یا
ڈیڑھ دو ماہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں
بم دھماکے
یا اسی طرح کی
دہشتگردانہ سرگرمیوں کی مشق نظر آتی ہے جو کہ بادیء النظر میں کسی خاص منصوبے کے لیے دنیا کا ماحول تیار ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
پاکستان میں حالیہ واقعے سے قبل آسٹریلیا میں بھی ایک حملہ ہوا تھا۔
اس ضمن میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ وینزویلا کے صدر کو امریکی فوجی پکڑ لاتے، صدر کی اپنی سکیورٹی کہاں تھی اور کیا ان کی کسی کے ساتھ ڈیل ہو چکی تھی؟ اس طرح آسٹریلیا میں حملہ ہوا تو آسٹریلیا کی ایجنسیاں جھک مار رہی تھیں؟ پاکستان کے دارالحکومت میں دھماکہ ہوا تو پاکستان کے ادارے بے خبر تھے؟
اگر کسی ایک مسلک یا فرقے کی مسجد میں دھماکہ ہوگا تو مختلف قسم کی آراء گردش کرتی ہیں یعنی جتنی زیادہ تقسیم ہوگی، لوگ ایک دوسرے کے خلاف بولیں گے، قبرستان میں میلا لگا رہے گا تو سنجی گلیوں میں مرزا یار ناچتا گھومتا پھرتا رہے گا۔
کیا اسلام آباد میں اس دردناک سانحے کے بعد لاہور میں کسی عظیم الشان جشن کی تقریبات کو ملتوی نہیں کر دینا چاہیے تھا؟
لیکن ہمیں *زندہ دلان لاہورئیے* ہونے کا لقب کون دے گا۔ دنیا جائے بھاڑ میں، ہم تو جشن منائیں گے، دھاتی تار سے لوگوں کے گلے کٹیں گے۔ بار بار بجلی کے ٹرانسفارمر بند ہوں گے۔ چھتوں سے بچے بڑے گر کر مریں ہماری بلا سے۔
موٹر سائیکل سوار خطرات کی زد میں رہیں کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔
صرف شہنشاہ اعظم کے لئے تقریبات ہوں اور قوم کے سر پر جوتے پڑتے رہیں۔ قوم خوش رہے گی۔ پرویز مشرف کے دور میں مولویوں نے بسنت کے خلاف اتنی کتابیں لکھیں اسے کفریہ عمل کہا کہ لگتا تھا کہ مولوی سچ بولتے ہیں لیکن یہ کیا اب تو سب مولویوں کو سانپ سونگھ گیا۔ ان کے سب احتجاج عمران خان کے دور میں تھے تب جہلم سے نئے اگنے والے انجنیئر کو بھی سورہ المائدہ کی آیت اور سنن ابی داؤد کی حدیث کی رو سے بسنت حرام، کفر، قابل مذمت اور اموات پر 100 اونٹ کی دیت (خون بہا کی رقم) نظر آتی تھی آج اسی انجنیئر کو پتنگ بازی میں اپنی ذاتی پسند نظر آتی ہے آج اس کی لاجک بدل گئی آج وہ ڈفر کہتا ہے کہ پھر تو تم کرکٹ کو بھی انگریزوں کا کھیل کہہ کر حرام کہہ دو گے۔ جناب عالی! آپ نے ہی خود قرآن پاک کی آیت اور حدیث میں سے فرمایا تھا کہ عمران خان کے وزراء خود اپنی ہی جماعت پر حملے کرتے ہیں اور یہ بسنت میں قتل ہونے والوں کی دیت کون دے گا۔
اب آپ کی جانے کون سی فائلز ایسی دبی ہوئی ہیں کہ آپ کو ایکسپوزیشن کا ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر سچ بولا تو میری فائلز منظر عام پر آ جائیں گی۔ ایڈا توں انجنیئر
اب نہ کوئی بریلوی بولا، نہ وہابی۔۔۔!!! سب کو امن ہی امن کی آشا دکھائی دے رہی ہے سب گناہ بےنظیر، پرویز مشرف اور عمران خان کی حکومت میں نظر آتے تھے۔ اس کے بعد مولویوں کی زبانیں گنگ ہو گئیں، انہیں *اولی الامر* والی آیت یاد آ گئی۔ 2022ء کے اپریل تک جابر حکمران کے سامنے کلمہء حق کہنے والی حدیث یاد تھی، اور جس جابر حکمران کے لیے وہ حدیث تھی اس کے متعلق بولا جائے تو مولوی کفر کا فتوی لگاتا ہے۔ حقیقتا" ان جاہل مولویوں کے خطابات، فتاوی جات اور بکواسیات کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ یہ دنیا کے کتے ہیں اور اس دنیا کے لالچ میں بقول اقبال
خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
