منگل، 26 ستمبر، 2017

کینولہ، کسان اور زراعت

===== کینولہ کانفرنس =====
آج وہاڑی میں کینولہ کی کاشت آگاہی کی کانفرنس ہےجو اب تک تھی کا درجہ حاصل کر چکی ہوگی، بہت سے کسان اپنے خرچے پر آئے ہونگےکافی باتیں کی گئی ہوں گی ، پنجاب کے وزیرِ زراعت بھی موجود ہونگے اور زراعت کا عملہ بھی موجود ہوگا، چادر یعنی مجھلی والے کسان پچھلی نشستوں پر ہونگے ، شلوار قمیض والے کسان ان سے اگلی صف پر ہونگے ، ان سے آگے ڈیلر صاحبان تشریف فرما ہونگے ، اگلی صف پر ویسٹ کوٹ پہنے لوگ بیٹھے ہونگے اور سٹیج پینٹ کوٹ والے لوگوں کی جلوہ گاہ ہوگا۔ مجھے دعوت تھی کہ میں کینولا کے بارے میں کسانوں کو آگاہ کروں ، اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو کینولہ کے ابتدائی کاشت کاروں میں سے میں ایک کاشت کار ہوں جس نے طریقہ کاشت تک کمپنی کو سمجھایا جس سے کینولہ کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائی جا سکتی ہےابتدائی دنوں میں آئی سی آئی کے فیلڈ ماہرین نے کینولہ کو کھیلوں پر کاشت کرنے سے منع کیا تھامگر میں نے کھیلوں پر کاشت کرکے زیادہ پیداوار لے کر ماہرین پر ثابت کیا تھا کہ کتاب کا علم ذہن تک ہے جب تک کسی بھی علم کو پانچوں حواس سے استعمال نہ کیا جائے اس کا فیض جاری نہیں ہوتا یعنی تجربہ علم پر حاوی ہے، دوسری وجہ یہ تھی کہ مجھے تھوڑا بہت بولنا آتا ہےبولنا بھی کیا کہ یہاں سچ بولا ہی نہیں جا سکتا آپ بس یوں سمجھیے کہ مجھے مجمع لگانا آتا ہے، اپنی تقریری زندگی میں میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگ سچ سننا ہی نہیں چاہتے بلکہ باتوں کا تڑکا سننا چاہتے ہیں جسے تعلی یا مبالغہ کہا جا سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ زراعت کو اجاڑنے میں حکمرانوں کا بہت بڑا ہاتھ ہےجب ہم حکمران کی بات کرتے ہیں تو یاد رہے ایک سپاہی سے لے کر صدرِ پاکستان تک سب حکمران ہیں یعنی محکمہ زراعت کے فیلڈ اسسٹنٹ سے لے کر وزیراعظم پاکستان تک سب حکمران ہیں، یہ بات غالباً 2004 کی ہے جب پہلی بار کینولہ کاشت کیا گیا تھا ، اس کے بے شمار فائیدے ہوئے ، اکتوبر میں کاشت ہونے والی یہ فصل تین پانیوں کی فصل ہے اور بہت کم کھاد وغیرہ پر زیادہ آمدنی والی فصل ہے مجھے یاد ہے تب 2950 روپے یا 2850 روپے کے مجموعی ریٹ پر کینولہ فروخت کیا تھا ، کم دورانیے کی وجہ سے کپاس کی فصل کی کاشت بھی جلدی ہو جاتی تھی اگیتی کاشت کی وجہ سے کپاس کی فصل جو کینولہ کے کھیت کے بعد اسی رقبے میں لگائی جاتی تھی کی آمدنی بھی نسبتاً زیادہ ہوتی تھی، دیکھا دیکھی کینولہ دیگر کاشت کاروں نے بھی کاشت کرنا شروع کر دیا اور یوں ربیع اور خریف کی فصلیں زبردست منافع والی فصلیں بن گئیں پھر 2008 آیا مشرف صاحب گئے جمہوری حکومت آئی تب بھی یہ فصلیں لہلاتی ہوئی ہوتی تھیں2009 بہت شاندار رہا پیداوار کے حساب سے بھی اور نرخ کے حساب سے بھی ، مگر بعد میں کینولہ آہستہ آہستہ کم آمدنی والا ہوتا گیافی ایکڑ پیداوار کم ہوتی چلی گئی جسے موسم کے تغیر و تبدل کے سر تھوپ دیا جاتا رہاحتیٰ کہ 30 من فی ایکڑ پیداوار والا کینولہ 10 من تک رہ گیا اور ریٹ سکڑ کر 2200 تک آگیاجبکہ اسی دوران ڈیزل مہنگا ہوا بجلی مہنگی ہوئی ٹریکٹر مہنگا ہوا کھادیں مہنگی ہوئیں مارکیٹ میں ہر چیز مہنگی ہوئی مگر کینولہ ، کپاس ، آلو ، گنا وغیرہ پیداوار میں بھی کم ہوئے اور ریٹ بھی کم ہوئے، اب اس کا ذمے دار کون ہے مارکیٹ یا حکومت۔
ہمارے ہاں آج تک سورج مکھی ، کینولہ ، آلو اور بہت سی سبزیوں کے بیج امپورٹ کیے جاتے ہیں یعنی ہائبرڈ سیڈ ٹیکنالوجی نہ ہونے کے برابر ہے اور ہمارے امپورٹرز ملک سے زیادہ اپنی املاک سے مخلص ہیں جب کسی چیز کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے تو اس میں ملاوٹ شروع ہو جاتی ہے یہی حال کینولہ کے بیج کے ساتھ بھی ہوا آئی سی آئی سے خریدا گیا بیج بھی اپنے اندر وہ طاقت نہیں رکھتا تھا جو کبھی ماضی میں پیداواری صلاحیت والا بیج ملتا تھا، کینولہ کی کاشت کا ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ بیج سفارش سے لینا پڑتا تھا ۔
آج وہاڑی میں آئی سی آئی نے کینولہ کی کاشت کی ورکشاپ کی تھی کینولہ جو 30 من فی ایکڑ پیداوار سے کم ہو کر 8 من فی ایکڑ تک رہ گیا ہے اور لوگوں نے کاشت کرنا چھوڑ دیا ہےاب نہ کوئی سفارش سے بیج حاصل کرتا ہے اور نہ کسی کے پاس کینولہ کے بعد کاشت ہونے والی کپاس کو کاشت کرنے کی ہمت ہے، کسان اپنی بھوک کے باعث بحریہ ٹاؤن اور ڈیفنس میں بننے والے گھروں کی اینٹیں ڈھو رہا ہے ، زرعی زمینیں اجڑ کر کالونیاں بن رہی ہیں اور رہی سہی مٹی اینٹوں کے کام آ رہی ہے ، اسوقت ہمارا ملک آب و ہوا کی آلودگی کا شکار ہے اور فصل نہ ہونے کی وجہ سے کسان اپنے رقبے میں لگے درخت بیچ رہے ہیں جو فرنیچر اور جلانے کے کام آ رہے ہیں ، بجلی کی کمی کے باعث بہت سے کارخانے لکڑی جلا کر چلائے جا رہے ہیں جس سے آلودگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، آپ ملتان جائیں کبھی سینکڑوں ایکڑوں پر پھیلے آم کے باغات کٹ چکے ہیں اور ڈیفنس بن چکا ہے بہت اچھی رہائشی سوسائٹی ہے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے انمول تحفہ مگر وہ کس آب وہوا میں سانس لیں گے جو تب تک زہر سے بھر چکی ہوگی کیونکہ ہم سڑک چوڑی کرنے کے لیے درخت کاٹتے ہیں گھر بنانے کے لیے درخت کاٹتے ہیں ، فیکٹری چلانے کے لیے درخت کاٹتے ہیں درخت کیا کاٹے گویا اپنے سانس کاٹے۔
کچھ ایسی ہی تقریر میں نے کرنی تھی جسے نہ کرنے کا فیصلہ کر کے میں نے خود کو حکومت دوست ثابت کر دیا ہےکیونکہ حکومت نے کسان کے بارے پالیسیاں بنانے میں کبھی کسان کو تو شامل ہی نہیں کیا اب یہ مت کہیے گا کہ وزیرِ زراعت بھی کسان ہے وزیرِ زراعت تو اول آخر کسان ہے پر اس کا سیکرٹری کسان نہیں ہے اور کرنا سب کچھ سیکرٹری نے ہے، سیکرٹری جو کہ اصل میں وزیر کا جواب دہ ہے پر ہے نہیں، دیکھیے آپ سب کہتے ہیں طاقت کے زور پر ووٹ لیا جاتا ہے تو پھر ووٹ کی طاقت کیا بلا ہےیہ میں نہیں سمجھ سکا۔
کالم نگار سیاست درست کر رہے ہیں گویوں کی طرح راگ درباری ایجاد کر رہے ہیں تان سین نے تو شرط رکھی تھی کہ بادشاہ سلامت یہ راگ آپ کی فرمائش پر بنایا گیا ہے لہٰذا اسے آپ تخت سے اتر کر میرے پاس بیٹھ کر سنیں گےنئے تان سین اس شرط کے بغیر اونچی اور دھیمی سروں والے راگ اپنے اپنے حکمران کو سنا رہے ہیں اور بدلے میں سانس کٹتے جا رہے ہیں زراعت کا اجڑنا سانسوں کا اجڑنا ہے کیونکہ ہر پودا ہر درخت ہمیں آکسیجن دیتا ہےپودے ہو نہیں رہے اور درخت کٹ رہے ہیں
ندیم بھابھہ

منگل، 19 ستمبر، 2017

سٹینیسلیو پیٹروف، جن کی بدولت دنیا تباہی سے بچ گئی، 77 برس کی عمر میں گزر گئے

Stanislav Petrov in later life  CREDIT - DAVID HOGSHOLT
ڈیلی ٹیلیگراف کی ایک رپورٹ کے مطابق رونالڈ اولیفینٹ لکھتے ہیں کہ سویت یونین کے جس سابق ملٹری افسر کے سر دنیا کو ، ایٹمی جنگ کے ہاتھوں تباہی سے بچانے کا سہرا ہے، اُس کا ستتر برس کی عمر میں انتقال ہو چکا ہے۔
سٹینیسلیو پیٹروف سوویت ایئر ڈیفنس میں ایک لیفٹیننٹ کرنل تھے، 26 ستمبر 1983ء کو  ان کی ڈیوٹی ابتدائی وارننگ سینٹر پر تھی جب ایک کمپیوٹر کی فنی خرابی کے باعث اطلاع موصول ہوئی کہ امریکا نے ملک پر میزائل داغ دیے ہیں۔ ان کا اس وقت اس وارننگ کو نظر انداز کر دینے کا فیصلہ دنیا کو نیوکلیئر تباہی سے بچا گیا۔
  کارل سکوماچر جنہوں نے پہلی بار اس کہانی کو عوامی سطح پر پیش کیا تھا ایک بیان میں کہتے ہیں کہ میں نے پیٹروف کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے رابطہ کیا تو مجھے ان کی وفات کی خبر ملی، پیٹروف کے بیٹے ڈمٹری نے بتایا ک اس کے والد 19 مئی کو فوت ہو گئے تھے۔
پیٹروف سات ستمبر 1939ء کو والدی ووستوک میں پیدا ہوئے چھبیس ستمبر انیس صد تراسی کی رات وہ ماسکو کے قریب سوویت کی ابتدائی وارننگ سینٹر میں ڈیوٹی پر تھے جب کمپیوٹرز نے خبردار کیا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا نے پانچ نیوکلیئر میزائل سوویت یونین پر داغ دیے ہیں،1983ء میں اس غلط الارم کی وجہ سے دُنیا میں تیسری عالمی  (ایٹمی ) جنگ چھڑ سکتی تھی۔
مشین نے اشارہ دیا کہ یہ معلومات انتہائی یقینی تھی، پیٹروف نے یاد کرتے ہوئے کہا، دیوار پر جلی سرخ حروف لہرائے، ”آغاز“ جو اس امر کا اشارہ تھا میزائل سچ میں داغ دیے گئے ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل پیٹروف کے پاس
اس حملے کی وارننگ کو درست مان  کریملن کو بتانے یا سوویت کمانڈرز کو یہ بتانے کے لیے کہ سسٹم میں خرابی تھی میں سے کوئی ایک فیصلہ کرنے کے لیے صرف چند منٹ تھے۔یہ اندازہ لگاتے ہوئے کہ امریکی حملے میں تو سینکڑوں میزائل ہونے چاہئیں تھے، اُنہوں نے الارم کو کمپیوٹر کی غلطی مان لیا۔
لیفٹینینٹ کرنل پیٹروف  کا مؤقف اس وقت درست ثابت ہوگیا جب ایک درونِ خانہ کی تفتیش نے اس واقعہ کی چھان بین کرکے یہ نتیجہ نکالا کہ سوویت سیٹلائٹ بادلوں سے ٹکراتی ہوئی دھوپ کو غلطی سے راکٹ انجن سمجھ بیٹھے تھے۔
امریکی ایٹمی حملے کی صورت میں سوویت  کی جانب سے فوراً اینٹ کا جواب پتھر کے ساتھ دینے کی حکمت عملی کارفرما تھی جس کی صورت میں دونوں جانب سے مکمل تباہی مچانے میں برابر کی حصے داری ہوتی، بہرحال پیٹروف اپنے ساتھیوں میں  اس فیصلے کی وجہ سے معروف ہو گئے تھے۔ اُنہوں نے بعد میں شکایت کی کہ انہیں اس واقعے کو کاغذات میں درج نہ کرنے کی جو ناکامی ہوئی اُس کی وجہ سے ان کے سینئرز کی طرف سے ڈانٹ سُننا پڑی اور یہ الزام بھی سہنا پڑا کہ سسٹم کی خرابی کے بھی وہ خود ذمہ دار تھے۔
    وہ اگلے ہی برس آرمڈ فورسز سے ریٹائرڈ ہو کر ماسکو سے باہر چلے گئے۔ یہ واقعہ صرف 1998ء میں جنرل یوری وونٹِنسف جو کہ اُس وقت مسٹر پیٹروف کے سپروائزر تھے کی یاداشتوں کی اشاعت میں عوامی سطح پر لایا گیا۔
سن 2014ء میں دستاویزی فلم ”دی مین ہو سیوڈ دی ورلڈ، میں مسٹر پیٹروف نے کہا تھا،” اُس وقت جو بھی ہوا مجھے اُس کی کوئی پرواہ نہیں ۔ یہ میرا فرض تھا۔ میں تو محض اپنی ذمہ داری نبھا رہا تھا، اور  بات یہ ہے کہ میں درست وقت پر درست آدمی تھا“

بدھ، 5 جولائی، 2017

تعلیم و تربیت کا اہتمام ۔۔۔ ایک نظریے کے ساتھ (دی نالج ہوم گروپ آف سکولز)

تحریر و ترتیب: عبدالرزاق قادری
بہترین تمدنی زندگی گزارنے کے لیے انسان نئی نسل کو اپنے گزشتہ تجربات منظم کرکے پیش کرتے ہیں تا کہ وہ زندگی گزارنے کے ڈھنگ سیکھ پائیں اور اپنے معاشرے کے لیے مفید شہری ثابت ہوں، عام مشاہدے کی بات ہے کہ اگر کوئی طالب علم تعلیمی امتحانات میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ دکھائے تو اُسے دادِ تحسین سے نوازا جاتا ہے اور حکومتیں ایسے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات مقرر کرتی ہیں بعض اوقات ایسے درخشندہ ستاروں پر ترقی یافتہ ممالک کی نظر پڑ جاتی ہے اور ٹاپرز کے لیے  بیرونِ ملک کسی اچھے انٹرنیشنل تعلیمی ادارے میں سکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم  مفت حاصل  کرنے کی پیشکش کی جاتی ہے، پاکستان جیسے تھرڈ ورلڈ کنٹری سے لوگ کسی بھی صورت بھاگ جانا چاہتے ہیں لیکن اگر موقع بھی ہو،  دستور بھی ہو اور مفت آفر بھی ہو تو کون کافر باز رہتا ہے۔
شاید ریاستِ پاکستان نے ایک ماں ہونے کے ناتے اپنے شہریوں کو کبھی بھی وہ سہولیات یا کم از کم بنیادی ضروریات فراہم نہیں کیں جو کہ مہذب و متمدن معاشروں کا خاصہ ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے باسیوں نے بھی اپنے ملک کے ساتھ وفا کرنے کا پُورا حق ادا نہیں کیا پاکستانی عوام اپنے ملک میں رہتے ہوئے دِل ناداں کو مشرقِ وسطی ، آسٹریلیا، یورپ یا امریکہ اور کینیڈا کی زمینوں سے لگائے بیٹھے ہوتے ہیں، جب تعلیم حاصل کرکے ہنر مند بن جاتے ہیں تو اپنا ٹیلنٹ اور جوانی کسی دوسرے ملک کے اداروں کی خدمات کے لیے خرچ کرنے کے لیے چلے جاتے ہیں اور بڑھاپے میں واپس آکر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ زندگی تو” وہاں“ ہے، یہاں تو صرف بھوک ننگ ہے، افلاس ہے، بدعنوانی ہے اور مکر و فریب کے ڈیرے ہیں اُن کے نزدیک  پاکستان میں بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے جبکہ اپنا تبدیلی کا سنہری وقت دوسروں کی جھولی میں ڈال آتے ہیں۔

زیرِ نظر مضمون میں ایک ایسے محبِ وطن شہری (جناب محمد رفیق خلیل) کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو اپنے تعلیمی دورانیے میں نہ صرف ٹاپر تھے  بلکہ بچپن سے نہایت کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھےباوجود اس کے  انہوں نے تعلیمی بورڈز کو ٹاپ کیا پھر آفرز کی بھرمار ہوگئی لیکن یہی وہ لمحہ تھا جب وہ مردِ قلندر اپنی خودی نہ بیچ پایا اورخود کو پاکستان کے لیے وقف کردیا، وہ کسی سرکاری ملازمت کرنے کے لیے نہیں گئے مبادا لوگ اُنہیں رشوت خور یا صرف ایک افسر مان لیں یا شاید وہ کسی باس کے احکام کی تعمیل کرنے سے قاصر تھے، بہرحال اُنہوں نے  پیغمبرانہ پیشہ اختیار کیا اور چمنِ پاکستان کے نونہالوں  کو سینچنے کا فریضہ سرانجام دینے میں جُت گئےایسے مالی کے لیے آمدنی کی نسبت اپنے پودوں کی رکھوالی مقدم ہوتی ہےنہ صرف یہ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایسے بچوں کو بھی اپنے ہی چمن کے پھول مانتے ہیں جو اُن کے زیرِ سایہ تعلیم حاصل نہیں کرتے،یا ایسی بچیاں جو، ان کے گھر میں پیدا نہیں ہوئیں یا جن کا سہارا کسی حادثے کی نذر ہو چکا تھا یا وہ طلباء و طالبات جن کے پاس کالجز کی داخلہ فیس یا کتابوں کے لیے کوئی فنڈز نہ تھے یا وہ لوگ جو ایک اچھی آمدنی کے حامل ہیں لیکن انہیں زندگی کو منظم کرکے گزارنا نہیں آتا، انہیں رہنمائی دینے کے لیے یا دُکھی دلوں کے غم سُننے کے لیے، اپنے سکول کے ننھے مُنّے طلباء کے پاس جا کر پُھلجڑیاں چھوڑنے کے لیے، نوجوانوں کو تربیت دینے کے لیے، مبتدیوں کے لیے اعلیٰ ذہنی آزمائش والی کتابیں لکھنے کے لیے اور دوستوں کو رُوحانیت کی تعلیم سے رُوشناس کرنے کے لیے  اس قدر زیادہ وقت کیسے میسر آجاتا ہے یہ ایک پہیلی ہے جس کا راز شاید وہی جانتے ہیں۔
ملک پارک بلال گنج لاہور کے باسی جانتے ہیں کہ ایک ادارہ صُبح کے وقت ”دی نالج ہوم سکول“ بن جاتاہے، دوپہر کو اکیڈمی، شام کو کمپیوٹر سنٹر اور رات کو دُکھی دلوں کی تسکین کی آماجگاہ بن جاتا ہے، اور فلاحی کام کرتے وقت اُسے ”صبح روشن فاؤنڈیشن“ کا صدر دفتر مان لیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ آپ کے بچوں کو نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے بلکہ یہاں زیرِ تعلیم طلباء کو زندگی گزارنے کے طور طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں اور میٹرک پاس کرنے کے بعد انہیں مستقبل کے لیے بہترین رہنمائی دی جاتی ہے۔ اُن کے پاس نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں مصروفِ عمل ہیں بلکہ طلباء طالبات کے والدین کی مدد کرنے کے لیے انتظامیہ موجود ہے جس کا عملہ انہیں ایسی معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے جس کی بدولت والدین وہاں اپنائیت اور اخلاص کی فضا محسوس کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر وہ اپنے ادارے کی وہ خوبیاں ضرور بیان کرتے ہیں جو اُنہیں متوازی چلنے والے ”برانڈ سکولز“ سے ممتاز کرتی ہیں، اور اُس کے دستاویزاتی اور عملی ثبوت فراہم کرتے ہیں جس کی بدولت والدین کو یقین دہانی ہو جاتی ہے کہ  کیونکر کچھ ناعاقبت اندیش کاروباری افراد، معیاری تعلیم اور سٹیٹس کے نام پر  جذباتی اور معاشی طور پر سادہ لوح عوام کا استحصال کر رہے ہیں، لیکن دی نالج ہوم اِن سب ہتھکنڈوں کی آمدنی سے بے نیاز ہو کر اپنے ہی مؤکلین کو ایسے چھپے ہوئے ”سچ“ بتانے میں لیت و لعل یا کوئی عار محسوس نہیں کرتا جس کی وجہ سے ادارے کی آمدنی میں خاصی کمی واقع ہو سکتی ہے، ان حربوں میں سے بعض تو غیر ضروری ہیں اور دیگر حقیقتاً والدین اور طلبہ کے لیے نقصان دہ ہیں۔
دی نالج ہوم گروپ آف سکولزکی چھ شاخیں ہیں، مرکزی ادارہ ملک پارک کے وسط میں عمر سٹریٹ مجاہد روڈ پر واقع ہے لیڈرز کیمپس گیلانی پارک امیر روڈ بلال گنج، فیضِ عالم کیمپس عمر غنی روڈ سنت نگر، ای ڈی ایس کیمپس  ہمدرد کالونی شیر شاہ روڈ شاد باغ لاہور اور شاہدرہ میں دو سکولز ہیں جن میں سے ایک پیپلز کالونی فیروزوالا میں سٹی فاؤنڈیشن سکول بوائز کیمپس اور دوسرا رچنا ٹاؤن میں سٹی فاؤنڈیشن سکول گرلز کیمپس ہے ان سب میں ہزاروں طلباء و طالبات علم کی پیاس بجھا رہے ہیں، سکول ہیڈ آفس کا رابطہ نمبر درج ذیل ہے۔03214196841

ہفتہ، 27 مئی، 2017

Musical Fountains at the greater Iqbal Park Lahore - Video by Abdul Razz...

میں کئی بار لاہور میں قائم کردہ نئے فوارے دیکھنے گیا ہوں اور وہاں اُن کی وڈیوز بھی بنائی ہیں 28 مارچ 2017ء کو میرے موبائل سے بنائی گئی یہ وڈیو آپ کے ذوق کی نذر

منگل، 25 اپریل، 2017

اسلحے کی دوڑ ۔ امریکہ ۔ چین ۔ روس ۔ سعودیہ

             ایک تازہ رپورٹ کے مطابق روس تیل کی قیمتوں میں کمی اور معاشی پابندیوں کے باوجود اسلحے کی دوڑ  یا دوسرے لفظوں میں عسکری اخراجات کے لحاظ سے  2016ء میں تیسرے نمبر پر رہا ہے ، روس نے  2016ء میں 62.2 بلین ڈالر عسکری مد میں خرچ کیے جو 2015ء کی نسبت 5.9 فیصد اضافی ہیں ۔
             سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ اپنی آزادی کے بعد سے روس کی طرف سے آج تک اس مد میں خرچ کیا جانے والا سب سے بڑا تناسب ہے۔سن 2014ء میں جب یوکرائن کا تنازع ہوا تھا تب سے مغرب کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں اور تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے باعث روس کی سخت مشکلات میں گھری ہوئی معیشت کے لیے اخراجات میں یہ اضافہ ایسے حالات میں بہت بڑا بوجھ ہے۔
             سن 2015ء میں سعودی عرب اسلحہ کا تیسرا بڑا صارف تھا لیکن 2016ء میں 63.7 بلین ڈالر کے عسکری اخراجات میں 30 فیصد کمی کے ساتھ چوتھے نمبر پر آ گیا، باوجود یکہ وہ خطے میں جنگیں مسلط کرنے میں ملوث رہتا ہے، ادارے کے ایک محقق نان تیان کا کہنا ہے کہ تیل کے زر مبادلہ میں کمی اور دیگر متعلقہ معاشی مسائل نے تیل کی قیمت کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کی بناء پر تیل پر انحصار کرنے والے متعدد ممالک عسکری اخراجات کم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، مزید یہ کہ سعودیہ نے 2015ء اور 2016ء کے درمیان عسکری اخراجات میں سب سے زیادہ کمی دکھائی ہے۔
             امریکا 2015ء اور 2016ء کے درمیان 611 بلین ڈالر میں 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں سرِ فہرست رہا جبکہ چین نے 215 بلین ڈالر کے اخراجات میں 5.4 فیصد اضافہ کیا جو کہ گزشتہ برسوں کی نسبت قدرے کم ہے ۔رپورٹ کے مطابق امریکی عسکری اخراجات میں سن 2016ء  میں اضافہ ”شاید اِن اخراجات میں کمی کے رُجحان کو ختم کر دے“  جو سن 2008ء میں معاشی بُحران کی وجہ سے آیا تھا اور امریکی افواج کا افغانستان اور عراق سے انخلا ہوا تھا۔
             اپریل کی 13 تاریخ کو امریکہ نے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کےدور دراز کے  علاقے میں دولتِ اسلامیہ (داعش) گروپ  کے ٹھکانے کو نشانہ بناتے ہوئے اپنا سب سے بڑا (غیر ایٹمی) بم گرایا تھا۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ  کے ڈائریکٹر عاد فلورینٹ کا کہنا ہے، ”ان اخراجات میں مزید اضافے کی معلومات ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی تبدیلی کی وجہ سے ابھی تک غیر واضح ہیں“۔
             مغربی یورپ، جو کہ 2015ء سے دہشتگردی کے سانحات کی زد میں ہے، نے بھی 2016ء میں   تواتر کے ساتھ دوسرے سال بھی اپنے عسکری اخراجات میں  2.6 کی نسبت سے اضافہ کیا ہے۔ وسطی یورپ نے بھی 2016ء میں 2.4 فیصد کی نسبت سے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔انسٹیٹیوٹ  کے  ایک سینئرتحقیق کار سائمن ویزمن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وسطی یورپ میں عسکری اخراجات میں بڑھوتری  کو کسی حد تک  اس رائے کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے کہ روس اُن کے لیے  ایک بڑا خطرہ بن رہا ہےتاہم انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ یہ حقیقت اس کے باوجود اپنی جگہ ہے کہ اکیلے روس کا 2016ء میں عسکری بجٹ، یورپی نیٹو ارکان کے کُل اخراجات کا 27 فیصد تھا۔

ہفتہ، 22 اپریل، 2017

ڈاکٹر تنظیم الفردوس

تنظیم فردوس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ڈاکٹر تنظیم الفردوس


پیدائش 28 مئی 1966 ء
قلمی نام تنظیم الفردوس
پیشہ مصنف، ماہرِ لسانیات، معلم، نقاد، محقق
زبان اردو، انگریزی، سندھی ، فارسی
شہریت پاکستان کا پرچمپاکستانی
تعلیم پی ایچ ڈی
مادر علمی جامعہ کراچی
صنف تنقید، تحقیق، لسانیات
مضمون تاریخِ اردو زبان،مولانا احمد رضا خان کی شاعری
نمایاں کام اردو کی نعتیہ شاعری میں امام احمد رضا کی انفرادیت​ و اہمیت[1]، منظر بدلنا چاہیے مطبوعہ 2016ء [2]، ممتاز شیریں شخصیت اور فن[3]
ویب سائٹ
شعبۂ اُردو ، جامعہ کراچی

                      ڈاکٹر تنظیم الفردوس پاکستان میں اردو زبان کی ایک استاد[4]، محقق اور مصنفہ [5]ہیں۔ وہ مئی 2016ء سے جامعہ کراچی کے شعبہ اردو میں بطورِ صدر شعبہ خدمات سرانجام دے رہی ہیں[6] وہ مقامی اور بیرونی طلباء و طالبات کو اُردو کی تدریس کرتی ہیں اور ساتھ ساتھ اُردو کی اسناد/ڈپلوما جات کے لیے نصاب بھی ترتیب دیتی ہیں۔ وہ نصف درجن سے زائدمطبوعہ کتب کی مصنفہ اور مؤلفہ ہیں۔

تعلیم

ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے جامعہ کراچی سے انگریزی، سندھی اور فارسی زبان کے کورسز کیے، اور جامعہ ھٰذا سے 1989ء میں اُردو زبان و ادب میں ماسٹرز کرنے کے بعد سن 2004ء میں اُردو زبان و ادب میں پی ایچ ڈی کی، اُن کے پی ایچ ڈی مقالہ کا عنوان ” اردو کی نعتیہ شاعری میں امام احمد رضا کی انفرادیت​ و اہمیت“ ہے[7]

تدریس

وہ لگ بھگ 1992ء سے مختلف اداروں میں تدریس سے وابستہ ہیں، گورنمنٹ کالج برائے خواتین، پاکستان ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں تین برس بطورِ لیکچرر تعینات رہیں، بعد ازاں30 اپریل 1995ء سے جامعہ کراچی کےشعبۂ اُردو میں پوسٹ گریجویٹ کلاسزکو تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور اب (2016ء سے تا حال اپریل 2017ء تک) صدرِ شعبہ ہیں۔[8]

تصانیف

اُن کی طبع شُدہ کتب میں سے چند کے عنوانات درج ذیل ہیں۔
  • مجموعہ ٔ شاعری : منظر بدلنا چاہیے مطبوعہ 2016ء، قرطاس، فیصل آباد [9]
  • تنقید: ممتاز شیریں شخصیت اور فن، اکادمی ادبیات پاکستان[10]
  • انتخابِ کلام: رضا علی وحشت (تالیف)، 2017ء، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی
  • انتخابِ کلام: شبلی نعمانی (تالیف)، 2015ء، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی
  • انتخابِ کلام: بہادر شاہ ظفر (تالیف)، 2015ء، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی
  • انتخابِ کلام: امیر مینائی(تالیف)، 2014ء، ادراۂ یادگارِ غالب کراچی
  • اُردو شاعری کی چند کلاسیکی اصناف: عہدِ حاضر کے تناظر میں، 2013ء، ادراۂ یادگارِ غالب کراچی
  • جنگِ آزادی 1857ء؛ تاریخی حقائق کے نئے زاویے، 2012ء، قرطاس، کراچی؛ اشاعتِ اول 2010ء
  • فُٹ فالس ایکو (Foot Falls Echo)، ممتاز شیریں کے انگریزی افسانوں کا مجموعہ، 2006ء، منزل اکیڈمی، کراچی
غیر مطبوعہ کُتُب مشرق اور مغرب کی کہانیاں (تالیف)، نیشنل بُک فاؤنڈیشن، اسلام آباد انتخابِ خطوطِ غالب (تالیف) ، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی

مضامین

مختلف رسائل و جرائد میں چھپنے والے چند مقالہ جات
  • مولانا احمد رضا خان کی نعت گوئی کا سب سے اہم محرک: ماہنامہ معارفِ رضا کراچی، نومبر 2004ء[11]
  • علامہ مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری میں ہیئت کا تنوع: ماہنامہ معارفِ رضا سلور جوبلی سالنامہ نمبر 2005ء[12]
  • مولانا احمد رضا خان کی شاعری میں لسانی تشکیلات اور مقامی اثرات: ماہنامہ معارفِ رضا کراچی، اپریل 2000ء[13]

حوالہ جات

اتوار، 9 اپریل، 2017

کیا یہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے --- عبدالرزا ق قادری


گرمی کے موسم میں کبھی کبھی ہو ا کا جھونکا آئےتو دیہاتوں میں درختوں کے سائے تلے بیٹھے لو گ سکھ کا سانس لیتےہیں۔ اوراپنی دوپہر کو گزارتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار ہو ا بالکل بند ہوجائےاور جس اس قدر شدید حبس ہو کہ دم گھٹتاہو ا محسوس ہو۔ سینہ دھونکنی کی طرح چل رہا ہو۔ سانس لینے میں دشواری ہو تو وہاں سیانے لوگ کہہ دیتے ہیں آج یوں لگتاہے کہ آندھی آئے گی۔ کئی گھنٹوں کے طویل کرب انگیز دورانیے کے بعد شام سے پہلے کسی ایک طرف سے گردکے آثار نظر آتے ہیں۔ جوتھوڑی ہی دیر میں آندھی اوربارش کے طوفان کی صورت میں سر پر آپہنچتا ہے۔ پھر زور کی ہوا، تھپیڑے دار بارش اور تاریک شام کے مناظر چھا جاتےہیں۔ لوگ دوڑ کر گھروں میں گھس جاتے ہیں۔ پہلے گرمی سے چھٹکا رے کا شکر اداہوتاہے۔
پھر جب شدید طوفان تھمنے کا نام نہ لے تو اس سے خوف آناشروع ہو جاتاہے۔چند گھنٹوں کے لیے سارا نظام درہم برہم ہو جاتاہے۔جل تھل کا عالم بن جاتاہے۔اس بارش سےدرختوں ،فصلوں اور مویشیوں کی کثافتیں دُھل جاتی ہیں۔پرندوں کے گھونسلے ٹوٹ کر برباد ہوجاتے ہیں۔ ان غریبوں کے
بچے اورانڈے تباہ ہو جاتے ہیں۔مویشی کانپنا شروع ہو جاتے ہیں ۔لوگوں کے لیے یہ مشکل ہو جاتاہےاپنے جانوروں کو بروقت چارے کا بندوبست کرکے دے چھوٹے چھوٹے بے شمار مسائل جنم لیتے ہیں۔ خوب تباہی ہوتی ہے۔رات کے کسی پہر بارش رُک جاتی ہےبادل کسی دوسرے علاقے کا رُخ کرتےہیں۔
اگلی صبح بڑی شاندار ہوتی ہے۔ہر چیز صاف ستھری ہوتی ہے۔وہی بے گھر پرندے خوشی کے نغمے گارہے ہو تے ہیں۔اُنہیں مویشیوں کے انگ انگ سے اتھراپن دِکھتاہے۔سبزہ خوش نما اور فصلیں سیراب شدہ نظرآتی ہیں۔ہزاروں روپے کے ڈیزل کی بچت ہو جاتی ہے۔کیونکہ بارشی پانی سے فصلیں مفت میں پانی پانی ہو جاتی ہیں۔ ریتلے علاقے تہہ ہو جاتے ہیں۔ندیاں اوردریاسینکڑوںمیلوں تک پانی لے جانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ کسان کا چہرہ تمتا اُٹھتا ہے۔ بچوں کے چہروں پر رونق ہوتی ہے۔ شکر کے نوافل ادا ہوتے ہیں۔ کسی شب میں سحر ہو جاتی ہے۔ اس کی روشنی سے دور تک اُجالا ہو جاتاہے۔ کل والی بارش او ر طوفان سے ناراض لو گ اس کی سختی کو بھول جاتے ہیں۔اوراُس کے نیتجے میں آنے والی نئی صبح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
طوفان آنے کے پیش خیمہ میں گھٹن حبس ہو ا کی بندش اورسکوت کاتذکرہ ہو تا ہے۔کچھ اسی طرح کاحال آج انسانیت کا مجموعی طورپر ہے۔ اس پر کالا قانون راج کر رہاہے۔ حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ عدل کے نام پرظلم کیا جارہاہے۔ جدت کے نام پر بدی فروغ پارہی ہے۔ نظام نے انسان کو مشین بنا دیاہے۔ اُسے بے حس بے بس اوربے جان پُر زے کی طرح استعمال کیا جا رہاہے۔ کہیں سے کیمونزم نے اور لادینت کے سانپ نے سری اُٹھائی ہو ئی ہے کہیں سے اور آزادی اظہاررائے کے ناگ نے پھن پھیلایا ہو ا ہے۔ اُن پر ظالم حکمران مسلط ہیں۔ خود غرضی کے طلسم ہوش رُباکا جادو اُن کے سرچڑ ھ کر بو ل رہاہے ۔خود پرستی کی چکا چوند انہیں پھانسی کے گھاٹ تک لے آئی ہے۔ مال وزر کی ہوس نے ان کے اندر انسان کو ذبح کر دیاہے۔
 ایک گہراسکوت ہے۔ تاریکی ہی تاریکی ہے۔کفار ان کو ہائی پوٹینسی کے جھٹکے لگا کر لگا کر میٹھی نیند کی گولی بھی دے ڈالتے ہیں۔وہ درد کے انجکشن سے بلبلا آٹھاہے لیکن گولی کی وجہ سے پھر سوجاتاہے۔ہوش میں آنے کا شعور چھن گیا ہے۔ للکارنے والا کو ئی نہیں۔ ہوش دلانے والا طبیب مفقودہے۔ مسئلے کا حل تلاش کر نے والا معالج عنقا ہے۔ اگرتو یہ درد کے جھٹکے اور بلبلانے کی شدت گرمی کے موسم کی ہلکی پھلکی ہو ا کی مانند ہے تو پھرنہ اُمت مسلمہ سے کو ئی آندھی اُٹھے گی اورنہ ہی کو ئی طوفان تہ وبالا کرے گا، لیکن اگر یہ خاموشی گرمی کی گھُٹن اور حبس کے جیسی ہے تو ان شاءاللہ وہ گھنگھور گھٹائیں ضرور اُٹھیں گی۔ اور وہ طوفان ضرورآئے گا۔ جوکفار کی ہرطرح کی یلغار کو خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گا۔اُس میں چند مائوں کے گھر پرندوں کے گھونسلوں کی مانند ضرورتباہ ہوں گئے۔ پرندوں کے انڈوں کی طرح انسانوں کے کچھ بیٹے اس طوفان کی زدمیں تو ضرور آئیں گے۔
 لیکن اگلی نکھری نکھری صبح کی تازگی میں سارے غم بھو ل جائیں گے۔کروڑوں اربوں لوگوں کو خوش دیکھ کر چند پیاروں کی یاد دل سے محو ہو جائےگی۔وہ سحر ضرورطلوع ہوگی۔اُس کے مرکز کی نشان دہی کاحق سب جہانوں کے مالک کے پاس ہے۔ اور امید کی کرن اورصبح کے ستارے کا انتخاب بھی آسمانی ہی ہو گا۔ لیکن اُس صبح کے ستارے کے منتظر لاکھوں کروڑوں لوگ اس وقت آسمان کو تک رہے ہیں۔ اور پُرامید ہیں۔ وہ صبح ضرور طلوع ہوگی اوران شاءاللہ جلدہوگی۔

منگل، 28 مارچ، 2017

احسان مند ہوں جناب کا ۔۔۔ اُستاد نعیم قیصر صاحب کا

لوگ باتیں کرتے ہیں دو دو ٹکے کے ”بکاؤ مال“ کی۔مجھ سے کسی نے بات کرنی ہو تو
کتاب و سُنت پڑھ کے آئے اور بات کرے
فلسفے کے سقراط کی کرے
طب کے بوعلی سینا کی کرے
تاریخ کے البیرونی کی کرے
جیومیٹری کے فیثا غورث کی کرے
ریاضی کے الخوارزمی کی کرے
فزکس کے نیوٹن اور البرٹ آئن سٹائن کی بات کرے
نفسیات میں سگمنڈ فرائڈ، ارکسن اور پیاجے کی بات کرے
کہانی میں پئولو کولو اور منٹو کی کرے
نثر میں یونس ادیب کی بات کرے
شعر میں غالب کی بات کرے ادب میں اقبال کی بات کرے
سخن میں رومی، جامی، سعدی اور شیرازی کی بات کرے
ولی، درد  اور میر کی بات کرے
داتا، خواجہ اور مردِ قلندر کی بات کرے
کوئی مجھ سے عارفِ کھڑی شریف، سلطان باہو، بلھے شاہ، بابا فرید اور امیر خُسرو کی بات کرے
شیکسپیر اور امتیاز علی تاج کی بات کرے
کوئی مجھ سے
اہلِ دل کی بات کرے اہلِ درد کی بات کرے
دور غم کی رات کرے
پیش اپنی سوغات کرے
میں نے اِن شہر کے دکانداروں میں” کاروبارِ اُلفت“ کرنے والے ایک شخص کو دیکھا ہے، اندر سے، سینے کی تہہ سے جھانک کے دیکھا ہے۔ عین ممکن ہے اُس کے چہرے پر آپ کو نُور نظر نہ آئے لیکن اُس کا دِل صاف اور شفاف ہے جس میں سے نظر آر پار ہوجاتی ہے اُسے میں نے اپنی رُوح میں محسوس کیا ہے وہ میری سماعتوں میں رس گھولتا ہے وہ حق کی زباں بولتا ہے وہ احساس کی زباں سُنتا ہے اُسے زنگ آلود لوہے کو صیقل کرنا آتا ہے اُسے تعمیرِ سیرت کرنا آتا ہے اُسے شعر کہنا آتا ہےاُسے الجبرا آتا ہے، ٹرنگومیٹری سکھانا آتا ہے، فزکس آتی ہے اُردو  آتی ہے، شعر وسُخن کا دلدادہ ہے اُسے اپنی بات کرنا آتی ہے اُسے بندے کو پرکھنا آتا ہے
لیکن
وہ دُکاندار نہیں ہے
اُسے بھاؤ تاؤ کرنا نہیں آتا
اُسے مول لگا نا نہیں آتا، وہ انمول ہے، میری یادوں کا انمٹ نشاں ہے اُسے تمیز آتی ہے سلیقہ آتا ہے اُسے دلوں میں گھر کر لینے کا فن آتا ہے
مجھے تعارف کرانے دیں
وہ میرا نہ صرف اُستاد ہے بلکہ ایک عملی رہبر کا نمونہ ہے
آج میں جو لکھتا ہوں، جو پڑھاتا ہوں مجھے اُس نے نکھارا ہے سنوارا ہے حوصلہ دیا ہے ایک صُور پھونکا ہے مجھے سچ کہنے کی تربیت دی ہے حق بکنے کا ولولہ دیا ہے
ہاں! اُستاد جی
اگر میں اٹلی کا جج ہوتا تو آپ کے لیے (اشفاق احمد کی طرح) کورٹ میں کھڑا ہو جاتا اور شور مچا دیتا کہ
اے ٹیچر ان دا کورٹ! اے ٹیچر ان دا کورٹ!
اگر میں جمہور کا نمائندہ ہوتا تو آپ کو صدرِ مملکت چُن لیتا
اگر ماہی ہوتا تو آپ کانام آب لکھتا
اگر ہوا ہوتا تو آپ کو آکسیجن قرار دیتا جو ایک جان کے لیے ضروری ہے
اگر آپ اُس شام مجھے دُھتکار دیتے اور مول تول کرنے بیٹھ جاتے تو شاید میں کبھی میٹرک تک نہ کر پاتا، جس شام میں اپنی فیس کی بھیک مانگنے آیا تھا
مگر
آپ نے تو کبھی جتلایا بھی نہیں، کسی کو بتایا تک نہیں
میں آپ کی اُس عظیم ماں کو سیلوٹ کرتا ہوں جو 12 ربیع الاول کو وصال کر گئیں
میں آپ کو کیا بتاؤں
کہ
میں نے اُن کے چہلم پر
ساری
تقریر صرف ماں کی تربیت کے گردکیوں گھما دی تھی
وہ میری آخر تقریر تھی
آج پانچ سال گزر گئے
میں کبھی سٹیج پر نہیں بیٹھا، وہ میری آخری تقریر تھی
میرے منہ کی زبان آپ کی مقروض ہے
میرا الجبرا اور حساب آپ کا احسان مند ہے
مجھے وہ مشق اور سوال یاد ہیں
جو
آپ نے
آؤٹ آف سلیبس
دے کر کہا تھا
”پھر وہ میتھ۔میٹیشن کیا ہوا جو سلیبس تک محدود رہ گیا“
مجھے آپ کے جملے یاد ہیں
آپ کا وہ سر ہلانے کا انداز ہے
جب آپ نے  بغیر فیس کے پڑھنے کی اجازت کے لیے گھمایا تھا
آج تک میرے کسی کلاس فیلو کو معلوم نہیں پڑا
گیارہ سال گزر گئے
زمانہ کہاں چلا گیا، میں وہیں کھڑا ہوں۔ آپ کے احسانوں کی نیچے دبا ہوا ہوں۔
آپ مجھے ایم۔اے انگلش دیکھنا چاہتے تھے لیکن افسوس میں نہ کرپایا
آپ کو شاید لوگوں نے کوئی تاجر سمجھ لیا ہو لیکن میرے لیے آپ فرشتہ ثابت ہوئے ہیں، مجھے لوگوں کے غلط کمنٹس کبھی آپ سے متنفر نہیں کر پائے
آپ کے شعر میری یادوں کا اثاثہ ہیں
آپ نے اپنی کتاب کے چھپنے سے ایک سال قبل مجھے اپنی نعت لکھ کر دے دی تھی، وہ ورق آج تک میرے پاس محفوظ ہے، آپ کی مثالیں یاد ہیں،  ان کی بازگشت آج تک چلی آ رہی ہے، جب آپ نے دسویں کا ایک سبق ”اے لیٹر۔فادرز ایڈوائس“ پڑھایا تھا اس کے جملے یاد ہیں
کہ
”روزی دو طرح کی ہوتی ہے، ایک وہ ہے جس کے پیچھے تم بھاگتے ہو، دوسری روزی وہ ہے جو تمہارے پیچھے بھاگتی ہے“۔
مجھے یاد ہے کہ
اُردو کے پہلے ٹیسٹ میں میں بغیر تیاری کے بیٹھا تھا اور ایک دلچسپ سفر کی روداد اپنے لفظوں میں فیصل آباد سے لاہور کا سفر لکھ دیا تھا اور آپ نے کتاب والے رٹے کا تقاضا نہیں کیا تھا۔
جب میں عیدالاضحیٰ پہ گاؤں جانے سے پہلے آپ سے اپنے سٹوڈنٹ کارڈ بنانے کے لیے دستخط کروانے آیا تھا آپ کی امی نے کیا فقرہ بولا تھا مجھے اُس کا درد آج تک کاٹتا ہے کہ انہیں کیا کیا ”دُکھ“ لاحق تھے۔
مجھے آپ کی شادی میں پہلی اور آخری بار روپے نچھاور کی رسم یاد ہے، میں نے تو کبھی کسی کی شادی میں نوٹ نہیں برسائے۔ آپ سے وابستہ یادیں آپ کے اشعار کی طرح میرے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے اور شاید میری رُوح کا حصہ بن چکی ہیں مجھے آپ سے نہ صرف عقیدت ہے بلکہ آپ کے فن کے آگے میرا سرِ تسلیم خم ہے۔
فقط
عبدالرزاق

جمعرات، 23 مارچ، 2017

23 مارچ 1940ء تا 2017ء کیا کھویا کیا لایا

قراداد لاہور یعنی قرارداد پاکستان کے سات برس پاکستان حاصل ہوا

لیکن بہت سے علاقے چھن گئے، پاکستان کو اس کے خزانے میں سے بھی مکمل حصہ نہ ملا،  انتظامیہ کو سہولتیں نہ مل سکیں، مہاجرین اور لاشوں کے معاملات درپیش آئے

پھر 1949ء میں قرارداد مقاصد منظور ہوئی جس کی رو پاکستان کے آئین اور قانون کی بنیادیں اسلامی قانون پر استوار کرنے کا عہد ہوا

لیکن اس سے پہلے جہادِ کشمیر میں مکمل کشمیر آزاد نہ ہو پایا جنرل گریسی نے اپنے چیف کمانڈر کا حکم نہ مانا

رانا لیاقت علی خاں نے بطورِ وزیراعظم ڈکٹیٹر کا عہدہ سنبھال لیا لیکن افسوس انہیں ایک نجانے کس نے قتل کر دیا اور وہ شہید ملت کہلائے

پھر غداروں کی ایک فوج ظفر موج نے اپنی باریاں شروع کر دیں

سکندر مرزا جیسے رذیل بھی پاکستان کے حکمران بنے اور پھر خود ہی مارشل لاء لگوا کر کھڈے لائن لگ گئے

پھر ایوب خاں نے انقلابی کارنامہ ہائے سرانجام دیئے لیکن پاکستان کو قرضوں کی دلدل میں دھنسا گئے

محترمہ فاطمہ جناح کی شان میں ہر قسم کی گستاخی روا رکھی گئی

منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم وجود میں آئے

تعلیم کے لیے آج تک کسی حکومت نے کوئی قابلِ ذکر کارنامہ نہیں دکھایا

تب 1965ء کی جنگ جیت کر میز پر ہارے

پھر ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جھوٹ کی تھیلی میں سے تاشقند معاہدہ نکالنے کی کوشش کی لیکن آج تک وہ بلی اسی تھیلے میں ہے اسی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی وجود میں آئی

پھر مشرقی پاکستان کھویا

جنرل یحییٰ جیسا بد قماش بھی مکروہ دھندوں میں مشغول رہا

پھر 1973ء میں آئین میسر آیا

پھر بھٹو صاحب ڈکٹیٹر کی اداکاری کرنے لگے تو ان سے بھی بدتر جنرل ضیاء الحق مسلط ہو گئے

پھر پاکستان نے جوہری توانائی حاصل کر لی

ضیاء کے بعد پیپلز پارٹی اور نوازشریف پارٹی کی باریاں شروع ہو گئیں

پھر ایٹمی دھماکے کیے گئے

پھر کارگل ہارے

پھر پرویز مشرف ہیرو بن کے آیا لیکن بعد میں نہایت بزدلانہ فیصلے ہوئے ، پاکستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی ملی

دہشتگردی کا جو بیج "الذوالفقار" نے بویا تو لشکرِ جھنگوی اور طالبان تحفے میں ملے جنہیں آج تک پاکستان کے کرتا دھرتا سینے سے لگائے بیٹھے ہیں

پھر میثاقِ جمہوریت اور این، آر، اوز ہوئے اور خلق خدا کی وہ حکمرانی قائم ہوئی کہ جس سے آج تک پاکستان کے درو دیوار چمک رہے ہیں اور عوام کے چہرے دمک رہے ہیں

اب پاک چین راہداریاں اور غلام گردشیں بن رہی ہیں اور پاکستان ترقی کی نت نئی منازل طے کر رہا ہے، امن اس قدر وافر ہے کہ ہر چھ ماہ کے بعد ایک نئی فورس جنم لے رہی ہے لیکن پھر وہ ”اشرافیہ“ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، جج سلطان راہی کی طرح بیانات جاری کرکے عوام کو محظوظ کرتے ہیں اور اہلِ اقتدار ٹی وی پر لوگوں کی ماؤں بہنوں پر اپنے افکارِ عالیہ کا اظہار فرماتے ہیں، ہر بار الیکشن آرمی کے زیرِ سایہ منعقد ہوتے ہیں اور وہاں سے اُن کے من پسند ”گلو بٹ“ مسندِ اقتدار پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ اوہ! ایک سونامی آنا تھی وہ جانے کیا ہوئی اور بھائی لوگ بھی آج تک بھائی ہیں۔
؎                                                                                                                                                                                                                                    وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے


منگل، 3 جنوری، 2017

Rahmat DawaKhana: A Mental Rehabilitation Center

رحمت دواخانہ ۔۔۔ ایک گوشۂ عافیت

عبدالرزاق قادری
آج ایک طویل عرصے کے بعد قلم کو اپنے خیالات سمیٹنے کے لیے اٹھایا ہے مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک نئی زندگی عطا کی ہے جس کے لیے میں اُس پاک ذات کا بے حد شکر گزار ہوں اور ساتھ ساتھ حکیم اعجاز حسین کا بہت بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرا جسمانی، اعصابی اور نفسیاتی علاج کیا تو میں زندگی کی طرف واپس چلا آیا۔پچھلے سال (2015ء) کے آخر سے میرے خیالات کو مسلسل پڑھنے والے جانتے ہوں گے کہ اُن میں سے مایوسی جھلکنے لگی تھی لہٰذا میں زندگی سے مایوس ہو چکا تھا۔سن 2011 تک مجھے بچپن سے دائمی ”کیرا “لاحق تھا یہ بلغم بار بار تھوکتے رہنے کی ایک بیماری ہے مریض سمجھتا ہے کہ اس کے تالو کے ساتھ کوئی چیز چمٹی ہوئی ہے۔

کسی کو بِن مانگے مشورہ دینا عجیب سا کام ہے لیکن مجھے ایک صاحب (جنابِ محسن) نے 2011ء کے اواخر میں ایک مشورہ دیا تھا کہ آپ ایک دوا ”اطریفل اُسطوخودوس“ استعمال کریں۔ یہ ایک ہربل دوا ہے جو کہ طلباء و اساتذہ اور ذہنی کام کرنے والوں کے لیے ازحد مفید ہے اور بے ضرر ہے، مجھے اس دوا کے ساتھ ذہنی مضبوطی کا اچھا تجربہ ہوا پھر میں نے دوسرے احباب کو بھی یہ دوا تجویز کی ۔گزشتہ برس کے آغاز سے ہی مجھے منہ میں اور زبان پر زخموں کی بیماری لاحق ہو گئی جو اکتوبر میں جا کر شدت اختیار کر گئی اعصابی کمزوری انتہا کو پہنچ گئی اور میں کئی روز سبق نہ پڑھا پایا۔ میں نے محسن صاحب کو کال کر کے بمشکل بول کر اپنی زبان کے زخموں کے متعلق بتایا تو انہوں نے حکیم اعجاز حسین کے مطب کا پتہ بتا دیا۔

یہ چوبیس اکتوبر تھا حکیم صاحب کی ہربل میڈیسن  زُود اثر تھی اور مجھے پانچ دنوں میں افاقہ ہو گیا لیکن مسئلے کی جڑ معدے کی تیزابیت تھی جو کہ جڑ سے ختم نہ ہو پائی اس کی شاید کئی وجوہات تھیں مجھے  شدید اعصابی کمزوری رہی ہے ساتھ ساتھ یہ معاملہ بھی تھا کہ میں پانی بہت زیادہ پیتا تھا  اور کھانا برائے نام کھاتا تھا یا پھر  ڈیڑھ دو دن کے بعد ہلکی پھلکی کوئی چیز کھا لیتا۔ دریں اثناء حکیم صاحب نےمعدے کی تیزابیت کے خاتمے کے لئے میڈیسن تبدیل کرکے مجھے استعمال کرائی تو یوں لگا جیسےمیرے جسم کی ”اوور ہالنگ“ شروع ہوگئی اور زبان ایک بار پھر پک کر پھوڑا  بن گئی  لیکن اعصابی نظام کی بہتری شروع ہوگئی اور ادویہ کے استعمال کے باعث پانی پینے کی عادت میں کمی واقع ہوتی گئی پھر حکیم صاحب نے اعصابی ورزش اور نفسیاتی معاملات پر گفتگو کرنے کا سلسلہ جاری کیا جس سے میرے بہت سے دیرینہ اور پیچیدہ قسم کے مسائل کھل کر سامنے آئے اور حل ہونے لگے  یوں میرے کئی ”فوبیاز“ اور اوہام کا ازالہ ہوا،ورزش اور میڈیسن سے میں روبہ صحت ہوا اور دل و دماغ مایوسی کی وادیوں سے باہر آنا شروع ہوگئے۔

میرے لیے کسی کے کمال کو ماننا تقریباً ناممکن  ہے میرے دوست اور قارئین جانتے ہیں کہ  کوئی صاحب اتنی برق رفتاری سے میرے دل  ذہن پر حاوی نہیں ہوتے، لیکن میں یہ تسلیم کرتا ہوں حکیم اعجاز حُسین جیسے دانا، محقق اور مخلص لوگ زمانے میں چند ایک ہوتے ہیں۔ آپ اُن کے ہاں جا کر  دیکھیں آپ کو وہ درویش صفت انسان ایک سادہ حلیے میں نظر آئے گا عین ممکن ہے کہ عام لوگ ان کی وضع قطع کو دیکھ کر ان کے ایک اچھے حکیم ہونے کی صلاحیت کو ماننے سے انکار کر دیں یا کم از کم متعجب ضرور ہوں لیکن بخدا وہ مردِ حق پرست ایک ولی صفت محقق حکیم ہے اور اپنے پیشے کو مقدس عبادت سمجھنے والا ایک مجاہد ہے، جس شاید اپنے مریض کی تشخیص کرنے میں کوئی خدائی عطا ہے یا پھر کسی بزرگ کی دُعا کا اثر ہے وہ اپنے  مریض کو دوا اور گفتگو کے ساتھ نئی زندگی بخشنے کا ہُنر جانتا ہے

شاید لاہور جیسے بڑے شہر میں بہت سے اچھے حکیم موجود ہوں لیکن میں چونکہ کبھی کسی ڈاکٹر  یا حکیم کے پاس میڈیسن لینے کیلئے نہیں گیا لہٰذا مجھے اُن دیگر اطباء کے فن سے کوئی خاص آگاہی نہیں، حکیم اعجاز صاحب کہتے ہیں کہ عام تاثر یہی بن چکا ہے کہ ایلوپیتھک میڈیسن بہت تیزی سے اثر کرتی ہیں لیکن دراصل ہربل میڈیسن اس سے بھی پہلے علاج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اُن کے مطابق دیسی ادویہ کی یہ خوبی ہے کہ یہ مریض کا علاج کرکے جسم سے خارج ہوجاتی ہیں جبکہ ایلوپیتھک میڈیسن کے زہریلے کیمیکلز علاج کرنے کے بعد جسم سے خارج نہیں ہوتے اِس طرح وہ انسان کے لیے مُضر ہیں۔
لیکن ان سب کے باوجود اُنہیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم دیسی حکیم یا ہربل میڈیسن کے ادارے امراض کی تشخیص کے لیے اعلیٰ پائے کے اوزار ، اور مشینری تیار نہیں کر پائے  لیکن اہلِ مغرب نے ایلوپیتھک طریقۂ علاج کے وارث ہونے کے ناتے یہ ذمہ داری سرانجام دی ہے لہٰذا ہمیں کوتاہی اور غفلت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے لیکن جدید مشینری کی تحقیق سے مستفید ہونے میں کوئی عار نہیں ہے اور ہربل میڈیسن کے شعبہ میں بہت سا کام کرنے کی ضرورت باقی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دوا دے دینا حکمت نہیں ہے، اتنا سا کام تو عطائی بھی کر لیتا ہے، حکمت ایک فن ہے جس میں تحقیق اور تجربے سے مسئلے کی پیچیدگی کو سمجھنا اور تدبر سے حل نکالنا اصل کام ہے، حکیم صاحب کے تجویز کردہ چند مشورے درج ذیل ہیں۔
  • ایک وقت میں صرف ایک کام پر توجہ مرکوز کرکے اُسی کو احسن طریقے سے انجام دیں ورنہ بیک وقت زیادہ  کام اکٹھے کرنے سے دماغ اور اعصاب پر بوجھ پڑتا ہے۔
  • رات کو سوتے وقت ذہن سے تمام خیالات کو جھٹک کر صرف ذکرِ  خُدا میں مصروف ہو کر سو جائیں
  • صبح جاگ کر کسی خیال کو ذہن پر سوار مت ہونے دیں کم از کم پندرہ  سے منٹ تک ذہن کو لازمی پر سکون رکھ کر صبح کا آغاز کریں
  • اچانک ملنے والی خبر پر فوری ردعمل دینے سے گریز کریں اور مطمئن رہنے کی کوشش کریں

مندرجہ بالا مشوروں کے علاوہ بھی کچھ اعصابی  مشقیں اور ورزش کر رہا ہوں جس سے الحمدللہ میں تیزی سے صحت یاب ہورہا ہوں بلکہ ایک پُر امید کامیاب زندگی کی طرف لوٹ رہا ہوں اللہ سے دعا ہے کہ وہ حکیم صاحب کو برکتیں عطا فرمائے۔اگر کسی صاحب کو ان سے کوئی مشورہ کرنا ہو تو وہ رحمت دواخانہ نزد ماہ نور سویٹ، گیلانی پارک، امیر روڈ بلال گنج لاہور تشریف لا کر ان سے ملاقات کر سکتے ہیں حکیم صاحب کا موبائل نمبر 03434615316 ہے۔
میں نے ان کے لیے درج ذیل سوشل میڈیا کے لنکس بھی بنائے ہیں

Email: hakimijazhussain@gmail.com
Skype: live:hakimijazhussain
www.FaceBook.com/RahmatDawaKhana/
www.twitter.com/hakim_ijaz
Blog Address: http://rahmatdawakhana.blogspot.com/

جمعہ، 23 دسمبر، 2016

مولانا احمد رضا خان قادری۔ از اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور

رضا خان: مولوی احمد رضا خان بریلوی نسباً پٹھان، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ ان کے والد ماجد نقی علی خان (م 129ھ/1880ء) اور جد امجد رضا علی خان (م1282ھ/1865۔66ء) عالم اور صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔ احمد رضا خان کی ولادت 10 شوال المکرم 1272ھ/ 14 جون 1856ء کو بریلی (اتر پردیش، بھارت) میں ہوئی (تذکرۂ علمائے ھند، ص 9 تا 15، 64، 244)۔ محمد نام رکھا گیا اور تاریخی نام المختار (1272ھ) تجویز کیا گیا جد امجد نے احمد رضا نام رکھا؛ بعد مین خود مولوی احمد رضا خان نے عبدالمصطفی کا اضافہ کیا (حدائق بخشش، ص 80؛ کرامات اعلیٰ حضرت ص8)

جمعرات، 8 دسمبر، 2016

Ghulam Rasool Dehlvi

Ghulam Rasool Dehlvi, Courtesy:Facebook


Ghulam Rasool Dehlvi, is a Muslim[1] journalist[2][3][4], reporter[5], translator, author[6] and speaker[7]. He writes books and articles in English, Arabic, Persian and Urdu languages.[8] He has addressed numerous religious and political issues[9] around the themes of Sufi Islam, terrorism and international politics in the national and international conferences and seminars in different languages.[10] His basic philosophy is "Word for peace", he also runs an article publishing website with the same title.[11] His columns and articles are occasionally published in Indian-English Newspapers (First Post,[12] The Asian Age,[13] Deccan Chronicle [14]) on various topics. He also write articles in Inqilab, Jagran, Nubhart Times and in Rashtriya Sahara. He got the media fame when he appeared on Indian Media and took a part in debates (and wrote) about Zakir Naik and terrorism.[15][16][17][18] Dehlvi is also national secretary of the World Sufi Forum Besides, he is editor-in-chief of a web-magazine promoting peace journalism, [19]


Education

Ghulam Rasool Dehlvi has obtained a certificate of Islamic Studies (Islamic Scholar) from the Jamia Amjadia Rizvia (Mau, UP, India), Research in Quranic Studies from Al-Jame-atul-Islamia, Faizabad, UP, India and got his certificate of Ilm-al-Hadith from Al-Azhar Institute of Islamic Studies, Badaun. Then, he pursued BA (Hons) in Arabic Language and Masters in Comparative Religions and Islamic Studies from Jamia Millia Islamia [20][21]

Views

Ghulam Rasool Dehlvi has his on views on different topics, which are very important and some of them are controversial in his (contemporary) era.

On Sufism

Dehlvi has written that the “Foundations of Sufism” are: Tawheed (oneness of God), Wahdatul wujud (unity of existence), ilmul yaqeen (knowledge with firm faith), zikr (incantation), muraqaba (meditation), observance of taqwa (God-consciousness) and tawba (repentance on sins), ikhlas (sincerity), tawakkul (contentment), sidq (truthfulness), amanah (trustworthiness), istiqamah (uprightness) and shukr (thankfulness).[22] However, Dehlvi opines that the soul and spirit of Sufism is dying out even at the Dargahs and Khanqahs (Sufi shrines), which imbibed an egalitarian tradition of inclusiveness.[23]

On Sunni-Sufi creed

Dehlvi endorsed the stand that “Ahluls Sunna wal Jama’ah [Sufi-Sunni Muslims] are the Ash’arites or Muturidis (adherents of Abu Mansur al-Maturidi's systematic theology which is also identical to Imam Abu Hasanal-Ash'ari’s school of logical thought). In matters of belief, they are followers of any of the four schools of thought (Hanafi, Shaf’ai, Maliki or Hanbali) and are also the followers of pure Sufism in doctrines, manners and [spiritual] purification.”[24]

About terrorism, radicalization and violent extremism

Ghulam Rasool Dehlvi has extensively written on terrorism, radicalization and violent extremism. He writes: “the ‘gun culture’ underpinned by a nefarious ideology has been playing havoc in the spate of terrorist atrocities from Brussels, Paris, Pathankot to San Bernardino and lately in Orlando’s LGBT nightclub. The obnoxious act of violent extremism in Florida, as anywhere else in the world, is not just a law and order problem. Neither it is practically expedient to paint it as a political incident. The ‘gun culture’ coupled with an exclusivist, retrogressive and chauvinistic ideology is the actual stimulus for the extremist zealots to go haywire”.

On Counter-extremism

Dehlvi views that just blocking the jihadist, pro-Islamic State accounts on certain social platforms is not the solution. A well-thought-out, well-reasoned, coherent and effective counter-narrative against the extremist rhetoric is imperative, avers. [25]

On Zakir Naik

Dehlvi wrote that the country’s Muslims are distressed at the misleading stand of Zakir Naik on suicide bombing.[26] He thinks that Indian Muslims, both Sunnis and Shias, have deeper ideological problem with Zakir Naik. He also went on writing that Naik has been trying to lure the Indian Muslims, anchored in an age-old traditional Sufi Islam, into professing and practicing the pernicious theology of Salafism.[27]

On girls' education

Dehlvi strongly encourages the education of women, in both the social and religious domains. He believes that girls’ education and cultural training are an integral part of inclusive development of a community. “There is no priority for men in relation to the right to education. Both are equally encouraged to acquire education. Indeed, all the Qur’anic verses which relate to education and knowledge are directed to both men and women alike. “When the Qur’an enshrined such a lofty status for women and accorded them rights that they could not otherwise even imagine in 7th century Arabia, why this discrepancy between the actual Qur’anic provisions for women and their sorry state of affairs in the Muslim world today?”, he writes: [28]

Work

Along with his dozens of essays and articles his following books also have been published.
  1. Sufism, Counter- extremism and Indian media [29]
  2. Sufism, the heart of humanity [30]
  3. Islamic Televangelism in India [31]
  4. Caliphate Hejaz and Saudi State an Urdu Translation of the book of Imran Nazar Hosein
 _______________________________________________________

References


  1. http://gulfnews.com/news/asia/india/india-s-islamic-schools-walk-the-middle-path-1.1441132
  2. http://www.caravanmagazine.in/lede/divine-tongues
  3. http://gulfnews.com/news/asia/india/india-s-islamic-schools-walk-the-middle-path-1.1441132
  4. http://gulfnews.com/culture/heritage/india-s-islamic-schools-need-an-overhaul-1.1522784
  5. http://timesofindia.indiatimes.com/toireporter/author-Ghulam-Rasool-Dehlvi.cms
  6. https://sabrangindia.in/content-authors/ghulam-rasool-dehlvi
  7. http://themoroccantimes.com/2015/11/17400/sufism-shield-religious-extremism
  8. http://www.newageislam.com/islam-and-politics/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/all-islamic-fundamentals-are-aimed-at-military-preparation-for-jihad,-said-maulana-maududi,-what-do-the-mainstream-ulema-say?/d/101454
  9. http://www.eurasiareview.com/21102016-india-debate-on-triple-talaq-and-uniform-civil-code-is-unsolicited-polemic-oped/
  10. http://www.wordforpeace.com/?s=Ghulam%20Rasool%20De
  11. http://www.wordforpeace.com/
  12. http://www.firstpost.com/author/ghulam-rasool-dehlvi
  13. http://www.asianage.com/mystic-mantra/chiragh-e-dehli-illuminating-lamp-delhi-537
  14. http://www.deccanchronicle.com/byline/ghulam-rasool-dehlvi
  15. https://www.youtube.com/watch?v=IoNaDSMPke4
  16. http://www.firstpost.com/india/ban-on-zakir-naik-not-the-end-india-needs-vigilance-to-save-muslim-youth-3116838.html
  17. http://ir.voanews.com/a/3525518.html
  18. http://www.oneindia.com/bengaluru/exclusive-interview-scholar-ghulam-rasool-dhelvi-on-orlando-shooting-2126428.html
  19. https://cafedissensusblog.com/2016/07/01/sufi-islam-an-interview-with-ghulam-rasool-dehlvi/
  20. http://www.education-for-peace.com/Print.aspx?ID=34600
  21. http://jmi.academia.edu/GhulamRasoolDehlvi
  22. http://www.aiumb.org/sufism/what-is-sufism/
  23. http://www.firstpost.com/india/a-deeper-reflection-on-the-haji-ali-case-is-sufism-disappearing-from-the-indian-dargahs-2980564.html
  24. http://www.firstpost.com/world/islamic-conference-in-chechnya-why-sunnis-are-disassociating-themselves-from-salafists-2998018.html
  25. http://www.firstpost.com/world/tweeting-jihadism-how-the-online-onslaught-of-islamic-state-can-be-countered-2970164.html
  26. http://www.firstpost.com/world/suicide-bombing-is-haram-in-islam-only-salafist-ideologues-like-zakir-naik-view-it-as-a-war-tactic-2898840.html
  27. http://www.firstpost.com/india/zakir-naik-and-salafism-why-islamic-scholars-can-dismantle-influence-of-extremist-theology-2893504.html
  28. http://www.milligazette.com/news/12896-women-in-islam-exploring-new-paradigms
  29. http://www.firstpost.com/india/world-sufi-forum-how-sufism-runs-as-a-counter-to-hardline-ideologies-2680958.html
  30. http://www.asianage.com/mystic-mantra/chiragh-e-dehli-illuminating-lamp-delhi-537
  31. http://newageislam.com/debating-islam/islamic-televangelism--the-salafi-window-to-their-paradise/d/107563