پیر، 19 اگست، 2013

انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون پی ایچ ڈی پروفیسر کیمبرج یونیورسٹی

ازیاداشت: عبدالرزاق قادری
تقریباً دو سال پہلے میں ایک بار اسلامک سنٹر مسجد ، ایچی سن سوسائٹی لاہور میں سید حسنین شاہ صاحب کے ہاں حاضر تھا۔ مسجد کے باہر پانی کے الیکٹرانک کولر کے اوپر ایک  بارش سے بھیگا ہوا چھوٹا رسالہ پڑا تھا۔ " امام احمد رضا کی عالمی اہمیت از: انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون انگلینڈ"۔ میں اسے اُٹھا کر گھر لے گیا۔  کئی بار پڑھنا شروع کیا لیکن اس میں سے بھیگنے کی وجہ سے سمیل (smell) آتی تھی۔ چنانچہ فوٹو کاپی کرا کے پڑھا۔ دو ایک اہل علم دوستوں کو یہ کتاب/رسالہ فوٹو کاپی کراکے دیا۔ اس کتاب کو پڑھ کر بہت سے تشنہ سوالات کے جوابات ملے اور مزید تحقیقات کے لیے تجسس پیدا ہوا۔  اُس کاپی کو "رضا اکیڈمی لاہور، کشمیر، یو-کے" نے شائع کیا تھا۔  میں نے داتا دربار مارکیٹ سے اس ادارے کا پتہ کیا وہ مکتبہ لاہور سے اپنا کام بند کر چکا تھا۔  البتہ یو-کے میں موجود ادارے کے فون نمبرز اس کتاب میں درج ہیں۔  میں نے رومن اردو میں انٹرنیٹ پر رضا اکیڈمی کو تلاش کرلیا لیکن زیادہ سرچ نہ کر سکا۔ بعد ازاں مختلف اہل سنت ویب سائٹس پر یہ مقالہ اردو اور انگریزی میں ملا۔

دراصل یہ انگریزی میں لکھا گیا تھا۔ اس کا انگریزی عنوان"The World Importance of Imam Ahmed Raza Khan Bareilly."ہے۔ اُس رسالے کا مقدمہ مولانا محمد الیاس کشمیری ۔۔۔۔ قادری صاحب کے قلم سے لکھا گیا تھا۔ اور اردو سے انگریزی ترجمہ ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب نے کیا ہوا تھا۔ مولانا الیاس صاحب نے  ڈاکٹر محمد ہارون رحمۃ اللہ علیہ کے حالات اور واقعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔ اس کے بعد مجھے انٹرنیٹ پر ایک تحریر  " کیمبرج یونی ورسٹی کے پروفیسر کے قبول اسلام کی سرگزشت از  غلام مصطفی رضوی "  مل گئی۔ وہ بھی شامل کر دی ہے۔ جس سے ڈاکٹر محمد ہارون کے متعلق معلومات میں اضافہ ہو گیا۔ اللہ عزوجل سے دُعا ہے کہ "فکرِ رضا" کا پرچم مزید سربلند ہو اور ڈاکٹر محمد ہارون جیسے عظیم لوگ فکرِ رضا کو دنیا میں عام کرکے اپنی عاقبت سنواریں۔ اللہ تعالیٰ ان پاک طنیت ہستیوں پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اورسب کو ہدایت عطا فرمائے۔
اگست 17، 
2013سنٹرل پلازہ، آفس 9، 5th فلور برکت مارکیٹ لاہور، پاکستان

انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون کا قبول اسلام

کیمبرج یونی ورسٹی کے پروفیسر کے قبول اسلام کی سرگزشت
غلام مصطفی رضوی نوری مشن مالیگاوٴں
اسلام مکمل نظام حیات ہے یہ فطری تقاضوں کو پورا کرتا ہے اس لیے ہر صحیح الذہن آدمی کے لیے اسلام ہی منزل ہے یہی وجہ ہے کہ جستجو اور تلاش کا سفر طے کرنے والے دامن اسلام میں پناہ لیتے ہیں 18 ویں صدی کے صنعتی انقلاب اور دور جدید کے تکنیکی انقلاب نے قبول حق کے لیے ذہنوں کو مزید ہم وار کیا عقل و خرد سے سوچنے والا اسلام کی سچائی بہ آسانی سمجھ سکتا ہے حالاں کہ ویسٹرن کلچر نے ایجادات کے دوش پر یہ واہمہ قائم کیا تھا کہ مغربی ایجادات کے بطن سے اسلام کے خلاف نئی صبح طلوع ہوگی عقلی ایجادات کے مقابل اسلام کا نظام روحانیت ٹک نہ سکے گا!! اسلام کی تعلیمات ایسی جامع ہیں کہ عقلی مطالعہ اس کے حسن حقیقی کو مزید بے نقاب کرنے کا باعث بنتا ہے اشاعت اسلام کے تسلسل کو دیکھا جائے تو اس ضمن میں اسلامی اخلاق و تعلیمات کا عمل دخل ہے جس کی عملی تصویر صوفیا و اولیا نے پیش کی۔ اس کے نظائر کئی براعظموں میں اسلام کے اشاعتی و تبلیغی تسلسل میں دیکھے جا سکتے ہیں اسلام کے دعوتی نظام میں واقعی بات تو یہ ہے کہ اس گروہ کا معمولی حصہ بھی نہیں جو صرف مسلمانوں کو کلمے کی دعوت دیتا ہے۔ پورا براعظم افریقا، امریکہ اور حتیٰ کہ ہندوستان، چین و روس میں بھی اسلام کی دعوت صوفیا کے توسط سے پہنچی۔ برطانوی انگریز نو مسلم کیمبرج یونی ورسٹی انگلینڈ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد ہارون نے صوفیا کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔ انھوں نے اپنے قبول اسلام کے اسباب پر ایک کتاب Why I Accepted Islam لکھی انھیں کے الفاظ میں قبول حق کی سرگزشت سنیں:
 
میں نے ۲۰/جون ۱۹۸۸ء کو اسلام قبول کیا۔ اس وقت میری عمر ۴۴/سال تھی۔ میں لیورپول میں ۱۹۴۴ء میں پیدا ہوا۔۱۹۸۸ء میں مَیں نے ایک مسلم صوفی گروپ سے رابطہ قائم کیا اور در حقیقت انھوں نے ہی مجھے فیصلہ کن مرحلہ طے کرنے میں مدد دی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں کیتھولک ازم سے دل چسپی رکھتا تھا، لیکن میں نے اسے اس لیے مسترد کر دیا کہ وہ غریبوں کی مدد اور دنیا کو ایک بہتر مقام میں بدلنے کے حوالے سے غیر متوازن رویہ رکھتا تھا، تب میں اشتراکیت اور لیبر پارٹی سے وابستہ ہوا۔ یہاں تک کہ مجھے احساس ہو گیا کہ ان کے پاس بھی غریبوں کی مدد اور دنیا کو ایک بہتر مقام میں بدلنے کے لیے کوئی چیز نہیں۔ اب میں مارکسیت میں دل چسپی لینے لگا لیکن اسے بھی مسائل کے حل سے عاری پایا۔ میں ۱۹۶۳ء میں تاریخ کا مطالعہ کرنے کیمبرج یونی ورسٹی گیا۔ میں یورپ وسطیٰ کے نصاب تاریخ کے حوالے سے تقریباً ایک ہفتہ اسلام کے (سیاسی) عہد عروج کا مطالعہ کیا اور اس میں جو چیز میں نہ بھول پایا وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی غریبوں کے ساتھ وابستگی ہے۔ ۱۹۷۰ء میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں تھوڑا سا پڑھا۔ میں نے مارکسی نظریے اور فلسفے کا مطالعہ کیا۔ میں نے (ترک وطن کرنے والے مسلمان) گروہوں سے رابطہ کیا۔ مجھے مسلمانوں کی کچھ خاص تقاریب میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ ایک علم دوست ہونے کے ناطے مجھے لیکچر دینے کے لیے بھی کہا گیا۔ لہٰذا میں نے ڈاکٹر اقبال وغیرہ پہ گفتگو کی(واضح رہے کہ اقبال کی شخصیت سے موصوف کے متاثر ہونے کا سبب ان کی ذات رسول کریم سے والہانہ وابستگی اور محبت ہے، اقبال سچے عاشق رسول تھے، اور اسی میں امت مسلمہ کی کامیابی تصور کرتے تھے،) ۱۹۸۰ء میں مَیں نے یونی ورسٹی میں مسلم دنیا پر لیکچر دینے شروع کیے، مسلمانوں کی ان تقاریب میں مَیں نے تلاوت قرآن سنی، چند کتابچے خریدے، اور بہت سارے لوگوں سے تبادلہٴ خیال کیا، یہ اسلام کے اٹھاوٴ(یہاں مراد مادیت کے زوال اور اسلامی روحانیت سے مغرب کا متاثر ہونا ہے) کا زمانہ تھا، ۱۹۸۰ء سے میں اسلام میں سنجیدگی سے دل چسپی لے رہا تھا تب ۱۹۸۸ء میں میری ملاقات (مرکز تصوف) دارالاحسان والوں سے ہوئی اور میں نے فیصلہ کن قدم اٹھایا، بلا شبہہ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں کہ میں اس راستے سے ہوتا ہوا اسلام تک کیوں پہنچا؟ ڈاکٹر محمد ہارون کا وصال۱۹۹۸ء میں یوکے میں ہوا۔ دس سالہ عرصے میں انھوں نے دسیوں کتابیں لکھیں، اور ہر ایک میں استدلال کا رنگ غالب ہے۔ انھوں نے ہندوستان پر فرنگی عہد کی اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا۔ اس دور کے مذہبی و سماجی مصلحین کے افکار کا جائزہ لیا۔ اسلامی اقدار کی حفاظت کے سلسلے میں شاہ احمد رضاخاں محدث بریلوی کی خدمات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے شاید اس کا سبب عشق رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں وارفتگی ہو، اس لیے بھی کہ گزری دو صدیوں میں اسلام کے خلاف جتنی بھی نظریاتی تحریکیں داخلی و خارجی سطح پر ابھریں ان کا حملہ عظمت و عصمت نبوی علیہ الصلاة والسلام پر ہی رہا۔ ڈاکٹر محمد ہارون نے اپنے قبول اسلام کے اسباب میں اسلام کے سیاسی، سماجی، اخلاقی وجوہات کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے، انھوں نے قرآن مقدس کی تفسیر بھی انگریزی میں لکھنی شروع کی جو ابتدائی مرحلے میں تھی کہ ان کا وصال ہوگیا۔ دنیا کے مسائل کے انبار میں ان کے واقعی حل کے لیے صرف اسلام کو مدار نجات قرار دیتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں: ”مسلمانوں کو قدیم اسلام کی طرف دعوت دینا ایسا کام ہے جو آج کے مسلمانوں پر واجب ہے۔ اس کام کا آغاز رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بھر پور محبت اور تعظیم ہے۔(Islamic Concept of State,p100) علاوہ ازیں وہ اپنے پیغام میں سیرت نبوی سے درس و سبق کے ساتھ اسلامی اخلاق کی طرف ذوق بھی دلاتے ہیں جس کی موجودہ انحطاط پذیر دور میں زیادہ ضرورت ہے
بشکریہ

Pictures of Jamia Islamia Razwia Lahore

جمعہ، 16 اگست، 2013

بدھ، 14 اگست، 2013

پاکستان کا چھیاسٹواں یوم آزادی مبارک ہو

آج پاکستان کا چھیاسٹواں یومِ آزادی ہے۔پاکستانیوں کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اس ملک کے قیام کا دن مبارک ہو۔
ممکن ہے کہ پاکستان میں رہنے والے کچھ لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہوں کہ یہ ملک ابھی تک باقی ہے۔ اور سرحد پار تو یقیناًبہت سارے تحفظات ہیں۔ ابھی تک یومِ آزادی منانے پر بدعت اور شرک کا فتویٰ جاہلوں کی طرف سے اعلانیہ نہیں لگا۔ ورنہ در پردہ تو بہت کچھ لکھا اور کہا جاتا ہے۔فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک دیوبندی رسالہ تو ابھی تک قائدِ اعظم محمد علی جناح کے خلاف زہر فشانی کرتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ جب اس ملک کو اسلام کے نام پر ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے حاصل کیا گیا تو اُس دورا ن مستشرقین کے حمایتی، اور گاندھی کی آشیرباد کے سہارے سیاست کرنے والے نام نہاد مسلم علماء (دیوبندی، جماعت اسلامی کے مودودی صاحب، وہابی اور نیشنلسٹ کہلانے والے) نے پاکستان کو ’’پلیدستان‘‘ اور قائدِ اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ جیسے ولی صفت انسان کو معاذاللہ ’’کافرِ اعظم‘‘ قرار دیا۔ آج چونکہ پاکستان کے ان دشمنوں کی آنکھوں میں اسلام کا یہ قلعہ (پاکستان) کھٹکتا رہتا ہے۔ اس لیے وہ اسے کمزار کرنے کی سازشیں ’’اسلام‘‘ کا نام لے کر جاری رکھتے ہیں۔ مثلاً وہ جنت کے ٹکٹ کے لیے بم دھماکے کرکے ملک کا امن تباہ کرتے ہیں۔ اور عوام الناس کو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف اپنے باطل افکار سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام اور پاکستان کے دشمن مشترک ہیں۔ گاندھی جیسے درندہ صفت انسان کو جو لاکھوں مسلمانوں کے خون (قتل) کا ذمہ دار ہے اُسے نبی جیسا ماننے والے خود کو اسلام کا ٹھیکے دار سمجھتے ہیں۔ پاکستانی عوام سے مختلف حیلے بہانوں سے چندہ جمع کرکے ان پر ’’شرک‘‘ کے فتوے لگاتے ہیں۔ مسجدوں، مارکیٹوں، درس گاہوں اور اللہ کے ولیوں کے مزارات پر خون خرابا کر کے’’جہاد‘‘ کرتے ہیں۔ میں نے ان خوارجی فتنوں کے حوالے سے دو تحریریں1. تنظیموں کے شکنجے2. خلافت کے ٹھیکے دارلکھی تھیں۔ ابھی تک یہ دونوں تحریریں شائع نہیں ہوئیں۔ یہ جدید طریقوں اور حربوں سے واردات کرنے والے فتنوں کے متعلق ہیں۔ پاکستان میں پٹھان لوگوں کا علیحدہ عید منا لینا ایک معاملہ ہے۔ یہ لوگ صدیوں پہلے بھی اپنی چھوٹی مسجد بنا کر علیحدہ نماز پڑھتے تھے۔ جہاں سے ’’ڈیڑھ اینٹ کی مسجد‘‘ نکلا ہے۔ لیکن اب جدید ’’خلافتی‘‘ بخار والے فتنوں کو سعودی عریبیہ کے ظالم قابض حکمرانوں کی پوجا کرنا ایک دوسرا معاملہ ہے۔ کون تاریخ کا طالب علم نہیں جانتا کہ 1908 ء اور اس سے قبل وہابی فتنے نے وادیء حجاز کے تقدس کو کس طرح پائمال کیا۔ اور اپنے ’’نئے دین‘‘ کو وہاں تلوار اور بندوق کے زور پر نافذ کیا۔ انہوں نے وہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے مزارات کو ’’شرک‘‘ کی زد میں لا کر شہید کیا۔ (آج یہ لکھتے ہیں ’’میں نوکر صحابہ دا‘‘) انقلاب آلِ سعود کے لیے وہابیوں نے ظلم و جبر کی انتہا کی۔ یہ سب کچھ برطانوی سامراج کی سازش اور مدد کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اندلس (سپین) میں جو حالت عیسائیوں (فرڈی نینڈ اور ہمنوا) نے مسلمانوں کی بنائی وہی تاریخ ملکِ عرب میں نجدی وہابیوں نے مسلمانوں کے ساتھ دہرائی۔ 1492  ء میں یکم اپریل کو سپین میں جہاز میں پیک کرکے سمندر میں ڈبو دیا گیا۔ جس کی یاد میں وہ ’’اپریل فول‘‘ مناتے ہیں۔ سعودی ظالم بھی اپنا یوم حکومت (قبضہ) مناتے ہیں۔ انہوں نے فلسطین کی سرزمین انگریزوں کو صبحِ قیامت تک کے لیے اپنے اقتدار کے عوض تحریری سرٹیفکیٹ دے کربیچ دی۔ وہاں یہودیوں نے ملکِ اسرائیل بنا لیا۔ عظیم اسلامی سلطنت کے ٹکڑے کرانے والے آج ہمیں ’’خلافت‘‘ اور ’’اسلامی قانون‘‘ کا درس دینے آ گئے ہیں۔ اللہ عزوجل ان سمیت دیگر تمام فتنوں سے امت مسلمہ اور عالمِ اسلام کو محفوظ فرمائے۔ مزید تفصیلات کے لیے یہ تحریریں اور کتابیں پڑھ لیں

قائداعظم اور قوم

یوں تو روزانہ سینکڑوں لو گ پیدا ہوتے ہیں لیکن ایسے افراد جو قوموں کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ہر روز پیدا نہیں ہوتے ۔ زمانے میں فکر ی کام کرنے والے لو گ کم ہی ہوتے ہیں لیکن ایک فکر انگیز شخصیت اُن لاکھوں لو گوں پر سبقت رکھتی ہے جو صرف ہتھیار چلانا جانتے ہیں۔ کام کا مَر د اگر ایک ہی پیدا ہو جائے تو وہ قوموں کی تقدیروں کے رُخ بدل دیتا ہے ایک لمبے عرصے تک لو گ کسی قائد کے پیدا ہو جانے کا انتظار کرتے ہیں ۔ رہنما کے بغیر کئی دہائیوں کی محنت وہ رنگ نہیں لاتی جو رہنما کی سر کر دگی میں چند برسوں میں لے آتی ہے ۔ اس کی بہت سی وجو ہات ہوتی ہیں ۔ مثلا ایک خاص وجہ تو یہ ہے کہ رہنما اور قائد لو گ صرف اپنی ذات تک ہی نہیں سو چتے ۔ قائد کو صرف اپنے گھر کی ہی فکر نہیں ہوتی ۔ اُسے پوری قوم کی اجتماعی فکر ہوتی ہے ۔ وہ لو گوں کو متحد ہو کر اپنی قوم کی حفاظت کرنے کی سو چ دیتا ہے جبکہ عوام کے ذہنوں میں یہ خیال موجود ہو تا ہے کہ وہ کسی دوسرے کے لیے کیوں کام کریں ۔ عوام یہ سو چتے ہیں کہ بس جی اپنا رزق کماؤ اپنے بال بچوں کو اچھا کھانا کھلاؤ یہی اچھی زندگی ہے ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر اپنی قوم کے لیے اجتماعی کام اور اجتماعی حفاظت کو چھوڑ دیا جائے تو پھر تو جب یہ قوم ہی باقی نہ رہے گی پھر ہمارے بچوں کی حفاظت کیسے ممکن ہو گی رزق تو ان کے بچے بھی کھاتے ہیں جو سخت گرمیوں کی دو پہروں میں اور سر دیوں کی برفانی ٹھٹھرتی ہوئی راتوں میں جاگ کر قوم کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں عوام کے لیے پہر ہ دیتے ہیں ۔ قائد اپنے عوام کو یہ حقیقتیں بتاتا ہے کہ وہ بھی اجتماعی طور پر قوم کے لیے کام کریں ۔ اپنی کمائی میں سے قوم و ملک کے لیے سرمایہ فراہم کریں تاکہ اُسی سرمایے میں سے اُن نو جوانوں کی تنخواہوں کا بند و بست ہو سکے جو راتوں کو جاگ کر پہر ہ دیتے ہیں اور عوام بڑے مزے کے ساتھ اپنے آرام دہ کمروں میں آرام فرماتے ہیں اور نیند کے مزے لو ٹتے ہیں ۔ قائد اگر حقیقی مخلص اور درست سمت میں رہنمائی کرنے والا ہو تو وہ قوم کو بتاتا ہے کہ اپنے ارد گرد نظر رکھیں اور معاشرے کا غور سے مطالعہ کرتے رہیں ۔ کہ کس کس انداز سے قوم کو نقصان پہنچانے کے لیے لو گ تحریکیں بنا کر اور انفرادی طورپر کام کر رہے ہیں ۔ اُن عناصر پر نظر رکھیں جو اشیاء ضروریات کو مہنگے داموں فروخت کرکے قوم کا سرمایہ غرق کر رہے ہیں اور لو گوں کی سوچ کو صرف مہنگائی کی زد میں لا کر محدود کرتے جا رہے ہیں ۔ قائد ہی بتا تا ہے کہ دیکھو مختلف سیاسی تحریکیں عوام کو تقسیم کرنے کے لیے اور آپس میں نفرتیں پھیلا نے کے لیے کہیں علاقائی علیحدگی کے لیے کام کر رہی ہیں اور کہیں کسی خاص زبان کو بولنے والے لو گوں کو مشتعل کر کے انتشار پھیلا نے کا کام کیا جارہا ہے تو کہیں نئے صوبے بنانے کے نام پر منا فقت جنم لے رہی ہے ۔ عوام کو ایک امت ، ایک ملت ، ایک قوم ہونے کا جو احساس اسلامی تعلیمات سے ملتا ہے اس کو ختم کرنے کے لیے طرح طرح کے گھناؤ نے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں ہماری بدقسمتی ہے کہ آج ہم کسی کو اپنا قائد تسلیم کرنے پر رضا مند اور متحد نظر نہیں آرہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس قوم کو متعد د بار استعمال کیا گیا ۔ کبھی اسلام کے نام پر اور کبھی جمہوریت کے نام پر بنی سیاسی پارٹیوں نے روٹی ، کپڑا اور مکان یا دیگر منشور بنا کر قوم کو ان مقاصد کے لیے استعمال کیا جن سے ان کا اپنا پیٹ بھرنے کی راہ ہموار ہوتی ہو اورجن سے امریکہ و دیگر کافر ممالک کی حکومتوں والے آقا خوش ہوتے ہوں ۔ اور یہ پارٹیاں اور جماعتیں بڑے منظم انداز سے کام کرتی نظر آئیں ۔ کیونکہ بُرے لو گ ہمیشہ منظم ہوتے ہیں ۔ آج بھی کچھ تنظیمیں کفار کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اس وطنِ پاک کے خلاف طرح طرح کے حربے استعمال کر رہی ہیں اور عوام کو اپنے ہی ملک کے خلاف کام کرنے کی سوچ فراہم کر رہی ہیں ۔اور عوام کو چونکہ کسی ایک قائد کی رہنمائی میں متحد ہو جانے کا شعور نہیں اس لیے وہ کسی نہ کسی تنظیم کو منتخب کر لیتے ہیں اور اسلام کے نام پر کام کرنے کے دھو کے میں وہ اپنے ہی وطن کو غیر محفوظ بنانے مین مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ اپنی ہی اجتماعی طاقت کو ختم کر رہے ہیں اور اپنے دین اسلام ہی کے مخالف کفار کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ صاف ظاہر ہے کہ جب آپ اپنے وطن کے خلاف کر یں گے تو ملک ٹوٹ جائے گا ( خدا نخو استہ ) اور جب ملک ہی نہ رہے گا تو پھر کیسی حفاظت اور کیسا اسلام کا قلعہ ؟ تب یہ تنظیمیں اس خام خیالی میں ہوں گی کہ ہم نے اپنے کافر آقاؤں کے لیے کام کیا تھا ان کے لیے راہ ہموار کی تھی اب وہ ہمیں تو بڑی بڑی مراعات دیں گے اور ہماری بڑی عزت افزائی ہوگی ۔ تو تب یہ تنظیموں والے دیکھیں گے کہ کفار پہلے ان کار گڑا نکالیں گے کیونکہ کفار کا موقف ہو گا کہ تم تو اپنے ہم مذہبوں اپنے ہم وطنوں اور اپنی قوم کے خیر خواہ نہیں تھے ہمارے وفادار کیسے رہو گے ؟ پھر ان تنظیموں اور پارٹیوں کی بھی خیر نہ ہو گی اس سے پہلے کہ خدا نخواستہ کہیں اس طرح کے حالات پید ا ہوں اور ہمیں ان مصائب کا سامنا کرنا پڑے ہماری قوم کو ضرورت ہے کہ وہ حالات کا باریک بینی سے مطالعہ کرے اوراپنے بچوں کو لقمہ حلا ل کھلا کر ان کی تعلیم و تربیت اسلامی انداز میں کرے اور بچوں کو ہر طرح کا شعور فراہم کرے اُن کو اغیار کے پھیلا ئے ہوئے پھندوں میں پھنسنے سے روکے اور ان کو اسلام کا سپاہی بننے کی تربیت دے ۔ ان کو کفار کی غلا م اور کفار کے لیے کام کرنے والی گمراہ تنظیموں سے بچنے کے لیے اسلام کا درست مطالعہ کروائے ۔ بچوں کو مسجد میں بھیج کر دین کا علم سکھائے ۔ بچوں کے اندر دینی مدارس کی عزت و عظمت کو پروان چڑھائے ۔ بچوں کو اپنے دین وملت کے لیے کام کرنے کی سوچ فراہم کرے ۔ اُنہیں نئے نئے فرقوں اور نئی نئی جماعتوں سے بچنے کا درس دے ۔ جو کہ اسلام کے نام پر لو گوں کو گمراہ کر کے کفار کی مرضی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جھولی میں ڈال دیتی ہیں اورجہاد جیسے مقدس فریضے کے نام پر عوام کو استعمال کر کے اپنے ہی ملک کو تباہ و برباد کرنے کا سامان پیدا کر تی ہیں ۔ بچوں کو بتایا جائے کہ ہمارے ملک کی اسلامی فوج جہاد ہی کے لیے ہے اور ہمیں اُسی فوج کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ ہم اپنی طرح طرح کی جماعتوں کے ذریعے فساد کر کے اللہ کے اس فرمان کے مصداق کا فر اور فسادی ثابت ہو رہے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس ملک و قوم اور فوج کی جڑیں کمزور ہو رہی ہیں ۔ ہمیں تو متحد ہو کر اپنے ملک کو اسلام کا قلعہ ثابت کر کے یہاں صالح لو گوں کو اس کی قیادت فراہم کر کے پوری دنیا پر عالم اسلام کا پر چم لہرانا تھا لیکن یہ کیا ہم تو اپنے ہی ملک کے خلاف اپنے ہی دین کے خلاف اپنی ہی دینی درس گاہوں کے خلاف کفار کے لیے کام کرنے کو کھڑے ہوگئے اور اس کو جہاد کا نام دے دیا ۔ بھئی جہاد تو مسلمانوں پرفرض ہے اور جو لوگ ہوں ہی کفار کے گماشتے۔۔۔ ۔ کافروں کے ایجنٹ ۔۔۔ تو کیا خیال وہ جہاد کر رہے ہیں یا اسلام کے خلا ف فساد کر رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم تو اصلا ح کرنے والے ہیں ۔ حالا نکہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ فساد کرنے والے ہیں ۔ یا د رکھیں کے ان فسادیوں کے پیچھے فکری کام ان لو گوں کا ہے جو کفار کے زر خرید غلام تھے ۔ انہوں نے عیسائی انگریز حکمرانوں کے کہنے پر قرآن پاک کے غلط ترجمے کیے اور انگریز حکومت سے شمس العلماء اور’’سر ‘ کے خطابات وصول کرنے کو اللہ کے محبوب کی غلامی اختیار کرنے پر ترجیح دی اور اُن لو گوں نے مسلمانوں کو اپنے ہی مولویوں (علماء)کے خلاف اُبھارا اور مسلمان عوا م کو مولویوں سے اس قدر متنفر کر دیا کہ یہ لو گ انگریزی تعلیم ہی کو زندگی کا معیا ر بنا بیٹھے۔ اور اپنے ہی مولویوں کو جاہل ، تنگ نظر اور نجانے کیا کیا سمجھنے لگ گے ۔ بد بختی ان عوام کی کہ انہوں نے کبھی دینی مدرسے کے کلا س روم میں جاکر دیکھا ہی نہیں تھا کہ وہاں پر امت میں اتحاد کا درس دیا جارہا ہے ۔ وہاں قرآن اور حدیث کو درست انداز میں سمجھنے کے طریقے بتائے جارہے ہیں ۔ آج سڑکو ں پر فلیکس لگے ہوئے نظر آتے ہیں کہ’’ میں خو د قرآن کا ترجمہ کر سکتا ہوں ‘‘ یہ جملہ آپ کا بھی ہو سکتا ہے ۔ آئیے ایک ماہ قرآن کا ترجمہ کرنا سیکھیں ۔ خدا کا خو ف نہیں ان لو گوں میں ! یہ لو گ یہ نہیں دیکھتے کہ ایک عالمِ دین بارہ سال کی ڈگریاں حاصل کر کے بھی تفسیر ابن عباس کو پڑھنا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے ۔ ترجمہ کنز الا یمان کو پڑھنا سعادت سمجھتا ہے ۔ کیوں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم خو د قرآن کا ترجمہ درست نہیں کر سکتے کیونکہ اللہ عزوجل نے قرآن میں جو فرمایا ہے وہ خو د نبی کریم ﷺ سے بہتر کوئی سمجھا نہیں سکتا اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ نے درست انداز میں وضاحت کے ساتھ قرآن سکھایا ۔ پھر درجہ بہ درجہ قرآن کی تعلیمات ہم تک پہنچی ہیں ۔ کام تو خراب ہوا ہی تب تھا جب اس انگریز کے غلام طبقے نے عیسائیوں کے روپے پرا ن کی غلامی اختیار کرنے کے صلہ میں قرآن کے غلط تراجم کیے اور قوم کو عربی زبان کے لفظی معانوں میں اُلجھا کر گمراہ گیا ۔ مشترقین کے لیے تنقید کے راستے ہموار کیے اور عوام نے ان جھوٹے شمس العماء کو مولوی سمجھ کر ان بد معاشوں کو اپنا خیر خواہ سمجھ لیا۔ عوام سے دست بدستاں التجا ہے کہ خدارا! تحقیق کیجیے اور تاریخ سے معلوم کیجئے کہ 1857کے پہلے فورا بعد کے ادوار میں وہ کس قسم کے مولوی تھے جن کو پھانسی پر لٹکایا گیا جن کے علماء کو کالے پانی یعنی سمندری جزیروں کی طرف جلا وطن کر کے قید کر دیا گیا ۔ اور دوسرے جھوٹے اور جعلی مولوی کون تھے جن کو انگریز کافروں نے شمس العماء کے اور ’’ سر ‘‘ کے خطابات سے نوازا اگر تحقیق کی جائے تو واضح ہو جائے گا کہ جو صحیح العقیدہ اور پرانے عقائد کے علماء تھے انہوں نے اپنا ایمان نہ بیچا ۔ وہ دو ٹکڑے روٹی کے لیے زر خر ید مولوی نہ بن سکے ۔ انہوں نے عیسائی متشرق طبقے کی تحقیقات کی طرز پر قرآن کے غلط ترجمے نہ کیے ۔ انہوں نے کفار کو اپنا آقا نہ مانا ۔ تو اُ ن پر ایک ظلم تو یہ ہوا کہ انگریز کے دور حکومت میں کالج کی تعلیم سے بہرہ ور افراد نے انہیں دقیانوسی اور جاہل گردانا اور مزید ستم یہ کہ قیام پاکستان کے بعد جو تاریخ کی کتابیں لکھی گئیں وہ چونکہ جدید تعلیم یا فتہ طبقے کے قلم سے لکھی گئیں اس لیے اُن قابل قدر ہستیوں کو برصغیر پاک و ہند کے مسلمان ہیروز میں شمار نہ کیا گیا ۔ بلکہ اُن لو گوں کو ہیرو قرار دیا گیا جو انگریز کے ہم نوا اور انگریز حکومت کو اپنے سرکا تاج سمجھتے تھے اور قرآن پاک کی وہ آیات پڑھ پڑھ کر لو گوں کو کہتے کہ حکومت وقت کا احترام ہمارا فرض ہے ۔ جن آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حُکام یعنی ( اُولی الا مر ) مسلمان خلفاء اور اُمراء سلطنت کا احترام کرنے کو فرمایا ہے ان آیا ت کا سہارا لے کر عوام الناس کو برٹش ایمپائر کا غلا م بننے کا درس دینے والے لو گ آج ہمارے سکو ل کے سلیبس میں قوم کے ہیرو بتائے جاتے ہیں اور اُس پر فِتن دور میں جن علماء و مشائخ اور مولوی حضرات نے دین کی سر بلندی اور مسلمانوں کی بقا کے لیے جنگ لڑی ان کے نام کسی بھی کھاتے میں درج نہیں کیے گئے ۔ کیونکہ نصاب کو مرتب کرنے والے مصنفین اور قلم کار حضرات کا لج اور یونیورسٹی کی تعلیم سے فیض یا فتہ ہیں اور یہ ادارے چونکہ قیام پاکستان سے پہلے انگریز حکومت کے زیر نگین یا انگریز حکومت کے سر پرستی میں کام کرتے تھے اس لیے انگریز کی پسندیدہ اور ان کے خطابات سے نوازے گئے لو گ ہی ان اداروں کے پر نسپل تھے اور یہی لو گ تعلیم دیتے تھے قیام پاکستان سے پہلے یہی لو گ اپنے قلم کے ذریعے قوم کو انگریز حکومت کے خلاف جہاد سے منع کرتے تھے اور قیام پاکستان کے حامی بھی نہ تھے یہ لو گ کانگریس کی صفوں میں داخل ہو گئے اور نیشنلسٹ تحریکو ں میں مجوزہ پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہے ۔ لیکن خدا کو پاکستان کا قیام منظور تھا اور محمد علی جناح رحمۃاللہ علیہ جیسی زیرک اور دور اندیش شخصیت میں قوم کا قائد بننے کی صلا حیت موجود تھی ۔ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر قومِ مسلم کو ہندو اور انگریز کی غلا می کا درس دینے والی بے شمار باطل تحریکو ں کے خلا ف قائداعظم کی صرف ایک جماعت مسلم لیگ نے محنت اور اخلا ص نیت سے 1946کے الیکشن میں واضح برتری حاصل کرکے مسلمانانِ ہند کو بتادیا تھا کہ مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے اور باقی سب جھوٹے ، مکار اور لو گوں کا دین و ایمان سلب کر نے والے غدار ہیں ۔ پاکستان تو وجو د میںآگیا لیکن تعلیمی اداروں کا نظام انہی لوگوں کے ہاتھوں میں رہا ۔ مشرقی پاکستان میں ہندو اساتذہ کی تقرری کے نیتجے میں ان کے پڑھائے ہوئے نو جوانوں نے 1971میں ملک کا ایک بازو علیحدہ کر کے رکھ دیا ۔ اُس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پیچھے فکری کام ہند و اساتذہ کا تھا اور ہمارا ایک بڑا حصہ ہندوستان کے زیر نگین ہو گا ۔جبکہ یہاں مغربی پاکستان میں جدید تعلیم یافتہ افراد نے قوم کو ان کے تابناک ماضی سے روشناس نہ کروایا اوران کو دین و ملت کا پا سبان بننے کی تعلیم نہ دی وہ یہ تعلیم دے بھی کیسے سکتے تھے ۔ کیونکہ وہ تو خو د دین کی تعلیمات سے دور تھے ۔

پیر، 5 اگست، 2013

AL QADR (THE DESTINY)

Allah - beginning with the name of - the Most Gracious, the Most Merciful
[Qadr 97:1] We have indeed sent down the Qur’an in the Night of Destiny.
[Qadr 97:2] And what have you understood, what the Night of Destiny is!
[Qadr 97:3] The Night of Destiny is better than a thousand months.
[Qadr 97:4] In it descend the angels and Jibreel, by the command of their Lord – for all works.
[Qadr 97:5] It is peace until the rising of dawn. 

With Thanks: www.alahazrat.net

جمعرات، 1 اگست، 2013

ابن عبد الوہاب نجدی

ابن عبدالوہاب             از               وحید احمد مسعود
"ابن تیمیہ کے بعد اپنے زمانے میں ابن عبدالوہاب نجدی نے اعلان کیا کہ میں نیا دین لے کر آیا ہوں، پھر اپنے عقائد کے مطابق مقامات مقدسہ پر فوج کشی کی، طائف، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور کربلا کے تقریباً تمام قبے اور مشاہد منہدم کر دیئے، روضہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا کہ "ھذا صنم اکبر" لیکن کسی طرح اس کو نقصان نہیں پہنچا سکا، اپنی کتاب توحید میں لکھا ہے  کہ "اگلے کافر لات، عزی اور سواع کو پوجتے تھےاور اب یہ پچھلے کافر محمد، علی اور عبدالقادر کو پوجتے ہیں،   لہذایہ اور وہ برابر ہیں،  اس نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ خیالات گندےالفاظ میں بدتمیزی کے سا تھ ظاہر کئے،مشرک چونکہ واجب القتل ہوتے ہیں اس لئے ان کلمہ گویوں کوجو اس کے عقائد کے نہیں مشرک قرار دے کران کے قتل میں دریغ نہیں کی، اس کے عقائد یہ ہیں
1۔علماء و ائمہ کے اقوال کو مہمل سمجھتا ہےتقلید شخصی کوغلط کہتا ہے۔
2۔اس کے نزدیک قرآن و حدیث کا مطلب جوبظاہر سمجھ میں آئےوہی قابل عمل ہے۔
3۔اس کی تعلیم عقلیت اور یونانی علوم سے مختلف ہے۔
4۔تصوف اور اصلاحات تصوف کا اس کےیہاں دخل نہیں۔
5۔حضرت امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ کے مذہب کا ادعا کرتا ہے مگراپنے اجتہاد کوان کی رائے سےبہترسمجھتاہے۔
6۔توحیدکا قائل ہے صفات الٰہی کو تسلیم کرتا ہے مگرتشبیہ تجسیم اور تاویل کی نفی کرتا ہے۔
7۔غیراللہ سےاستغاثہ وتوسل کوشرک خیال کرتاہے۔
8۔جناب رسول خدا  علیہ  الصلوٰۃ  والتسلیم کو وسلیہ نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔۔اور آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاو شفاعت کے متعلق اس کا مقولہ ہے کہ ان کو حیات میں یہ حق حاصل تھاعالم برزخ  کی حیات سے انکار ہےاورکہتاہے ہماری یہ لکڑی بہتر ہے اس لئے کہ وہ کام آتی ہے مگر وہ وفات پاگئے  ان سے کوئی نفع نہیں رہا ، وہ ڈاکیہ جیسے تھے،  لہذا گزرگئے،  قیامت میں البتہ انھیں حق شفاعت پھر مل جائے گاجناب رسول  پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ کو ذات  رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ کرکے تسلیم کر تا ہےانبیاء صالحین کی ذات کے واسطہ کو ناجائزسمجھتاہے۔
9۔قبروں پر سلام جائزہےلیکن درخواست دعابدعت اور مکروہ تحریمی ہے زیارت قبور مشروع ہے بشرطیکہ تجاوزنہ کیا جائے۔
10۔منکرکو مٹانے کی وجہ سے وہ قبروں کو منہدم کرتا ہے ۔
11۔اس کے نزدیک اسماء صفات کے علاوہ کسی مخلوق کی پناہ لینا شرک ہے اور غیراللہ کی قسم کھاناخلاف توحیدہے۔
ابن عبدالوہاب سلف صالحین کی پابندی کو صحیح سمجھتا ہے،  اپنے مخالفین کو مرتدوکافرخیال کرتا ہے،  لہذا ان پر تشدد کرنا جائزہے،  ان ہی اصولوں کی وجہ سےوہ عام طور پراہل قبلہ کی تکفیرکرنے کے سبب ملزم خیال کیاجاتا ہےمگروہ جواب میں عمومی تکفیر سے انکار کرتا ہے  لیکن بایں ہمہ اتمام حجت و تبلیغ کی وجہ سے  مکمل تکفیروقتال کا روادار  ہے قبرپرستی اور ظاہری مشرکانہ اعمال کو عملی  کفر کہتا ہے،  مگر علماء اسلام کفر عمل اور کفر اعتقاد میں امتیاز کرتے ہیں ۔ یہ وہابی توحید ربوبیت کو کافی نہیں سمجھتے  بلکہ توحید الوہیت کو اصل سمجھتے ہیں، تمباکونوشی کے خلاف ہیں، مگر قہوہ نوشی ان کے یہاں جائز ہے،  ان لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ جناب رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشین گوئیاں نجدوالوں کے خلاف ہیں ان کے مشاراًعلیہ یہی لوگ خیال کئے جاتے ہیں
          ابن عبدالوہاب کو حکومت کی مددحاصل تھی، ابن سعود یعنی امیردرعیہ عثمان نے اس کی دعوت قبول کرلی تھی اور اپنی صاحبزادی کی شادی بھی اس سے کردی تھی،اس طرح دونوں کو فائدہ ہوااس کی تعلیم ومذہب پر سیاست  کا غلبہ رہا،  اس کی اصلاح کی یہی خصوصیت اس کے مہمل ہونے کا ثبوت ہے۔"
کتاب: سید احمد شہید کی صحیح تصویر
مصنف: وحید احمد مسعود
صفحات : 43، 44 اور 45