اتوار، 30 دسمبر، 2012

ہزار سیپ ہوں ہر سیپ میں جو ہر نہیں پیدا۔ از محمد کامران اختر

ہزار سیپ ہوں ہر سیپ میں جو ہر نہیں پیدا۔ از محمد کامران اختر

یہ ماہنامہ نوائے منزل کے چیف ایڈیٹر محمد کامران اختر کی تحریر ہے۔ جس میں مفتی اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد ارشد القادری کی حیات و خدمات پر ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے۔ جو ماہنامہ نوائے منزل کے اکتوبر 2012 کے شمارے میں شائع ہوئی
This article has been written by Muhammad Kamran Akhtar, Chief Editor Monthly Nawa-i-Manzil. He had a bird's view on Biography and Services of Mufti e Azam Pakistan Allama Maulana Muhammad Arshad ul Qadri.

جمعہ، 28 دسمبر، 2012

محمد دانش کو سالگرہ مبارک

محمد دانش میرے ان دوستوں میں سے ہیں جن سے انٹرنیٹ کی دنیا پر رابطہ ہوا۔ وہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ اسلام اور 
پاکستان سے محبت ان کا خاصہ ہے۔
محمد دانش کو ڈھیروں خوشیاں نصیب ہوں اور سال گرہ مبارک ہو۔ زندگی کے نئے سال کو اللہ عز وجل آپ کے لیے بابرکت بنائے۔ آمین
ان سے موبائل فون پر اکثر خط و کتابت رہتی ہے۔ وہ ملکی وغیر ملکی سیاسی خبروں پر مکمل نظر رکھ کر تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
آج مجھے گوگل پلس پر ان کی سالگرہ کا پتہ چلا۔ مارے خوشی کے جناب کو مبارک دینے کے لیے یہ مراسلہ لکھ رہا ہوں
مختلف طرح کی تصاویر ان کی معصومیت اور ایک کھرے انسان کے چہرے کو سامنے لاتی ہیں
ان سے ایک بار ملاقات ہوئی تھی وہ میرے پاس داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے دربار تشریف لاائے تھے
چائے کا ایک دور بھی چلا تھا
اس دن کی روئیداد اپنی ایک ڈائری میں میں نے لکھی تھی
مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ جب سے محمد دانش سے فیس بک پر ان کا رابطہ نمبر لیا تب سے ہم بتدریج گہری دوستی کے رشتے میں بندھے جا رہے تھے۔ آج وہ وقت ہے کہ دن بھر خبروں پر تبصرے اور تبادلہ خیالات جاری رہتا ہے۔ صبح جاگنے سے سونے ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔
پچھلے دنوں عالم مغرب کی جانب سے ایک گستاخانہ فلم کے بعد میری منتشر ذہنی حالت کو سنبھالنے کے لیے دانش نے بہت سہارا دیا۔

محمد دانش کے دو عدد بلاگ بھی ہیں۔ ابھی تک اردو انہیں ٹائپ کرنا نہیں آتی۔ 
ایک بلاگ سپاٹ پر ہے
دوسرا ورڈ پریس پر ہے
وکی پیڈیا پر بھی بطور صارف ان کا صفحہ موجود ہے


ابھی بقید حیات ہیں۔ اللہ ان کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے آمین

ہفتہ، 22 دسمبر، 2012

مولانا شاہ احمد نورانی کا پہلا اور آخری دیدار عبدالرزاق قادری


’’پرویز مشرف کی حکومت کہتی ہے کہ عراق پر حملے میں امریکی مؤقف کا ساتھ دے کر ہم نے اپنی معیشت کو مضبوط کر لیا۔ اس کی مثال اُس بدکار فاحشہ عورت کی سی ہے جو بدکاری کرکے مال و دولت کمائے، پھر اس دولت سے اپنے گھر میں سجاوٹ کی چیزیں لا کر رکھے، جب اُس کا گھر مزین ہو جائے تو وہ کہے کہ دیکھو میرا گھر کتنا خوبصورت ہے۔‘‘
یہ اُس تقریر کا خلاصہ ہے۔ جو مولانا الشاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سے میں نے 8 اپریل 2003 کی سہ پہر مال روڈلاہور پنجاب صوبائی اسمبلی کے سامنے میں نے خود اپنے کانوں سے سنی۔ مری عمر اس وقت 17 سال 19 دن تھی۔ اس سے پہلے جب عراق پر حملہ ہونے جا رہا تھا تو میں نے موری گیٹ لاہور میں ایک روزنامہ کی شہ سرخی دیکھی تھی جس کا لب لباب تھا کہ پاکستان کو ایک خطیر رقم عطا کی جائے گی کیونکہ پاکستانی حکومت امریکی یلغار کے حق میں ہو چکی تھی۔


یہ میری زندگی میں مولانا شاہ احمد نورانی کا پہلا اور آخری دیدار تھا۔ ہم ان دنوں جامعہ حنفیہ عنایت صدیق نزد داتا دربار ہسپتال (آنکھوں والا ہسپتال) کچا رشید روڈ عقبی جانب داتا دربار میں پڑھتے تھے۔ اُس جامعہ سے آٹھ یا دس طلباء آئے تھے۔ ہم چند لڑکے سولہ،سترہ سال کی عمر کے تھے اور دیگر ہم سے عمر میں بڑے تھے۔ میرے ساتھیوں میں سید محمد حسنین شاہ ، شبیر شاہ اور دیگر تھے(ان میں مظفر گڑھ کا بھی ایک جوان تھا جس کا مصدقہ نام اس وقت یاد نہیں)۔ہم ناصر باغ(گول باغ) کی جنوبی طرف مال روڈ پر جمع ہوئے۔ وہاں جامعہ نظامیہ لاہور اور جامعہ نعیمیہ لاہور اور دیگر اداروں کے طلباء موجود تھے اور مزید چلے آ رہے تھے۔ ان میں سے چند ہمارے جاننے والے بھی تھے۔ مثلاً علامہ رمضان رضا(جو پہلے رمضان ابراری ہوتا تھا) وہ جامعہ نظامیہ سے آیا تھا۔ اس نے انگریزی میں ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا۔ وہاں پولیس اہلکار بھی خاصی تعداد میں تھے۔ میں اپنے ساتھیوں کو الفریڈ وولنر کے مجسمے کی طرف اشارہ کرکے اس کی بابت کچھ غلط بتا رہا تھا۔ ایک پولیس والے نے ہمیں کہا ’’کتھے پڑھدے او؟ تہانوں تہاڈے اُستاد نے اے وی نہیں دَسیا کہ اے کسدا مجسمہ اے(کہاں پڑھتے ہو؟ آپ کے معلم نے آپ کو اس مجسمے کا بھی نہیں بتایا کہ یہ کس کا ہے)‘‘ چند ایک ٹرک نما گاڑیاں تھیں۔ جن پر قائدین سوار تھے۔ ناصر باغ سے آگے کو بڑھے تو آگے پولیس کی رکاوٹیں تھیں۔ بیریئر لگے ہوئے تھے۔ پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے۔ ٹرک میں سے اعلان نشر ہونا شروع ہوا۔
’’قائدین کَہ رہے ہیں رُک جاؤ، آگے مت بڑھو، رُکاوٹیں نہ ہٹاؤ، پولیس سے مت اُلجھو، قائدین کا حکم مانو، رُک جاؤ، قائدین کا حکم ہے کہ رُک جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
لیکن طلباء کا ہجوم ایک سمندر کی مانند تھا۔ میں بہت حیران اور پریشان بھی ہوا کہ یہ قائدین کے حکم کو تسلیم کیوں نہیں کررہے۔ایک رکاوٹ کو کھولا، بیریئر ہٹائے، دوسری کو ، تیسری کو۔۔۔۔۔(پولیس نے تحمل کا مظاہرہ کیا) اور قومی اسمبلی کے سامنے تک جا پہنچے۔ دائیں طرف نقاب پوش عورتوں کا قافلہ نظر آیا۔ وہ بھی چوک کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ان کے ہاتھوں میں مولانا شاہ احمد نورانی کے پورٹریٹ تھے۔
مجھے طلباء کی نافرمانی اور جوش پر ایک دُکھ ہوا۔ کیونکہ میرے خیال میں جب کسی کو اپنا امیر مان لیا تو اس کے حکم کو تسلیم کرنا ضروری امر تھا۔ بہرحال وہاں چوک میں مَیں نے اور ایک دو ساتھیوں نے باقاعدہ کھڑے ہو کرتقریر نہ سنی بلکہ اِدھ اُدھر ٹہلتے رہے اور سنتے رہے۔ اور ایک جگہ پانی پلا یا جا رہا تھا شاید وہاں سے پانی بھی پیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ’’احتجاجی ریلی‘‘ کے اختتام پذیر ہونے سے قبل ہی ہم چند دوستوں نے واپسی کی راہ لی۔
اگر مجھے اُس وقت علم ہوتا کہ یہ ہستی جو ٹرک سے دھیمے اور باوقار لہجے میں ٹھوس دلائل سے باتیں کرکے حکومتی ایوانوںمیں تہلکہ مچا رہی ہے۔ یہ اس وقت عالم اسلام کا سب سے بڑا لیڈر ہے۔ یہ وہ بندہ ہے جسے قائد اہلسنت اور قائد ملت اسلامیہ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اس بندے کی کسی اتنے بڑےجلوس میں یہ آخری تقریر ہے۔ اور اس کے بعد ان کی وفات کی خبر 12 دسمبر 2003ء کے اخبار میں مَیں پڑھوں گا۔ وہاں ان کے بیٹے مولانا انس نورانی کو جنازہ پڑھاتے ہوئے دیکھوں گا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی پاکستان کے اسلامی دینی اور سیاسی میدان سب سے عظیم شخصیت ہیں۔ تو میں کم از کم ان تک پہنچنے کی کوشش کرتا اور ضرور مصافحہ کرتا یہ بہت بڑی سعادت ہوتی۔ ہمارے جامعہ میں بجلی کے ایک سوئچ بورڈ پر ’’جئے نورانی‘‘ کسی بورڈ مارکر سے لکھا ہوا تھا۔ میں سوچا کرتا تھا کہ یہ کس نورانی کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ کیونکہ مجھے کسی شخص کی خاص طور پر کسی عالم دین کی اس قدر پذیرائی کا ادراک نہ تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ یہ جو میں بڑا منہ پھاڑ کے کہتا ہوں کہ مرزائیوں کو پاکستان کی اسمبلی نے کافر قرار دیا ہواہے یہ بھی اُسی مولانا نورانی کی محنتوں کا ثمر تھا۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ جمیعت علماء پاکستان کے صدر وہ ہیں۔ ورلڈ اسلامک مشن کے چیئرمین وہ ہیں۔ پوری دُنیا میں ان کے شاگرد موجود ہیں۔ ایک بار داتا دربار پر موریطانیہ سے آئے ہوئے ایک علامہ نے بتایا وہ بھی مولانا نورانی کے شاگرد ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا ایک جوان سال بیٹا بھی تھا۔ وہ اردو میں بھی بات کرلیتے تھے۔ وہ اپنے نام کے ساتھ نسبتاً ’’نورانی‘‘ لکھتے تھے۔

’’سنی کانفرسوں‘‘ اور ’’یارسول اللہ کانفرنسوں‘‘ کے روح رواں وہ ہیں۔ تحریک پاکستان میں ایک طالب علم لیڈر کی حیثیت سے حصہ لیا۔ “تحریک نظام مصطفیٰ” کوجاری کیا اور پوری قوم کو اس کے گرد گھما دیا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے، امام اہل سنت مجدد دین و ملت کے خلیفہ (حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی )کے بیٹے اور حقیقی جانشین ہیں۔ اور پیرانہ سالی میں انتہائی فعال ہیں۔ سترہ زبانوں کو ان کے لہجے میں بول لینے کاکمال رکھتے ہیں۔ ملی یکجہتی کونسل کے بھی وہی بانی اور چیئر مین ہیں۔ اپنے اور بیگانے ان کو صاف دامن اور بے داغ سیاست دان مانتے ہیں۔ اہل سنت وجماعت کے علاوہ دوسرے مسالک کے علماء بھی ان کو اپنا بزرگ تسلیم کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کےانتخاب کے لیے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے مد مقابل صرف وہی آئے۔ یہ دعوت اسلامی بھی انہی کی بنائی ہوئی تحریک ہے۔ ان کا پسندیدہ شعرتھا۔
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
اس شعر کو بطورِآٹوگراف وہ بچوں کی ڈائریوں میں لکھ دیتے تھے۔ ایک نوجوان رانا محمد ارشدنے یونیورسٹی میں ان سے آٹو گراف مانگا۔ انہوں نے یہی شعر لکھ دیا۔ اُس نوجوان کی کایا اس ایک شعر نے پلٹ ڈالی۔ اور وہ دین کا مبلغ بن گیا۔مجھے کیا خبر تھی کہ جب میں کسی کے ہاتھ پر بیعت کروں گا تو میرے پیر و مرشد محمد ارشد القادری بھی اسی ہستی سے تربیت یافتہ ہوں گے۔ مجھے اُس وقت یہ خیال بھی نہ تھا کہ آنے والے وقتوں میں ان کی سی۔ڈی بازار سے لے کر ان کی تقریریں سُنا کروں گا اور انٹر نیٹ پر ان کے بارے میں سرچ کیا کروں گا اور کتابوں رسالوں سے معلومات اکٹھی کرکے انٹر نیٹ پر لکھا کروں گا۔ اور اگر ان سے متعلقہ کوئی بھی رسالہ ،کتاب یا کسی بھی ذریعے سےمعلومات ملا کریں گی تو ان میں میری خاطر خواہ دلچسپی ہوا کرے گی۔ ہاں! ایم۔ایم۔اے(متحدہ مجلس عمل) کا مجھے پتہ تھا لیکن شاید بانی اور صدر کا علم نہ تھا۔وہ مردِ حق پرست 16 شوال 1424ھ بمطابق11 دسمبر2003ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔ وہ مدینہ طیبہ میں دفن ہونے کی خوہش رکھتے تھے بالآخر انہیں کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار (کلفٹن) کے احاطے میں ان کی والدہ کی قبر کے پاؤں والی جانب دفنایا گیا۔ پچھلے دنوں 18 جنوری 2004 کو مدون کرکے شائع کیا گیا مجلہ “انوار رضا” ملا۔ جس میں مولانا کے حوالے سے اخبارات و جرائد اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا بھر سے تاثرات اور معلومات درج کی گئی ہیں۔ اسے ملک محبوب الرسول قادری نے جوہرآباد سے شائع کیا۔ اس کے سرورق پر لکھا ہوا ہے۔
کربلائے عصر میں وہ وارثِ حضرت حسین
اور یزیدوں کے لیے وہ موت کا پیغام تھا

پیر، 3 دسمبر، 2012

"یارسول اللہ" کی کثرت کیجئے


ساجد بھائی نے  اردو محفل فورم پر سوال کیا اعلیٰ حضرت کے اس شعر پر

غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل

"یارسول اللہ" کی کثرت کیجئے

"مجھے ایک سوال پوچھنا ہے کہ جو مسلمان ”یا رسول اللہ “ نہ کہے کیا وہ بے دین ہو جاتا ہے؟۔ جبکہ دینداری کا اسلامی معیار تو اللہ کی توحید اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی ماننا ہے ، اس میں تو ”یا رسول اللہ“ کہنے کی شرط نہیں ہے۔"
اقول و باللہ التوفیق
جی سر! یہ ایک علمی گفتگو ہے۔ اس کو علمی سطح پر ہی جانچا پرکھا جائے ۔ انگریزی وکیپیڈیا میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری کے تنقید والے حصے میں لکھا ہے کہ انہوں نے علماء دیوبند کی تکفیر کی۔ اس کی وجہ کچھ لوگ ان کی عشقِ رسول میں حد درجہ مبالغہ آرائی کو قرار دیتے ہیں۔ یہ سراسر زیادتی ہے کہ عاشق رسول کو عشق کی وجہ سے کفر کے فتوے دینے والی مشین سمجھ لیا جائے۔ ہمارے ہاں کچھ نعت خواں بھی اسی سوچ کے مظہر ہیں۔ کہتے ہیں کہ  کہ وہ کالی کوئل نے جواب دیا میں عشق رسول میں جل کر کالی ہو چکی ہوں۔ یہ بھی زیادتی و ظلم والی بات ہے کہ عشقِ رسول  میں غرقاب بندے کو کالا، جلا ہوا  یا مجنون سمجھ لیا جائے اور اسے عقل و دانش سے بے بہرہ گردانا جائے۔
یو ٹیوب پر علامہ محمد ارشدالقادری کے سوال و جواب والے جو کلپس ہیں۔ ان کا لنک یہ ہے۔
میں اس وقت یہ ویڈیو دیکھ نہیں سکتا۔ پاکستان میں یوٹیوب بند ہے۔
اس وجہ سے مجھے ایگزیکٹ کلپ کا بھی اس وقت یقین نہیں۔ لیکن انہی میں سے کوئی ایک ہوگا۔
یہاں اس سوال کے جواب میں کہ کیا صحابہ نے نبی پاک کے وصال کے بعد "یارسول اللہ" کا نعرہ لگایا۔
 علامہ نے بتایا کہ جنگ یمامہ جو کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں سن 13 ہجری میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی اس میں صحابہ نے اپنا کوڈ ورڈ
(Code Word)
رکھا تھا  "یا رسول اللہ" کا نعرہ۔ کیونکہ مسیلمہ  کذاب کے ہرکارے بھی "اللہ اکبر" کا نعرہ لگاتے تھے۔ صحابہ کو حکم تھا کہ جو کہے "اللہ اکبر، یا محمدَ یارسول اللہ" اس کو چھوڑ دو۔ جو "یا محمدَ یا رسول اللہ" نہ کہے  اسے قتل کر دو۔ اس کا حوالہ وڈیو کلپ میں موجود نہیں۔ لیکن میں نے خود پوچھا تھا۔ انہوں نے(مفتی محمد ارشدالقادری نے) تاریخ "وفا ء الوفاء" اور "البدایہ والنھایہ لابنِ کثیر" کا بتایا کہ ان کتب میں  یہ واقعہ موجودہے۔

پھر نماز میں "السلام علیک ایھاالنبی" کا بیان ہے۔ اسلام کے سب ماننے والے نماز میں پڑھتے ہیں۔ پہلے(بعد از وصال نبوی) صحابہ نے منع فرما کر  "السلام علی النبی" کا فتویٰ دیا۔ لیکن پھر رجوع فرما کر  نماز میں "السلام علیک ایھا النبی " پڑھنے کا فتویٰ  دیا۔ اس کا حوالہ قاضی عیاض مالکی کی کتاب  الشفا بتعريف حقوق المصطفى سے دیا ہے علامہ نے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز میں سلام بطور واقعہ ہے۔ مثلاً واقعہ معراج میں اللہ کی طرف سے سلام کو بطور تذکرہ پڑھا جاتا ہے۔ لیکن میری نظر سے مفتی محمد خان قادری  کی کتاب " یارسول اللہ کہنا امت کا متفقہ مؤقف " اور ایک عرب عالم  کی کتاب کا اردو ترجمہ"پکارو یا رسول اللہ" قبلہ مفتی محمد عبدالحکیم شرف قادری کے قلم سے گزرا ہے۔جن میں اس موضوع  کی ابحاث کو تفصیلاً سمیٹا گیا ہے کہ یہ سلام نماز میں بطور سلام ہی ہے۔ بطور واقعہ نہیں۔
ایک اور دلیل اگر بطور واقعہ سمجھا جاتا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علہھم اجمعین پہلے سلام سمجھتے ہوئے منع نہ فرماتے۔ بعد میں حکم دینا سلام کے جواز کی دلیل ہے۔
اسی نوعیت کے لا تعداد واقعات کتب تواریخ اور کتب احادیث سے ملتے ہیں۔
حال ہی میں جب امریکی گستاخوں کی طرف سے ایک گستاخانہ فلم بنائی گئی تو اُس کے بعد پوری دُنیا خصوصاً عرب دُنیا کے لوگوں نے جو پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے ان پر یہ نعرہ جابجا درج تھا "لبیک یا رسول اللہ"۔
وہ بینرز بریلی شریف سے بن کر نہیں گئے تھے بلکہ عالَم اسلام کے مسلمانوں کے عقیدے کا اظہار تھا۔
رہا  آپ کا سوال
"مجھے ایک سوال پوچھنا ہے کہ جو مسلمان ”یا رسول اللہ “ نہ کہے کیا وہ بے دین ہو جاتا ہے؟۔ جبکہ دینداری کا اسلامی معیار تو اللہ کی توحید اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی ماننا ہے ، اس میں تو ”یا رسول اللہ“ کہنے کی شرط نہیں ہے۔"
اس کا جواب میری رائے میں یہ ہے کہ
جب نماز میں شرط ہے تو باہر بھی ہونی چاہیے
اگر یا رسول اللہ پُکارنے کو شرک قرار دیا جائے تو یا تو پُکارنے والا شاید "بے دین" ہو۔ یا مُشرک کہنے والا خود بخود "بے دین" ہو جائے گا۔ دونوں میں سے ایک پر اس کا لزوم ہے۔
جو لوگ تھوک کے لحاظ سے مسلمانوں کے مسلّمہ عقیدے کی وجہ سے اُن پر فتوے لگائیں تواُن "بے دینوں" کے دل غیظ میں جلانے کے لیے "یا رسول اللہ" پُکارنے کی کثرت کا کہا گیا ہے۔
جب صحابہ کرام نے ایمان کی علامت جنگ یمامہ میں "یا محمدَ یا رسول اللہ" کے نعرے کو قرار دیا۔یہ ایمان کی علامت ہے۔ تو یہ شرک تو نہ ہوا۔ صحابہ کرام سے بہتر توحید کون جانتا ہے۔
یہ گزارشات میری بساط کے مطابق ہیں۔ نہ کوئی فتویٰ ہے۔ اور نہ کوئی لٹھ بردار دھونس۔
اب جس کے جی میں آئے وہ پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کر سرِعام رکھ دیا