64e722d38


نوٹ: اردو، انگریزی اور ہندی ویکیپیڈیا پر ڈاکٹر صاحب کی سوانح عمری کا مضمون میں نے لکھا ہے اور میرے پاس رضا اکیڈمی اور ڈاکٹر مرحوم کی مزید کتابیں دستیاب ہیں جو جلد ہی آن لائن میسر ہوں گی۔ ان شاء اللہ۔ عبدالرزاق قادری

منگل، 17 نومبر، 2015

سعودی عرب اور وہابیت کی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

سعودی عرب اور وہابیت کی تاریخ (History of Saudi Arabia & Wahabism)
مصنفانور ہارون
زبانانگریزی (اردو سے ترجمہ شدہ)
موضوعتاریخِ سعودی عرب
صنفتاریخ
ناشرپبلیشر Xlibris (ریاست ہائے متحدہ امریکا)
تاریخ اشاعت
سن 2014ء [1]
تاریخ اشاعت اردو
شعبان 11، 1398 ہجری جولائی 1978ء اور جون 2008ء [2]
صفحاتصفحات 260
آئی ایس بی این1493181483

سعودی عرب اور وہابیت کی تاریخ (2014) انگریزی زبان میں، انور ہارون کی لکھی ہوئی (اردو سے ترجمہ شدہ) ایک کتاب ہے جس کا موضوع سعودی عرب اور وہابیت کی تاریخ ہے۔ اس کتاب کا ماخذ پاکستانی مفتی عبدالقیوم ہزاروی قادری (متوفی 2003ء) کی اردو کتاب "تاریخ نجد و حجاز" ہے۔[3] تاہم یہ انگریزی ترجمہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے شائع ہوا ہے۔ [4]

اسلوب

انور ہارون نے سعودی عرب اور وہابیت کے ایک ناقد کا کردار ادا کیا ہے، مصنف نے وہابیت اور سعودی عرب کو دہشت گردی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ دیباچے میں وہابیوں پرلکھا ہے:
”* "Now they have changed their title from Wahabis to Ahl e Hadeeth and now as Salafis, they are given generous aid from Saudi Arabia and other Middle East countries and they are misguiding the young generation of the Muslims around the world and mass killing in the name of jihad is ongoing by Al Qaida, Taliban and many others. l got serious in finding out the cause of this bloody change and I happened to read the book “Tareekh Najad-o-Hijaz” written in Urdu language. The book also gives the details about Wahabisim, so it is named as “History of Saudi Arabia and Wahabisim. Further I have added photographs and illustrations of concerned people, historical places and mosques in this regard"
  • ترجمہ: اب وہ وہابیوں سے عنوان تبدیل کر کے اہل حدیث اور سلفی بن بیٹھے ہیں انہیں سعودی عرب اور دیگر مشرق وسطی کے ممالک سے وافر امداد دی جاتی ہے وہ مسلم دنیا کی نوجوان نسل کو، جہاد کے نام پر اکسا کر دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کے لئے گمراہ کر رہے ہیں۔ایسا کردار القاعدہ، طالبان اور بہت سے دوسرے گروہوں کی طرف سے جاری ہے۔ لہٰذا میں نے اس خونی تبدیلی کی وجہ سنجیدگی سے تلاش کی ہے اور مجھے اردو زبان میں کتاب "تاریخ نجد و حجاز" پڑھنے کو مل گئی۔ میری یہ کتاب (تاریخِ سعودیہ کے ساتھ ساتھ) وہابیت کے متعلق بھی معلومات فراہم کرتی ہے اس لئے اس کا نام سعودی عرب اور وہابیت کی تاریخ رکھا جاتا ہے۔ مزید بآں میں نے اس سلسلے میں تاریخی مقامات، مساجد اور اہم لوگوں کی تصاویر اور عکاسی کو شاملِ اشاعت کر لیا ہے۔
“








حوالہ جات



  1. ^ http://www.amazon.com/History-Saudi-Arabia-Wahabism-Haroon/dp/1493181483
  2. ^ https://books.google.com.pk/books?id=J76QBQAAQBAJ&printsec=frontcover&source=gbs_ge_summary_r&cad=0#v=onepage&q&f=false
  3. ^ https://books.google.com.pk/books?id=J76QBQAAQBAJ&dq=Abdul+Qayyum+Qadri&source=gbs_navlinks_s
  4. ^ https://books.google.com.pk/books?id=RklwAwAAQBAJ&pg=PA4&dq=History+of+Saudi+Arabia+%26+Wahabism+Anwar+Haroon&hl=en&sa=X&ved=0CBwQ6AEwAGoVChMIwurH3diVyQIV18SOCh0lMwMt#v=onepage&q=History%20of%20Saudi%20Arabia%20%26%20Wahabism%20Anwar%20Haroon&f=false
  5. ^ https://books.google.com.pk/books?id=RklwAwAAQBAJ&pg=PA12&dq=History+of+Saudi+Arabia+%26+Wahabism+Anwar+Haroon&hl=en&sa=X&ved=0CBwQ6AEwAGoVChMIwurH3diVyQIV18SOCh0lMwMt#v=onepage&q=History%20of%20Saudi%20Arabia%20%26%20Wahabism%20Anwar%20Haroon&f=false