راولپنڈی (اے پی اے) سنی تحریک علماء بورڈکے زیراہتمام آل پارٹیز امن کانفرنس میں شریک اہلسنت کی 30 جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر حکومتی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کی جائے۔ اہلسنت وجماعت کے نام پر کالعدم جماعتیں فرقہ واریت اوردہشت گردی پھیلارہی ہیں، نام بدل کر کام کرنیوالی کالعدم جماعتوں پر پابندی لگائی جائے۔ فساد کی اصل جڑ غیرملکی مذہبی مداخلت ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ملک میںفرقہ واریت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ حکومت قتل و غارت میں ملوث تنظیموں کی بیرونی فنڈنگ روکے۔ فرقہ وارانہ قتل و غارت ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ سُنی تحریک علماء بورڈکے رہنمامفتی غفران محمودسیالوی کی زیرصدارت منعقدہ آل پارٹیزامن کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ سانحۂ راولپنڈی سنی شیعہ نہیں، شیعہ دیوبندی جھگڑا ہے۔ ملک میں شیعہ سُنی فسادکا کوئی وجود نہیں۔ اہلسنت وجماعت کو شیعہ، دیوبندی فرقہ ورانہ فساد میں نہ گھسیٹاجائے۔ مذہبی منافرت پھیلانیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سانحہ راولپنڈی اوردہشتگردی کو جواز بنا کر عید میلادالنبیﷺ کے جلسے جلسوں کو روکنے کی سازش کی جارہی ہے۔ میلادکے جلسے جلوسوں کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کسی سیاسی اور مذہبی جماعت کو مجرموں کی حمایت نہیں کرنی چاہئے۔ تکفیر اور تبرا پر پابندی لگائی جائے۔ گستاخانہ اور نفرت آمیز مذہبی لٹریچر کو ضبط کر کے تلف کیا جائے۔ مساجد اور مدارس کو اسلحہ سے پاک کیا جائے۔ تمام مکاتب فکر کو ’’اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کا مسلک چھیڑو نہیں‘‘ کی روش اختیار کرنا ہو گی۔ ڈرون حملوں کا نہ رکناحکومت کی بدترین ناکامی ہے۔ سُنی تحریک علماء بورڈکے زیراہتمام آل پارٹیزامن کانفرنس میں اہلسنت کی 30سے زائد تنظیمات کے قائدین نے شرکت کی۔
جمعہ، 29 نومبر، 2013
جمعہ، 15 نومبر، 2013
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت تک اسلام کی مختصر تاریخ
میں نے اپنے آسٹریلین طلباء و طالبات کے لیے یہ تحریر انگریزی میں لکھی تھی۔ پھر اردو میں ترجمہ بھی کر لیا۔ کسی کو اسے من و عن نقل کرنے کی اجازت نہیں۔ عبدالرزاق قادری۔
جمعہ، 8 نومبر، 2013
امام شاہ احمد نورانی نے کبھی کسی بدعقیدہ شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی
’’ کہیں پرچہ لگے، خبر گزرے !‘‘ کالم نگار | اثر چوہان نوائے وقت لاہور: 07 نومبر 2013
قومی اخبارات میں ہر روز اور الیکٹرانک میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ۔ خبروں کی اتنی بھرمار ہوتی ہے کہ…
ع ’’ خبروں ‘‘ کے انتخاب نے،رسواکیا مجھے ‘‘
کی صورت ہوجاتی ہے۔کبھی کبھی ایک ہی خبر کو موضوع بنا کر کالم لکھتے وقت یو ں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ’’ پانی میں مدھانی‘‘ گھما رہا ہوں یا لفظوں کی جُگالی کر رہا ہوں۔اس عمل کو کالم کا پیٹ بھرنا بھی کہاجاسکتا ہے،جیسے سرکاری دفتروں میں ’’ فائل کا پیٹ بھرنا‘‘ کی ترکیب استعمال کی جاتی ہے۔اکثر و بیشتر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مختلف قائدین کی تقریروں میں بھی یہی فارمولا استعمال ہوتا ہے تو صاحبو!آج کے کالم میں کئی خبروں کو موضوع کیوں نہ بنایاجائے؟ اُستاد سحر نے کہا تھا…
’’ بے محل عاشقی سے،درگُزرے ۔۔۔۔ کوئی پرچہ لگے، خبر گُزرے‘‘
خبر ہے کہ ’’ جمعیت علماء اسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے ایک صحافی کے اس سوال کے جوا ب میں کہ ’’ کیا حکیم اللہ محسود ہلاک ہوا ہے یا شہید؟ کہا ’’ امریکہ اگر کسی کتے کو بھی ہلاک کردے تو میں اسے بھی شہید ہی کہوں گا‘‘
پیر، 4 نومبر، 2013
شیطانی توحید کے علمبردار
مسلمان اپنے دین پر عمل کرنے کی بجائے اغیار کے اعمال میں اپنی فلاح ڈھونڈ رہے ہیں۔ توحید باری تعالیٰ اور سنت رسول اللہ پر عمل پیرا ہونے کی بجائے شرک اور بدعات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جسے بدقسمتی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
مسلمان اپنے دین پر عمل کی بجائے اغیار کے اعمال میں فلاح ڈھونڈ رہے ہیں: مولانا احمد لاٹ حوالہ نوائے وقت 3 نومبر 2013ء
تبلیغی جماعت کی بنیاد 1930ءمیں مولانا محمد الیاس نے بستی نظام الدین دہلی میں رکھی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد 1952ءمیں حاجی محمد عبداللہ میواتی نے تبلیغی جماعت کے اجتماع کے لئے رائے ونڈ میں اپنی ذاتی جگہ وقف کر دی۔ اس وقت اجتماع میں صرف 100سے کچھ زائد افراد شریک ہوتے تھے، بعد ازاں 1981ءمیں تبلیغی جماعت کی انتظامیہ نے سندرروڈ پر 150ایکڑ اراضی خرید لی۔ 65سالوں سے وطن عزیز میں تبلیغی اجتماع منعقد ہو رہا ہے اور اس میں ملکی و غیرملکی لاکھوں افراد شرکت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع میں اس مرتبہ بھی لاکھوں افراد نے شرکت کی جن سے خطاب کرتے ہوئے تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب، مولانا طارق جمیل، مولانا احسان الحق، مولانا احمد لاٹ اور دیگر نے بڑی فکرانگیز باتیں کیں۔
تبلیغی جماعت کی بنیاد 1930ءمیں مولانا محمد الیاس نے بستی نظام الدین دہلی میں رکھی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد 1952ءمیں حاجی محمد عبداللہ میواتی نے تبلیغی جماعت کے اجتماع کے لئے رائے ونڈ میں اپنی ذاتی جگہ وقف کر دی۔ اس وقت اجتماع میں صرف 100سے کچھ زائد افراد شریک ہوتے تھے، بعد ازاں 1981ءمیں تبلیغی جماعت کی انتظامیہ نے سندرروڈ پر 150ایکڑ اراضی خرید لی۔ 65سالوں سے وطن عزیز میں تبلیغی اجتماع منعقد ہو رہا ہے اور اس میں ملکی و غیرملکی لاکھوں افراد شرکت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع میں اس مرتبہ بھی لاکھوں افراد نے شرکت کی جن سے خطاب کرتے ہوئے تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب، مولانا طارق جمیل، مولانا احسان الحق، مولانا احمد لاٹ اور دیگر نے بڑی فکرانگیز باتیں کیں۔
لو بھئی مسلمانو! اب آپ سب پر (یا کم از کم اہل سنت وجماعت پر جو کلمہ گو ہیں اور پوری دنیا میں حنفی، شافعی، حنبلی اور مالکی مذاہب کی صورت میں سواد اعظم ہیں) ایک بار پھر اعلانیہ طور پر شرک اور بدعت کی فتوی نما تہمت لگا دی گئی ہے۔ کیونکہ فتوی تو مسلمان مفتی کا ہوتا ہے اور سب سے بڑی اس جماعت کو (جو اہل سنت بھی ہے اور نہ مشرک نہ ہی بدعتی ہے) مشرک کہنے دینے والے کی بات کو فتوی تو کہا نہیں جا سکتا۔
سوال: اب یہ لاٹ صاحب آئے کہاں سے ہیں؟ بھارت سے! ان کو یہاں پاکستان میں آکر مسلمانوں کو مشرک کہنے کی اجازت کیسے ملی؟
جواب: بین الاقوامی اور ملکی سیاست دانوں کی آشیر باد سے!
سوال: تو اب جنہیں مشرک اور بدعتی کہا گیا ہے وہ کیا کریں؟
جواب: بھئی ان کا ایک عالم دین مفتی عمر رضا خان قادری پچھلے دنوں بھارت سے یہاں ختم نبوت کانفرنس میں خطاب کرنے آیا تھا، ملکی انتظامیہ نے کراچی میں روکے رکھا!
سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو بدعتی کیوں کہا گیا؟
جواب: کیوں کہ مسلمان میلاد نبی کی محفلیں اور جلسے جلوس منعقد کرتے ہیں جو کہ حضرت حسان بن ثابت والی نعت (واحسن منك لم ترقط عيني وأجمل منك لم تلد النساء خلقت مبرأ من كل عيب كأنك قد خلقت كما تشاء) سے ثابت ہیں اور جلوس اس دن کا ثابت ہے جب 12 ربیع الاول پیر والے دن آقا کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے آئے تھے اور مدینہ میں داخل ہو رہے تھے۔ اس وقت مدینہ کی بچیوں نے بھی وہ مشہور زمانہ کلام پڑھا (طلع الـبدر عليـنا, مـن ثنيـات الوداع. وجب الشكـر عليـنا, مـا دعــــا لله داع)
سوال: اور مسلمانوں کو مشرک کیوں کہا گیا؟
جواب: یا رسول اللہ پکارنے کی وجہ سے! جو کہ جنگ یمامہ میں صحابہ کرام سے ثابت ہے جو کہ سن 13 ہجری میں بعد از وصال نبوی ہوئی تھی مسیلمہ کذاب کے خلاف۔ حوالہ ملاحظہ ہو
ہفتہ، 26 اکتوبر، 2013
Short history of Prophets and Eid ul Adha
History of Prophets:
Hadhrat Adam حَضْرَتْ اٰدَمْ(Adem) is believed to have been the first human being and the first prophet and messenger in Islam. Adam's role as the father of the human race is looked upon by Muslims with reverence. Muslims also venerate his wife, Eve, as the "mother of mankind". Muslims see Adam as the first Muslim, as the Qur'an promulgates that all the prophets preached the same faith of submission to Allah. Allah sent less than or more than one lac and twenty four thousand Prophets for the guidance of mankind. There are some names of Prophets of Allah. These names are found in Holy Quran.
1. Hadhrat Adam (Peace be upon him) (Adam)
2. Hadhrat Idrees (Peace be upon him)
3. Hadhrat Nooh (Peace be upon him) (Noah)
4. Hadhrat Hood (Peace be upon him)
5. Hadhrat Saleh (Peace be upon him)
6. Hadhrat Loot (Peace be upon him) (Lot)
7. Hadhrat Ibraheem (Peace be upon him) (Abraham)
8. Hadhrat Ismael (Peace be upon him) (Ishmael)
9. Hadhrat Is-haq (Peace be upon him) (Isaac)
10. Hadhrat Yaqoob (Peace be upon him) (Jacob in English, Israeel in Hebrew)
11. Hadhrat Yousuf (Peace be upon him) (Joseph)
12. Hadhrat Sho`aib (Peace be upon him)
13. Hadhrat Ayyub (Peace be upon him) (Job)
14. Hadhrat Mu'sa (Peace be upon him) (Moses)
15. Hadhrat Haroon (Peace be upon him) (Aaron)
16. Hadhrat Dawood (Peace be upon him) (David)
17. Hadhrat Sulaiman (Peace be upon him) (Solomon)
18. Hadhrat Yunus (Peace be upon him) (Jonah)
19. Hadhrat Ilyas (Peace be upon him) (Elijah)
20. Hadhrat Al-Yasa (Peace be upon him) (Elisha)
21. Hadhrat Zul-Kifal (Peace be upon him)
22. Hadhrat Zakariya (Peace be upon him) (Zechariah)
23. Hadhrat Yahya (Peace be upon him) (John)
24. Hadhrat Esa (Peace be upon him) (Jesus)
25. Hadhrat Muhammad حَضْرَتْ مُحَمَّدْ (Peace and Blessings be upon him) Last Prophet.
Time Period:
Prophet حَضْرَتْ Ibrahim was born 2510 BH (Before Hijrat), and he died 2329 BH (aged approximately 175). Prophet Moosa was born in 2076 BH, and died in 1952 BH, and the era of Prophet Eesa(Jesus) was 571 years ago than birth of Prophet Muhammad حَضْرَتْ مُحَمَّدْPeace and blessings be upon him. Hadhrat Eesa (Jesus) did not die according to Islam, Allah said in Quran:_
([Nisa 4:157] And because they said, "We have killed the Messiah, Eisa the son of Maryam, the Messenger of Allah"; they did not slay him nor did they crucify him, but a look-alike was created for them; and those who disagree concerning it are in doubt about it; they know nothing of it, except the following of assumptions; and without doubt, they did not kill him.
[Nisa 4:158] In fact Allah raised him towards Himself; and Allah is Almighty, Wise.)
Holy Prophet Muhammad migrated from Makkah to Madina in 621 according to Gregorian calendar. (Islamic Calendar has been started from the time of the Migration (Hijrat) of Holy Prophet Muhammad according to Gregorian Calendar it was year of 621).
(Era is not so authentic)
Prophet Ibrahim had two sons (Ismaeel, Is-haaq). Yaqoob (Jacob, Israel) was son of Is-haaq. All of them were Prophets of Allah. Descendants of Israel (Jacob) were called Banee-Israeel (Sons of Yaqub). In the Family of Israeel (Yaqoob, Jacob) Allah sent many Prophets Including Yousuf (Joseph), Moosa (Moses), Dawood (David) , Sulaiman (Solomon), Zakariyya, Yahya (John) and Eesaa (Jesus).But in the Family of Ismaeel (among the sons of Ismaeel) Allah sent only one Prophet, this was Hadhrat Muhammad peace and blessings be upon him after thousands of year of Hadhrat Ismaeel. Keep in mind Ismaeel was uncle of Yaqoob(Israeel, Jacob).
Hajj (pilgrimage)
The Hajj is an Islamic pilgrimage to Mecca and the largest gathering of Muslim people in the world every year. It is one of the five pillars of Islam, and a religious duty which must be carried out by every able-bodied Muslim who can afford to do so at least once in his or her lifetime. The Hajj is a demonstration of the solidarity of the Muslim people, and their submission to Allah. The word Hajj means “to intend a journey”.The pilgrimage occurs from the 8th to 12th Zul-Hajj, the 12th and last month of the Islamic calendar. Because the Islamic calendar is a lunar calendar, eleven days shorter than the Gregorian calendar used in the Western world, the Gregorian date of the Hajj changes from year to year. The Hajj is associated with the life of the Prophet Muhammad from the 7th century, but the ritual of pilgrimage to Mecca is considered by Muslims to stretch back thousands of years to the time of Ibrahim (Abraham). Pilgrims join processions of hundreds of thousands of people, who simultaneously converge on Mecca for the week of the Hajj, and perform a series of rituals:ـ
Each person walks counter-clockwise seven times around the Ka'aba, the cube-shaped building which acts as the Muslim direction of prayer, runs back and forth between the hills of Al-Safa and Al-Marwah, drinks from the Zamzam Well, goes to the plains of Mount Arafat to stand in vigil, and throws stones in a ritual Stoning of the Devil. The pilgrims then shave their heads, perform a ritual of animal sacrifice, and celebrate the three day global festival of Eid al-Adha.
Tomb of Holy Prophet Muhammad adjacent with his Masjid (Mosque) in Holy City of Madina of Saudi Arabia, at the distance of 320 Kilometers from Makkah City.
Eid-ul-Adha:
Eid al-Adha is an important religious holiday celebrated by Muslims worldwide to honour the willingness of the prophet حَضْرَتْ Ibrahim (Abraham) to sacrifice his young first-born son حَضْرَتْ اِسْمَاعِیْلIsmail (Ishmael) as an act of submission to God's command and his son's acceptance to being sacrificed, before God intervened to provide Hadhrat Ibrahim with a Lamb to sacrifice instead.
Al-Quran:_
[Saffat 37:102] And when he became capable of working with him, Ibrahim said, “O my son, I dreamt that I am sacrificing you - therefore now consider what is your opinion”; he said, “O my father! Do what you are commanded! Allah willing, you will soon find me patiently enduring!”
[Saffat 37:103] Then (remember) when they both submitted to Allah’s command, and Ibrahim lay his son facing downwards.
(The knife did not hurt Ismail حَضْرَتْ اِسْمَاعِیْل)
[Saffat 37:104] And We called out to him, “O Ibrahim!”
[Saffat 37:105] “You have indeed made the dream come true”; and this is how We reward the virtuous.
[Saffat 37:106] Indeed this was a clear test.
[Saffat 37:107] And We rescued him in exchange of a great sacrifice.
(The sacrifice of Ibrahim and Ismail – peace be upon them – is commemorated every year on 10,11 and 12 Zil Haj).
In the lunar Islamic calendar, Eid al-Adha falls on the 10th day of Zul-Hijjah(Zil Haj) and lasts for four days. In the international Gregorian calendar, the dates vary from year to year, drifting approximately 11 days earlier each year. Eid al-Adha is the latter of the two Eid holidays, the former being Eid al-Fitr.
Like Eid al-Fitr, Eid al-Adha begins with a Sunnah prayer of two rakats followed by a sermon (khutbah, Speech). Eid al-Adha celebrations start after the descent of the Hajj from Mount Arafat, a hill east of Mecca.Ritual observance of the holiday lasts until sunset of the 12th day of Zul-Hijjah. Eid sacrifice may take place until sunset on the 13th day of Zul-Hijjah(Zil Haj). The days of Eid have been singled out in the Hadith (Sayings of Holy Prophet Muhammad peace and blessings be upon him) as "days of remembrance".
The days of Tashreeq are from the Fajr (Dawn) prayer of the 9th of Zul Hijjah(Zil Haj) up to the Asr prayer of the 13th of Zul Hijjah (5 days and 4 nights). This equals 23 prayers: 5 on the 9th-12th, which equal 20, and 3 on the 13th. In these 5 days after these 23 Prayers every Muslim (Whereever he lives, it does not matter) should read loudly, the following Pray.
Allahu akbar, Allahu akbar, Laa ilaa ha illallaa hu wallaahu akbar, Allahu akbar, wa lillahil hamd.
Sources:
پیر، 14 اکتوبر، 2013
Eid-ul-Adha
Eid-ul-Adha:
Eid al-Adha is an important
religious holiday celebrated by Muslims worldwide to honour the willingness of
the prophet Ibrahim (Abraham) to sacrifice his young first-born son Ismail
(Ishmael)a as an act of submission to God's command and his son's acceptance to
being sacrificed, before God intervened to provide Abraham with a Lamb to
sacrifice instead.
Al-Quran:_
[Saffat 37:102] And when he became capable of
working with him, Ibrahim said, “O my son, I dreamt that I am sacrificing you -
therefore now consider what is your opinion”; he said, “O my father! Do what
you are commanded! Allah willing, you will soon find me patiently enduring!”
[Saffat
37:103] Then (remember) when they both submitted to Allah’s command, and
Ibrahim lay his son facing downwards. (The knife did not hurt Ismail)
[Saffat
37:104] And We called out to him, “O Ibrahim!”
[Saffat
37:105] “You have indeed made the dream come true”; and this is how We reward
the virtuous.
[Saffat
37:106] Indeed this was a clear test.
[Saffat
37:107] And We rescued him in exchange of a great sacrifice.
(The
sacrifice of Ibrahim and Ismail – peace be upon them – is commemorated every
year on 10,11 and 12 Zil Haj).
In
the lunar Islamic calendar, Eid al-Adha falls on the 10th day of Zul-Hijjah and
lasts for four days. In the international Gregorian calendar, the dates vary
from year to year, drifting approximately 11 days earlier each year. Eid
al-Adha is the latter of the two Eid holidays, the former being Eid al-Fitr.
Like Eid al-Fitr, Eid al-Adha begins with a Sunnah prayer of two rakats
followed by a sermon (khuṭbah).
Eid al-Adha celebrations start after the descent of the
Hajj from Mount Arafat, a hill east of Mecca. Ritual observance
of the holiday lasts until sunset of the 12th day of Dhu al-Hijjah. Eid
sacrifice may take place until sunset on the 13th day of Dhu al-Hijjah. The
days of Eid have been singled out in the Hadith as "days of
remembrance". The days of Tashriq are from the Fajr prayer of the 9th of
Dhul Hijjah up to the Asr prayer of the 13th of Dhul Hijjah (5 days and 4
nights). This equals 23 prayers: 5 on the 9th-12th, which equal 20, and 3 on
the 13th.
Sources:
- www.alahazrat.net/alquran
- www.en.wikipedia.org/
Hajj-Pilgrimage
Hajj (pilgrimage)
The Hajj is an Islamic pilgrimage to
Mecca and the largest gathering of Muslim people in the world every year. It is
one of the five pillars of Islam, and a religious duty which must be carried
out by every able-bodied Muslim who can afford to do so at least once in his or
her lifetime. The Hajj is a demonstration of the solidarity of the Muslim
people, and their submission to Allah. The word Hajj means “to intend a journey”.
The pilgrimage occurs from the 8th to 12th Zul-Hijjah, the 12th and last month
of the Islamic calendar. Because the Islamic calendar is a lunar calendar,
eleven days shorter than the Gregorian calendar used in the Western world, the
Gregorian date of the Hajj changes from year to year. The Hajj is associated
with the life of the Prophet Muhammad from the 7th century, but the ritual of
pilgrimage to Mecca is considered by Muslims to stretch back thousands of years
to the time of Abraham (Ibrahim). Pilgrims join processions of hundreds of
thousands of people, who simultaneously converge on Mecca for the week of the
Hajj, and perform a series of rituals: Each person walks counter-clockwise
seven times around the Ka'aba, the cube-shaped building which acts as the
Muslim direction of prayer, runs back and forth between the hills of Al-Safa
and Al-Marwah, drinks from the Zamzam Well, goes to the plains of Mount Arafat
to stand in vigil, and throws stones in a ritual Stoning of the Devil. The
pilgrims then shave their heads, perform a ritual of animal sacrifice, and
celebrate the three day global festival of Eid al-Adha.
Source:
www.en.wikipedia.org/
اتوار، 13 اکتوبر، 2013
اہلسنّت وجماعت کون ہے؟ از: محمداحمد ترازی ۔ کراچی 02
برصغیر پاک و ہند میں السواداعظم اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی جسے مخالفین آج بریلوی کہتے ہیں، وہ قدیم ترین جماعت ہے جس کی ابتداءاسلام کی آمد سے منسلک ہے ،شیعیت کے بعد وہابیت سمیت باقی تمام مکتبہ فکر اِس برعظیم میں بعد کی پیداوار ہیں،جبکہ مولانا احمد رضا خاں کا تعلق اُس مکتبہ فکر سے ہے جو شدت کے ساتھ قدیم سنی حنفی عقائدپر گامزن رہا،حیرت کی بات یہ ہے کہ اِس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود مخالفین مولانا احمد رضا خاں پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے ایک نئے مسلک کی بنیاد ڈالی ،جبکہ احسان الٰہی ظہیر کی کتاب کے صاحب مقدمہ شیخ عطیہ محمد سالم تسلیم کرتے ہیں کہ ”دنیا کے ہر خطے میں پائے جانے والے تمام قادری،سہروردی،نقشبندی ،چشتی،رفاعی وہی عقائد رکھتے ہیں جو بریلویوں کے ہیں“(18) یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کے سب خطوں میں رہنے والے تمام قادریوں،سہروردیوں،نقشبندیوں ،چشتییوں اوررفاعیوں کے اگر وہی عقائد ہیں جو بریلویوں کے ہیں تو کیااِن سب کو مخالفین کے الزام کے مطابق بریلی کے نئے مسلک نے متاثر کیا اور کیا اِن سب نے بریلوی تعلیمات سے متاثر ہوکر اپنے عقائد و نظریات کو تبدیل کرلیا، یقیناعقل و شعورسے یہ تصور
محال ہے اورکوئی بھی ذی علم اِس بات کی تائید اس لیے نہیں کرسکتا کہ مولانا احمد رضا خاںنے برصغیر میں کس نئے مسلک کی بنیاد نہیں ڈالی بلکہ چودھویں صدی میں قدیم سنی حنفی عقائد کا دفاع کرتے ہوئے سواد اعظم اہل سنت وجماعت کے خلاف اٹھنے والے نت نئے خارجی فتنوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا، انہوں نے عظمت الوہیت، ناموس رسالت، مقام صحابہ و اہل بیت اور حرمت ولایت کا پہرا دیااور اپنی بے پایاں علمی و قلمی خدمات(جسے عرب و عجم کے علماءو ارباب علم ودانش نے بھی تسلیم کیا) کی وجہ سے اِس خطے میں وقت کے مجدد اوراہلسنّت وجماعت کا فخر وامتیاز قرار پائے۔
محال ہے اورکوئی بھی ذی علم اِس بات کی تائید اس لیے نہیں کرسکتا کہ مولانا احمد رضا خاںنے برصغیر میں کس نئے مسلک کی بنیاد نہیں ڈالی بلکہ چودھویں صدی میں قدیم سنی حنفی عقائد کا دفاع کرتے ہوئے سواد اعظم اہل سنت وجماعت کے خلاف اٹھنے والے نت نئے خارجی فتنوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا، انہوں نے عظمت الوہیت، ناموس رسالت، مقام صحابہ و اہل بیت اور حرمت ولایت کا پہرا دیااور اپنی بے پایاں علمی و قلمی خدمات(جسے عرب و عجم کے علماءو ارباب علم ودانش نے بھی تسلیم کیا) کی وجہ سے اِس خطے میں وقت کے مجدد اوراہلسنّت وجماعت کا فخر وامتیاز قرار پائے۔
سیدمحمدمدنی میاں کچھوچھوی فرماتے ہیں” فاضل بریلوی کسی نئے مذہب کے بانی نہ تھے ،از اوّل تا آخر مقلد رہے، اُن کی ہر تحریر کتاب و سنت اور اجماع و قیاس کی صحیح ترجمان رہی، نیز سلف صالحین و ائمہ مجتہدین کے ارشادات اور مسلک اسلام کوو اضح طور پر پیش کرتی رہی، وہ زندگی کے کسی گوشہ میں ایک پل کیلئے بھی ”سبیل مومنین صالحین“ سے نہیں ہٹے، اب اگر ایسے کے ارشادات حقانیہ اور توضیحات و تشریحات پر اعتماد کرنے والوں ،انہیں سلف صالحین کی روش کے مطابق یقین کرنے والوں کو ”بریلوی“ کہہ دیا گیا تو کیا ”بریلویت “و” سنیّت“ کو بالکل مترادف المعنی نہیں قرار دیا گیا۔؟ اور بریلویت کے وجود کا آغاز فاضل بریلوی کے وجود سے پہلے ہی تسلیم نہیں کرلیاگیا ۔(19) حقیقت واقعہ یہ ہے کہ برصغیر میں نئے مسلک و عقیدے کی بنیاد ڈالنے والے دراصل وہی لوگ ہیںجو آج ”اہلسنّت وجماعت “ کا نام اختیار کرکے اپنی وہابی نسبت اور حوالوں کو چھپانا چاہتے ہیں اور بڑی چابک دستی سے اپنے حکیم الامت اشرف علی تھانوی کا دکھایا ہوا تقیہ کا راستہ کہ”اپنی جماعت کی مصلحت کیلئے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل بیان کیے جائیں تاکہ اپنے مجمع پر جو وہابیت کا شبہ ہے ،وہ دور ہو اور موقع بھی اچھا ہے کیونکہ اِس وقت مختلف طبقات کے لوگ موجود ہیں۔ “(20)اختیار کرکے حنفیت واہلسنّت ہونے کا دھوکہ دیتے ہیں،یہ وہی حکم الامت ہیں جو کہتے ہیں ”اگر میرے پاس دس ہزار روپیہ ہو تو سب کی تنخواہ کردوں ،پھر لوگ خود ہی وہابی بن جائیں“(21)جواپنے عقیدے کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں”بھائی یہاں تو وہابی رہتے ہیں، یہاں نیاز فاتحہ کیلئے کچھ مت لایا کرو۔“(22
اَمرواقعہ یہ ہے کہ دنیا میں موجود چاروں فقہ” حنفی،شافعی،مالکی اور حنبلی“ کے ماننے والے لوگ جو کہ ہر خطے میں پائے جاتے ہیں،اہلسنّت وجماعت ہیں،اِن کے علاوہ باقی تمام مکتبہ فکر وہابی،اہلحدیث، اہل قرآن اور چکڑالوی وغیرہ خارج اہلسنّت شمار ہوتے ہیں، رہی دیوبندیت تو بقول علامہ اقبال وہ وہابیت کی ہی ایک شکل ہے جس نے بڑی چالاکی سے تقلید حنفی کا لبادہ اوڑھ کر سیدھے سادھے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا وطیرہ اختیار کرلیا ہے، قارئین محترم ! اِس مقام پر بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ وہابی وخارجی عقائد کے رکھنے والے لوگ کون ہیں،کب وجود میں آئے اور اِن کے عزائم کیا ہیں،اب دیکھتے ہیں اہلسنّت وجماعت کی تعریف و پہچان کیا ہے، دیوبندی مورخ سید سلیمان ندوی اصل اہلسنّت وجماعت کی تعریف وپہچان بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں ” جن کے اعتقادات،اعمال اور مسائل کا محور پیغمبر علیہ السلام کی سنت ِصحیح اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اثرِمبارک ہے۔“ (23
رسول اللہ نے فرمایایہ”وہ راستہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔“حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا،”اللہ میری اُمت کو کبھی ضلالت پر جمع نہیں کرے گااور آپ نے فرمایا،نظم اجتماعی پر اللہ کا ہاتھ ہے،تو جو اُس سے الگ ہوا،شیاطین اُسے اچک لے جائیں گے،چنانچہ جب تم (اُس میں)اختلاف پاؤ تو (اُس کے ساتھ وابستہ رہنے کیلئے)سواد اعظم کی رائے کی پیروی کرو،
اِس لیے کہ جو الجماعۃ سے الگ ہوا،وہ دوزخ میں پڑا۔(مستدرک،کتاب العلم)،حضرت انس سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا”بیشک میری اُمت گمراہی پر متفق نہیں ہوگی،پس جب تم دیکھو کہ لوگ اختلاف میں مبتلا ہیں تو سواد اعظم (بڑی جماعت)کی پیروی کرو،(ابن ماجہ ،کتاب الفتن ، باب السواد الاعظم
یعنی اہلسنّت و جماعت وہی ہے جو رسول اﷲکی سنت پر عمل پیرا رہے، بدمذہبوں کی گمراہیوں سے کنارہ کش رہے اورجماعت سے وابستہ رہے اور جماعت سے مراد صحابہ کرام ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا ”ماانا علیہ واصحابی علیہ الیوم“۔ مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے خلیفہ مولانا نعیم الدین مرادآبادی اِس حدیث مبارکہ کی روشنی میں اپنے عہد کے حالات کے پیش نظر اہلسنّت وجماعت کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں ”سنّی وہ ہے جو ماانا علیہ واصحابی کا مصداق ہو،یہ وہ لوگ ہیں جو خلفائے راشدین،ائمہ دین،مسلم مشائخ طریقت اور متاخر علمائے کرام میں سے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی،ملک العلما حضرت بحرالعلوم فرنگی محلی،حضرت مولانا فضل حق خیرآبادی، حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی، حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین رامپوری اور حضرت مفتی شاہ احمد رضا خاں بریلوی کے مسلک پر ہوں“(24)اِن حوالوں سے ہمارا مدعا پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ دیوبندی اور وہابی تحریکوں سے قبل ہندوستانی علماءومشائخ اور مسلمان اپنے قدیم دینی مذہب اور متوارث روایات پر پوری سختی کے ساتھ کار بندرہے ، مولانا احمد رضا فاضل بریلوی کا تعلق بھی اِسی طبقے سے ہے۔
اِس وقت برصغیر میں امام احمد رضا خاں اور اُن کے مو ¿یدہزاروں علماءومشائخ کے عقائد ونظریات ہی اصل اہلسنّت وجماعت کے عقائد و نظریات ہیں،یہی جماعت سواد اعظم بھی ہے اور ارشاد رسول ”ماانا علیہ واصحابی“کی حقیقی مصداق بھی ہے،یہی وہ جماعت ہے جو ہردور میں راہ حق پر گامزن رہی اورآج بھی مسلمانوں کی عام اکثریت اِسی روش پر قائم ہے
اہلسنّت وجماعت کون ہے؟ از: محمداحمد ترازی . کراچی 01
انجمن سپاہ صحابہ نے پاکستان میں دیوبندی فرقے کے نام پر تشدد اور دہشت گردی کی بنیاد رکھنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا،انجمن سپاہ صحابہ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے درمیان جنگ وجدل کا یہ سلسلہ جلد ہی ایک مہم میں تبدیل ہوگیا جو آڈیو کیسٹس کے ذریعے چلائی جا رہی تھی، مناظرے اور مباہلے کے چیلنجوں پر مبنی لفظوں کی یہ جنگ اُس وقت خونی معرکے کی بنیاد بن گئی،جب 1988ءمیں افغانستان سے ملحق قبائلی علاقے پارہ چنار میں تحریک جعفریہ پاکستان کے ر ہنماءعلامہ عارف حسین الحسینی کو قتل کر دیا گیا، جس کے ڈیڑھ سال بعد 1990 ءمیں سپاہ صحابہ کے رہنماءمولانا حق نواز جھنگوی بھی بم حملے میں مارے گئے ،خیال رہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ نے ابتداءہی سے اہلسنّت کا نام اپنے حق میں استعمال کرکے” شیعہ وہابی” تنازعے کو” شیعہ سنی رنگ“ دینے کی کوشش کی، حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کی لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ یہ سلسلہ کبھی اچھے تو کبھی برے تعلقات کے ساتھ 90 کی دہائی تک جاری رہا،1991ءمیں متوقع پابندی کے پیش نظر انجمن سپاہ صحابہ نے اپنا نام ”سپاہ صحابہ پاکستان “رکھ لیا،1993ءمیں متعدد سنگین مقدمات میں ملوث ہونے کی بناءپر یہ” لشکر جھنگوی“ میں تبدیل ہوگئی،یوں یہ تنظیم مختلف ناموں کے ساتھ 2002ءتک کام کرتی رہی۔
لیکن 12 جنوری 2002ءکو جنرل پرویز مشرف نے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث قرار دیکر جب تینوں جماعتوں پر پابندی عائد کر دی،تو اِس تنظیم نے ”ملت اسلامیہ“ کے نام سے کام شروع کردیا،چنانچہ16 نومبر 2003ءکو جب حکومت نے اِسے بھی کالعدم قرار دے دیا تو یہ تنظیم ”انجمن نوجوانان اہلسنّت“ کے نام سے سامنے آگئی،مگر 2010ءمیں اِسے بھی کالعدم قرار دے دیا گیا،آجکل یہ تنظیم ”اہل سنت و الجماعت پاکستان “کے نام سے کام کر رہی ہے،دراصل یہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کا وہ نیا نام ہے، جس کے ذریعے یہ ایک طرف حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہی ہے تو دوسری جانب اِس نام کا سہارا لے کریہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ ملک کی غالب اکثریت اہلسنّت وجماعت سنی حنفی کی نمائندہ وترجمان ہے،طرفہ تماشا یہ کہ ہمارا الیکڑونک اور پرنٹ میڈیا بھی اِس تنظیم کو بار بار اہلسنّت وجماعت کانام دے کر اِس غلط فہمی کو مزید تقویت پہنچارہا ہے اور ایک ایسی متشدد تنظیم جس کا اکثریتی طبقے سے کوئی تعلق نہیں، کو اُن کا نمائندہ قرار دے رہا ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ اہلسنّت وجماعت نہیں ہے، جسے عام طور پر اہلسنّت وجماعت سنی حنفی (بریلوی) کہا اور سمجھا جاتا ہے اورحقیقتاً اِس تنظیم کا اہلسنّت وجماعت سنی حنفی سے کوئی تعلق نہیں ہے،جس کا تاریخی جائزہ ہم اگلے حصے میں پیش کریں گے۔
جمعرات، 10 اکتوبر، 2013
اہلسنت و جماعت سنی بریلوی تحریک
بریلوی کون ہیں؟
بریلوی نیا فرقہ نہیں اہل سنت وجماعت ہیں
بریلوی ہی اہل سنت ہیں
سانچہ:بریلوی تحریک
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)