Ghalib لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Ghalib لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 13 فروری، 2026

تبصرہ بر کتاب کلیات منقبت غالب

 تبصرہ بر کتاب کلیاتِ منقبتِ غالب

مصنف: اویس قرنی (جوگی جادوگر)

اشاعت: فروری 2026ء

پبلشر: ألقرون پبلشرز، لاہور

صفحات: 320

قیمت: 2200 روپے پاکستانی

طباعتی معیار: مجلد، امپورٹڈ پیپر

ISBN: 978-627-94660-1-3

رابطہ: 00923454809757 

اویس قرنی (جوگی جادوگر) کی تازہ تصنیف “کلیاتِ منقبتِ غالب” اُن کی غالب شناسی کے تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس سے قبل وہ اپنی کتاب “طلسماتِ غالب” کے ذریعے کلامِ غالب کی شرح و توضیح میں ایک معتبر حوالہ کے طور پر سامنے آ چکے ہیں، جبکہ اپنی دوسری تصنیف “جوگ کتھا” میں اُنہوں نے فکری و روحانی اسلوب کا مظاہرہ کیا۔ زیرِ نظر کتاب میں مصنف نے غالب کے اُس منقبتی کلام کو یکجا کیا ہے جو اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام کی شان میں اردو اور فارسی زبان میں تخلیق ہوا۔


کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غالب کے منقبتی اردو کلام کو اصل صورت میں پیش کیا گیا ہے، جبکہ فارسی اشعار کا بامحاورہ اردو ترجمہ شامل کیا گیا ہے تاکہ اردو قارئین بھی اس ذخیرے سے مستفید ہو سکیں۔ چونکہ یہ مجموعہ عمومی قارئین کے لیے مرتب کیا گیا ہے، اس لیے اردو اشعار کی شرح سے گریز کیا گیا ہے اور متن کو سادہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔


اس تصنیف میں غالب کی شخصیت کے اُس پہلو کو سامنے لایا گیا ہے جسے عموماً ان کی شاعری میں کم توجہ ملتی ہے۔ منقبت کے اشعار میں غالب کا اسلوب اپنی فصاحت، عقیدت اور فکری گہرائی کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ مصنف نے ان اشعار کو یکجا کر کے نہ صرف ایک ادبی خدمت انجام دی ہے بلکہ غالبیات کے مطالعے میں ایک مخصوص گوشے کو مستقل عنوان دے دیا ہے۔


 مجموعی طور پر “کلیاتِ منقبتِ غالب” کو غالب شناسی اور مناقب نگاری کے ذوق رکھنے والوں کے لیے ایک اہم اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے یہ کتاب ایک ایسی سنجیدہ کاوش ہے جو تحقیق، ترجمہ اور میرزا غالب کے اہل بیت عظام کے ساتھ عقیدتی پہلو کے طور پر سامنے آئی ہے۔


عبدالرزاق قادری

ہفتہ، 25 مئی، 2024

طلسمات غالب - اویس قرنی

 *بسم اللہ الرحمن الرحیم*



کتاب: طلسمات _ غالب

مصنف: سید اویس قرنی المعروف جوگی

تیسری اشاعت: مئی 2024ء

تبصرہ نگار:عبدالرزاق قادری


یوں تو یہ کتاب کلام _ غالب کی تشریح ہے لیکن اس میں فلسفہ، سائنس، ادبیات، لغات، اور بہت حدیث و سیرت کے واقعات کے علاوہ، قرآن پاک کی تفسیر کے موضوعات جا بجا اختصار اور جامعیت کے ساتھ موجود ہیں، جبکہ تاریخ اور جغرافیہ تو مصنف کا خاصہ ہیں۔

زیر نظر کتاب *طلسمات غالب*، چبا چبا کر پڑھی جانے والی کتاب ہے تاکہ ہضم کرنے میں آسانی رہے۔ مصنف کے بقول اس کی تصنیف راتوں رات وجود میں نہیں آئی، اس لئے اس کے مندرجات میں ایک رات میں پڑھا جانے والا مواد بھی نہیں ہے۔ چونکہ یہ کتاب نہ صرف میرزا غالب کے اشعار کی تشریح پیش کرتی ہے بلکہ ضمنی طور پر بہت سے علوم و فنون کے ساتھ وابستہ موضوعات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

میری رائے میں بعض لوگوں کو یہ کتاب بادام کھا کر پڑھنی پڑے گی، لیکن اس کا مطالعہ کئی ایک کتب سے بے نیاز کر دے گا۔

*اس کے چیدہ چیدہ مطالعہ سے میرے کئی سوالات حل ہوئے ہیں اور امید ہے کہ قارئین کے بہت سے سوالات کے جوابات انہیں اس کتاب میں سے مل جائیں گے*

 

طلسمات غالب، کے مطالعہ سے انا کے بہت سے جھوٹے بت ٹوٹنے کا بھی اندیشہ ہے، جس میں کلام غالب کی شرح کے نام پر نہ قارئین کے دل و دماغ پر ڈھائے جانے والے ستم شامل ہیں بلکہ غالب کی عصری حسیت، خصوصا سائنسی شعور کو نظر انداز کیا جانا نہایت اہم معاملہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بہت سی تراکیب، محاورے اور الفاظ جو کہ لغات (ڈکشنریوں) کی جاہلانہ وضع کے باعث نہ صرف عوام بلکہ *تعلیم یافتہ* محققین کے طبقات میں بھی نہایت اعلی مقام رکھتے تھے ان کی درستی اور وجہ تسمیہ کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔

مختلف اشعار کی تشریح میں جہاں جہاں انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات یا قرآن و حدیث میں سے وضاحت دینے کی کوشش کی گئی ہے وہاں کئی مقامات پر مفسرین سے سرزد ہو جانے والی بھول چوک کی بھی خوب خبر لی گئی ہے جس میں موسی علیہ السلام کے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مصر جانے والی فرضی کہانی اور بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے انخلاء پر، سمندر کے پانی اترنے کی کہاوتوں کو نہایت دلیل کے ساتھ اور مفصل طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔

یعنی اس کتاب سے مطالعہ سے جہاں علمی ذوق رکھنے والے عام لوگ استفادہ کریں گے وہیں تحقیق کے میدان میں اترے طلباء و طالبات سمیت، اساتذہ کرام اور علماء کرام کے ذوق کی تسکین کا سامان بھی وافر مقدار میں موجود ہے۔


طلسمات غالب، میرزا غالب کے 72 (اردو، فارسی) اشعار کی شرح، پانچ سو چوراسی صفحات پر مبنی ہے۔


اس کو راہ ادب کراچی نے شایع کیا ہے۔

کتاب پر تین ہزار روپے قیمت درج ہے۔

اگر یہ کتاب بار بار شایع ہو اور صاحبان ذوق کے مطالعہ میں آ جائے تو اس کے ذریعے ادبی حلقوں (خصوصا نوجوانوں) میں صحمتدانہ ابحاث کا آغاز ہو گا۔

ان شاء اللہ