بدھ، 29 مارچ، 2017

Five and half years of services

      ELearningHolyQuran is an International Institute for Online Quranic and Islamic Teachings for those who want to equip themselves with education of The Holy Quran and Islam. We have developed an extensive curriculum for learning Quran and basic Islamic education. 



      www.elearningholyquran.com/ is having initial aim to constitute qualified tutors team that can better serve people belonging to all segments of society who wants to read and understand Quran with Translation at an affordable remuneration. We are committed to provide you highest quality and international standard of Education.

      Our staff will be, In-sha-Allah, the most distinguishing feature of our intuition. We have, Alhumdulillah, the assistance and support of highly dedicated teachers with expertise in their relevant disciplines. Tajweed or correct pronunciation is our prime area of teaching and we have, for this purpose, the services of well trained teachers. Simultaneously, we are helped by teachers who are the scholars of Quran (Tafseer) and Modern Islamic Fiqh experts.

منگل، 28 مارچ، 2017

احسان مند ہوں جناب کا ۔۔۔ اُستاد نعیم قیصر صاحب کا

لوگ باتیں کرتے ہیں دو دو ٹکے کے ”بکاؤ مال“ کی۔مجھ سے کسی نے بات کرنی ہو تو
کتاب و سُنت پڑھ کے آئے اور بات کرے
فلسفے کے سقراط کی کرے
طب کے بوعلی سینا کی کرے
تاریخ کے البیرونی کی کرے
جیومیٹری کے فیثا غورث کی کرے
ریاضی کے الخوارزمی کی کرے
فزکس کے نیوٹن اور البرٹ آئن سٹائن کی بات کرے
نفسیات میں سگمنڈ فرائڈ، ارکسن اور پیاجے کی بات کرے
کہانی میں پئولو کولو اور منٹو کی کرے
نثر میں یونس ادیب کی بات کرے
شعر میں غالب کی بات کرے ادب میں اقبال کی بات کرے
سخن میں رومی، جامی، سعدی اور شیرازی کی بات کرے
ولی، درد  اور میر کی بات کرے
داتا، خواجہ اور مردِ قلندر کی بات کرے
کوئی مجھ سے عارفِ کھڑی شریف، سلطان باہو، بلھے شاہ، بابا فرید اور امیر خُسرو کی بات کرے
شیکسپیر اور امتیاز علی تاج کی بات کرے
کوئی مجھ سے
اہلِ دل کی بات کرے اہلِ درد کی بات کرے
دور غم کی رات کرے
پیش اپنی سوغات کرے
میں نے اِن شہر کے دکانداروں میں” کاروبارِ اُلفت“ کرنے والے ایک شخص کو دیکھا ہے، اندر سے، سینے کی تہہ سے جھانک کے دیکھا ہے۔ عین ممکن ہے اُس کے چہرے پر آپ کو نُور نظر نہ آئے لیکن اُس کا دِل صاف اور شفاف ہے جس میں سے نظر آر پار ہوجاتی ہے اُسے میں نے اپنی رُوح میں محسوس کیا ہے وہ میری سماعتوں میں رس گھولتا ہے وہ حق کی زباں بولتا ہے وہ احساس کی زباں سُنتا ہے اُسے زنگ آلود لوہے کو صیقل کرنا آتا ہے اُسے تعمیرِ سیرت کرنا آتا ہے اُسے شعر کہنا آتا ہےاُسے الجبرا آتا ہے، ٹرنگومیٹری سکھانا آتا ہے، فزکس آتی ہے اُردو  آتی ہے، شعر وسُخن کا دلدادہ ہے اُسے اپنی بات کرنا آتی ہے اُسے بندے کو پرکھنا آتا ہے
لیکن
وہ دُکاندار نہیں ہے
اُسے بھاؤ تاؤ کرنا نہیں آتا
اُسے مول لگا نا نہیں آتا، وہ انمول ہے، میری یادوں کا انمٹ نشاں ہے اُسے تمیز آتی ہے سلیقہ آتا ہے اُسے دلوں میں گھر کر لینے کا فن آتا ہے
مجھے تعارف کرانے دیں
وہ میرا نہ صرف اُستاد ہے بلکہ ایک عملی رہبر کا نمونہ ہے
آج میں جو لکھتا ہوں، جو پڑھاتا ہوں مجھے اُس نے نکھارا ہے سنوارا ہے حوصلہ دیا ہے ایک صُور پھونکا ہے مجھے سچ کہنے کی تربیت دی ہے حق بکنے کا ولولہ دیا ہے
ہاں! اُستاد جی
اگر میں اٹلی کا جج ہوتا تو آپ کے لیے (اشفاق احمد کی طرح) کورٹ میں کھڑا ہو جاتا اور شور مچا دیتا کہ
اے ٹیچر ان دا کورٹ! اے ٹیچر ان دا کورٹ!
اگر میں جمہور کا نمائندہ ہوتا تو آپ کو صدرِ مملکت چُن لیتا
اگر ماہی ہوتا تو آپ کانام آب لکھتا
اگر ہوا ہوتا تو آپ کو آکسیجن قرار دیتا جو ایک جان کے لیے ضروری ہے
اگر آپ اُس شام مجھے دُھتکار دیتے اور مول تول کرنے بیٹھ جاتے تو شاید میں کبھی میٹرک تک نہ کر پاتا، جس شام میں اپنی فیس کی بھیک مانگنے آیا تھا
مگر
آپ نے تو کبھی جتلایا بھی نہیں، کسی کو بتایا تک نہیں
میں آپ کی اُس عظیم ماں کو سیلوٹ کرتا ہوں جو 12 ربیع الاول کو وصال کر گئیں
میں آپ کو کیا بتاؤں
کہ
میں نے اُن کے چہلم پر
ساری
تقریر صرف ماں کی تربیت کے گردکیوں گھما دی تھی
وہ میری آخر تقریر تھی
آج پانچ سال گزر گئے
میں کبھی سٹیج پر نہیں بیٹھا، وہ میری آخری تقریر تھی
میرے منہ کی زبان آپ کی مقروض ہے
میرا الجبرا اور حساب آپ کا احسان مند ہے
مجھے وہ مشق اور سوال یاد ہیں
جو
آپ نے
آؤٹ آف سلیبس
دے کر کہا تھا
”پھر وہ میتھ۔میٹیشن کیا ہوا جو سلیبس تک محدود رہ گیا“
مجھے آپ کے جملے یاد ہیں
آپ کا وہ سر ہلانے کا انداز ہے
جب آپ نے  بغیر فیس کے پڑھنے کی اجازت کے لیے گھمایا تھا
آج تک میرے کسی کلاس فیلو کو معلوم نہیں پڑا
گیارہ سال گزر گئے
زمانہ کہاں چلا گیا، میں وہیں کھڑا ہوں۔ آپ کے احسانوں کی نیچے دبا ہوا ہوں۔
آپ مجھے ایم۔اے انگلش دیکھنا چاہتے تھے لیکن افسوس میں نہ کرپایا
آپ کو شاید لوگوں نے کوئی تاجر سمجھ لیا ہو لیکن میرے لیے آپ فرشتہ ثابت ہوئے ہیں، مجھے لوگوں کے غلط کمنٹس کبھی آپ سے متنفر نہیں کر پائے
آپ کے شعر میری یادوں کا اثاثہ ہیں
آپ نے اپنی کتاب کے چھپنے سے ایک سال قبل مجھے اپنی نعت لکھ کر دے دی تھی، وہ ورق آج تک میرے پاس محفوظ ہے، آپ کی مثالیں یاد ہیں،  ان کی بازگشت آج تک چلی آ رہی ہے، جب آپ نے دسویں کا ایک سبق ”اے لیٹر۔فادرز ایڈوائس“ پڑھایا تھا اس کے جملے یاد ہیں
کہ
”روزی دو طرح کی ہوتی ہے، ایک وہ ہے جس کے پیچھے تم بھاگتے ہو، دوسری روزی وہ ہے جو تمہارے پیچھے بھاگتی ہے“۔
مجھے یاد ہے کہ
اُردو کے پہلے ٹیسٹ میں میں بغیر تیاری کے بیٹھا تھا اور ایک دلچسپ سفر کی روداد اپنے لفظوں میں فیصل آباد سے لاہور کا سفر لکھ دیا تھا اور آپ نے کتاب والے رٹے کا تقاضا نہیں کیا تھا۔
جب میں عیدالاضحیٰ پہ گاؤں جانے سے پہلے آپ سے اپنے سٹوڈنٹ کارڈ بنانے کے لیے دستخط کروانے آیا تھا آپ کی امی نے کیا فقرہ بولا تھا مجھے اُس کا درد آج تک کاٹتا ہے کہ انہیں کیا کیا ”دُکھ“ لاحق تھے۔
مجھے آپ کی شادی میں پہلی اور آخری بار روپے نچھاور کی رسم یاد ہے، میں نے تو کبھی کسی کی شادی میں نوٹ نہیں برسائے۔ آپ سے وابستہ یادیں آپ کے اشعار کی طرح میرے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے اور شاید میری رُوح کا حصہ بن چکی ہیں مجھے آپ سے نہ صرف عقیدت ہے بلکہ آپ کے فن کے آگے میرا سرِ تسلیم خم ہے۔
فقط
عبدالرزاق

جمعرات، 23 مارچ، 2017

23 مارچ 1940ء تا 2017ء کیا کھویا کیا لایا

قراداد لاہور یعنی قرارداد پاکستان کے سات برس پاکستان حاصل ہوا

لیکن بہت سے علاقے چھن گئے، پاکستان کو اس کے خزانے میں سے بھی مکمل حصہ نہ ملا،  انتظامیہ کو سہولتیں نہ مل سکیں، مہاجرین اور لاشوں کے معاملات درپیش آئے

پھر 1949ء میں قرارداد مقاصد منظور ہوئی جس کی رو پاکستان کے آئین اور قانون کی بنیادیں اسلامی قانون پر استوار کرنے کا عہد ہوا

لیکن اس سے پہلے جہادِ کشمیر میں مکمل کشمیر آزاد نہ ہو پایا جنرل گریسی نے اپنے چیف کمانڈر کا حکم نہ مانا

رانا لیاقت علی خاں نے بطورِ وزیراعظم ڈکٹیٹر کا عہدہ سنبھال لیا لیکن افسوس انہیں ایک نجانے کس نے قتل کر دیا اور وہ شہید ملت کہلائے

پھر غداروں کی ایک فوج ظفر موج نے اپنی باریاں شروع کر دیں

سکندر مرزا جیسے رذیل بھی پاکستان کے حکمران بنے اور پھر خود ہی مارشل لاء لگوا کر کھڈے لائن لگ گئے

پھر ایوب خاں نے انقلابی کارنامہ ہائے سرانجام دیئے لیکن پاکستان کو قرضوں کی دلدل میں دھنسا گئے

محترمہ فاطمہ جناح کی شان میں ہر قسم کی گستاخی روا رکھی گئی

منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم وجود میں آئے

تعلیم کے لیے آج تک کسی حکومت نے کوئی قابلِ ذکر کارنامہ نہیں دکھایا

تب 1965ء کی جنگ جیت کر میز پر ہارے

پھر ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جھوٹ کی تھیلی میں سے تاشقند معاہدہ نکالنے کی کوشش کی لیکن آج تک وہ بلی اسی تھیلے میں ہے اسی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی وجود میں آئی

پھر مشرقی پاکستان کھویا

جنرل یحییٰ جیسا بد قماش بھی مکروہ دھندوں میں مشغول رہا

پھر 1973ء میں آئین میسر آیا

پھر بھٹو صاحب ڈکٹیٹر کی اداکاری کرنے لگے تو ان سے بھی بدتر جنرل ضیاء الحق مسلط ہو گئے

پھر پاکستان نے جوہری توانائی حاصل کر لی

ضیاء کے بعد پیپلز پارٹی اور نوازشریف پارٹی کی باریاں شروع ہو گئیں

پھر ایٹمی دھماکے کیے گئے

پھر کارگل ہارے

پھر پرویز مشرف ہیرو بن کے آیا لیکن بعد میں نہایت بزدلانہ فیصلے ہوئے ، پاکستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی ملی

دہشتگردی کا جو بیج "الذوالفقار" نے بویا تو لشکرِ جھنگوی اور طالبان تحفے میں ملے جنہیں آج تک پاکستان کے کرتا دھرتا سینے سے لگائے بیٹھے ہیں

پھر میثاقِ جمہوریت اور این، آر، اوز ہوئے اور خلق خدا کی وہ حکمرانی قائم ہوئی کہ جس سے آج تک پاکستان کے درو دیوار چمک رہے ہیں اور عوام کے چہرے دمک رہے ہیں

اب پاک چین راہداریاں اور غلام گردشیں بن رہی ہیں اور پاکستان ترقی کی نت نئی منازل طے کر رہا ہے، امن اس قدر وافر ہے کہ ہر چھ ماہ کے بعد ایک نئی فورس جنم لے رہی ہے لیکن پھر وہ ”اشرافیہ“ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، جج سلطان راہی کی طرح بیانات جاری کرکے عوام کو محظوظ کرتے ہیں اور اہلِ اقتدار ٹی وی پر لوگوں کی ماؤں بہنوں پر اپنے افکارِ عالیہ کا اظہار فرماتے ہیں، ہر بار الیکشن آرمی کے زیرِ سایہ منعقد ہوتے ہیں اور وہاں سے اُن کے من پسند ”گلو بٹ“ مسندِ اقتدار پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ اوہ! ایک سونامی آنا تھی وہ جانے کیا ہوئی اور بھائی لوگ بھی آج تک بھائی ہیں۔
؎                                                                                                                                                                                                                                    وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے


منگل، 3 جنوری، 2017

Rahmat DawaKhana: A Mental Rehabilitation Center

رحمت دواخانہ ۔۔۔ ایک گوشۂ عافیت

عبدالرزاق قادری
آج ایک طویل عرصے کے بعد قلم کو اپنے خیالات سمیٹنے کے لیے اٹھایا ہے مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک نئی زندگی عطا کی ہے جس کے لیے میں اُس پاک ذات کا بے حد شکر گزار ہوں اور ساتھ ساتھ حکیم اعجاز حسین کا بہت بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرا جسمانی، اعصابی اور نفسیاتی علاج کیا تو میں زندگی کی طرف واپس چلا آیا۔پچھلے سال (2015ء) کے آخر سے میرے خیالات کو مسلسل پڑھنے والے جانتے ہوں گے کہ اُن میں سے مایوسی جھلکنے لگی تھی لہٰذا میں زندگی سے مایوس ہو چکا تھا۔سن 2011 تک مجھے بچپن سے دائمی ”کیرا “لاحق تھا یہ بلغم بار بار تھوکتے رہنے کی ایک بیماری ہے مریض سمجھتا ہے کہ اس کے تالو کے ساتھ کوئی چیز چمٹی ہوئی ہے۔

کسی کو بِن مانگے مشورہ دینا عجیب سا کام ہے لیکن مجھے ایک صاحب (جنابِ محسن) نے 2011ء کے اواخر میں ایک مشورہ دیا تھا کہ آپ ایک دوا ”اطریفل اُسطوخودوس“ استعمال کریں۔ یہ ایک ہربل دوا ہے جو کہ طلباء و اساتذہ اور ذہنی کام کرنے والوں کے لیے ازحد مفید ہے اور بے ضرر ہے، مجھے اس دوا کے ساتھ ذہنی مضبوطی کا اچھا تجربہ ہوا پھر میں نے دوسرے احباب کو بھی یہ دوا تجویز کی ۔گزشتہ برس کے آغاز سے ہی مجھے منہ میں اور زبان پر زخموں کی بیماری لاحق ہو گئی جو اکتوبر میں جا کر شدت اختیار کر گئی اعصابی کمزوری انتہا کو پہنچ گئی اور میں کئی روز سبق نہ پڑھا پایا۔ میں نے محسن صاحب کو کال کر کے بمشکل بول کر اپنی زبان کے زخموں کے متعلق بتایا تو انہوں نے حکیم اعجاز حسین کے مطب کا پتہ بتا دیا۔

یہ چوبیس اکتوبر تھا حکیم صاحب کی ہربل میڈیسن  زُود اثر تھی اور مجھے پانچ دنوں میں افاقہ ہو گیا لیکن مسئلے کی جڑ معدے کی تیزابیت تھی جو کہ جڑ سے ختم نہ ہو پائی اس کی شاید کئی وجوہات تھیں مجھے  شدید اعصابی کمزوری رہی ہے ساتھ ساتھ یہ معاملہ بھی تھا کہ میں پانی بہت زیادہ پیتا تھا  اور کھانا برائے نام کھاتا تھا یا پھر  ڈیڑھ دو دن کے بعد ہلکی پھلکی کوئی چیز کھا لیتا۔ دریں اثناء حکیم صاحب نےمعدے کی تیزابیت کے خاتمے کے لئے میڈیسن تبدیل کرکے مجھے استعمال کرائی تو یوں لگا جیسےمیرے جسم کی ”اوور ہالنگ“ شروع ہوگئی اور زبان ایک بار پھر پک کر پھوڑا  بن گئی  لیکن اعصابی نظام کی بہتری شروع ہوگئی اور ادویہ کے استعمال کے باعث پانی پینے کی عادت میں کمی واقع ہوتی گئی پھر حکیم صاحب نے اعصابی ورزش اور نفسیاتی معاملات پر گفتگو کرنے کا سلسلہ جاری کیا جس سے میرے بہت سے دیرینہ اور پیچیدہ قسم کے مسائل کھل کر سامنے آئے اور حل ہونے لگے  یوں میرے کئی ”فوبیاز“ اور اوہام کا ازالہ ہوا،ورزش اور میڈیسن سے میں روبہ صحت ہوا اور دل و دماغ مایوسی کی وادیوں سے باہر آنا شروع ہوگئے۔

میرے لیے کسی کے کمال کو ماننا تقریباً ناممکن  ہے میرے دوست اور قارئین جانتے ہیں کہ  کوئی صاحب اتنی برق رفتاری سے میرے دل  ذہن پر حاوی نہیں ہوتے، لیکن میں یہ تسلیم کرتا ہوں حکیم اعجاز حُسین جیسے دانا، محقق اور مخلص لوگ زمانے میں چند ایک ہوتے ہیں۔ آپ اُن کے ہاں جا کر  دیکھیں آپ کو وہ درویش صفت انسان ایک سادہ حلیے میں نظر آئے گا عین ممکن ہے کہ عام لوگ ان کی وضع قطع کو دیکھ کر ان کے ایک اچھے حکیم ہونے کی صلاحیت کو ماننے سے انکار کر دیں یا کم از کم متعجب ضرور ہوں لیکن بخدا وہ مردِ حق پرست ایک ولی صفت محقق حکیم ہے اور اپنے پیشے کو مقدس عبادت سمجھنے والا ایک مجاہد ہے، جس شاید اپنے مریض کی تشخیص کرنے میں کوئی خدائی عطا ہے یا پھر کسی بزرگ کی دُعا کا اثر ہے وہ اپنے  مریض کو دوا اور گفتگو کے ساتھ نئی زندگی بخشنے کا ہُنر جانتا ہے

شاید لاہور جیسے بڑے شہر میں بہت سے اچھے حکیم موجود ہوں لیکن میں چونکہ کبھی کسی ڈاکٹر  یا حکیم کے پاس میڈیسن لینے کیلئے نہیں گیا لہٰذا مجھے اُن دیگر اطباء کے فن سے کوئی خاص آگاہی نہیں، حکیم اعجاز صاحب کہتے ہیں کہ عام تاثر یہی بن چکا ہے کہ ایلوپیتھک میڈیسن بہت تیزی سے اثر کرتی ہیں لیکن دراصل ہربل میڈیسن اس سے بھی پہلے علاج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اُن کے مطابق دیسی ادویہ کی یہ خوبی ہے کہ یہ مریض کا علاج کرکے جسم سے خارج ہوجاتی ہیں جبکہ ایلوپیتھک میڈیسن کے زہریلے کیمیکلز علاج کرنے کے بعد جسم سے خارج نہیں ہوتے اِس طرح وہ انسان کے لیے مُضر ہیں۔
لیکن ان سب کے باوجود اُنہیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم دیسی حکیم یا ہربل میڈیسن کے ادارے امراض کی تشخیص کے لیے اعلیٰ پائے کے اوزار ، اور مشینری تیار نہیں کر پائے  لیکن اہلِ مغرب نے ایلوپیتھک طریقۂ علاج کے وارث ہونے کے ناتے یہ ذمہ داری سرانجام دی ہے لہٰذا ہمیں کوتاہی اور غفلت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے لیکن جدید مشینری کی تحقیق سے مستفید ہونے میں کوئی عار نہیں ہے اور ہربل میڈیسن کے شعبہ میں بہت سا کام کرنے کی ضرورت باقی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دوا دے دینا حکمت نہیں ہے، اتنا سا کام تو عطائی بھی کر لیتا ہے، حکمت ایک فن ہے جس میں تحقیق اور تجربے سے مسئلے کی پیچیدگی کو سمجھنا اور تدبر سے حل نکالنا اصل کام ہے، حکیم صاحب کے تجویز کردہ چند مشورے درج ذیل ہیں۔
  • ایک وقت میں صرف ایک کام پر توجہ مرکوز کرکے اُسی کو احسن طریقے سے انجام دیں ورنہ بیک وقت زیادہ  کام اکٹھے کرنے سے دماغ اور اعصاب پر بوجھ پڑتا ہے۔
  • رات کو سوتے وقت ذہن سے تمام خیالات کو جھٹک کر صرف ذکرِ  خُدا میں مصروف ہو کر سو جائیں
  • صبح جاگ کر کسی خیال کو ذہن پر سوار مت ہونے دیں کم از کم پندرہ  سے منٹ تک ذہن کو لازمی پر سکون رکھ کر صبح کا آغاز کریں
  • اچانک ملنے والی خبر پر فوری ردعمل دینے سے گریز کریں اور مطمئن رہنے کی کوشش کریں

مندرجہ بالا مشوروں کے علاوہ بھی کچھ اعصابی  مشقیں اور ورزش کر رہا ہوں جس سے الحمدللہ میں تیزی سے صحت یاب ہورہا ہوں بلکہ ایک پُر امید کامیاب زندگی کی طرف لوٹ رہا ہوں اللہ سے دعا ہے کہ وہ حکیم صاحب کو برکتیں عطا فرمائے۔اگر کسی صاحب کو ان سے کوئی مشورہ کرنا ہو تو وہ رحمت دواخانہ نزد ماہ نور سویٹ، گیلانی پارک، امیر روڈ بلال گنج لاہور تشریف لا کر ان سے ملاقات کر سکتے ہیں حکیم صاحب کا موبائل نمبر 03434615316 ہے۔
میں نے ان کے لیے درج ذیل سوشل میڈیا کے لنکس بھی بنائے ہیں

Email: hakimijazhussain@gmail.com
Skype: live:hakimijazhussain
www.FaceBook.com/RahmatDawaKhana/
www.twitter.com/hakim_ijaz
Blog Address: http://rahmatdawakhana.blogspot.com/

جمعہ، 23 دسمبر، 2016

مولانا احمد رضا خان قادری۔ از اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور

رضا خان: مولوی احمد رضا خان بریلوی نسباً پٹھان، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ ان کے والد ماجد نقی علی خان (م 129ھ/1880ء) اور جد امجد رضا علی خان (م1282ھ/1865۔66ء) عالم اور صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔ احمد رضا خان کی ولادت 10 شوال المکرم 1272ھ/ 14 جون 1856ء کو بریلی (اتر پردیش، بھارت) میں ہوئی (تذکرۂ علمائے ھند، ص 9 تا 15، 64، 244)۔ محمد نام رکھا گیا اور تاریخی نام المختار (1272ھ) تجویز کیا گیا جد امجد نے احمد رضا نام رکھا؛ بعد مین خود مولوی احمد رضا خان نے عبدالمصطفی کا اضافہ کیا (حدائق بخشش، ص 80؛ کرامات اعلیٰ حضرت ص8)

جمعرات، 8 دسمبر، 2016

Ghulam Rasool Dehlvi

Ghulam Rasool Dehlvi, Courtesy:Facebook


Ghulam Rasool Dehlvi, is a Muslim[1] journalist[2][3][4], reporter[5], translator, author[6] and speaker[7]. He writes books and articles in English, Arabic, Persian and Urdu languages.[8] He has addressed numerous religious and political issues[9] around the themes of Sufi Islam, terrorism and international politics in the national and international conferences and seminars in different languages.[10] His basic philosophy is "Word for peace", he also runs an article publishing website with the same title.[11] His columns and articles are occasionally published in Indian-English Newspapers (First Post,[12] The Asian Age,[13] Deccan Chronicle [14]) on various topics. He also write articles in Inqilab, Jagran, Nubhart Times and in Rashtriya Sahara. He got the media fame when he appeared on Indian Media and took a part in debates (and wrote) about Zakir Naik and terrorism.[15][16][17][18] Dehlvi is also national secretary of the World Sufi Forum Besides, he is editor-in-chief of a web-magazine promoting peace journalism, [19]


Education

Ghulam Rasool Dehlvi has obtained a certificate of Islamic Studies (Islamic Scholar) from the Jamia Amjadia Rizvia (Mau, UP, India), Research in Quranic Studies from Al-Jame-atul-Islamia, Faizabad, UP, India and got his certificate of Ilm-al-Hadith from Al-Azhar Institute of Islamic Studies, Badaun. Then, he pursued BA (Hons) in Arabic Language and Masters in Comparative Religions and Islamic Studies from Jamia Millia Islamia [20][21]

Views

Ghulam Rasool Dehlvi has his on views on different topics, which are very important and some of them are controversial in his (contemporary) era.

On Sufism

Dehlvi has written that the “Foundations of Sufism” are: Tawheed (oneness of God), Wahdatul wujud (unity of existence), ilmul yaqeen (knowledge with firm faith), zikr (incantation), muraqaba (meditation), observance of taqwa (God-consciousness) and tawba (repentance on sins), ikhlas (sincerity), tawakkul (contentment), sidq (truthfulness), amanah (trustworthiness), istiqamah (uprightness) and shukr (thankfulness).[22] However, Dehlvi opines that the soul and spirit of Sufism is dying out even at the Dargahs and Khanqahs (Sufi shrines), which imbibed an egalitarian tradition of inclusiveness.[23]

On Sunni-Sufi creed

Dehlvi endorsed the stand that “Ahluls Sunna wal Jama’ah [Sufi-Sunni Muslims] are the Ash’arites or Muturidis (adherents of Abu Mansur al-Maturidi's systematic theology which is also identical to Imam Abu Hasanal-Ash'ari’s school of logical thought). In matters of belief, they are followers of any of the four schools of thought (Hanafi, Shaf’ai, Maliki or Hanbali) and are also the followers of pure Sufism in doctrines, manners and [spiritual] purification.”[24]

About terrorism, radicalization and violent extremism

Ghulam Rasool Dehlvi has extensively written on terrorism, radicalization and violent extremism. He writes: “the ‘gun culture’ underpinned by a nefarious ideology has been playing havoc in the spate of terrorist atrocities from Brussels, Paris, Pathankot to San Bernardino and lately in Orlando’s LGBT nightclub. The obnoxious act of violent extremism in Florida, as anywhere else in the world, is not just a law and order problem. Neither it is practically expedient to paint it as a political incident. The ‘gun culture’ coupled with an exclusivist, retrogressive and chauvinistic ideology is the actual stimulus for the extremist zealots to go haywire”.

On Counter-extremism

Dehlvi views that just blocking the jihadist, pro-Islamic State accounts on certain social platforms is not the solution. A well-thought-out, well-reasoned, coherent and effective counter-narrative against the extremist rhetoric is imperative, avers. [25]

On Zakir Naik

Dehlvi wrote that the country’s Muslims are distressed at the misleading stand of Zakir Naik on suicide bombing.[26] He thinks that Indian Muslims, both Sunnis and Shias, have deeper ideological problem with Zakir Naik. He also went on writing that Naik has been trying to lure the Indian Muslims, anchored in an age-old traditional Sufi Islam, into professing and practicing the pernicious theology of Salafism.[27]

On girls' education

Dehlvi strongly encourages the education of women, in both the social and religious domains. He believes that girls’ education and cultural training are an integral part of inclusive development of a community. “There is no priority for men in relation to the right to education. Both are equally encouraged to acquire education. Indeed, all the Qur’anic verses which relate to education and knowledge are directed to both men and women alike. “When the Qur’an enshrined such a lofty status for women and accorded them rights that they could not otherwise even imagine in 7th century Arabia, why this discrepancy between the actual Qur’anic provisions for women and their sorry state of affairs in the Muslim world today?”, he writes: [28]

Work

Along with his dozens of essays and articles his following books also have been published.
  1. Sufism, Counter- extremism and Indian media [29]
  2. Sufism, the heart of humanity [30]
  3. Islamic Televangelism in India [31]
  4. Caliphate Hejaz and Saudi State an Urdu Translation of the book of Imran Nazar Hosein
 _______________________________________________________

References


  1. http://gulfnews.com/news/asia/india/india-s-islamic-schools-walk-the-middle-path-1.1441132
  2. http://www.caravanmagazine.in/lede/divine-tongues
  3. http://gulfnews.com/news/asia/india/india-s-islamic-schools-walk-the-middle-path-1.1441132
  4. http://gulfnews.com/culture/heritage/india-s-islamic-schools-need-an-overhaul-1.1522784
  5. http://timesofindia.indiatimes.com/toireporter/author-Ghulam-Rasool-Dehlvi.cms
  6. https://sabrangindia.in/content-authors/ghulam-rasool-dehlvi
  7. http://themoroccantimes.com/2015/11/17400/sufism-shield-religious-extremism
  8. http://www.newageislam.com/islam-and-politics/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/all-islamic-fundamentals-are-aimed-at-military-preparation-for-jihad,-said-maulana-maududi,-what-do-the-mainstream-ulema-say?/d/101454
  9. http://www.eurasiareview.com/21102016-india-debate-on-triple-talaq-and-uniform-civil-code-is-unsolicited-polemic-oped/
  10. http://www.wordforpeace.com/?s=Ghulam%20Rasool%20De
  11. http://www.wordforpeace.com/
  12. http://www.firstpost.com/author/ghulam-rasool-dehlvi
  13. http://www.asianage.com/mystic-mantra/chiragh-e-dehli-illuminating-lamp-delhi-537
  14. http://www.deccanchronicle.com/byline/ghulam-rasool-dehlvi
  15. https://www.youtube.com/watch?v=IoNaDSMPke4
  16. http://www.firstpost.com/india/ban-on-zakir-naik-not-the-end-india-needs-vigilance-to-save-muslim-youth-3116838.html
  17. http://ir.voanews.com/a/3525518.html
  18. http://www.oneindia.com/bengaluru/exclusive-interview-scholar-ghulam-rasool-dhelvi-on-orlando-shooting-2126428.html
  19. https://cafedissensusblog.com/2016/07/01/sufi-islam-an-interview-with-ghulam-rasool-dehlvi/
  20. http://www.education-for-peace.com/Print.aspx?ID=34600
  21. http://jmi.academia.edu/GhulamRasoolDehlvi
  22. http://www.aiumb.org/sufism/what-is-sufism/
  23. http://www.firstpost.com/india/a-deeper-reflection-on-the-haji-ali-case-is-sufism-disappearing-from-the-indian-dargahs-2980564.html
  24. http://www.firstpost.com/world/islamic-conference-in-chechnya-why-sunnis-are-disassociating-themselves-from-salafists-2998018.html
  25. http://www.firstpost.com/world/tweeting-jihadism-how-the-online-onslaught-of-islamic-state-can-be-countered-2970164.html
  26. http://www.firstpost.com/world/suicide-bombing-is-haram-in-islam-only-salafist-ideologues-like-zakir-naik-view-it-as-a-war-tactic-2898840.html
  27. http://www.firstpost.com/india/zakir-naik-and-salafism-why-islamic-scholars-can-dismantle-influence-of-extremist-theology-2893504.html
  28. http://www.milligazette.com/news/12896-women-in-islam-exploring-new-paradigms
  29. http://www.firstpost.com/india/world-sufi-forum-how-sufism-runs-as-a-counter-to-hardline-ideologies-2680958.html
  30. http://www.asianage.com/mystic-mantra/chiragh-e-dehli-illuminating-lamp-delhi-537
  31. http://newageislam.com/debating-islam/islamic-televangelism--the-salafi-window-to-their-paradise/d/107563

جمعرات، 10 نومبر، 2016

عرس پر داتا دربار کے ناقص انتظامی امور کی طرف توجہ

روزنامہ نوائے وقت 20 نومبر 2016 |  ڈاک ایڈیٹر
              مکرمی!ماہِ صفر کا آغاز ہو چکا ہے اور حضرت داتا گنج بخش علی ہُجویری رحمۃ اللہ علیہ کا عرس قریب ہے۔ محکمہ ٹاون میونسپل داتا گنج بخش ٹاؤن لاہور، محکمہ اوقاف اور غیر سرکاری مقامی انتظامیہِ عُرس کی توجہ اِس امر کی طرف مبذول کرانا مقصود ہے کہ دُدور دراز سے عرس میں شرکت کی غرض سے حاضر ہونے والے ہزاروں زائرین کو لاہور آکر متعدد قسم کی دُشواریوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، داتا دربار کی طرف آنے والے تقریباً تمام راستوں پر صفائی کی حالت بتدریج خراب ہوتی جا رہی ہے مرکزی دروازے کے سامنے مین روڈ پر جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر پڑے رہتے ہیں اور ایک کثیر تعداد میں لوگ وہاں ’’گندگی‘‘ پھیلاتے ہیں دربار میں ملحقہ گلیوں خصوصاً جنوبی اور مغربی اطراف کی بُری صورت حال ہے جنوبی جانب والی گلیوں میں جگہ جگہ گڑھے موجود ہیں جہاں گندا پانی کھڑا رہتا ہے اور مغربی یعنی بلال گنج آٹو مارکیٹ کی گلیوں میں بھی سڑک کو بطورِ طہارت خانہ استعمال کرنے کا عام رواج ہے۔ کچھ طہارت خانے درگاہ شریف کے اندرون میں بنائے گئے ہیں جبکہ عموماً نشئی یا دیگر افراد باہر گلیوں کا رُخ کرتے ہیں شمال مشرقی کونے پر واقع طہارت خانے کے باہر بیٹھے لوگ دس روپے چارج کرتے ہیں جس قدر بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد عرس کے دنوں میں ہوتی ہے اُسے بہتر انداز سے سنبھالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عارضی طور پر بہت سے کار آمد منصوبے عمل میں لانے کی گزارش ہے اور دربار شریف کے قُرب و جوار میں واقع گلیوں اور سڑکوں کی مرمت کرنے کی استدعا ہے۔
(عبدالرزاق قادری، ملک پارک بلال گنج لاہور)

منگل، 9 اگست، 2016

فلک کے اُس پار

پاکستان میں ہر دوسرا بندہ عدمِ تحفظ کا شکار ہے جبکہ  تحفظ کے عدم کا شکار وہ بھی ہو سکتے ہیں جو  ”عدمِ تحفظ کے شکار“ نہیں ہیں۔ یہاں آپ کو بیسیوں قِسم کے خطرات لاحق ہیں، اخبار اور ٹی وی چینلز ملک بھر کی سکیورٹی صورت حال کے گواہ ہیں۔ نہ بچے محفوظ ہیں اور نہ ہی بڑے۔ کیا درسگاہیں، اور کیا عبادتگاہیں ! یہاں مارکیٹیں دہشت کا گھر ہیں اور تفریح گاہیں لہولہان ہیں۔ سڑکوں پہ خوف کا پہرہ ہے گلیوں میں درندگی کا راج ہے۔
 صرف لاہور کی بات کرلیں جس میں تقریباً دو کروڑ لوگ بستے ہیں وہاں ایک کینٹ بھی ہے، چھ سات سے زائد وزیرِ اعلیٰ ہاؤس ہیں، ایک پنجاب اسمبلی ہے، قُرب میں ایک گورنر ہاؤس ہے مضافات میں ایک شہر رائے ونڈ ہے وہاں بھی گورنمنٹ کے لوگ ہیں، ملک میں 26 ایجنسیوں کے وجود کی بات جنابِ وزیرِ داخلہ نے کی تھی۔ لاہور میں پنجاب پولیس ہے، ایلیٹ فورس ہے، ڈولفن فورس ہے، محافظ فورس ہے، کوئک رسپانس فورس ہے، شہری دفاع فورس ہے۔ لاہور سٹی ٹریفک پولیس ہے، ایل ٹی ای ہے۔ پرائیویٹ سکیورٹی ادارے ہیں،عوام ہیں،قومی اسمبلی کے ارکان  ہیں، صوبائی اسمبلی کے ارکان اور کئی وزراء ہیں۔ یونین کونسلز کے چیئرمین ہیں اور دیگر کئی قسم کے کونسلرز ہیں، عہدے داران ہیں۔ گلی محلوں میں چوکیدار ہیں۔
پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جیتے جاگتے لوگوں کے سامنے ”بُرے لوگ“ آتے بھی ہیں اور معصوم بچوں کو اٹھا کر لے بھی جاتے ہیں۔ اُن کے جسم سے قیمتی اعضاء نکال کر میتوں کو پھینک بھی جاتے ہیں اور انہیں کوئی دیکھ تک نہیں پاتا؟
یہ گُردے اور دوسرے اعضاء لازمی طور پر بیرونِ ملک بھیجے جاتے ہوں گے۔ ان کے بھیجتے وقت شاید، میڈیکل ڈاکٹرز کی تصدیق کی ضرورت ہوتی ہوگی۔ وہ تصدیق کون کرکے دیتا ہے؟ ملک سے باہر یہ چیزیں اس قدر آسانی سے کیسے بھیجی جا سکتی ہیں۔
یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، یا اچانک واردات کا آغاز نہیں ہوا۔ یہ پُرانی باتیں ہیں۔ بچے غائب ہونے کی خبریں بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ کہا جاتا تھا  کہ وہ عرب ممالک میں بھیجے جاتے تھے اور عربی درندے اپنے اونٹ کو تیز بھگا کر ”دوڑ“ جیتنے کے لیے معصوم بچوں کو اونٹوں پر بٹھاتے تھے، یہ کام ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور پاکستان جیسے بہت سے ”آزاد اور خود مختار“ ممالک میں سے ایسے بچے اغوا ہوتے ہیں اور درندوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
ملکِ شام و عراق، اور فلسطین و کشمیر کے حالات پر بات کرنے کا موقع اُسے ملے جو خود محفوظ ہو، جس کے پاس کھانے کے روٹی ہو بچوں کو مناسب مفت تعلیم مِل رہی ہو، اُن کی نوجوان بچیاں محفوظ ہوں وہ مسجد میں جا کے بلا خوف و خطر چار رکعات نماز ادا کرکے گھر واپس آ جانے کی اُمید رکھتا ہو۔ جس کے شہروں کی سڑکوں پر ٹریفک کے قوانین کی پابندی ہوتی ہو۔
تُرکی ، امریکہ اور برطانیہ کی سیاست پر وہ بات کرے جس کے گھر میں بجلی آتی ہو، اُس کی دوکان کا کاروبار بجلی اور انٹرنیٹ کی فراہمی کے تعطل کی وجہ سے بند نہ ہو۔
پاکستان  بنانے کا مقصد کب کا پُورا ہو چکا ہے۔ اب یہاں سہاگنوں کے سُہاگ نہیں اُجڑتے ، کسی کے بچےریاست کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے  یتیم نہیں ہوتے۔ مزدور صرف آٹھ گھنٹے انسانوں کی طرح استعمال کیے جاتے ہیں، انہیں اُن کا پورا حق ادا کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں  ایک مزدور کو ماہانہ ایک تولہ سونے کے  برابر تنخوہ ملتی ہے اور وہ ہر ہفتے میں ایک چھٹی سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔ سال بھر میں اُسے تمام ”پبلک چھٹیوں“ پر فیکٹری اور ملز سے باہر جانے کی اجازت ہوتی ہے اور ساتھ چھٹی منانے کا خرچہ الگ سے ملتا ہے۔ یہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نظام کی سُنت پر عمل کیا جارہا ہے۔ ہر بچے کو پیدائش کے وقت سے وظیفہ ملنے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ساٹھ سال سے زائد عمر کے ہر شہری کو ماہانہ، گھر بیٹھے  ”عمرِ ضعیفی“ کا وظیفہ پینشن کے نام پر مل جاتا ہے۔ واپڈا ٹھیک سے بجلی سپلائی کر رہا ہے، پی ٹی سی ایل بہترین سروسز فراہم کر رہا ہے۔ پاک آرمی اور 26 ایجنسیوں کی ”مملکتِ خداداد“ میں گھسنے سے پہلے  دشمن کا پِتہ پانی ہو جاتا ہے۔ اب پاک آرمی، یو این او کے ساتھ سعودی عرب جیسے دیگر ممالک کو  امن افواج فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان کے سو فیصد افراد کو پینے کا صاف پانی میسر ہے، تعلیم مفت،علاج مفت، روزگار دہلیز پر دستیاب ہے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں اساتذہ ”زندگی کا درس“ دے رہے ہیں۔ علماء کرام تحقیق فرما کر قوم و ملت کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔
الحمدللہ! پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، صبح و شام لوگ نیوکلیئر کی روٹی  جے۔ایف 17 تھنڈر کے سالن کے ساتھ لگا کر کھاتے ہیں، ملک بھر کے ہر گھر میں روٹی کپڑا اور مکان پیپلز پارٹی کے حکمران پہنچا کر آتے ہیں۔ علاج معالجے کی مفت سہولیات تحریکِ انصاف  اپنی ذمہ داری سمجھ کر ہر شہری تک پہنچا آتی ہے، تعلیم، روزگار اور دیگر فلاحی کام (جیسا کہ سڑکیں بنانا اور چنیوٹ سے سونا وغیرہ نکالنا) پاکستان مُسلم لیگ (نون)  کے ذمہ ہیں اور بخوبی سرانجام دیئے جا رہے ہیں، پرویز مشرف صاحب ”کالا باغ ڈیم“ بنا کر مزید چار پانچ ہزار چھوٹے بڑے ڈیم بنانے کے منصوبوں پر عمل کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعتِ اسلامی والے کراچی جیسے ”عروس البلاد“ کی روشنیاں مرمت کرکے، سنوار رہے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کشمیر میں آزادی لے کر عطا فرما رہی ہے جس سے لاکھوں کروڑوں کشمیری مستفید ہو رہے ہیں، اور جے یو آئی (س) والے طالبان جیسے ”ناراض بھائیوں“ کو سمجھانے میں جُتے ہوئے کہ بھائی صاحبو! اب مان بھی جاؤ۔
جمعیت علمائے پاکستان کی باقیات والے کبھی فلسطین ایشو اور کبھی مصر کے حالات کو مانیٹر فرما رہے ہیں، مفتیانِ عظام، عوام الناس کو فاحشہ عورتوں کی وڈیوز دکھا دکھا کر منع فرما رہے ہیں کہ ایسے لعنتی لوگوں کی صحبت سے دُور رہو۔
الحمدللہ! اس چودہ اگست پر، پاکستان کے عمائدین پاکستان سمیت دنیا بھر میں، کشمیر، فلسطین، شام اور عراق کی آزادی کی نوید سُنا رہے ہوں گے۔ اب پاک فوج کو امریکی امداد اور ایف 16 کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ الحمدللہ! ہماری حکومت نے اپنے قرض خواہ، آئی ایم ایف کو ”گڈ بائے“ کہہ دیا ہے۔راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔
اس سب کے باوجود، لوگ بکواس کرنے سے باز نہیں آتے اور ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجتے رہتے ہیں خصوصاً سوشل میڈیا گالیاں بکنے کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ لہٰذا ملکی اخلاقی وقار کو قائم و دائم رکھنے کے لیے اور قوم کی اصلاح کے ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے کہ لوگ ”اچھے بچے“ بن کر رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بہن بھائی جیسا سلوک کریں۔ اس ضرورت کے تحت حکومتِ وقت وقتاً فوقتاً ”سائیبر کرائیم قوانین“ بناتی رہتی ہے، اس سے عوام کو خوفزدہ یا ہراساں ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ جب انہیں انٹرنیٹ کی دنیا سے باہر تمام سہولتیں اور تحفظ حاصل ہے تو انٹرنیٹ پر آ کر اپنا غصہ کیوں نکالتے ہیں۔

زمین پر تو حاصل نہیں تھا جن کو
فلک کے اُس پار تیرے منتظر ہیں