بدھ, جنوری 17, 2018

ELearning Holy Quran in Australia

E-Learning Holy Quran has been providing the services of Quran teaching in different cities of Australia since 2012. Students from #Sydney, #Perth, #Wodonga, #South Hedland, #Canberra and some other cities have been studying #Quran, #Tajweed, #Namaz, #Duaa, #Kalimat and #Tafseer #lessons #online with our well qualified and expert teachers for years. The trust of their parents upon our services is our guarantee, because we are committed to provide quality education to make sure that our students must be able to lead their lives in the light of Islamic teachings and demonstrate themselves as good humans in this world and get their reward in the hereafter.
http://elearningholyquran.com/contactus.html

منگل, جنوری 9, 2018

Excel your child in Islamic Education with E-Learning Holy Quran dot Com

It is the best trade to equip our children with Islamic Education of Quran and Other Necessary Routine wise things like Salaah, Kalimas and Short Suras of The Holy Quran. We know if we provide our kids proper basic Islamic Knowledge and information, it would be a great reward for us in This World and in Hereafter. So, there are numerous Institutions which are providing the Services regarding Teachings of Quran and Islam online, E-Learning Holy Quran also is one of these Institutions.

        E Learning Holy Quran has expert Muslim Teachers to teach the Quran to you or your kids, with Tajweed Rules and other Islamic teachings with the help of authentic sources. These Teachers are Scholars of Traditional Islamic Rational Sciences and also having Degrees of Modern Education from University. They have knowledge about Applied Sciences like Arabic/Persian/Urdu and English Grammar, Logic, Philosophy, Mathematics, Algebra, Tajweed-o-Qirat of The Holy Quran, Translation and Commentary of The Holy Quran and Hadith with its Meanings.

        It is very easy to Sign Up with us and to start the lessons. A Student requires a computer/laptop and internet connection to begin with us. We use Skype Software to talk and Team viewer Software to share the screen of Teacher to show the lesson to the student. E Learning Holy Quran was launched in January 2012. It has achieved many goals with respect to equip its students throughout these 6 years. We welcome students of all ages from 4 years to on-wards.

        Online Quran Learning has some features which make it better than offline Services.
1. Saving of Time
2. Saving of Travel
3. One on One classes
4. Personal Teacher for each Student
5. Learning before the eyes of Parents
6. Knowing that who is teaching your kids
7. Make Up class in case of missed lessons
8. Progress report at each goal
9. Responsible Administration

http://www.elearningholyquran.com/contactus.html

جمعہ, جنوری 5, 2018

ای لرننگ ہولی قرآن کو چھ سال مکمل ہو گئے

دسمبر 2011ء کو میری پہلی ملاقات محمود صاحب کے ساتھ ہوئی تب وہ اس ادارے کو لانچ کرنے کا سوچ رہے ان کے زیرِ اہتمام ایک کال سینٹر چند سال پہلے سے کام کر رہا تھا جس کے ذریعے وہ دوسرے ممالک میں بزنس ٹو بزنس خدمات فراہم کر رہے تھے، میں نے اپنی ملاقات میں آن لائن قرآن ٹیچنگ کے حوالے سے اپنا تجربہ اور معلومات کا تبادلہ کیا تو انہوں نے مجھے کال بیک کا کہہ دیا چند روز بعد کال آئی اور مجھے بتایا گیا کہ ویب سائٹ کا نام رکھ لیا گیا ہے اور اس کی ڈومین مل گئی ہے
پھر وہاں میری ڈیوٹی ٹائمنگ اور تنخواہ وغیرہ کا فیصلہ طے کیا گیا نو جنوری 2012ء سے میں نے کام کا آغاز کیا اور ویب سائٹ کے صفحات کا مطالعہ کرکے چند لفظی غلطیوں کی طرف اشارہ کر دیا اور مطلوبہ فائلز کے متعلق مطلع کر دیا پھر آہستہ آہستہ کام چل نکلا اور کال سینٹر کی ٹیم نے کالنگ کا آغاز کیا یو ایس اے اور کینیڈا کے لئے پاکستانی سحری کے وقت کالز کی جاتیں مارچ سے ہم نے صبح کے وقت سے آسٹریلیا میں خدمات کا آغاز کر دیا پھر تب سے آج تک کئی طلباء نے یہاں سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی اس دوران میں ادارے نے کئی رنگ دیکھے کبھی کالنگ ٹیم کے افراد بڑھ گئے تو کبھی اساتذہ کی طلب بڑھ گئی کبھی طلباء کی ضرورت پیش آجاتی تاہم دو سال بعد یہ ادارہ میرے ہاتھوں میں دے دیا گیا اور 2014ء کے ماہِ جنوری سے تقریباً میں ہی اس کی تمام ذمہ داریاں نبھا رہا ہوں آج الحمدللہ! مجھے اس ادارے ”ای لرننگ ہولی قرآن“ کے ساتھ وابستگی اختیار کیے چھ برس مکمل ہونے والے ہیں اور اس ادارے کی بھی چھٹی سالگرہ آن پہنچی ہے۔ ثم الحمدللہ
فقط: عبدالرزاق

اتوار, دسمبر 31, 2017

نعیم قیصر کا ایک اور اعزاز ۔۔۔ تین تعلیمی نسلوں کی کہانی

یہ تصویر سوشل میڈیا پر دوسری بار اپلوڈ کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ محض ایک تصویر نہیں ہے اسے 22 مارچ 2015ء کے روز بنایا گیا بائیں جانب نمبر 1 دائرے والے سر نعیم قیصر، درمیانی دوسرے دائرے میں عبدالرزاق اور نیچے تیسرے دائرے میں نوید ہے۔ سن 2005ء کے دسمبر اور 2006ء کے جنوری میں مُجھے سر نعیم نے دسویں جماعت کی ریاضی کے کچھ بنیادی کُلیے سمجھائے (حالانکہ نویں جماعت کی ریاضی کو بھی میں 44/75 کی نسبت سے پاس کرچکا تھا لیکن اُس کا زیادہ انحصار یاداشت پر تھا، البتہ اُس میں مثلث شاید میں درست کھینچ آیا تھا اور اس کا عمل بھی صحیح لکھا تھا ضلع وہاڑی کے اڈا غلام حُسین کے اُستاد ساجد صاحب نے جیومیٹری کے نقشے کھینچنا سکھا دئیے تھے)، گیارھویں جماعت سے میں نے ریاضی نہ پڑھی لیکن کُلیے یاد رکھے۔ بی اے کے بعد نوید کو سن 2010ء میں ریاضی کے بنیادی تصورات سکھا دئیے تب وہ ساتویں جماعت کا طالبعلم تھا، وہاں اس کے ساتھ میں نے ایک اور انداز اپنایا کہ جو سبق اگلے روز سکول میں متوقع ہوتا وہ سمجھا کر بھیج دیتا نوید نے اپنی کلاس میں ہاتھ کھڑا کرنا شروع کر دیا کیونکہ کل کا سیکھا ہوا سبق آج سکول میں اُس کے لیے دوہرائی کی حیثیت رکھتا تھا یوں اس کا اعتماد بلند ہوتا چلا گیا، آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت میں بھی وہ اسی ریاضی کے اعتماد کے ذریعے آگے بڑھتا چلا گیا انگریزی بھی ہلکی پھلکی میں نے سکھائی تھی وہ بھی کام آگئی اور سائنس مضامین کو وہ خود محنت کرکے پاس کرتا گیا۔
گیارھویں کے لیے میں نے اُسے شرقپور میں واقع پنجاب کالج میں سر نعیم کے پاس بھیجا لیکن وہ لاہور میں پنجاب کالج کی مرکزی شاخ میں داخل ہوگیا، وہاں زیادہ فیس نوید کے والدین نے جُوں تُوں کرکے بھر لی لیکن وہ شام کی شفٹ میں پڑھتا رہا شام کو جوائن کرنے کی وجہ بھی فیس کی کمی تھی، بہرحال جب وہ تیرھویں چودھویں جماعت کے لیے پنجاب کالج میں گیا تو میرے جیسے ”عقلمندوں“ کی نظر میں یہ فضول خرچی تھی لیکن آج وہ چودھویں جماعت کا طالب علم ہے بی۔ایس۔سی ڈبل میتھ اس کا میدان ہے، آپ میں سے اکثر کو یاد ہوگا کہ دسویں جماعت میں طلباء کہتے نظر آتے ہیں کہ کیا ریاضی کے بغیر میٹرک ممکن نہیں ہے؟ یا وہ کہتے ہیں کہ جس نے ریاضی بنائی تھی وہ میرے سامنے آئے تو میں اُسے۔۔۔۔۔۔
لیکن آج ریاضی نوید کی ذات کا حصہ بن چُکی ہے اور وہ اس سے لطف اندوز ہوتا ہے مسلسل کئی گھنٹے بیٹھ رہنا اور لکھتے رہنا اس کا مشغلہ بن چکا ہے
پھر اچانک کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے
نوید کا ایک ہم جماعت اور دوست اپنے والد سے کہتا ہے
کہ
اباجی! نوید کو میرا ٹیوٹر مقرر کر دیں، مُجھے اُسی سے ریاضی سمجھنا ہے
آج الحمداللہ! وہ ننھا پودا شجرِ بارآور بن چکا ہے اور اپنا سبق ہی اپنے ہم جماعت کو پڑھا کر اپنی بوڑھی ماں کی بھری ہوئی فیس واپس کما کر لا رہا ہے۔
اس کامیابی کا کریڈٹ نوید کے پختہ یقین، محنت، سچی لگن، اس کی والدہ کی نگہبانی کو جاتا ہے
اور سر نعیم قیصر کی ذات کے لیے ”شکریہ“ ایک چھوٹا لفظ ہے۔
٭نوید اینجلز اکیڈمی راوی روڈ میں نعیم صاحب کا ڈائریکٹ شاگرد بھی رہ چکا ہے:)

منگل, دسمبر 26, 2017

نوائے منزلیوں کی ایک ملاقات

کامران صاحب کی ایک روٹین بن گئی ہے کہ وہ لاہور کا ہفتہ وار دورہ کرتے ہیں جمعے کی رات کو یہاں آتے ہیں اور اتوار کی رات کو واپس ہو لیتے ہیں اس ویک اینڈ پر بھی وہ تشریف لائے تو ہفتے کے روز اُن کے ساتھ ملاقات نہ ہو پائی، لیکن اتوار کو انہوں نے ایک دوبار کال کرکے یاد کیا تو میں بھی بھاگم بھاگ بتائے گئے پتے پر مون مارکیٹ جا پہنچا
 
عمران جھجھ
رات کے نو کا وقت رہا ہوگا۔ مُجھے بتایا گیا کہ شیخ ہوٹل پہنچو! تلاش کرتے ہوئے میں نے کیمرہ بھی چالو کر لیا اچانک ایک جانب سے آواز آئی تو عمران جھجھ شیخ ہوٹل سے نکل رہے تھے جھٹ سے اُن کی تصویر بنا لی جس میں وہ کافی چمک رہے ہیں۔
چوہدری عبدالرحمان
ہوٹل کے اندر کامران کے بالمقابل چوہدری عبدالرحمان تشریف فرما تھے، لیکن بخار سے دہک رہے تھے جس کے آثار چہرے پر نمایاں ہیں۔
کامران اختر

کامران صاحب اپنے دیرینہ دوست پراٹھے کے ساتھ ”انصاف“ فرما رہے تھے پھر اُن کے مسکراتے چہرے کی ایک تصویر بنائی، چائے اور باتوں کا دور چلتا رہا
دائیں فیضان، بائیں کامران
 
دائیں سے عبدالرزاق، فیضان، کامران
بائیں عمران جھجھ اور چوہدری عبدالرحمان
پھر فیضان عباس کھوجی صاحب محترم امان عمران کے ہمراہ تشریف لائے بائک سے اترنے کے فوراً بعد اُن دونوں کی ایک تصویر بنانا چاہی لیکن امان عمران صاحب مجھے کوئی غیر متعلقہ کیمرہ مین سمجھے اور تصویر میں واضح نہ آئے (وہ تصویر یہاں شیئر نہیں کی جارہی)۔

فیضان نے بتایا کہ امان عمران صاحب لٹریچر میں دلچسپی رکھتے ہیں گپ شپ کے بعد میں نے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کیا اور پھر چوہدری صاحب اپنی طبیعت کی ناسازی کے باوجود بائک کے ذریعے مجھے گھر تک چھوڑ کر گئے

جمعہ, دسمبر 1, 2017

Baba Rafiq Qadri reciting naat - Wah kya jood o karam hai


واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا ۔ کلام الامامِ امام الکلام
بابا جی رفیق قادری کی آواز میں درد ہے جس سے کلام کی چاشنی دوگنا ہوگئی، کلامِ اعلیٰ حضرت کا اپنا ایک سُرور ہوتا ہے، اس آواز میں یوں سُنائی دیتا ہے جیسے اِسی لہجے اور اُتار چڑھاؤ میں پڑھا جانا چاہیے تھا۔

جمعرات, نومبر 16, 2017

زمباوے میں فوجی بغاوت ، خاتونِ اول گریس موگابے اور سیاسی پس منظر

زیرِ حراست صدر موگابے اور خاتونِ اول گریس موگابے: ویکیپڈیا
رپورٹ: عبدالرزاق قادری
گریس موگابے، زمباوے کے صدر رابرٹ موگابے کی بیوی  اور خاتونِ اول ہے وہ جنوبی افریقہ میں بینونی کے مقام پر پیدا ہوئی تھیں اور ان کی شادی صدر موگابے کے ساتھ 1996ء میں ہوئی۔ سن 2014ء سے میڈم گریس،  زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ کے خواتین ونگ کی سربراہ  مقرر ہوئیں، زمباوے کی حکومت میں اُن کے کردار کی وجہ سے  ان پر یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق  ، ملک کے دارالحکومت ہرارے میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 51 سالہ گریس موگابے کا کہنا تھا کہ ”ایک دن جب خدا کی مرضی سے رابرٹ موگابے فوت ہو جائیں گے تو ہم ان کی لاش کو انتخابات میں کھڑا کریں گے۔“ زمبابوے کی خاتونِ اول کا مزید کہنا تھا کہ ”آپ دیکھیں گے کہ لوگ موگابے کی لاش کو بھی ووٹ دیں گے، میں یہ بات آپ کو سنجیدگی سے بتا رہی ہوں۔ لوگ ایسا صدر کے ساتھ اپنا پیار دیکھانے کے لیے کریں گے۔“
زمبابوے افریقی نیشنل یونین ۔ پیٹریاٹک فرنٹ ایک سیاسی جماعت ہے جو 1980ء سے زمباوے کی آزادی سے لے کر حکومت میں رہی  ہے،   رابرٹ موگابے پہلے بطورِ وزیر اعظم ” زمبابوے افریقی نیشنل یونین“ کی  قیادت کرتے  رہے اور پھر جب 1988ء میں اُنہوں نے” زمباوے افریقن پیپلز یونین “کے ساتھ انضمام کر لیا تب صدرکے طور پر اس کے رہنما رہے  اور پھر اپنی سیاسی جماعت کے لیے ”زمبابوے افریقی نیشنل یونین ۔ پیٹریاٹک فرنٹ“ کا ٹائٹل  اختیار کر لیا۔
سن 2008 ء کے پارلیمانی انتخابات میں، زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ ، اپنی پارٹی کی تاریخ میں پہلی اور آخری مرتبہ پارلیمان کا کنٹرول کھو گئی  اور ”دی موومنٹ فار ڈیموکریٹک  چینج۔ سوانگیرائی“ کے ساتھ اتحاد کرکے مخلوط حکومت  کا معاہد کر لیا۔لیکن اس کے بعد 2013 ء کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے فتح حاصل کی۔
جبکہ، ”دی موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج زمباوے“ جسے عام طور پر  موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج ۔ سوانگیرائی کہا جاتا ہے   اسمبلی میں موجود ایک مرکزی اپوزیشن جماعت ہے۔  سن 2005ء کی تقسیم کے بعد یہ مورگن سوانگیرائی کی زیرِ قیادت اس جماعت کے دو دھڑوں میں سے اکثریتی حصہ ہے، دوسرا قدرے اقلیتی حصہ ”موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج۔نکیوبے“ ہے جس کے قائد ویلشمین نکیوبے ہیں۔
رابرٹ گیبریل موگابے،فروری 1924ء میں پیدا ہونے والے ایک زمباوی انقلابی اور سیاستدان ہیں جو 1987ء کے بعد سے زمبابوے کے صدر ہیں۔ اس سے قبل وہ 1980ء سے لے کر 1987ء تک زمباوے کے وزیرِاعظم رہے وہ 1975ء سے اپنی سیاسی جماعت کے چیئرمین ہیں، نظریاتی طور پر ایک افریقن نیشنلسٹ، 1970ء  اور 1980ء کی دہائی میں وہ خود  کومارکسٹ۔لینینسٹ جبکہ 1990ء کی دہائی سے صرف سوشلسٹ قرار دیتے ہیں، ان کی پالیسیوں کو موگابیزم کہا جاتاہے۔
 صدر موگابے  ترانوے برس کے ہو چکے ہیں اور اُنہوں نے سیاسی سرگرمیاں بھی محدود کر دی ہیں تاہم ان کی پارٹی سن 2018ء کے انتخابات کے لیے انہیں ایک بار پھر صدارتی امیدوار  نامزد کرنا چاہتی تھی کہ اچانک مارشل لاء لگنے کی خبریں آگئیں۔14 نومبر 2017ء کی شام، زمبابوے کی دفاعی افواج کے افسرانِ بالا، زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے کے ارد گرد جمع ہوئے، اور زمبابوے براڈکاسٹنگ کارپوریشن اور شہر کے دوسرے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اگلے روز انہوں نے یہ بیان جاری کیا کہ یہ مارشل لاء نہیں لگایا گیا اور صدر موگابے بالکل محفوظ ہیں اور جب وہ موگابے کے اردگرد موجود زمباوے کے معاشرتی۔ معاشی مسائل کے ذمہ داران   ”مجرموں“ کے ساتھ نمٹ لیں گے پھر حالات معمول کی جانب پلٹ آئیں گے۔  جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زُما، نے موگابے کو فون پر  کال کر کے معلوم کیا تو تصدیق ہوئی کہ موگابے بالکل ”ٹھیک“ ہیں لیکن زیرِ حراست ہیں۔
مارشل لاء ایسے حالات میں عائد ہوا ہے جب  زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ کے سابقہ وائس پریزیڈنٹ ایمرسن منانگاگوا (جنہیں فوج کی حمایت حاص ہے) اور خاتونِ اول گریس موگابے (جنہیں ینگر جی۔40 دھڑے کی حمایت حاصل ہے) کے درمیان 93 سالہ بوڑھے صدر موگابے کا جانشین بننے کی چپقلش جاری تھی۔  ایمرسن منانگاگوا کے جب پارٹی سے نکالا گیا اور جبراً ملک بدر کیا گیا تو ایک ہفتے کے بعد، لیکن فوج کے  دارلحکوم ہرارے میں داخل ہونے سے ایک روز قبل آرمی چیف کونسٹین ٹینو چیونگا نے ایک بیان جاری کیا تھا کہ  زمبابوے افریقی نیشنل یونین - پیٹریاٹک فرنٹ کے اعلیٰ عہدے دار جیسا کہ  ایمرسن منانگاگوا کو بے دخل کیا گیا ہے، ایسی  حرکتوں سے باز رہناچاہیے۔

بدھ, نومبر 15, 2017

کیلیفورنیا کی شوٹنگ کے دوران 5 افراد ہلاک

امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں فائرنگ کے دوران حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں تفصیلات کے مطابق 14 نومبر منگل کے روز اسلحہ بردار قاتل نے سکول میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن اسے تالا لگا ہوا تھا اسی دوران پولیس نے حملہ آور کو بے دردی سے گولی مار کر ہلاک کردیا تاہم اس کے حملے کا محرک واضح نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور نے بے ترتیبی سے لوگوں پر فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں چار لوگ ہلاک اور دس زخمی ہوئے پولیس کے بیان کے مطابق اِس حملے کی زد میں بہت سے لوگ آ سکتے تھے لیکن سکول کی انتظامیہ نے بروقت عمارت کو محفوظ بنانے کے لیے تالا لگا کر طلباء کو کسی بڑے جانی نقصان بچا لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے پاس ایک جیکٹ میں کئی اضافی میگزین گولیوں سے بھرے ہوئے تھے لیکن اُسے سکول کے واقعے میں صرف چھ منٹ شوٹنگ کا موقع ملا پھر پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسے ہلاک کر دیا

منگل, ستمبر 26, 2017

کینولہ، کسان اور زراعت

===== کینولہ کانفرنس =====
آج وہاڑی میں کینولہ کی کاشت آگاہی کی کانفرنس ہےجو اب تک تھی کا درجہ حاصل کر چکی ہوگی، بہت سے کسان اپنے خرچے پر آئے ہونگےکافی باتیں کی گئی ہوں گی ، پنجاب کے وزیرِ زراعت بھی موجود ہونگے اور زراعت کا عملہ بھی موجود ہوگا، چادر یعنی مجھلی والے کسان پچھلی نشستوں پر ہونگے ، شلوار قمیض والے کسان ان سے اگلی صف پر ہونگے ، ان سے آگے ڈیلر صاحبان تشریف فرما ہونگے ، اگلی صف پر ویسٹ کوٹ پہنے لوگ بیٹھے ہونگے اور سٹیج پینٹ کوٹ والے لوگوں کی جلوہ گاہ ہوگا۔ مجھے دعوت تھی کہ میں کینولا کے بارے میں کسانوں کو آگاہ کروں ، اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو کینولہ کے ابتدائی کاشت کاروں میں سے میں ایک کاشت کار ہوں جس نے طریقہ کاشت تک کمپنی کو سمجھایا جس سے کینولہ کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائی جا سکتی ہےابتدائی دنوں میں آئی سی آئی کے فیلڈ ماہرین نے کینولہ کو کھیلوں پر کاشت کرنے سے منع کیا تھامگر میں نے کھیلوں پر کاشت کرکے زیادہ پیداوار لے کر ماہرین پر ثابت کیا تھا کہ کتاب کا علم ذہن تک ہے جب تک کسی بھی علم کو پانچوں حواس سے استعمال نہ کیا جائے اس کا فیض جاری نہیں ہوتا یعنی تجربہ علم پر حاوی ہے، دوسری وجہ یہ تھی کہ مجھے تھوڑا بہت بولنا آتا ہےبولنا بھی کیا کہ یہاں سچ بولا ہی نہیں جا سکتا آپ بس یوں سمجھیے کہ مجھے مجمع لگانا آتا ہے، اپنی تقریری زندگی میں میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگ سچ سننا ہی نہیں چاہتے بلکہ باتوں کا تڑکا سننا چاہتے ہیں جسے تعلی یا مبالغہ کہا جا سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ زراعت کو اجاڑنے میں حکمرانوں کا بہت بڑا ہاتھ ہےجب ہم حکمران کی بات کرتے ہیں تو یاد رہے ایک سپاہی سے لے کر صدرِ پاکستان تک سب حکمران ہیں یعنی محکمہ زراعت کے فیلڈ اسسٹنٹ سے لے کر وزیراعظم پاکستان تک سب حکمران ہیں، یہ بات غالباً 2004 کی ہے جب پہلی بار کینولہ کاشت کیا گیا تھا ، اس کے بے شمار فائیدے ہوئے ، اکتوبر میں کاشت ہونے والی یہ فصل تین پانیوں کی فصل ہے اور بہت کم کھاد وغیرہ پر زیادہ آمدنی والی فصل ہے مجھے یاد ہے تب 2950 روپے یا 2850 روپے کے مجموعی ریٹ پر کینولہ فروخت کیا تھا ، کم دورانیے کی وجہ سے کپاس کی فصل کی کاشت بھی جلدی ہو جاتی تھی اگیتی کاشت کی وجہ سے کپاس کی فصل جو کینولہ کے کھیت کے بعد اسی رقبے میں لگائی جاتی تھی کی آمدنی بھی نسبتاً زیادہ ہوتی تھی، دیکھا دیکھی کینولہ دیگر کاشت کاروں نے بھی کاشت کرنا شروع کر دیا اور یوں ربیع اور خریف کی فصلیں زبردست منافع والی فصلیں بن گئیں پھر 2008 آیا مشرف صاحب گئے جمہوری حکومت آئی تب بھی یہ فصلیں لہلاتی ہوئی ہوتی تھیں2009 بہت شاندار رہا پیداوار کے حساب سے بھی اور نرخ کے حساب سے بھی ، مگر بعد میں کینولہ آہستہ آہستہ کم آمدنی والا ہوتا گیافی ایکڑ پیداوار کم ہوتی چلی گئی جسے موسم کے تغیر و تبدل کے سر تھوپ دیا جاتا رہاحتیٰ کہ 30 من فی ایکڑ پیداوار والا کینولہ 10 من تک رہ گیا اور ریٹ سکڑ کر 2200 تک آگیاجبکہ اسی دوران ڈیزل مہنگا ہوا بجلی مہنگی ہوئی ٹریکٹر مہنگا ہوا کھادیں مہنگی ہوئیں مارکیٹ میں ہر چیز مہنگی ہوئی مگر کینولہ ، کپاس ، آلو ، گنا وغیرہ پیداوار میں بھی کم ہوئے اور ریٹ بھی کم ہوئے، اب اس کا ذمے دار کون ہے مارکیٹ یا حکومت۔
ہمارے ہاں آج تک سورج مکھی ، کینولہ ، آلو اور بہت سی سبزیوں کے بیج امپورٹ کیے جاتے ہیں یعنی ہائبرڈ سیڈ ٹیکنالوجی نہ ہونے کے برابر ہے اور ہمارے امپورٹرز ملک سے زیادہ اپنی املاک سے مخلص ہیں جب کسی چیز کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے تو اس میں ملاوٹ شروع ہو جاتی ہے یہی حال کینولہ کے بیج کے ساتھ بھی ہوا آئی سی آئی سے خریدا گیا بیج بھی اپنے اندر وہ طاقت نہیں رکھتا تھا جو کبھی ماضی میں پیداواری صلاحیت والا بیج ملتا تھا، کینولہ کی کاشت کا ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ بیج سفارش سے لینا پڑتا تھا ۔
آج وہاڑی میں آئی سی آئی نے کینولہ کی کاشت کی ورکشاپ کی تھی کینولہ جو 30 من فی ایکڑ پیداوار سے کم ہو کر 8 من فی ایکڑ تک رہ گیا ہے اور لوگوں نے کاشت کرنا چھوڑ دیا ہےاب نہ کوئی سفارش سے بیج حاصل کرتا ہے اور نہ کسی کے پاس کینولہ کے بعد کاشت ہونے والی کپاس کو کاشت کرنے کی ہمت ہے، کسان اپنی بھوک کے باعث بحریہ ٹاؤن اور ڈیفنس میں بننے والے گھروں کی اینٹیں ڈھو رہا ہے ، زرعی زمینیں اجڑ کر کالونیاں بن رہی ہیں اور رہی سہی مٹی اینٹوں کے کام آ رہی ہے ، اسوقت ہمارا ملک آب و ہوا کی آلودگی کا شکار ہے اور فصل نہ ہونے کی وجہ سے کسان اپنے رقبے میں لگے درخت بیچ رہے ہیں جو فرنیچر اور جلانے کے کام آ رہے ہیں ، بجلی کی کمی کے باعث بہت سے کارخانے لکڑی جلا کر چلائے جا رہے ہیں جس سے آلودگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، آپ ملتان جائیں کبھی سینکڑوں ایکڑوں پر پھیلے آم کے باغات کٹ چکے ہیں اور ڈیفنس بن چکا ہے بہت اچھی رہائشی سوسائٹی ہے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے انمول تحفہ مگر وہ کس آب وہوا میں سانس لیں گے جو تب تک زہر سے بھر چکی ہوگی کیونکہ ہم سڑک چوڑی کرنے کے لیے درخت کاٹتے ہیں گھر بنانے کے لیے درخت کاٹتے ہیں ، فیکٹری چلانے کے لیے درخت کاٹتے ہیں درخت کیا کاٹے گویا اپنے سانس کاٹے۔
کچھ ایسی ہی تقریر میں نے کرنی تھی جسے نہ کرنے کا فیصلہ کر کے میں نے خود کو حکومت دوست ثابت کر دیا ہےکیونکہ حکومت نے کسان کے بارے پالیسیاں بنانے میں کبھی کسان کو تو شامل ہی نہیں کیا اب یہ مت کہیے گا کہ وزیرِ زراعت بھی کسان ہے وزیرِ زراعت تو اول آخر کسان ہے پر اس کا سیکرٹری کسان نہیں ہے اور کرنا سب کچھ سیکرٹری نے ہے، سیکرٹری جو کہ اصل میں وزیر کا جواب دہ ہے پر ہے نہیں، دیکھیے آپ سب کہتے ہیں طاقت کے زور پر ووٹ لیا جاتا ہے تو پھر ووٹ کی طاقت کیا بلا ہےیہ میں نہیں سمجھ سکا۔
کالم نگار سیاست درست کر رہے ہیں گویوں کی طرح راگ درباری ایجاد کر رہے ہیں تان سین نے تو شرط رکھی تھی کہ بادشاہ سلامت یہ راگ آپ کی فرمائش پر بنایا گیا ہے لہٰذا اسے آپ تخت سے اتر کر میرے پاس بیٹھ کر سنیں گےنئے تان سین اس شرط کے بغیر اونچی اور دھیمی سروں والے راگ اپنے اپنے حکمران کو سنا رہے ہیں اور بدلے میں سانس کٹتے جا رہے ہیں زراعت کا اجڑنا سانسوں کا اجڑنا ہے کیونکہ ہر پودا ہر درخت ہمیں آکسیجن دیتا ہےپودے ہو نہیں رہے اور درخت کٹ رہے ہیں
ندیم بھابھہ

منگل, ستمبر 19, 2017

سٹینیسلیو پیٹروف، جن کی بدولت دنیا تباہی سے بچ گئی، 77 برس کی عمر میں گزر گئے

Stanislav Petrov in later life  CREDIT - DAVID HOGSHOLT
ڈیلی ٹیلیگراف کی ایک رپورٹ کے مطابق رونالڈ اولیفینٹ لکھتے ہیں کہ سویت یونین کے جس سابق ملٹری افسر کے سر دنیا کو ، ایٹمی جنگ کے ہاتھوں تباہی سے بچانے کا سہرا ہے، اُس کا ستتر برس کی عمر میں انتقال ہو چکا ہے۔
سٹینیسلیو پیٹروف سوویت ایئر ڈیفنس میں ایک لیفٹیننٹ کرنل تھے، 26 ستمبر 1983ء کو  ان کی ڈیوٹی ابتدائی وارننگ سینٹر پر تھی جب ایک کمپیوٹر کی فنی خرابی کے باعث اطلاع موصول ہوئی کہ امریکا نے ملک پر میزائل داغ دیے ہیں۔ ان کا اس وقت اس وارننگ کو نظر انداز کر دینے کا فیصلہ دنیا کو نیوکلیئر تباہی سے بچا گیا۔
  کارل سکوماچر جنہوں نے پہلی بار اس کہانی کو عوامی سطح پر پیش کیا تھا ایک بیان میں کہتے ہیں کہ میں نے پیٹروف کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے رابطہ کیا تو مجھے ان کی وفات کی خبر ملی، پیٹروف کے بیٹے ڈمٹری نے بتایا ک اس کے والد 19 مئی کو فوت ہو گئے تھے۔
پیٹروف سات ستمبر 1939ء کو والدی ووستوک میں پیدا ہوئے چھبیس ستمبر انیس صد تراسی کی رات وہ ماسکو کے قریب سوویت کی ابتدائی وارننگ سینٹر میں ڈیوٹی پر تھے جب کمپیوٹرز نے خبردار کیا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا نے پانچ نیوکلیئر میزائل سوویت یونین پر داغ دیے ہیں،1983ء میں اس غلط الارم کی وجہ سے دُنیا میں تیسری عالمی  (ایٹمی ) جنگ چھڑ سکتی تھی۔
مشین نے اشارہ دیا کہ یہ معلومات انتہائی یقینی تھی، پیٹروف نے یاد کرتے ہوئے کہا، دیوار پر جلی سرخ حروف لہرائے، ”آغاز“ جو اس امر کا اشارہ تھا میزائل سچ میں داغ دیے گئے ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل پیٹروف کے پاس
اس حملے کی وارننگ کو درست مان  کریملن کو بتانے یا سوویت کمانڈرز کو یہ بتانے کے لیے کہ سسٹم میں خرابی تھی میں سے کوئی ایک فیصلہ کرنے کے لیے صرف چند منٹ تھے۔یہ اندازہ لگاتے ہوئے کہ امریکی حملے میں تو سینکڑوں میزائل ہونے چاہئیں تھے، اُنہوں نے الارم کو کمپیوٹر کی غلطی مان لیا۔
لیفٹینینٹ کرنل پیٹروف  کا مؤقف اس وقت درست ثابت ہوگیا جب ایک درونِ خانہ کی تفتیش نے اس واقعہ کی چھان بین کرکے یہ نتیجہ نکالا کہ سوویت سیٹلائٹ بادلوں سے ٹکراتی ہوئی دھوپ کو غلطی سے راکٹ انجن سمجھ بیٹھے تھے۔
امریکی ایٹمی حملے کی صورت میں سوویت  کی جانب سے فوراً اینٹ کا جواب پتھر کے ساتھ دینے کی حکمت عملی کارفرما تھی جس کی صورت میں دونوں جانب سے مکمل تباہی مچانے میں برابر کی حصے داری ہوتی، بہرحال پیٹروف اپنے ساتھیوں میں  اس فیصلے کی وجہ سے معروف ہو گئے تھے۔ اُنہوں نے بعد میں شکایت کی کہ انہیں اس واقعے کو کاغذات میں درج نہ کرنے کی جو ناکامی ہوئی اُس کی وجہ سے ان کے سینئرز کی طرف سے ڈانٹ سُننا پڑی اور یہ الزام بھی سہنا پڑا کہ سسٹم کی خرابی کے بھی وہ خود ذمہ دار تھے۔
    وہ اگلے ہی برس آرمڈ فورسز سے ریٹائرڈ ہو کر ماسکو سے باہر چلے گئے۔ یہ واقعہ صرف 1998ء میں جنرل یوری وونٹِنسف جو کہ اُس وقت مسٹر پیٹروف کے سپروائزر تھے کی یاداشتوں کی اشاعت میں عوامی سطح پر لایا گیا۔
سن 2014ء میں دستاویزی فلم ”دی مین ہو سیوڈ دی ورلڈ، میں مسٹر پیٹروف نے کہا تھا،” اُس وقت جو بھی ہوا مجھے اُس کی کوئی پرواہ نہیں ۔ یہ میرا فرض تھا۔ میں تو محض اپنی ذمہ داری نبھا رہا تھا، اور  بات یہ ہے کہ میں درست وقت پر درست آدمی تھا“

بدھ, جولائی 5, 2017

تعلیم و تربیت کا اہتمام ۔۔۔ ایک نظریے کے ساتھ (دی نالج ہوم گروپ آف سکولز)

تحریر و ترتیب: عبدالرزاق قادری
بہترین تمدنی زندگی گزارنے کے لیے انسان نئی نسل کو اپنے گزشتہ تجربات منظم کرکے پیش کرتے ہیں تا کہ وہ زندگی گزارنے کے ڈھنگ سیکھ پائیں اور اپنے معاشرے کے لیے مفید شہری ثابت ہوں، عام مشاہدے کی بات ہے کہ اگر کوئی طالب علم تعلیمی امتحانات میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ دکھائے تو اُسے دادِ تحسین سے نوازا جاتا ہے اور حکومتیں ایسے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات مقرر کرتی ہیں بعض اوقات ایسے درخشندہ ستاروں پر ترقی یافتہ ممالک کی نظر پڑ جاتی ہے اور ٹاپرز کے لیے  بیرونِ ملک کسی اچھے انٹرنیشنل تعلیمی ادارے میں سکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم  مفت حاصل  کرنے کی پیشکش کی جاتی ہے، پاکستان جیسے تھرڈ ورلڈ کنٹری سے لوگ کسی بھی صورت بھاگ جانا چاہتے ہیں لیکن اگر موقع بھی ہو،  دستور بھی ہو اور مفت آفر بھی ہو تو کون کافر باز رہتا ہے۔
شاید ریاستِ پاکستان نے ایک ماں ہونے کے ناتے اپنے شہریوں کو کبھی بھی وہ سہولیات یا کم از کم بنیادی ضروریات فراہم نہیں کیں جو کہ مہذب و متمدن معاشروں کا خاصہ ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے باسیوں نے بھی اپنے ملک کے ساتھ وفا کرنے کا پُورا حق ادا نہیں کیا پاکستانی عوام اپنے ملک میں رہتے ہوئے دِل ناداں کو مشرقِ وسطی ، آسٹریلیا، یورپ یا امریکہ اور کینیڈا کی زمینوں سے لگائے بیٹھے ہوتے ہیں، جب تعلیم حاصل کرکے ہنر مند بن جاتے ہیں تو اپنا ٹیلنٹ اور جوانی کسی دوسرے ملک کے اداروں کی خدمات کے لیے خرچ کرنے کے لیے چلے جاتے ہیں اور بڑھاپے میں واپس آکر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ زندگی تو” وہاں“ ہے، یہاں تو صرف بھوک ننگ ہے، افلاس ہے، بدعنوانی ہے اور مکر و فریب کے ڈیرے ہیں اُن کے نزدیک  پاکستان میں بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے جبکہ اپنا تبدیلی کا سنہری وقت دوسروں کی جھولی میں ڈال آتے ہیں۔

زیرِ نظر مضمون میں ایک ایسے محبِ وطن شہری (جناب محمد رفیق خلیل) کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو اپنے تعلیمی دورانیے میں نہ صرف ٹاپر تھے  بلکہ بچپن سے نہایت کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھےباوجود اس کے  انہوں نے تعلیمی بورڈز کو ٹاپ کیا پھر آفرز کی بھرمار ہوگئی لیکن یہی وہ لمحہ تھا جب وہ مردِ قلندر اپنی خودی نہ بیچ پایا اورخود کو پاکستان کے لیے وقف کردیا، وہ کسی سرکاری ملازمت کرنے کے لیے نہیں گئے مبادا لوگ اُنہیں رشوت خور یا صرف ایک افسر مان لیں یا شاید وہ کسی باس کے احکام کی تعمیل کرنے سے قاصر تھے، بہرحال اُنہوں نے  پیغمبرانہ پیشہ اختیار کیا اور چمنِ پاکستان کے نونہالوں  کو سینچنے کا فریضہ سرانجام دینے میں جُت گئےایسے مالی کے لیے آمدنی کی نسبت اپنے پودوں کی رکھوالی مقدم ہوتی ہےنہ صرف یہ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایسے بچوں کو بھی اپنے ہی چمن کے پھول مانتے ہیں جو اُن کے زیرِ سایہ تعلیم حاصل نہیں کرتے،یا ایسی بچیاں جو، ان کے گھر میں پیدا نہیں ہوئیں یا جن کا سہارا کسی حادثے کی نذر ہو چکا تھا یا وہ طلباء و طالبات جن کے پاس کالجز کی داخلہ فیس یا کتابوں کے لیے کوئی فنڈز نہ تھے یا وہ لوگ جو ایک اچھی آمدنی کے حامل ہیں لیکن انہیں زندگی کو منظم کرکے گزارنا نہیں آتا، انہیں رہنمائی دینے کے لیے یا دُکھی دلوں کے غم سُننے کے لیے، اپنے سکول کے ننھے مُنّے طلباء کے پاس جا کر پُھلجڑیاں چھوڑنے کے لیے، نوجوانوں کو تربیت دینے کے لیے، مبتدیوں کے لیے اعلیٰ ذہنی آزمائش والی کتابیں لکھنے کے لیے اور دوستوں کو رُوحانیت کی تعلیم سے رُوشناس کرنے کے لیے  اس قدر زیادہ وقت کیسے میسر آجاتا ہے یہ ایک پہیلی ہے جس کا راز شاید وہی جانتے ہیں۔
ملک پارک بلال گنج لاہور کے باسی جانتے ہیں کہ ایک ادارہ صُبح کے وقت ”دی نالج ہوم سکول“ بن جاتاہے، دوپہر کو اکیڈمی، شام کو کمپیوٹر سنٹر اور رات کو دُکھی دلوں کی تسکین کی آماجگاہ بن جاتا ہے، اور فلاحی کام کرتے وقت اُسے ”صبح روشن فاؤنڈیشن“ کا صدر دفتر مان لیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ آپ کے بچوں کو نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے بلکہ یہاں زیرِ تعلیم طلباء کو زندگی گزارنے کے طور طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں اور میٹرک پاس کرنے کے بعد انہیں مستقبل کے لیے بہترین رہنمائی دی جاتی ہے۔ اُن کے پاس نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں مصروفِ عمل ہیں بلکہ طلباء طالبات کے والدین کی مدد کرنے کے لیے انتظامیہ موجود ہے جس کا عملہ انہیں ایسی معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے جس کی بدولت والدین وہاں اپنائیت اور اخلاص کی فضا محسوس کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر وہ اپنے ادارے کی وہ خوبیاں ضرور بیان کرتے ہیں جو اُنہیں متوازی چلنے والے ”برانڈ سکولز“ سے ممتاز کرتی ہیں، اور اُس کے دستاویزاتی اور عملی ثبوت فراہم کرتے ہیں جس کی بدولت والدین کو یقین دہانی ہو جاتی ہے کہ  کیونکر کچھ ناعاقبت اندیش کاروباری افراد، معیاری تعلیم اور سٹیٹس کے نام پر  جذباتی اور معاشی طور پر سادہ لوح عوام کا استحصال کر رہے ہیں، لیکن دی نالج ہوم اِن سب ہتھکنڈوں کی آمدنی سے بے نیاز ہو کر اپنے ہی مؤکلین کو ایسے چھپے ہوئے ”سچ“ بتانے میں لیت و لعل یا کوئی عار محسوس نہیں کرتا جس کی وجہ سے ادارے کی آمدنی میں خاصی کمی واقع ہو سکتی ہے، ان حربوں میں سے بعض تو غیر ضروری ہیں اور دیگر حقیقتاً والدین اور طلبہ کے لیے نقصان دہ ہیں۔
دی نالج ہوم گروپ آف سکولزکی چھ شاخیں ہیں، مرکزی ادارہ ملک پارک کے وسط میں عمر سٹریٹ مجاہد روڈ پر واقع ہے لیڈرز کیمپس گیلانی پارک امیر روڈ بلال گنج، فیضِ عالم کیمپس عمر غنی روڈ سنت نگر، ای ڈی ایس کیمپس  ہمدرد کالونی شیر شاہ روڈ شاد باغ لاہور اور شاہدرہ میں دو سکولز ہیں جن میں سے ایک پیپلز کالونی فیروزوالا میں سٹی فاؤنڈیشن سکول بوائز کیمپس اور دوسرا رچنا ٹاؤن میں سٹی فاؤنڈیشن سکول گرلز کیمپس ہے ان سب میں ہزاروں طلباء و طالبات علم کی پیاس بجھا رہے ہیں، سکول ہیڈ آفس کا رابطہ نمبر درج ذیل ہے۔03214196841

ہفتہ, مئی 27, 2017

Musical Fountains at the greater Iqbal Park Lahore - Video by Abdul Razz...

میں کئی بار لاہور میں قائم کردہ نئے فوارے دیکھنے گیا ہوں اور وہاں اُن کی وڈیوز بھی بنائی ہیں 28 مارچ 2017ء کو میرے موبائل سے بنائی گئی یہ وڈیو آپ کے ذوق کی نذر

منگل, اپریل 25, 2017

اسلحے کی دوڑ ۔ امریکہ ۔ چین ۔ روس ۔ سعودیہ

             ایک تازہ رپورٹ کے مطابق روس تیل کی قیمتوں میں کمی اور معاشی پابندیوں کے باوجود اسلحے کی دوڑ  یا دوسرے لفظوں میں عسکری اخراجات کے لحاظ سے  2016ء میں تیسرے نمبر پر رہا ہے ، روس نے  2016ء میں 62.2 بلین ڈالر عسکری مد میں خرچ کیے جو 2015ء کی نسبت 5.9 فیصد اضافی ہیں ۔
             سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ اپنی آزادی کے بعد سے روس کی طرف سے آج تک اس مد میں خرچ کیا جانے والا سب سے بڑا تناسب ہے۔سن 2014ء میں جب یوکرائن کا تنازع ہوا تھا تب سے مغرب کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں اور تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے باعث روس کی سخت مشکلات میں گھری ہوئی معیشت کے لیے اخراجات میں یہ اضافہ ایسے حالات میں بہت بڑا بوجھ ہے۔
             سن 2015ء میں سعودی عرب اسلحہ کا تیسرا بڑا صارف تھا لیکن 2016ء میں 63.7 بلین ڈالر کے عسکری اخراجات میں 30 فیصد کمی کے ساتھ چوتھے نمبر پر آ گیا، باوجود یکہ وہ خطے میں جنگیں مسلط کرنے میں ملوث رہتا ہے، ادارے کے ایک محقق نان تیان کا کہنا ہے کہ تیل کے زر مبادلہ میں کمی اور دیگر متعلقہ معاشی مسائل نے تیل کی قیمت کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کی بناء پر تیل پر انحصار کرنے والے متعدد ممالک عسکری اخراجات کم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، مزید یہ کہ سعودیہ نے 2015ء اور 2016ء کے درمیان عسکری اخراجات میں سب سے زیادہ کمی دکھائی ہے۔
             امریکا 2015ء اور 2016ء کے درمیان 611 بلین ڈالر میں 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں سرِ فہرست رہا جبکہ چین نے 215 بلین ڈالر کے اخراجات میں 5.4 فیصد اضافہ کیا جو کہ گزشتہ برسوں کی نسبت قدرے کم ہے ۔رپورٹ کے مطابق امریکی عسکری اخراجات میں سن 2016ء  میں اضافہ ”شاید اِن اخراجات میں کمی کے رُجحان کو ختم کر دے“  جو سن 2008ء میں معاشی بُحران کی وجہ سے آیا تھا اور امریکی افواج کا افغانستان اور عراق سے انخلا ہوا تھا۔
             اپریل کی 13 تاریخ کو امریکہ نے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کےدور دراز کے  علاقے میں دولتِ اسلامیہ (داعش) گروپ  کے ٹھکانے کو نشانہ بناتے ہوئے اپنا سب سے بڑا (غیر ایٹمی) بم گرایا تھا۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ  کے ڈائریکٹر عاد فلورینٹ کا کہنا ہے، ”ان اخراجات میں مزید اضافے کی معلومات ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی تبدیلی کی وجہ سے ابھی تک غیر واضح ہیں“۔
             مغربی یورپ، جو کہ 2015ء سے دہشتگردی کے سانحات کی زد میں ہے، نے بھی 2016ء میں   تواتر کے ساتھ دوسرے سال بھی اپنے عسکری اخراجات میں  2.6 کی نسبت سے اضافہ کیا ہے۔ وسطی یورپ نے بھی 2016ء میں 2.4 فیصد کی نسبت سے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔انسٹیٹیوٹ  کے  ایک سینئرتحقیق کار سائمن ویزمن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وسطی یورپ میں عسکری اخراجات میں بڑھوتری  کو کسی حد تک  اس رائے کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے کہ روس اُن کے لیے  ایک بڑا خطرہ بن رہا ہےتاہم انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ یہ حقیقت اس کے باوجود اپنی جگہ ہے کہ اکیلے روس کا 2016ء میں عسکری بجٹ، یورپی نیٹو ارکان کے کُل اخراجات کا 27 فیصد تھا۔