منگل، 9 اگست، 2016

فلک کے اُس پار

پاکستان میں ہر دوسرا بندہ عدمِ تحفظ کا شکار ہے جبکہ  تحفظ کے عدم کا شکار وہ بھی ہو سکتے ہیں جو  ”عدمِ تحفظ کے شکار“ نہیں ہیں۔ یہاں آپ کو بیسیوں قِسم کے خطرات لاحق ہیں، اخبار اور ٹی وی چینلز ملک بھر کی سکیورٹی صورت حال کے گواہ ہیں۔ نہ بچے محفوظ ہیں اور نہ ہی بڑے۔ کیا درسگاہیں، اور کیا عبادتگاہیں ! یہاں مارکیٹیں دہشت کا گھر ہیں اور تفریح گاہیں لہولہان ہیں۔ سڑکوں پہ خوف کا پہرہ ہے گلیوں میں درندگی کا راج ہے۔
 صرف لاہور کی بات کرلیں جس میں تقریباً دو کروڑ لوگ بستے ہیں وہاں ایک کینٹ بھی ہے، چھ سات سے زائد وزیرِ اعلیٰ ہاؤس ہیں، ایک پنجاب اسمبلی ہے، قُرب میں ایک گورنر ہاؤس ہے مضافات میں ایک شہر رائے ونڈ ہے وہاں بھی گورنمنٹ کے لوگ ہیں، ملک میں 26 ایجنسیوں کے وجود کی بات جنابِ وزیرِ داخلہ نے کی تھی۔ لاہور میں پنجاب پولیس ہے، ایلیٹ فورس ہے، ڈولفن فورس ہے، محافظ فورس ہے، کوئک رسپانس فورس ہے، شہری دفاع فورس ہے۔ لاہور سٹی ٹریفک پولیس ہے، ایل ٹی ای ہے۔ پرائیویٹ سکیورٹی ادارے ہیں،عوام ہیں،قومی اسمبلی کے ارکان  ہیں، صوبائی اسمبلی کے ارکان اور کئی وزراء ہیں۔ یونین کونسلز کے چیئرمین ہیں اور دیگر کئی قسم کے کونسلرز ہیں، عہدے داران ہیں۔ گلی محلوں میں چوکیدار ہیں۔
پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جیتے جاگتے لوگوں کے سامنے ”بُرے لوگ“ آتے بھی ہیں اور معصوم بچوں کو اٹھا کر لے بھی جاتے ہیں۔ اُن کے جسم سے قیمتی اعضاء نکال کر میتوں کو پھینک بھی جاتے ہیں اور انہیں کوئی دیکھ تک نہیں پاتا؟
یہ گُردے اور دوسرے اعضاء لازمی طور پر بیرونِ ملک بھیجے جاتے ہوں گے۔ ان کے بھیجتے وقت شاید، میڈیکل ڈاکٹرز کی تصدیق کی ضرورت ہوتی ہوگی۔ وہ تصدیق کون کرکے دیتا ہے؟ ملک سے باہر یہ چیزیں اس قدر آسانی سے کیسے بھیجی جا سکتی ہیں۔
یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، یا اچانک واردات کا آغاز نہیں ہوا۔ یہ پُرانی باتیں ہیں۔ بچے غائب ہونے کی خبریں بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ کہا جاتا تھا  کہ وہ عرب ممالک میں بھیجے جاتے تھے اور عربی درندے اپنے اونٹ کو تیز بھگا کر ”دوڑ“ جیتنے کے لیے معصوم بچوں کو اونٹوں پر بٹھاتے تھے، یہ کام ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور پاکستان جیسے بہت سے ”آزاد اور خود مختار“ ممالک میں سے ایسے بچے اغوا ہوتے ہیں اور درندوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
ملکِ شام و عراق، اور فلسطین و کشمیر کے حالات پر بات کرنے کا موقع اُسے ملے جو خود محفوظ ہو، جس کے پاس کھانے کے روٹی ہو بچوں کو مناسب مفت تعلیم مِل رہی ہو، اُن کی نوجوان بچیاں محفوظ ہوں وہ مسجد میں جا کے بلا خوف و خطر چار رکعات نماز ادا کرکے گھر واپس آ جانے کی اُمید رکھتا ہو۔ جس کے شہروں کی سڑکوں پر ٹریفک کے قوانین کی پابندی ہوتی ہو۔
تُرکی ، امریکہ اور برطانیہ کی سیاست پر وہ بات کرے جس کے گھر میں بجلی آتی ہو، اُس کی دوکان کا کاروبار بجلی اور انٹرنیٹ کی فراہمی کے تعطل کی وجہ سے بند نہ ہو۔
پاکستان  بنانے کا مقصد کب کا پُورا ہو چکا ہے۔ اب یہاں سہاگنوں کے سُہاگ نہیں اُجڑتے ، کسی کے بچےریاست کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے  یتیم نہیں ہوتے۔ مزدور صرف آٹھ گھنٹے انسانوں کی طرح استعمال کیے جاتے ہیں، انہیں اُن کا پورا حق ادا کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں  ایک مزدور کو ماہانہ ایک تولہ سونے کے  برابر تنخوہ ملتی ہے اور وہ ہر ہفتے میں ایک چھٹی سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔ سال بھر میں اُسے تمام ”پبلک چھٹیوں“ پر فیکٹری اور ملز سے باہر جانے کی اجازت ہوتی ہے اور ساتھ چھٹی منانے کا خرچہ الگ سے ملتا ہے۔ یہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نظام کی سُنت پر عمل کیا جارہا ہے۔ ہر بچے کو پیدائش کے وقت سے وظیفہ ملنے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ساٹھ سال سے زائد عمر کے ہر شہری کو ماہانہ، گھر بیٹھے  ”عمرِ ضعیفی“ کا وظیفہ پینشن کے نام پر مل جاتا ہے۔ واپڈا ٹھیک سے بجلی سپلائی کر رہا ہے، پی ٹی سی ایل بہترین سروسز فراہم کر رہا ہے۔ پاک آرمی اور 26 ایجنسیوں کی ”مملکتِ خداداد“ میں گھسنے سے پہلے  دشمن کا پِتہ پانی ہو جاتا ہے۔ اب پاک آرمی، یو این او کے ساتھ سعودی عرب جیسے دیگر ممالک کو  امن افواج فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان کے سو فیصد افراد کو پینے کا صاف پانی میسر ہے، تعلیم مفت،علاج مفت، روزگار دہلیز پر دستیاب ہے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں اساتذہ ”زندگی کا درس“ دے رہے ہیں۔ علماء کرام تحقیق فرما کر قوم و ملت کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔
الحمدللہ! پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، صبح و شام لوگ نیوکلیئر کی روٹی  جے۔ایف 17 تھنڈر کے سالن کے ساتھ لگا کر کھاتے ہیں، ملک بھر کے ہر گھر میں روٹی کپڑا اور مکان پیپلز پارٹی کے حکمران پہنچا کر آتے ہیں۔ علاج معالجے کی مفت سہولیات تحریکِ انصاف  اپنی ذمہ داری سمجھ کر ہر شہری تک پہنچا آتی ہے، تعلیم، روزگار اور دیگر فلاحی کام (جیسا کہ سڑکیں بنانا اور چنیوٹ سے سونا وغیرہ نکالنا) پاکستان مُسلم لیگ (نون)  کے ذمہ ہیں اور بخوبی سرانجام دیئے جا رہے ہیں، پرویز مشرف صاحب ”کالا باغ ڈیم“ بنا کر مزید چار پانچ ہزار چھوٹے بڑے ڈیم بنانے کے منصوبوں پر عمل کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعتِ اسلامی والے کراچی جیسے ”عروس البلاد“ کی روشنیاں مرمت کرکے، سنوار رہے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کشمیر میں آزادی لے کر عطا فرما رہی ہے جس سے لاکھوں کروڑوں کشمیری مستفید ہو رہے ہیں، اور جے یو آئی (س) والے طالبان جیسے ”ناراض بھائیوں“ کو سمجھانے میں جُتے ہوئے کہ بھائی صاحبو! اب مان بھی جاؤ۔
جمعیت علمائے پاکستان کی باقیات والے کبھی فلسطین ایشو اور کبھی مصر کے حالات کو مانیٹر فرما رہے ہیں، مفتیانِ عظام، عوام الناس کو فاحشہ عورتوں کی وڈیوز دکھا دکھا کر منع فرما رہے ہیں کہ ایسے لعنتی لوگوں کی صحبت سے دُور رہو۔
الحمدللہ! اس چودہ اگست پر، پاکستان کے عمائدین پاکستان سمیت دنیا بھر میں، کشمیر، فلسطین، شام اور عراق کی آزادی کی نوید سُنا رہے ہوں گے۔ اب پاک فوج کو امریکی امداد اور ایف 16 کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ الحمدللہ! ہماری حکومت نے اپنے قرض خواہ، آئی ایم ایف کو ”گڈ بائے“ کہہ دیا ہے۔راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔
اس سب کے باوجود، لوگ بکواس کرنے سے باز نہیں آتے اور ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجتے رہتے ہیں خصوصاً سوشل میڈیا گالیاں بکنے کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ لہٰذا ملکی اخلاقی وقار کو قائم و دائم رکھنے کے لیے اور قوم کی اصلاح کے ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے کہ لوگ ”اچھے بچے“ بن کر رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بہن بھائی جیسا سلوک کریں۔ اس ضرورت کے تحت حکومتِ وقت وقتاً فوقتاً ”سائیبر کرائیم قوانین“ بناتی رہتی ہے، اس سے عوام کو خوفزدہ یا ہراساں ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ جب انہیں انٹرنیٹ کی دنیا سے باہر تمام سہولتیں اور تحفظ حاصل ہے تو انٹرنیٹ پر آ کر اپنا غصہ کیوں نکالتے ہیں۔

زمین پر تو حاصل نہیں تھا جن کو
فلک کے اُس پار تیرے منتظر ہیں

منگل، 12 جولائی، 2016

فرحت عباس شاہ

میں گزشتہ ہفتوں سے فرحت عباس شاہ کے بارے میں کچھ لکھنے کا سوچ رہا تھا لیکن سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا لکھوں! کیونکہ اُن کی شاعری کو باقاعدہ میں نے پڑھا نہیں تھا دو چار غزلیں پڑھ لینے سے ہم کسی شاعر کو نہیں پڑھ لیتے، میں اپنے دوستوں میں اکثر فرحت عباس شاہ کا ذکر کرتا رہتا ہوں، وہ بھی بھلے لوگ ہیں ورنہ کبھی پوچھ سکتے تھے کہ تُو شاہ صاحب کو کتنا جانتا ہے۔
شاید میرا پہلا تعارف سن 2005ء کے لگ بھگ مست ایف ایم 103 لاہور (ون او تھری) کے ایک پروگرام سے ”شہزادہ وریام“ نامی کردار سے ہوا۔
”ہی ہی ہی!!! میں شہزادہ وریام بولیندا پیاں، میں پی ایچ ڈی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ڈگریاں) کیتا ہویا اے“
اس پروگرام میں شاہ صاحب کا اپنا کلام بھی پیش کیا جاتا رہا جیسا کہ، ”یاداں جھنگ دیاں“ اور ”عشق بنایا پیر اساں“ وغیرہ۔
چونکہ یہ ایک پنجابی پروگرام تھا اس لیے اس میں پنجابی نشر ہوتی تھی ایف ایم 103 کا یہ خاصہ تھا کہ اُردو پروگرام میں سب باتیں اردو زبان میں اور پنجابی پروگرام میں اِسی زبان کا کلام وغیرہ
ہمارے گھر میں بڑے سے ریڈیو سیٹ پر یہی ریڈیو سٹیشن اکثر چلتا تھا باقی سٹیشنز کو کم ہی سُنا جاتا۔
میری عمر اُس وقت انیس برس تھی ایک دن میں سائیکل پر ایف ایم 103 کے دفتر (ایل۔ڈی۔اے پلازہ ایجرٹن روڈ) چلا گیا وہاں کوئی صاحب ”استقبالیہ“ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں اُنہیں کہ کر آیا کہ شہزادہ وریام کے پروگرام کے لیے میری یہ فرمائش ہے یہ ضرور ان تک پہنچا دینا، انہوں نے پرچی پر لکھ کر رکھ لیا۔ یہ غالباً 22 مئی 2005ء کا دن تھا۔ شام چھ سے آٹھ بجے تک ”شہزادہ وریام“ کا پروگرام ہوتا اس شام کو جب پروگرام شروع ہوا تو وریام صاحب نے کہا،
”اج میں سائیکُل تے آیاں، تے میرے کول ہیلمُٹ ای کائی نئیں ہائی“ یہ اُس دور کی بات ہے جب لاہور میں موٹر سائیکل کے ڈرائیور پر ”ہیلمٹ“ فرض قرار دیا جا چکا تھا۔ بہرحال میری فرمائش پر عمل نہ ہوا تو میں نے سات بجے پھر سائیکل نکالی اور کئی کلومیٹر سفر کرکے پھر ریڈیو کے دفتر پہنچا
اس سفر میں میرے ساتھ سائیکل پر میرا حفظ کا ہم جماعت، دوست ”افسر شاہ“ بھی تھا۔ ہم دونوں آٹھ بجے وہاں پہنچے۔ وہاں نیچے (گراؤنڈ فلور پر) اکثر دفتر بند ہوچکے تھے۔ پوچھنے پر سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ وریام صاحب ابھی اِدھر سے باہر نہیں گئے، ان کے پروگرام کا وقت مکمل ہوچکا ہے شاید پچھلے راستے سے جا چکے ہوں۔ آپ اُوپر تھرڈ فلور پر جا کر چیک کر لیں۔
ہم استقبالیہ میں گئے تو ”استقبالیہ“ سے پتہ چلا وہ سامنے جو صاحب ٹیلیفون پر بات کر رہے ہیں وہی ”شہزادہ وریام“ صاحب ہیں۔
ان کا انتظار کیا، وہ لال سے رنگ کی شرٹ اور کریم کلر کی ڈریس ٹائپ پینٹ میں ملبوس تھے، وہ دروازے پر آئے تو سلام دعا کے بعد عقبی راستے سے سیڑھیاں اتر کر ایجرٹن روڈ والے فرنٹ کی طرف آگئے، وہاں اُن کی سوزوکی مہران کھڑی تھی جس کا نمبر بھی مجھے آج تک یاد ہے۔
جب تعارف ہوا تو انہوں نے اپنا نام ”فرحت عباس شاہ“ بتایا میرے دوست ”افسر شاہ“ کے بارے میں یہ جان کر کہ وہ ایک سید ہے فرحت صاحب فرطِ جذبات میں آگئے، افسر شاہ کا احترام کیا اور اُس  کے ماتھے کو بوسہ دیا۔
میں نے کہا کہ آپ کے پاس تو کار ہے، جبکہ آپ ریڈیو پر کہ رہے تھے کہ میں سائیکل پر آیا ہوں
تو شاہ صاحب نے جواب دیا، ”غریباں دی گالھ ہُن میں نئیں کرنی، تے کَینہہ کرنی اے؟“۔ ان کے پاس موبائل فون بھی تھا لیکن میں نے ان سے اس کا نمبر نہ لیا کیونکہ میرے پاس ان دنوں موبائل نہیں تھا یا شاید میں نے خود کو اس قابل ہی نہ سمجھا ہوگا کہ ایک ”سٹار“ کا پرسنل نمبر مانگوں۔
بہرحال اب گیارہ سالوں کے بعد میں نے ان کا موبائل نمبر کہیں سے حاصل کیا ہے اور ایک بار ایک منٹ کی بات بھی کی۔
گزشتہ کئی سالوں سے انہیں مختلف ”میڈیائی“ ذرائع سے دیکھا اور سُنا ہے بہرحال میرے لیے وہ ہمارے دور کا ایک عظیم بندہ ہے، ہماری روایت ہے کہ ہمیں کسی عظیم شخصیت کے مرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اچھا! یہ بندہ اتنی کتابوں کا مصنف تھا؟ اوہ! یہ تو فلاں فلاں شعبے میں بھی کارنامہ ہائے سرانجام دے رہا تھا۔ یاں یار! وہ تو ایک ”بڑا بندہ“ تھا۔ ہم کسی شخصیت کے مرجانے کے بعد اس کے گیت گاتے ہیں، اُس کے کام کی حقیقی قدر شاید تب بھی نہیں کرتے۔
یہاں میں فرحت عباس شاہ صاحب کی زندگی کے مختلف النوع پہلوؤں کو بیان نہیں کروں گا اگر کسی کو تمنا ہوگی تو چند منٹ کی ”گوگلنگ“ کے بعد شاید پتہ چل جائے ورنہ اپنی دُنیا میں مگن رہے۔
شاہ صاحب کے ایک شعر پر ختم کرتا ہوں
؎ جس طرح شہر سے، نکلا ہوں میں بیمار تِرا
یہ اُجڑنا ہے، کوئی نقل مکانی تو نہیں
عبدالرزاق قادری

پیر، 30 مئی، 2016

تھامس ایڈورڈ لارینس المعروف لارنس آف عریبیہ

تھامس ایڈورڈ لارینس 1888 میں پیدا ہوا اور 1935 میں اپنی ساختہ موٹر سائیکل (انتہائی تیز رفتار انجن اس نے خود مرمت کیا تھا، ان دنوں دوسری ریٹائرمنٹ کے بعد اس کا یہی مشغلہ تھا) کے حادثے میں مرا

اس پر افسانوں کے علاوہ 1962 میں ایک فلم بنی "لارنس آف عریبیہ"

تاریخ نجد و حجاز، کتاب ميں اس فلم پر تنقید کی گئی ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کتاب علامہ غلام رسول سعیدی کی تصنیف ہے۔

مجھے 2010 میں ایک اردو کتاب "لارنس آف عریبیہ" ملی، وہ انگریزی کا ترجمہ تھا۔ اُسے اردو بازار سے چھاپا گیا تھا۔ یہ کتاب لارنس کے ایک دوست نے لارنس کی سوانح عمری کے طور پر لکھی تھی ۔
حسنین شاہ نے کہا تھا کہ یہ کتاب تو لارنس کو ایک طلسماتی شخصیت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اسے پڑھ کر قاری، لارنس کو ہیرو قرار دیتا ہے۔

پھر وہ کتاب میرا ایک خیرخواہ لے گیا اس کے گھر سے اس کی بہن لے گئی

سچ تو یہ ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے سقوط میں اکیلے لارنس نے وہ کردار کیا جو پانچ صدیوں سے لاکھوں کروڑوں فوجیوں پر مشتمل افواج کی جنگییں نہ کر پائیں۔

جدید عرب ممالک کے حدود اربع کے نقشے میں لارنس کا کردار پورے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے زیادہ ہے۔

لارنس کے بارے ميں بہت سے افسانہ جات مشہور ہیں۔
ایک افسانہ یہ تھا کہ وہ افغانستان کے بادشاہ سے ملا تھا اور ملاقات کرکے فلاں فلاں سازشیں جنم دی تھیں۔
ایک افسانہ یہ تھا کہ وہ لاہور میں ایک طویل عرصہ تک جعلی پیر بن کے لوگوں کو بیوقوف بناتا رہا تھا۔

وہ برطانوی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ "شاہ" کے نام بھرتی ہوگیا تھا

جارج برنارڈ شا نے اپنے نام کے ساتھ "شا" کا لاحقہ لارنس کی عقیدت میں لگایا تھا

وہ منفی درجہ حرارت میں کئی دنوں تک بھوکا اور ننگا زندہ رہ لیتا تھا۔ اور گرم جھلستے ریگستانوں میں پیاسا کئی روز زندہ رہ لیتا۔

پانی میں کئی گھنٹے سانس ڈوب کر زندہ رہ لیتا۔

وہ چاروں الہامی کتابوں کا حافظ تھا۔

اسے ایک لقب دیا جاتا تھا "درندے کی کھوپڑی میں دانشور کا دماغ"

وہ ایک ماہر آثار قدیمہ، ملٹری آفیسر (دوسری مرتبہ عام سپاہی) اور سفارت کار تھا، اس نے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کے لیے صحرائے سینا اور فلسطینی علاقہ جات میں عثمانی سلطنت کے خاتمے کیلئے عربوں کو بھڑکایا، مواصلات کے ذرائع خصوصاً ریلوے کی پٹڑیوں کو بموں کے ذریعے اس وقت اڑایا جب عثمانی افواج کے دستے ان جگہوں سے گزر رہے ہوتے، عربوں کو ترکی کی کاغذی کرنسی کے خلاف بھڑکا کر سونے کے سکوں کا لالچی بنایا، عرب قوم پرستی کا نعرہ لگوا کر مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کروایا، سازشوں کے لمبے چوڑے جال بننے میں کامیاب رہا

یہ پہلی عالمی جنگ کا دورانیہ تھا۔ مصر پر بھی برطانیہ کا قبضہ تھا اور قاہرہ میں ان کی افواج کا ہیڈ کوارٹر تھا ۔ لارنس ان سے تعلق رکھتا تھا مصر والی برطانوی ایجنسیاں عربوں کو خود مختاری کے نام پر گمراہ کر کے ترکیہ سے آزادی دلوا کر سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کرنا چاہتی تھیں جبکہ متحدہ ہندوستان پر قابض برطانوی ایجنسی ایسی صورت حال کے اس لیے خلاف تھی کہ اگر عرب آزاد ہو گئے تو ہندوستانی لوگ بھی آزادی کے لیے بہت شدت سے مطالبہ کریں گے۔

اُدھر لارنس اینڈ کمپنی نے ترکی کے ٹکڑے کر کے جہاں جرمنی کو ناکوں چنے چبوا دیئے وہاں ساتھ ساتھ فرانس کو دھوکہ دے دیا اور عربوں کی آزاد حکومت کا ڈرامہ رچا دیا

دوسری جانب ہندوستان میں مقیم برطانوی ایجنسیوں نے آل سعود کے بدمعاشوں کو دوبارہ سے طاقتور بنا کر عرب نیشلزم کے لڑا دیا اور نجد و حجاز مقدس پر قومیت پرستی کی بجائے وہابی فرقہ پرستوں کی حکومت قائم کرا دی، اس ظلم کے بدلے آل سعود سے ایک آزاد یہودی ریاست کے قیام کے لیے  فلسطین کی سرزمين پرقبضہ کرکے (ملکِ اسرائیل بنانے کیلئے) ایک معاہدے پر دستخط کروائے جس کی رو سے فریقین (مملکت سعودی عرب اور ریاست اسرائیل) ایک دوسرے کی بقا کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔

تصاویر:  بشکریہ وکیپیڈیا

جمعرات، 19 مئی، 2016

ندیم بھابھہ میری زندگی کا مؤثر ترین شاعر

ندیم بھابھہ میری زندگی کا مؤثر ترین شاعر ہے، میں اُسے تمام لوگوں کے لئے سب سے عظیم شاعر قرار نہیں دے رہا، دراصل مجھے شاعری کے فنی محاسن کا ادراک نہیں، پر اسے پڑھنے میں لطف و سرور پاتا ہوں بچپن سے لے کر اپنی سوچوں کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ شاعری میں سے نت نئے مفاہیم و مطالب اخذ ہوتے رہے ہیں، آج کل مجھے اکثر شعرا کا (نیا/پرانا) کلام سیاسی لگتا ہے۔ مجھے کسی بھی غزل یا نظم میں سے اُس (کہے جانے کے) دور کے سیاسی حالات کے بارے شاعر کے خیالات کا اندازہ ہوجاتا ہے، ممکن ہے یہ مبالغہ آرائی ہو، بہرحال سیاست، معاشرت اور سماج کا اثر کلام میں جھلکنا ایک فطری امر ہے۔
مجھے ولی دکنی اور خواجہ درد کے کلام کو سمجھنے کے لئے جس ذہنی کاوش کی ضرورت تھی اس سے ذرا تہی دامن/سہل پسند رہا ہوں کیونکہ
؎                 اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
بہرحال مرزا غالب سے جیسے میری یاری رہی ہو، حقیقتاً کلامِ غالب میں سے بھی میں نے چند اردو اشعار پڑھے ہیں۔ رہی بات فارسی کی تو اس کے میں قریب نہیں گیا، پھر بھی غالب جیسے دل پہ اثر کرتا ہے بیسویں صدی میں فیضؔ اور ساغر صدیقی کا کلام مجھے چھو کر گزرا، البتہ فیض کے سیاسی نظریات کا میں ہوبہو قائل نہیں اس کی اردو دانی کا معترف ہوں (پڑھے لکھے حضرات سے گزارش ہے کہ میں ”چھوٹا منہ بڑی بات“ کر رہا ہوں کیوںکہ میں نے کلامِ فیض میں سے بھی ایک، دو غزلیں ہی پڑھی ہیں) جبکہ ساغرؔ میرے دل کی بات کرتا ہے، ساغر جیسے عظیم لوگ واقعی صدیوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں وہ بیسویں صدی کا سب سے مظلوم شاعر ہے مجھے نہیں معلوم شعراء (نقادوں) نے اُسے آج تک ”داخل دفتر“ کیوں رکھا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انیسویں صدی کا غالبؔ بھی ایک طویل مدت تک اسی ظُلم کا شکار رہا پھر بیسویں صدی میں جاکر شعرا اور ادیبوں نے اسے اپنا امام مانا۔
بہرنو، اب محمد ندیم بھابھہ کی بات کرتا ہوں ان کی شاعری کی پہلی کتاب ”میں کہیں اور جا نہیں سکتا“ مجھے منظور کے ردی کے گودام سے (تقریباً 2003ء یا 2004ء میں) ملی، ہم لوگ بچپن سے دیکھتے آئے ہیں کہ ردی پیپرز کا کام ہمارے گھروں تک پہنچا ہوا تھا۔ ردی ورقوں سے وابستہ ہونے کی وجہ سے بچپن سے مختلف النوع کتب و رسائل (بیشتر پرانے) پڑھنے کو ملے بلکہ جو ملا پڑھ ڈالا۔
میں اس کتاب کو گھر لے گیا، گھر ہمارا کیا تھا لاہور میں چوہان روڈ کے (بند روڈ) پار ایک سڑک دربارِ رفاعیہ کو جاتی ہے اس پر ایک بدبودار جگہ پہ (بطورِ کرایہ دار) بسیرا تھا۔ ان دنوں میں حفظِ قرآن پاک کا طالب علم تھا اور ”جامعہ حنفیہ عنایت صدیق“ میں زیرِ تعلیم تھا۔ سن 2003ء سے پہلے امی اور بہن گاؤں میں تھے پھر یہاں آئے تو ایک کمرہ نما گھر کرائے پر لیا، میں نے 2003ء کے اکتوبر تک چھبیس پارے حفظ کرلئے تھے بعد میں لاہور کی سڑکیں ماپنا شروع کر دیں ان دنوں ندیمؔ بھابھہ کی کتاب مجھے مل گئی، بچپن سے میں نے اپنی روح کو ایک گہری اداسی کا شکار پایا تھا جسے میں نہ آج تک جان پایا ہوں اور نہ ہی اس معمے کا کوئی حل مل سکا ہے۔
کتاب میں پہلے نعت تھی جسے پڑھ کر بہت راحت ہوئی، پھر
میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں
کسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوں
ایسی غزل سے کتاب کا آغاز ہورہا تھا تو تن بدن میں آگ لگنا ایک لازمی امر تھا اس کے بعد اکثر غزلوں پھر نظموں نے دِل موہ لیا۔ سن 2004ء میں میرا ایک خالہ زاد مدثر شریف وہاں آتا تو اسے میں بھابھہ صاحب کا کلام سناتا اور وہ جھرجھریاں لے کر رہ جاتا اور ہمیشہ میری سوجھ بوجھ کو ”انڈر مائن“ کرتا رہتا۔
شاید اس کتاب کی غزلوں کو کئی بار پڑھا تھا اور نظموں کو روح میں اتارا تھا جن میں اداسی اداسی کی کہانیاں مندرج تھیں، اسی لئے اس کتاب کے کئی مصرعے اور شعر سن 2010ء تک یاد رہے، کیونکہ میں نے وہ کتاب پھر واپس جاکر منظور کے حوالے کردی تھی کہ ”دیکھو یار! اس بندے نے کیا شاعری کی ہے وغیرہ وغیرہ“ اور وہاں سے وہ کتاب گم ہوگئی۔
سن 2010ء میں مجھے انٹرنیٹ تک رسائی ہوئی تو گوگل کیا ندیم بھابھہ، پھر وہ جناب فیس بک پر بھی مل گئے۔
اب محمد ندیمؔ بھابھہ کی ایک غزل پیش کرکے اجازت چاہتا ہوں۔

اس کی باتیں، اس کا لہجہ اور میں ہوں
نظم پڑی ہے مصرعہ مصرعہ، اور میں ہوں

ایک دیا رکھا ہے ہوا کے کاندھے پر
جس کا لرزتا، جلتا سایا اور میں ہوں

اس گاؤں کی آبادی بس اتنی ہے
شہر سے بھاگ کے آنے والا اور میں ہوں

چاروں جانب تنہائی کے لشکر ہیں
بے ترتیب سا ایک ہے کمرہ اور میں ہوں

ویسے تو سب لوگ یہاں پر مردہ ہیں
اس نے مجھ کو زندہ سمجھا، اور میں ہوں

منگل، 17 مئی، 2016

تکیوں کا سہارا

پنجاب، پاکستان میں 2015ء کے اکتوبر نومبرمیں بلدیاتی انتخابات ہوئے جس کے فوراً بعد گلی محلوں میں نوسربازی کی مختلف النوع وارداتوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہوا۔ ایک واردات کا فیصل آباد شہر سے پتہ چلا، ایک شاہدرہ لاہور سے وکی نے بتائی اور تیسری ہمارے اپنے بھانجے ”محسن“ نامی بچے کے ساتھ ہوگئی۔ چند روز قبل یہاں میری گلی میں رات کے دس بجے (بارونق مقام پر) دو لوگوں سے نقدی اور موبائلز چھین کر لے گئے۔
اپریل 2016ء میں خبر آئی کہ گیارہ دہشت گرد (خود کش بمبار) پاکستان میں داخل ہوگئے۔۔۔۔ ہماری بہترین خفیہ ایجنسیوں نے کسی ایک بندے کو میڈیا پر لاکر اپنے منہ سے کالک پونچھنے کی سی کی کہ بھئی یہ دیکھو، ہمارا کارنامہ۔۔۔۔۔۔۔۔! لیکن میرا گمان ہے کہ اس مرتبہ دہشت گردوں نے بم کی بجائے کھانوں میں زہر ملانے کا طریقہ واردات اپنایا ہے۔
سب سے پہلے شاید ضلع لیہ سے مٹھائیوں میں زہر کی ملاوٹ کی خبریں آئیں، پھر ڈیرہ غازی خان میں بارات کا کھانا کھا کر لوگ موت کی وادی میں چلے گئے، اور فیصل آباد شہر میں رات کے گلیوں بازاروں میں سوئے ہوئے لوگوں کو کوئی قتل کرگئے اور ہماری نمبر ون خفیہ ایجنسیاں بھی خوابِ خرگوش کے مزے لیتی رہیں۔
پھر فیصل آباد میں دودھ سوڈے میں زہر کی ملاوٹ سے معاملہ گڑبڑ ہوا تو ”اے ٹی وی“ کے سقراطوں نے جا کر صفائی کے گھٹیا انتظامات کو نشانہ بنا ڈالا۔
پھر ایک خبر آئی کہ فلاں علاقے میں زہریلی کھیر کھانے سے لوگ موت کی وادی میں چلے گئے۔
اب سن لیں، نہ تو بلدیاتی الیکشن کے بعد میں لوکل سیاست دانوں اور ان کے پالتو کتوں کو موردِ الزام ٹھہراتا ہوں اور نہ ہی (میرے اندازے کے مطابق) بھارتی جاسوسوں کی طرف سے کھانوں میں زہر کی ملاوٹ پر مسندِ اقتدار پر براجمان ”حکمرانوں“ کو کچھ کہتا ہوں اور امریکہ کی دھمکی سُن کر چائینہ کی گود میں جاکر بیٹھنے والے ”گدیلے“ بچے کو کچھ بھی نہیں کہتا۔ صرف یہ کہے دیتا ہوں کہ،
تکیوں کا سہارا لینے والے ہی ڈوبا کرتے ہیں

اتوار، 1 مئی، 2016

Pakistani Blood پاکستانی خون

پاکستانی خون بہت سستا ہے، بلکہ مفت ہے! ارے نہیں! یہ تو مستحق ہے اسی بات کا کہ اسے ندی نالوں کی طرح بہایا جائے، چاہے اُسے آرمی بہائے، سیاستدان، پولیس، غنڈے، دہشتگرد یا کوئی بیرونِ ملک بیٹھا ہوا پاکستانی نژاد اِسے گالی بک دے اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ اسے بھارتی بہا سکتے ہیں، ایرانی جبکہ سعودی  درندے اسے اپنا جدی پُشتی حق سمجھتے ہیں بلکہ وہ نجدی پلید تو ساری دُنیا کے مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں پھر بھی ان کی پیاس نہیں بجھےگی کیونکہ وہ خوارج ہیں اور یہ ان کا ازل سے ابد تک کا وطیرہ ٹھہرا۔

امریکی ایجنسیاں ساری دنیا کے انسانوں کو اپنے باپ کی جائیداد سمجھتی ہیں وہ کسی کو کہیں بھی  بوجوہ یا بلا وجہ قتل کرنے کا استحقاق رکھتی ہیں۔ کیا کبھی پاکستان یہ جرأت کرسکتا ہے کہ وہ کسی بھارتی، ایرانی، افغانی، روسی، امریکی یا سعودی قاتل یا ثابت شدہ مجرم کو سزائے موت دے؟

ایسا ممکن ہی نہیں! اس کی وجوہات سب کو معلوم ہیں۔

لیکن دنیا میں پاکستان سے باہر 80 لاکھ پاکستانی ہیں۔ اگر ایک ہی دن میں سارے بلاوجہ قتل کردیئے جائیں تو پاکستان کی نمبرون انٹیلیجنس اور نمبر ون سیاست کے کان پر جوں نہیں رینگے گی۔

بلکہ 26 کروڑ پاکستانی جو اندرون ملک رہائش پذیر ہیں، ان میں سے 98فیصد عوام کو دوفیصد خواص اگر ایک دن موت کے گھاٹ اتار دیں تو کوئی قیامت نہیں آئے گی تو پھر آپ ”پاکستان کے عام شہری پاکستان کے 'مالک' کیسے ہیں“؟

اتوار، 3 اپریل، 2016

Qari Muhammad Ahmad Bakhsh Multani

قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: عبدالرزاق قادری

ضلع وہاڑی کے صدر مقام کے نواح میں ایک قصبے کا نام ”لڈن“ ہے۔ لڈن میں  ایک خاندان خدمتِ قرآن مجید کے حوالے سے مشہور ہے۔ان میں قاری عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ، قاری حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، قاری اللہ رکھا صاحب اور قاری عارف صاحب کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اسی خاندان میں سے ایک اور عظیم نام قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے لاہور میں وہ ”وڈے استاد جی“ یعنی بڑے استاد جی کے نام سے معروف تھے۔ آپ  کی پیدائش قیامِ پاکستان سے قبل ہوئی اور آپ نے نوعمری میں 15 ماہ کے قلیل عرصہ میں مکمل قرآن مجید حفظ کیا۔ شاہ بخش صاحب ملتانی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے پیر و مرشد تھے آپ نے ایک عرصہ ان کی خدمت میں گزرا ، انہی کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ ”ملتانی“ لکھتے رہے۔
    حفظِ  کرلینےکے بعد کچھ عرصہ تک آپ نے قرآن مجید کی تدریس فرمائی پھر کوئی دوسرا شعبہ اختیار کرنا چاہتے تھے لیکن اپنے شیخِ مکرم رحمۃ اللہ علیہ  کی خواہش اور ان کے حکم پر دوبارہ قرآن پاک پڑھانے میں مشغول ہوگئے اس نیک کام کا آغاز تقریباً 1956ء سے ہوا، آپ جامعہ نظامیہ رضویہ(اندرون لوہاری گیٹ) لاہور میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو ”یسرناالقرآن“ قاعدہ پڑھاتے تھے اور قاری حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے چچا زاد بھائی) قرآن مجید کی کلاس سنبھالتے تھے باقی شعبہ جات دوسرے علماء کرام کے پاس تھے، قاری حنیف صاحب کو جامعہ نظامیہ رضویہ تک لے کر جانے کا سہرا علامہ مولانا محمد علی نقشبندی (بانی جامعہ رسولیہ شیرازیہ) کے سر ہے۔ قاری محمد احمد بخش ملتانی نے تقریباً چودہ برس تک جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کا فریضہ سرانجام دیا آپ کے شاگردوں میں کئی جید علماء کرام کے نام شامل ہیں۔
    بڑے استاد جی نے دربار شاہ محمد غوث رحمۃ اللہ علیہ (سرکلر روڈ) کے ساتھ ملحقہ مدرسہ میں چند سال قرآن پاک پڑھایا پھر  داتا دربار اور بھاٹی گیٹ کے درمیان میں واقع جامعہ حنفیہ غوثیہ میں  1992ء تک تدریس فرمائی ۔ اسی دور میں داتا دربار کمپلیکس کی توسیع ہوئی اور جامعہ حنفیہ غوثیہ کو وہاں سے ہٹا دیا گیا لیکن اللہ کی قدرت دیکھیے کہ ایک نیک صالحہ خاتون ”عنایت بی بی“ نے  دربار کی عقبی جانب کچا رشید روڈ پر ” جامعہ حنفیہ عنایت صدیق “ قائم کروا دیا تھا اور استاد جی یہاں منتقل ہوگئے اور آخری دم تک اسی جامعہ  کے مہتمم اعلیٰ رہے۔
میں نے جامعہ عنایت صدیق میں سن 2001ء کے اوائل میں حفظِ قرآن  کے لیے داخلہ لیا مجھے جامعہ میں داخل کروانے کی سعادت میرے ابو کے ایک جاننے والے محمد سعید عالم کے حصے میں آئی، انکل سعید داتا دربار کے قریب بابا فرید روڈ پر  ایک گرم حمام چلاتے تھے اور وہ خود ایک بہترین حجام تھے  میرے ابو  کو شاید  معلوم تھا کہ یہ صاحب اس مدرسے کے استادجی کے واقف کار ہیں لہٰذا انکل سے رابطہ کیا گیا انہوں نے  بڑےاستاد جی سے بات کی اور داخلہ ہوگیا جو کہ پہلے مسترد ہوچکا تھا، جناب محمد سعید عالم 8 اپریل 2013ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے، تاہم میں  اُن کا یہ داخلے والا احسان کبھی نہیں چُکا سکتا۔ ان کے بیٹے  حافظ ایثار عالم آج بھی وہ دوکان چلا رہے ہیں اور میرے گہرے دوست ہیں۔ میں سن 2004ء اواخر تک اس جامعہ میں پڑھتا رہا، میرے اُستاد جی قاری محمد صدیق احمد صاحب ہیں آپ ، قاری محمد احمد بخش ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے  اور قاری محمد خلیل احمد صاحب  چھوٹے بیٹے ہیں۔ بڑے اُستادجی نے اپنی  بیٹوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے آراستہ کیا اور وہ بھی خدمتِ قرآن میں  مصروف رہے۔ میں نے بڑے اُستاد جی سے تقریباً چار مرتبہ سبق  پڑھاہوگا اور قاری خلیل صاحب سے بھی کئی مرتبہ سبق پڑھا تھا لیکن میں باقاعدہ قاری محمد صدیق احمد صاحب کی کلاس میں پڑھتا رہا اور انہی کے پاس  حفظِ قرآن پاک مکمل کیا۔
بڑے استاد جی کی زندگی کے تقریباً ساٹھ شمسی سال خدمتِ قرآن میں بسر ہوئےجو اپنی قبولیت کی سند آپ ہیں۔ آپ کو با آوازِ بلند سنائی دیتا تھا لیکن مجال ہے کہ کبھی کوئی طالب علم آپ کو قرآن مجید کا سبق سنا رہا ہو اور وہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی کرجائے حتیٰ کہ کبھی بھی ع،غ یا شین، قاف کے مخرج کی ادائیگی میں بھی کوتاہی  نہ ہونے دیتے۔ آپ ہر طرح کے تجوید کے قواعد کی پابندی کرواتے مثلاً غنہ، مد، ادغام، اقلاب، اخفا اور اظہار کو نظر انداز کرکے آپ کو قرآن پاک کا سبق نہیں سنایا جاسکتا تھا ۔ آپ نے ایک سادہ زندگی بسر کی اور پوری دلجمعی سے اپنے کام میں مگن رہے آپ کے ابتدائی شاگردوں میں قاری عبدالعزیز، قاری لیاقت علی، قاری محمد اسلم (انگلینڈ)، شیخ محمد اسماعیل( اعظم کلاتھ مارکیٹ لاہور)، حافظ محمود اختر، حافظ محمد طاہر، قاری عطا محمد (سمن آباد لاہور)، قاری سید عاشق حسین شاہ اور موہنی روڈ سے تعلق رکھنے والے صداقت علی کے علاوہ دیگر کئی حفاظ اور قاریوں کے نام ہیں۔
قاری محمد احمد بخش ملتانی نے صحیح معنوں میں اپنی جوانی کو قرآن پاک کی تدریس کے لئے صرف کیا اور محنتِ شاقہ کے ساتھ بہترین حفاظ کرام کے گلدستے اس قوم کی نذر کیے۔ میں نے آپ کی آخری زیارت 2015ء والے عرسِ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ کے موقع پر کی تھی ، سن 2016ء کی 23 جنوری کو آپ کا وصال ہوگیا  اور آپ اپنے آبائی قصبے ”لڈن“ میں آسودۂِ خاک ہیں، اللہ عزوجل آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے۔

منگل، 29 مارچ، 2016

صورت حال کا جائزہ اور حل

میں نے اکثر دوستوں کے خیالات کا مطالعہ کیا، خبریں دیکھیں (written) کالم دیکھے اور زمینی حقائق کا ادراک کیا
لیکن اُسے بیان کرنا فضول سمجھتا ہوں
کیونکہ مجھے شُبہ ہے کہ لوگ صرف اپنی ”جھوٹی انا“ کی پُوجا کرنا چاہتے ہیں یہ شاید میرا نیا فلسفہ ہے کہ ”سچی انا“ کی پُوجا شاید درست ہو، لیکن یہ ”جھوٹی انا“ کی پوجا کیا وقعت رکھتی ہے؟
کچھ لوگ مصوری یا افسانہ نگاری میں پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں، جبکہ میں ابھی ”راہی“ ہوں۔
اچھا! احباب کا ایک یہ عظیم المیہ ہے کہ وہ ٹی وی دیکھ دیکھ کر ”آپ کی کیا رائے ہے؟“ کے عادی ہو چکے ہیں لہٰذا وہ مجھے بھی یہی کہتے ہیں کہ ”رائے“ دو۔
دوستوں سے گزارش ہے کہ میرے فلسفے کو سمجھنے کی کوشش کریں، میں روزانہ کئی لوگوں سے کہتا ہوں، ”Learn to control your mind“ کہ اپنے خیالات پر قابو پانا سیکھیں۔
اگر لوگوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہونے کی ”مہم“ جاری رکھی گئی تو کچھ بھی ہاتھ نہیں آنے والا، اپنے ذہن کو کنٹرول کرنا سیکھیں
اپنی زندگی میں سے کچھ الفاظ یعنی اعمال کا خاتمہ کر دیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ ”ردعمل“
2۔ ”پریشانی“
3۔ ”ٹھیکے داری“
4۔ ”تناؤ یعنی Tension“
5۔ ”نصیحت کرنا یعنی مشورہ دینا“
6۔ ”استحصال“
7۔ ”تاثر لینا“
ہمیں چین کیوں نہیں پڑتا؟ سکون کیوں نہیں مل رہا؟
کیونکہ
1۔ ہم فوراً ردعمل دیتے ہیں اور فوراً ردعمل چاہتے ہیں۔
2۔ ہم کہہ دیتے ہیں کہ یار بڑی پریشانی بن گئی ہے۔
3۔ ہم اسلام، پاکستان، پاک فوج، اپنی سیاسی جماعت، اپنے مذہبی فرقے، اپنی سماجی سوچ، اپنے صوبے، زبان، مٹی، قوم، ذات، برادری، کرکٹ ٹیم، اور کچھ دیگر معاملات کے ٹھیکے دار بن جاتے ہیں جبکہ ہم ان میں سے کسی ایک بھی شعبے کے ماہر نہیں ہوتے، دراصل ماہر ہی ”رائے“ پیش کرسکتا ہے۔
4۔ ٹینشن کا لفظ ایک لعنت کی طرح گلے کا طوق بنا رکھا ہے۔
5۔ سوجھ بوجھ ہوتی نہیں اور غیر شعوری طور پر ”مشوروں کی مشین“ بنے ہوئے ہیں۔
6۔ ہم استحصال یعنی ”بے غیرتی“ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
7۔ ساتویں غلط چیز یہ کہ ہم کسی بھی ”تیسرے درجے کے“ واعظ، شاعر، ادیب، کالم نگار، ٹی وی اینکر، ادکار، گلوکار، کھلاڑی، سیاست دان، ڈاکٹر، پروفیسر، تجزیہ کار اور دیہاڑی دار کو قوم و ملت، اسلام اور پاکستان کی ”ناک“ کا ٹھیکے دار سمجھتے ہوئے اس سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں، بالکل اسی جلدی سے اس کے کسی ناپسندیدہ عمل پہ سختی کے ساتھ ”ردعمل“ پیش کرتے ہیں۔
اب حل کیا ہے؟
1۔ خود کو آئینے میں دیکھ لینا چاہیے
2۔ کبھی کبھی سچ بول دینا چاہیے (جب دل نہ چاہے)
3۔ بعض اوقات سچ مان بھی لینا چاہیے۔
4۔ اپنی غلطی تسلیم کرکے سر تسلیم خم کر دینا چاہیے۔
5۔ اپنا محاسبہ کرنا چاہیے
6۔ صبح کی سیر کرنی چاہیے
7۔ اپنی زندگی کو منظم طریقے سے گزارنا چاہیے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
منہ سے وہی الفاظ نکالیں، جن پر پہرہ دے سکیں، ایک بات کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچیں اور سوچنا یہ ہے کہ اس بارے میں اصلی ”ماہرین“ کی کیا رائے ہے اگر آج وہ یہاں ہوتے تو کیا رائے پیش کرتے۔۔۔ ورنہ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ ٹھیکے دار نہ بنیں۔ دوستوں سے (سچ سچ) کہہ دیں کہ.. میری یاداشت کے مطابق۔۔۔Hmmmm۔۔۔۔۔ فلاں صاحب جو اس موضوع کے ایکسپرٹ ہیں انہوں نے فلاں پلیٹ فارم پر اس طرح کے سوال کا یہ جواب دیا تھا
اب وہ ”رائے“ کی ٹھیکے داری آپ نے اپنی گردن سے اتار کر ”ایکسپرٹ صاحب“ کے کھاتے میں ڈال دی۔ جب کوئی اختلاف کرے گا تو آپ سے نہیں بلکہ اُس تیسرے بندے کی رائے سے کرے گا۔
اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ”اہلِ علم“ کا کاوش کا احترام بھی ہوجاتا ہے، آپ اپنا مطالعہ بھی وسیع کرلیتے ہیں اور دوسرے کی رائے سُن لینے کا حوصلہ بھی آجاتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایسے محقق لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیں جو شروع شروع میں آپ کو سُست اور مدھم اندازِ تحریر کی نظر آئیں
جب آپ دیکھیں گے کہ یہ بندہ ہزاروں کتابیں پڑھ کے بھی ”ماہرین“ کی مختلف آراء کو لکھ رہا ہے تو ذہن سوچے گا کہ میں ہمیشہ ایک ہی رائے سے ”ہٹ دھرم“ بن کے کیوں جُڑا رہتا ہوں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خاموشی بہترین حل ہے، ایک وقت کے بعد غلط رائے رکھنے والے کو درست صورت حال کا علم ہوجاتا ہے اور وہ مان بھی لیتا ہے
لیکن
اگر آپ نے اُسے غلط مؤقف نہ بھولنے دیا تو آپ اُس کے ساتھ ظلم کررہے ہیں یعنی اگر وہ کل تک سمجھتا تھا کہ فلاں صاحب کی ”رائے“ اتنی اہم ہوتی ہے کہ اُسے آنکھیں بند کرکے مان لینا چاہیے (جبکہ آپ کے خیال میں یہ ایک فضول چیز تھی اور آپ سچے بھی تھے) پھر بھی آپ خاموش رہیں، اسی میں بھلائی ہے، اب وہ دوست چھ ماہ کے بعد آ کر کہہ دے کہ ”نہیں بھئی اُن صاحب کی تحقیق ناقص ہے“ تو آپ اپنے دوست کو پھر بھی کچھ نہ کہیں۔
اُسے خاموشی اور سنجیدگی سے سُن لیں، کسی کی بات سُن لینا ایک اچھا عمل ہے، اس سے سُنانے والے کے دل میں آپ کے لئے محبت پیدا ہوتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب کبھی آپ کو محسوس ہو کہ آپ کی بات، رائے، نظریے کو چیلینج کیا گیا ہے تو سوچ لیں کہ شاید کوئی غلطی ہوگئی ہے، اپنی دوبارہ اصلاح کا سوچ لیں اور دل میں عہد کریں کہ اس متعلق مزید تحقیق کرنی ہوگی اور سامنے والے سے کہیں کہ سر! میں اس پر ”غور و فکر“ کروں گا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگر کتا انسان کو کاٹ لے تو انسان اُسے جواباً کاٹتا نہیں ہے
لہٰذا
اگر آپ کو دکھائی دے کہ فلاں بات آپ کو ہضم نہیں ہونے والی تو وہاں سے کنارہ کش ہوجائیں، اچانک آپ کو اپنے فرائض منصبی یاد آجانے چاہئیں اور اپنی ڈیوٹی کی جگہ کی طرف دوڑ لگا دیں اگر شام کا وقت یعنی فرصت کا وقت ہے تو کسی مثبت سرگرمی کی طرف متوجہ ہوجائیں، ایسے واعظ سے اجازات لیں، خود کو جھوٹا کہہ کر امن کی پٹڑی پر گامزن ہوجائیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فیس بک پر صرف یادگار لمحات کی تصاویر اپلوڈ کریں اور کسی بھی قسم کی جذباتی پوسٹ کو ”Hide Post“ کے آپشن سے چھپا دیں۔
ناسمجھ افلاطونوں کو ”un-follow“ کر دیں۔
خبر کی تعریف ”Definition“ سے ناواقف لوگوں کی تحریر اور پوسٹ کو فضول سمجھ کر چھپا دیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نتیجہ کوئی چیز نہیں ہوتا اصل چیز محنت ہوتی ہے
پھل کوئی نہیں ہوتا اصل چیز صبر ہے
اختتام کبھی نہیں ہوتا، جہد مسلسل اصل چیز ہے
ثابت کچھ نہیں ہوتا، دلیل پیش کرتے رہیں
ڈگری کوئی سند نہیں ہوتی، مطالعہ اصل چیز ہے
الجھنے سے کچھ نہیں ملتا، سمجھ لینا مطلوبہ عمل ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اٹھائیس مارچ 2016ء کی صبح تین بج کر 17 منٹ پر مکمل کیا۔ عبدالرزاق قادری

بدھ، 16 مارچ، 2016

The Way of Ahl al Sunnah- راہِ اہل سنت

مسلمانوں کے سب سے بڑے گروہ کو اہلسنت یا اہلسنت والجماعت کہا جاتا ہے عربی میں اسے  أهل السنة والجماعة یا أهل السنہ والجماعہ لکھا جاتا ہے برصغیر میں اسے اہلِ سنت و جماعت یا جماعتِ اہلسنت بھی کہتے ہیں  اہلسنت سے تعلق رکھنے والے لوگ مختصراً سنی بھی کہلاتے ہیں دنیا میں کسی بھی دینی طبقے کی یہ سب سے بڑی جماعت ہے اہلِ اسلام میں سے 75 فی صد تا 80 فیصد لوگ اہل سنت کے عقائد رکھتے ہیں، سن 2010ء میں پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے کئے گئے اور جنوری 2011ء میں پیش کئے گئے ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں 1.62 ارب مسلمان موجود ہیں اور یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ان میں سے سنی آبادی   75 سے 90 فیصد کے درمیان ہے،اس اصطلاح کو مسلمانوں کے روایتی مذہب کو ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سنی اصطلاح لفظ سنت ( عربی : سنة ) سے ماخوذ ہے جس سے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے اقوال و افعال مراد ہیں اہلسنت کے چاروں فقہی مذاہب قران مجید اور حدیث پاک کی روشنی میں اپنے راسخ عقائد پر قائم ہیں اور فقہ کی تشریح کے لئے انہی بنیادی ماخذ پر انحصار کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ چاروں ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ علیہم اجمعین نے صحابہ کرام کے اجماع اور قیاس سے بھی مختلف فیہ مسائل کے حل تلاش کرکے امتِ مسلمہ پر احسانِ عظیم فرمایا ہے۔ اہل سنت سے مراد ہے نبی پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والے اور جماعت سے مراد، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کے نقش قدم پر چلنے والی جماعت ہے یعنی سنی وہ ہوتا ہے جو آقا کریم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرے اور آپ کے صحابہ کی جماعت کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہو۔
مسلمان علماء جنہیں اہل سنت کہا جاتا ہے انہوں نے چودہ صدیوں سے اسلام کے عقائد، احکام اور نواہی پر ہزاروں کے حساب سے مستند اور قابل قدر کتابوں کو لکھا اور مسلمانوں کی خدمت کرنے کا حق ادا کیا۔ ان میں سے بہت سی کتب کو آفاقی اور لازوال مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کا دنیا بھر میں کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور اسلام کا پیغامِ علم و معرفت، حکمت و الفت کے ساتھ پوری دنیا میں پہنچا۔ دوسری جانب دین دشمن ، علماء سوء  نے مسلمانوں کے اعتقادات اور مفادات پر بُری طرح سے حملہ کیا ، علماء اہل سنت کو بدنام کرنے کی سازشیں کیں،اور اسلامی تعلیمات کو تبدیل کرنے کی ناپاک کوششیں کیں مسلمانوں اورلادینی قوتوں کے درمیان اس طرح کی کشمکش  ہر صدی میں رہی ہے اور رہتی دنیا تک جاری رہے گی یہ مشیت ایزدی جو ٹھہری۔
مسلمان علماء (خواص) اور عوام پر مشتمل ہیں۔ عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جو  عربی گرائمر اور ادب کے قوانین نہیں جانتے، وہ فتاویٰ جات کو سمجھنے سے قاصر ہیں ان کے لئے لازم ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی عقائد  سے متعلقہ علوم اور عبادات کو سیکھیں۔ دوسری جانب علماء کرام کا فرض ہے کہ وہ  تحریر و تقریر کے ذریعے پہلے  اسلام کے بنیادی عقائد اور پھر عبادات کے پانچ بنیادی ستون  اور شریعت کے قوانین دنیا کو سکھائیں جو ایمان کی بنیادی باتوں اور عقائد اہل سنت بنیادی اہمیت کے حامل ہیں یہی وجہ ہے کہ عظیم مسلمان علماء جو کہ بہت سے علو م و فنو ن کے ماہر رہے انہوں نے برسوں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل سنت کے عقائد کی تبلیغ فرمائی جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔اہل سنت علماء اپنی تحریر و تقریر سے  ہمیشہ بنیادی اسلامی عقائد اور بہترین اخلاقیات کی تعلیم دیتے آئے ہیں، اور اسلامی ریاست کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مدد کرنے کا جذبہ ابھارتے چلے آئے ہیں۔ اہل سنت علماء نے، دین سے بے خبر ایسے لوگوں کی تحریروں کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی جو  مسلمانوں کو ورغلاکر ان کے ملک کے خلاف کرتے ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین تلواروں کے سائے میں ہے، کیونکہ اگر اسلامی ریاست مضبوط ہو تو لوگ اس میں زیادہ امن اور خوشی سے رہ سکتے ہیں اسی لیے مسلمان اپنی ریاست اور اس کے قوانین کی حفاظت میں با آسانی زندگی بسر کرسکتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح جن غیر اسلامی  ممالک میں مسلمان آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنے مذہبی فرائض بجا لانے میں آزاد ہیں وہ وہاں کے قانون کی پابندی کرتے ہیں اور فتنہ پرور عناصر کے شر سے اپنا دامن بچا کر رکھتے ہیں ان کے لئے اہلسنت وجماعت کے علماء کی طرف سے  یہ ایک پیغام ہے  کہ انہیں ایسے فتنہ پرور عناصر سے خود کو دور رکھنا چاہئے جو ہمہ وقت مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرتے ہیں اور اقوام عالم میں مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ صد شکر ہے کہ مشاہدے کی بات ہے   کہ تقریباً  تمام مسلم ممالک میں دینی رہنما اہل سنت کے اس درست راستے کو اپنانے کی تبلیغ  اور اس کا دفاع کرنے میں کوشاں رہے ہیں۔  تاہم، چند جاہل قسم کے لوگ، جنہوں نے یا تو علماء اہل سنت کی کتب کو پڑھا نہیں یا سمجھا نہیں، وہ کچھ زبانی یا تحریری بیان جاری کرتے رہتے ہیں، حالانکہ ان کی جاہلانہ اور دھوکہ دہی والی باتیں مسلمانوں کا ایمان برباد کرنے اور باہمی منافرت پھیلانے کے سوا کوئی کام نہیں دیتیں۔ مسلمانوں میں گھسی ہوئی نقصان دہ علیحدگی پسند تحریکیں علم الحال کی کتب اور اہل سنت کے  عظیم علماء ا ور صوفیاء کو بدنام کی کوششیں کرتی رہتی ہیں، اہل سنت کے علماء نے ان کے مسکت جوابات لکھے ہیں اور قرآن و حدیث سے ثابت شدہ دین کی حفاظت کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے جس کو تبدیل کرنے کی کوشش بے دین کرتے ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

یہ مضمون 2014ء میں لکھا گیا۔ عبدالرزاق قادری

جمعرات، 18 فروری، 2016

ایک کہانی تین نسلوں کی!!!

گزشتہ دنوں میں نے ضلع فیصل آباد کا سفر کیا، وہاں چک نمبر 70 ر۔ب ”گجر سنگھ والا“ میں میری ایک خالہ رہتی تھی، جو سن 2006ء میں اگلے جہاں سدھار گئیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ میری والدہ بھی اسی گاؤں میں (تقریباً 1962ء میں) پیدا ہوئی تھیں ، پنجابی زبان میں والدہ کے میکے کو ”نانکے“ اور اردو میں ننھیال کہا جاتا ہے۔ میرے ننھیال نے تقریباً 1970ء  میں ضلع وہاڑی کی طرف ہجرت کی۔ کچھ وجوہ کی بنا پر انہیں نقل مکانی کرنا پڑی۔اور پھر وہاں سے بھی چھوڑ کر ضلع لیہ میں ایک گاؤں میں تھوڑا عرصہ گزارنے  کے بعد چک نمبر 475 ٹی ڈی اے میں اپنی زمین خرید لی اور وہیں رہنے لگے۔ 
میرے ابتدائی بچپن میں، سب سے خوشی کی بات میرے ننھیال  کے ہاں جانا تھا ( شاید آج بھی ہے)،  تب ہم ضلع وہاڑی کے ایک گاؤں چک نمبر 174 ڈبلیوبی ”راجو“ میں رہتے تھے، میری پیدائش بھی وہیں کی ہے۔ ہم نے 1990ء یا 1991 میں ضلع لیہ کے ایک گاؤں میں نقل مکانی کی، یہ چک نمبر 349 ٹی ڈی   اے”رحمان آباد“  تھا۔ سن 2000ء کے 12 اگست  کو میں لاہور آیا اور یہیں کا ہوکر رہ گیا۔
5 فروری 2016ء کو میں اپنی مرحوم خالہ کے گھر والوں سے ملنے  فیصل آباد گیا تھا، اس تصویر میں  میرے خالو کو بائیں جانب دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا نام شیر ہے۔ درمیان میں ان کے بیٹے، ایم بوٹا شاہین اور دائیں طرف مسٹر عقیل (بوٹا شاہین کا بیٹا) موجود ہے۔ میرے خالو  1947ء کی خونی ہجرت کے چشم دید گواہ ہیں جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان کی عمر اس وقت 13 یا 14 سال تھی  اور آگ اور خون کے منظرنامے میں اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑ کر ایک قافلے کے ساتھ آئے تھے۔ ایم بوٹا  شاہین نے ایک مزدور کے طور پر 2 دہائیوں  تک ٹیکسٹائل ملز میں  مزدوری کی اور اب وہ اپنے گھر کے ایک کمرے میں  کریانہ(پرچون)  کی ایک چھوٹی سی دکان چلا   رہے ہیں۔ عقیل صاحب اب سکول میں تعلیم حاصل نہیں جاتے، حالانکہ وہ ایک بچہ ہے۔پاکستان میں اس لالچی معاشرےکے غلیظ نظام میں مناسب طریقے سے  تعلیم حاصل کرنے کے لئے، ایک بچے  کو بہت سے”مسائل“  سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے، جن میں سے کچھ کا اظہار ایک فلم ”تارے زمیں پر“ میں کیا گیا ہے۔
یہ تصویر 6 فروری 2016ء کو میں نے کھینچی ہے۔ عبدالرزاق

A Journey of 3 generations!!!

Recently, I've visited the district of Faisalabad, where my Khala (sister of
my mother) used to reside and she died in 2006. The village is called 'Gujjar Singh Wala 70/RB'. 
It is guessed that My mother was born in the same village (nearly) about 1962. Mother's parents are called "naankay" in Punjabi & "Nannhiyaal" in Urdu Language. My 'naankay' migrated from Gujjar Singh Wala to District Vehari (about 1970) & then to Layyah.They were farmers. Because of some reasons they had to move from the district of Faisalabad. They changed their residence twice in different villages in Layyah & Finally got their own Land in Chak no 475/TDA.
In my early childhood, the happiest thing was to visit my 'naankay-village'. My father's family lived in Chak no 174/WB in district Vehari. I was born their & our family migrated to District Layyah (Chak no 349/TDA) about 1990 or 1991. I came in Lahore on 12th of August in 2000 AD and I'm living here for last 15 & half years.
On 5th of February, 2016 I went to see the family members of my late Khala (sister of my mother). In this picture her husband (an old man) can be seen in left. His name is Shear. In the mid there is his son, M Boota Shaheen and on right hand side Mr Aqeel (Son of Boota Shaheen).
My Khalu (uncle) Shear is an eye witness of bloody migration of 1947, when Pakistan was made. He was a boy of 13 or 14 years at that time. He left his 'Hometown' with a Caravan in the scenario of Blood and fire.
M Boota Shaheen had been working in Textile Mills for 2 decades as a laborer. Now, he is running a small shop of Grocery (in Retail) in a room of his house.The young boy Mr Aqeel is not studying anymore in school, although he is a child yet.
There are many "problems" in Pakistan for a child to study properly in the filthy system of this greedy society. One can understand the issues by watching the movie 'Taare Zameen Par'.
 
The picture was taken in the morning of 6th of Februry, 2016 by me.
Abdul Razzaq​

جمعہ، 12 فروری، 2016

Progress Report and Feedback of Tyara

Tyara is one of our bright students residing in Perth, Australia. She started her lessons with us (E Learning Holy Quran) from 30th of January, 2013 with Arabic alphabets in Basic Book. After this book she read last two parts of Quran & 4 and half parts from right side.  At the end of 2013 she had a break for a short while, then came back in beginning of 2014 once again. She has learned Namaz (Salaat) and other necessary stuff about Islam. She also was taught a little bit Arabic grammar & some of the translation(s) of Quranic Text.
She is reading Surah al-Saffaat in part no 23, which is (in fact) 25th part for her. Now, 5 and half parts (out of 30 parts) are left more. Hopefully, she will be able to complete her Quran reading (for first time) at the end of April 2016, In-Sha-Allah.
Tyara has written and shared her experience with us, have a look at the feedback given below:
“Mr Abdul Razzaq Qadri has been my Quaranic Studies teacher for a few years now. This began firstly through the E-Learning Holy Qu’ran website which employed many teachers to teach the Qu’ran to students across the globe despite the company being based in Pakistan. This method proved very convenient and effective in fitting in these lessons with school and so when the company discontinued my parents and I struggled with finding a suitable replacement in terms of teaching abilities and convenience, so when he approached us again saying that he would be continuing his teaching online, we were very happy. During my lessons with Mr Abdul Razzaq Qadri I have not only been able to learn how to correctly pronounce sounds in the Arabic language (a language that I previously did not know how to read or speak) that helps me read more fluently, but also along with reading, I have learnt the meanings and stories behind each page I read. This gives me a purpose in reading the Quran as it helps me learn more in depth about my religion instead of just aimlessly reading something I don’t understand. If I ever need an explanation on a translation I don’t understand, his excellent English skills helps me understand it. I am a student fortunate enough to live in a country like Australia where we have very few Internet issues, and so sometimes we face net issues that occur over there but despite this, he does his best to keep the lessons going and if need be, arranges a suitable time for a make-up lesson which means you get the full value of your money.  Over all he is a very kind teacher who offers constructive criticism and possesses great abilities in teaching.”

Progress Report and Feedback of Tyara

Tyara is one of our bright students residing in Perth, Australia. She started her lessons with us (E Learning Holy Quran) from 30th of January, 2013 with Arabic alphabets in Basic Book. After this book she read last two parts of Quran & 4 and half parts from right side.  At the end of 2013 she had a break for a short while, then came back in beginning of 2014 once again. She has learned Namaz (Salaat) and other necessary stuff about Islam. She also was taught a little bit Arabic grammar & some of the translation(s) of Quranic Text.
She is reading Surah al-Saffaat in part no 23, which is (in fact) 25th part for her. Now, 5 and half parts (out of 30 parts) are left more. Hopefully, she will be able to complete her Quran reading (for first time) at the end of April 2016, In-Sha-Allah.
Tyara has written and shared her experience with us, have a look at the feedback given below:
“Mr Abdul Razzaq Qadri has been my Quaranic Studies teacher for a few years now. This began firstly through the E-Learning Holy Qu’ran website which employed many teachers to teach the Qu’ran to students across the globe despite the company being based in Pakistan. This method proved very convenient and effective in fitting in these lessons with school and so when the company discontinued my parents and I struggled with finding a suitable replacement in terms of teaching abilities and convenience, so when he approached us again saying that he would be continuing his teaching online, we were very happy. During my lessons with Mr Abdul Razzaq Qadri I have not only been able to learn how to correctly pronounce sounds in the Arabic language (a language that I previously did not know how to read or speak) that helps me read more fluently, but also along with reading, I have learnt the meanings and stories behind each page I read. This gives me a purpose in reading the Quran as it helps me learn more in depth about my religion instead of just aimlessly reading something I don’t understand. If I ever need an explanation on a translation I don’t understand, his excellent English skills helps me understand it. I am a student fortunate enough to live in a country like Australia where we have very few Internet issues, and so sometimes we face net issues that occur over there but despite this, he does his best to keep the lessons going and if need be, arranges a suitable time for a make-up lesson which means you get the full value of your money.  Over all he is a very kind teacher who offers constructive criticism and possesses great abilities in teaching.”