بدھ، 14 اپریل، 2021
پیر، 11 جنوری، 2021
جمعرات، 13 اگست، 2020
Farhat Abbas Shah - An Introduction - Abdul Razzaq Qadri
فرحت عباس شاہ ۔ ایک تعارف۔ عبدالرزاق قادری
فرحتؔ عباس شاہ 1970ء کی
دہائی کے اواخر سے ادبی جریدوں میں بطورِ شاعر چھپنا شروع ہوئے، آپ ایم ایس سی نفسیات
ہیں اور اس کے علاوہ پاکستان کے پہلے ننجا ماسٹر ہونے کے اعزاز رکھتے ہیں، پاکستان
میں اکثر کراٹے سنٹر آپ کے شاگردوں یا اُن کے شاگروں کے ہیں، پاکستان کے پہلے پرائیویٹ
ٹی وی چینل یونی پلس کا آغاز آپ کی آواز سے ہوا، آپ کے بقول منیرؔ نیازی مرحوم نے
فرمایا تھا کہ ہمارے دور میں ادب نے اپنا وارث فرحت عباس شاہ کو چُنا ہے۔
آپ نے بہت سے ایف ایم ریڈیو چینلز کا آغاز کیا،
اُنہیں کام کرنا سکھایا، اور سوشل میڈیا پر پاکستان کا پہلا معیاری ٹی وی چینل
لاہور ٹی وی لانچ کیا، ریڈیو چینلز میں آپ شہزادہ وریام کے کردار سے معروف تھے،
اور لاہور ٹی وی پر علامہ فورن بغل گیروی کے علاوہ ہٹلر دادا کے کردار سے کام کر
رہے ہیں، آپ خبرناک پروگرام میں ماسٹر جی کا کردار بھی نبھاتے رہے، ادبی حلقوں میں
آپ کی شہرت نہایت اعلیٰ ہے، خصوصاً حلقہ اربابِ ذوق والے آپ کو مُرشد مانتے ہیں،
آپ اپنا کلام تحت اللفظ کے علاوہ ترنم سے بھی سُناتے ہیں اور اپنے کلام کے علاوہ دیگر
شعراء کے بعض گیتوں غزلوں کو آلات کے ساتھ گا کر بھی ریکارڈ کرایا ہے۔ آپ حب اہلِ
بیت میں بھی کلام کہتے ہیں اور بزرگانِ دین کا احترام کرتے ہیں، آپ کے جاننے والوں
میں آپ کا ایک وصف عاجزی اور نرم گوئی بہت معروف ہے۔
فرحت عباس شاہ 58 سے زائد شعری مجموعوں کے شاعر
ہیں اور اسلامک مائیکروفنانسنگ پر انگریزی میں پہلی کتاب لکھ کر بین الاقوامی مالیاتی
اداروں اور یونیورسٹیز میں سود کے خاتمے کے لیے ایک مشن میں مصروف ہیں۔ مفلس و
نادار لوگوں کو اپنے کاروبار کا شراکت دار بنانے کے لیے آپ نے (ایک اپنا ایک مکان
بیچ کر) فرض فاؤنڈیشن کا آغاز کیا تھا، جو بوجوہ آہستہ روی کا شکار ہو کر محدود ہو
کر رہ گئی ہے۔
فرحت عباس شاہ نے کبھی
نوکریوں کے پیچھے دوڑ نہیں لگائی اور نمود و نمائش کے قائل نہیں رہے، آپ کبھی ادب
کی خدمات کے لیے قومی سطح پر دئیے جانے والے ایوارڈز اور تمغات کے تمنائی نہیں
رہے، کچھ ادبی حلقوں کی جانب سے آپ کے شعری کلام کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا لیکن فرحت
عباس شاہ نے کبھی اس جنگ کا حصہ نہیں بنے، اور اپنی توانائیوں کو صحت مند سرگرمیوں
میں صرف کرتے ہیں۔
آپ 1964ء میں پیدا ہوئے
اور آج 2020ء میں آپ کی عمر 50 برس سے زیادہ ہوگئی ہے، لیکن وہ آج بھی ہشاش بشاش
نظر آتے ہیں اور فعالیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہیں۔ 1980ء اور نوے کی
دہائی میں آپ کا کلام نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن چکا تھا اور آپ کی کتابوں کا
انتظار کیا جاتا تھا، آپ نے ”شام کے بعد“ کے عنوان سے ایک سدا بہار غزل لکھی جس کو
آفاقی شہرت نصیب ہوئی، اور اس کے بعد آپ نے کئی اور غزلیں بھی” شام کے بعد“ردیف
کے ساتھ لکھیں، اور ان کیا ایک اور شہرۂ آفاق غزل” اداس شامیں اجاڑ رستے کبھی
بلائیں تو لوٹ آنا “بہت معروف ہے، جسے اُن کے بیٹے سمیر عباس نے گایا بھی ہے۔
٭ سن 2016ء میں میرا لکھا ہوا ایک اور مضمون فرحت عباس شاہ
ہفتہ، 2 مئی، 2020
پیر، 20 اپریل، 2020
Pehla Roza ramzan da Naat Lyrics in Urdu
مولوی محمد بخش۔ گلشن رنگیلاؔ لائلپوری (فیصل آبادی)
پہلا روزہ رمضان دا چند رحمت چڑھیا
کالا منہ شیطان دا، رب سنگلیں کڑیا
دوجا روزہ رمضان دا، در جنت کُھلے
ایس مہینے دی رحمتوں، نیک رہن نہ بُھلے
تیجا روزہ رمضان آیا، جگ دُھماں پیاں
لہندے چڑھدے پیاریا، سب خبراں گیاں
چوتھا روزہ رمضان دا اُٹھ جاگ سویرے
سوہنا رنگ اَسمان دا، پائے رحمت پھیرے
پنجواں روزہ رمضان دا پڑھ پنج نمازاں
راضی کر رحمان نوں لے جنت نازاں
چھیواں روزہ رمضان دا، چھڈ چوری یاری
ترک نہ عیب نوں، قسمت جنہاں دی ماڑی
ستواں روزہ رمضان دا، کر منزل پوری
واہ واہ شان قرآن دا ملے قُرب حضوری
اٹھواں روزہ رمضان دا اُٹھ غفلت چھوڑیں
کیوں نئیں حق پچھان دا، دل رب نال جوڑیں
نوواں روزہ رمضان دا، نِت رحمت تازی
رلنڑ جماعتی شوق تھیں، آ کُل نمازی
دسواں روزہ رمضان دا، ہویا پُورا دھاکا
ایہہ خاص دیدار خُدا دا، ایہنوں سمجھ نہ پھاکا
کُوچ دے ویلے پیاریا فِر دل پچھتاوے
باراں روزے رمضان دے، ملن باغ بہاراں
روزے داراں واسطے جنت گلزاراں
تیراں روزے رمضان دے تُوں رئیں نہ بُھلا
نیکوکاراں واسطے، در جنّت کُھلا
چوداں روزے رمضان دے، چن رحمت والا
دِل اندر انسان دے کرے نُور اجالا
پندراں روزے رمضان دے، اَدھ ونجلی آئی
صابراں عاشقاں دیکھ کے، ادھی واٹ مُکائی
سولاں روے رمضان دے، سب کاراں چھڈو
وِچ مسیتاں آنڑ کے جھنڈا بندگی گَڈو
ستاراں روزے رمضان دے، سُکھ آون گھڑیاں
روزے داراں واسطے حوراں طالب کھڑیاں
اٹھاراں روزے رمضان دے، اکھیں کھول پیارے
ایہہ مہینہ بندگی، چھڈ ہور پواڑے
اُنّی روزے رمضان دے، کر اللہ اللہ
قبر دے اندر مومناں، ہووے نور تجلیٰ
وِیہہ روزے رمضان دے وت نہ آون تیرا
اِس دُنیا تے پیاریا مڑ مشکل پھیرا
اِکّی روزے رمضان دے، روزے رمز نیاری
اس وِچ عشق جناب دا، کہیا نبی غفاری
بائی روزے رمضان دے، بس تھوڑے رہ گئے
سُن لے رب دے عاشقا، ہُن موڑے پے گئے
تیئی روزے رمضان دے، تُوں باز نہ آیا
پڑھ نماز سیس نوں وچ سجدے پایا
چووی روزے رمضان دے، چڑھ نور دے بیڑے
درجے ملن جناب توں، روزے رکھن جیہڑے
پنجی روزے رمضان دے، ہو پاک گناہوں
بخشش منگ رنگیلیاؔ، ہووے فضل الٰہوں
چھبی روزے رمضان دے، چھپ بیٹھ علیحدہ
نام جہدا اعتکاف ہے، ایہہ ذکر دا قاعدہ
ستائی روزے رمضان دے شب قدر پیاری
دس سو سالاں بندگی، جو جاگے رات ساری
اٹھائی روزے رمضان دے، اُٹھ سرگی کھالے
توبہ کرلے، سوہنیا، دل پاک بنالے
انتی روزے رمضان دے ، اج چند تیاری
خوشیاں روزے داراں نوں ویکھے خلقت ساری
تریہہ روزے رمضان دے چڑھیا چن پیارا
روزے رکھن والیاں ہویا پاک اوتارا
عاشقاں والی رنگیلیاؔ ہوئی منزل پوری
صابراں تے ہور شاکراں ملے قرب حضوری
عید والا دن آگیا، کر غُسل پیارے
پا کے نویں پوشاک نوں کر سیر بازارے
غصے گلے نوں جان دے مل ساریاں یاراں
تیل وی خوشبو لاونی، کیہا شہہِ ابراراںﷺ
صدقہ دیہہ محتاج نوں ہور کُل غریباں
پڑھ درود، رسُولﷺ تے، مِل یار عزیزاں
رل کے نال جماعت دے پڑھ عید پیاری
خطبہ سُن لے بیٹھ کے ہووے رحمت باری
چارے نفل گزار کے فِر منگ دعائیں
آکھ سلام رواں ہو ہر مومن تائیں
خیریں خاتمہ سال ہے، فِر خیریں آوے
کلمہ پاک رسول دا پڑھ بول سناوے
کمپوزنگ: عبدالرزاق قادری


