بدھ، 15 جولائی، 2015

Laylat ul Qadr 1436 at Jamia Islamia Rizvia Lahore

Last night was 27th of Ramadan 1436 AH. It is considered ‘Laylat Al Qadr’ by Muslims.
Me and Tehseen Chishti went to Jamia Islamia Rizvia Lahore, situated in Rachna Town Ferozwala to attend Convocation Ceremony and Annual Program. After ablution we entered the Masjid Nusrat e Madina at 12:27 AM on 15 Jul 2015. It was full of worshipers.
Sayyed Anis Shah Qadri was reciting Naat in Mosque of Jamia Islamia Rizvia Lahore at that time. Ghulam Yasin Qadri was offering duties of stage secretary. He invited Ghulam Sarwar to recite Naat in the praise of Holy Prophet Muhammad. Meanwhile Mufti e Azam Pakistan Muhammad Arshad al Qadri entered the Mosque. Ghulam Sarwar recited Naat , then Akif Qadri invited Waqar Noorani to recite The Holy Quran. To start Convocation Ceremony. He recited from Surah Maryam, Surah Qiyamah, Surah al-Dhuha and Surah Qadr.
After Tilawah of Quran, Akif Qadri recited a Naat. At 1:05 AM,Ghulam Yasin Qadri invited Mufti Arshad ul Qadri for his speech. Before his address he introduced his works Especially an Urdu Interpretetion ('Fuyoodh.un.Nabi') of Hadith book Jami al-Tirmidhi. Mufti Arshad ul Qadri told that he has written more than 400 books about current issues of Muslim Ummah & Sciences of Quran and Hadith.
In his speech, Mufti invited the attention of Muslim Ummah towards unity. He said that his manifesto is unity, serve and stability. He said that during last 40 years of his services about religion, he never worked to promote sectarianism. “If some enemy will attack you, he will not ask about your sect, he will kill you simply” he added.
After speech of Mufti Arshad ul Qadri, certificates were distributed among students of Hifz e Quran in Jamia Islamia Rizvia Lahore at 2:14 AM. At the end a few gifts were distributed among Teachers and servants of institution. Then, Salam of Imam Ahmed Raza Khan was recited together by standing and Mufti prayed Dua for all. Then we ate Sehri food there and came back by 03:00 am.
          This report was written in the light of my tweets, which I sent during the ceremony. Abdul Razzaq Qadri
To follow me on Twitter, account is @Ar_Qadri

Laylat ul Qadr 1436 at Jamia Islamia Rizvia Lahore

Last night was 27th of Ramadan 1436 AH. It is considered ‘Laylat Al Qadr’ by Muslims.
Me and Tehseen Chishti went to Jamia Islamia Rizvia Lahore, situated in Rachna Town Ferozwala to attend Convocation Ceremony and Annual Program. After ablution we entered the Masjid Nusrat e Madina at 12:27 AM on 15 Jul 2015. It was full of worshipers.

Sayyed Anis Shah Qadri was reciting Naat in Mosque of Jamia Islamia Rizvia Lahore at that time. Ghulam Yasin Qadri was offering duties of stage secretary. He invited Ghulam Sarwar to recite Naat in the praise of Holy Prophet Muhammad. Meanwhile Mufti e Azam Pakistan Muhammad Arshad al Qadri entered the Mosque. Ghulam Sarwar recited Naat , then Akif Qadri invited Waqar Noorani to recite The Holy Quran. To start Convocation Ceremony. He recited from Surah Maryam, Surah Qiyamah, Surah al-Dhuha and Surah Qadr.
After Tilawah of Quran, Akif Qadri recited a Naat. At 1:05 AM,Ghulam Yasin Qadri invited Mufti Arshad ul Qadri for his speech. Before his address he introduced his works Especially an Urdu Interpretetion ('Fuyoodh.un.Nabi') of Hadith book Jami al-Tirmidhi. Mufti Arshad ul Qadri told that he has written more than 400 books about current issues of Muslim Ummah & Sciences of Quran and Hadith.
In his speech, Mufti invited the attention of Muslim Ummah towards unity. He said that his manifesto is unity, serve and stability. He said that during last 40 years of his services about religion, he never worked to promote sectarianism. “If some enemy will attack you, he will not ask about your sect, he will kill you simply” he added.
After speech of Mufti Arshad ul Qadri, certificates were distributed among students of Hifz e Quran in Jamia Islamia Rizvia Lahore at 2:14 AM. At the end a few gifts were distributed among Teachers and servants of institution. Then, Salam of Imam Ahmed Raza Khan was recited together by standing and Mufti prayed Dua for all. Then we ate Sehri food there and came back by 03:00 am.
          This report was written in the light of my tweets, which I sent during the ceremony. Abdul Razzaq Qadri

To follow me on Twitter, account is @Ar_Qadri

منگل، 14 جولائی، 2015

ریحان نے مکمل قرآن مجید پڑھ لیا

ریحان نے مکمل قرآن مجید پڑھ لیا

اسے مکمل قرآن پڑھنے میں1 سال اور 11 ماہ کا عرصہ لگا
لاہور: جولائی 14، 2015، ماہِ رمضان المبارک کا چھبیسواں روزہ (شب قدر)

میرے ادارے 'ای لرننگ ہولی قرآن' کے طلباء میں سے ایک کا نام ریحان ہے۔ اس کی عمر 14 سال ہے۔ وہ پرتھ، مغربی آسٹریلیا سے تعلق رکھتا ہے۔اس نے 2 سن 2013 کو اپنے سبق کا  آغاز کیا۔ سب سے پہلے قاعدہ پڑھا۔ قاعدہ ایک ابتدائی کتاب ہے، جس سے یہ سیکھا جاتا ہے کہ عربی کو کیسے پڑھتے ہیں۔ اس میں عربی حروف تہجی، آوازیں، حرکات اور تجوید کے قواعد و ضوابط کے اسباق ہوتے ہیں۔

اس کے بعد ریحان نے پہلے قرآن کا تیسواں سپارہ (جز) پڑھا۔ پھر میں نے اسے پہلے پارے پر لگا دیا۔ اسے پڑھنے کے بعد دوبارہ آخری جانب چلے گئے وہاں انتیسواں، اٹھائیسواں، ستائیسواں، چھبیسواں، پچیسواں اور چوبیسواں سپارہ پڑھا۔ تب ہم نے تئیسواں پارہ سورۃ یٰسین شریف سے شروع کیا۔ 
بعد ازاں، ایک مختصر وقت کے بعد ہم نے سپاروں کی بجائے سورتوں کی ترتیب کو اپنا لیا۔ اور ہم پیچھے سے سورتوں کو پڑھتے رہے۔ حتیٰ کہ سورۃ الانعام جو کہ چھٹی سورۃ ہے وہاں تک پڑھ لیا۔ چونکہ قرآن پاک عربی زبان میں ہے اور دائیں سے بائیں مرتب کیا جاتا ہے جیسا کہ عربی کتابیں، اردو، فارسی اور کچھ دیگر مشرقی زبانوں کو دائیں سے بائیں سے لکھا جاتا ہے۔ لیکن ریحان سورتوں کو بائیں سے دائیں پڑھ رہا تھا یعنی دسویں سورۃ پڑھ کے بعد میں نویں، پھر آٹھویں، پھر ساتویں اور بالآخر چھٹی۔
چھٹی سورۃ  الانعام کے بعد میں نے اُسے ایک بار پھر دوسرے سپارے کی طرف منتقل کردیا۔ کیونکہ پہلا پارہ تو اُس نے پڑھا ہوا تھا۔ لہٰذا اس کے چند ماہ کے بعد آج ہمارے ہونہار طالبعلم نے آخری سبق پڑھ لیا جو کہ پانچویں سورۃ المائدہ کی آخری آیات تھی۔ آج کا سبق آیت نمبر 90 سے آیت نمبر 120 تک تھا۔ یہ سورۃ ساتویں پارے کے پہلے ربع کے بعد مکمل ہوتی ہے۔
اس نے مکمل قرآن مجید میرے پاس آن لائن پڑھا ہے۔ یہ میرا دوسرا شاگرد ہے جس نے مکمل قرآن پاک میرے پاس پڑھا۔ اس سے پہلے مازِن نے بھی مکمل قرآن مجھ ہی سے پڑھا تھا۔ یہ دونوں بچے 'ای لرننگ ہولی قرآن' سے منسلک ہیں۔ مازِن نے جولائی 2013ء میں مکمل کیا تھا اُس وقت اُس کی عمر ساڑھے چھ برس تھی۔ وہ ایک پاکستانی فیملی سے تعلق رکھتا ہے اس لئے وہ اردو میں بات کرتا ہے، میں بھی پاکستان سے ہوں اس لئے میری قومی زبان بھی اردو ہے۔ جبکہ ہمارے آج کے ہیرو ، ریحان صاحب  برمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا وہ انگریزی میں گفتگو کرتے ہیں۔ انگریزی بولنے والے طلباء میں سےاُسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ہمارے ادارے میں قرآن پورا کرنے والا پہلا بچہ ہے۔ یہ میرے لئے اور میرے ادارے 'ای لرننگ ہولی قرآن ڈاٹ کام' کے لئے بھی ایک اعزاز ہے۔ میں نے ریحان کے والدین کو مبارکباد دی تھی۔ میں ایک بار پھر انہیں اور ان کے خاندان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
الحمدللہ ہم نے یہ برکت حاصل کرلی.

ریحان نے مکمل قرآن مجید پڑھ لیا

E Learning Holy Quran's Website

اسے مکمل قرآن پڑھنے میں1 سال اور 11 ماہ کا عرصہ لگا
لاہور: جولائی 14، 2015، ماہِ رمضان المبارک کا چھبیسواں روزہ (شب قدر)

میرے ادارے 'ای لرننگ ہولی قرآن' کے طلباء میں سے ایک کا نام ریحان ہے۔ اس کی عمر 14 سال ہے۔ وہ پرتھ، مغربی آسٹریلیا سے تعلق رکھتا ہے۔اس نے 2 سن 2013 کو اپنے سبق کا  آغاز کیا۔ سب سے پہلے قاعدہ پڑھا۔ قاعدہ ایک ابتدائی کتاب ہے، جس سے یہ سیکھا جاتا ہے کہ عربی کو کیسے پڑھتے ہیں۔ اس میں عربی حروف تہجی، آوازیں، حرکات اور تجوید کے قواعد و ضوابط کے اسباق ہوتے ہیں۔

اس کے بعد ریحان نے پہلے قرآن کا تیسواں سپارہ (جز) پڑھا۔ پھر میں نے اسے پہلے پارے پر لگا دیا۔ اسے پڑھنے کے بعد دوبارہ آخری جانب چلے گئے وہاں انتیسواں، اٹھائیسواں، ستائیسواں، چھبیسواں، پچیسواں اور چوبیسواں سپارہ پڑھا۔ تب ہم نے تئیسواں پارہ سورۃ یٰسین شریف سے شروع کیا۔ 
بعد ازاں، ایک مختصر وقت کے بعد ہم نے سپاروں کی بجائے سورتوں کی ترتیب کو اپنا لیا۔ اور ہم پیچھے سے سورتوں کو پڑھتے رہے۔ حتیٰ کہ سورۃ الانعام جو کہ چھٹی سورۃ ہے وہاں تک پڑھ لیا۔ چونکہ قرآن پاک عربی زبان میں ہے اور دائیں سے بائیں مرتب کیا جاتا ہے جیسا کہ عربی کتابیں، اردو، فارسی اور کچھ دیگر مشرقی زبانوں کو دائیں سے بائیں سے لکھا جاتا ہے۔ لیکن ریحان سورتوں کو بائیں سے دائیں پڑھ رہا تھا یعنی دسویں سورۃ پڑھ کے بعد میں نویں، پھر آٹھویں، پھر ساتویں اور بالآخر چھٹی۔
چھٹی سورۃ  الانعام کے بعد میں نے اُسے ایک بار پھر دوسرے سپارے کی طرف منتقل کردیا۔ کیونکہ پہلا پارہ تو اُس نے پڑھا ہوا تھا۔ لہٰذا اس کے چند ماہ کے بعد آج ہمارے ہونہار طالبعلم نے آخری سبق پڑھ لیا جو کہ پانچویں سورۃ المائدہ کی آخری آیات تھی۔ آج کا سبق آیت نمبر 90 سے آیت نمبر 120 تک تھا۔ یہ سورۃ ساتویں پارے کے پہلے ربع کے بعد مکمل ہوتی ہے۔
اس نے مکمل قرآن مجید میرے پاس آن لائن پڑھا ہے۔ یہ میرا دوسرا شاگرد ہے جس نے مکمل قرآن پاک میرے پاس پڑھا۔ اس سے پہلے مازِن نے بھی مکمل قرآن مجھ ہی سے پڑھا تھا۔ یہ دونوں بچے 'ای لرننگ ہولی قرآن' سے منسلک ہیں۔ مازِن نے جولائی 2013ء میں مکمل کیا تھا اُس وقت اُس کی عمر ساڑھے چھ برس تھی۔ وہ ایک پاکستانی فیملی سے تعلق رکھتا ہے اس لئے وہ اردو میں بات کرتا ہے، میں بھی پاکستان سے ہوں اس لئے میری قومی زبان بھی اردو ہے۔ جبکہ ہمارے آج کے ہیرو ، ریحان صاحب  برمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا وہ انگریزی میں گفتگو کرتے ہیں۔ انگریزی بولنے والے طلباء میں سےاُسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ہمارے ادارے میں قرآن پورا کرنے والا پہلا بچہ ہے۔ یہ میرے لئے اور میرے ادارے 'ای لرننگ ہولی قرآن ڈاٹ کام' کے لئے بھی ایک اعزاز ہے۔ میں نے ریحان کے والدین کو مبارکباد دی تھی۔ میں ایک بار پھر انہیں اور ان کے خاندان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
الحمدللہ ہم نے یہ برکت حاصل کرلی.

Rehan has Read The Holy Quran Completely

He read it during 1 year and 11 months.
Lahore: (July 14, 2015)
         Rehan is one of  the students of ‘E Learning Holy Quran’. He is 14 year old. He belongs to ‪‎Perth‬, Western ‪Australia‬. He started his lessons on Sep 02, 2013. Firstly he read Quaidah Book. Quaidah is an initial book, in which he learnt how to read Arabic Text. The Book starts with Arabic Alphabets and tells a student about sounds, movements and rules of Arabic Reading.
         Then Rehan read 30th part (Juzz) of Quran first. After reading that I moved him towards 1st part. He completed 1st para (Part) and I once again moved him to Para no 29. From there he had been reading Para no 28, 27, 26, 25 and 24. We started Para no 23 from beginning of Surah Yasin.
         Later on, after a short time we adopted the order of Suras (Chapters) instead of Parts. But we were going from back end to right. As we know that The Holy Quran, Arabic books, Urdu, Persian and some other eastern languages are written from right to left. But Rehan was reading Quran from left to right with respect to Suras (Chapters). When he studied up-to 6th Chapter al-an’aam, I suggested him to start Quran from 2nd para. Because he already had read 1st para. He moved there then.
So, after a few months he has completed Quran today. It was his last Quranic Arabic text lesson. He told me 5th Chapter’s last Ayaat (verses) from verse no 90 to last Ayat 120 today.
         He was second student of mine who has read complete Quran with me as well as second student of “E Learning Holy Quran” who did so. First student was Mazin, he completed his Quran reading in July 2013. Mazin was an Urdu speaking (Pakistani native) boy & he was 6 and half year old at that time. I’m also from Pakistan. So, Urdu is my national language, But Rehan is a Burmese Native. So he speaks English Language. With respect to English, he is the first guy who has studied Quran completely with us. It’s an honor for me and my institute, E Learning Holy Quran dot com.  I want to congratulate him and his family once again. Al-hamdu-lillah, we did it.
Abdul Razzaq Qadri

Rehan has Read The Holy Quran Completely

E Learning Holy Quran's Website

He read it during 1 year and 11 months.
Lahore: (July 14, 2015)
         Rehan is one of  the students of ‘E Learning Holy Quran’. He is 14 year old. He belongs to ‪‎Perth‬, Western ‪Australia‬. He started his lessons on Sep 02, 2013. Firstly he read Quaidah Book. Quaidah is an initial book, in which he learnt how to read Arabic Text. The Book starts with Arabic Alphabets and tells a student about sounds, movements and rules of Arabic Reading.
         Then Rehan read 30th part (Juzz) of Quran first. After reading that I moved him towards 1st part. He completed 1st para (Part) and I once again moved him to Para no 29. From there he had been reading Para no 28, 27, 26, 25 and 24. We started Para no 23 from beginning of Surah Yasin.
         Later on, after a short time we adopted the order of Suras (Chapters) instead of Parts. But we were going from back end to right. As we know that The Holy Quran, Arabic books, Urdu, Persian and some other eastern languages are written from right to left. But Rehan was reading Quran from left to right with respect to Suras (Chapters). When he studied up-to 6th Chapter al-an’aam, I suggested him to start Quran from 2nd para. Because he already had read 1st para. He moved there then.
So, after a few months he has completed Quran today. It was his last Quranic Arabic text lesson. He told me 5th Chapter’s last Ayaat (verses) from verse no 90 to last Ayat 120 today.
         He was second student of mine who has read complete Quran with me as well as second student of “E Learning Holy Quran” who did so. First student was Mazin, he completed his Quran reading in July 2013. Mazin was an Urdu speaking (Pakistani native) boy & he was 6 and half year old at that time. I’m also from Pakistan. So, Urdu is my national language, But Rehan is a Burmese Native. So he speaks English Language. With respect to English, he is the first guy who has studied Quran completely with us. It’s an honor for me and my institute, E Learning Holy Quran dot com.  I want to congratulate him and his family once again. Al-hamdu-lillah, we did it.

پیر، 6 جولائی، 2015

An Interview with Grand Mufti of Pakistan Allama Arshad ul Qadri

مفتی اعظم پاکستان علامہ ارشد القادری سےنوائے منزل کی خصوصی گفتگو

ماہنامہ نوائے منزل لاہور، فروری 2015
انٹرویو پینل: حافظ عبدالرزاق قادری، محمد کامران اختر

       علامہ مفتی محمد ارشد القادری موجودہ دور کے عظیم دینی سکالر، مبلغ اور محقق ہیں۔ وہ 16 فروری 1958ء کو پیدا ہوئے۔آپ سینکڑوں کتب کے مصنف ہیں۔ ان میں سے دو درجن کے قریب کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ جبکہ باقی طباعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔آپ کا ایک عظیم علمی کارنامہ صحیح ترمذی شریف کی شرح فیوض النبی ہے۔ اس کی دو جلدیں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔علامہ محمد ارشد قادری تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان نامی ایک تحریک کے بانی ہیں۔ اس تنظیم کے زیر انتظام مختلف اجتماعات، کانفرسیں اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔تعلیم و تربیت اسلامی مختلف فلاحی کاموں میں حصہ لیتی ہےتعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کا منشور وحدت امت ، خدمت امت اور استحکام امت ہے۔ تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کا صدر دفتر لاہور میں ہے۔ 
علامہ مفتی محمد ارشد القادری کی زندگی کے مختلف گوشوں سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے ان سے نوائے منزل نے خصوصی انٹرویو کیا ہے۔ جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا  رہا ہے۔

نوائے منزل : آپ نے ابتدائی علوم و فنون کہاں کہاں سے حاصل کیے ؟
ابتدائی علوم تو اسی طرح سکول سے حاصل کیے جس طرح عام متوسط طبقے کے لوگ حاصل کرتے ہیں۔ پہلی دفعہ جب میرے والد صاحب مجھے سکول میں لے کر گئے اس وقت میں پانچ سال کا تھالیکن داخلہ نہ ہو سکا کیونکہ اس زمانے میں سات سال کی عمر میں بچوں کو داخلہ دیا جاتا تھا۔لہذا گھرمیں ہی تدریس کا آغاز ہو گیا۔اس کے بعد سات سال کی عمر میں داخلہ ہوا۔ہمارا گھر کوٹ نیناں میں تھا۔کوٹ نیناں شکر گڑھ سے مشرق میں دریائے روای کے مغرب میں ایک قصبہ ہے۔پھر 1971ء کی جنگ میں ہم لاہور منتقل ہوئے ۔ باقی تعلیم لاہو ر میں حاصل کی۔

نوائے منزل : دینی علوم کی طرف رغبت کیسے ہوئی ؟
جب میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا تو  مولانا حافظ نذیر صاحب ہمارے خطیب (کرمانوالی مسجد ابراہیم روڈ لاہور) ہوا کرتے تھے۔ ان سے متاثر ہوا۔کیونکہ وہ حضرت مولانا ابوالبرکات علیہ الرحمہ اور حضرت محدث اعظم رحمۃ اللہ علیہ جیسے بڑے بزرگ علماء کے شاگرد تھے۔ ان کا انداز تربیت بھی بہت عمدہ تھا۔انہی کے پاس کریما سعدی، نام حق ، پند نامہ اور صرف و نحوکی ابتدائی کتب پڑھیں۔اس کے علاوہ جامعہ رسولیہ شیرازیہ کے بانی اُستادِ محترم، حضرت علامہ حاجی محمد علی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ صاحب سے بھی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ استاد نقشبندی صاحب کا اندازِ تدریس منفرد ہوتا تھا۔ وہ روزانہ صبح سیر کے لیے دریائے راوی کے کنارے جاتے تھے۔ ا س لیےدین کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سکول جانے والے طلباء صبح سویرے سکول ٹائم سے پہلے پڑھنے  کے لئے ان کے ساتھ دریا کی طرف پیدل جاتے۔ دریا کی طرف جاتے ہوئے وہ سبق سن لیتے تھے اور دریا کے کنارے بیٹھ کر اگلا سبق پڑھا دیتے تھے۔اور واپسی پر اگلے دن کے لیے نصیحت وغیر ہ فرما دیتے تھے۔ان کی زندگی کا یہ گوشہ بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگا۔

نوائے منزل : روحانی تربیت  اور فیض کہاں سے حاصل کیا ؟
جب میں ایف۔اے کا سٹوڈنٹ تھا تو ایک بارحضرت مولانا عبدالرشید قادری رضوی رحمتہ اللہ علیہ (سمندری شریف) کے پیچھے جمعہ پڑھنے کے ارادے سے گیا۔تقریر تو زیادہ نہ سن سکا۔ جمعہ پڑھنے کے بعد جب صلوٰۃ و سلا م پڑھا گیا تو ایک شعر حضرت نے خود پڑھا۔اس کے بعد وہ لوگوں کے مسائل سننے لگ گئے۔ میں اٹھا اورچل دیا۔دو تین فرلانگ دور ہی گیا تھا کہ ایک ٹاہلی (شیشم)کے درخت کے نیچے جا کر کھڑا ہو گیا۔میں نے سوچا کہ اگر آج یہ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر شاید موقع نہ ملے ۔ اس لیے بیعت کرلینی چاہیے۔  لہذا میں واپس گیا اور حلقے میں جا کر بیٹھ گیا۔ مجھے دیکھ کر حضرت نے مسکرا کر  فرمایا  آ گئے ہو؟ہو گیا فیصلہ ؟؟او ر لوگوں سے فرمایا کہ اس نوجوان کو راستہ دوقریب آنے کے لیے۔ جب میں قریب آیا  تو فرمایا آئیے، بڑھائیے ہاتھ۔ 
نوائے منزل: حضرت علامہ امام احمد شاہ نورانی رحمتہ اللہ علیہ سے آپ کی ملاقات کب ہوئی ؟
1980ء کے اواخر اور 1981ء کے اوائل میں، مَیں GC لاہور میں سٹوڈنٹ تھا۔ وہاں پہلی بار امام نورانی کو میں نے قریب سے دیکھا۔ دور سے تو پہلے بھی دیکھا ہوا تھا۔ اس وقت میں ٹائی ،پینٹ کوٹ میں تھا اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں مولوی بنوں گا۔ میں نے آٹو گراف کے لیے فائل مولانا کی طرف بڑھا دی۔تو مولانا نے اس پر لکھ دیا۔
؎         خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
            سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ  و نجف
بس اس کے بعد میری زندگی بدل گئی۔ میں شاہ احمد نورانی رحمتہ اللہ علیہ کی محبت میں غرق ہو گیا۔جس طرح میں نے عام مولویوں کے بارے میں سنا تھا مولانا کو اس کے بر عکس پایا۔عمدہ انگریزی، خوبصورت لب و لہجہ اور بے پناہ پیار۔کبھی ایسا مرد نہیں دیکھا تھا۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں اس طرح کا بنوں گا جس طرح کے یہ ہیں۔ (مولاناارشد القادری علامہ نورانی کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ انٹرویو پینل)

نوائے منزل: آپ طویل عرصے سے حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پر سوال جواب کی نشست منعقد کر رہے ہیں۔ اس کا خیال کیسے آیا؟
1990ء میں جب میں حج کرنے کے لیے پہلی مرتبہ حر مین شریفین گیا۔ جب مکہ مشرفہ سے مدینہ منورہ کی طرف گیا تو مسجد نبوی کی پرانی عمارت سے مغرب کی طرف نکلیں تو ایک خالی جگہ ہے ۔ میں نےاس طرف دیکھا کہ لوگوں کا ایک جگہ ہجوم ہے ۔ اور ایک صاحب کھڑے ہیں۔ لوگ پرچیوں پر سوالات لکھ کر دے رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔ مجھے یہ طریق اچھا لگا۔ حج سے آتے ہی پہلی جمعرات کو ہی میں نے دربار حضرت داتا صاحب پر یہ نشست شروع کر دی۔کچھ نوجوانوں نے پہلی دفعہ فقہ کا سوا ل پوچھا ۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔اس سلسلے میں اغیار اور اپنوں کی طرف سے بھی رکاوٹیں بھی ڈالی گئیں ۔ سیکرٹری او قاف کو بھی خطوط لکھے گئے ۔ سیکرٹری صاحب نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ آپ نے کہاں سے پڑھا ہے۔ میں نے بتایا کہ میں اولڈ راوین ہوں۔ سیکرٹری صاحب بھی راوین ہی تھے۔اس لیے وہ بہت خوش ہوئے  او ر مجھےاس کار خیر کی ان کی طرف سے بھی اجازت مل گئی۔

نوائے منزل:تصانیف کا سلسلہ کب سے شروع کیا؟
5 جنوری 1981ء کو میں نے پہلی کتا ب مکمل کی۔ جس کا عنوان تھا تعظیم مصطفی قرآن حکیم کی روشنی میں۔ وہ کتاب ابھی بھی موجود ہے۔

نوائے منزل: ترمذی شریف کی شرح لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
بڑا گھر بنگلہ ایک جگہ ہے۔ وہاں میں میلاد شریف کے جلسے میں گیا۔ میری ملاقات علامہ محمد مسعود حسان صاحب سے ہوئی۔ جو مفتی محمد امین صاحب کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے عربی میں چند منٹ بات کی۔ میں نے بھی عربی میں دس سے پندرہ منٹ تک کلا م کیا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ کھانے پر بیٹھے تو انہوں نے پوچھا کہ آج کل آپ کیا کر رہے ہیں ۔ میں نے بتایا کہ جمعہ پڑھا رہا ہوں ۔ کچھ کتابیں لکھی ہیں اور ایک ادارہ بنا رہا ہوں۔ مولانا نے کہا کہ ایسے بندے کو کوئی بڑا کام کرنا چاہیے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کرنا چاہیے۔ مولانا کہنے لگے مسلم ،بخاری پر تو کام ہو گیا۔ ترمذی شریف پر کام کی ضرورت ہے۔ میں نے اسی  وقت فیصلہ کر لیا کہ اب ترمذی شریف پر کام کروں گا۔ اس کام کے لیے ایک سال تک تو سوچ بچار کرتا رہا۔ پھر ایک سال اس کا نظم بناتے بناتے گزر گیا۔تین سال کے بعد نظم طے ہوا۔ پھر کام شروع کیا۔ اب تک الحمد للہ دو جلدیں مارکیٹ میں آ چکی ہیں۔اور اندرون اور بیرون ملک سے لوگوں نے بہت سراہا ہے ۔میں نے کوشش کی ہے ہر جگہ ادب کی زبان استعمال کروں۔ کچھ مقامات پر تنقید بھی کی ہے مگر اپنا لہجہ ہمیشہ دھیما رکھا ہے۔

نوائے منزل:  مستقبل میں کن عنوانات پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے توفیق عنایت فرمائی تو انشا اللہ تفسیر پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

نوائے منزل :آپ کا تعلق علامہ شاہ احمد نورانی مرحوم سے رہا ہے۔ جو سیاست میں علما کے امام تھے۔ موجودہ سیاسی عدم استحکام کے پس منظر میں علما کا کیا کردار ہے؟

میں اس موقعے پر ایک ایک کڑوا سچ بولنا چاہتا ہوں۔ چاہے کسی کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ درحقیقت آپ نے جس طبقے کی طر ف اشارہ کیا ہے اس طبقے نے مولانا نورانی کی قدرہی نہ کی۔اگر یہ طبقہ مولانا کی قدر کرتا توحالات ایسے نہ ہوتے۔ مجھے معلوم نہیں کہ علما ئے کرام اور مشائخ عظام نے کیوں اس گوہر نایاب کو نظر انداز کیا۔اور غلبہ اسلام کا خواب پورا نہ ہوسکا۔
؎                   یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
                    اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
ان کا ایک مخالف آخری وقت میں مولانا کے پاس آیا اور کہا کہ کیا ہوا مولانا اگر آپ کو آپ کی قوم نے چھوڑ دیا ہے۔ مگر ہم آپ کا  ساتھ نہیں چھوڑیں گئے۔
یہ علامہ نورانی کی تو عظمت کا اعتراف تھا مگر ہمارے علما اور مشائخ کے خوبصورت چہرے پر ایک عجب انداز کا تھپڑ تھا۔

نوائے منزل : آپ کے خیال میں علامہ نورانی میں وہ کون سی مقناطیسیت تھی جو سب لوگوں کو ان کے قریب لے آتی تھی؟
اللہ تعالیٰ نے علامہ کے ذہن میں کوئی خانہ چھوٹا نہیں رکھا۔ مقام عشق ایک بڑا مقام ہے مگر مقام درد اس سے بھی بڑا مقا م ہے۔ علامہ نورانی مقام درد پر فائز تھے۔مگر آج جو لوگ ان کو امام اور رحمتہ اللہ کہتےہیں میں نے خود ان کو علامہ کے خلاف تقریریں کرتے بھی سنا ہے  ۔ مگر آج سب لوگوں کو احسا س ہو گیا ہے کہ علامہ کی عظمت کیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم لوگ انتظار کرتےہیں کہ قابل اور لائق بند ے کی قبر بن جائے پھر ہم اس کی تعریف میں بہت سے القابات بولیں بس اس کی قبر بن جائے۔ میرے خیال میں کسی کی عظمت کےلیے اس کی قبر کا بن جانا ضروری نہیں ہے۔

نوائے منزل: آپ ہمیشہ اتحاد امت کے داعی رہے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ دہشت گردی کے اسباب میں سے ایک سبب فرقہ واریت بھی ہے؟
اس حوالے سے میرا دیکھنے کا زاویہ مختلف ہے۔ میں پاکستان میں کوئی بڑی مصیبت نہیں دیکھتا۔ میں یہ سوال ضرور کروں گا کہ ہم نے اپنا ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں کیوں دیا ہوا ہے۔ اغیار جب چاہتے ہیں چینل تبدیل کر دیتے ہیں۔جب آپ کی بات انجام تک پہنچتی ہے تو چینل ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی یورپی لابی ہمارے ایوانوں میں گھس گئی۔ آپ قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ ایک بار پڑھ لیں آپ کو اندازا ہو جا ئے گا۔

نوائے منزل:امت کو کن کن نکات پر متحد کیا جا سکتا ہے؟
ہم نے کئی بار کہا ہے کہ اگر تو ہم آئمہ ، علما اور لیڈروں کے نام پر جمع کرنا چاہیں تو ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔امت کو فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے نام پر جمع کیا جا سکتا ہے۔
؎           ٹھوکریں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
         قافلہ تو اے رضاؔ اول گیا آخر گیا

نوائے منزل: ایک اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ آپ نام تو امام احمد رضا بریلوی کا لیتے ہیں مگر امت کو کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پرجمع ہو جائیں۔ آپ کا کیا موقف ہے؟
احمد رضا کا نام لینا کوئی جرم تو نہیں ہے۔ امام احمد رضا نے تو عظمت رسول کی یاد دلائی ہے۔ یاددہانی کرانے والے کو فراموش کر دینا کوئی دانائی تو نہیں ہے۔  اسی طرح قاسم نانوتوی صاحب، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، اشرف علی تھانوی صاحب، تبلیغی جماعت کے الیاس کاندھلوی صاحب اور مودودی صاحب بھی یہی بات کہتےہیں۔
فساد کی بنیاد یہ بات ہے کہ جب ہم دوسروں کو مجبور کرنے کی کوشش کرتےہیں کہ ہماری بات مانی جائے تو شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ تمام اَئمہ اور علما نے ایک دوسرے سےا ختلاف ضرور کیا ہے مگر کسی کو مجبور نہیں کیا کہ ان کی بات ہی مانی جائے۔
سب سے پہلے ابن تیمیہ صاحب جو حضرت غوث اعظم کے بعد کے زمانے میں دریائے دجلہ اور فرات کے دوآبہ میں پیدا ہوئے ان کی سوچ اس طرح کی ہوئی کہ جو تحقیق میں نے کردی ہے امت کو چاہیے کہ وہ اس پر لبیک کہہ دے۔ میں ان کےاخلاص کا قائل ہوں مگر ان میں یہ ایک نقص پایا جاتا تھا۔
میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں، کچھ عرصہ پہلے تک ایک سوال کیا جاتا رہا کہ قلبِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آب زم زم سے دھویا گیا۔ تو آخر کیا نقص تھا آپ میں جس کو ختم کرنے کے لیے ایسا کرنا پڑا ۔ علما نے اس کے مختلف جوابات دیے۔ جب مجھ پر یہ سوال کیا گیا تو میں نے کہا کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ قلب محمد کو آبِ زم زم سے فیض دیا گیا۔ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آب زم زم کو قلب محمد سے فیض دیا گیا۔ لوگوں نے مان لیا اور مطمئن ہو گئے۔

نوائے منزل:پاکستان میں بے شمار دینی تربیتی اور انقلابی جماعتیں موجود ہیں۔ مگر آج تک کوئی تبدیلی رونما نہ ہو سکی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
سرور عالم نے 23 سال کاجو تبلیغ کا کام کیا  10 سال مکہ مشرفہ اور 13 سال مدینہ منورہ اس کے 5 مراحل ہیں۔ 
پہلا مرحلہ دعوت کا ہے۔ یعنی دعوت اسلامی۔
دوسرا مرحلہ تربیت اسلامی: دعوت کےساتھ ساتھ تربیت بھی لازم ہے ۔
تیسرا مرحلہ تنظیمِ اسلامی: تربیت کے بعد نظم و ضبط قائم کرنا بھی لازم ہے۔
چوتھا مرحلہ تحریکِ اسلامی: اس کے بعد تحریک کا مرحلہ آتا ہے۔ اور تحریک کےبعد پانچواں مرحلہ انقلاب  کا ہے۔ اس زاویے سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ مستقل جماعتوں کے نام نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مراحل ہیں رسول اللہ کی تبلیغی مشن کے۔ ہم ان مراحل کو سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں۔ ہم تبلیغ کےمرحلے پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور نعرہ انقلاب کا لگا دیتے ہیں۔جس میں کامیابی نہیں ہوتی۔ مجھے یاد ہے ڈاکٹر اسرار صاحب پی ٹی وی پر آئے اور خوب چھائے۔ انہوں نے انقلاب کی بات شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار خون ریزی ہوگی اس کے بعد انقلاب آ جائے گا۔جب صحافیوں سے سامنا ہوا تو ڈاکٹر صاحب سے پوچھا گیاکہ اگر بالفرض آپ انقلاب لے آتےہیں اور اسی خون ریزی کے دوران ہندوستان کی افواج سرحدوں پر حملہ کر دیتی ہیں تو آپ کے انقلاب کا کیا بنے گا۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ اس پرایک کارٹونسٹ نے ایک کارٹو ن بھی بنایا جس میں دکھایا گیا کہ ڈاکٹرصاحب پی ٹی وی کے سٹیشن سے باہر نکل رہے ہیں۔ اور اس کے نیچے ایک شعر لکھا گیا کہ ۔
؎            نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
                   بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
انقلاب کےلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچ مراحل کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

نوائے منزل: آپ قارئین نوائے منزل کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ہر بندہ اپنے اندر تبدیلی لائے۔ ہم نے ڈنڈا پکڑا ہوا ہے اور دوسروں کو ٹھیک کرنے کےلیے نکلے ہوئے ہیں۔ اگر ہم خود کو ٹھیک کرنا شروع کر دیں بہت جلد معاشرے میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

نوٹ: یہ انٹرویو آڈیو ریکارڈ کیا گیا تھا، بعد میں نوائے منزل کی ٹیم نے چیدہ چیدہ باتیں شائع کیں۔

An Interview with Grand Mufti of Pakistan Allama Arshad ul Qadri

مفتی اعظم پاکستان علامہ ارشد القادری سےنوائے منزل کی خصوصی گفتگو

ماہنامہ نوائے منزل لاہور، فروری 2015
انٹرویو پینل: حافظ عبدالرزاق قادری، محمد کامران اختر

       علامہ مفتی محمد ارشد القادری موجودہ دور کے عظیم دینی سکالر، مبلغ اور محقق ہیں۔ وہ 16 فروری 1958ء کو پیدا ہوئے۔آپ سینکڑوں کتب کے مصنف ہیں۔ ان میں سے دو درجن کے قریب کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ جبکہ باقی طباعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔آپ کا ایک عظیم علمی کارنامہ صحیح ترمذی شریف کی شرح فیوض النبی ہے۔ اس کی دو جلدیں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔علامہ محمد ارشد قادری تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان نامی ایک تحریک کے بانی ہیں۔ اس تنظیم کے زیر انتظام مختلف اجتماعات، کانفرسیں اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔تعلیم و تربیت اسلامی مختلف فلاحی کاموں میں حصہ لیتی ہےتعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کا منشور وحدت امت ، خدمت امت اور استحکام امت ہے۔ تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کا صدر دفتر لاہور میں ہے۔ 
علامہ مفتی محمد ارشد القادری کی زندگی کے مختلف گوشوں سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے ان سے نوائے منزل نے خصوصی انٹرویو کیا ہے۔ جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا  رہا ہے۔

نوائے منزل : آپ نے ابتدائی علوم و فنون کہاں کہاں سے حاصل کیے ؟
ابتدائی علوم تو اسی طرح سکول سے حاصل کیے جس طرح عام متوسط طبقے کے لوگ حاصل کرتے ہیں۔ پہلی دفعہ جب میرے والد صاحب مجھے سکول میں لے کر گئے اس وقت میں پانچ سال کا تھالیکن داخلہ نہ ہو سکا کیونکہ اس زمانے میں سات سال کی عمر میں بچوں کو داخلہ دیا جاتا تھا۔لہذا گھرمیں ہی تدریس کا آغاز ہو گیا۔اس کے بعد سات سال کی عمر میں داخلہ ہوا۔ہمارا گھر کوٹ نیناں میں تھا۔کوٹ نیناں شکر گڑھ سے مشرق میں دریائے روای کے مغرب میں ایک قصبہ ہے۔ پھر 1971ء کی جنگ میں ہم لاہور منتقل ہوئے ۔ باقی تعلیم لاہو ر میں حاصل کی۔

نوائے منزل : دینی علوم کی طرف رغبت کیسے ہوئی ؟
جب میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا تو  مولانا حافظ نذیر صاحب ہمارے خطیب (کرمانوالی مسجد ابراہیم روڈ لاہور) ہوا کرتے تھے۔ ان سے متاثر ہوا۔کیونکہ وہ حضرت مولانا ابوالبرکات علیہ الرحمہ اور حضرت محدث اعظم رحمۃ اللہ علیہ جیسے بڑے بزرگ علماء کے شاگرد تھے۔ ان کا انداز تربیت بھی بہت عمدہ تھا۔انہی کے پاس کریما سعدی، نام حق ، پند نامہ اور صرف و نحوکی ابتدائی کتب پڑھیں۔اس کے علاوہ جامعہ رسولیہ شیرازیہ کے بانی اُستادِ محترم، حضرت علامہ حاجی محمد علی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ صاحب سے بھی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ استاد نقشبندی صاحب کا اندازِ تدریس منفرد ہوتا تھا۔ وہ روزانہ صبح سیر کے لیے دریائے راوی کے کنارے جاتے تھے۔ ا س لیےدین کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سکول جانے والے طلباء صبح سویرے سکول ٹائم سے پہلے پڑھنے  کے لئے ان کے ساتھ دریا کی طرف پیدل جاتے۔ دریا کی طرف جاتے ہوئے وہ سبق سن لیتے تھے اور دریا کے کنارے بیٹھ کر اگلا سبق پڑھا دیتے تھے۔اور واپسی پر اگلے دن کے لیے نصیحت وغیر ہ فرما دیتے تھے۔ان کی زندگی کا یہ گوشہ بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگا۔

نوائے منزل : روحانی تربیت  اور فیض کہاں سے حاصل کیا ؟
جب میں ایف۔اے کا سٹوڈنٹ تھا تو ایک بارحضرت مولانا عبدالرشید قادری رضوی رحمتہ اللہ علیہ (سمندری شریف) کے پیچھے جمعہ پڑھنے کے ارادے سے گیا۔تقریر تو زیادہ نہ سن سکا۔ جمعہ پڑھنے کے بعد جب صلوٰۃ و سلا م پڑھا گیا تو ایک شعر حضرت نے خود پڑھا۔اس کے بعد وہ لوگوں کے مسائل سننے لگ گئے۔ میں اٹھا اورچل دیا۔دو تین فرلانگ دور ہی گیا تھا کہ ایک ٹاہلی (شیشم)کے درخت کے نیچے جا کر کھڑا ہو گیا۔میں نے سوچا کہ اگر آج یہ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر شاید موقع نہ ملے ۔ اس لیے بیعت کرلینی چاہیے۔  لہذا میں واپس گیا اور حلقے میں جا کر بیٹھ گیا۔ مجھے دیکھ کر حضرت نے مسکرا کر  فرمایا  آ گئے ہو؟ہو گیا فیصلہ ؟؟او ر لوگوں سے فرمایا کہ اس نوجوان کو راستہ دوقریب آنے کے لیے۔ جب میں قریب آیا  تو فرمایا آئیے، بڑھائیے ہاتھ۔ 
نوائے منزل: حضرت علامہ امام احمد شاہ نورانی رحمتہ اللہ علیہ سے آپ کی ملاقات کب ہوئی ؟
1980ء کے اواخر اور 1981ء کے اوائل میں، مَیں GC لاہور میں سٹوڈنٹ تھا۔ وہاں پہلی بار امام نورانی کو میں نے قریب سے دیکھا۔ دور سے تو پہلے بھی دیکھا ہوا تھا۔ اس وقت میں ٹائی ،پینٹ کوٹ میں تھا اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں مولوی بنوں گا۔ میں نے آٹو گراف کے لیے فائل مولانا کی طرف بڑھا دی۔تو مولانا نے اس پر لکھ دیا۔
؎         خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
            سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ  و نجف
بس اس کے بعد میری زندگی بدل گئی۔ میں شاہ احمد نورانی رحمتہ اللہ علیہ کی محبت میں غرق ہو گیا۔جس طرح میں نے عام مولویوں کے بارے میں سنا تھا مولانا کو اس کے بر عکس پایا۔عمدہ انگریزی، خوبصورت لب و لہجہ اور بے پناہ پیار۔کبھی ایسا مرد نہیں دیکھا تھا۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں اس طرح کا بنوں گا جس طرح کے یہ ہیں۔ (مولاناارشد القادری علامہ نورانی کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ انٹرویو پینل)

نوائے منزل: آپ طویل عرصے سے حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پر سوال جواب کی نشست منعقد کر رہے ہیں۔ اس کا خیال کیسے آیا؟
1990ء میں جب میں حج کرنے کے لیے پہلی مرتبہ حر مین شریفین گیا۔ جب مکہ مشرفہ سے مدینہ منورہ کی طرف گیا تو مسجد نبوی کی پرانی عمارت سے مغرب کی طرف نکلیں تو ایک خالی جگہ ہے ۔ میں نےاس طرف دیکھا کہ لوگوں کا ایک جگہ ہجوم ہے ۔ اور ایک صاحب کھڑے ہیں۔ لوگ پرچیوں پر سوالات لکھ کر دے رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔ مجھے یہ طریق اچھا لگا۔ حج سے آتے ہی پہلی جمعرات کو ہی میں نے دربار حضرت داتا صاحب پر یہ نشست شروع کر دی۔کچھ نوجوانوں نے پہلی دفعہ فقہ کا سوا ل پوچھا ۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔اس سلسلے میں اغیار اور اپنوں کی طرف سے بھی رکاوٹیں بھی ڈالی گئیں ۔ سیکرٹری او قاف کو بھی خطوط لکھے گئے ۔ سیکرٹری صاحب نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ آپ نے کہاں سے پڑھا ہے۔ میں نے بتایا کہ میں اولڈ راوین ہوں۔ سیکرٹری صاحب بھی راوین ہی تھے۔اس لیے وہ بہت خوش ہوئے  او ر مجھےاس کار خیر کی ان کی طرف سے بھی اجازت مل گئی۔

نوائے منزل:تصانیف کا سلسلہ کب سے شروع کیا؟
5 جنوری 1981ء کو میں نے پہلی کتا ب مکمل کی۔ جس کا عنوان تھا تعظیم مصطفی قرآن حکیم کی روشنی میں۔ وہ کتاب ابھی بھی موجود ہے۔

نوائے منزل: ترمذی شریف کی شرح لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
بڑا گھر بنگلہ ایک جگہ ہے۔ وہاں میں میلاد شریف کے جلسے میں گیا۔ میری ملاقات علامہ محمد مسعود حسان صاحب سے ہوئی۔ جو مفتی محمد امین صاحب کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے عربی میں چند منٹ بات کی۔ میں نے بھی عربی میں دس سے پندرہ منٹ تک کلا م کیا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ کھانے پر بیٹھے تو انہوں نے پوچھا کہ آج کل آپ کیا کر رہے ہیں ۔ میں نے بتایا کہ جمعہ پڑھا رہا ہوں ۔ کچھ کتابیں لکھی ہیں اور ایک ادارہ بنا رہا ہوں۔ مولانا نے کہا کہ ایسے بندے کو کوئی بڑا کام کرنا چاہیے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کرنا چاہیے۔ مولانا کہنے لگے مسلم ،بخاری پر تو کام ہو گیا۔ ترمذی شریف پر کام کی ضرورت ہے۔ میں نے اسی  وقت فیصلہ کر لیا کہ اب ترمذی شریف پر کام کروں گا۔ اس کام کے لیے ایک سال تک تو سوچ بچار کرتا رہا۔ پھر ایک سال اس کا نظم بناتے بناتے گزر گیا۔تین سال کے بعد نظم طے ہوا۔ پھر کام شروع کیا۔ اب تک الحمد للہ دو جلدیں مارکیٹ میں آ چکی ہیں۔اور اندرون اور بیرون ملک سے لوگوں نے بہت سراہا ہے ۔میں نے کوشش کی ہے ہر جگہ ادب کی زبان استعمال کروں۔ کچھ مقامات پر تنقید بھی کی ہے مگر اپنا لہجہ ہمیشہ دھیما رکھا ہے۔

نوائے منزل:  مستقبل میں کن عنوانات پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے توفیق عنایت فرمائی تو انشا اللہ تفسیر پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

نوائے منزل :آپ کا تعلق علامہ شاہ احمد نورانی مرحوم سے رہا ہے۔ جو سیاست میں علما کے امام تھے۔ موجودہ سیاسی عدم استحکام کے پس منظر میں علما کا کیا کردار ہے؟

میں اس موقعے پر ایک ایک کڑوا سچ بولنا چاہتا ہوں۔ چاہے کسی کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ درحقیقت آپ نے جس طبقے کی طر ف اشارہ کیا ہے اس طبقے نے مولانا نورانی کی قدرہی نہ کی۔اگر یہ طبقہ مولانا کی قدر کرتا توحالات ایسے نہ ہوتے۔ مجھے معلوم نہیں کہ علما ئے کرام اور مشائخ عظام نے کیوں اس گوہر نایاب کو نظر انداز کیا۔اور غلبہ اسلام کا خواب پورا نہ ہوسکا۔
؎                   یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
                    اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
ان کا ایک مخالف آخری وقت میں مولانا کے پاس آیا اور کہا کہ کیا ہوا مولانا اگر آپ کو آپ کی قوم نے چھوڑ دیا ہے۔ مگر ہم آپ کا  ساتھ نہیں چھوڑیں گئے۔
یہ علامہ نورانی کی تو عظمت کا اعتراف تھا مگر ہمارے علما اور مشائخ کے خوبصورت چہرے پر ایک عجب انداز کا تھپڑ تھا۔

نوائے منزل : آپ کے خیال میں علامہ نورانی میں وہ کون سی مقناطیسیت تھی جو سب لوگوں کو ان کے قریب لے آتی تھی؟
اللہ تعالیٰ نے علامہ کے ذہن میں کوئی خانہ چھوٹا نہیں رکھا۔ مقام عشق ایک بڑا مقام ہے مگر مقام درد اس سے بھی بڑا مقا م ہے۔ علامہ نورانی مقام درد پر فائز تھے۔مگر آج جو لوگ ان کو امام اور رحمتہ اللہ کہتےہیں میں نے خود ان کو علامہ کے خلاف تقریریں کرتے بھی سنا ہے  ۔ مگر آج سب لوگوں کو احسا س ہو گیا ہے کہ علامہ کی عظمت کیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم لوگ انتظار کرتےہیں کہ قابل اور لائق بند ے کی قبر بن جائے پھر ہم اس کی تعریف میں بہت سے القابات بولیں بس اس کی قبر بن جائے۔ میرے خیال میں کسی کی عظمت کےلیے اس کی قبر کا بن جانا ضروری نہیں ہے۔

نوائے منزل: آپ ہمیشہ اتحاد امت کے داعی رہے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ دہشت گردی کے اسباب میں سے ایک سبب فرقہ واریت بھی ہے؟
اس حوالے سے میرا دیکھنے کا زاویہ مختلف ہے۔ میں پاکستان میں کوئی بڑی مصیبت نہیں دیکھتا۔ میں یہ سوال ضرور کروں گا کہ ہم نے اپنا ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں کیوں دیا ہوا ہے۔ اغیار جب چاہتے ہیں چینل تبدیل کر دیتے ہیں۔جب آپ کی بات انجام تک پہنچتی ہے تو چینل ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی یورپی لابی ہمارے ایوانوں میں گھس گئی۔ آپ قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ ایک بار پڑھ لیں آپ کو اندازا ہو جا ئے گا۔

نوائے منزل:امت کو کن کن نکات پر متحد کیا جا سکتا ہے؟
ہم نے کئی بار کہا ہے کہ اگر تو ہم آئمہ ، علما اور لیڈروں کے نام پر جمع کرنا چاہیں تو ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔امت کو فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے نام پر جمع کیا جا سکتا ہے۔
؎           ٹھوکریں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
         قافلہ تو اے رضاؔ اول گیا آخر گیا

نوائے منزل: ایک اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ آپ نام تو امام احمد رضا بریلوی کا لیتے ہیں مگر امت کو کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پرجمع ہو جائیں۔ آپ کا کیا موقف ہے؟
احمد رضا کا نام لینا کوئی جرم تو نہیں ہے۔ امام احمد رضا نے تو عظمت رسول کی یاد دلائی ہے۔ یاددہانی کرانے والے کو فراموش کر دینا کوئی دانائی تو نہیں ہے۔  اسی طرح قاسم نانوتوی صاحب، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، اشرف علی تھانوی صاحب، تبلیغی جماعت کے الیاس کاندھلوی صاحب اور مودودی صاحب بھی یہی بات کہتےہیں۔
فساد کی بنیاد یہ بات ہے کہ جب ہم دوسروں کو مجبور کرنے کی کوشش کرتےہیں کہ ہماری بات مانی جائے تو شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ تمام اَئمہ اور علما نے ایک دوسرے سےا ختلاف ضرور کیا ہے مگر کسی کو مجبور نہیں کیا کہ ان کی بات ہی مانی جائے۔
سب سے پہلے ابن تیمیہ صاحب جو حضرت غوث اعظم کے بعد کے زمانے میں دریائے دجلہ اور فرات کے دوآبہ میں پیدا ہوئے ان کی سوچ اس طرح کی ہوئی کہ جو تحقیق میں نے کردی ہے امت کو چاہیے کہ وہ اس پر لبیک کہہ دے۔ میں ان کےاخلاص کا قائل ہوں مگر ان میں یہ ایک نقص پایا جاتا تھا۔
میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں، کچھ عرصہ پہلے تک ایک سوال کیا جاتا رہا کہ قلبِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آب زم زم سے دھویا گیا۔ تو آخر کیا نقص تھا آپ میں جس کو ختم کرنے کے لیے ایسا کرنا پڑا ۔ علما نے اس کے مختلف جوابات دیے۔ جب مجھ پر یہ سوال کیا گیا تو میں نے کہا کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ قلب محمد کو آبِ زم زم سے فیض دیا گیا۔ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آب زم زم کو قلب محمد سے فیض دیا گیا۔ لوگوں نے مان لیا اور مطمئن ہو گئے۔

نوائے منزل:پاکستان میں بے شمار دینی تربیتی اور انقلابی جماعتیں موجود ہیں۔ مگر آج تک کوئی تبدیلی رونما نہ ہو سکی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
سرور عالم نے 23 سال کاجو تبلیغ کا کام کیا  10 سال مکہ مشرفہ اور 13 سال مدینہ منورہ اس کے 5 مراحل ہیں۔ 
پہلا مرحلہ دعوت کا ہے۔ یعنی دعوت اسلامی۔
دوسرا مرحلہ تربیت اسلامی: دعوت کےساتھ ساتھ تربیت بھی لازم ہے ۔
تیسرا مرحلہ تنظیمِ اسلامی: تربیت کے بعد نظم و ضبط قائم کرنا بھی لازم ہے۔
چوتھا مرحلہ تحریکِ اسلامی: اس کے بعد تحریک کا مرحلہ آتا ہے۔ اور تحریک کےبعد پانچواں مرحلہ انقلاب  کا ہے۔ اس زاویے سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ مستقل جماعتوں کے نام نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مراحل ہیں رسول اللہ کی تبلیغی مشن کے۔ ہم ان مراحل کو سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں۔ ہم تبلیغ کےمرحلے پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور نعرہ انقلاب کا لگا دیتے ہیں۔جس میں کامیابی نہیں ہوتی۔ مجھے یاد ہے ڈاکٹر اسرار صاحب پی ٹی وی پر آئے اور خوب چھائے۔ انہوں نے انقلاب کی بات شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار خون ریزی ہوگی اس کے بعد انقلاب آ جائے گا۔جب صحافیوں سے سامنا ہوا تو ڈاکٹر صاحب سے پوچھا گیاکہ اگر بالفرض آپ انقلاب لے آتےہیں اور اسی خون ریزی کے دوران ہندوستان کی افواج سرحدوں پر حملہ کر دیتی ہیں تو آپ کے انقلاب کا کیا بنے گا۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ اس پرایک کارٹونسٹ نے ایک کارٹو ن بھی بنایا جس میں دکھایا گیا کہ ڈاکٹرصاحب پی ٹی وی کے سٹیشن سے باہر نکل رہے ہیں۔ اور اس کے نیچے ایک شعر لکھا گیا کہ ۔
؎            نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
                   بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
انقلاب کےلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچ مراحل کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

نوائے منزل: آپ قارئین نوائے منزل کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ہر بندہ اپنے اندر تبدیلی لائے۔ ہم نے ڈنڈا پکڑا ہوا ہے اور دوسروں کو ٹھیک کرنے کےلیے نکلے ہوئے ہیں۔ اگر ہم خود کو ٹھیک کرنا شروع کر دیں بہت جلد معاشرے میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

نوٹ: یہ انٹرویو آڈیو ریکارڈ کیا گیا تھا، بعد میں نوائے منزل کی ٹیم نے چیدہ چیدہ باتیں شائع کیں۔

جمعہ، 5 جون، 2015

آہ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر آفتاب اصغر

پاکستان کے سب سے بڑے فارسی دان، ماہر اقبالیات، ریسرچ سکالر، محقق اور تاریخ دان ڈاکٹر آفتاب اصغر چار یوم قبل انتقال کر گئے۔
 انکی عمر پچھتر سال تھی اور انہیں اتوار کو نیوکیمپس قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مجھ جیسے کم علم قارئین کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ اس جہاں سے علم و ادب کا کوئی آفتاب اٹھ گیا۔ وہ اورینٹل کالج جامعہ پنجاب شعبہ فارسی کے سربراہ اور جامعہ پنجاب اولڈ کیمپس میں فردوسی چیئر کے پہلے چیئرمین بھی رہے۔ انہوں نے تہران یونیورسٹی سے ایم فل اور فارسی تاریخ نویسی کے مشکل ترین موضوع پر پی ایچ ڈی کیا۔ انہیں علامہ عابدی کا شاگرد ہونے پر فخر تھا۔ پورا ایران انکی فارسی دانی اور صلاحیتوں کا معترف اور گرویدہ تھا۔ ایران میں انکا نام اور حوالہ سب سے معتبر اور مضبوط سمجھا جاتا تھا اور سمجھا بھی کیوں نہ جاتا کیونکہ اس سے پیشتر فارسی اور اہالیان ایران کی محبت میں بہت سے پاکستانی سکالرز نے بہت کچھ لکھا لیکن ڈاکٹر آفتاب اصغر کا کام اور تحقیق سب سے منفرد اور نمایاں رہی۔ انکے علمی و تحقیقی کام میں تاریخ نویسی فارسی، ارمغان کشمیر، تاریخ مبارک شاہی، مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کا فارسی ترجمہ، مرنے کے بعد کیا ہو گا.... کا فارسی ترجمہ، حقیقت نماز، حقیقت جہاد، اسلام کے پانچوں ارکان فارسی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے دو دہائیوں کی محنت کے بعد چھٹی سے بارہویں جماعت تک فارسی کی نصابی کتب تیار کیں۔ انہیں ریڈیو تہران پر اردو سروس شروع کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ صدر ضیاءالحق کی فرمائش پر پی ٹی وی پر مثنوی مولانا روم پر ٹی وی سیریل ”ہشت گفتار“ بھی پیش کی۔ انہیں دو ایرانی صدور خامنائی اور ہاشمی رفسنجانی کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہیں دو تحقیقی کتابیں تاریخ نویسی فارسی اور ارمغان کشمیر پیش کرنے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہوا۔ انہوں نے ایوان صدر میں صدر خامنائی اور افغان صدر داﺅد کی موجودگی میں پاکستانی صدر ضیاءالحق کی تقریر کا فارسی میں برجستہ ترجمہ پیش کیا۔ جس پر ایرانی صدر عش عش کر اٹھے۔ ڈاکٹر آفتاب اصغر علامہ اقبال کا بیشتر اردو کلام فارسی کے قالب میں ڈھال چکے تھے کیونکہ حضرت علامہ کا بیشتر کلام فارسی پر مشتمل ہے اور ڈاکٹر آفتاب اصغر تو جیسے پیدا ہی فارسی زبان کیلئے ہوئے تھے۔
سو علامہ صاحب کا کوئی بھی فارسی شعر انکے حافظہ سے محو نہیں تھا اور وہ اسکا برجستہ استعمال کرتے اور ایک ایک جز کے ساتھ اسکا ترجمہ اور تشریح کرتے۔ ان جیسا درست تلفظ والا زباں داں سکالر بھی شاید ہی کوئی ہو، مجھ جیسے جاہل غلط تلفظ کیساتھ شعر پڑھتے تو بہت عمدگی کیساتھ اسکی اصلاح کرتے۔ اہل ادب کی بڑی تعداد الفاظ کی اصلاح اور تلفظ سیکھنے کیلئے ان کے پاس آنا اعزاز سمجھتی۔ فارسی کی مٹھاس اور خوشبو انکی دلکش شخصیت اور سراپے کا حصہ تھی اور تشنگان ادب اس سے اپنی پیاس بجھاتے۔ انہوں نے پاکستان میں فارسی زبان و ادب کی سفارت کا فریضہ بخوبی نبھایا ۔
ضرورت مند اور مستحق طلبہ کی خاموشی سے مدد کرتے، نیو کیمپس قبرستان میں شدید گرمی میں انکی تدفین کے بعد بھی چار گھنٹے تک انکے شاگرد اور احباب ان کی لحد کو آنسوﺅں سے تر کرتے رہے۔
مولانا رومی، نذیری، انوری، حافظ شیرازی، فردوسی، حضرت امیر خسرو، حضرت شیخ سعدی کا کلام انہیں ازبر تھا اور وہ عام گفتگو میں انکا حوالہ دینا نہ بھولتے۔ یوں تو ہمارے کئی محترم فارسی دان دوست ایران بھی جاتے رہتے ہیں اور طلبہ کو فارسی بھی پڑھا لیتے ہیں اور ان میں سے کئی ماہر اقبالیات بھی ہیں لیکن فارسی بولنے اور سمجھنے میں جو روانی، سلاست اور شستگی اور دسترس ڈاکٹر آفتاب اصغر مرحوم کو حاصل تھی وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ نوائے وقت کے سابق دفتر میں ڈاکٹر آفتاب اصغر ایرانی قونصلیٹ کو جنت مکانی مجید نظامی مرحوم سے ملوانے لائے، سابق مدیر سرراہے اسرار بخاری بھی وہاں موجود تھے، وہ مجھ سے ہمیشہ اس بات کا تذکرہ ضرور کرتے کہ ہاشمی صاحب آپکے ڈاکٹر آفتاب اصغر جیسی فارسی تو کوئی بول ہی نہیں سکتا اور انہیں ایرانی قونصلیٹ کیساتھ محو گفتگو دیکھ کر میں بیک وقت رشک اور حسد کا شکار ہو گیا....“
ڈاکٹر آفتاب اصغر مرحوم ہمیشہ بات لمبی کرتے، ان سے فون پر گفتگو ہمیشہ طویل ہو جاتی کیونکہ ہسٹری اور ادب ہم دونوں کا مشترکہ موضوع تھا اور میگزین کے ساتھی یہی سمجھتے رہتے کہ اتنے انہماک اور اشتیاق سے شاید کسی ”معشوق“ کا فون سنا جا رہا ہے، ڈاکٹر صاحب بلاشبہ معشوق اور چاہے جانے کے قابل ہی تھے۔ وہ اور انکی اہلیہ محترمہ تاریخی کرداروں پر میری ریسرچ کو ہمیشہ سراہتے۔ والد محترم ڈاکٹر سعید الدین ہاشمی جو مولانا رومی، حافظ شیرازی اور شیخ سعدی کے بہت بڑے عاشق تھے وہ رات کو گھر میں ہمیں فارسی ضرور پڑھاتے اور انہوں نے صاحبزادیوں کے نام کے ساتھ بھی رومی لگایا ہوا تھا، انکے بارے میں ہمیشہ تفصیل سے پوچھتے۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلق گجرات سے تھا، سو وہاں کی باتیں بہت دلچسپی سے بتاتے۔ اورنگزیب عالمگیر اور شہزادہ دارالشکوہ قادری پر ہماری ڈسکشن ہمیشہ طویل اور جذباتی ہو جاتی اور کبھی میرے لہجے میں تلخی بھی آ جاتی لیکن وہ ہمیشہ اسی کومل لہجے میں گویا رہتے۔
وہ بہت بڑے محب وطن پاکستانی تھے اور پاکستان کو ہندوستان کا غرناطہ کہتے۔ انکے بقول خیبر پی کے کی اصل پہچان تو شیرشاہ سوری، احمد شاہ ابدالی اور بہلول لودھی ہیں۔ وہ خود کو ”نوائے وقتیا“ کہتے اور بتاتے کہ وہ ساٹھ سال سے زائد عرصہ سے نوائے وقت پڑھ رہے ہیں۔ وہ ”نوائے وقت“ کے باقاعدہ لکھنے والوں میں شامل تھے۔ اقبال ڈے اور دیگر قومی ایام پر انکے تحقیقی مضامین نوائے وقت میگزین اور ایڈیٹوریل کی زینت بنتے اور قارئین سے بھرپور پذیرائی پاتے۔
دوشنبہ یونیورسٹی تاجکستان کے پروفیسر سیف الدین اکرم تو علامہ اقبال اور ان کے اتنے بڑے عاشق ہیں کہ انہوں نے اپنے ہال کمرے میں سب سے اوپر دائیں جانب علامہ اقبال اور بائیں جانب ڈاکٹر آفتاب اصغر اور انکی اہلیہ کی تصاویر آویزاں کی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر آفتاب اصغر کی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خالدہ آفتاب لاہور کالج فار ویمن میں صدر شعبہ فارسی رہی ہیں اور لاہور کے فارسی قلمی نسخوں پر ریسرچ انکا خاص موضوع رہا ہے۔ انہوں نے فقیر خانہ میوزیم بھاٹی گیٹ، ایف سی کالج لائبریری، شاہی قلعہ لائبریری اور لاہور میوزیم کی کیٹلاگ بھی بنائی ہیں۔ یہ ساری کیٹلاگ ایک ہی جلد میں ہیں، مغل عہد کی خواتین اور انکا عہد ڈاکٹر صاحبہ کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ میں نے اپنے احباب میں گھر میں فارسی بولنے والا واحد گھرانہ دیکھا، وہ اور انکی اہلیہ محترمہ آپس میں فارسی بولتے سچ مچ طوطا مینا کی جوڑی لگتے۔
انکی وفات کی المناک خبر فارسی دان حلقوں میں نہایت دکھ اور افسوس کیساتھ سنی گئی۔ انکی رحلت بلاشبہ قومی سانحہ ہے، اب کوئی دوسرا ڈاکٹر آفتاب اصغر آنا دشوارہے۔ انکے بھانجے ڈاکٹر ایاز (انگلینڈ)، داماد محمد کمال اور سابق ڈرائیور افتخار بھی انکی اچانک اور بے وقت موت پر بے حد دکھی تھے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ باغ بہشت میں نذیری، انوری، مولانا رومی، حافظ شیرازی، فردوسی، شیخ سعدی اور طوطی ہند حضرت امیر خسرو کی جلوہ صدرنگ اور خوش گفتار محفل میں ان سب سے داد پا رہے ہونگے اور ان سب کے لب پر بس ایک ہی شکوہ ہو گا کہ آفتاب اصغر آنے میں بہت دیر کر دی!
تھک کر یونہی پل بھر کیلئے آنکھ لگی تھی
سو کر ہی نہ اٹھیں گے یہ ارادہ تو نہیں تھا
مجلس ترقی ادب کے سربراہ اور معروف ادیب، محقق، شاعر اور سکالر ڈاکٹر تحسین فراقی نے ڈاکٹر آفتاب اصغر کی رحلت پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: فارسی ادبیات کے ممتاز استاد و محقق ڈاکٹر آفتاب اصغر کی رحلت مشرقی ادبیات کیلئے ایک سانحے کی حیثیت رکھی ہے، وہ فارسی زبان و ادب کے استاد ہی نہیں اس کے مبلغ بھی تھے۔ انہوں نے کئی نسلوں کو فارسی پڑھائی اور ان میں اس بے مثال زبان کا رچاﺅ پیدا کیا۔ تاریخ اسلام پر بالعموم اور برعظیم کی تاریخ پر ان کی بڑی گہری نظر تھی۔ انہوں نے ”تاریخ نویسی فارسی در ہند و پاکستان“ کے زیرعنوان بہت عمدہ تحقیقی مقالہ لکھا جو شائع ہوا اور اہل علم سے حرف توصیف پاتا رہا۔
ڈاکٹر آفتاب اصغر کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ ایک ممتاز مترجم بھی تھے۔ انہوں نے اردو کی متعدد علمی کتب کا فارسی ترجمہ کیا جن میں مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کی تیسری جلد ایک خاص امتیاز رکھتی ہے۔ وہ ایران اور پاکستان کے مابین ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی رحلت میرے لئے ایک شدید ذاتی صدمے اور محرومی کا باعث ہے۔ اورینٹل کالج کے شعبہ اردو سے وابستگی کے بعد میرا ان سے بہت ربط ضبط رہا۔ 1991ءمیں تبریز میں نظامی گنجوی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلئے میں ان کا ہم سفر اور صحبت نشین رہا اور ان کے مائدہ علم سے ریزہ چین رہا۔ ان کی وفات ایک سچے علم دوست اور لفظ کی زندہ قوت پر غیرمتزلزل ایقان رکھنے والے فرد فرید کی موت ہے۔ اللہ ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔
ڈاکٹر معین نظامی سربراہ شعبہ فارسی اورینٹل کالج نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آفتاب اصغر ایک عظیم استاد، دانشور اور ماہر تعلیم تھے، جدید فارسی زبان و ادب پر انکی ماہرانہ دسترس خود اہل ایران کیلئے بھی باعث تعجب تھی۔ انہوں نے کئی قابل قدر تصانیف اور تحقیقی مقالے لکھے، بہت سے محققین کی رہنمائی کی اور سینکڑوں شاگردوں کی علمی و عملی تربیت کی۔ ان کا یہ عملہ صدقہ جاریہ بن کر اخروی فلاح کا باعث ہو گا۔ انکی وفات سے پاکستانی معاشرہ فارسی زبان و ادب اور مشرقی علوم و فنون کے سچے خیرخواہ اور اعلیٰ اخلاق و کردار کے قابل تقلید نمونے سے محروم ہو گیا ہے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔
تصاویر بشکریہ : فیس بک پیج
یہ فیس بک پیج ان کے چاہنے والے چلاتے ہوں گے

جمعرات، 4 جون، 2015

شیخ عبد الہادی قادری برکاتی رضوی نوری

علامہ عبدالہادی القادری محقق، محاضر اور تصوف میں سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے شیخ ہیں۔ وہ جنوبی افریقہ میں امام احمد رضا اکیڈمی کے صدر اور برکات الرضا اسلامک ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ [1]



تعلیم و بیعت

عبدالہادی جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف سے 1978ء میں علوم متداولہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔آپ کو سلسلہ قادریہ میں مفتی اعظم ہند حضرت مصطفی رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے 1976ء میں بیعت و خلافت نصیب ہوئی۔آپ کو دنیا بھر کے کئی عظیم صوفیاء اور مشائخ سے مختلف سلاسلِ تصوف میں اجازت و خلافت حاصل ہے۔ [2]۔


تصنیف و تالیف

شیخ عبد الہادی قادری برکاتی نے ترجموں سمیت 55 کتب تالیف کی ہیں، جن میں الملفوظ، سراج العوارف اور سرالاسرار وغیرہ شامل ہیں۔ اور تصنیف و تالیف کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ [3] [4] [5] [6]۔



اسفار

انہوں نے تقریر و بیان کیلئے، سیمینارز کیلئے، انسانی حقوق کے لئے اور مختلف انبیاء و مرسلین، صحابہ کرام، اہلبیت عظام اور اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری دینے کے لئے کئی مقامی اور بین الاقوامی سفر اختیار کئے ہیں۔ [7]۔







حوالہ جات







نوٹ: اردو وکیپیڈیا پر لکھا ہوا مضمون میری تحقیق ہے۔​ عبدالرزاق قادری

پیر، 1 جون، 2015

فضائل شب برات۔ خدائی بجٹ کی رات

علامہ مفتی محمد ارشد القادری کی ایک کتاب شب برات کے موضوع پر ہے۔ پڑھنے اور ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کرکے استفادہ کیا جاسکتا ہے


جمعہ، 29 مئی، 2015

محفل شان مصطفی کی رپورٹ

گزشتہ رات (28 مئی، 2015) نو بجے جامعہ اسلامیہ رضویہ  لاہور ، رچنا ٹاؤن فیروزوالہ شاہدرہ پاکستان میں "محفلِ شان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم" منعقد کی گئی۔
 پہلی نشست کے لئے غلام یاسین قادری نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دئیے۔ انہوں نے قرآن پاک کی تلاوت کے لئے کسی قاری صاحب کو دعوت دی اور اس کے بعد نعت لئے کسی کے لئے ایک اور ساتھی  کو بلایا۔ یاسین نے بھی ایک منقبت پڑھی۔دوسری نشست کے لئے قاری وقار نورانی  نے تلاوتِ کلامِ مجید فرمائی۔ پھر جناب مظہر اقبال قادری کا بیان شروع ہوا۔ اسی اثناء میں مہمانانِ گرامی جامع مسجد نصرتِ مدینہ میں داخل ہوئے تو مظہر صاحب نے جلدی سے اپنی تقریر کو مکمل کیا۔  پھر پروفیسر مفتی احمد رضا قادری مائیک پر آئے اور انہوں نے مہمانوں کو محفل میں خوش آمدید کہا۔ معزز مہمانوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ علامہ نور المصطفی رضوی
2۔ جناب مرغوب احمد ہمدانی
3۔  علامہ غلام مرتضی  شازی
اس کے بعد احمد رضا قادری نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سنبھالے انہوں نے محفل میں نعت  پڑھنے کے لئے صاحبزادہ عاکف قادری کو دعوت دی۔ انہوں نے  تین نعتیں پڑھیں ان میں سے دو امام حسن رضا خان کے کلام میں سے تھیں۔  اس کے بعد علامہ غلام مرتضیٰ شازی نے چند منٹ کے لئے  اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ پھر مفتی اعظم پاکستان علامہ محمد ارشدالقادری نے مختصر وقت میں  اپنے قلبی جذبات حاضرین کے سامنے رکھے۔احمد رضا پھر مائیک پر آئے اور نعت پڑھنے کے لئے جناب مرغوب احمد ہمدانی کو دعوت دی۔ انہوں نے (1980ء کے دور بارے میں) ماضی حوالے سے  کچھ یادیں بیان کیں۔ پھر نعت کا آغاز کیا انہوں نےکئی ایک نعتیں پڑھیں۔  ان میں سے چار نعتیں امام احمد رضا خان کے کلام میں سے تھیں۔
آخری تقریر علامہ نور المصطفی رضوی کی تھی۔ انہوں نے کہا نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کی۔ ا ن کا خطاب تقریباً رات ڈیڑھ بجے تک جاری رہا۔ پھر کھڑے ہو کر سلامِ رضا پڑھا گیا آخر میں علامہ نورالمصطفیٰ رضوی نے دعا مانگی اور محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔پروگرام 29 مئی 2015 کو 1:37 بجے صبح ختم ہوا۔

Report of Mehfil e Shan e Mustafa

Last night (May 28, 2015 ) a program of "Mehfil e Shan e Mustafa" held at Jamia Islamia Rizvia #Lahore Rachna Town Ferozewala Shahdrah #Pakistan. For first sitting Ghulam Yaseen offered duties of stage secretary (at 9:54 PM). He invited a fellow for Tilawah of The Holy Quran and then to someone for Naat. Yaseen also recited a Manqabat.
 
For second sitting Qari Waqar #Noorani recited The Holy #Quran before speech of Mazhar Iqbal. Then Mazhar Iqbal #Qadri addressed in Mehfil.e Shan.e Mustafa. During his speech guests entered the Jamia Masjid 'Nusrat-e-Madina' inside of Jamia Islamia Rizvia Lahore. Then he wound up the speech quickly. So, Prof Mufti Ahmed Raza Qadri appeared on mic and welcomed the guests in Mehfil (at 11:12 PM). Names of Honorable guests are as following.
1. Allama Noor ul Mustafa Rizvi
2. Marghoob Ahmed Hamdani
3. Allama Ghulam Murtaza Shazi

Then Ahmed Raza Qadri took duties of stage secretary. He invited Sahibzada Aakif #Qadri to recite #Naat in Mehfil. He recited 3 Naats. Two of these were Kalam of Imam Hassan Raza Khan (at 11:16 PM). Then Allama Ghulam Murtaza Shazi gave a speech for a few minutes (at 11:30 PM). Then Grand Mufti of #Pakistan, Allama Muhammad Arshad ul #Qadri shared his views in #Mehfil (at 11:36 PM).

Ahmed Raza invited Marghoob Ahmed Hamdani for Naat reciting. He shared a few of his memories regarding past #history (about 1980s). Then he started reciting #Naat. He continued reciting many #Naats. Including Kalam of Imam Ahmed Raza Khan (4 Naats from his Kalaam). He took a few minutes after 12:16 AM.

Final speech was of Allama Noor ul Mustafa Rizvi. He described the Dignity of #Prophet #Muhammad peace and blessings be upon him. And he continued for a short while after 1:15 AM. Salaam of Imam Ahmed Raza was recited by all before #pray. At the end of Mehfil Allama Noor ul Mustafa asked #prays to #God for all of us. Program ended at 1:37 AM - 29 May 2015.