جمعہ، 28 اکتوبر، 2022

اہل بیت کے دشمن مولوی

 عمران خان نے اپنے وزارت عظمی کے پہلے دن اپوزیشن سے کہہ دیا تھا ہم نے 126 دن دھرنا دیا تھا، اگر کسی کو شوق ہے تو پورا کر لے۔ ہم "مولانا" کو کنٹینر خود دیں گے۔ پھر ساڑھے تین سال ن، پی پی، اور مولانا شوق پورا کرتے رہے اور ان کا احتجاج بقول محمد مالک پی ٹی وی پر بھی دکھایا جاتا تھا۔

رہی بات، شہباز شریف کے خادم ادنی کی تحریک لبیک کی غنڈہ گردی کی، تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ انہوں نے جتنے بھی احتجاج کیے اور دھرنے دئیے۔ سب کے سب قرآن و حدیث کے احکامات کی رو سے باطل تھے۔

یہ جاہل لوگ کتاب و سنت کے مقابلے میں ایک جعلی شدت پسندانہ ذہنیت بنائے بیٹھے ہیں اور ان کا حتمی مقصد صوبہ پنجاب میں ن لیگ کی جماعت کی حمایت کرنا ہوتا ہے۔

طاقتور طبقات اور ٹی۔ ایل۔ پی۔ میں گھسے امریکی کرداروں نے ان جنونی شدت پسندوں کو خوب خوب استعمال کیا اور تحریک انصاف کی حکومت کو مفلوج کیے رکھا۔

جس کے باعث حکومت کے لوگوں کو دباؤ میں رکھا گیا۔ یہ اسلام کے جھوٹے مبلغین، اسلامی تعلیمات کے عین برعکس خطابات کرتے رہے اور مسلمانوں ہی کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر بھرتے ہیں۔

مولوی خادم حسین نے ساری زندگی زہر آلود زبان استعمال کر کے نفرت پھیلا کر جو بھی لوگ اکٹھے کیے، انہیں عرفان شاہ مشہدی کے بھائی محفوظ مشہدی کی جھولی میں ڈال دیا اور اس نے نون لیگ کے ساتھ الحاق رکھا ہے اور یوں ہمیشہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی اور مولوی خادم کی محنت کا پھل نون لیگ نے کھایا۔

خادم رضوی کی برین واشنگ کرنے میں حزب التحریر(خوارج) کا بہت کردار رہا ہے، جس کا ذکر انہوں نے "خفیہ نوجوان" کے عنوان سے سہیل وڑائچ کے ساتھ انٹرویو میں کیا ہے۔ وہاں سنا جا سکتا ہے۔

یہ جماعت امریکی مقاصد کے لیے خوارج کے جیسی سخت زبان استعمال کرنے والی جماعت ہے۔ اور وہی آیت("ان الحکم الا للہ") پڑھتے ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ لڑنے والے خوارج پڑھتے تھے۔

برطانوی غنڈے عرفان شاہ مشہدی کا بھائی، محفوظ مشہدی پنجاب اسمبلی کا رکن رہا ہے اور آج بھی نون لیگ کا رکن ہے۔ اور یہ بندہ مولوی اشرف آصف جلالی کے پیر کا بیٹا ہے تو اب وہ اپنے پیروں کے خلاف تو نہیں بولے گا۔

پیر خواہ کتنا ہی کرپٹ کیوں نہ ہو، وہ اپنے اندھے عقیدت مندوں میں تو جنت کے ٹکٹ بانٹتا پھر رہا ہوتا ہے۔

*یہ تو تھیں، اس طبقے کی سیاسی خدمات*

اب ایک نظر ڈالتے ہیں ان کی مذہبی خدمات پر۔ ان میں سے کسی مولوی یا پیر نے ایک بھی ایسی کتاب نہیں لکھی جسے کوئی کتاب کہا جائے، (گرامر کی کتاب علیحدہ موضوع ہے)

اور خوارج کی پیروی میں یہ طبقہ دس محرم کو حضرت علی اور اہل بیت کے دشمنوں پر سیمینار کرتا ہے۔ 2018ء میں اونچی مسجد اندرون بھاٹی گیٹ لاہور میں بھی خطاب کا یہی موضوع تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی بار یہ چاند چڑھایا ہے کہ دشمنان اہل بیت کے سیمینار رکھے گئے، اور انہیں بے گناہ قرار دیا گیا۔

ارشد شریف اگر دنیا سے چلا گیا تو قیامت تک جینے کا سرٹیفکیٹ کسی کے پاس نہیں ہے۔

میں نے بہت سے جو کام خوف کی وجہ سے روکے ہوئے تھے، اور مزید پختہ ہونے کا منتظر تھا اب آہستہ آہستہ اپنی قوم کی دبی ہوئی آواز کو آزاد کرنے کی کوشش میں ہوں کہ اپنے حصے کا کام کر جاؤں۔

*مر تو میں نے بھی جانا ہی ہے تو اب ڈر سے باہر کیوں نہ نکلا جائے*

آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ جن مولویوں اور پیروں کا سارا زور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دشمنوں کو نیک ثابت کرنے میں لگتا ہے اور ساری زندگی اسی موضوع پر وعظ کیا ہو، کیا وہ بھی امت مسلمہ کے ساتھ مخلص ہیں؟

مولوی خادم نے پنجابی میں واضح طور پر کہہ رکھا ہے کہ "ہم نہیں مانتے تمہاری تحقیقات کو۔ ہم ان تحقیقات کو دور پھینک دیں گے۔"

کیوں نہیں مانتے؟

حدیثوں کی کتابوں میں اور سیرت و تاریخ کی کتابوں میں سب موجود ہے تو پھر بھی کیوں نہیں مانتے۔

یہ سیدھا سا فارمولا ہے کہ جو اہل بیت رسول پاک کے وفادار نہیں اور جو لوگوں اہل بیت کے دشمنوں کو ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہی لوگ ہر دور کے کرپٹ اور خائن حکمرانوں کے حق میں بولتے ہیں۔

اگر واضح طور پر ان کے حق میں نہ بولیں تو بددیانت حکمرانوں کے خلاف بولنے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف بول کر کرپٹ لوگوں کی طاقت بنتے ہیں اور یہی کام بریلوی، دیوبندی اور وہابی علماء کی اکثریت نے پاکستان میں کیا ہے۔

میں ان کے مکروہ چہروں سے مزید نقاب اتار دوں کہ 2013ء میں جب مصر کے خوارجی حکمران ڈاکٹر مرسی پر مارشل لاء کا نفاذ ہوا تو پاکستان کے مولوی اور مفتی اس کے حق میں بولے۔

لیکن جب ترکی کے ظالم بادشاہ رجب طیب اردگان نے تھوڑا عرصہ بعد اپنے ملک میں فتح اللہ گئولن کی تحریک کو برباد کیا تو کوئی مولوی نہیں بولا کیونکہ وہ صوفیاء کی جماعت ہے۔ اگر وہ بھی خوارج کی جماعت ہوتے تو جماعت اسلامی سے لے کر مفتی منیب الرحمان تک سب کو درد ہوتا۔

عبدالرزاق

اتوار، 18 ستمبر، 2022

حکمران اور تاریخ کی نا انصافی

 از افکار: عبدالرزاق قادری

ازل سے زیادہ تر حکمرانوں کا انجام برا ہوا ہے، لوگ ان کا ماتم نہیں کرتے۔ لیکن جو اپنے ملک کے لئے اچھے سمجھے جاتے تھے اور کسی سازش یا ناانصافی کی بھینٹ چڑھ گئے انہیں یاد کیا جاتا ہے، یا کسی ملک کے بانی، اور محافظ لیڈر کی یاد منائی جاتی ہے۔ یا پھر جن کے کردار سے ابھی گرد نہیں جھاڑی گئی ان کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں۔

یعنی کچھ ناپاک لوگوں کی شان میں قصیدے پڑھنا بھی بعض اوقات سرکاری پالیسی ہوتی ہے، جیسا کہ انگریز کے وفادار اور مسلمانوں کے مفادات کے مخالف سر سید احمد خان کو پاکستان میں ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس کی نیکوکاری کا بانی اس کا پرستار شیخ محمد اکرام ہے۔

شیخ محمد اکرام نے، اپنی تین جلدوں پر محیط کتاب

1۔آب کوثر

2۔رود کوثر

3۔موج کوثر

میں محمد بن قاسم 712ء سے لے کر 1940ء تک جھوٹ بنائے ہیں جس میں بہت سے عظیم لوگوں کی ہتک کی، اور کئی ناپاک لوگوں کو عظیم بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ مستشرقین سے بھی بدتر انداز میں تاریخ ہندوستان پیش کی گئی ہے۔

موج کوثر، مغلیہ اقتدار کے خاتمے کے بعد ہندوستان کے گزرے حالات کو جھوٹ کا بڑا پلندہ ہے جسے ترتیب دینے میں ملک پاکستان کے پہلے وزیر اطلاعات و نشریات شیخ محمد اکرام نے وہ کردار ادا کیا کہ آج تک نویں دسویں، گیارھویں بارھویں اور بی۔اے، ایم۔اے اور آگے تک مطالعہ پاکستان کے نام پر بکواس پڑھائی جاتی ہے۔

جس دور میں جنگ آزادی 1857ء کے عظیم ہیروز کو "باغی" قرار دے کر سرسید احمد خان جیسے غداروں کی ہیرو کے طور پر تصویر کشی کی جا رہی تھی تب بھی اور بعض حلقوں میں آج تک انگریزی تعلیم اور کالج یونیورسٹی کی تعلیم کی مخالفت کی جارہی ہے تا کہ کوئی بندہ چار لفظ پڑھ جھوٹ لکھی گئی تاریخ کا سینہ چاک نہ کر پائے۔

اور طرفہ تماشا یہ کہ بعد میں 1857ء کے دور میں انگریزوں کے کتے نہلانے والے "شمس العلماء" کے لقب پا گئے۔ اور مسلمانوں کی طرف سے لڑنے والے ہمارے تعلیمی نصاب کے مرکزی دھارے میں جگہ نہ بنا پائے۔ اور ایس۔ایم۔اکرام کی یہ جعلی تاریخ سی۔ایس۔ایس کے لیے سب زیادہ تجویز کردہ کتاب ہے۔

آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ سر سید، اگر "سید" کا بیٹا تھا تو "سر" کیسے بنا، اور "خان" کیسے کہلوایا۔

وہ بیٹا تو سید کا تھا۔

سر، اور، خان دونوں انگریز حکومت کی وفاداری میں ملے ہوئے خطاب تھے۔ یعنی اس کو "خان" کا لفظ "سید" سے زیادہ عزیز تھا تو ہی سید کے بعد خان کی کمی باقی تھی۔ اور "سر" کا خطاب صلیبی ہیرو کو ملتا تھا۔ جیسے پاکستان میں "نشان حیدر" وغیرہ ہیں۔

انگلشیہ حکومت نے ڈاکٹر محمد اقبال کو بھی "سر" کا خطاب دینا چاہا، آپ نے بہت حیل و حجت سے جان چھڑانا چاہی، لیکن وہ ہر شرط مان گئے۔ اور اقبال کو سر کا خطاب دیا۔ تو محمد علی جوہر نے اقبال کا مذاق یوں اڑایا کہ،

("سر" ہو گئے سرکار کی دہلیز پر اقبال)

تو اقبال نے اپنی قلبی کیفیت کی صفائی بھی دی۔

پاکستان میں آج کے دور میں تاریخ کا سب سے بڑا نام نہاد سکالر، ڈاکٹر مبارک علی ہے۔ جس کے ایک شاگرد نے مبارک علی کے ساتھ منسوب کر کے رائے بریلی اور بانس بریلی کو بی۔بی۔سی۔اردو پر ایک شہر بنا دیا۔ یہی غلطی خود ساختہ صحافی "امیر حمزہ" نے کی ہے۔ ان عظیم تخلیقی ذہنوں کو 400 کلومیٹر فاصلہ نظر ہی نہیں آتا، اور اتنے وسیع المطالعہ ہیں کہ دو شہروں کے باسیوں کو ایک شہر کا رہنے والا لکھ دیا۔

مطالعہ پاکستان میں جن ہستیوں کو قیام پاکستان کی تحریک کے لئے قائدین قرار دیا گیا ہے ان میں سے بیشتر کا اس تحریک سے خاک تعلق نہیں تھا بلکہ بہت سے ایسے لوگ بھی شامل کر دئیے گئے ہیں جو کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے مخالف تھے اور اقبال و قائد کی ذات پر کیچڑ اچھالتے تھے۔

ہمارے یہاں کئی انتہائیں ہیں۔

ایک وہ لوگ جو ڈاکٹر مبارک علی کی طرح قیام پاکستان کا اسلام سے تعلق نہیں مانتے، انہوں نے قائد اعظم کے بارے میں جھوٹے قصے بنا رکھے ہیں۔ دوسرے وہ جو مذہبی انتہا پسند اور قائد اعظم پر فتوے لگانے والے تھے۔ تیسرے وہ جو سب مانتے ہیں لیکن تاریخ غلط پڑھ بیٹھے ہیں۔ چوتھے وہ جو 1930ء کے بعد قائد کے ساتھ ہو لیے اور قیام پاکستان کی تحریک میں شامل تھے۔

بدھ، 15 جون، 2022

دین سے دُوری اور دینِ مُلا

چار سُو جو یہ پھیلا فساد ہے

اختلاف یہ سارا ما بین الجُھّال ہے


قُولُوا للنّاسِ حسناً، حُکم ہے قرآن کا

لیکن مُلّا کی نظر میں نفرت حلال ہے


خبر پھیلانے سے پہلے تحقیق و تصدیق کرو

انجان قوم کو ایذا دینے سے ہوتا ملال ہے

(سورۃ الحجرات) 


یہ ملیچھ، وہ کافر، فُلاں گستاخ، فُلاں جہنمی

سب ہٹ دھرمی کا بچھایا ہوا جال ہے


ہر کسی کو جہنم رسید کر کے رہیں گے

یہ مبلّغینِ فساد کا طرزِ خیال ہے


پیدائشی مُسلم ہے ساری اُمت رسول کی (الحدیث) 

لیکن وعظِ شعلہ بیان کے نزدیک واجب القتال ہے

بدھ، 1 جون، 2022

ڈاکٹرمحمد محسن خان

ڈاکٹرمحمد مُحسن خان
انگریزی خبر: سیک ذکیر حسین، ڈاکٹر یاِسِر قاضی
اُردو ترجمہ: عبدالرزاق قادری، معاونت اے۔بی۔مُغل

ڈاکٹر محمد مُحسن خان، قرآن مجید کے ناموَر انگریزی مترجم اورصحیح البخاری کے سب سے پہلے مُسلمان انگریزی مترجم تھے، آپ قندھار، افغانستان سے آئے ہوئے مہاجر خاندان میں 1927ء؁ کو قصور، ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر مُحسن نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اپنی میڈیکل اور سرجری (طب و جراحت) کی سند حاصل کی اور پھر یونیورسٹی ہسپتال لاہور میں کام کیا، پِھر وہ انگلستان (برطانیہ، یو۔کے) چلے گئے، جہاں سے اُنہوں نے 1950ءکی دہائی میں چھاتی کی بیماری کا ڈپلومہ، یونیورسٹی آف ویلز سے حاصل کیا۔

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے سعودی عرب کے بادشاہ کی دعوت پر 1960ء؁ کی دہائی میں نوزائدہ مملکتِ سعودی عریبیہ کے شہر طائف میں وزارتِ صحت میں کام کِیا۔

وہ السعود ہسپتال فار چیسٹ (Chest) ڈِسیزز، میں بطورِ ڈاکٹر تعینات رہے۔ پھر وہ مدینہ شریف میں منتقل ہو گئے، وہاں اُنہوں نےچھاتی کی بیماریوں والے، کِنگز ہسپتال میں بطورِ چیف کام کیا، اور آخر میں اِسلامی یونیورسِٹی مدینہ کے کلینک میں ڈائریکٹر رہے۔

امریکا میں پیدا ہونے والے اِسلامی علوم کے ماہر ڈاکٹر یاسر قاضی ، ڈاکٹر محسن خان کے ترجمۂِ قرآن و بخاری شریف کرنے کی جانب راغب ہونے کی کہانی بیان کرتے ہیں کہ: ”مدینہ میں ایک شاندار خواب میں ڈاکٹر محسن خان نے نبی پاکﷺ کی زیارت سے شرف یابی حاصل کی اور یہ ایک طویل خواب تھا اُ س میں نبی پاکﷺ کا پسینہ مبارک بھی پینے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اُنہوں سعودی عرب کے مفتیِٔ اعظم شیخ بن بازسے تعبیر پوچھی جو اُس یونیورسٹی کے مہتم تھے تو مفتی صاحب نے فرمایا کہ آپ کسی طرح سے سُنتِ نبویﷺ کی خدمت کریں گے۔

ڈاکٹر محسن نے کہا کہ، ”مجھے جھٹکا لگا ، کہ میں تو اسلامی تعلیمات کا علامہ نہیں ہو بلکہ میری تعلیم و تربیت طِب کی ہے۔ مُجھے اُس وقت تک اندازہ نہیں تھا کہ میں کیا خدمت انجام دے سکتا ہوں جب تک مُجھے یہ سمجھ نہ آئی تھی کہ میں انگریزی زبان میں رواں تھا اور سب سے اہم اِسلامی مذہبی کام تب تک انگریزی میں پیش نہ کیے گئے تھے“، تو اِس طرح اُنہوں نےاپنی زندگی اِسلامی علوم میں ہرممکن تراجم کرنے لیے وقف کر دی۔“ ڈاکٹر یاسِر قاضی کو یہ باتیں مُحسن خان نے خود بتائی تھیں۔ کیونکہ یاسر قاضی اسلامی یونیورسٹی مدینہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے تھے۔

چونکہ آپ عُلومِ اسلامیہ کے ایک ماہر نہ تھے، لہٰذا شیخ بن باز نے شیخ محمد تقی الدین الہِلالی کو ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مِل کر یہ کام کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ شیخ الہلالی مراکش سے آئے ہوئے ایک اِسلامی سکالر تھے،وہ اُن علماء کی جماعت میں سے تھے جنہوں نے سب سے پہلے مغرب (West) میں سے علومِ اسلامیہ کی تعلیم حاصل کی، اُنہوں نے نازی دَورِ حکومت میں جرمنی سے ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔

ڈاکٹر محسن خان اور شیخ الہلالی دونوں نے مشترکہ طور پر قرآن پاک کا جو ترجمہ کیا اُسے کِنگ فہد پرِنٹننگ اینڈ کمپلیکس آف قرآن سے چھاپا گیا تھا، جہاں سے بقول شخصے ہر سال ایک کروڑ سے زیادہ قرآن مجید شایع کیے جاتے ہیں۔ اُن کا قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ ”دی نوبل قرآن“ ہے، جِسے ”ہِلالی۔خان“ ترجمہ بھی کہا جاتا ہے۔اُس کے بعد ڈاکٹر محمد مُحسن خان صحیح البُخاری کا ترجمہ خود ہی کرتے رہے۔

ماشاء اللہ

اب سُنّہ ڈاٹ کام پر بُخاری شریف کا انگریزی ترجمہ وہی ہے جو ڈاکٹر صاحب نے لِکھا۔(فقط۔عبدالرزاق)

ڈاکٹر محسن خان کا وِصال 14 جولائی 2021ء؁ کو 94 برس کی عُمر میں سعودی عرب کے شہر مدینۃ المنورہ میں ہُوا، اور آپ جنت البقیع (قبرستان) میں مدفون ہیں۔

حوالہ جات:
________________

بدھ، 7 جولائی، 2021

عمار اقبال۔۔۔ ایک تعارف ۔۔۔ پہلا حصہ

عمارؔ اقبال۔۔۔ ایک تعارف ۔۔۔ پہلا حصہ

تحقیق و ترتیب: عبدالرزاق قادری

آپ کے ہر دلعزیز شاعر و فلسفی جنابِ  عمار  اقبال یوں تو اپنی اچھوتی شاعری اور منفرد لب و لہجے کے سبب دُنیا بھر میں مشہور و معروف ہیں، لیکن اُن کی ذاتی زندگی اور حالات باقاعدہ کہیں تحریری صورت میں موجود نہیں ہیں،   میں نے مختلف  انٹرویوز سُن کر اور خود انٹرویو کر کے عمار اقبال کے حالات ترتیب دئیے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

عمار اقبال صاحب کے والدِ محترم اقبال مسعود 1970ءکے بعدکسی دور میں لکھنؤ ،بھارت سے ہجرت کرکے کراچی پاکستان منتقل ہوئے، اور آپ خاندانی طور پر حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ہیں اس لئے اُن کا پورا نام اقبال مسعود  ادھمی تھا، عمار اقبال کا مکمل نام بھی ”عمار اقبال ادھمی“ ہے، یوں اُن کی اس صوفی بزرگ  کے ساتھ نہ صرف نسبت بلکہ اُنسیت بھی بڑھ جاتی ہے، غالباً اُسی درویشانہ خون کے رگوں میں دوڑنے کے باعث عمار صاحب کے تخیل میں بلا کی زرخیزی اور استغنائیت اور کمال جوہر پایا جاتا ہے، وہ خود ایک انٹرویو میں کہتے ہیں،کہ  شہرۂ آفاق مصور”پکاسو“ نے کہا تھا کہ تمام لوگ فنکار پیدا ہوتے ہیں، پھر گزرتے وقت کے ساتھ بہت سوں میں سے وہ فنکارانہ صلاحیتیں زمانہ چھین لیتا ہے، اور بہت کم اپنے اندر کے فن کو سنبھال کر رکھ پاتے ہیں۔

 اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتاہے کہ صرف عمار ہی کو تقدیر نے  ابلاغ کی اُس طاقت سے کیوں نوازا،جو کہ اس ادھمی خاندان میں یا اُن کے ہم عصروں میں جانے کتنے لوگ اس کا مظاہرہ نہیں کر پارہے، تو اس کاجواب بھی وہ ”قیصر وجدی“ صاحب کو  انٹرویو میں دے چکے ہیں کہ جب انسان کو کسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تواس کے بعد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا وہ اس سے گھبرا جاتا ہے، ڈر کر اپنی فن سے منہ پھیر لیتا ہے، یا اُسی ناکامی سے طاقت پکڑ کر،  وہ مزید مضبوط اعصاب کا مالک بن جاتا ہے اور زمانے کو وہی کام کرکے دِکھا دیتا ہے جس کا اُسے ذوق ہو اور کچھ کر دکھانے کا جنون ہو،،عموماًیا تو اُس سے توقع نہیں کی جاتی یا پھر اُس شخص کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں جن کو عبور کرتا ہوا وہ منزلِ مقصود تک جا پہنچتا ہے۔ تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاعری کی کٹھنائی  میں یوں عازمِ سفر ہونا کوئی آسان کام نہ تھا، لیکن عمار نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور اپنے فن کے بل بوتے پر پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔

لوہے سے یاد آیا کہ اُن کے والد صاحب، جناب اقبال مسعود  ایک مکینکل انجینئر تھے اور پاکستان سٹیل ملز میں کام کرتے تھے، وہ عمار سے کہا بھی کرتے تھے کہ میں پگھلے ہوئے لوہے میں سے زندگی نکال کر تمہارے لیے لاتا ہوں۔

            یہاں مجھے تنویر سپرا کا شعر یاد آرہا ہے۔

؎            آج بھی سپراؔ اس کی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے

میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

عمار، اپنے والد کے لیے یوں گویا ہیں۔

پتھر کے بازو تھے سینہ لوہے کا

تاج میں حضرت کے تھا نگینہ لوہے کا

قزاقوں کے بعد سمندر جانتا ہے

ڈوب نہیں سکتا تھا سفینہ لوہے کا

موڑ رہا ہے اپنی نرمی گرمی سے

پونچھ رہا ہے کوئی پسینہ لوہے کا

شیشے کی اس کارگہ زرداری میں

کام کیا کرتا ہے کمینہ لوہے کا

اور عمار کی والدہ ایک معلمہ تھیں، یوں عمار ہمیشہ (سے ہی) اپنی والدہ کے ساتھ تعلیمی ادارے میں جاتے رہے،اور خود ہمارے ممدوح،آکسفورڈ ہائی اسکول اور انڈس یونیورسٹی، سے تعلیم حاصل کرکے آغا خان کالج میں تدریس فرماتے رہے،آپ کے والد نے آپ کی شاعری دیکھ کر علمِ عروض وغیرہ سیکھنے کی ترغیب دی تو اہلِ فن کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا سلسلہ جاری رہا، حتیٰ کہ عمار اقبال کی دعا سلام ایک اُستاد شاعر نعیم گیلانی صاحب سے ہوئی تو اُنہوں نے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کے جدید وسائل کے ذریعے عمار اقبال کو علمِ عروض یعنی شاعری کے فنی محاسن  بڑی محنت سے سکھائے جس کا نہ صرف عمار اقبال کو اچھا خاصا ادراک ہے، بلکہ وہ اُستادِ محترم کی دل و جان سے عزت کرتے ہیں اور اپنی پہلی کتاب ”پرِندگی“ کا انتساب بھی نعیم گیلانی کے نام کیا ہے۔

عمار صاحب کہتے ہیں کہ اُن کے خاندان کے کچھ لوگ اقبال مسعود (عمار کے والد) کے پاکستان آ جانے سے قبل یہاں آ چکے تھے، اور یہاں رہ رہے تھے، کچھ لوگ بعد میں آئے، عمار کے دادا جان اور والدین کی یہ دو نسلیں تو اپنے ڈرائنگ روم میں ہندوستانی زندگی، کلچر اور اپنے پرانے رہن سہن کو یاد کرتے رہے۔لیکن عمار اقبال کی پیدائش فروری 1986ء میں ہوئی اور اب اُن کا کہنا یہ ہے کہ یہاں سے ہماری تیسری نسل کا پاکستان میں وجود پیدا ہوا، جو یہیں پیدا ہوئے، بلکہ اُن میں سے عمار اقبال اپنی فیملی میں سب سے پہلے اِس (پاکستانی) دُنیاآئے اور وہ پہلا پاکستانی ہونے کا شرف رکھتے ہیں۔ تو یہ جو تیسری نسل ہے یہ خالصتاً پاکستانی ہے، اس کا کلچر، رہن سہن، اور یادیں پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں۔

 اُنہوں نے کراچی ہی میں تعلیم حاصل کی اور آغا خان کالج میں پڑھاتے رہے، اُن کی آواز خاصی اچھی ہے،جس میں درس و تدریس کا ایک خاص کردار ہے۔آپ بزنس،اُردو اور انگریزی پڑھا تے ہیں۔اور اِس کےعلاوہ کراچی میں ایک ایف۔ایم ریڈیو میں پروگرام بھی کرتے رہے ہیں، گزشتہ چند برس سے لاہور میں مقیم ہیں،اور یہاں بھی لکھنے لکھانے کا شغل قائم ہے۔ آپ کے گھر میں ایک گوشہ اُن جانوروں کے لئے مخصوص ہے جو لاوارث ہو جاتے ہیں، اور پھر وہ یہاں وقت گزارتے ہیں۔

عمار نے اپنے سُخن کی ابتداء غزل سے کی، اور اُن کی پہلی غزلوں میں سے یہ غزل بھی تھی۔

؎                 عکس کتنے اُتر گئے مجھ میں

پھر نہ جانے کدھر گئے مجھ میں

ایک مارکیٹنگ ادارے کے لئے بھی لکھتے ہیں جس سے روزی روٹی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، تراجم کرتے ہیں،شاعری لکھتے ہیں، شاعری کھاتے ہیں، شاعری پیتے ہیں، اس کے علاوہ نغمے لکھتے ہیں اور چودہ اگست 2021ء میں ایک بہت خاص نغمے کے لئے پُر جوش بھی ہیں۔

نعیم گیلانی

آپ تقریباً 2010ء سے مشاعرے میں پڑھ رہے ہیں، جبکہ اُستادِ محترم نعیم گیلانی نے منع فرمایاتھا کہ ا بھی مشاعرے میں شرکت مت کرنا لیکن اُن کی بات نہیں مانی گئی،اور آج اس بات کا اعتراف کرتےہیں کہ مجھے اُس کا نقصان ہوا،2014ء تک کراچی بھر میں مقبول ترین شاعر بن چکے تھے لیکن پھر بھی ایک بارایک مشاعرے کے سٹیج سے بغیر وجہ بتائے اٹھا بھی دئیے گئے، حالانکہ اس سے قبل عالمی مشاعروں میں بھی اپنا کلام سُنا چکے تھے۔

آپ سینئرز کی رہنمائی کو سراہتے ہیں خصوصاً اپنے اُستاد جی، نعیم گیلانی کی بہت سی خوبیوں کے معترف ہیں، ساتھ ہی ساتھ عمار صاحب کا کہنا ہے، کہ گیلانی صاحب کا اپنا اسلوب بالکل منفرد ہے، اور انہوں نے کبھی اپنا رنگ مجھ پر نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی، کہ شاگرد کا اپنا اُسلوب اپنی جگہ برقرار رہے۔ اس کے علاوہ اُن کی پہلی کتاب بھی  نعیم گیلانی صاحب نے ہی شائع کی۔وہ نعیم گیلانی  کا اپنی پسند کا ایک شعر مثال کے طور پر  پیش کرتے ہیں۔

؎              گِلہ معاف مگر میں جہاں پڑا ہوا ہوں

میرے چراغ تیری روشنی اِدھرکم ہے

 

غزل اور اصنافِ سُخن

عمار کے خیال سے غزل کی بندشیں  ایک  سخنور کو اپنے انداز سے لاشعوری پر بہت کچھ بیان کرنے پر مجبورکرتی ہیں، جو بعض اوقات شاعر کو خود اندازہ  نہیں ہوتا کہ وہ کیا پیش کررہا ہے۔ مثلاً یہ کہ غزل آپ کے تخیل کی چڑیا کو اُلٹا اڑاتی ہے، آپ قافیہ سے ردیف سے خیال کی طرف جا رہے ہوتے ہیں، اور یوں آپ کے لامحدود جذبات و احساسات اوزان کی پابندیوں میں بندھ کر رہ جاتے ہیں اور اظہار نہیں ہو پاتا۔ عمار کے نزدیک اصناف سُخن ایک گلاس یا برتن کی سی مثال ہے، جس میں کسی کو پینے کے لیے جو دیں گے اُسی طرح کے برتن میں دیں گے،جیسا کہ چائے کپ میں، او ر پانی گلاس میں۔ یہ پیش کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اظہار  کس صورت میں کرنا چاہتاہے، یا پھر وہ کیا مواد پیش کرنا چاہ رہا ہے! اُسی طرز کی صنف کو اپنا کرپیش کیا جاسکتا ہے ۔

تصانیف

1.    عمارؔ اقبال کے پہلے شعری مجموعے ”پرندگی“ کی تقریبِ رونمائی 2 فروری 2015ء کو کراچی آرٹ کونسل میں ہوئی تھی، جس میں ڈاکٹر ستیہ پال آنند، پروفیسر سحر انصاری، میراحمدنوید اور فاطمہ حسن صاحبہ مدعو تھے۔

2.    عمار اقبال کی تصانیف میں سے ایک پاول بھی انگریزی زبان میں لندن  سے طبع ہوا  ہے، جو کہ شاعری اور ناول(Poetry+Novel) کو جمع کرکے پاول کہلایا،جس میں فلسفیانہ فکشن ہے ، آپ کی کتاب ”پرندگی“ اور چند تازہ غزلیں شبھم شرما(शुभम शर्मा) نے ہندی میں ترجمہ کرکے بھارت میں بھی چھاپ دی ہیں۔

3.    عمار اقبال نے ایک کتاب ”پرونیٹ“ (نثری نظموں پر مشتمل) بھی لکھی ہے جو کہ نثری سانیٹ ہوتی ہے، لفظِ ”پرونیٹ“ انگریزی کے دو لفظ (Prose+Sonnet) مل کر پرونیٹ بن جاتا ہے۔ آپ کے مطابق پاکستان میں کوئی دو اڑھائی سو نوجوان پرونیٹ لکھ رہے ہیں، جو کہ مختلف ادبی رسالوں میں چھپ رہے ہیں،  سب نے اُس میں اپنی اپنی تبدیلیاں کی ہیں، کسی نے اُس کو چودہ سطروں میں لکھا ہے،کسی نے تھوڑی بہت تبدیلی کی ہے۔

اُردو زبان میں پرونیٹ کے مؤجد عمار اقبال ہی ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ اُسلوب میں نے نثری نظم کا ”علاج“ کرنے کے لیے متعارف کروایا ہے۔بات صرف یہ ہے کہ نثری سانیٹ (پرونیٹ) میں لائنز نثر کی ہیں جس میں کوئی میٹر(وزن) نہیں ہے، اور اِس میں نظمیت قوافی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ عمارکہتے ہیں کہ خود پرونیٹ لکھنے  میں بھی زیادہ مزا اس لیے آیا کہ اس میں ایکسپریشن (اپنی ذات کااظہار کرنے) کا زیادہ سے زیادہ موقع ملتا ہے۔

عمارؔ اقبال کی دیگر کُتب کا مفصل تعارف اس تحریر کے دوسرے حصے میں آ رہا ہے، اور ان شاءاللہ اُس سے بھی اگلے حصہ میں آپ کے متعلق کچھ ہم عصراہلِ علم کی آراء شامل ہوں گی۔اور اس کے بعد ان کے کلام پر سیرحاصل گفتگو ہوگی، پھر آپ کے مفصل  حالتِ زندگی بیان ہوں گے، یُوں یہ ایک پوری کتاب کی صورت اختیار کرجائے گی۔

نمونۂِ  کلامِ عمارؔ

بلبلیں نغمہ سرا ہوں مدحتِ غالب کے بعد

لب کشا عمار ہونا منتِ غالب کے بعد

شاہ کے دربار میں غالب کئی آئے گئے

حضرتِ غالب سے پہلے حضرتِ غالب کے بعد

جاری ہے۔۔۔

جمعرات، 13 اگست، 2020

Farhat Abbas Shah - An Introduction - Abdul Razzaq Qadri

 فرحت عباس شاہ ۔ ایک تعارف۔ عبدالرزاق قادری

فرحتؔ عباس شاہ 1970ء کی دہائی کے اواخر سے ادبی جریدوں میں بطورِ شاعر چھپنا شروع ہوئے، آپ ایم ایس سی نفسیات ہیں اور اس کے علاوہ پاکستان کے پہلے ننجا ماسٹر ہونے کے اعزاز رکھتے ہیں، پاکستان میں اکثر کراٹے سنٹر آپ کے شاگردوں یا اُن کے شاگروں کے ہیں، پاکستان کے پہلے پرائیویٹ ٹی وی چینل یونی پلس کا آغاز آپ کی آواز سے ہوا، آپ کے بقول منیرؔ نیازی مرحوم نے فرمایا تھا کہ ہمارے دور میں ادب نے اپنا وارث فرحت عباس شاہ کو چُنا ہے۔

 آپ نے بہت سے ایف ایم ریڈیو چینلز کا آغاز کیا، اُنہیں کام کرنا سکھایا، اور سوشل میڈیا پر پاکستان کا پہلا معیاری ٹی وی چینل لاہور ٹی وی لانچ کیا، ریڈیو چینلز میں آپ شہزادہ وریام کے کردار سے معروف تھے، اور لاہور ٹی وی پر علامہ فورن بغل گیروی کے علاوہ ہٹلر دادا کے کردار سے کام کر رہے ہیں، آپ خبرناک پروگرام میں ماسٹر جی کا کردار بھی نبھاتے رہے، ادبی حلقوں میں آپ کی شہرت نہایت اعلیٰ ہے، خصوصاً حلقہ اربابِ ذوق والے آپ کو مُرشد مانتے ہیں، آپ اپنا کلام تحت اللفظ کے علاوہ ترنم سے بھی سُناتے ہیں اور اپنے کلام کے علاوہ دیگر شعراء کے بعض گیتوں غزلوں کو آلات کے ساتھ گا کر بھی ریکارڈ کرایا ہے۔ آپ حب اہلِ بیت میں بھی کلام کہتے ہیں اور بزرگانِ دین کا احترام کرتے ہیں، آپ کے جاننے والوں میں آپ کا ایک وصف عاجزی اور نرم گوئی بہت معروف ہے۔

 فرحت عباس شاہ 58 سے زائد شعری مجموعوں کے شاعر ہیں اور اسلامک مائیکروفنانسنگ پر انگریزی میں پہلی کتاب لکھ کر بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور یونیورسٹیز میں سود کے خاتمے کے لیے ایک مشن میں مصروف ہیں۔ مفلس و نادار لوگوں کو اپنے کاروبار کا شراکت دار بنانے کے لیے آپ نے (ایک اپنا ایک مکان بیچ کر) فرض فاؤنڈیشن کا آغاز کیا تھا، جو بوجوہ آہستہ روی کا شکار ہو کر محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

فرحت عباس شاہ نے کبھی نوکریوں کے پیچھے دوڑ نہیں لگائی اور نمود و نمائش کے قائل نہیں رہے، آپ کبھی ادب کی خدمات کے لیے قومی سطح پر دئیے جانے والے ایوارڈز اور تمغات کے تمنائی نہیں رہے، کچھ ادبی حلقوں کی جانب سے آپ کے شعری کلام کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا لیکن فرحت عباس شاہ نے کبھی اس جنگ کا حصہ نہیں بنے، اور اپنی توانائیوں کو صحت مند سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں۔

آپ 1964ء میں پیدا ہوئے اور آج 2020ء میں آپ کی عمر 50 برس سے زیادہ ہوگئی ہے، لیکن وہ آج بھی ہشاش بشاش نظر آتے ہیں اور فعالیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہیں۔ 1980ء اور نوے کی دہائی میں آپ کا کلام نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن چکا تھا اور آپ کی کتابوں کا انتظار کیا جاتا تھا، آپ نے ”شام کے بعد“ کے عنوان سے ایک سدا بہار غزل لکھی جس کو آفاقی شہرت نصیب ہوئی، اور اس کے بعد آپ نے کئی اور غزلیں بھی” شام کے بعد“ردیف کے ساتھ لکھیں، اور ان کیا ایک اور شہرۂ آفاق غزل” اداس شامیں اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا “بہت معروف ہے، جسے اُن کے بیٹے سمیر عباس نے گایا بھی ہے۔

٭ سن 2016ء میں میرا لکھا ہوا ایک اور مضمون  فرحت عباس شاہ

پیر، 20 اپریل، 2020

Pehla Roza ramzan da Naat Lyrics in Urdu

ذکر رمضان شریف
مولوی محمد بخش۔ گلشن رنگیلاؔ لائلپوری (فیصل آبادی)

پہلا روزہ رمضان دا چند رحمت چڑھیا
کالا منہ شیطان دا، رب سنگلیں کڑیا

دوجا روزہ رمضان دا، در جنت کُھلے
ایس مہینے دی رحمتوں، نیک رہن نہ بُھلے

تیجا روزہ رمضان آیا، جگ دُھماں پیاں
لہندے چڑھدے پیاریا، سب خبراں گیاں

چوتھا روزہ رمضان دا اُٹھ جاگ سویرے
سوہنا رنگ اَسمان دا، پائے رحمت پھیرے

پنجواں روزہ رمضان دا پڑھ پنج نمازاں
راضی کر رحمان نوں لے جنت نازاں

چھیواں روزہ رمضان دا، چھڈ چوری یاری
ترک نہ عیب نوں، قسمت جنہاں دی ماڑی

ستواں روزہ رمضان دا، کر منزل پوری
واہ واہ شان قرآن دا ملے قُرب حضوری

اٹھواں روزہ رمضان دا اُٹھ غفلت چھوڑیں
کیوں نئیں حق پچھان دا، دل رب نال جوڑیں

نوواں روزہ رمضان دا، نِت رحمت تازی
رلنڑ جماعتی شوق تھیں، آ کُل نمازی

دسواں روزہ رمضان دا، ہویا پُورا دھاکا
ایہہ خاص دیدار خُدا دا، ایہنوں سمجھ نہ پھاکا

گیارہ روزے رمضان دے، گیا وقت نہ آوے
کُوچ دے ویلے پیاریا فِر دل پچھتاوے

باراں روزے رمضان دے، ملن باغ بہاراں
روزے داراں واسطے جنت گلزاراں

تیراں روزے رمضان دے تُوں رئیں نہ بُھلا
نیکوکاراں واسطے، در جنّت کُھلا

چوداں روزے رمضان دے، چن رحمت والا
دِل اندر انسان دے کرے نُور اجالا

پندراں روزے رمضان دے، اَدھ ونجلی آئی
صابراں عاشقاں دیکھ کے، ادھی واٹ مُکائی

سولاں روے رمضان دے، سب کاراں چھڈو
وِچ مسیتاں آنڑ کے جھنڈا بندگی گَڈو

ستاراں روزے رمضان دے، سُکھ آون گھڑیاں
روزے داراں واسطے حوراں طالب کھڑیاں

اٹھاراں روزے رمضان دے، اکھیں کھول پیارے
ایہہ مہینہ بندگی، چھڈ ہور پواڑے

اُنّی روزے رمضان دے، کر اللہ اللہ
قبر دے اندر مومناں، ہووے نور تجلیٰ

وِیہہ روزے رمضان دے وت نہ آون تیرا
اِس دُنیا تے پیاریا مڑ مشکل پھیرا

اِکّی روزے رمضان دے، روزے رمز نیاری
اس وِچ عشق جناب دا، کہیا نبی غفاری

بائی روزے رمضان دے، بس تھوڑے رہ گئے
سُن لے رب دے عاشقا، ہُن موڑے پے گئے

تیئی روزے رمضان دے، تُوں باز نہ آیا
پڑھ نماز سیس نوں وچ سجدے پایا

چووی روزے رمضان دے، چڑھ نور دے بیڑے
درجے ملن جناب توں، روزے رکھن جیہڑے

پنجی روزے رمضان دے، ہو پاک گناہوں
بخشش منگ رنگیلیاؔ، ہووے فضل الٰہوں

چھبی روزے رمضان دے، چھپ بیٹھ علیحدہ
نام جہدا اعتکاف ہے، ایہہ ذکر دا قاعدہ

ستائی روزے رمضان دے شب قدر پیاری
دس سو سالاں بندگی، جو جاگے رات ساری

اٹھائی روزے رمضان دے، اُٹھ سرگی کھالے
توبہ کرلے، سوہنیا، دل پاک بنالے

انتی روزے رمضان دے ، اج چند تیاری
خوشیاں روزے داراں نوں ویکھے خلقت ساری

تریہہ روزے رمضان دے چڑھیا چن پیارا
روزے رکھن والیاں ہویا پاک اوتارا

عاشقاں والی رنگیلیاؔ ہوئی منزل پوری
صابراں تے ہور شاکراں ملے قرب حضوری

عید والا دن آگیا، کر غُسل پیارے
پا کے نویں پوشاک نوں کر سیر بازارے

غصے گلے نوں جان دے مل ساریاں یاراں
تیل وی خوشبو لاونی، کیہا شہہِ ابراراںﷺ

صدقہ دیہہ محتاج نوں ہور کُل غریباں
پڑھ درود، رسُولﷺ تے، مِل یار عزیزاں

رل کے نال جماعت دے پڑھ عید پیاری
خطبہ سُن لے بیٹھ کے ہووے رحمت باری

چارے نفل گزار کے فِر منگ دعائیں
آکھ سلام رواں ہو ہر مومن تائیں

خیریں خاتمہ سال ہے، فِر خیریں آوے
کلمہ پاک رسول دا پڑھ بول سناوے

کمپوزنگ: عبدالرزاق قادری



ہفتہ، 18 اپریل، 2020

کراچی میں اموات کی کڑیاں یہاں تو نہیں جڑتیں؟ Deaths in Karachi

کراچی میں دو ماہ قبل جو زہریلی گیس آئی تھی، بقول شخصے وہ ایٹمی پاور پلانٹ سے لیک ہوئی تھی {شاید یہ (عالمی) سازش تھی}۔ کیونکہ اُنہی دنوں میں نے ایک انٹرنیشنل جریدے میں ”فول پروف“ ایٹمی پاور پلانٹس کی اشتہار ٹائپ خبر دیکھی تھی۔ آج کل میڈیا جو قیاس آرائیاں پھیلا رہا تھا، شاید اُس کے پس منظر یہ کہانی ہو۔