بدھ، 17 جنوری، 2018

E-Learning Holy Quran in Australia since 2012

E-Learning Holy Quran has been providing the services of Quran teaching in different cities of Australia since 2012. Students from #Sydney, #Perth, #Wodonga, #South Hedland, #Canberra and some other cities have been studying #Quran, #Tajweed, #Namaz, #Duaa, #Kalimat and #Tafseer #lessons #online with our well qualified and expert teachers for years. The trust of their parents upon our services is our guarantee, because we are committed to provide quality education to make sure that our students must be able to lead their lives in the light of Islamic teachings and demonstrate themselves as good humans in this world and get their reward in the hereafter.
http://elearningholyquran.com/contactus.html

ELearning Holy Quran in Australia

E-Learning Holy Quran has been providing the services of Quran teaching in different cities of Australia since 2012. Students from #Sydney, #Perth, #Wodonga, #South Hedland, #Canberra and some other cities have been studying #Quran, #Tajweed, #Namaz, #Duaa, #Kalimat and #Tafseer #lessons #online with our well qualified and expert teachers for years. The trust of their parents upon our services is our guarantee, because we are committed to provide quality education to make sure that our students must be able to lead their lives in the light of Islamic teachings and demonstrate themselves as good humans in this world and get their reward in the hereafter.
http://elearningholyquran.com/contactus.html

منگل، 9 جنوری، 2018

Excel your child in Islamic Education with E-Learning Holy Quran dot Com

It is the best trade to equip our children with Islamic Education of Quran and Other Necessary Routine wise things like Salaah, Kalimas and Short Suras of The Holy Quran. We know if we provide our kids proper basic Islamic Knowledge and information, it would be a great reward for us in This World and in Hereafter. So, there are numerous Institutions which are providing the Services regarding Teachings of Quran and Islam online, E-Learning Holy Quran also is one of these Institutions.

        E Learning Holy Quran has expert Muslim Teachers to teach the Quran to you or your kids, with Tajweed Rules and other Islamic teachings with the help of authentic sources. These Teachers are Scholars of Traditional Islamic Rational Sciences and also having Degrees of Modern Education from University. They have knowledge about Applied Sciences like Arabic/Persian/Urdu and English Grammar, Logic, Philosophy, Mathematics, Algebra, Tajweed-o-Qirat of The Holy Quran, Translation and Commentary of The Holy Quran and Hadith with its Meanings.

        It is very easy to Sign Up with us and to start the lessons. A Student requires a computer/laptop and internet connection to begin with us. We use Skype Software to talk and Team viewer Software to share the screen of Teacher to show the lesson to the student. E Learning Holy Quran was launched in January 2012. It has achieved many goals with respect to equip its students throughout these 6 years. We welcome students of all ages from 4 years to on-wards.

        Online Quran Learning has some features which make it better than offline Services.
1. Saving of Time
2. Saving of Travel
3. One on One classes
4. Personal Teacher for each Student
5. Learning before the eyes of Parents
6. Knowing that who is teaching your kids
7. Make Up class in case of missed lessons
8. Progress report at each goal
9. Responsible Administration

http://www.elearningholyquran.com/contactus.html

جمعہ، 5 جنوری، 2018

ای لرننگ ہولی قرآن کو چھ سال مکمل ہو گئے

دسمبر 2011ء کو میری پہلی ملاقات محمود صاحب کے ساتھ ہوئی تب وہ اس ادارے کو لانچ کرنے کا سوچ رہے ان کے زیرِ اہتمام ایک کال سینٹر چند سال پہلے سے کام کر رہا تھا جس کے ذریعے وہ دوسرے ممالک میں بزنس ٹو بزنس خدمات فراہم کر رہے تھے، میں نے اپنی ملاقات میں آن لائن قرآن ٹیچنگ کے حوالے سے اپنا تجربہ اور معلومات کا تبادلہ کیا تو انہوں نے مجھے کال بیک کا کہہ دیا چند روز بعد کال آئی اور مجھے بتایا گیا کہ ویب سائٹ کا نام رکھ لیا گیا ہے اور اس کی ڈومین مل گئی ہے
پھر وہاں میری ڈیوٹی ٹائمنگ اور تنخواہ وغیرہ کا فیصلہ طے کیا گیا نو جنوری 2012ء سے میں نے کام کا آغاز کیا اور ویب سائٹ کے صفحات کا مطالعہ کرکے چند لفظی غلطیوں کی طرف اشارہ کر دیا اور مطلوبہ فائلز کے متعلق مطلع کر دیا پھر آہستہ آہستہ کام چل نکلا اور کال سینٹر کی ٹیم نے کالنگ کا آغاز کیا یو ایس اے اور کینیڈا کے لئے پاکستانی سحری کے وقت کالز کی جاتیں مارچ سے ہم نے صبح کے وقت سے آسٹریلیا میں خدمات کا آغاز کر دیا پھر تب سے آج تک کئی طلباء نے یہاں سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی اس دوران میں ادارے نے کئی رنگ دیکھے کبھی کالنگ ٹیم کے افراد بڑھ گئے تو کبھی اساتذہ کی طلب بڑھ گئی کبھی طلباء کی ضرورت پیش آجاتی تاہم دو سال بعد یہ ادارہ میرے ہاتھوں میں دے دیا گیا اور 2014ء کے ماہِ جنوری سے تقریباً میں ہی اس کی تمام ذمہ داریاں نبھا رہا ہوں آج الحمدللہ! مجھے اس ادارے ”ای لرننگ ہولی قرآن“ کے ساتھ وابستگی اختیار کیے چھ برس مکمل ہونے والے ہیں اور اس ادارے کی بھی چھٹی سالگرہ آن پہنچی ہے۔ ثم الحمدللہ
فقط: عبدالرزاق

Six years of Excellence - E Learning Holy Quran dot com

اتوار، 31 دسمبر، 2017

نعیم قیصر کا ایک اور اعزاز ۔۔۔ تین تعلیمی نسلوں کی کہانی

یہ تصویر سوشل میڈیا پر دوسری بار اپلوڈ کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ محض ایک تصویر نہیں ہے اسے 22 مارچ 2015ء کے روز بنایا گیا بائیں جانب نمبر 1 دائرے والے سر نعیم قیصر، درمیانی دوسرے دائرے میں عبدالرزاق اور نیچے تیسرے دائرے میں نوید ہے۔ سن 2005ء کے دسمبر اور 2006ء کے جنوری میں مُجھے سر نعیم نے دسویں جماعت کی ریاضی کے کچھ بنیادی کُلیے سمجھائے (حالانکہ نویں جماعت کی ریاضی کو بھی میں 44/75 کی نسبت سے پاس کرچکا تھا لیکن اُس کا زیادہ انحصار یاداشت پر تھا، البتہ اُس میں مثلث شاید میں درست کھینچ آیا تھا اور اس کا عمل بھی صحیح لکھا تھا ضلع وہاڑی کے اڈا غلام حُسین کے اُستاد ساجد صاحب نے جیومیٹری کے نقشے کھینچنا سکھا دئیے تھے)، گیارھویں جماعت سے میں نے ریاضی نہ پڑھی لیکن کُلیے یاد رکھے۔ بی اے کے بعد نوید کو سن 2010ء میں ریاضی کے بنیادی تصورات سکھا دئیے تب وہ ساتویں جماعت کا طالبعلم تھا، وہاں اس کے ساتھ میں نے ایک اور انداز اپنایا کہ جو سبق اگلے روز سکول میں متوقع ہوتا وہ سمجھا کر بھیج دیتا نوید نے اپنی کلاس میں ہاتھ کھڑا کرنا شروع کر دیا کیونکہ کل کا سیکھا ہوا سبق آج سکول میں اُس کے لیے دوہرائی کی حیثیت رکھتا تھا یوں اس کا اعتماد بلند ہوتا چلا گیا، آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت میں بھی وہ اسی ریاضی کے اعتماد کے ذریعے آگے بڑھتا چلا گیا انگریزی بھی ہلکی پھلکی میں نے سکھائی تھی وہ بھی کام آگئی اور سائنس مضامین کو وہ خود محنت کرکے پاس کرتا گیا۔
گیارھویں کے لیے میں نے اُسے شرقپور میں واقع پنجاب کالج میں سر نعیم کے پاس بھیجا لیکن وہ لاہور میں پنجاب کالج کی مرکزی شاخ میں داخل ہوگیا، وہاں زیادہ فیس نوید کے والدین نے جُوں تُوں کرکے بھر لی لیکن وہ شام کی شفٹ میں پڑھتا رہا شام کو جوائن کرنے کی وجہ بھی فیس کی کمی تھی، بہرحال جب وہ تیرھویں چودھویں جماعت کے لیے پنجاب کالج میں گیا تو میرے جیسے ”عقلمندوں“ کی نظر میں یہ فضول خرچی تھی لیکن آج وہ چودھویں جماعت کا طالب علم ہے بی۔ایس۔سی ڈبل میتھ اس کا میدان ہے، آپ میں سے اکثر کو یاد ہوگا کہ دسویں جماعت میں طلباء کہتے نظر آتے ہیں کہ کیا ریاضی کے بغیر میٹرک ممکن نہیں ہے؟ یا وہ کہتے ہیں کہ جس نے ریاضی بنائی تھی وہ میرے سامنے آئے تو میں اُسے۔۔۔۔۔۔
لیکن آج ریاضی نوید کی ذات کا حصہ بن چُکی ہے اور وہ اس سے لطف اندوز ہوتا ہے مسلسل کئی گھنٹے بیٹھ رہنا اور لکھتے رہنا اس کا مشغلہ بن چکا ہے
پھر اچانک کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے
نوید کا ایک ہم جماعت اور دوست اپنے والد سے کہتا ہے
کہ
اباجی! نوید کو میرا ٹیوٹر مقرر کر دیں، مُجھے اُسی سے ریاضی سمجھنا ہے
آج الحمداللہ! وہ ننھا پودا شجرِ بارآور بن چکا ہے اور اپنا سبق ہی اپنے ہم جماعت کو پڑھا کر اپنی بوڑھی ماں کی بھری ہوئی فیس واپس کما کر لا رہا ہے۔
اس کامیابی کا کریڈٹ نوید کے پختہ یقین، محنت، سچی لگن، اس کی والدہ کی نگہبانی کو جاتا ہے
اور سر نعیم قیصر کی ذات کے لیے ”شکریہ“ ایک چھوٹا لفظ ہے۔
٭نوید اینجلز اکیڈمی راوی روڈ میں نعیم صاحب کا ڈائریکٹ شاگرد بھی رہ چکا ہے:)

منگل، 26 دسمبر، 2017

نوائے منزلیوں کی ایک ملاقات

کامران صاحب کی ایک روٹین بن گئی ہے کہ وہ لاہور کا ہفتہ وار دورہ کرتے ہیں جمعے کی رات کو یہاں آتے ہیں اور اتوار کی رات کو واپس ہو لیتے ہیں اس ویک اینڈ پر بھی وہ تشریف لائے تو ہفتے کے روز اُن کے ساتھ ملاقات نہ ہو پائی، لیکن اتوار کو انہوں نے ایک دوبار کال کرکے یاد کیا تو میں بھی بھاگم بھاگ بتائے گئے پتے پر مون مارکیٹ جا پہنچا
 
عمران جھجھ
رات کے نو کا وقت رہا ہوگا۔ مُجھے بتایا گیا کہ شیخ ہوٹل پہنچو! تلاش کرتے ہوئے میں نے کیمرہ بھی چالو کر لیا اچانک ایک جانب سے آواز آئی تو عمران جھجھ شیخ ہوٹل سے نکل رہے تھے جھٹ سے اُن کی تصویر بنا لی جس میں وہ کافی چمک رہے ہیں۔
چوہدری عبدالرحمان
ہوٹل کے اندر کامران کے بالمقابل چوہدری عبدالرحمان تشریف فرما تھے، لیکن بخار سے دہک رہے تھے جس کے آثار چہرے پر نمایاں ہیں۔
کامران اختر

کامران صاحب اپنے دیرینہ دوست پراٹھے کے ساتھ ”انصاف“ فرما رہے تھے پھر اُن کے مسکراتے چہرے کی ایک تصویر بنائی، چائے اور باتوں کا دور چلتا رہا
دائیں فیضان، بائیں کامران
 
دائیں سے عبدالرزاق، فیضان، کامران
بائیں عمران جھجھ اور چوہدری عبدالرحمان
پھر فیضان عباس کھوجی صاحب محترم امان عمران کے ہمراہ تشریف لائے بائک سے اترنے کے فوراً بعد اُن دونوں کی ایک تصویر بنانا چاہی لیکن امان عمران صاحب مجھے کوئی غیر متعلقہ کیمرہ مین سمجھے اور تصویر میں واضح نہ آئے (وہ تصویر یہاں شیئر نہیں کی جارہی)۔

فیضان نے بتایا کہ امان عمران صاحب لٹریچر میں دلچسپی رکھتے ہیں گپ شپ کے بعد میں نے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کیا اور پھر چوہدری صاحب اپنی طبیعت کی ناسازی کے باوجود بائک کے ذریعے مجھے گھر تک چھوڑ کر گئے

جمعہ، 1 دسمبر، 2017

Baba Rafiq Qadri reciting naat - Wah kya jood o karam hai


واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا ۔ کلام الامامِ امام الکلام
بابا جی رفیق قادری کی آواز میں درد ہے جس سے کلام کی چاشنی دوگنا ہوگئی، کلامِ اعلیٰ حضرت کا اپنا ایک سُرور ہوتا ہے، اس آواز میں یوں سُنائی دیتا ہے جیسے اِسی لہجے اور اُتار چڑھاؤ میں پڑھا جانا چاہیے تھا۔

جمعرات، 16 نومبر، 2017

زمباوے میں فوجی بغاوت ، خاتونِ اول گریس موگابے اور سیاسی پس منظر

زیرِ حراست صدر موگابے اور خاتونِ اول گریس موگابے: ویکیپڈیا
رپورٹ: عبدالرزاق قادری
گریس موگابے، زمباوے کے صدر رابرٹ موگابے کی بیوی  اور خاتونِ اول ہے وہ جنوبی افریقہ میں بینونی کے مقام پر پیدا ہوئی تھیں اور ان کی شادی صدر موگابے کے ساتھ 1996ء میں ہوئی۔ سن 2014ء سے میڈم گریس،  زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ کے خواتین ونگ کی سربراہ  مقرر ہوئیں، زمباوے کی حکومت میں اُن کے کردار کی وجہ سے  ان پر یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق  ، ملک کے دارالحکومت ہرارے میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 51 سالہ گریس موگابے کا کہنا تھا کہ ”ایک دن جب خدا کی مرضی سے رابرٹ موگابے فوت ہو جائیں گے تو ہم ان کی لاش کو انتخابات میں کھڑا کریں گے۔“ زمبابوے کی خاتونِ اول کا مزید کہنا تھا کہ ”آپ دیکھیں گے کہ لوگ موگابے کی لاش کو بھی ووٹ دیں گے، میں یہ بات آپ کو سنجیدگی سے بتا رہی ہوں۔ لوگ ایسا صدر کے ساتھ اپنا پیار دیکھانے کے لیے کریں گے۔“
زمبابوے افریقی نیشنل یونین ۔ پیٹریاٹک فرنٹ ایک سیاسی جماعت ہے جو 1980ء سے زمباوے کی آزادی سے لے کر حکومت میں رہی  ہے،   رابرٹ موگابے پہلے بطورِ وزیر اعظم ” زمبابوے افریقی نیشنل یونین“ کی  قیادت کرتے  رہے اور پھر جب 1988ء میں اُنہوں نے” زمباوے افریقن پیپلز یونین “کے ساتھ انضمام کر لیا تب صدرکے طور پر اس کے رہنما رہے  اور پھر اپنی سیاسی جماعت کے لیے ”زمبابوے افریقی نیشنل یونین ۔ پیٹریاٹک فرنٹ“ کا ٹائٹل  اختیار کر لیا۔
سن 2008 ء کے پارلیمانی انتخابات میں، زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ ، اپنی پارٹی کی تاریخ میں پہلی اور آخری مرتبہ پارلیمان کا کنٹرول کھو گئی  اور ”دی موومنٹ فار ڈیموکریٹک  چینج۔ سوانگیرائی“ کے ساتھ اتحاد کرکے مخلوط حکومت  کا معاہد کر لیا۔لیکن اس کے بعد 2013 ء کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے فتح حاصل کی۔
جبکہ، ”دی موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج زمباوے“ جسے عام طور پر  موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج ۔ سوانگیرائی کہا جاتا ہے   اسمبلی میں موجود ایک مرکزی اپوزیشن جماعت ہے۔  سن 2005ء کی تقسیم کے بعد یہ مورگن سوانگیرائی کی زیرِ قیادت اس جماعت کے دو دھڑوں میں سے اکثریتی حصہ ہے، دوسرا قدرے اقلیتی حصہ ”موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج۔نکیوبے“ ہے جس کے قائد ویلشمین نکیوبے ہیں۔
رابرٹ گیبریل موگابے،فروری 1924ء میں پیدا ہونے والے ایک زمباوی انقلابی اور سیاستدان ہیں جو 1987ء کے بعد سے زمبابوے کے صدر ہیں۔ اس سے قبل وہ 1980ء سے لے کر 1987ء تک زمباوے کے وزیرِاعظم رہے وہ 1975ء سے اپنی سیاسی جماعت کے چیئرمین ہیں، نظریاتی طور پر ایک افریقن نیشنلسٹ، 1970ء  اور 1980ء کی دہائی میں وہ خود  کومارکسٹ۔لینینسٹ جبکہ 1990ء کی دہائی سے صرف سوشلسٹ قرار دیتے ہیں، ان کی پالیسیوں کو موگابیزم کہا جاتاہے۔
 صدر موگابے  ترانوے برس کے ہو چکے ہیں اور اُنہوں نے سیاسی سرگرمیاں بھی محدود کر دی ہیں تاہم ان کی پارٹی سن 2018ء کے انتخابات کے لیے انہیں ایک بار پھر صدارتی امیدوار  نامزد کرنا چاہتی تھی کہ اچانک مارشل لاء لگنے کی خبریں آگئیں۔14 نومبر 2017ء کی شام، زمبابوے کی دفاعی افواج کے افسرانِ بالا، زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے کے ارد گرد جمع ہوئے، اور زمبابوے براڈکاسٹنگ کارپوریشن اور شہر کے دوسرے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اگلے روز انہوں نے یہ بیان جاری کیا کہ یہ مارشل لاء نہیں لگایا گیا اور صدر موگابے بالکل محفوظ ہیں اور جب وہ موگابے کے اردگرد موجود زمباوے کے معاشرتی۔ معاشی مسائل کے ذمہ داران   ”مجرموں“ کے ساتھ نمٹ لیں گے پھر حالات معمول کی جانب پلٹ آئیں گے۔  جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زُما، نے موگابے کو فون پر  کال کر کے معلوم کیا تو تصدیق ہوئی کہ موگابے بالکل ”ٹھیک“ ہیں لیکن زیرِ حراست ہیں۔
مارشل لاء ایسے حالات میں عائد ہوا ہے جب  زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ کے سابقہ وائس پریزیڈنٹ ایمرسن منانگاگوا (جنہیں فوج کی حمایت حاص ہے) اور خاتونِ اول گریس موگابے (جنہیں ینگر جی۔40 دھڑے کی حمایت حاصل ہے) کے درمیان 93 سالہ بوڑھے صدر موگابے کا جانشین بننے کی چپقلش جاری تھی۔  ایمرسن منانگاگوا کے جب پارٹی سے نکالا گیا اور جبراً ملک بدر کیا گیا تو ایک ہفتے کے بعد، لیکن فوج کے  دارلحکوم ہرارے میں داخل ہونے سے ایک روز قبل آرمی چیف کونسٹین ٹینو چیونگا نے ایک بیان جاری کیا تھا کہ  زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ کے اعلیٰ عہدے دار جیسا کہ  ایمرسن منانگاگوا کو بے دخل کیا گیا ہے، ایسی  حرکتوں سے باز رہناچاہیے۔