پیر، 15 جولائی، 2013

صیام کی لغوی تحقیق از قلم مفتی اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد ارشد القادری


صیام کی لغوی تحقیق

عربی بڑی فصیح و بلیغ زبان ہے، جتنی وسعت اس زبان میں ہے، ایسی فصاحت کسی دوسری زبان میں نہیں ہے، اس کا دامن بہت ہی وسیع ہے۔ ایک ایک لفظ اپنے اندر کئی کئی معانی رکھتا ہے، اس کی اس گنجائش کے باعث اس کو تمام زبانوں کی سردار کہا جاتا ہے۔ لغاتِ عرب میں، صوم، صیام اور صائم کے معانی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے۔ عرب، ٹھہرے ہوئے پانی پر لفظِ صائم بولتے تھے وہ کہتے تھے۔
مَاءٌ صَاءِمٌ (المنجد ص ۵۸۳)
ٹھہرا ہوا پانی، رکا ہوا پانی
جب پہاڑوں پر بارش ہوتی تو پانی بڑی تیزی کے ساتھ پہاڑوں کی بلندی سے نیچے اترتا، اس کی تیزی اور بہاؤ اتنا تُند ہوتا کہ جو کچھ سامنے آتا، اسے بہا کر ساتھ لے جاتا، پھر جب وہ پانی بلندی سے نشیب میں اتر آتا تو ایک مقام پر آ کر ٹھہر جاتا، جب اس پانی میں بہاؤ، کٹاؤ اور غرقابی کا ملکہ باقی نہ رہتا۔ اس میں تباہی کی صفت باقی نہ رہتی، اس کی سرکشی معدوم ہو جاتی، اس میں برباد کرنے کی صلاحیت باقی نہ رہتی تو ایسے پانی کو عرب
مَاءٌ صَاءِمٌ کہتے تھے۔
اس کا مطلب ہوتا تھا یہ ایسا پانی ہے جو صائم ہو گیا ہے۔ اردو زبان میں صائم کو روز دار کہتے ہیں، یہ اسم فاعل ہے۔ لہٰذا روزہ دار کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا شخص جس کی سرکشی معدوم ہو گئی ہو، جس کی بغاوت محو ہو گئی ہو، جس کی عداوت کا قلع قمع ہو گیا ہو۔ گویا صائم ایسے شخص کو کہتے ہیں جو ہر طرح کی بغاوت و سرکشی کے جذبات سے بری ہو اور اس کی طبیعت میں صرف اور صرف امن ہو، سلامتی ہو، حق شناسی ہو اور حق پرستی ہو۔ صائم یعنی روزہ دار ایسے آدمی کو کہتے ہیں جو سراپا، شرافت ہو، جو سراپا دیانت ہو، جو سراپا عدالت ہو، جو سراپا محبت ہو، روزہ بندۂ مؤمن میں وہ جوہر نایاب پیدا کرتا ہے، جو عام حالات میں پیدا نہیں ہوتا۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو مسلمانوں میں جذبات طہارت ابھارتا ہے، جذباتِ صدق کو عروج پر لاتا ہے اور جذباتِ تقویٰ کو شباب فراہم کرتا ہے، جس طرح عرب ٹھہرے ہوئے پانی پر ’’مَاءٌ صَاءِمٌ‘‘ کے الفاظ بولتے تھے اسی طرح وہ کُنڈ چھُری پر صائمہ کے لفظ بولتے تھے اور اس چھری پر صائمہ کا اطلاق کرتے تھے وہ کہتے تھے:
الصَّاءِمَۃُ مِنَ السَّکَاکِیْنَ (المنجد ۵۸۳)
یہ ایک ایسی چھری ہے جو کُند ہو گئی ہے۔

حُسنِ عمل کی جیتی جاگتی تصویر

مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ ہے تو چھری مگر اب اس میں کاٹنے، چیرنے، پھاڑنے اور مجروح کرنے کا ملکہ باقی نہیں رہا گویا اب یہ چھری صرف نام کی ہے ورنہ اس میں بغاوت، سرکشی، چیر پھاڑ، قتل و غارت کا ملکہ ہرگز نہیں رہا۔ اسی طرح صائمہ ایسی عورت کو کہتے ہیں جو بے ضرر ہو گئی ہو، جس میں سازش، سرکشی، بغاوت، الزام تراشی، بے راہ روی اور ایسے تمام جذبات کا خاتمہ ہو گیا ہو، جو کسی فرد، خاندان یا قوم کی تباہی کا باعث بن سکیں۔ اب معنیٰ اور بھی بیّن ہو کر سامنے آ گیا کہ روزہ دار ایسی عورت کو کہا جائے گا، جو سراپا پرہیزگار ہو گئی ہو، جو سراپا پیغام امن بن گئی ہو، جس کی ایک ایک ادا موافقِ قرآن و حدیث ہو گئی ہو۔
یہی وہ کمال ہے جو اسلام اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے، یہی روزہ کی غایت ہے۔ اسی کو روزہ کی حقیقت سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اسی انداز شرافت کا نام تقویٰ ہے۔ اسی کو پرہیزگاری کہا جاتا ہے۔ ایسی ہی عورتوں کو متقّیہ کے اعزاز و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔
اصلاً، اسلام اپنے ماننے والوں کو ایسا متقی بنانا چاہتا ہے کہ ان کی ایک ایک ادا انسانیت کی فلاح و بہبود پر دلالت کرے، ان کا عمل حُسنِ عمل کی جیتی جاگتی تصویر ہو۔ ان کی گفتار، ہمدردی، محبت، شفقت اور احترامِ انسانیت کے جذبات سے پُر ہو۔
اگر ایسے جذبات کسی مرد و عورت میں پیدا ہو جاتے ہیں تو اس کا صاف مطلب ہے۔ اس روزہ دار کے روزے اپنا اثر حقیقی چھوڑ گئے اور صائم و صائمہ کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مل گئی اور جنت الفردوس کے حق دار بن گئے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ روزہ صرف تم لوگوں پر ہی فرض نہیں ہوا، بلکہ وہ لوگ جو تم سے پہلے اس جہاں میں آئے تھے ان پر بھی روزہ فرض رہا۔ اس بات کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ کہیں اسلام کے ماننے والوں کے دل میں یہ خیال نہ آ جائے کہ شاید ہمیں ہی اس طرح پابند کیا گیا ہے کہ نظام اوقات ہی تبدیل کر دیئے، فلاں وقت سے فلاں وقت تک نہ کھانا ہے نہ پینا، بلکہ تعلقاتِ ازدواجی بھی ممنوع قرار دے دیئے گئے کہ حالت روزہ میں کھانا پینا بھی منع اور تعلقات ازدواجی پر بھی پابندی لگا دی گئی۔
اس خدشہ کو زائل کرنے کے لئے فرمایا گیا کہ روزہ ان لوگوں پر بھی فرض تھا جو تم لوگوں سے پہلے اسی جہانِ رنگ و بُو میں آئے تھے اور اپنا وقت گذار کر یہاں سے چلے گئے۔


جمعہ، 12 جولائی، 2013

کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے کارندے کے انکشافات

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) سی آئی اے کے ہاتھوں گرفتار کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے کارندے نے انکشافات کئے ہیں، گرفتار دہشتگرد کاظم پولیس ملازم ہے گرفتار دہشتگرد کاظم نے ایم کیو ایم کے ایم پی اے کو نشانہ بنایا اور بتایا فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے فی کس 5 ہزار روپے ملتے تھے۔

منگل، 9 جولائی، 2013

فضائل و مسائل:رمضان، روزہ، اعتکاف از قلم مفتی اعظم پاکستان

کتاب: فضائل و مسائل:رمضان، روزہ، اعتکاف
جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
کتاب کا نمونہ پڑھیں
خالق کائنات کا عطا کردہ قانون اسلام کا ایک ایک کلیّہ قاعدہ، فطرت کے عین مطابق ہے، جو قانون بندے بنائیں گے، ان میں نقائص ہوں گے اور جو قانون خالقِ کائنات عطا کرے وہ یقیناً عیب سے پاک اور منزّہ ہو گا۔ اسلام نے جہاں اور احکام دیئے وہاں اپنے ماننے والوں کو ماہِ رمضان میں روزے رکھنے کا حکم بھی صادر فرمایا، میں اس نقطۂ نظر کے حوالے سے رمضان و روزہ کی فضیلت پر بات کروں گا۔
قرآن حکیم میں ارشاد رب العالمین ہے:
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے۔ جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔ یہ آیت کریمہ فرضیت روزہ میں نص ہے۔ روزہ ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اسلام نے اپنے ماننے والوں کو روزہ کی نعمت عطا فرما کر ان کی صحت و تندرستی کا انتظام کیا ہے۔ اہل ایمان پر چونکہ روزے فرض ہیں لہٰذا روزے رکھنے چاہئیں، ان کی برکت سے صحت بحال ہو گی اور بیماریاں دور بھاگیں گی، اللہ تعالیٰ، ماہِ رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کی فضیلت اہل ایمان پر بیّن کرنے کی سعادت نصیب ہو، امّت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوٰۃ و السلام کی سچی محبت و اطاعت کی توفیق دے۔ اس آیت مقّدسہ میں، جن امور کا ذکر کیا گیا ہے ان کی ترتیب یوں ہے:
۱۔ تخاطب صرف اہل ایمان کو کیا گیا۔
۲۔ روزے کی فرضیت کا حکم سنایا گیا۔
۳۔ یہ بھی بتایا گیا کہ روزے تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض تھے۔
۴۔ روزہ کی فرضیت کی غایت بیان فرمائی گئی۔

عید کا چاند

صدیوں سے مسلم دنیا میں(حدیث کی تعلیمات کے مطابق) عید کا چاند علاقے کے حساب سے دیکھا جاتا رہا اور اسی لحاظ سے عید منائی جاتی رہی۔ مگر اب ایک نئی بدعت کا اضافہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ اپنے علاقے کے چاند واند کو بھول جاؤ اور سعودیہ کے چاند کے حساب سے روزے رکھو اور عید مناؤ۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کو ہر طریقے سے بدنام کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ اور خاص طور پر قبائلی علاقے والے ملا حضرات تو خاص طور پر اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائیں۔ مگر اب یہ بیماری بقیہ ملک میں بھی پھیل گئی ہے اور پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کو اس حد تک بدنام کر دیا جائے کہ لوگ اس سے بیزار ہو کر سعودیہ کے ساتھ عید منانا شروع کر دیں۔ بہت سے لوگوں کو شاید معلوم نہيں کہ مرکزی رويتِ ہلال کميٹی کوسپارکو اور نيوی کے نيويگيشن ونگ کی مکمل معاونت حاصل ہوتی ہےلیکن پچھلے پندرہ سال ميں کبھی ايسا نہيں ہوا کہ اتفاقاً ہی سہی مگر کبھی مسجد قاسم علی خان (صوبہ سرحد) کا چاند سعوديہ کی بجائے رويتِ ہلال کميٹی کے ساتھ نکل آيا ہو۔ لہذا اصل مسئلہ سب کےسامنے ہے۔ درحقیقت یہ علم فلکیات کا معاملہ ہے۔ اب سورج پاکستان میں سعودیہ سے تھوڑا وقت پہلے طلوع ہوجاتا ہے۔ اور سعودیہ میں فجر کی نماز پاکستان کے تقریباً دو گھنٹے بعد ادا کی جاتی ہے۔ ظالم سعودی قابض حکومت کی پوجا کرنے والے سعودیہ کے ٹائم کے مطابق نماز پڑھا کریں۔ ان عقل کے اندھوں کو یہ بات کون سمجھائے کہ جب سورج کا یہ فرق تسلیم ہے تو چاند کے بارے میں ماہرین کی رائے سے اندھی تقلید بہتر نہیں ہے۔
وکیپیڈیا کے ایک صفحہ سے چند سطریں کاپی کی ہیں۔ عبدالرزاق قادری

جمعہ، 5 جولائی، 2013

رمضان ، مہنگائی اور صدقات

افکارِمسلم از قلم عبدالرزاق قادری
پچھلے سال سن دو ہزار بارہ میں لکھی گئی ایک تحریر
میرا ایک دوست کہتا ہے کہ اس استحصالی معاشرے میں غریب پر دو طرح کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
 ۱)غریب جو ہے وہ امیر کا منہ تکنا بند کر دے۔
 ۲) غریب خو د بھی دوسرے غر یب کا استحصال نہ کرے۔
 رمضان شریف کے آنے سے پہلے ہی روز مرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے بھی رمضان بازاروں کا کاروبار شروع کر دیا اور اربوں روپے کی سبسڈی میں سے اپنا حصہ لینا تو بطور عیدی بھی حق بنتا ہے ۔ پہلے سے موجود نظام کو درست کرنے کی یا تو اہلیت نہیں ہے یا پھر اپنی جیب گرم رکھنے کے لیے نئے منصوبہ جات پر عمل درآمد کرنا ایک سیا ستدان کی مجبوری ہے کیونکہ پالیسیاں بنانے کی ذمہ داری تو بیورو کریٹ مافیا کی ہے ۔ وہ جو بھی لکھ کر دے دیں گے وزیر اعلیٰ کے نام سے اخبار کے پہلے صفحے پر بطور کارنامہ چھپ جائے گا۔ ہم نے آج تک ایک بھی دانش سکول نہیں دیکھا ۔کوئی ایک آدمی ایسا نہیں دیکھا جس نے کہا ہو کہ آشیانہ ہاؤ سنگ سوسائٹی میں اس کو مفت گھر مل گیا ہے ۔ دوسری طرف کو ئی ایک ایسا نہیں دیکھا جو یہ کہے کہ مجھے پچھلی بار بانٹے گئے سر کاری ٹریکٹروں میں سے ایک مفت ٹریکٹر مل گیا ہے ۔ یا کوئی ایسا جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہوا ہو ۔ یا تو ہم اندھے ہیں یا اس معاشرے میں رہتے ہی نہیں یا پھر وہ لو گ جن کو ان سہولیات سے فائدہ ہو تا ہے وہ مافو ق الفطر ت مخلوق ہیں یا پھر وہ اتنے اعلیٰ درجے کے گھرانے کے لو گ ہوتے ہیں کہ ان تک پہنچ پانے کی ہم استطاعت ہی نہیں رکھتے ۔ اربوں روپے کے پر اجیکٹس میں سے آدھے سے زیاد ہ اشتہار بازی کی نذر ہو جاتے ہیں اور باقی ماندہ انہی بیور و کریٹس جنہوں نے منصوبہ تشکیل دیا ہو تا ہے اور سیاست دانوں کا مخصو ص حصہ مخصوص حربوں سے اپنی جیب میں بجٹ بنتے ہیں ۔ عوامی جلسوں میں دعوے کے ساتھ تقاریر ہوتی ہیں۔ محروم تماشا عوام تالیاں بجاتے ہیں ۔ قوم مایوس ہے ۔ قوم افسردہ ہے ۔قوم کا قائد مفقو د ہے ۔قوم کی داد رسی التوا کا شکار ہے ، عدل و انصاف عنقا ہے ۔اشیائے خور د و نوش دو گنا سے زائد مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں ۔ بڑے بڑے سرمایہ دار رمضان کے مقدس مہینے میں اربوں روپے لو ٹ کر ایک ، ڈیڑ ھ لا کھ کا عطیہ ان جعلی خیراتی اور فلاحی اداروں کو دیتے ہیں جن کے نام رمضان المبارک میں منظر عام پر آتے ہیں۔ ان نام نہاد اداروں میں سے پانچ فیصد بھی آپ کو حقیقی زندگی میں اپنا کردار ادا کرتے نظر نہیں آتے پھر ان کو ترجیح دلوانے والے ہمارے ملک کے نامور کرکٹرز ، اداکار ، گلو کار ، اینکر پر سن اور کالم نگار ہوتے ہیں۔ ان کی اپیل پر عوام کے خون سے نچوڑی ہوئی خیرات اہل ثروت ان اداروں اور تنظیموں کے حوالے کر کے ان کا نام اگلے سال تک کے لیے بھول جاتے ہیں اور وہ ادارے بھی اپنا نام بھول جاتے ہیں ۔ ایک دوسرا رجحان افطار پارٹی کا ہے ۔ روزے کے بغیر اپنے عزیز و اقارب کی افطاری اس امید پر کرائی جاتی ہے کہ وہ بھی ہمیں اس کا صحیح نعم البدل عطا کریں۔

جمعرات، 4 جولائی، 2013

ایک سال قبل میری ڈائری کا ایک ورق

ایک سال قبل میری ڈائری کا ایک ورق
 4 جولائی 2012 
آج صبح پونے چار بجے جاگ کر تیار ہوا۔ کھانے کا ٹفن اٹھایا۔ بھاٹی سے وین پر بیٹھ کر کلمہ چوک۔ وہاں سے چنگ چی پر گارڈن ٹاؤن برکت مارکیٹ اپنے دفتر۔ 5:03 صبح کو دفتر میں حاضر ہوا۔ کینیڈا والے طالب علم غیر حاضر تھے۔ ان کی والدہ کے پیغامات بذریعہ موبائل فون موصول ہوئے کہ بچے آج شاید نہ ہی پڑھیں۔ اتنی جلدی جاگ کر جانا اکارت ہوا۔ کیونکہ اس کے بعد 11:30 پر مازن خرم کی کلاس تھی۔ یوٹیوب پر اپنی کل والی مازن کی کلاس کی وڈیو چڑھائی۔ اپنے بلاگ میں سر نعیم قیصر کی ایک تازہ غزل پوسٹ کی۔ مزید بلاگنگ کر کے وہی روز مرہ کے کام۔ ناشتہ۔ کلاسز۔ شام 5:30 بجے واپسی۔ رول نمبر سلپ لینے جامعہ عنایت صدیق گیا۔ استاد صدیق صاحب سے لمبی ملاقات کے بعد گھر واپسی۔ کھانا۔ اب نیند۔ 
عبدالرزاق

جمعرات، 27 جون، 2013

سدا ای وسدا رہنا ڈیرہ داتا دا

از قلم عبدالرزاق قادری
جیسا کہ میری پچھلی تحریروں سے ظاہر ہے کہ میں 12 اگست سن 2000 عیسوی ہفتے کی شام ساڑھے نو بجے لاہور آیا۔ ریلوے سٹیشن سے تانگے پر  بیٹھ کر داتا دربار تک آگئے۔ یہ میرا ریلوے کا  اور  فیصل آباد سےلاہور تک کا پہلا سفر تھا۔ مجھے راتوں رات ہی دربار دیکھ لینے کا شوق تھا لیکن اگلے دن یہ سعادت نصیب ہوئی۔
ان تیرہ سالوں میں دوبار درندوں نے اس مقدس درگاہ کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کی۔ پہلی بار پرویز مشرف کے دور میں 2001 میں ایک پولیس افسر کلب عباس کی پولیس جوتوں سمیت مسجد اور دربار کے احاطے میں گھس گئی اور ایک سیمینار کے حاضرین پر دھاوا بولنے کے علاوہ دربار کے احاطے میں قرآن پڑھتے لوگوں پر بھی لاٹھی چارج کیا۔ اور دوسری بار سن 2010 میں بد بختوں نے داتا دربار پر بم دھماکے کر دئیے۔ یہ جولائی کی یکم تاریخ تھی۔ پھر یہ جولائی پورے ملک میں امن سے خالی گزرا۔ اس انتہا کی دہشت گردی اور سفاکی کا مظاہرہ کرنے والوں کے ماسٹر مائنڈ  ٹولے کے جذبات اور اقدامات چڑھے سورج کی طرح انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ ان کی وڈیوز دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ جہنمی ٹولہ جو یہودی لابی کی "ایڈ" پر پلتا ہے کیا کیا ارادے رکھتا ہے۔ ان سفاکانہ دھماکوں کو تین سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اور کروڑوں عقیدت مند آج تک عدل کی زنجیر کا منہ تاک رہے ہیں۔ مجرموں کا گرفتار نہ ہونا حکومتی رٹ ختم ہوجانے کے مترادف ہے۔ آنے والے کل کا مؤرخ کیا لکھے گا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکت میں اسلام  کے مراکز اور درگاہیں تک محفوظ نہ تھیں۔ اور ان کی حرمت کے دشمن کھلے عام دندناتے پھرتے تھے؟ اس بات سے سب آگاہ ہیں کہ داتا دربار کی حرمت کے دشمن وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو وہاں حاضری دینے والے مسلمانوں کو مشرک کہتے ہین۔ تاہم، حکومتی ادارے ان لوگوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔ نجانے ادارے کسی خوف میں ہیں یا ان کے اپنے کچھ خاص مقاصد/تعلقات ان دہشت گرد گروہوں سے ہیں۔ بہرحال سفاکی اور بزدلی ایک ہی برائی کے دو نام ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے سفاک بزدلوں اور ان کے پشت پناہوں کو دردناک عذاب سے ہمکنا کرے گا کیونکہ ان درندوں  نے اللہ کے ولی سے دشمنی مول لی ہے اور حدیث پاک کے مطابق اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے۔ میں نے ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ ایک مغل بادشاہ نے وصیت کی تھی کہ اسےداتا دربار کی سیڑھیو ں میں دفن کیا جائے۔ اس دور میں وہ سیڑھیاں مشرقی جانب ہوتی تھیں۔  اس تحریر کے مطابق جہاں چند سال پہلے تک چراغ رکھے جاتے تھے ان سے پہلے یہ سیڑھیاں تھیں۔ بعد کی توسیعات نے نقشے میں تبدیلیاں وضع کیں۔ اگر آپ داتا دربار کا بغور دورہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ بہت سے بادشاہوں اور امراء نے یہاں سلام کیا اور اس درگاہ کی تعمیر و توسیع میں اپنا حصہ ڈالا۔ کہیں آپ کو گورنر اختر حسین کا نام نظر آئے گا تو کہیں ذوالفقار علی بھٹو کا۔ کہیں ضیاءالحق کا نام تو کہیں میاں محمد نواز شریف کا نام نظر آئے گا۔  کہیں اسحاق ڈار کا نام تو کہیں مولوی فیروز دین(فیروز سنز والے) کا نام۔ ان تعمیرات کی تاریخ جاننا مقصود ہو تو ڈاکٹر غافر شہزاد کی کتب دیکھیں۔ ان معلومات پر کئی پی۔ایچ-ڈی کے مقالہ جات لکھے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بادشاہوں کے سر جھکے۔ یہاں اربوں لوگ حاضری دیتے رہے۔ ان کا دشمن بے نام ونشان اور ناکام رہا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام سربلند کر کے خلق کے دلوں میں ان کی عقیدت ڈال دی۔

جمعرات، 20 جون، 2013

Dedicated to "Mujahid Ali Khan" By Abdul Razzaq Qadri


ہمت کا نشان
مجاہد علی خان

عظمتوں کی داستان
مجاہد علی خان

ظلمتوں میں اذان
مجاہد علی خان

غازی پر مہربان
مجاہد علی خان

اللہ تیرا نگہبان
مجاہد علی خان

جان تجھ پر قربان
مجاہد علی خان

ایک اصلی سیاست دان
مجاہد علی خان

گستاخوں کے خلاف اعلان
مجاہد علی خان

Himmat ka Nishan
Mujahid Ali Khan

Azmaton ki Dastaan
Mujahid Ali Khan

Zulmaton me Azan
Mujahid Ali Khan

Ghazi par Maharban
Mujahid Ali Khan

Allah tera Negehbaan
Mujahid Ali Khan

Jaan tuj par Qurban
Mujahid Ali Khan

Ek Asli siasat.daan
Mujahid Ali Khan

Ghustakho k khilaf Elaan
Mujahid Ali Khan

 By Abdul Razzaq Qadri

بدھ، 12 جون، 2013

فجر کی نماز جامعہ اشرفیہ میں پڑھی اور جامعہ نعیمیہ میں بم دھماکہ کیا


از یاداشت :عبدالرزاق قادری
ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی کی شہاد ت سے ظالموں کی عدم گرفتاری تک:

جون 13،  2009  ہفتےکے دن میں نے میکلوڈ روڈ پر لاہور ہوٹل کے چوک میں یہ نعرہ لگتے سنا تھا ۔ "نعیمی تیرے خون سے انکلاب آ ئےگا"۔ 12 جون 2009 کو نماز جمعہ کے بعد ایک کمسن لڑکے نے جامعہ نعیمیہ میں ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی کے دفتر کے پاس خودکش دھماکہ کیا ۔ اور ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی شہادت کے بلند رتبہ پر سرفراز ہوئے۔  میں ان دنوں میکلوڈ روڈ پر نوبل لائن میں ملازم تھا۔  میں نے نماز جمعہ کے بعد ٹی وی پر یہ خبر سنی۔
                             14جون کو ہمارے جامعہ اسلامیہ رضویہ میں ماہانہ اجتما ع تھا ۔  میں نے سوچا تھا کہ اب ہمارا   وہ اجتماع بھی دہشت گردی کے خدشے کے پیش نطر کینسل ہو جاے گا۔  لیکن  علامہ محمدارشدالقادری کی اس دن والی تقریر سننے سے تعلق  رکھتی ہے۔اس دن میرے ساتھ حسنین شاہ بھی جامعہ اسلامیہ رضویہ میں گئے تھے۔  اور تقریر کا موضوع  "تھام لو دامن مصطفیٰ" تھا۔  اجتماع والے دن ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی کی شہادت پر  علامہ ارشد القادری نے فرمایا تھا۔
لوگو! جہاد اور فساد میں فرق ہوتا ہے ۔ صحابہ نے جو کیا وہ جہاد تھا۔ اور جو کچھ ایک عرصہ پہلے ہوتا رہا اور جوکچھ لوگ آج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ جہاد نہیں فساد ہے

                                           ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی ،مفتی محمد حسین نعیمی کے بیٹے تھے۔ جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور ان کی زیر نگرانی و سرپرستی میں چلتا رہا ۔ جامعہ نعیمیہ آج کل مفتی صاحب کے بیٹے علامہ راغب  حسین نعیمی کی سر پرستی میں اپنا علمی مشن جاری رکھے ہوئے  ہے۔ ہم روزانہ استحکام پاکستان، پاکستا ن بچاؤ کانفرسز کے اشتہارات دیکھتے تھے۔لیکن صد افسوس کہ اسی پاکستان میں آج تک ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی کے قاتلوں کو کٹہرے میں نہ لایا جا سکا۔
انھوں نے نعرہ لگایا تھا ۔
"گو امریکہ گو"
"گو طالبان گو"
تجھے سچ بلانے کا شوق تھا نا ؟
صلیب و  دار تیرے منتظر ہیں
                   میں نے اشفاق احمد کے پروگرام زاویہ کی ریکاڈنگ  کی کمپوزڈ کتاب جلد اول میں پڑھا تھا کہ اشفاق احمد ماڈل ٹاؤن پولیس سٹیشن  میں عید ملنے گئےتھے۔  مجھے بھی اشفاق احمد کی یاد تازہ کرنے کاموقعہ ملا۔ میں اس پچھلی عید پر پولیس سٹیشن جا کر سپاہیوں سے عید ملتا رہا تھا۔آپ کو ایک حیران کن خبر بتاتا ہوں۔ گامےشاہ  کے سامنےاردو بازار والی گلی میں تھانہ لوئر مال کے چھوٹے دروازےپر جو سپاہی عیدالفطر 1433 ہجری کے دن موجود تھا ۔  اس سپاہی کے بقول خودکش حملہ آور بچے نے ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی کو شہید کرنے سے قبل فجر کی نماز جامعہ اشرفیہ میں پڑھی تھی۔ اور وہ سپاہی خود  اس کیس کی انویسٹی گیشن ٹیم کا حصہ تھا
جامعہ اشرفیہ فیروزپور روڈ لاہور پر واقع ہے۔ کیا یہاں بھی لال مسجد کی طرز پر  "سائیلنس اپریشن" کی  ضرورت ہے؟
مفتی محمد حسین نعیمی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید، موجودہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے قریبی دوست تھے۔ مارچ 23، 2013 کو ان کے عرس  کی تقریب میں میاں صاحب  نےوہاں خطاب بھی کیا تھا۔ اب یہ ذمہ داری لازمی طور پر میاں صاحب پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اصل حقائق تک پہنچیں اوربچوں کی برین واشنگ کر کے اس طرح کے گھناؤنے کردار ادا کرنے والے عناصر کو قرار واقعی سزا دلوائیں




جمعہ، 7 جون، 2013

آن لائن قرآن مجید پڑھنا/پڑھانا


مسلمان والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کواچھا مسلمان بنانے کے لئے قرآن کی تلاوت، تجوید کے قوانین، تفسیر، اور حدیث  پاک کے مستند اسلامی علوم سے آراستہ کریں۔ غیر مسلم ریاستوں میں اس طرح  کے مذہبی علم کا اچھا ذریعہ تلاش کرنا مشکل ہے۔  لہذا، آن لائن قرآن مجید پڑھنا/پڑھانا اس کے لئے سب سے زیادہ آسان طریقہ بن گیا ہے۔  ای لرننگ ہولی قرآن اسلامی قواعد کے مطابق زندگی بسر کرنے کے آپ کے بچوں، بالغوں اور نئے مسلمانوں کے لئے بہتر  تعلیم کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اب کسی بھی ملک میں کسی بھی عمر کے طالب علم اپنے شیڈول اور ٹائم ٹیبل میں قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں۔ والدین اب اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں کو قرآن مجید سیکھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔
·       ہم نے مسلمان بھائیوں کی روز مرہ زندگی میں قرآن کی تلاوت کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اس کو ایک باقاعدہ عادت بنانے کے  لئے اورمسلمانوں کی حوصلہ افزائی  اور درس و تدریس کے لیے  ، قابل فخر بہترین حافظ قرآن اساتذہ کی خدمات حاصل کی ہیں۔
·       صرف یہی نہیں، ہمارے آن لائن قرآن ٹیوٹر صحیح طریقے سے قرآن مجید مہارت کے ساتھ طالب علموں کو سکھانے کےساتھ ساتھ، درست تلاوت مناسب تلفظ اور آداب کے ساتھ ، بلکہ اس کے حقیقی معنی کو سمجھانےکے لئے، حفظ قرآن، حدیث، نماز، دعائیں اور کلمے یاد کروانے اور طالب علموں کی استعداد بڑھانے کے اہل ہیں۔

·       آپ اپنا  گھر چھوڑے بغیر صرف  کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر ایسا کر سکتے ہیں۔
·       ٹیوٹر اور طالب علم ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں اور کلاس کے دوران ایک ہی کمپیوٹرسکرین پرسبق  دیکھ سکتے ہیں

منگل، 4 جون، 2013

نون لیگ اور روزہ ...عبدالرزاق قادری

نوٹ: یہ تحریر پچھلے سال(2012) کے پس منظر میں ہے

جو لائی24، 2012بمطابق ۴ رمضان المبارک 1433کو میں شام ساڑھے چار بجے دفتر سے نکلا۔ سٹاپ پر تھوڑی دیر انتظار کیا اور بس پر سوار ہو گیا۔ اگر چنگ چی رکشہ والے اڑھائی گنا زیادہ کرایہ وصول نہ کریں تو ہو سکتا ہے کہ بسوں میں رش بھی کم ہو جائے اور طلباء طالبات کو بھی تھوڑی آسانی بہم میسر آجائے۔ آج بس بڑی تیزی سے جارہی تھی اور اس میں مسافروں کا بے تحاشا رش بھی نہ تھا۔ برکت مارکیٹ، گارڈن ٹاؤن سے بتی چو ک جاتے ہوئے 19نمبر بس پنجاب یونیورسٹی ، اقبال ٹاؤن اور یتیم خانہ سے ہو کر شیرا کوٹ سے آگے پہنچی تو ڈبل سڑکاں سٹاپ سے تھوڑا پہلے ٹریفک جام تھا۔
چند منٹ انتظار کے بعد میں اپنی کتابیں بس ہی میں چھوڑ کر آگے صورت حال دیکھنے گیا ۔ وہاں ایک بڑا کنٹینر کھڑا کر کے آگے صورت حال دیکھنے گیا۔ وہاں ایک بڑا وارڈن سے پو چھا تو پتہ چلا آگے گلشن راوی سٹاپ اور ساندہ کی جانب لو ڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔ میں جاکر بس سے اپنی کتابیں اٹھاکر پیدل چلنے لگا ۔تقریبا تین کلو میٹر تک پیدل سفر کر کے اپنے گھر پہنچا ، روزہ بھی تھا ۔ تھکاوٹ بھی اور پیاس سے برا حال تھا۔ اگلی صبح میرا پیپر تھا اس لیے اس واقعے کو فورا قلم بند نہ کر سکا ۔ میرا مشاہدہ اور مطالعہ بتاتا ہے کہ اس سال بلکہ 2008کے بعد سے لاہور میں جتنے بھی چھوٹے بڑے احتجاج ہوئے۔ ان میں مسلم لیگ (ن) براہ راست یا بلا واسطہ لیکن شامل ضرور رہی ہے۔ وہ 2009کے لا نگ مارچ سے پہلے کی ہڑتالیں ہوں یا 28اکتوبر 2011کی احتجاجی ریلی کے بعد کی۔
جتنی بھی بڑی بڑی مارکیٹیں لاہور میں ہیں۔ ان کی تاجروں کی انجمن کے ذریعے معیشیت کا پہیہ جام کیا جاتا ہے ۔ ہر ایک دوکان دار کے پاس ان کاخط پہنچتا ہے اس پر اس تاجر سے دستخط کروائے جاتے ہیں کہ فلاں دن کو دوکان بند رکھنی ہے ورنہ یہ سلوک ہو گا۔ ہماری بھولی اور ناتواں قوم چند غنڈو ں کے ہاتھو ں یر غمال بنی ہوئی ہے وہ کہتے ہیں تو یہ قوم کا روبار کر سکتی ہے وہ کہتے ہیں تو یہ کھا نا بھی کھا سکتی ہے ورنہ۔۔۔ غریب اور نادار لو گ اپنا جسمانی علاج تک نہیں کرواسکتے۔ ینگ ڈاکٹرز نجانے پی پی پی یا کسی اور قوت کی شہ پر ہڑ تال کر دیتے ہیں اور ہسپتالوں میں بچے دم توڑ جاتے ہیں۔ مسلم لیگ نون دوسروں کو عدالتی احکام ماننے کا درس دیتی ہے اور ڈاکٹرز کے معاملے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔ یہ دو غلہ پالیسی پتہ نہیں کب ختم ہو گی۔
بھئی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ و فاق کا معاملہ ہے یا صوبائی حکومت کا، ہمیں اس سے غر ض نہیں۔ بلکہ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ طلباء کو محض فلمیں دیکھنے کے لیے کروڑوں روپے کے لیپ ٹاپ حرام راستے پر فراہم کیے جاتے ہیں ( ان میں سے بھی نجانے کتنے فی صد نون لیگ کے گھر میں گئے )
اور عوام کی حرام کی کمائی سے بار بار سڑکوں کو بنا کر اور پھر توڑ کر اربوں روپے ضائع کیے جاتے ہیں۔ اگر ان میں سے منصوبہ بندی کر کے بجلی رواں کی جائے تو نہ سڑکوں پر ہڑتا ل کرنے کے لیے نون لیگ کو تکلیف کی ضرورت ہے اور نہ ہی مجھے روزے کی حالت میں پیدل چلنے کی۔